دین میں اعتدال اور آسانی
باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، درس نمبر: 209، حدیث نمبر: 144 اشاعتِ اول: 17 فروری، 2023 بمطابق 25 رجب، 1444 ہجری
- شریعت میں تکلف، غیر ضروری سختی اور بلاوجہ کھود کرید کرنے والے لوگ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔
- دین کے احکامات میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے اور جہاں شریعت نے سختی نہیں کی وہاں بال کی کھال نکالنے سے بچنا چاہیے۔
- واضح مسائل میں خواہ مخواہ مبالغہ کرنا اور شک میں پڑنا عموماً ان لوگوں کی عادت ہے جنہیں عمل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔
- اللہ کے واضح احکامات پر کثرتِ سوال کے بغیر عمل کرنا چاہیے تاکہ انسان خواہ مخواہ کی مشکلات سے محفوظ رہے۔
- شریعت کو اس کی اصل حالت میں تسلیم کرنا چاہیے اور احکامات کو فلسفے یا سائنس کے ذریعے جانچنے سے گریز کرنا چاہیے۔
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔ تکلف کرنے والے تباہ ہو گئے۔
(144) ﴿وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ: ”هَلَكَ الْمُتَنَطِّعُوْنَ قَالَهَا ثَلَا ثًا“﴾ (رَوَاهُ مُسْلِمٌ) اَلْمُتَنَطِّعُوْنَ: اَلْمُتَعَمِّقُوْنَ الْمُشَدِّدُوْنَ فِىْ غَيْرِ مَوْضِعِ التَّشْدِيْدِ.
ترجمہ: ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تکلف کرنے والے تباہ و برباد ہوگئے آپ ﷺ نے یہ کلمہ تین بار فرمایا۔“ اَلْمُتَنَطِّعُوْنَ: کا مطلب یہ ہے جہاں شریعت میں سختی نہیں ہے وہاں سختی کرنے والے اور کھود کرید کرنے والے۔
تشریح: اس حدیث میں بہت زیادہ مشقتیں کرنے کی مخالفت فرمائی جارہی ہے، میانہ روی کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب ہے کیونکہ ”هلک“ کے معنی تباہ ہوجانے اور برباد ہوجانے کے ہیں۔ یہ بددعا آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمائی۔ علامہ ابن اثیر فرماتے ہیں متنطعون کہتے ہیں بات کرنے میں بہت زیادہ مبالغہ کرنے والوں کو خواہ عمل میں مبالغہ کریں یا قول میں کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت کے مسائل میں بہت زیادہ بال کی کھال نکالنا بھی صحیح نہیں ہے۔ یہ عموماً ایسے لوگوں کی عادت ہوتی ہے جن کو عمل سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔
تخریج حدیث: صحيح مسلم كتاب العلم (باب هلك المتنطعون)، ابوداؤد.
اس میں ہم لوگوں کے لیے گویا کہ ایک سبق آ گیا کہ شریعت جو واضح ہے اور اس میں تکلف نہیں ہے۔ تکلف جو لوگ کرتے ہیں اس سے ان کو بہت نقصان ہوتا ہے۔ مطلب بعض لوگ شک کرتے ہیں، تو نہیں۔ اگر کسی چیز پر یقین ہے تو جب تک اس کے نہ ہونے کا یقین نہ ہو جائے اس وقت تک شک میں نہیں پڑنا چاہیے۔
اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ جب واضح بات موجود ہو تو پھر اسی پر عمل کرنا چاہیے، خواہ مخواہ وہ نہیں کریں جیسے موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں جو گائے والی بات تھی۔ تو اس میں وہ پوچھتے تھے کہ اچھا اس کا مطلب کیا ہے، پھر اور کیا ہے، پھر اور کیا ہے۔ تو جتنی بار پوچھتے اتنی مشکلات آتی رہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ جو بتایا جائے تو بس وہ اس پر عمل کیا جائے۔ یہ آسان سی بات ہوتی ہے کہ مطلب یہ ہے کہ شریعت کو جیسا ہے بس اسی طرح مان لینا چاہیے، اس میں درمیان میں آگے پیچھے کچھ نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اگر ہم آگے پیچھے کچھ لڑاتے ہیں، اس سے ہمارے لیے مسائل بنتے ہیں۔
یہ جو فلسفہ وغیرہ لوگوں نے شامل کر لیا اس سے بہت نقصان ہو گیا کہ لوگوں نے فلسفے کے رخ سے چیزوں کو جانچنا شروع کر لیا کوئی لوگ سائنس کے ذریعے سے جانچنا شروع کر لیتے ہیں۔ تو وہ بھی مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔ یہ چیزیں جو ہیں، بس اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حکم جس طرح آیا ہوا ہے اس طریقے سے اس پر عمل کریں۔ آسان سی بات ہے، اللہ پاک ہم سب کو توفیق عطا فرما دے۔