دین میں میانہ روی: عبادت اور مجاہدۂ نفس کا توازن
باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، درس نمبر: 211، حدیث نمبر: 146 اشاعتِ اول: 19 فروری، 2023 بمطابق 27 رجب، 1444 ہجری
- عبادت نشاط کے وقت کرنی چاہیے اور تھکاوٹ طاری ہونے پر اسے مؤخر کر کے آرام کرنا چاہیے۔
- ہر مومن کو اپنی بساط اور طاقت کے مطابق عبادت کرنی چاہیے اور تنگ دلی اور انقباض سے اجتناب کرنا چاہیے۔
- سستی دور ہونے پر دوبارہ عبادت کی نیت سے کسی امر مباح میں مشغول ہونا شریعت کی نگاہ میں عبادت ہی شمار ہوتا ہے۔
- آرام کی اس رخصت کا مطلب مجاہدہ ترک کرنا نہیں ہے، کیونکہ طبیعت میں مجاہدے کی عادت سے زیادہ عبادت میں گرانی نہیں ہوتی۔
- تھکاوٹ پر آرام کی رخصت اس منتہی کے لیے ہے جو حد سے گزر جائے، جبکہ مبتدی کو کسل مندی سے بچنے کے لیے مجاہدہ کرنا چاہیے۔
الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على خاتم النبيين أما بعد فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم
وَ عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ فَاِذَا حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ بَیْنَ السَّارِیَتَیْنِ فَقَالَ: مَا هٰذَا الْحَبْلُ؟ قَالُوْا: هٰذَا حَبْلٌ لِزَیْنَبَ فَاِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ. فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّمَ: حُلُّوْهُ لِیُصَلِّ اَحَدُکُمْ نَشَاطَهُ فَاِذَا فَتَرَ فَلْیَرْقُدْ (مُتَّفَقٌ عَلَیْهِ)
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لائے تو وہاں دو ستونوں کے درمیان ایک رسی بندھی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے پوچھا یہ رسی کیسی ہے؟ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا یہ رسی حضرت زینبؓ نے باندھ رکھی ہے، جب وہ عبادت کرتے کرتے تھک جاتی ہیں تو رسی کے ساتھ چمٹ جاتی ہیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے کھول دو تم نشاط کے وقت نماز پڑھو جب تھکاوٹ ہوجائے تو آرام کرو۔
تشریح: ایک دوسری روایت میں ”سَوَارِیَ الْمَسْجِدِ“ کے الفاظ بھی آئے ہیں کہ مسجد کے ستون کے درمیان۔
عبادت کرتے ہوئے تھک جائے تو عبادت کو چھوڑ دے
مطلب یہ ہے کہ ہر مومن کو چاہئے کہ اپنی بساط اور طاقت کے مطابق عبادت میں کوشش کرتا رہے، تنگ دلی اور انقباض کے ساتھ عبادت کرنے سے اجتناب کرے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی عبادت کرتے کرتے تھک جائے پھر وہ کسی دوسرے امرِ مباح میں لگ جائے نیت یہ ہو کہ جب سستی دور ہوجائے گی پھر میں عبادت میں مشغول ہوجاؤں گا تو یہ درمیان میں دوسرے کام میں لگنا بھی شریعت کی نگاہ میں عبادت میں ہی شمار ہوجائے گا۔
مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی مجاہدہ اختیار نہ کرے اگر مجاہدہ والی عادت ڈال دی تو اب زیادہ عبادت کے وقت بھی طبیعت میں گرانی نہیں ہوگی، اگر طبیعت میں مجاہدہ نہیں ہے تو دو رکعت کے بعد طبیعت میں گرانی آجاتی ہے طبیعت میں مجاہدہ ہے تو اب سو رکعت پڑھنا بھی آسان معلوم ہوتا ہے۔
تخریج حدیث: صحيح بخارى كتاب التهجد (باب مايكره من التشدد في العبادة)، و صحيح مسلم كتاب صلوة المسافرين (باب امر من نعس فى صلاته) اخرجه احمد 4 / 11986 والنسائى و ابن ماجه و ابن حبان و ابن خزيمة 1180۔
یہاں پر ایک چھوٹی سی بات عرض کرنا چاہوں گا کہ دو صورتیں ہیں: ایک مبتدی کی بات ہے ایک منتہی کی بات ہے۔ مبتدی کی بات جس نے مجاہدہ کیا ہی نہیں۔ ان کو تو ابتدا ہی سے کسل ہوگا۔ اور وہ کہے گا حدیث شریف میں یہ ہے لہذا بس آرام کرو۔ دوسرا آدمی منتہی ہے جس نے مجاہدہ کیا ہوا ہے۔ ان کو نشاط ہوگا۔ ان کو یہ مسئلہ نہیں، ہاں اگر وہ بھی حد سے گزر جائیں گے تو پھر ان کو جو کسل ہوگا اس کے بارے میں یہ حکم ہے کہ ایسا نہ کرو۔ تو گویا کہ یعنی ہم لوگوں کو پہلے اپنے آپ کو کسل مندی سے بچانے کے لیے پہلے سے اتنا مجاہدہ کرنا چاہیے کہ ہم لوگ پھر بعد میں جو اپنے معمولات ہیں دین کے وہ آسانی کے ساتھ کر سکیں۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔