تزکیہ نفس، اصلاحِ احوال اور معمولاتِ ذکر

سوال جواب مجلس پیر، 27 نومبر 2023 ، بمطابق 19 جمادی الاول 1445 ہجری، مجلس نمبر: 649

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے۔ پیر کے دن ہمارے ہاں سوالوں کے جوابات بتائے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ جو احوال ہوتے ہیں سالکین، سالکات کے، ان کے بارے میں تحقیق بتائی جاتی ہے۔

سوال نمبر 33: زید اور عمرو دونوں کا تعلق ایک ہی شیخ سے ہے۔ تو زید جو ہے وہ اپنے شیخ کو سنتا ہے اور بیانات وغیرہ جو بھی ہوں اسی کے ہی سنتا ہے۔ اور عمرو کا تعلق بھی اسی سے ہے لیکن وہ کسی اور بزرگ کے بیانات بھی سنتے ہیں، اصلاحی بیانات۔ جب کہ وہ تعلق میں بھی پختہ نہیں ہے۔ تو زید اس کو کہہ رہا ہے کہ اگر آپ نے اصلاحی بیانات سننے ہیں تو اپنے شیخ کے ہی سنیں۔ تو اس میں کیا کرنا چاہیے؟

[سوال جواب مجلس، 4 دسمبر 2023، مجلس نمبر 650]  

جواب: بالکل یہی بہتر ہے کہ اپنے شیخ کے سنیں میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا فرمایا؟ ظاہر ہے اس دور کے مجدد ہیں تو آخر ان کی بات تو اس مسئلے میں پکی بات ہو گی۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا جب انسان کسی شیخ سے بیعت ہو جائے تو کافی عرصے تک ان کی صحبت اختیار کرے، تاکہ شناسائی ہو جائے۔ آپ کی شناسائی شیخ کو ہو جائے اور شیخ کی شناسائی آپ کو ہو جائے۔ مطلب یہ ہے کہ مناسبت بن جائے۔ فرمایا: پھر بعد میں دور ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ دور سے بھی وہ تعلق نصیب ہو گا خط کے ذریعے سے، ٹیلی فون کے ذریعے سے، وہ ہو گا۔ لیکن ابتداء میں ذرا اپنی نسبت مضبوط کرنے کے لیے۔۔۔ اور یہ بھی حضرت نے فرمایا دیکھو سامنے لکھا ہوا ہے کہ صحبت اہل اللہ کی کثرت مقدور ہو اور کثرت کی فراغت نہ ہو تو بزرگوں کے حالات و مقالات کا مطالعہ اس کا بدل ہے۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پھر اس کی یہ بات ہے کہ ان کے بیانات سننا اور وہ چیزیں دیکھیں۔ تو اب جس بزرگ کے ساتھ اس کا تعلق ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس بزرگ کو ذریعہ بناتے ہیں اس کی تمام اصلاح کے لیے۔ میں اکثر کہا کرتا ہوں نا کہ مختلف کھڑکیاں ہیں۔ تو آپ نے جس کھڑکی کو بھی چن لیا تو وہاں پر آپ کے لیے وہ چیز رکھ دی جائے گی۔ مطلب یہ اللہ پاک کا نظام ہے۔ تو آپ نے جس شیخ کو بھی چن لیا تو اب اللہ پاک آپ کے۔۔۔ تو اب یہ ہے کہ جس وقت آپ اپنے شیخ کی سنیں گے تو اس میں آپ کو بہت زیادہ فائدہ ہو گا کیونکہ اس میں آپ کے لیے وہ سامان موجود ہو گا جو کہ آپ کو چاہیے ہو گا۔

دوسرے حضرات کے سننے سے علم میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن وہ تربیت والی بات اتنی نہیں ہو گی، جتنی کہ تربیت، اور انسان کو زیادہ ضرورت تربیت کی ہے، کہ مطلب اس کی تربیت ہو جائے۔ تو لہذا اپنے شیخ کے جو بیانات سننا ہے، وہ زیادہ مناسب ہے، اس سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ دوسروں کے بیانات سے انکار کر کے نہیں، اس کو کم کہہ کے نہیں، ان کو غلط کہہ کے نہیں، یہ اس کی اجازت نہیں ہے کہ ہم کسی کو کم کہیں۔ وہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون اچھا ہے اور کون افضل ہے اور کون افضل نہیں ہے، وہ تو اللہ کو پتا ہے، لیکن آپ کے لیے وہی ہے۔"

اس کا میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ یہ ہزارے کی سائیڈ پر ایک بزرگ تھے۔ ان کا ایک مرید تھا- ہزارے کا علاقہ پہاڑی علاقہ ہے۔ تو آپ ایک پہاڑ سے نیچے اترتے ہیں، پھر دوسرے پہاڑ پر چڑھتے ہیں۔ مطلب اس طرح یہ چیزیں وہاں پر ہے نظام۔۔۔یہ پکلئی کے علاقے کے قریب تھے نا مطلب۔ تو وہاں تو ایسا ہی ہے- اس پر ایسا ہوا کہ وہ جا رہا تھا تو پیچھے سے ایک شخص نے آواز دی، رات کا وقت تھا۔ وہ دوائی لے جا رہا تھا اپنے شیخ کے لیے۔ تو پیچھے سے کسی نے آواز دی کہ آ جاؤ، اس نے کوئی پرواہ نہیں کی۔ تو پھر اس نے آواز دی، میں خضر ہوں۔ اس نے پھر بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ تیسری دفعہ اس نے کہا، میرے پاس تو لوگ بڑی منت کر کے پہنچتے ہیں، آپ کو میں خود آواز دیتا ہوں آپ نہیں آتے۔ تو اس نے بغیر دیکھے یہ کہا "میرا خضر ادھر ہے"۔ میرا خضر ادھر ہے۔ مطلب یعنی وہ جن کے پاس میں جا رہا ہوں میرا خضر وہ ہے۔ تو جب یہ پہنچے تو حضرت کو اس کی اطلاع ہو گئی تھی۔ ظاہر ہے اللہ پاک کا اپنا نظام ہے۔ اس کی اطلاع ہو گئی اور ما شاء اللہ پھر ان کو خلافت عطا فرمائی۔ ٹھیک ہے نا؟

مطلب اس کا ظاہر ہے پکا ثابت ہو گیا نا۔ پکا ثابت ہو گیا۔ تو اس میں پکا ہونا بڑی بات ہے کہ انسان بالکل یعنی جس کو کہتے ہیں ہلے جلے نہیں اور جس کو ہم کہہ سکتے ہیں "یک گیر و محکم گیر"، جیسا ہمارے بزرگ فرماتے ہیں، ایک کو پکڑو، مضبوطی سے پکڑو۔ تو پھر کام بن سکتا ہے۔ تو اس وجہ سے جس نے جس کو بھی پکڑا ہے، بس پھر اس کے بعد پھر وہ کر لے۔

ہاں البتہ ان کے ساتھ اگر رابطہ بالکل نہ ہو سکے یا ان سے فیض نہ لے سکے اور پھر اس کے بعد وہ بدلنا چاہے تو پورا پورا بدل لے پھر۔ پھر ایسا نہ ہو کہ کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر، یہ والی بات نہ ہو۔ کیونکہ بعض دفعہ بعض کو ایک کے ساتھ مناسبت نہیں ہوتی، صرف غلطی سے، سنی سنائی طریقے سے کوئی بیعت ہو جاتا ہے نا۔ مثلاً ماحول میں بیٹھے ہیں اور سب لوگ بیعت ہو رہے ہیں اور وہ بھی بیعت ہو جائے۔ تو وہ بیعت ہونا by choice نہیں ہے۔ مطلب وہ صرف ایک جس کو کہتے ہیں، ماحول کی وجہ سے وہ ہو گیا، ایک ابال سا آ گیا اور اس کی وجہ سے۔۔۔ ایسے لوگوں میں بہت سارے لوگ ہیں وہ بعد میں کہتے ہیں پتہ نہیں کہ ہم بیعت بھی ہوئے ہیں یا نہیں ہوئے۔ تو اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ باقاعدہ choice کی وجہ سے تو بیعت نہیں ہو چکے ہوتے نا۔ وہ صرف ایک ماحول کی وجہ سے بیعت ہو چکے ہوتے ہیں۔ تو جو باقاعدہ choice سے بیعت ہوتے ہیں نا، وہ واقعی بیعت ہونا ہے۔ تو اگر کسی کو اپنا choice for example مل جائے، اور وہ پھر اپنی choice کے مطابق بیعت ہو جائے تو پھر اِدھر اُدھر بالکل نہ جائے۔ بس پھر ادھر ٹک جائے۔ اور ساری عمر پھر اسی کے ساتھ رہے۔ اسی میں پھر فائدہ ہے اور اس میں کامیابی ہے۔

سوال نمبر 1: السلام علیکم! محترم شیخ صاحب! امید ہے کہ خیریت سے ہوں گے۔ میں آپ کے بتائے ہوئے مندرجہ ذیل اذکار کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ نماز کے بعد کے اذکار، روزانہ کے اذکار، یہ جو ہیں نا تا حیات، ایک ماہ کے اذکار، سو سو دفعہ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، حق، اللہ۔ کوشش کی ہے، امید ہوتی ہے کہ اذکار بلا ناغہ ہوں لیکن پھر بھی ناغہ ہو جاتا ہے۔ اب آپ کی بندے کے لیے کیا ہدایات ہیں؟

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: ابھی جو ہے نا ماشاءاللہ آپ جو نمبر ایک ہے، نمبر دو یہ تو آپ اسی طرح رکھیں جس طرح ہیں، اور نمبر تین میں آپ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دو سو مرتبہ، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ دو سو مرتبہ، حق دو سو مرتبہ اور اللہ سو مرتبہ، یہ اب کوشش کر لیں اور ناغہ بالکل نہ کریں۔ ناغے سے بڑی بے برکتی ہوتی ہے، انسان بڑا پیچھے چلا جاتا ہے۔ ابھی تو آپ نے شروع کیا ہے، تو اگر شروع میں آپ ناغہ کر رہے ہیں تو پھر تو بڑے مسائل ہو جائیں گے۔ لہٰذا اپنے آپ کو ناغے سے بالکل بچانا چاہیے۔ ناغہ اکثر اس لیے ہوتا ہے کہ انسان ایسے وقت کو چن لیتا ہے جو کہ خطرے والا ہو۔ لہٰذا سوچ سمجھ کر اپنا وقت چن لیں ذکر کے لیے، تاکہ پھر مطلب ناغے کی صورتحال نہ بنے۔ کوشش کر لیں۔ اور اگر خدانخواستہ آپ کا، مثال کے طور پر وقت صبح ہے یا دوپہر ہے اور اس میں نہ ہو سکے تو کم از کم سونے سے پہلے پہلے ضرور ہونا چاہیے، لیکن عشاء کے بعد کا وقت مستقل نہ رکھیں کیونکہ اس میں ناغے کا امکان بہت زیادہ ہو جاتا ہے۔

Question No: 2 Assalamu Alaikum Warahmatullahi Wabarakatuh! Maulana, I pray that you are well. Insha'Allah, I perform the zikr you gave me: 200 times La Ilaha Illallah, 400 times La Ilaha Illahu, 600 times Haq, and 1500 times Allah. Always feel really good when I do the zikr and after that when I read Quran and also see that it helps me to control my desires. It helps me to eat less for example. Alhamdulillah! May Allah bless you and preserve you, ya Maulana!

[Q&A Session December 4, 2023, Session No. 650]

Answer: Masha'Allah! You continue this zikr by changing only from 1500 times Allah to 2000 times Allah. The rest will be the same Insha'Allah for one month.

سوال نمبر 3: حضرت السلام علیکم! فلاں فرام بہاولپور، حضرت اس مہینے کی کارگزاری پیشِ خدمت ہے۔ نفی اثبات سو مرتبہ، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ سو مرتبہ، اسمِ ضمیر سو مرتبہ، حق سو مرتبہ، حق اللہ سو مرتبہ، مراقبۂ دعائیہ پندرہ منٹ، مراقبۂ فنائیت پندرہ منٹ، خاموش اسمِ ذات ایک منٹ، مراقبۂ سورۂ اخلاص پانچ منٹ، اسمِ ذات اڑتالیس ہزار (48,000)۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: ماشاءاللہ! یہ اب سورۂ اخلاص کی جگہ آیۃ الکرسی کا مراقبہ کر لیا کریں۔ باقی چیزیں وہی رکھیں، إِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔

سوال نمبر 4: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ! حضرت جی میرا نام فلاں ہے، لیا چوک منڈا سے تعلق ہے۔ میرا، میں نے اپنی بیٹی کا نام رکھنا ہے، کوئی نام بتا دیں۔ عائشہ، خدیجہ، آمنہ نام کی بچیاں ہیں۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: آپ زینب نام رکھ لیں۔

سوال نمبر 5: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ! حضرت جی ایک سوال ہے۔ کچھ مہینے پہلے تک میری جاب ایک آفس میں تھی، کام کے سلسلے میں آفس کے اکاؤنٹنٹ کے ساتھ فون پر اکثر رابطہ رہتا تھا۔ بات ہمیشہ کام کے سلسلے میں ہی ہوتی تھی۔ اکاؤنٹنٹ پاکستانی تھے اس لیے سلام جواب اور حال احوال بھی پوچھتے۔ مجھے آفس کے لوگوں نے بتایا کہ یہ شخص قادیانی ہے۔ اس کے بعد بھی کام کی نوعیت کی وجہ سے ان سے رابطہ رکھنا پڑا۔ اکاؤنٹنٹ کو تبدیل کرنا میرے اختیارات میں نہیں تھا۔ فون پر بات ہوتی تو سلام کرتے اور مجبوراً جواب دینا پڑتا۔ اب اپنی کمزوری پر شرمندگی ہے۔ بات ہمیشہ کام کے بارے میں ہی ہوئی ہے۔ یہ job اب ختم ہو چکی ہے، اس لیے پھر مسئلہ فی الحال نہیں رہا، لیکن آئندہ کبھی یہ صورتحال ہو جائے تو کیا کیا جائے؟ guide کیجیے۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: اصل میں بات یہ ہے کہ واقعی ان کو آپ سلام تو نہیں کر سکتے، اور مطلب دلی تعلق بھی نہیں رکھنا چاہیے۔ البتہ دفتر کے جو ضروری کام ہیں اس کے سلسلے میں جو مجبوری ہے، تو اس کو مجبوری کی حد تک ہی رکھنا چاہیے۔ اور وہ یہی ہے کہ جیسے وہ سلام کر لے تو آپ جواب تو نہ دیں، بس آپ ان سے پوچھیں جی کیسے ہیں؟ مطلب اس کو گول کر لیا کریں، اس بات کو۔ اور دل میں آپ یہ کہہ دیا کریں يَهْدِيكُمُ اللّٰهُ۔ اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے دے۔ یہ کر لیا کریں۔ اور باقی یہ ہے کہ رابطہ وغیرہ بلاوجہ تو کسی کے ساتھ بھی ایسے نہیں رکھنا چاہیے، اور موقع ملے تو سمجھانا بھی چاہیے، باقی ان کی اپنی قسمت ہے۔

سوال نمبر 6: السلام علیکم! حضرت آپ نے جو اذکار دیے تھے ان کو ایک مہینہ مکمل ہو چکا ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ! مزید اذکار کے لیے رہنمائی فرمائیں۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دو سو مرتبہ، لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ چار سو مرتبہ، حق چھ سو مرتبہ، اللہ بارہ ہزار مرتبہ، اور اس کے ساتھ پانچ منٹ تصور کرنا کہ دل اللہ کر رہا ہے، حضرت ایسا کبھی محسوس نہیں تھا کہ دل اللہ اللہ کر رہا ہے۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: ابھی آپ ساڑھے بارہ ہزار کر لیا کریں اور یہی پانچ منٹ ساتھ یہ بھی کر لیا کریں، باقی چیزیں وہی رکھیں۔

سوال نمبر 7: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ! حضرت کے مزاج بخیر و عافیت ہوں گے، بندے کو جو ذکر دیا تھا اس کا ایک مہینہ بلا ناغہ پورا ہوا اور وہ یہ تھا؛ دو سو مرتبہ لَا إِلٰهَ، چار سو مرتبہ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ، چھ سو مرتبہ حق اور پانچ سو مرتبہ اللہ، اور یہ مراقبہ کہ چاروں مراقبوں کے جو فیض ہیں وہ آ رہے ہیں بندے کے لطیفۂ اخفیٰ پر، بظاہر بندے کو اس کا اثر محسوس نہیں ہوتا، ہو رہا تھا۔ محتاجِ دعا فلاں۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: ابھی ماشاءاللہ لطیفۂ اخفیٰ پر چاروں جو اس کا فیض آ رہا ہے، تو اس کو ایک مہینہ اور کر لیں، اور مطلب ان مراقبات کا ذرا ذہن میں رکھیں کہ یہ کس لیے کیے گئے تھے، تاکہ آپ کو اس کے بارے میں کچھ رہنمائی ہو سکے، مطلب کچھ فیض آئے۔

سوال نمبر 8: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ! حضرت میں جب بازار سے سودا سلف لاتی ہوں تو ساتھ میں extra چیزیں بھی خرید لیتی ہوں جن کی ضرورت بھی نہیں ہوتی، سوچتی ہوں ابھی sale میں ہیں ہو سکتا ہے بعد میں کام آجائیں۔ اپنی اس عادت کو ختم کرنا چاہتی ہوں، بازار جاتے وقت ذکر کرتی ہوں کہ میرا دل چیزوں کی طرف نہ جائے بس جس چیز کے لیے آئی ہوں وہی خرید لوں، لیکن پھر کچھ نہ کچھ لے آتی ہوں۔ اس عادت کو کس طرح ختم کروں؟ آپ کی رہنمائی چاہیے۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: آپ اس طرح کر لیں کہ جو چیزیں آپ کو extra پسند آئیں، ان کو اپنے ساتھ لکھیں، اس وقت فوراً نہ خریدیں۔ پھر بعد میں جس وقت آپ روانہ ہوں نا تو اس کے اوپر نظر دوڑائیں اور اس میں سے آدھی چیزیں خریدیں، آدھی نہ خریدیں۔ اگلی دفعہ آپ چوتھائی کریں۔ پھر اگلی دفعہ ختم کر لیں، إِنْ شَاءَ اللّٰهُ۔

سوال نمبر 9: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ! نمبر ایک: ہزار مرتبہ لسانی ذکر اسمِ ذات کا۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: یہ ان کو پندرہ سو مرتبہ بتا دیں۔

سوال نمبر 10: نمبر دو: لطیفۂ قلب دس منٹ محسوس ہوتا ہے۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: ماشاءاللہ! اب لطیفۂ قلب پندرہ منٹ کر لیں۔

سوال نمبر 11: نمبر تین: درود شریف پڑھتی تھی، اب بڑی ہو گئی ہے۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: تو ماشاءاللہ ان کو جو پہلا والا ذکر ہے وہ بتا دیں۔

سوال نمبر 12: نمبر چار: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبۂ شئوناتِ ذاتیہ پندرہ منٹ محسوس نہیں ہوتا۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: اس کو ایک دفعہ اور کروانے دیں۔

سوال نمبر 13: نمبر پانچ: لطیفۂ قلب دس منٹ، لطیفۂ روح دس منٹ، لطیفۂ سر بیس منٹ، سر پر محسوس نہیں ہوتا، روح اور قلب پر پہلے محسوس ہوتا تھا لیکن اب تینوں پر محسوس نہیں ہوتا۔ مراقبہ کرتے وقت بہت ڈر محسوس ہوتا ہے، ایسے لگتا ہے جیسے کوئی مجھے پیچھے سے پکڑ رہا ہے۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: آیۃ الکرسی کا حصار کر لیا کریں، پھر اس کے بعد یہ کر لیا کریں۔

سوال نمبر 14: نمبر چھ: تمام لطائف پر دس منٹ ذکر اور مراقبۂ شانِ جامع پندرہ منٹ، اس بات کا پختہ یقین ہو گیا کہ دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے منشا سے ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی تمام ثبوتی و سلبی صفات کا یقین بھی پختہ ہو گیا اور اس بات کا ادراک بھی ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی مختلف شانیں ہوتی ہیں، ان تمام مراقبات کا ادراک محسوس نصیب ہوا ہے۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: ماشاءاللہ! اب اس کو جو سلبی صفات ہیں ان کے بارے میں بتا دیجیے گا۔

سوال نمبر 15: نمبر سات: اس طالبہ سے عصر کی دو نمازیں قضا ہو گئیں۔ ایک نماز جب ربیع الاول کی دعا ہو رہی تھی اس دن قضا ہو گئی تھی، گھر سے آئی کہ مدرسے میں نماز پڑھنی ہے اور یہاں آئی تو دعا شروع ہو گئی، جب دعا ختم ہوئی تو مغرب کی اذان ہو گئی، میرے پاس آئی کہ باجی نماز قضا ہو گئی ہے لیکن میں ان کو رپورٹ دینا بھول جاتی۔ اب پچھلے ہفتے پھر قضا ہو گئی، عصر کی نماز کے وقت مہمان آگئے تھے ان کے ساتھ ایسی مصروفیت رہی کہ نماز بھول ہی گئی تھی۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: اس کا مطلب ہے غفلت کی وجہ سے ہوا ہے، تو ہر نماز کے لیے تین روزے رکھیں۔

سوال نمبر 16: السلام علیکم! جب ہم خانقاہ یا کسی اچھے ماحول میں ہوتے ہیں تو اعمال میں پابندی اور اہتمام ہوتا ہے، لیکن اگر کچھ دنوں کے لیے ناموافق حالات میں یا برے ماحول میں چلے جائیں تو وہاں کا اثر دل پر ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے معمولات کی پابندی نہیں ہو پاتی، یہاں تک کہ فرائض بھی خطرے میں پڑ جاتے ہیں، اور اصلاحی لحاظ سے ہم کافی پیچھے چلے جاتے ہیں۔ اب اگر کسی کے ساتھ اس طرح کا معاملہ ہو تو کیا اپنی اصلاح ہونے تک برے ماحول میں جانے سے بچنے کے لیے کیا تدبیر اختیار کرے؟ کیونکہ بعض اوقات اس طرح کے ماحول میں جانا پڑتا ہے جیسے اگر کسی کے گھر کا ماحول دینی نہیں ہے لیکن اسے وہاں جانا پڑتا ہے۔

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: اس کا یہ حل کریں کہ آپ کو ظاہر ہے گھر تو جانا پڑے گا، تو اس کا یہ ہے کہ گھر دین کی دعوت کی نیت سے جائیں، کہ وہاں سب کو میں نماز پڑھواؤں گا اور اب اس کے بارے میں یعنی ان کو سمجھاؤں گا۔ اور یہ ہے کہ اصلاحی ذکر بالکل ایسی حالت میں تو بالکل نہ چھوڑیں کیونکہ اس وقت آپ بچیں گے ہی اصلاحی ذکر کی برکت سے۔

(سائل) میرے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے کہ جب کبھی خانقاہ میں یا اچھے ماحول میں ہوتا ہوں تو اعمال کی بہت پابندی ہوتی ہے، اور اگر برے ماحول میں چلا جاؤں تو وہاں اس کی وجہ سے معمولات چھوٹ جاتے ہیں اور فرائض بھی خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

جواب: تو بس آپ بھی یہی کر لیں کہ وہاں جب جائیں تو آپ وہاں دعوت کی نیت سے جائیں۔ وہاں سب کو دعوت دینی ہے۔ داعی جو ہے، اس پر مدعو کا اثر نہیں ہوتا۔ لہٰذا آپ دعوت کی نیت سے جائیں، اور ساتھ یہ ہے کہ اپنا اصلاحی ذکر کبھی نہ چھوڑیں کیونکہ اسی سے کام خراب ہو جاتا ہے۔ یہ آپ نے بھیجنا ہے۔

سوال نمبر 18: السلام علیکم! میرا نام فلاں ہے، میں مفتی صاحب کے، مفتی صاحب کے ریفرنس سے آپ سے بیعت ہوا تھا۔ آپ نے جو مجھے ابتدائی ذکر دیا تھا وہ مکمل کر لیا تھا اور اس کے بعد جو آپ نے ذکر دیا، وہ مجھ سے نہیں ہو رہا۔ چالیس دن سے زیادہ ناغہ ہو گیا ہے۔ آپ مجھے اس بارے میں رہنمائی کریں کہ میں ذکر کیسے کروں؟

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: مفتی صاحب سے ذکر کو سیکھ لیجیے گا، اور مطلب یہ ہے کہ آپ اگر اُدھر ہی ہوتے ہیں، تو مفتی صاحب کو رپورٹ دے دیا کریں، ہفتہ ہفتہ رپورٹ دے دیا کریں کہ آپ ذکر کیسے کر رہے ہیں، پھر إِنْ شَاءَ اللّٰهُ مہینے کے بعد مجھے بتائیں۔

سوال نمبر 19: حضرت یہ نقشبندی سلسلے کے جو مراقبات ہیں، کیا یہ علم کو حال میں تبدیل کرنے کے لیے ہیں؟

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: اصل میں میں اکثر عرض کر چکا ہوں کہ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس دور کے حالات کے مطابق جب عقائد کے اندر بڑے مسائل پیدا ہوئے تھے، عقائد کو درست کرنے کے لیے مراقبات اس میں شامل کیے، جو اس کے علاوہ ہیں جو پہلے سے چلے آ رہے ہیں۔ جیسے یہ مشارب ہیں، یعنی تجلیاتِ افعالیہ، تو یہ ظاہر ہے یہ سب کچھ کا اللہ تعالیٰ سے ہونے کا یقین تھا کہ ﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾ ہمارا ٹھیک ہو جائے۔

صفاتِ ثبوتیہ کے بارے میں جو ہے، تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر یقین آ جائے تو غیر اللہ سے انسان کٹ جاتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد شیوناتِ ذاتیہ، تو یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ تعلق کے لیے ہے۔

اور جو صفاتِ سلبیہ، اس کا مطلب ہے تنزیہ کی کیفیت حاصل ہو جائے، تشبیہ سے آدمی آہستہ آہستہ نکل آئے۔ اور اس کے بعد پھر جو دوسرے مراقبات ہیں، ان میں حقیقتِ کعبہ، حقیقتِ قرآن، حقیقتِ صلاۃ، یہ کچھ بنیادی مفاہیم کو درست کرنے کے لیے۔ تو یہ ساری باتیں تو اس طرح ہیں۔

البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اصل جو مراقبات ہیں، وہ اصلاح والے مراقبات ہیں۔ یعنی انسان کی اصلاح ہو جائے۔ بنیادی چیز یہی ہے۔ تو اصلاح کے لیے سلوک طے کرنا ہے۔ تو اس پر حضرت نے بڑا زور دیا ہے کہ لوگ اس میں نہ پھنس جائیں، بلکہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ کریں۔ تو اللہ کا شکر ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہ اب کافی سارے حضرات اس طرح متوجہ ہوئے ہیں اور وہ اب اصلاح کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ کیونکہ نقشبندی سلسلے میں ہوا کیا ہے؟ شیطان بہت ظالم ہے، وہ بہت طریقے سے وار کرتا ہے۔ وہ اصل میں یہ ہے کہ پہلے تو یہ ذہن میں بٹھا دیا کہ مراقبات کافی ہیں، اور مراقبات سے نفس کا علاج بھی ہو جاتا ہے۔ پہلے تو انہوں نے یہ ذہن میں بٹھا دیا۔ ہو گئی بات۔ پھر اس کے بعد مراقبات کو بہت سطحی کر دیا، سطحی، یعنی اس کا اثر انسان کے اوپر کچھ نہیں ہوتا، صرف یہ بس الفاظ کی حد تک ہی بات رہتی ہے۔ اور الفاظ کے بھی بعض دفعہ، بعض الفاظ کے معنی معلوم نہیں ہیں، فارسی میں کہتے ہیں۔ اب فارسی میں کہتے ہیں تو ان کو کیا پتہ کہ میں کیا کہہ رہا ہوں؟ مطلب ظاہر ہے ان کو یہ پتہ ہی نہیں۔ تو ایسی صورت میں وہ مراقبات کا جو فائدہ تھا، مراقبات کے لحاظ سے وہ بھی نہیں ہوا۔ اب مراقبات کا فائدہ مراقبات کے لحاظ سے نہیں ہوا اور پھر اس کے ساتھ نفس بھی باندھ لیا۔ تو ساری چیزوں سے کاٹ دیا نا۔

اور تیسری جو بڑی غلطی جو چلی، وہ کیا ہے؟ کہ اصلاح کو automatic ان کے ساتھ سمجھ لیا، حالانکہ اصلاح کے لیے سلوک ہے، سلوک طے کرنا ہے۔ حضرت نے اس پر بڑا زور دیا ہے۔ کہ لوگ جذب کے احوال کونفس کے تزکیے کے احوال سمجھ لیتے ہیں، تو اس سے پھر نقصان ہو جاتا ہے۔ تو یہ تمام مسائل جو ہوئے ہیں وہ اسی وجہ سے ہوئے ہیں۔

اور یہاں تک کہ لوگوں نے مشہور کر لیا کہ نقشبندی سلسلہ سب سے اونچا ہے اور نقشبندی سلسلہ سب سے آسان ہے۔ یعنی لوگوں کو دعوت کیا دے رہے ہیں؟ مطلب یہ ہے کہ گویا کہ اس میں شامل ہوتے ہی آپ کو ساری چیزیں خود بخود حاصل ہو جائیں گی۔ خود بخود محبوبیت کی وجہ سے حاصل ہو جائیں گی۔ اب جب اس قسم کے concept کے ذریعے سے آپ لوگوں کو داخل کریں گے تو خاک ہی محنت کریں گے!

تو اب ایک بہت بڑے نقشبندی بزرگ ہیں، نام میں نہیں لیتا کیونکہ لوگ ان کے ساتھ چڑ جائیں گے، بہت بڑے بزرگ ہیں مطلب اس وقت میرے خیال میں نقشبندی بزرگوں میں درجہ اول میں ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ چار گھنٹے رات کو مراقبہ کرتے ہیں، صبح جوا کھیلتے ہیں۔ یہ بالکل، یہ ان کے الفاظ ہیں۔ چار گھنٹے رات کو مراقبہ کرتے ہیں، صبح جوا کھیلتے ہیں۔ اب پھر کیسے اصلاح ہو؟ تو اصل چیز یہی ہے کہ ہم لوگوں کو جو ہے نا اصل اصلاح کی طرف جانا چاہیے۔ اصلاح کی باتیں کیسی ہیں؟ یعنی ایک سالک اگر یہ بتائے گا ہی نہیں کہ مجھ میں کیا عیوب ہیں، تو اس کی اصلاح کیسے ہو گی؟ نمبر ایک۔ نمبر دو؛ وہ اپنے احوال، اپنے حال کا نہیں بتائیں گے، صرف مراقبات بتائیں گے۔ تو ان کی اصلاح کیسے ہو گی؟ اب یہ دیکھو نا آپ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے جو خطوط اور اس کے جو جوابات ہیں تربیت السالک میں، اس میں کیا چیزیں ہوتی ہیں؟ وہ سارے کے سارے اپنے احوال لوگ بیان کرتے ہیں اور حضرت تحقیق بیان فرماتے ہیں، تو ایک طرف concept بھی درست ہو رہا ہوتا ہے، ایک طرف عمل پر بھی آ رہے ہوتے ہیں۔ تو ماشاءاللہ فائدہ ہوتا ہے نا، تو یہی تو ہے آج کل کے دور کے طریقے۔

سوال نمبر 20: السلام علیکم! حضرت اُدھر بیان میں آپ نے فرمایا تھا کہ کچھ لوگ جو ہیں، جن کو کھینچا جاتا ہے، جذب کی کیفیت میں ہوتے ہیں، تو اس وقت جب جذب کی کیفیت میں ہوتے ہیں تو وہ فنا کی کیفیت بھی ان کو کہا جا سکتی ہے کہ وہ اس وقت فنا ہوتے ہیں؟ تو...

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: پورا سیاق و سباق بتا دیجیے تاکہ مجھے معلوم ہو جائے کہ کیا بات ہوئی تھی۔

(سائل) جن لوگوں کو کھینچا جاتا ہے وہ...

جواب: نہیں، نہیں، یہ تو آپ درمیان کی بات بتا رہے ہیں، سیاق و سباق کے ساتھ بتا دیں۔ کیونکہ اس کے کوئی معنی نہیں ہیں اگر اس کا سیاق و سباق نہ معلوم ہو۔

(سائل) مثال کے طور پر یہ آپ نے فرمایا تھا کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کو اللہ تعالیٰ خود قریب کرتے ہیں۔ تو وہ مجذوب ہوتے ہیں...

جواب: محبوب ہوتے ہیں، محبوب ہوتے ہیں۔ محوب اور مجذوب میں لوگ فرق نہیں کرتے۔ وہ کچھ محبین ہوتے ہیں کچھ محبوبین ہوتے ہیں۔ تو جو محبوبین ہوتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ خود کھینچتے ہیں تو مجذوب بھی ہو جاتے ہیں۔ یعنی محبوب مجذوب، وہاں پر ایک جیسے ہو جاتے ہیں وہاں پر محبوبین کے لیے۔

(سائل) اسی جگہ پر، وہ جب اس کیفیت سے وہ نہیں نکلتے، اسی حالت میں رہتے ہیں، تو ان کو یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ فنا کی کیفیت میں ہیں؟

جواب: اسی حالت میں نہیں رہتے۔ اسی حالت میں نہیں رہتے۔ اصل میں ان کو جب کھینچا جاتا ہے تو ان کو ان اعمال کی طرف کھینچا جاتا ہے جو ان کے لیے ترقی کے لیے ہوتے ہیں۔ مطلب ان کو ان اعمال کی طرف کھینچا جاتا ہے، گویا کہ اللہ تعالیٰ کی تربیت میں ہوتے ہیں۔ اور ان کو ایسے لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں کہ جو ان کی اصلاح کر لیں اور ماشاءاللہ حضرت نے خود فرمایا ہے کہ محبین کا راستہ اگر محبوبین اختیار کر لیں تو ان کو فائدہ ہوتا ہے۔ البتہ محبین اگر محبوبین کا راستہ اختیار کر لیں تو ان کو فائدہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ راستہ ان کے لیے ہے نہیں۔ تو جتنے بھی اللہ والے ہیں، ان کو کسی سلسلے میں ساتھ شامل کر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی اس سلسلے کے ذریعے سے تربیت بھی کروا دیتے ہیں، لیکن ان کے لیے تربیت کے مواقع جو ہیں نا اللہ تعالیٰ خود بنا دیتے ہیں۔

(سائل) یعنی وہ جو محبوبین ہوتے ہیں وہ اس کیفیت میں نہیں رہتے وہ آگے نکل جاتے ہیں؟

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: جی بالکل آگے آتے ہیں، بالکل آگے آتے ہیں، یہ ہمارے کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ جیسے تھے، مادرزاد ولی تھے، تو دیکھو ان کے لیے اللہ پاک نے راستے بنا دیے یا نہیں بنا دیے؟ بس یہ بات ہے، حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ جو تھے۔ اس طرح اور کئی ہیں۔ بلکہ میں کہتا ہوں حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی ان میں تھے۔ تبھی تو حضرت نے کچھ باتیں ایسی فرمائی ہیں نا جو لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتیں۔

وہ حضرت نے اپنی ذات کے لیے فرمائی تھی۔ وہ جو بعض مکتوبات شریف میں فرماتے ہیں نا کہ کچھ کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کچھ کے ساتھ، تو وہ کچھ اپنا بتا رہے تھے، اپنا بتا رہے تھے۔ باقی وہ جو آپ فرما رہے ہیں کہ فنائیت، فنائیت تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس کی وہ ایک خاص کیفیت ہے وہ کسی پر بھی آسکتی ہے۔ محبین پر بھی آ سکتی ہے، محبوبین پر بھی آ سکتی ہے۔ دونوں پر آسکتی ہے۔ جب وہ کام شروع ہو جائے، یعنی انسان فنا والا سلسلہ اس کا شروع ہو جائے، نفس ان کا دبنا شروع ہو جائے حتیٰ کہ بالکل اپنے آپ سے بھی بے خبر ہو جاتا ہے تو وہ فنا کی کیفیت وہ کسی پر بھی آ سکتی ہے، دونوں میں سے۔

سوال نمبر 25: ایک دفعہ کوئی ذکر آیا تھا فناءِ روحانی اور جسمانی، اس میں کیا فرق ہوتا ہے؟

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: جسمانی تو نہیں ہو سکتا نا، کیونکہ جسمانی کون فنا ہو سکتا ہے؟ وہ غائب تو نہیں ہوتا۔ ادھر ہی ہوتا ہے، موجود ہوتا ہے۔ ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ لیکن وہ قلباً اور اس کے لحاظ سے، یعنی مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو محسوس نہیں کر رہا ہوتا، اللہ پاک کی طرف اتنا متوجہ ہوتا ہے۔ کسی اور چیز کی اس کو خبر نہیں ہوتی۔ یہ بات ہے۔ اور پھر جس، جب واپس آتا ہے تو ان کو ساری چیزوں کی خبر ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا تعلق اتنا حاصل ہو چکا ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تعلق سے کسی چیز کی وجہ سے بھی نہیں ہٹتا، اور یہ وہ حالت ہے رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ والی، وہ ان کو حاصل ہو جاتی ہے، وہ جب واپس آ جاتا ہے۔ اور اس وقت سُکر کی حالت میں ہوتا ہے، فنا کی حالت میں ہوتا ہے، تو اس وقت وہ کسی چیز سے واقف نہیں ہوتا۔ کچھ بھی ان کے ہاں نہیں ہوتا۔

سوال نمبر 29: حضرت یہ جو نسبت منتقل ہوتی ہے، یہ ایک دم ہوتی ہے یا آہستہ آہستہ ہوتی ہے اس کی؟

[سوال جواب مجلس 27 نومبر 2023، مجلس نمبر: 649]

جواب: تیاری تو آہستہ آہستہ ہوتی ہے۔ تیاری آہستہ آہستہ ہوتی ہے، منتقل پھر یکدم ہو جاتی ہے۔ اصل کہ موانع جب دور ہو جائیں پھر آئے گی نا۔ تو موانع تو آہستہ آہستہ دور ہوتے ہیں۔ اور چونکہ منتقل اللہ کے فضل سے ہوتی ہے، اللہ کا فضل کسی وقت بھی ہو سکتا ہے۔ وہ انسان کے عمل سے نہیں ہوتی۔ البتہ تیاری اس کے لیے کرنی پڑتی ہے۔ جگہ بنانی پڑتی ہے۔ اب مثال کے طور پر آپ کو کوئی چیز دینا چاہے لیکن راستہ بند ہے۔ تو دینا بھی چاہے، لیکن نہیں، تو اب یہ بات ہے راستے کو صاف کرنا آپ کے، اس کے لیے ہے کہ وہ آئے تو آپ لے سکیں۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ جو رکاوٹیں ہیں، حجابات ہیں، ان کو دور کرنا، اپنے عمل کے ذریعے سے، وہ کرتے کرتے کرتے کرتے جب اللہ کا فضل آ جاتا ہے تو بس اس وقت منتقل ہو جاتی ہے۔

تزکیہ نفس، اصلاحِ احوال اور معمولاتِ ذکر - مجلسِ سوال و جواب - اشاعت دوم