عشقِ الٰہی میں دیوانگی، حسنِ فانی کی حقیقت اور آخرت کی تیاری
کتاب: پیغام محبت، درس 13، اشاعت اول: 24 ستمبر 2013 بمطابق 17 ذو القعدہ 1434 ہجری، حصہ دوم
- سچی توبہ کی شرائط اور استغفار
- فکرِ آخرت اور موت کی یاد
- ذکرِ الٰہی میں دیوانگی
- عشقِ حقیقی اور ہوس میں فرق
- شیطانی وسوسوں کا روحانی علاج
- سیر الیٰ اللہ اور سیر فی اللہ (راہِ عشق کی منازل)
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ. أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ.
آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں طریقِ جذب کی ترجمان کتاب ”پیغامِ محبت“ کے اشعار کی تشریح کی جاتی ہے۔ شاعری ایک مؤثر طریقہ کار ہے کسی بھی مفہوم کو دل میں اتارنے کے لیے۔ ویسے تو کوئی بھی اچھی بات دل پر اثر کرتی ہے، لیکن وہ اچھی بات اگر اچھی شاعری کے ساتھ ہو اور اچھی آواز کے ساتھ ہو تو پھر یہ اثر اور بڑھ جاتا ہے۔ اس وجہ سے کوشش کی جاتی ہے کہ اچھی شاعری کو پیش کیا جائے، اچھی آواز کا بھی انتظام کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن یہ ہے کہ فی الوقت اس کی تشریح کی بڑی ضرورت ہے۔ تو تشریح کے نقطہ نظر سے اس کو پیش کیا جاتا ہے، ساتھیوں کی خواہش تھی کہ باقاعدہ اس کو ایک دن دے دیا جائے۔ اس وجہ سے منگل کا دن اس کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
آج اس غزل سے شروع کیا جاتا ہے:
ایک انتظار
مرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار
چھت ہے کلمے کی مرے سر پہ ہمیش اور زبان پہ میں رکھوں استغفار
بڑا غفور ہے رحیم ہے وہ اور وہ سبحان بھی ہے عظیم بھی ہے
تو کہ بے رنگ ہے، اس کے رنگ میں رنگ جا وہ کرے کیا پھر تجھے باغ و بہار
مرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار
کلمے کی چھت یعنی ایمان، بہت بڑی بات ہے۔ اور استغفار گناہوں کو مسلسل دھونا۔ جب انسان سے گناہ ہو رہے اور ساتھ ساتھ توبہ بھی کر رہا ہو تو گناہ دھل رہے ہوتے ہیں۔ اور ایمان کے ذریعے سے قبول ہوتی ہے۔
ارے نادان گلاب کیسے کھلیں جب مناسب نہ ہو ماحول اِس کا
دل گناہوں کی طرف مائل ہو کیسے آئے اس پہ رحمت کی پھوار
مرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار
یہ ایک قانون بتا رہے ہیں۔ تو چاہتا ہے کہ گلاب کھلیں، تو اس کے لیے مناسب ماحول بھی... گلاب کو بونا پڑے گا، اس کی ٹہنی کو، پھر اس کو پانی دینا پڑے گا، کھاد دینی پڑے گی، یہ ساری چیزیں ہوں گی تو ماحول جب بنے گا اس کا تو پھر گلاب کے پھول کھلیں گے۔ اب تو کانٹے بو رہا ہے اور ساتھ کہتا ہے اس سے گلاب کھل جائیں، تو اب کیسے مطلب ہوگا؟
ارے نادان گلاب کیسے کھلیں جب مناسب نہ ہو ماحول اِس کا
دل گناہوں کی طرف مائل ہو کیسے آئے اس پہ رحمت کی پھوار
ہاں مگر چاہے تو کہ اس کا بنے گندگی سے تجھے مڑنا ہوگا
رک جا، کر عزم پھر نہ کرنے کا، دل گزشتہ پہ ہو بھرپور شرمسار
یہ تین شرائط توبہ کی بتا دیں۔ توبہ کی تین شرطیں ہیں؛ کہ رک جا، جو گناہ کر رہے ہو اس سے رک جا۔ اور پھر نہ کرنے کا عزم کر۔ اور جو کچھ کیا ہے اس پر بھرپور شرمساری کا اظہار کر۔ تو اس سے توبہ قبول ہو جائے گی۔
نظر اٹھا کے دیکھوں میں تھوڑا، چار سو دنیا کے نقشے موجود
ہاں مگر دل میں اگر جھانک سکوں وہاں موجود ہے تصویرِ یار
مرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار
بے وفائی اور محبت دل میں، کیسے دونوں جمع ہو سکتے ہیں
عشق کا بھی ہے اک اٹل قانون، کہ یہ ہوتا ہے بس صرف اک بار
مرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار
اب سنو دل میرا کہتا ہے کیا؟ اس کی آغوش میں خاموش رہوں
اور چھپ جاؤں میں اغیار سے اب، شاید نہ ہو سکے مزید انتظار
مرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار
سر مرا سجدے میں رہے صبح و شام، اور سامنے آنکھوں کے قرآن رہے
کعبہ نظروں میں، دل میں یار رہے، کہیں یہی شبیرؔ کے اشعار
مرا مالک جب بلائے گا مجھے رکھا سامان میں نے بھی ہے تیار
فکرِ دنیا اور فکرِ آخر
فکرِ دنیا کو ذرا کم کر لے
فکرِ آخر کا بھی کچھ غم کر لے
تاکہ غمناکیوں سے بچ جائے
اور مستقبل کو بھی محکم کر لے
موت کی یاد اور ذکر
موت کی یاد جگائے تجھ کو
ذکر غفلت سے بچائے تجھ کو
راہِ سنت سے تو محبوب بنے
فضل جنت میں پہنچائے تجھ کو
یہ ایک غزل ہے، ذرا طریقِ جذب کا پیغام لیے ہوئے۔
میں دیوانہ ہوں
میں دیوانہ ہوں دیوانہ، میں دیوانہ ہوں دیوانہ
کروں گا ذکر ہردم یہ مرا نعرہ ہے مستانہ
میں دیوانہ ہوں دیوانہ، میں دیوانہ ہوں دیوانہ
میں جل جاؤں بکھر جاؤں گریبان چاک میں کردوں
میں خود کو خاک کردوں اور مجھے روکے کوئی نہ نہ
میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ
میں پگھلوں عشق میں اس کے، مری آنکھوں میں بس وہ ہو
میں تیرا ہوں تو میرا ہے یہی اس کا ہو فرمانا
میں دیوانہ ہوں دیوانہ، میں دیوانہ ہوں دیوانہ
دیکھ لو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ اتنا ذکر کرو، اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں پاگل کہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ پاک کی یاد میں مستانہ وار مشغول ہوتا ہے تو لوگ اس کو دیوانہ کہتے ہیں۔ لیکن یہ دیوانگی بہت اچھی دیوانگی ہے، جو بہت بڑی عقلمندی ہے۔ کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا ہے: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ قرآن پاک کی اس آیت کو اور حضرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث شریف کو، دونوں کو ملا کر دیکھو تو میرے خیال میں بات سمجھ آ جائے گی۔
میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ
کروں گا ذکر ہردم، یہ مرا نعرہ ہے مستانہ
ریاکاری کا لیبل بھی قبول میں شوق سے کر لوں
یہ کیا ہے عشق میں مجھ کو قبول ہر بات ہر طعنہ
میں دیوانہ ہوں دیوانہ، میں دیوانہ ہوں دیوانہ
کروں گا ذکر ہردم، یہ مرا نعرہ ہے مستانہ
یہ حدیث شریف، دوسری حدیث شریف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی، فرمایا اتنا ذکر کرو، اتنا ذکر کرو کہ لوگ تمہیں ریاکار کہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاکاری کے Label سے بھی نہیں ڈرنا چاہیے۔ لوگ کہیں گے۔ اور یہ الزامات بہت جلدی ملتے ہیں۔ تھوڑا سا بھی کوئی اللہ کے دین کی طرف آنے لگے تو رشتہ داروں سے پہلے Label کون سا ملتا ہے؟ یہ کہتے ہیں کہ یہ تو پاگل ہو گیا۔ اور یہ تو ریاکار ہے۔ بالکل یہی، یہ ایسی Fit باتیں ہیں کہ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ سب سے پہلے Label یہی لگتے ہیں۔ لہٰذا اس Label کی کوئی پرواہ نہیں کرے گا، تو پھر چلے گا نا آگے۔ تو جب اس Label کی پرواہ نہیں کرے گا تو وہ کون ہو گا؟ آخر وہ دیوانگی کی نیت ہی ہو گی نا۔ جب تک اس کیفیت پہ کوئی نہیں آیا ہو گا، اس وقت تک چل ہی نہیں سکتا۔ تو یہ بات اس وجہ سے ضروری ہے۔
ریاکاری کا لیبل بھی قبول میں شوق سے کر لوں
یہ کیا ہے عشق میں مجھ کو قبول ہر بات ہر طعنہ
میں دیوانہ ہوں دیوانہ، میں دیوانہ ہوں دیوانہ
کروں گا ذکر ہردم یہ مرا نعرہ ہے مستانہ
جلے جو عشق میں اس کو ملے جسمِ جدید ہر دم
یہی تھا گفتِ عشق کاکی کا، تھا جس میں گزرجانا
میں دیوانہ ہوں دیوانہ، میں دیوانہ ہوں دیوانہ
ہمارے چشتیہ سلسلے کے بہت بڑے بزرگ حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ، یہ جب فوت ہوئے ہیں تو اس فوت ہونے کے وقت یہ شعر بار بار، بار بار پڑھا جا رہا تھا ان کی فرمائش پر، اور وہ تو یہ تھا کہ
کُشتگانِ خنجرِ تسلیم را جو خنجرِ تسلیم سے کٹ جاتے ہیں، ان کو ہر وقت جدید جسم ملتا ہے۔
یہ یہ مطلب یہ پڑھا جا رہا تھا اور اسی میں حضرت اس دنیا سے تشریف لے گئے۔
کبھی وہ سامنے آئے کبھی پردوں میں چھپ جائے
یہی ہے امتحانِ عشق اس میں نہ پھسل جانا
میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ
کروں گا ذکر ہردم یہ مرا نعرہ ہے مستانہ
"کبھی وہ سامنے آئے" کا مطلب بسط کی حالت۔ جب انسان بالکل اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنے آپ کو پاتا ہے اور عبادت میں اس کو بڑا لطف آتا ہے اور بہت زیادہ شوق اور ذوق ہوتا ہے۔ یہ ایسا ہے جیسے کہ اللہ کو سامنے کوئی پا رہا ہے۔ اور کبھی قبض کی حالت ہوتی ہے جس میں انسان ایسا ہوتا ہے جیسے پتھر ہو گیا دل۔ جیسے کچھ بھی نہیں ہے۔ سب کچھ ختم ہو گیا۔ تو گویا کہ وہ اپنی وہ کیفیت چھین لیتے ہیں۔ تو گویا پردے میں چلا جاتا ہے۔ تو کبھی وہ سامنے آئے، کبھی پردوں میں چلا جائے۔ کبھی قبض کی حالت کبھی بسط کی حالت فرمایا یہی امتحانِ عشق ہے اس میں پھسل نہ جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ قبض کی حالت ہو تو سب کچھ چھوڑ بیٹھے۔ اسی وقت عشق کا امتحان ہے۔ لہٰذا اس میں کامیاب ہونا ہے۔
کمال ہے حسنِ فانی کب مقابل اس کے ٹھہرے یاں
جو اس میں مار کھائے اس کا کیا پھر ذوقِ جانانہ
میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ
کروں گا ذکر ہردم یہ مرا نعرہ ہے مستانہ
مطلب یہ ہے کہ حسنِ فانی، وہ دنیا میں جو بھی چیز پسندیدہ ہو اس کو ہم حسنِ فانی کہتے ہیں۔ چاہے وہ Building ہو، چاہے گاڑی ہو، چاہے عورت ہو، چاہے پیسہ ہو، جو بھی ہے حسنِ فانی ہے۔ تو وہ جو اصل حسن ہے، حسنِ ازل، اس کے مقابلے میں اس کی کیا حیثیت ہے؟ تو جو اس کو چھوڑ کر ان چیزوں میں پڑے گا تو کمال ہے اس کا ذوق... کیا ذوق ہو گا؟ اتنی عظیم چیز کو، اتنی عظیم نعمت کو انسان اتنی فضول چیز پر قربان کرتا ہے۔ تو بالکل ایسے ہے جیسے کہ کسی کے ہاتھ ہیرا ہو بچے کے ہاتھ، اور کوئی اس کو ورغلائے اور اس کو ٹافی دے دے اور ہیرا لے جائے۔ تو شیطان یہی کرتا ہے نا۔ ناسمجھ نفس کو ٹافی دے دیتا ہے اور ہیرا لے جاتا ہے۔ تو اسی وجہ سے مطلب ظاہر ہے اس چیز کو سمجھنا چاہیے۔ یہ دیوانگی کی حالت آئے گی تو پھر ان چیزوں کی بچت ہوگی۔ کیونکہ دوسری طرف دیوانگی تو ہے ہی نا، دنیا کی محبت تو ہے ہی، اس کی دعوت دینے کی ضرورت تو نہیں ہے نا۔ تو اگر یہ نہیں ہو گا تو ظاہر ہے مقابلہ کیسے ہو گا؟
ہوس میں عشق میں کیا فرق ہے شبیرؔ گر پوچھو
یہاں خود غرضی ہے، اس میں مٹنے میں ہے کچھ پانا
میں دیوانہ ہوں دیوانہ میں دیوانہ ہوں دیوانہ
کروں گا ذکر ہردم یہ مرا نعرہ ہے مستانہ
ایک مشہور سوال ہے عشق اور ہوس میں کیا فرق ہے؟ تو ہوس میں خود غرضی ہوتی ہے۔ اس میں معشوق کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ اپنا خیال رکھا جاتا ہے۔ اور عشق میں مٹنا ہوتا ہے۔ اس میں اپنا خیال نہیں رکھا جاتا، معشوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ تو جس کو دیکھو کہ اس میں یہ چیز ہے، معشوق کا خیال نہیں رکھتا اپنا خیال رکھتا ہے تو وہ ہوس ہے۔ اور جس میں یہ ہے کہ وہ اپنا خیال نہیں رکھتا، معشوق کا خیال رکھتا ہے تو وہ عشق ہے۔ لہٰذا اپنے آپ کو ہوس سے نکال کر عشقِ حقیقی میں لانا چاہیے۔
عشق کا جام
ذرا ساقی سے عشق کا جام لیجئے
ہے کام کی یہ چیز اس سے کام لیجئے
اگر پانا مطلوب ہے آپ کو
درِ ساقی جبڑوں سے تھام لیجئے
ساقی سے مراد شیخ ہے۔ یہاں پر یعنی جو شیخ آپ کو یعنی عشق کا جام پلا رہا ہے۔ اس سے یہ لے لو، یہی کام کی چیز ہے۔ اور اگر آپ کو اپنا مطلوب پانا ہے تو پھر اس کے لیے شیخ کے در کو تھام لو۔
سنبھل کے
دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
ادب یہان پہ ہے پہلی سیڑھی، اس پہ تو چڑھ کے آنا سنبھل کے
دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
قدم قدم پہ ہیں چھپے رہزن کتنے کتنے نئے بہروپ بھرے
اپنی منزل کو طے تو کرنا ہے ان سے خود کو بچانا سنبھل کے
دلِ ناداں ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
یہ عشق کی آگ ہے اس کو دیکھو مگر اندر سے یہ گلزار سمجھو
اس سمندر کو خود میں بھرنا ہے خود کو اس سے جلانا سنبھل کے
دلِ ناداں ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
یہاں پر وصلِ یار کے واسطے روئے تُو بار بار تُو روئے
یہ کوئی کھیل کی نہیں ہے بات، عشق اور اس کا پانا سنبھل کے
دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
تو کہ جس راہ پہ گامزن ہے اب، اس میں کانٹے ہیں وسوسوں کے بہت
زخمی زخمی ہیں گو قدم تیرے ان پہ مرہم لگانا سنبھل کے
دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
یہ کل ہی ایک بچہ پوچھ رہا تھا سوال کہ یہ جب سے یہ ہمیں معمولات کے Chart کا کہا گیا ہے تو میرے دل میں بار بار یہی وسوسہ آتا ہے کہ یہ تو ریاکاری ہے۔ تو جہاں حقیقی ریاکاری ہوتی ہے وہاں تو شیطان وسوسہ نہیں ڈالتا۔ وہاں تو اس سے ریاکاری کرواتا ہے۔ اور جہاں علاج کے لیے ہو، جیسے کہ میں نے بتا دیا کہ بھئی یہ تو علاج ہے، اور علاج کے لیے تو معلومات ظاہر ہے جو Doctor کرنا چاہے گا تو آپ ان کو بتائیں گے۔ تو آخر وہ دیکھے گا کہ بھئی تو کیا کر رہا ہے؟ تو اس کے حساب سے وہ فیصلہ کرے گا نا۔ تو یہ تو ان کو آپ اپنے احوال بتا رہے ہیں۔ تو اس وجہ سے یہ ریاکاری نہیں ہے تو ان کو بات سمجھ تو آ گئی لیکن ایسے وسوسے آتے ہیں۔ اور یہ سب کو آتے ہیں۔ لہٰذا وسوسوں کو نہیں دیکھنا چاہیے۔
تو کہ جس راہ پہ گامزن ہے اب اس میں کانٹے ہیں وسوسوں کے بہت
زخمی زخمی ہیں گو قدم تیرے، ان پہ مرہم لگانا سنبھل کے
دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
ہمارے حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ جب وسوسہ آئے تو اس پہ خوش ہونا چاہیے۔ خوش ہونا کس طرح چاہیے؟ علاجاً۔ شیخ کے بارے میں وسوسہ آئے تو دل کو سمجھاؤ، الحمد للہ، شیخ کے ساتھ مجھے اتنی محبت ہو گئی ہے کہ شیطان کو اس کی فکر ہو گئی ہے۔ لہٰذا اس پہ خوش ہو جاؤ، شیطان کی سکیم فیل ہو جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وسوسہ ڈالے، تو آپ کہیں الحمد للہ، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت نصیب فرمائی، شیطان کو اس کی فکر ہو گئی ہے، لہٰذا وسوسہ ڈال رہا ہے، اس پر خوش ہو جاؤ۔ بجائے اس کے کہ اس سے تنگ ہو جاؤ، اس کا مقابلہ یوں کرو۔
طور بھی عشق کی آگ میں جل جائے کبھی معراج بھی ہو جائے نصیب
عشق لگے پر نظر یہ آئے نہیں سر نہ اوپر اٹھانا سنبھل کے
دلِ ناداں ذرا سنبھل کے، عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
تیرا اس عشق میں جل جانے میں جانتا ہوں میں کہ تیرا ہے سکوں
تیرا جل جانا ہو منظور اسے، جل کے خود کو دکھانا سنبھل کے
دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
اب کہ منزل یہ تیری سیدھی ہے اب تو رکنے کا نام بھی تو نہ لے
درِ یار پر بھی جا کے رکنا نہیں خود کو اس کا بنانا سنبھل کے
یہ عجیب شعر ہے
درِ یار پر بھی جا کے رکنا نہیں خود کو اس کا بنانا سنبھل کے
دلِ نادان ذرا سنبھل کے عشق کے رستے پہ جانا سنبھل کے
ادب یہاں پہ ہے پہلی سیڑھی، اس پہ تو چڑھ کے آنا سنبھل کے
یہ عجیب شعر ہے اس میں تصوف کا بہت بڑا نقطہ چھپا ہوا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اب تجھے اپنی منزل کا پتہ چل گیا کہ اب تو صحیح جگہ پہنچ گیا۔ اب درمیان میں آرام نہیں ہے۔ اب چلتے رہو، چلتے رہو۔ حتیٰ کہ محبوب کے در پر بھی پہنچ جاؤ پھر بھی رکنا نہیں۔
اور اپنے آپ کو اس کا بنا کے دکھانا ہے۔ اس میں اصل میں ایک ہوتا ہے سیر الی اللہ۔ سیر الی اللہ میں انسان سیکھتا ہے اس کا بننا۔ سیر الی اللہ میں کیا سیکھتا ہے؟ اس کا بننا سیکھتا ہے۔ اور سیر فی اللہ میں پھر اس کا اپنے آپ کو بنا رہا ہوتا ہے۔ تو سیر الی اللہ میں گویا جب محبوب کے در پہ جیسے پہنچ گیا، اب سیر فی اللہ میں اب اس کا اپنے آپ کو بنا رہا ہے، لہٰذا وہ Unlimited ہے۔ وہ پھر محدود نہیں ہے۔ اس لیے کہتے ہیں سیر فی اللہ یہ محدود نہیں ہے۔ کوئی پتہ نہیں کہ شیخ سے مرید آگے چلا جائے، شیخ مرید سے آگے چلا جائے۔ وہ پھر Unlimited Field ہے۔ لیکن یہ ہے کہ سیر الی اللہ محدود ہے۔ وہ پہنچ جاتا ہے، سیکھ لیتا ہے، اس کے بعد پھر اس کو عمل میں لانا ہے۔
تو ہے شبیرؔ کا پر شبیرؔ کی نہ مان، مان اس کی جسے تجھ کو ہے دیا
عشق میں ایسا ہی تو پھر ہوتا ہے یہی سب کو سکھانا سنبھل کے
دل سے کہہ رہا ہے (دلِ نادان پہ شروع ہوا ہے نا)۔ دل سے کہہ رہا ہے کہ تو شبیر کا ہے، ٹھیک ہے تو اس کا دل ہے۔ لیکن اب شبیر کی نہ مان۔ کیونکہ شبیر کو جس نے تجھے دیا ہے، اب اس کی مان۔ اب ظاہر ہے تو اس کا ہے۔ لہٰذا اب تو اس کی بات مان، اور عشق میں تو ایسا ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے اس کو چلایا ہے۔
جاری ہے ان شاء اللہ
تشریحی نوٹس
حال اور تعلیم کا فرق
یہ تعلیم نہیں ہے، یہ حال ہے۔ تو اسے کیسے بتائیں؟ تعلیم تو منہ کی زبان سے دی جاتی ہے، لیکن جو احوال ہیں ان کے لیے کون سی زبان ہو؟ حال خود کن الفاظ میں بیان ہو؟ اور جب تک وہ حال کسی پر گزرا نہ ہو، وہ اسے بیان کیسے کرے؟
اسی طرح یہ عارفانہ شاعری صرف الفاظ نہیں، بلکہ یہ دل کی کیفیات اور احوال ہیں۔
زبانِ قال اور زبانِ حال
ایک ہوتا ہے منہ کی زبان سے ان اشعار کا کہنا، اور ایک ہوتا ہے کہ آدمی کا ہر جزوِ بدن زبانِ حال بن جائے — یہ اصل ہوتا ہے۔ حال اپنا آپ خود بتاتا ہے، یہ باتوں سے نہیں ہوتا۔
ایک آسان مثال: مستحق کی پہچان
یہ جو بھیک مانگنے والے ہوتے ہیں، ان میں یہ دیکھنا ہو کہ واقعی مستحق اور ضرورت مند ہے یا نہیں، تو اس کا ایک آسان سا ٹیسٹ ہے: جو واقعی پریشان ہوتا ہے وہ ہر وقت پریشان نظر آئے گا — مانگتے وقت بھی، اور جب مانگ نہ رہا ہو بلکہ یوں ہی کھڑا ہو تب بھی۔
آپ کسی شخص کو مانگنے کے علاوہ بھی دیکھیں کہ چہرہ کیسا بنا ہوا ہے، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ واقعی مستحق ہے یا نہیں۔ البتہ یہ ٹیسٹ آپ اُس وقت کریں گے جب آپ کو اصل غریبوں کا پتا نہ ہو۔
اور جو مستحق نہیں ہوگا، وہ پیسے مانگتے وقت تو پریشانی کا پوز بنائے گا، اور جیسے ہی اسے پیسے مل جائیں، ذرا ہٹ کر اسے دیکھیں تو اس کا چہرہ نارمل ہوگا۔
بچے کی زبان اور دل
یہ جو بچے ہوتے ہیں — طفل — ان کی زبان اور دل پر ایک ہی بات ہوتی ہے؛ وہ وہی بات کرتا ہے جو دل میں ہو۔ لیکن جو بڑے ہوتے ہیں ان کی زبان پر اور ہوتا ہے اور دل میں اور۔ زبان اور ہے، آپ اور ہیں؛ اور بچہ جو دل میں ہے وہی زبان پر ہے۔
بچہ خفا ہوگا تو بلاؤ گے تو کہے گا ”نہیں آنا“، اور جب راضی ہو جائے گا تو بھول کر کہے گا ”نہیں جانا“۔
فنا کا نتیجہ
مطلب یہ ہے کہ انسان جب فنا ہوتا ہے تو اللہ کے ساتھ بھی اس کا معاملہ بالکل صحیح ہو جاتا ہے اور لوگوں کے ساتھ بھی — کیونکہ اس کی تمام چیزیں ایک ہی ہو جاتی ہیں۔
ترانہ نہیں، دل کا حال
آج کی بات بتاؤں: اس مجلس میں جو کلام آیا ہے، ”میں دیوانہ ہوں“ — ہمارے حافظ صاحب نے اسے بہت اچھا پڑھا ہے، اور لوگ اسے بہت پسند کرتے ہیں کہ کیسا زبردست پڑھا ہے۔ لیکن یہ الگ چیز ہے، کیا بتاؤں۔
اس (پڑھنے) میں ترانے کا انداز ہے، لیکن جو میں نے پڑھا ہے وہ ترانہ نہیں ہے، بلکہ وہ دل کا حال ہے — دل کی بات بتائی جا رہی ہے۔ اسے ایک مرتبہ پھر سنیں، پھر بتائیں کہ کیا فرق ہے۔ مجھے یہ یاد نہیں تھا، لیکن آج جب سنا تو پتا چلا کہ یہ تو اس طرح سے ہے۔ ماشاء اللہ۔
(یہ کلام دوبارہ مکمل سنایا گیا۔)