میانہ روی اور اتباعِ سنت — حدیثِ ثلاثہ رَهْط
باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، درس نمبر: 208، حدیث نمبر: 143 اشاعتِ اول: 16 فروری، 2023 بمطابق 24 رجب، 1444 ہجری
- اسلام دین فطرت ہے جس میں انسانی ضروریات کی رعایت رکھی گئی ہے اور یہ ہر معاملے میں میانہ روی کی تعلیم دیتا ہے۔
- تین صحابہ کرام نے اپنی مغفرت کو غیر یقینی سمجھ کر عبادت میں خوب مشقت برداشت کرنے اور کبھی نکاح نہ کرنے کا ارادہ کیا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے کے باوجود سونا، کھانا اور نکاح کرنا آپ کی سنت ہے۔
- زیادہ مبالغہ سے عبادت کرنے والے بہت جلدی تھک کر عمل چھوڑ دیتے ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ کو میانہ روی پسند ہے۔
- جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت سے اعراض کرے گا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے نہیں۔
- اسلام میں رہبانیت نہیں ہے کیونکہ سب کچھ چھوڑنے کا غیر فطری طریقہ انسان کو مزید مسائل میں مبتلا کر دیتا ہے۔
- دین فطرت کے مطابق زندگی گزارنا اور اس پر دائمی طور پر عمل کرنا انتہائی آسان ہے جس پر اللہ پاک اجر بھی عطا فرماتے ہیں۔
الحمد للہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین، اما بعد، اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
معزز خواتین و حضرات، کل ایک حدیث شریف تین صحابہ کرام کے بارے میں پڑھی گئی تھی کہ:
ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تین آدمی رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کے گھروں کی طرف آئے، وہ نبی کریم ﷺ کی عبادت کے بارے میں سوال کر رہے تھے۔ جب ان کو آپ ﷺ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے اس کو تھوڑا سمجھا اور دل میں خیال کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ سے کیا مناسبت رکھتے ہیں، آپ ﷺ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف ہو چکے ہیں۔ ایک نے کہا کہ میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزے رکھوں گا اور افطار نہیں کروں گا، تیسرے نے کہا میں عورتوں سے الگ تھلگ رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسی ایسی باتیں کہی ہیں؟ خبردار! اللہ کی قسم، میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تقویٰ اختیار کرتا ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جو شخص میری سنت سے اعراض کرے، وہ میری امت سے نہیں۔
تشریح: ان تینوں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نام ❶ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ❷ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ❸ عثمان بن مظعون رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔
ہماری نبی سے کیا مناسبت؟ اَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ؟ ہم کو آپ ﷺ سے کیا مناسبت ہے؟ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی مغفرت کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، آپ ﷺ کی مغفرت یقینی ہے، ہماری مغفرت یقینی نہیں، اس لئے ہم عبادت میں خوب مشقت برداشت کریں گے تاکہ اللہ راضی ہو کر ہماری مغفرت فرما دے۔
آپ ﷺ نے فرمایا تھا:
اَنْتُمُ الَّذِيْنَ قُلْتُمْ كَذَا وَ كَذَا: "تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسی ایسی باتیں کہی ہیں۔" ایک دوسری روایت میں "مَا بَالُ اَقْوَامٍ قَالُوْا كَذَا وَكَذَا" کے الفاظ آئے ہیں۔
تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ۔۔۔
اَمَا وَ اللّٰهِ اِنِّيْ لَاَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَ اَتْقَاكُمْ لَهُ: میں تم سب میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تقویٰ والا ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ عبادت میں مبالغہ اللہ ہی کے خوف سے ہو سکتا ہے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں ڈرنے والا سب سے زیادہ ہوں تو مجھ کو بہت زیادہ عبادت کرنا چاہئے، مگر دوسری بات یہ ہے میانہ روی اللہ کو پسند ہے، جیسے پہلے آیا کہ زیادہ مبالغہ سے عبادت کرنے والے بہت جلدی تھک جاتے ہیں اور عبادت کو چھوڑ بیٹھتے ہیں۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ: "اور جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں ہے" کیونکہ آپ ﷺ کے مذہب میں رہبانیت نہیں ہے: "لَا رَهْبَانِيَّةَ فِى الْاِسْلَامِ۔" اسلام میں رہبانیت نہیں ہے کہ آدمی سب کو چھوڑ چھاڑ کر جنگل میں عبادت میں لگ جائے، نہ کھانا کھائے، نہ نکاح کرے، سنت نبوی میں تو یہ سب کام کرنا ہے۔
یہ راہب جو ہوتے ہیں عیسائی، یہ واقعی کھانا بھی بہت کم کھاتے ہیں، سوتے بھی کم ہیں اور شادی بھی نہیں کرتے۔ تو چونکہ یہ unnatural ہے، پھر بعد میں ان کو بڑے مسائل پیش آتے ہیں۔ وہ جن چیزوں سے بچنا چاہتے ہیں انہی میں پڑ جاتے ہیں۔ تو یہ قدرتی بات ہے۔
تو اللہ پاک نے اسلام کو ایسا بنایا ہے کہ اس میں سب چیزوں کی رعایت ہے۔ اس لیے کہتے ہیں کہ اسلام دین فطرت ہے۔ تو اس کے مطابق زندگی گزارنا آسان بھی ہے، عمل کرنا بھی آسان ہے، دائمی طور پر بھی ہو سکتا ہے، اور ظاہر ہے اللہ پاک اس پر اجر بھی دیتا ہے۔
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
تشریحی نوٹس
«فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِيْ فَلَيْسَ مِنِّيْ» — جو میری سنت سے اعراض کرے وہ مجھ سے نہیں
یہ آخری جملہ اصل ضابطہ ہے۔ آپ ﷺ کے دین میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں: «لَا رَهْبَانِيَّةَ فِى الْاِسْلَامِ»۔ اسلام میں یہ نہیں کہ آدمی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر جنگل میں جا بیٹھے، نہ کھانا کھائے، نہ نکاح کرے، نہ آرام کرے۔ سنتِ نبوی ﷺ تو یہ ہے کہ یہ سب کام بھی کیے جائیں اور عبادت بھی کی جائے۔
عیسائیوں کے راہب واقعی کھانا بہت کم کھاتے ہیں، سوتے بھی کم ہیں اور نکاح بھی نہیں کرتے۔ چونکہ یہ سب کچھ فطرت کے خلاف ہے، اس لیے بعد میں انہیں بڑے مسائل پیش آتے ہیں اور اکثر وہ انہی چیزوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن سے بچنے کے لیے انہوں نے یہ راستہ اختیار کیا تھا۔ یہ ایک قدرتی بات ہے کہ فطرت کو دبانے سے وہ ختم نہیں ہوتی، بلکہ کسی نہ کسی غلط راستے سے ظاہر ہو جاتی ہے۔
نفس کی ضروریات کا ادراک اور شریعت کی مقرر کردہ حدود
ہمارا نفس ضروریات کا احساس کرتا ہے، اور یہ احساس بذاتِ خود کوئی عیب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رکھی ہوئی فطرت ہے۔ مثلاً بھوک لگتی ہے تو انسان کھانا کھاتا ہے؛ اگر کوئی کھانا ہی نہ کھائے تو وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس لیے شریعت نے کھانے سے منع نہیں فرمایا، البتہ بعض چیزوں پر پابندی لگا دی ہے: شراب نہ پیے، یہ جائز نہیں؛ کوئی حرام چیز نہ کھائے۔ باقی دودھ پیے تو اچھی بات ہے، اور اسی طرح جتنی پاکیزہ اور حلال چیزیں ہیں، وہ کھائے پیے، اس پر کوئی پابندی نہیں۔
اسی طرح نیند بھی انسان کی ضرورت ہے؛ تقریباً سات گھنٹے کی نیند جسم اور دماغ کا حق ہے۔ لیکن ایک حد سے زیادہ سونا، یا ایسے وقت میں سونا جس سے فرائض میں حرج واقع ہو، یہ جائز نہیں۔ یعنی ضرورت کے دائرے میں نیند عبادت کے لیے قوت فراہم کرتی ہے، اور حد سے نکل جائے تو وہی نیند فرائض کے ضیاع کا سبب بن جاتی ہے۔
اسی طرح نکاح بھی انسان کی ضرورت ہے۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ میں شادی ہی نہیں کروں گا، تو یہ بھی درست نہیں، کیونکہ یہ فطرت سے فرار ہے۔ خلاصہ یہ کہ ضرورت اور خواہش میں فرق ہے: ضرورت کو منع نہیں کیا گیا، بلکہ خواہشِ نفس کے بے حد و بے قید ہونے کو منع کیا گیا ہے۔ جائز حدود میں سب کچھ جائز ہے، ناجائز حدود میں کچھ بھی جائز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا دین دینِ فطرت کہلاتا ہے: اس میں جسم کا بھی خیال رکھا گیا ہے اور روح کا بھی، اور اسی لیے اس پر دائمی عمل ممکن ہے۔
اسوۂ نبوی ﷺ — عملی نمونہ
اسی بنیاد پر آپ ﷺ نے اپنا عمل بطورِ نمونہ بیان فرمایا کہ میں بھی یہ سب کچھ کرتا ہوں: نکاح بھی کرتا ہوں، کھانا بھی کھاتا ہوں، روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سو بھی جاتا ہوں۔ پھر اس پر یہ فیصلہ کن بات ارشاد فرمائی کہ جو شخص میری سنت سے اعراض کرے، وہ میری امت میں سے نہیں۔ گویا کمال دراصل انتہا پسندی میں نہیں بلکہ اتباعِ سنت اور اعتدال میں ہے۔
دعا
اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور ہم سب کو نبی کریم ﷺ کی سنت پر چل کر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔