دین میں ایمان اور اطمینانِ قلب: نزولِ مائدہ کا واقعہ اور اللہ کی حجت

درس نمبر 245، سورۃ المائدة، آیت نمبر 109 تا 115، اشاعتِ اول: 31 جولائی، 2022، بمطابق 2 محرم الحرام، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. قرآن کریم اپنے احکام کے ساتھ آخرت یا پچھلی امتوں کا ذکر کرتا ہے تاکہ ان احکام پر عمل کے لیے آخرت کی فکر پیدا ہو۔
  2. انبیاء کرام قیامت کے دن دلوں کے مخفی حالات سے لاعلمی کا اظہار کریں گے کیونکہ وہ دنیا میں صرف ظاہری اعمال پر فیصلہ کرتے تھے۔
  3. قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان پر کیے گئے انعامات اور تائید کے لیے دیے گئے معجزات یاد دلائے گا۔
  4. حواریوں کی جانب سے آسمانی خوان کی درخواست کا مقصد ایمان کا فقدان نہیں بلکہ دلی اطمینان، مزید یقین اور حق کی گواہی تھا۔
  5. مطلوبہ معجزے کی فرمائش پوری ہونے کے بعد بھی کفر کرنے والوں کے لیے مہلت نہیں بچتی اور ان پر سخت ترین عذاب نازل ہوتا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَوٰةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ ؕقَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا ؕ-اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ(109) اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ ۘ-اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا ۚوَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ ۚ-وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَ كْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ ۚ-وَ اِذْ تُخْرِ جُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ ۚ-وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(110) وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ ۚ-قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ(111) اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ ؕ-قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(112) قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَىٕنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ (113)قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآىٕدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ ۚ-وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(114) قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ ۚ-فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ (115)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: وہ دن یاد کرو جب اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا، اور کہے گا کہ ”تمہیں کیا جواب دیا گیا تھا؟“ وہ کہیں گے کہ ”ہمیں کچھ علم (75) نہیں، پوشیدہ باتوں کا تمام تر علم تو آپ ہی کے پاس ہے“ ﴿109﴾

حاشیہ: قرآن کریم کا یہ خاص طریقہ ہے کہ جب وہ اپنے احکام بیان فرماتا ہے تو اس کے ساتھ آخرت کا کوئی ذکر یا پچھلی امتوں کی فرماں برداری یا نافرمانی کا بھی ذکر فرماتا ہے، تاکہ ان احکام پر عمل کرنے کے لئے آخرت کی فکر پیدا ہو، چنانچہ وصیت کے مذکورہ بالا احکام کے بعد اب آخرت کے کچھ مناظر بیان فرمائے گئے ہیں، اور چونکہ کچھ پہلے عیسائیوں کے غلط عقائد کا تذکرہ تھا، اس لئے خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے آخرت میں جو مکالمہ ہوگا اس کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور شروع کی اس آیت میں تمام پیغمبروں سے اس سوال کا ذکر ہے کہ ان کی اُمتوں نے ان کی دعوت کا کیا جواب دیا تھا؟ اس کے جواب میں انہوں نے اپنی لاعلمی کا جو اظہار کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم دُنیا میں تو لوگوں کے ظاہری بیانات پر ہی فیصلہ کرنے کے مجاز تھے، لہٰذا جس کسی نے ایمان کا دعویٰ کیا ہم نے اسے معتبر سمجھ لیا، لیکن یہ معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا کہ اس کے دل میں کیا ہے؟ آج جبکہ فیصلہ دلوں کے حال کے مطابق ہونے والا ہے، ہم یقین کے ساتھ کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ دلوں کا پوشیدہ حال تو صرف آپ ہی جانتے ہیں۔ البتہ جب لوگوں کے ظاہری ردّ عمل ہی کے بارے میں انبیائے کرام سے گواہی لی جائے گی تو وہ ان کے ظاہری اعمال کی گواہی دیں گے، جس کا ذکر سورۂ نساء (41:4) اور سورۂ نحل (89:16) وغیرہ میں آیا ہے۔

ترجمہ: (یہ واقعہ اس دن ہوگا) جب اللہ کہے گا: ’’اے عیسیٰ ابن مریم! میرا انعام یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کیا تھا، جب میں نے روح القدس کے ذریعے تمہاری مدد کی تھی۔ تم لوگوں سے گہوارے میں بھی بات کرتے تھے، اور بڑی عمر میں بھی۔ اور جب میں نے تمہیں کتاب و حکمت اور تورات و انجیل کی تعلیم دی تھی، اور جب تم میرے حکم سے گارے سے پرندے کی جیسی شکل بناتے تھے، پھر اس میں پھونک مارتے تھے تو وہ میرے حکم سے (سچ مچ کا) پرندہ بن جاتا تھا، اور تم مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کر دیتے تھے، اور جب تم میرے حکم سے مُردوں کو (زندہ) نکال کھڑا کرتے تھے، اور جب میں نے بنی اسرائیل کو اُس وقت تم سے دُور رکھا جب تم ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے، اور ان میں سے جو کافر تھے انہوں نے کہا تھا کہ یہ کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں۔‘‘﴿110﴾

ترجمہ: جب میں نے حواریوں کے دل میں یہ بات ڈالی کہ: ’’تم مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ‘‘ تو انہوں نے کہا: ’’ہم ایمان لے آئے، اور آپ گواہ رہئے کہ ہم فرماں بردار ہیں۔‘‘﴿111﴾

ترجمہ: (اور ان کے اس واقعے کا بھی ذکر سنو) جب حواریوں نے کہا تھا کہ: ’’اے عیسیٰ ابن مریم! کیا آپ کا پروردگار ایسا کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے (کھانے کا) ایک خوان اُتارے؟‘‘ عیسیٰ نے کہا: ’’اللہ سے ڈرو، اگر تم مؤمن ہو۔‘‘﴿112﴾

حاشیہ: یعنی ایک مؤمن کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے معجزات کی فرمائش کرے،

اور یہ اصل میں معجزات کی بات اور ہے لیکن یہ جو الفاظ ہیں نا کہ "کر سکتا ہے؟" اللہ پاک تو سب کچھ کر سکتا ہے نا، تو ظاہر مطلب ہے کہ یہ تو الفاظ گویا کہ یہ سمجھ لیں، اس کا دوسری طرف بھی معنی لے سکتے ہیں۔

حاشیہ: کیونکہ ایسی فرمائشیں تو عام طور پر کافر لوگ کرتے رہے ہیں۔ البتہ جب انہوں نے یہ وضاحت کی کہ خدانخواستہ اس فرمائش کا منشاء ایمان کا فقدان نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر مکمل اطمینان کا حصول اور ادائے شکر ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دُعا فرمادی۔

ترجمہ: انہوں نے کہا: ’’ہم چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھانا کھائیں، اور اس کے ذریعے ہمارے دل پوری طرح مطمئن ہو جائیں، اور ہمیں (پہلے سے زیادہ یقین کے ساتھ) یہ معلوم ہو جائے کہ آپ نے ہم سے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہے، اور ہم اس پر گواہی دینے والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘﴿113﴾

یہ اصل میں واقعتاً انسان، ایمان کے طور پہ جانتا ہے۔ لیکن یقین اس کو بالمشاہدہ جو چیزیں وہ دیکھتا ہے تو وہ مزید اطمینان ہو جاتا ہے، اور وہ کہتے ہیں، مطلب چونکہ وہ ظاہر ہے وہ معجزات ہوتے ہی ہیں نبی کے، اس کو ثابت قدمی کے لیے۔ تو وہ، تو کافر لوگ تو اس طرح کرتے ہیں لیکن مسلمانوں کو اس سے اطمینان ہوتا ہے۔ اور اطمینان یہ ہے کہ وہ ثابت قدمی کے لیے ایک ذریعہ ہوتا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم اطمینان کے لیے کرنا چاہتے ہیں، ایمان ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے۔ اور ایمان تو ہم سب رکھتے ہیں۔ لیکن یہ ہے کہ اس سے ہمیں مزید یقین ہو جائے گا اور اطمینان ہو جائے گا۔

ترجمہ: یہ معلوم ہو جائے کہ آپ نے ہم سے جو کچھ کہا ہے وہ سچ ہے، اور ہم اس پر گواہی دینے والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘﴿113﴾ (چنانچہ) عیسیٰ ابن مریم نے درخواست کی کہ: ’’یا اللہ! ہم پر آسمان سے ایک خوان اُتار دیجئے جو ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے ایک خوشی کا موقع بن جائے، اور آپ کی طرف سے ایک نشانی ہو۔ اور ہمیں یہ نعمت عطا فرما ہی دیجئے، اور آپ سب سے بہتر عطا فرمانے والے ہیں۔‘‘﴿114﴾ اللہ نے کہا کہ: ’’میں بیشک تم پر وہ خوان اُتار دُوں گا، لیکن اس کے بعد تم میں سے جو شخص بھی کفر کرے گا اس کو میں ایسی سزا دُوں گا جو دُنیا جہان کے کسی بھی شخص کو نہیں دُوں گا۔‘‘﴿115﴾

حاشیہ: قرآن کریم نے یہ بیان نہیں فرمایا کہ پھر وہ خوان آسمان سے اُترا یا نہیں۔ جامع ترمذی کی ایک روایت میں حضرت عمار بن یاسرؓ کا یہ قول مروی ہے کہ خوان اُترا تھا، پھر جن لوگوں نے نافرمانی کی وہ دُنیا ہی میں عذاب کے شکار ہوئے۔

ایسی چیزیں دیکھو نا، اصل میں تو یعنی پیغمبر کی بات پر یقین کرنا ایمان ہوتا ہے۔ تو اگر اس طرح ایک چیز آ بھی جائے، پھر اس کے بعد بھی نہ کریں پھر تو بڑی سخت بات ہے۔ اب دیکھیں، پہلے جو تھا وہ حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ جو چیزیں ہو رہی تھیں وہ سارے معجزات ہی تھے۔ یعنی مردہ شخص کو کہنا کہ جی اٹھو تو وہ جی اٹھتا تھا۔ اس طریقے سے وہ پرندے کی وہ گارے سے شکل بناتا ہے، اس میں وہ پھونک مارتا ہے، تو وہ سچ مچ کا پرندہ بن جاتا تھا۔ کوڑھی وغیرہ کا وہ علاج کرتے تھے۔ یہ سارے معجزات ہی تھے۔ تو اس کے بعد اگر کسی کو یقین نہیں آتا تھا تو پھر تو اور سخت بات ہے۔ لیکن یہاں تو خود فرمائشی معجزہ تھا۔ اس کے ہونے کے بعد پھر تو چانس نہیں ہوتا۔ کیونکہ مثال کے طور پر ایک شخص ہے، کہتا ہے اگر تم یہ کام کر لو تو پھر تیری بات میں مان لیتا ہوں۔ مثلا کوئی کہتا ہے نا کہ بھئی تم قسم کھاؤ تو پھر میں۔ اب وہ قسم کھا لے اور پھر بھی نہ مانے تو اگر اس کے پاس طاقت ہے تو اس کو پھر کیا کرے گا؟ پھر اس کے پاس علاج تو کوئی اور نہیں ہوگا، پھر تو وہ طاقت ہی استعمال کرے گا۔ تو اس طریقے سے اگر کسی نے اللہ تعالی سے درخواست کی کسی خاص معجزے کی اور وہ اس طرح ہی ہو جائے۔ اس کے بعد تو پھر اس کے پاس کوئی چیز نہیں رہتی نا بچنے کی۔ پھر تو تباہی ہے۔ تو یہ بات فرمائی ہے اللہ پاک نے کہ اس کے بعد میں چھوڑوں گا نہیں اگر پھر بھی نہ مانے تو۔

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔


تشریحی نوٹس

1) ایمان بالغیب کی بنیاد

جب اللہ پاک نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں، تو فرشتوں نے تعجب کیا کہ یہ خون و فساد مچائیں گے۔ اللہ پاک نے فرمایا: جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ پہلی بات یہی ہے کہ اللہ پاک جو فرمائیں، وہ ہمیں فوراً ماننا ہوتا ہے۔

آج کل سائنس میں لوگ جس چیز کو معلوم نہیں کر سکتے، اس کا انکار کر دیتے ہیں — حالانکہ کسی چیز کا پتہ نہ ہونا اس کے نہ ہونے کی دلیل نہیں۔ جیسے آسمان سائنس کی domain میں ہی نہیں، کیونکہ سائنس کی پہنچ وہاں تک نہیں ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ان چیزوں کا انکار کر دے تو اس کا ایمان ختم ہو جاتا ہے۔ طریقہ یہی ہے کہ قرآن میں جو آیا ہے اس پر ایمان لایا جائے اور کہا جائے کہ اللہ نے جو فرمایا ہے وہی ٹھیک ہے، وہی حق ہے۔ یہی ایمان بالغیب کی بنیاد ہے۔

حضرت نے فرمایا: میں خود سائنسدان رہا ہوں، ہمارا واسطہ ایسے لوگوں سے رہا ہے۔ آج کل حالت بہت خراب ہے — پی ایچ ڈی ڈاکٹرز تک اس پر بحث کرتے ہیں۔

جب اللہ پاک نے فرشتوں کا امتحان لیا اور حضرت آدم علیہ السلام نے نام بتا دیے، تو فرشتوں نے عرض کیا کہ ہمیں کوئی علم نہیں سوائے اس کے جو تو نے ہمیں سکھایا۔ ہمیں بھی یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے — کوئی پوچھے آسمان کدھر ہے ثابت کرو تو کہیں: قرآن کریم میں سات آسمانوں (سبع سماوات) کا ذکر صراحت کے ساتھ متعدد مقامات پر آیا ہے، میرا اس پر ایمان ہے؛ جو اللہ نے بتایا ہے بس وہی ٹھیک ہے۔

قلم اللہ کے ہاتھ میں ہے — ڈاکٹر برہان کا واقعہ (مختصراً)

حضرت کے ساتھی ڈاکٹر برہان میڈیکل کالج میں تھے، حضرت انجینئرنگ کالج میں۔ ان کے پروفیسر ملحد (ایتھیسٹ) تھے اور کلاس میں نوک جھونک چلتی رہتی تھی۔ وائیوا کے دن پروفیسر نے باہر آ کر طنزاً کہا: "تم بھی آئے ہو؟" یعنی تمہارا آنا نہ آنا برابر ہے۔ ڈاکٹر برہان نے جواب دیا: "سر، قلم آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے۔"

اندر ایک ایکسٹرنل ممتحن بھی تھے۔ پروفیسر نے کہا: میں ایک ہی سوال کروں گا، جواب دے دیا تو پاس، ورنہ فیل۔ ایکسٹرنل نے کہا: ہم یہاں پاس فیل کرنے نہیں، یہ دیکھنے بیٹھے ہیں کہ کون کامیابی کا اہل ہے؛ سوال اُس وقت تک ہونے چاہئیں جب تک اطمینان نہ ہو جائے۔ بات بڑھی تو انٹرنل غصے میں کہہ گئے کہ تم ہی اس کا وائیوا لے لو — اور یوں اللہ پاک نے قلم اس کے ہاتھ سے نکال دیا۔ ایکسٹرنل نے خوب گہرائی سے وائیوا لیا اور آخر میں فرمایا: مطمئن ہوں، تم پاس ہو۔ باہر آ کر لڑکوں کے پوچھنے پر ڈاکٹر برہان نے کہا: تمہیں بعد میں پتہ چلے گا، مجھے پہلے پتہ چل گیا کہ میں پاس ہوں۔

حضرت نے فرمایا: کبھی کبھی اللہ جل شانہٗ اپنی قدرتوں کا اس طرح بھی اظہار فرما دیتے ہیں۔

2) اس امت کا امتیاز

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا "اور (مسلمانو!) اسی طرح ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ بنیں۔"

3) کرامت کا معاملہ اور ادبِ اہلِ اللہ*

ایک تو یہ کہ آج کل کرامت کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے؛ اور اگر کسی ولی کی کرامت ظاہر ہو جائے تو اس کا انکار بھی نہ کیا جائے۔

پہلا واقعہ: حضرت علامہ بوصیری رحمۃ اللہ علیہ (صاحبِ قصیدہ بردہ) کے ہم عصر ایک عالم تھے جو ہر جگہ جا کر کہتے کہ بوصیری مشرک ہیں۔ لوگوں نے سمجھایا کہ خدا کے بندے! یہ مقبول اولیاء میں سے ہیں، کہیں یہ بات آپ کو خراب نہ کر دے — مگر بات سمجھ نہ آئی۔ آخر میں وہ عیسائی ہو کر مرا۔ ایک طرف حضرت پر شرک کا الزام لگاتا تھا، خود بدترین مشرک ہو کر مرا۔

دوسرا واقعہ (بہت عبرت ناک): حضرت شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ایک صاحب بیعت ہوئے اور تربیت میں چل رہے تھے۔ پتہ نہیں کس کے دھوکے میں آ گئے، ایک دن حضرت کو خط لکھا کہ مجھے اپنی بیعت سے نکال دیں۔ حضرت نے فرمایا: ٹھیک ہے، نکال دیا۔

اس تعلق میں مرید اصل ہوتا ہے، پیر کا نمبر بعد میں آتا ہے۔ مرید ارادہ کرنے والے کو کہتے ہیں — ارادہ مرید کا ہوتا ہے، پیر اسے تسلیم کرتا ہے۔ اس لیے جب اس نے کہہ دیا تو حضرت نے فرمایا: ٹھیک ہے، نکال دیا۔

بعض دفعہ شیطان انسان پر سوار ہو جاتا ہے۔ اس نے دوسرا خط لکھا کہ مجھے اپنی دعا سے بھی نکال دیں۔ یہ تو کوئی بدبخت بھی نہیں کر سکتا کہ کسی مسلمان کی دعا سے ہی نکل جائے۔ دعا کے لیے تو کافر سے بھی کہا جا سکتا ہے — اپنے آپ کو ایک خیر سے محروم کرنے میں کیا تُک ہے؟ حضرت نے فرمایا: اچھا، ٹھیک ہے، دعا سے بھی نکال دیا۔

اس کے بعد بارہ سال خاموشی رہی۔ بارہ سال بعد خط آیا: میں یہ خط جیل سے لکھ رہا ہوں، ہمارا سارا خاندان لڑائیوں میں تباہ ہو گیا، ساری جائیداد بک گئی، اکثر رشتہ دار مارے گئے، جو باقی ہیں وہ زیادہ تر جیلوں میں ہیں۔ مجھے معاف کر دیں، آپ کی گستاخی مجھے اس مقام پر لے آئی ہے۔

حضرت نے فرمایا: "کاش ان کو کوئی سمجھا دیتا کہ اس نے اپنے ساتھ کیا کر دیا۔ ہم تو کچھ بھی نہیں ہیں، لیکن جن کے ہاتھ میں ہاتھ دیتے ہیں وہ بڑے لوگ ہیں، اللہ پاک ان کی لاج رکھتے ہیں۔"

یہاں دیکھیے کہ حضرت نے اپنا ذکر نہیں فرمایا، بلکہ اپنے بڑوں کا فرمایا۔ حضرت واقعی اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتے تھے — یہی ہمارے بڑوں کا طریقہ رہا ہے۔ حضرت تو بڑے تھے ہی، چاہے خود کو کچھ نہ سمجھتے ہوں؛ لیکن ہم تو واقعی کچھ بھی نہیں، ہمارا تعلق البتہ ایسوں سے جڑا ہوا ہے۔ اور آج کل جو لوگ وہی غلطی کر رہے ہیں جو پہلوں نے کی، انہیں خود سوچ لینا چاہیے۔

دین میں ایمان اور اطمینانِ قلب: نزولِ مائدہ کا واقعہ اور اللہ کی حجت - درسِ قرآن - دوسرا دور