عقیدۂ تثلیث کی تردید اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی براءت

درس نمبر 246، سورۃ المائدة، آیت نمبر 116 تا 120، اشاعتِ اول: 1 اگست، 2022، بمطابق 3 محرم الحرام، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ماننے والوں کے عقیدۂ تثلیث اور شرک سے مکمل براءت کا اعلان کریں گے۔
  2. انبیاء کرام نے صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا تھا، لوگوں نے نفسانی خواہشات اور رسوم و رواج کے تحت عقائد بگاڑ لیے۔
  3. روزِ قیامت سچے لوگوں کو ان کا سچا عقیدہ فائدہ پہنچائے گا اور یہی ان کے لیے زبردست کامیابی ہے۔
  4. قرآن مجید میں اہلِ کتاب اور مشرکین کے دلائل کے مکمل جوابات موجود ہیں کیونکہ یہ ہمہ گیر علم رکھنے والے اللہ کا کلام ہے۔
  5. انسان کی اصل کامیابی صحیح عقائد پر جم کر رہنے اور درست علم کے مطابق اخلاص کے ساتھ اعمال کرنے میں ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ-قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ ۗ-بِحَقٍّ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ ؕتَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ ؕاِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ(116) مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ ۚ-وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ ۚ-فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ ؕوَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ(117) اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(118) قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ ؕ-لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا ؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ ؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(119) لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ ؕ-وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ (120)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَ صَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اور (اُس وقت کا بھی ذکر سنو) جب اللہ کہے گا کہ: ’’اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ دو معبود بناؤ؟‘‘

حاشیہ: عیسائیوں کے بعض فرقے تو حضرت مریم علیہا السلام کو تثلیث کا ایک حصہ قرار دے کر انہیں معبود مانتے تھے، اور دوسرے بعض فرقے اگرچہ انہیں تثلیث کا حصہ تو قرار نہیں دیتے تھے، لیکن جس طرح ان کی تصویر کلیساؤں میں آویزاں کر کے اس کی پرستش کی جاتی تھی وہ بھی ایک طرح سے ان کو خدائی میں شریک قرار دینے کے مرادف تھی۔ اس لئے یہ سوال کیا گیا ہے۔

ترجمہ: وہ کہیں گے: ’’ہم تو آپ کی ذات کو (شرک سے) پاک سمجھتے ہیں۔ میری مجال نہیں تھی کہ میں ایسی بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے ایسا کہا ہوتا تو آپ کو یقیناً معلوم ہو جاتا۔ آپ وہ باتیں جانتے ہیں جو میرے دل میں پوشیدہ ہیں، اور میں آپ کی پوشیدہ باتوں کو نہیں جانتا۔ یقیناً آپ کو تمام چھپی ہوئی باتوں کا پورا پورا علم ہے۔﴿116﴾

ترجمہ: میں نے ان لوگوں سے اُس کے سوا کوئی بات نہیں کہی جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا، اور وہ یہ کہ: ’’اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔‘‘ اور جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا، میں ان کے حالات سے واقف رہا۔ پھر جب آپ نے مجھے اُٹھا لیا تو آپ خود ان کے نگراں تھے، اور آپ ہر چیز کے گواہ ہیں﴿117﴾ اگر آپ ان کو سزا دیں، تو یہ آپ کے بندے ہیں ہی، اور اگر آپ انہیں معاف فرما دیں تو یقیناً آپ کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل‘‘﴿118﴾ اللہ کہے گا کہ: ’’یہ وہ دن ہے جس میں سچے لوگوں کو ان کا سچ فائدہ پہنچائے گا۔ ان کے لئے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے خوش ہے اور یہ اُس سے خوش ہیں، یہی بڑی زبردست کامیابی ہے‘‘﴿119﴾ تمام آسمانوں اور زمین اور ان میں جو کچھ ہے اس سب کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے، اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے﴿120﴾

تو یہ اصل میں یہاں پر اس رکوع میں عیسیٰ علیہ السلام کے جو ماننے والے ہیں، ان کے عقیدۂ تثلیث کی گویا کہ مذمت کی گئی ہے، اور ساتھ یہ فرمایا کہ مطلب یہ لوگ اپنے آپ کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اصل بات تو یہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اللہ پاک کے پیغمبر تھے، اور وہ ایسی باتوں سے بری تھے جو یہ لوگ ان کے بارے میں کرتے تھے۔ نہ مریم علیہا السلام ایسی باتیں کیا کرتی تھیں۔ اور یہ ہے کہ ان لوگوں نے اپنے طور پر ان باتوں کو بنا لیا۔ تو اب یہ ہے کہ یہ چیزیں جو ان کے اندر چلی آ رہی ہیں۔ تو جو سچا عقیدہ ہے، وہ تو کھل کے سامنے آ جاتا ہے۔ لیکن جو لوگ مطلب ظاہر ہے وہ کسی وجہ سے اپنے نفس کی کچھ باتوں کی وجہ سے، یا مطلب یہ ہے کہ جو رسوم و رواج ہیں ان کی وجہ سے جو چلے آ رہے ہوتے ہیں، جو حق کو نہ جان سکے، تو پھر ان کا جو نقصان ہے وہ ان کو معلوم ہونا چاہیے۔ تو یہاں پر وہ بات بتائی گئی۔

اب چونکہ وہاں پر ان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں یہودی بھی تھے اور عیسائی بھی تھے۔ تو یہ جو قرآن ہے یہ نازل ہوتا رہا، اور ظاہر ہے مطلب ہے کہ یہودیوں تک بھی پہنچا اور عیسائیوں تک بھی پہنچا۔ جیسے یہود تو خیر پاس ہی تھے وہ مدینہ منورہ میں۔ لیکن جو عیسائی تھے، ان کے ساتھ خط و کتابت بھی ہوئی ہے۔ اور یہ ہے کہ قیصر تک یہ بات پہنچی ہے۔ اور اس طرح یہ ہے کہ نجاشی، وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہی مطلب بات پہنچی، تو وہ مسلمان ہو گئے تھے۔ تو اس طرح حاتم طائی جو تھے، وہ ان کا بیٹا وہ عیسائی تھا، تو ان کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے مان لیا، تو وہ مسلمان ہو گئے تھے۔

تو الغرض یہ ہے کہ قرآن کے اندر ان سب کے لیے جوابات موجود ہیں جو اہلِ کتاب ہیں۔ مشرکین کے دلائل کے اپنے طور پہ دلائل دیے ہیں۔ تو قرآن سے الحمد للہ ہمیں ان چیزوں کا پتہ چلتا ہے۔ کیونکہ قرآن جو نازل ہوا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، اللہ تعالیٰ کو ساری چیزوں کا پتہ ہے۔ جیسا کہ یہاں فرمایا گیا ہے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح عقائد پر جم کر رہنے کی، اور اس کے مطابق صحیح اعمال، صحیح علم کے مطابق کرنے کی اخلاص کے ساتھ توفیق عطا فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

تو یہاں پر سورۃ مائدہ پوری ہو رہی ہے۔ ان شاء اللہ العزیز، کل ہم سورۃ اَنعام شروع کریں گے۔

اللہ پاک ہم سب کو قرآن پاک کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے۔ اس پر عمل کرنے کی، اور اس سے تمام جو فوائد ہیں حاصل کرنے کی، ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


تشریحی نوٹس

1۔ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں

اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ جیسے حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے پیدا فرمایا، اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ پاک نے اپنی قدرت سے بغیر باپ کے حضرت مریم علیہا السلام کے بطن سے پیدا فرمایا۔

2۔ تمام انبیاء کی ایک ہی دعوت — پہلے بندگی، پھر رسالت

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی وہی بات فرمائی جو باقی تمام پیغمبروں نے فرمائی۔ اُس وقت جو لوگ گمراہ ہو چکے تھے، انہیں اللہ پاک کے بارے میں صحیح بات بتائی، اور اپنے بارے میں اللہ کی بندگی کی بات بتائی۔

جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کلمۂ شہادت میں کیا ترتیب ہے؟ پہلے "عَبْدُهُ" ہے، اس کے بعد "وَرَسُولُهُ"۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلے اپنے آپ کو اللہ کا بندہ فرماتے ہیں، رسالت اس کے بعد ہے۔ اور یہی سب رسولوں کا معاملہ ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں۔

3۔ انسان میں تین نظام — اور عقل کا کام

ہمارے ساتھ اللہ پاک نے تین سسٹم بنائے ہیں: عقل، قلب اور نفس۔

عقل کا کام غور و فکر ہے۔ اب جیسے ایک کہکشاں ہے، اس میں اربوں ستارے ہوتے ہیں۔ اور پھر یہ کہکشائیں بھی کھربوں کی تعداد میں ہیں، اور معلوم نہیں اس سے آگے کتنی ہیں — یعنی جتنی ہمیں نظر آتی ہیں، اُن سے آگے مزید ہیں۔ اب ان کی پیمائش کیسے کریں! لیکن یہ سب موجود ہے۔

جب یہ صورتِ حال ہے تو چاہیے کہ لوگ اللہ پاک کی عظمت کو مان لیں اور اللہ کی بات کو مان لیں۔

4۔ تکوین اور شریعت — پیغمبر اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے

جس طرح اللہ پاک کی تکوین ہے، اسی طرح اللہ پاک نے شریعت بھی بھیجی ہے۔ جتنے بھی پیغمبر آئے، انہوں نے وہی بات کی جو اللہ کی بات تھی؛ اپنی طرف سے کوئی بات نہیں بتائی۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں قرآن میں اللہ پاک نے فرمایا کہ وہ خود سے کوئی بات نہیں کرتے، بس وہی کہتے ہیں جو ان کی طرف وحی کی جاتی ہے۔

حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے پوچھا: "کیا میں نے اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا ہے؟" اس سوال پر وہاں موجود ایک لاکھ سے زائد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یک زبان ہو کر جواب دیا:

"ہم گواہی دیتے ہیں کہ یقیناً آپ نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا، (امانت کا) حق ادا کر دیا، اور (امت کی) پوری خیر خواہی فرمائی۔"

یہ جواب سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی، پھر اسے لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے تین بار فرمایا: (اے اللہ! تو گواہ رہ)۔

تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر بات ٹھیک ٹھیک پہنچا دی — اپنی طرف سے ایک لفظ بھی نہیں۔

5۔ رسوم بمقابلہ شریعت

لوگوں نے شریعت کے مقابلے میں رسمیں بنا لیں۔ جیسے "رسمِ قل" — یعنی اسے باقاعدہ "رسم" ہی کہا جاتا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ یہ کہ یہ شریعت میں ہے ہی نہیں، یہ لوگوں کی بنائی ہوئی رسم ہے۔

6۔ اصل بات — نفس کی اصلاح

اصل بات یہ ہے کہ درمیان میں ہمارے ساتھ نفس ہے، اور اس کے ساتھ شیطان لگا ہوا ہے۔ اگر نفس کی تربیت ہو جائے تو شیطان کچھ نہیں کر سکتا۔

سورۂ شمس میں دیکھیں — کیا اس میں شیطان کے بارے میں کچھ موجود ہے؟ نہیں ہے۔ اس میں پہلے تکوینی چیزوں کی قسم کھائی گئی اور تکوینی باتیں بیان ہوئیں، پھر شریعت کا حکم بیان فرمایا:

  • ابتدائی آیات میں تکوینی مظاہر کی قسم۔
  • پھر نفس کی قسم، اور فرمایا کہ اس میں تقویٰ اور فجور دونوں کا الہام کر دیا گیا۔
  • پھر فیصلہ: جو اسے پاک کر لے وہ کامیاب ہے، اور جو ایسا نہ کر سکے وہ ناکام، تباہ و برباد ہے۔
  • پھر اُس شخص کی مثال بیان فرمائی جس نے نفس کی وجہ سے اللہ کی اونٹنی کو مارا، حالانکہ پیغمبر نے اسے منع فرمایا تھا۔ پھر اللہ پاک نے اسے اور پوری قوم کو ملیامیٹ کر دیا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی چیز نفس کی اصلاح ہے۔ یہ ہو جائے تو شیطان کچھ بھی نہیں کر سکتا۔

7۔ قیامت کے دن شیطان کی براءت

جب کافر اور گنہگار جہنم کی آگ میں جھونکے جائیں گے، تو وہ اپنے اصل گمراہ کرنے والے کو ڈھونڈیں گے اور غصے میں تڑپ کر کہیں گے:

"اے ہمارے رب! ہمیں جنوں اور انسانوں میں سے وہ دونوں دکھا جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، تاکہ ہم انہیں اپنے پیروں تلے کچل ڈالیں تاکہ وہ سب سے نیچے (ذلیل) ہو جائیں۔"

اور شیطان جواب میں کہے گا:

"یقیناً اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا، اور میں نے بھی تم سے وعدے کیے تھے مگر میں نے اپنے وعدے کی خلاف ورزی کی۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں (برائی کی طرف) پکارا اور تم نے میری بات مان لی۔ لہٰذا اب مجھے ملامت نہ کرو، بلکہ خود اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد سن سکتے ہو۔"

اور جہنمی یہ بھی کہیں گے:

وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا ﴿٦٧﴾ رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا

"اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کا کہنا مانا تھا، پس انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیا۔ اے ہمارے رب! تو ان کو دگنا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت کر۔"

قرآن میں یہ سارا موجود ہے، اور یہ سب کچھ ہو کر رہے گا۔

8۔ حسد — دو دھاری تلوار

شیطان ایسا ظالم ہے کہ خود حسد کی وجہ سے تباہ ہوا، اور ساتھ کتنے ہی اوروں کو بھی خراب کیا — اور یہ سارا حسد کی وجہ سے ہے۔

حسد ایسی دو دھاری تلوار ہے کہ حاسد دوسرے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور خود کو بھی، کیونکہ حسد کی آگ ایسی ظالم چیز ہے کہ انسان خود بھی جلتا ہے اور دوسرے کو بھی جلاتا ہے۔ انسانوں میں جب کوئی حسد کرتا ہے تو دوسرے کو یہ نقصان پہنچتا ہے کہ اسے کوئی دنیاوی یا جسمانی نقصان اٹھانا پڑتا ہے؛ اور خود کو دو طرح سے نقصان دیتا ہے:

  • دنیا میں: جلن اور کڑھن سے بیماریاں لگ جاتی ہیں۔
  • آخرت میں: نیکیاں یوں برباد ہوتی ہیں جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔

تو اپنے آپ کو اس حسد سے بچانا ضروری ہے۔ اور اس سے نکلنا آسان نہیں ہے — اس کے لیے نفس کی مکمل اصلاح کی ضرورت ہے۔

9۔ نفس کے مدارج

نفسِ امّارہ: پہلے نفس امّارہ ہوتا ہے، جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا:

وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي ۚ إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي ۚ إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَّحِيمٌ

"اور میں اپنے نفس کی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتا، یقیناً نفس تو برائی پر بہت زیادہ اکسانے والا ہے، سوائے اس کے جس پر میرا رب رحم فرمائے۔ بے شک میرا رب بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔"

نفسِ لوّامہ: جب انسان کو غلطی کا احساس ہوتا ہے، اس پر ندامت ہوتی ہے اور وہ توبہ کرتا ہے — کبھی گناہ ہو جاتا ہے اور کبھی توبہ کر لیتا ہے — تو یہ نفسِ لوّامہ ہے۔

نفسِ مطمئنہ: پھر مزید اصلاح سے آخر میں نفسِ مطمئنہ آتا ہے۔ قرآن میں تینوں کا نام موجود ہے، اور کرنا تو نفسِ مطمئنہ ہے۔

10۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اعلانِ براءت اور بطلانِ تثلیث

قیامت کے دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ماننے والوں کے عقیدۂ تثلیث اور شرک سے مکمل براءت کا اعلان فرمائیں گے۔

عیسائی عقیدے میں تثلیث کا مطلب ہے "ایک میں تین" یا "تین میں ایک" — یعنی (خدا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت جبرئیل علیہ السلام) کو ایک خدا ماننا؛ جو توحید اور عقلِ سلیم دونوں کے خلاف ایک باطل نظریہ ہے۔

انبیاء کرام علیہم السلام نے تو صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا تھا؛ لوگوں نے نفسانی خواہشات اور رسوم و رواج کے تحت عقائد بگاڑ لیے، اور اس میں آباؤ اجداد کی پیروی کو ذریعہ بنایا۔

11۔ عیسائی رسوم اور ان کی بنیاد

صلیب: مسیحی رسم میں مرنے والے کو صلیب (Cross) پہنائی جاتی ہے۔ عیسائیت میں صلیب کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قربانی اور نجات کا نشان مانا جاتا ہے۔ تدفین کے وقت مرنے والے کے گلے میں صلیب کا لاکٹ پہنایا جاتا ہے یا کفن پر صلیب کا نشان بنایا جاتا ہے — اس عقیدے کے ساتھ کہ یہ نشان مرنے والے کے لیے گناہوں سے نجات کا باعث بنتا ہے۔

اس کی بنیاد کیا ہے؟ عیسائیوں کا نظریہ ہے کہ ہر انسان گناہگار ہی پیدا ہوتا ہے اور اپنی کوشش سے اس موروثی گناہ سے پاک نہیں ہو سکتا، اس لیے گناہ کی سزا (موت اور جہنم) ملنا ضروری تھی۔ اس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ خدا نے — نعوذ باللہ — اپنے "اکلوتے بیٹے" (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو دنیا میں بھیجا تاکہ وہ تمام انسانوں کے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لے لیں، اور انہوں نے صلیب پر جان دے کر پورے انسانوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا، تاکہ جو کوئی ان پر ایمان لائے اس کے گناہ معاف ہو جائیں۔ ایسی عجیب کہانی شیطان نے ان کے لیے بنائی ہوئی ہے۔

اعترافِ گناہ (Confession): پھر عیسائیوں میں یہ ہے کہ آدمی پادری کے سامنے ایک خاص رسم ادا کرتا ہے جسے اعترافِ گناہ کہا جاتا ہے۔ پادری اس کا گناہ سنتا ہے اور اسے معافی دے دیتا ہے — چلو جی، سب کیا کرایا ختم!

مقدس پانی: اور چرچ میں سر پر مقدس پانی ڈالا جاتا ہے، اور کہتے ہیں کہ اس سے انسان کے پچھلے تمام گناہ دھل جاتے ہیں۔

12۔ اس کے مقابلے میں شریعت کا اصول

دوسری طرف دیکھیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی لاڈلی بیٹی سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کو کیا نصیحت فرمائی — کہ خود عمل کرنا پڑے گا، صرف اس بنا پر نہیں بچ جاؤ گی کہ میری بیٹی ہو:

يَا فَاطِمَةُ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا

"اے فاطمہ! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے (کسی مؤاخذے کی صورت میں) تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔"

[صحیح مسلم، کتاب الإیمان، حدیث: 501] — [صحیح البخاری، کتاب تفسیر القرآن، حدیث: 4771]

تو ہمیں رسوم کو اپنانے کی بجائے شریعت پر عمل کرنا چاہیے، ورنہ نقصان ہی نقصان ہے۔ اللہ پاک ہمیں بچائے۔


درسِ قرآن کے آخری دو نکات

  • قرآن مجید میں اہلِ کتاب اور مشرکین کے دلائل کے مکمل جوابات موجود ہیں، کیونکہ یہ ہمہ گیر علم رکھنے والے اللہ کا کلام ہے۔
  • انسان کی اصل کامیابی صحیح عقائد پر جم کر رہنے، اور درست علم کے مطابق اخلاص کے ساتھ اعمال کرنے میں ہے۔

خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی

عقیدۂ تثلیث کی تردید اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی براءت - درسِ قرآن - دوسرا دور