ربیع الاول کی حقیقت: صحابہ کرام کا طریقہ اور دین میں بدعت سے اجتناب
اشاعت اول: جمعہ، 30 اکتوبر، 2020، بمطابق: 13 ربیع الاول، 1442 ھ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰى: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَّ بَعْدِيْ۔
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
معزز خواتین و حضرات۔ ربیع الاول کا مہینہ ہے۔ عمومی طور پر بارہ ربیع الاول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت پاک ہوئی ہے۔ اور ہمارے علاقوں میں یعنی KPK میں مشہور ہے کہ اس دن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ہے۔ لیکن تاریخی اعتبار سے اب یہ بات پایہ تحقیق تک پہنچ گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاک بھی بارہ ربیع الاول کو نہیں ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات بھی بارہ ربیع الاول کو نہیں ہوئی۔ یہ دونوں تاریخیں ویسے مشہور ہوئی ہیں۔ البتہ یہ بات پکی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ماہِ ولادت بھی ربیع الاول ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا مہینہ بھی ربیع الاول ہے۔ اور یہ دونوں جو واقعات ہوئے ہیں یہ پیر کے دن ہوئے ہیں۔ پایہ تحقیق تک یہ باتیں پہنچ گئی ہیں، ان میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا بھی پیر کے دن ہوئی۔ تو اس سے پتہ چلا کہ پیر کا دن یہ بھی بہت مبارک دن ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ایک دفعہ پوچھا گیا کہ آپ پیر کے دن کیوں روزہ رکھتے ہیں تو فرمایا کہ اس دن مجھ پر وحی کی ابتدا ہوئی تھی۔ تو اس وجہ سے پیر کا دن بھی مبارک یوم ہے، مبارک دن ہے اس لیے اس کو "پیر" کہا جاتا ہے، یعنی دنوں میں پیر ہے۔
اور ربیع الاول کا مہینہ یہ بھی بہت اہم مہینہ ہے۔ بہت مبارک مہینہ ہے۔ اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یاد آنا فطری ہے۔ مثلاً پوری دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا نور موجود ہے۔ اور قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا نور موجود رہے گا۔ لیکن پوری دنیا میں مدینہ منورہ ایسی جگہ ہے، جس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نور کا تعلق خاص الخاص ہے۔ اس وجہ سے جب کوئی وہاں پہنچتا ہے، تو درود شریف کی کثرت خود بخود نصیب ہو جاتی ہے۔ کیونکہ وہاں مدینہ منورہ میں بھی اگر کوئی درود شریف نہ پڑھے تو پھر بات بڑی عجیب لگتی ہے۔ اسی طریقے سے، ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا نور موجود ہے۔ اس وجہ سے درود شریف ہر وقت پڑھنا چاہیے۔ لیکن ربیع الاول کے مہینے کے ساتھ اس کا خاص تعلق ہے، زمانی تعلق ہے، جیسے مدینہ منورہ کے ساتھ مکانی تعلق ہے۔ اس طرح ربیع الاول کے ساتھ زمانی تعلق ہے۔ تو اس کا تعلق ربیع الاول کے ساتھ خاص الخاص ہے۔ پس اگر کوئی ربیع الاول کے مہینے میں کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھتا ہے اور زیادہ توفیق نصیب ہو جاتی ہے تو یہ قدرتی بات ہے، اس پر کوئی اعتراض وغیرہ کی بات نہیں ہے؛ کیونکہ وہ عقیدے کے لحاظ سے ایسا نہیں کر رہا۔ یہ طبعی طور پر ایسا ہوتا ہے، جیسے مدینہ منورہ میں جو درود شریف پڑھتا ہے تو کیا وہ باقی جگہوں میں درود شریف سے انکاری ہے؟ باقی جگہوں سے انکاری تو نہیں ہے۔ لیکن وہاں پر جب جائے گا تو زیادہ درود شریف پڑھے گا، قدرتی بات ہے۔ تو اسی طریقے سے باقی ایام میں بھی درود شریف تو لوگ پڑھتے ہیں لیکن ربیع الاول میں درود شریف پڑھنا زیادہ نصیب ہو جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے۔
لیکن شیطان بھی فارغ نہیں بیٹھا۔ یہ صرف رمضان شریف کا مہینہ ہے کہ جس میں شیطان کو باندھا جاتا ہے، گرفتار ہوتا ہے۔ وہ ہمیں شیطانی کاموں میں مبتلا نہیں کر سکتا۔ باقی ایام میں وہ آزاد ہے۔ اسی طریقے سے باقی جگہوں میں بھی آزاد ہے حتیٰ کہ مکہ مکرمہ میں بھی آزاد ہے وہ، مدینہ منورہ میں بھی آزاد ہے۔ تو یہ بات ضرور ہے کہ اس ربیع الاول کے مہینے میں شیطان جو ہے کسی کو اگر درود شریف پڑھنے سے نہیں روک سکتا تو کچھ ایسے کاموں میں مشغول کر دیتا ہے جس سے اس کے سارے کام خراب ہو جاتے۔ شہد کے اندر اگر سرکہ ڈال دیا جائے تو کچھ ہی عرصے میں وہ سرکہ بن جائے گا۔ پھر وہ شہد نہیں رہے گا۔ اسی طریقے سے خدا نخواستہ اگر دو من دودھ میں ایک چمچ کوئی پیشاب ڈالے تو وہ کوئی نہیں پی سکتا۔ اور اگر کوئی زہر ڈالے تو غلطی سے بھی پیئے گا تو نقصان ہوگا۔ اس وجہ سے شیطان کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اچھے کاموں کو خراب کرتا ہے۔ اب اچھے کاموں کو خراب کرنے کا طریقہ کیا ہے بتاتا ہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت یہ سب سے اچھا کام ہے، بہت اچھا کام ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا ہے کہ کسی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ مجھ سے اپنے والدین سے زیادہ، اپنی اولاد سے زیادہ، بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اپنے آپ سے بھی زیادہ محبت نہ کرے۔
اب محبت کے بارے میں تو یہ بات ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمائی ہے، تو محبت تو بہت اچھا کام ہے۔ لیکن اس محبت کا طریقہ کیا ہو؟ اس محبت کا انداز کیا ہو؟ اس کے لیے ہمیں اللہ جل شانہٗ نے ایک بہت بڑی جماعت عطا فرمائی ہے، وہ جماعت صحابہ ہے (رضوان اللہ علیہم اجمعین ہے) جو کہ ہمیں ہر چیز کے بارے میں طریقہ بتاتی ہے۔
دیکھیں سورج کی روشنی جو ہوتی ہے نا سورج کی روشنی، یہ ویسے بھی روشنی ہی ہوتی ہے، آ رہی ہوتی ہے سورج سے، لیکن اگر کوئی چیز اس کے سامنے نہ آئے تو روشنی نظر نہیں آتی۔ جب تک کسی چیز پر یہ پڑے نہیں تو اس وقت تک سورج کی روشنی کا پتہ نہیں چلتا۔ تو اس سے پتہ چلا کہ سورج کی روشنی کے لیے جس طرح کسی چیز کی ضرورت ہے کہ نظر آئے، تو وہ نبوت کی جو روشنی ہے، اس کے نظر آنے کے لیے ایک جماعت کا ہونا ضروری تھا؛ تاکہ ان کے اوپر وہ پڑے۔ اور اس سے وہ روشنی ملے اور پتہ چلے کہ یہ کیا ہے۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی روشنی ملی تو ابوبکر صدیق بن گئے۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر روشنی پڑی تو عمر فاروق بن گئے۔ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر روشنی پڑی تو عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن گئے۔ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پڑی تو علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن گئے، علی کرم اللہ وجہہ۔ حسنین کریمین، فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ اس طرح مرد صحابہ اور خواتین صحابیات یہ ایک پوری -ماشاء اللہ- جماعت ہے جس کے اوپر نبوت کی روشنی پڑی ہے اور وہ چمکے ہیں۔ اب اس جماعت کے ذریعے سے ہمیں اسلام کا پتہ چلتا ہے کہ اسلام ہے کیا۔ وجہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کو ان پر نافذ کیا ہے۔ ان کو سکھایا ہے۔ سب سے اولین مخاطب یہی ہیں۔ لہٰذا اگر ان میں سے کوئی ایسی چیز نظر آئی جو قابل تبدیلی تھی تو اس کو تبدیل کر دیا گیا۔ اور جس کی تبدیلی کی ضرورت نہیں تھی اس کو رہنے دیا گیا۔
اس وجہ سے حدیث شریف کی تین قسمیں ہیں: ایک قولی، ایک فعلی، ایک تقریری۔ قولی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خود ارشاد فرمایا قولی ہے۔ فعلی جو ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عمل کیا وہ فعلی حدیث ہے، جو اس کے بارے میں خبر ہے وہ فعلی حدیث شریف ہے۔ اور تقریری حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام کوئی کام کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نہیں روکا یہ تقریری حدیث بن گئی۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو روکا تو یہ بھی تقریری حدیث بن گئی۔ یعنی کیا کرنا چاہیے، کیا نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا پتہ تو صحابہ کرام کے عمل سے پتہ چلے گا نا۔ بلکہ بعض چیزیں ایسی تھیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنے اوپر نافذ ہی نہیں کر سکتے تھے۔ مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرد تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں کے احکامات تو خود اپنے آپ سے تو نہیں ظاہر کر سکتے تھے۔ وہ تو ظاہر ہے اس کے لیے تو عورتیں چاہیے تھیں، صحابیات چاہیے تھیں۔ تو صحابیات پر وہ نافذ ہو گئے قوانین۔ اسی طریقے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہری تھے، تو دیہات میں نہیں تھے۔ تو دیہات میں کیا کرنا چاہیے، اس کے لیے دیہاتی صحابی چاہیے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماشاء اللہ فصیح الکلام تھے، تو سادہ لوگ جو تھے سادہ صحابہ ان کا عمل تو ظاہر نہیں ہو سکتا تھا۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ وہ سادہ صحابہ سے ظاہر کر دیا گیا۔ اس طریقے سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مختلف طبقات کے حضرات تھے۔ تو مختلف طبقات کے لیے کیا حکم تھا؟ وہ سب کا سب ظاہر ہو گیا صحابہ کرام کا۔
تو پوری جماعت سے گویا کہ پتہ چل گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کیا سکھایا، دین کیا ہے؟ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف ارشاد فرمایا: "مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِيْ"۔ صحیح جماعت وہی ہے جس پر میں ہوں اور جس پر میرے صحابہ ہیں۔ یعنی صحیح طریقہ ان لوگوں کا ہے جو میرے طریقے کو اپنائے ہوئے، جو میرے صحابہ کے طریقے کو اپنائے ہوئے ہیں۔ پس ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو محبت ہے اس کا پیمانہ بھی یہی رکھیں گے اور وہ کیا ہے؟ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پسند فرمایا ہے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نے کیا ہے۔
اب مجھے آپ بتائیں کیا ربیع الاول کا مہینہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے دور میں نہیں گزرا؟ بلکہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں نہیں گزرا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاک ہوئی ہے۔ تو تریسٹھ سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں رہے ہیں۔ اور چالیس سال کے بعد نبوت عطا ہوئی ہے۔ تو تیئیس سال تو حالتِ نبوت میں رہے ہیں۔ تو اکتالیسویں سال میں جو آ رہا تھا ربیع الاول، بیالیسویں میں جو آ رہا تھا، تینتالیسویں میں جو آ رہا تھا، پچاسویں میں جو آ رہا تھا، پچپنویں میں جو آ رہا تھا، ساٹھویں میں جو آ رہا تھا، اور آخری سال میں جو آ رہا تھا، کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے جیسے آج کل لوگ کر رہے ہیں؟ اس کے لیے کوئی طریقۂ کار مخصوص کیا تھا؟ نہیں۔ عام دنوں کی طرح ایک دن ہے۔ اور اس کے ساتھ کوئی خاص، نہ اس کو عید کہا گیا۔
دو عیدوں کا ذکر ہے۔ دو عیدوں کا ذکر ہے، عیدین۔ عیدین کا لفظ ہے، عیدین کا لفظ تثنیہ ہے۔ تثنیہ کا لفظ کیا ہے؟ دو کے لیے آتا ہے عربی میں۔ تو عیدین، اس کا ذکر ہے، دو عیدیں ہیں۔ ایک عید الاضحیٰ ہے اور ایک عید الفطر ہے۔ اس کے علاوہ تیسری عید کہیں پر بھی موجود نہیں ہے، نہ قرآن میں موجود ہے نہ حدیث میں موجود ہے۔ نہ صحابہ کرام کے طریقے موجود ہیں۔ خوشی اور چیز ہے، عید اور چیز ہے۔ اب مثال کے طور پر کسی کا بچہ ہو جائے، وہ خوش ہو جائے، کیا اس کو عید کہے گا وہ؟ اس کو عید تو نہیں کہے گا، ہاں خوشی ہو گئی ہے، لوگوں کو مٹھائی بھی کھلائے گا، خوش بھی ہو گا، لیکن وہ عید تو نہیں ہو گی اس کی۔ اس طریقے سے اگر کوئی سفر سے آ رہا ہے، تو عید تو نہیں ہوئی، خوشی تو ہو گئی۔ یعنی خوشی کو عید کے معنی میں لینا، یہ کیا بات ہے؟ عید باقاعدہ ایک شرعی بات ہے۔ باقاعدہ اس پہ نماز ہوتی ہے، واجب نماز ہوتی ہے، اس کے احکامات ہیں۔
تو جب بھی کوئی شرعی اصطلاح آپ استعمال کریں، تو شرعی اصطلاح کے لیے کوئی بنیاد ہوتی ہے۔ جو احمدی ہیں، قادیانی ہیں، اب ہم ان کو جو روکتے ہیں، مسجد کا نام استعمال کرنے سے روکتے ہیں یا ان کو مختلف، نماز ہو یا اس قسم کی چیزوں سے روکتے ہیں کہ بھئی یہ آپ نہیں استعمال کر سکتے نام، کیوں؟ وجہ یہ ہے کہ شرعی اصطلاح ہے، مسلمانوں کے لیے ہے۔ یہ کسی غیر مسلم کے لیے نہیں ہو سکتی۔ اور اسی پر وہ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ دیکھو نا ہمیں ان چیزوں سے روکتے ہیں۔ ہمیں اچھے کاموں سے روکتے ہیں۔ اچھے کاموں سے نہیں! دیکھو قرآن کو ٹوائلٹ میں پڑھنا ناجائز ہے۔ حالانکہ قرآن پڑھنا تو بڑے ثواب کا کام ہے۔ تو اگر قادیانی اس کا نام لیں گے تو ظاہر ہے ان کے لیے ناجائز ہے۔ تو اسی طریقے سے مطلب یہ ہے کہ یہ جو بات میں عرض کر رہا ہوں، اس کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے کہ جب اصطلاح ہوتی ہے شرعی، تو شرعی اصطلاح کے لیے شرعی بنیاد ہونی چاہیے، اور شرعی بنیاد کے لیے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور طریقۂ صحابہ، یہ دونوں بنیادیں ہیں۔ اگر اس پر وہ چیز پورا نہیں اترتی، تو پھر شرعی اصطلاح نہیں بن سکتی۔ کوئی اور اصطلاح بنا لو۔ جو بھی آپ کی مرضی ہے، اس کو جو کچھ بھی کہو، کہہ دو، لیکن اس کو شرعی اصطلاح آپ اس کو نہیں کہہ سکتے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر کوئی دین کی بات، کوئی سمجھتا ہے، تو اس کے لیے شرعی دلیل چاہیے ہوتی ہے۔ جو شرعی دلیل کے بغیر کوئی کسی چیز کو دین کہہ دے، اسی کو "بدعت" کہتے ہیں۔ یہ بدعت کی مکمل تعریف ہے۔ کسی شرعی دلیل کے بغیر، اگر کسی کام کو کوئی دینی کام کہتا ہے، تو وہ بدعت بن جائے گا۔ اب دیکھو شرعی دلیل کا میں نے آپ کو کیا بتایا؟ مطلب ظاہر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کا طریقہ، یہی میں نے بنیاد بتائی نا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ بنیاد بتائی اور آپ نے فرمایا کہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے دیتا ہوں۔ اگر ان کو پکڑے رکھو گے تو گمراہ نہیں ہو گے، ایک قرآن اور دوسری میری سنت، اور سنت کی تشریح کے لیے صحابہ کرام ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہی قرآن، سنت، اور طریقۂ صحابہ، یہ شریعت کی بنیاد ہیں۔ اس میں دیکھ لو کہ آیا یہ چیز تھی؟ اگر نہیں تھی اور اب اس کو دین کہا جائے گا تو بدعت ہو جائے گا۔ اگر نہیں تھی اور اس کو دین کہا جائے گا تو پھر بدعت ہو گی۔ دین نہ کہو ویسے کہہ دے جی ہم ویسے سیر سپاٹا کر رہے ہیں، پھر بدعت نہیں ہو گی۔ پھر بدعت نہیں ہو گی۔ مثال کے طور پر کوئی اونٹ کے اوپر بیٹھتا ہے تو ٹھیک ہے سواری کرے اونٹ کی، کس نے روکا ہے۔ کس نے روکا ہے کسی نے نہیں روکا۔ جب تک اس کو یہ نہ کہے کہ یہ اونٹ کے اوپر بیٹھنا ثواب کا کام ہے اس دن۔ تو ظاہر ہے۔ کوئی اس طریقے سے قمقمے لگائے۔ ویسے لگا دے تو لغو کام ضرور ہے لیکن بدعت نہیں ہے، اگر ویسے لگا دے۔ سارے جہاں کو چراغاں سے بھر دے، لغو کام ضرور ہو گا، لیکن بدعت نہیں ہو گی۔ لیکن آپ نے اس کو دین کہا، تو پھر بدعت ہے۔ پھر بدعت ہے۔ یقینی طور پر بدعت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ تو یہ جو چیز ہے اس کو ہمیں سیکھنا چاہیے، بدعت ایک ظاہر ہے شرعی اصطلاح ہے۔ اس کو ہمیں سیکھنا چاہیے۔
ہاں اس کا ایک reaction بھی ہے کہ بعض لوگ جو بدعت نہیں ہے اس کو بھی بدعت کہتے ہیں۔ تو اس میں یہ بات ہوتی ہے عموماً، اکثر لوگ پھر اس سے دلیل پکڑتے ہیں کہ دیکھو نا پھر یہ بھی بدعت ہے نہیں نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جس کو آپ دین کہیں گے یعنی مقاصد میں اس کو شامل کریں گے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص ہے علم حاصل کرنا۔ یعنی مطلب ظاہر ہے باقاعدہ حدیث شریف موجود ہے: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ۔ علم کو حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت کے اوپر فرض ہے۔ کتنا حصہ فرض ہے پھر یہ علماء نے بتایا ہے۔ لیکن بہرحال فرض ہے علم حاصل کرنا۔ لیکن علم کو حاصل کرنے کے لیے کون سا ذریعہ اختیار کرے یہ نہیں بتایا گیا۔ یہ نہیں بتایا گیا۔ مختلف طریقوں سے علم حاصل ہو سکتا ہے، جو استاد اور شاگرد کا طریقہ ہے، مدرسے کا طریقہ ہے، کتاب کا طریقہ ہے۔ ابھی میں اس وقت بیان کر رہا ہوں، یہ پوری دنیا میں جا رہا ہے اس انٹرنیٹ کے ذریعے سے، یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ اس طرح مختلف طریقے دنیا میں آ سکتے ہیں اور آئے ہیں، اور آئیں گے اور بھی۔ ان کو ہم طریقے کہتے ہیں، ذرائع کہتے ہیں۔ ذرائع کے اوپر کوئی پابندی نہیں، ذرائع کے اوپر کوئی جمود نہیں۔ کیونکہ ذریعے کے اوپر اگر آپ جمود لے آئیں گے کہ نہیں بس صرف یہی طریقہ ہے تو پھر آپ نے اس کو مقصد بنا لیا، اور اس کے لیے پھر دلیل چاہیے ہو گی شرعی دلیل۔ لیکن اگر آپ اس کو صرف ذریعہ کہتے ہیں، آپ اس کو نہیں سمجھتے کہ اچھا یہ مقصد ہے، یہ لازمی نہیں ہے، تو پھر ٹھیک ہے بس پھر صحیح ہے پھر ذریعہ ہے تو ذریعہ تو قیامت تک بدلتے رہیں گے۔ تو گویا کہ افراط تفریط نہیں کرنا چاہیے، جو شرعی دلیل کے بغیر دین کی بات کو مقرر کرتے ہیں وہ بدعت ہے، اور جو طریقے کے طور پر نئی بات آتی ہے وہ بدعت نہیں ہے۔ اگرچہ وہ دین کے لیے ہو، کیونکہ دو چیزیں ہیں إِحْدَاثٌ فِي الدِّيْنِ، کتابوں میں دیکھیں ابھی انٹرنیٹ پہ search کر لو، آپ کو مل جائے گا۔ إِحْدَاثٌ فِي الدِّيْنِ؛ ایک ہوتا ہے دین کے اندر نئی بات۔ اور ایک ہوتا ہے إِحْدَاثٌ لِلدِّيْنِ؛ دین کے لیے نئی بات۔ یعنی دین پر آنے کے لیے نئی بات، دین کا کوئی کام کرنے کے لیے نئی بات، اس پہ پابندی نہیں ہے إِحْدَاثٌ لِلدِّيْنِ پر پابندی نہیں ہے، إِحْدَاثٌ فِي الدِّيْنِ پر پابندی ہے۔ إِحْدَاثٌ فِي الدِّيْنِ پر پابندی ہے۔
دیکھو کتاب چھاپتے ہیں نا کوئی تو دو قسم کے حقوق ہوتے ہیں کتاب چھاپنے کے لحاظ سے۔ ایک کہتے ہیں کہ یہ کتاب کے جملہ حقوق بحق publisher یا بحق مصنف محفوظ ہیں، اس کے اوپر لکھا جاتا ہے، اور اگر کوئی اس پر عمل نہیں کرتا تو پھر قانونی چارہ جوئی کا کہا جاتا ہے کہ ہم پھر قانونی جنگ لڑیں گے اس کے خلاف، یہ بات ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ نہیں وہ کہتے ہیں کتاب چھاپنے کی اجازت ہے، جتنا کوئی چھاپے، جیسے چھاپے، چھاپے، اس کے اندر تبدیلی نہیں کر سکتے، تبدیلی کرنے کے لیے اجازت لینی ہو گی۔ بس دین کی بات ایسی ہے، آپ دین کی اشاعت کریں جتنا کریں۔ دین کی اشاعت کرو جتنا کرنا چاہو کر سکو، کرو، کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن اس کے اندر تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی authority جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ کسی چیز کو آپ حلال نہیں کہہ سکتے اگر وہ حلال نہیں ہے۔ کسی چیز کو آپ حرام نہیں کہہ سکتے اگر وہ حرام نہیں ہے۔ کسی چیز کو آپ جائز نہیں کہہ سکتے اگر وہ جائز نہیں بتایا۔ کسی چیز کو ناجائز نہیں کہہ سکتے اگر اس کو ناجائز نہیں بتایا، دونوں طرف پابندی ہے۔ دونوں طرف پابندی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز جس طریقے سے بتائی گئی اب دیکھو نا قرآن پاک میں باقاعدہ موجود ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کے اوپر تو یہ بند نہیں کیا تھا۔ یہ انہوں نے خود اپنے اوپر بند کیا ہوا تھا۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی بات ایسی ہو تو ضرور۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ یہ إِحْدَاثٌ فِي الدِّيْنِ ہے یا إِحْدَاثٌ لِلدِّيْنِ ہے۔ اگر إِحْدَاثٌ لِلدِّيْنِ ہے، کوئی حرج نہیں۔ اگر إِحْدَاثٌ فِي الدِّيْنِ ہے، بدعت ہے۔ اور بدعت ہوتی ہی دین کے نام پر ہے۔ لہٰذا جب کبھی کسی بدعتی کو کوئی کہتا ہے کہ یہ کیا کر رہے ہو، کہتا ہے تم مجھے دین پر چلنے سے روکتے ہو۔ یہ کیا کر رہے ہو؟ تو دین پر چلنے سے کون روکتا ہے؟ دین کے نام پر بے دینی پھیلانے سے کوئی روک سکتا ہے۔ مطلب بے دینی وہی بے دینی ہے نا کہ جو دین میں نہیں اور آپ اس کو دین بتا رہے ہیں۔ ایک دین ہوتا ہے، ایک بے دینی ہوتی ہے۔ دونوں چیزوں میں سے ایک ہی ہوگا۔ تو اگر بے دینی نہیں ہے تو دین ہے، اور اگر دین نہیں ہے تو بے دینی ہے۔ یہی والی بات ہوگی۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اس قسم کی بات ہو تو ہمیں یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ آخر ہم یہ کیوں اس پر بات کر رہے ہیں۔
بہرحال ربیع الاول بہت مبارک مہینہ ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، مبارک مہینہ چل رہا ہے۔ اب اس میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ دیکھو جو پہلے سے دین ہے اسے وہی کرنا چاہیے، اس میں تبدیلی تو ہم نہیں کر سکتے۔ تو درود شریف پہلے سے آ رہا ہے نا، کوئی نئی بات تو نہیں ہے۔ کیا بتایا گیا کہ روزانہ کتنا کرنا چاہیے؟ نہیں بتایا گیا۔ بس آپ ایک دن میں ایک لاکھ کر لو، پابندی نہیں۔ ایک دن میں ایک دفعہ بھی نہ پڑھو۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آپ کے سامنے نہیں آیا تو جرم نہیں۔ کیونکہ مستحب ہے۔ لیکن اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آ گیا تو پہلی دفعہ واجب ہے۔ پہلی دفعہ واجب ہے، اس کے بعد پھر مستحب ہے جتنی مرتبہ بھی نام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آئے گا۔ تو مستحب کا ثواب تو ہے، لیکن اگر کوئی نہ کرے تو اس کو ملامت نہیں کیا جا سکتا، گناہ نہیں ہے۔ لیکن کوئی کرے گا تو ثواب تو ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ ثواب ہر چیز کا اپنا مختلف ہوتا ہے۔ ذکر کا ثواب ہے، درود شریف کا ثواب ہے۔ کسی کے ساتھ خیر کا، اچھا کام، مطلب ان کی خدمت کرنے کا ثواب ہے، مطلب کسی کی help کرنے کا ثواب ہے، ہر چیز کا اپنا اپنا ثواب ہے۔ تو اس وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ درود شریف پہ چونکہ پابندی نہیں ہے لہٰذا ربیع الاول میں پڑھ لو، جتنا پڑھ سکتے ہو۔ زیادہ پڑھ لو تو زیادہ بہتر ہے۔ باقی ایام میں بھی زیادہ پڑھ لو، ہم یہ نہیں کہتے کہ باقیوں میں نہ پڑھو۔ لیکن اگر اس میں آپ زیادہ پڑھتے ہیں اور باقیوں میں زیادہ نہیں پڑھ سکتے تو بھی پابندی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی روک ٹوک اس میں ہے نہیں۔ ایک فطری بات ہے، جیسے میں نے مثال دی کہ مدینہ منورہ میں لوگ زیادہ پڑھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ تو نہیں کہ مدینہ منورہ ہی میں درود شریف پڑھو۔ یہ تو کہیں نہیں لکھا ہوا۔ ہاں، مطلب یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں بھی درود شریف پڑھنا چاہیے، اور دوسری جگہوں میں پڑھنا چاہیے۔ لیکن مدینہ منورہ میں فطری طور پر زیادہ درود شریف پڑھنے کی توفیق ملتی ہے۔ اسی طریقے سے ربیع الاول کے مہینے میں بھی زیادہ درود شریف پڑھنے کی توفیق ملتی ہے۔ تو ہم کہتے ہیں بھئی درود شریف اس میں پڑھو۔
اللہ کا شکر ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، ہمارے ساتھی اس خدمت میں آگے آگے ہیں، اللہ کا شکر ہے۔ ان شاء اللہ اب بھی جو ربیع الاول کے اخیر میں حضرت کو عرض کریں گے، ان شاء اللہ وہ پیش فرمائیں گے۔ تو یہ بات ہے کہ یہ باقاعدہ پیش کر لیا جاتا ہے ادھر۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ توفیق مل جاتی ہے۔ آپ کے سامنے ایک ٹارگٹ ہو تو توفیق مل جاتی ہے۔ تو ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ ہر ساتھی سے کہا جاتا ہے کہ ایک لاکھ پچیس ہزار مرتبہ ضرور پڑھ لو۔ کم از کم۔ مطلب کم از کم پورا کر لو۔ تو اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ لوگوں کو توفیق ہو جاتی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ درود شریف بہت بڑی نعمت ہے۔ پڑھنا چاہیے۔
دوسری بات، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ چلنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ چلنا۔ اللہ پاک نے فرمایا ہے قرآن پاک میں۔ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ البتہ بتحقیق تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ بہترین نمونہ موجود ہے۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو یہ کام کرنا چاہیے کہ سنتوں پہ بہت زیادہ زور دینا چاہیے۔ اور سنتوں میں سستی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ جتنا زیادہ ہماری زندگی سنت سے سج جائے گی، اتنی ہی ہماری کامیابی ہے۔ حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمیں جو کچھ ملا درود شریف کی برکت سے ملا۔ اور اللہ تعالیٰ نے سنتوں کے بارے میں خود فرمایا۔ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔ اے میرے حبیب اپنی امت سے کہہ دیں اگر تم میرے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہو، تو میری اتباع کر لو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ اس وجہ سے یہ بہت بڑی، ماشاء اللہ نعمت ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ چلنے کی ہم کوشش کر لیں۔ اور درود شریف کثرت سے پڑھیں۔ اگر اس مہینے میں ہم یہ کر سکے، تو سمجھو کہ ہم نے واقعی مہینہ صحیح گزارا۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے دے۔ بہرحال باتیں تو بہت ہو سکتی ہیں، لیکن چونکہ ہر چیز کے لیے اپنا وقت ہوتا ہے تو اس پر عمل کرنا چاہیے۔
نعت شریف
کہ کھلے گا گر تو یہاں پہ ہی،جو میرے نصیب کا تالا ہے۔
میں مریضِ حُبِ رسول ہوں، کہ مرض صحت سے یہ بالا ہے
جو سبب حیات کا ہے میری، میرے دل میں جس سے اجالا ہے
میرے دل میں اِس سے سرور ہے، میرے دل کو اِس سے سکون ہے
میں نے دل میں شوق سے، ذوق سے، جانے کب سے پیار سے پالا ہے
میں مریضِ حُبِ رسول ہوں، کہ مرض صحت سے یہ بالا ہے
کوئی مجھ کو اِس سے نہ روک دے، میں علاج اِس کا کروں گا کیوں
کہ مرض یہی تو علاج ہے، اِس نے نفس کے شر کو جو ٹالا ہے
یہ حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ جس وقت استتار میں تھے، یعنی اپنی اصلاح کے لیے 14 سال غائب ہو گئے تھے۔ اس دور میں لوگ ان کو جانتے نہیں تھے۔ وہ جن علاقوں میں تھے لوگ ان کو نہیں جانتے تھے۔ تو ایک دن یہ بے ہوش پڑے ہوئے تھے۔ تو لوگوں نے جب دیکھا تو انہوں نے کہا کہ مسافر ہے، بے ہوش پڑا ہوا ہے۔ تو ایک عیسائی حکیم کو بلا لیا کہ اس کا ذرا دیکھ لیں، علاج کریں، تو وہ حکیم بھی حکیم تھے۔ اگرچہ تھے عیسائی لیکن کمال کے حکیم تھے۔ تو انہوں نے جب چیک اپ کر لیا، تو اس پر اس حکیم صاحب نے کہا کہ میں اس کا علاج نہیں کر سکتا ہوں، یہ عاشق ہے اور عاشق بھی کسی مخلوق کا نہیں ہے، خالق کا ہے۔ لہٰذا میں اس کا علاج نہیں کر سکتا۔
تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ چیز ہے، جس کے آثار بیماری جیسے ملتے ہیں لیکن بیمار نہیں ہوتا۔ اصل تو صحت مند تو یہی ہوتا ہے۔ لیکن آثار بیماری کے ہوتے ہیں۔ لوگ بھی اس کو بیماری سمجھتے ہیں۔
تو یہ حضرت حاجی محمد امین صاحب رحمۃ اللہ علیہ جو تھے ہمارے، پشتو کے مشہور شاعر تھے۔ ان کا بھی کلام ہے میرے پاس، اس میں بھی انہوں نے فرمایا ہے کہ
زړه دې زخمي نه دی سينه دې هم بيماره نه ده
تو اس میں ہے کہ یعنی اگر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں نہیں تو پھر تیرا دل زخمی نہیں اور سینہ بھی بیمار نہیں، مطلب یہ ہے کہ تو اس سے فارغ ہے۔
تو یہ بات تو ہے کہ یہ جو بیماری اس کو جو لوگ کہیں گے، یہ تو بہت بڑی بات ہے۔ بڑی اونچی نسبت کی چیز ہے اور یہ ہے کہ بہت ساری واقعی روحانی بیماریوں سے بچاتا ہے۔
میں مریضِ حُبِ رسول ہوں، کہ مرضِ صحت سے یہ بالا ہے۔
میرے نفس نے مجھ کو اٹھا دیا، اور اٹھا اٹھا کے پٹخ دیا
میں پٹخ پٹخ کے گرا گرا، تو اسی نے مجھ کو سنبھالا ہے
یہ اصل میں ہمارا جو نفس ہے، یہ اس کی اپنی خواہشات ہوتی ہیں۔ تو ان خواہشات میں جو بڑی ہیں وہ یہ حُبِ جاہ ہے، حُبِّ باہ ہے، اور حُبِّ مال ہے۔ تو حُبِ جاہ جو ہے مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنا بڑا ہونے کا جو گمان ہونے لگتا ہے۔ تو اس سے پھر بہت سارے مفاسد وجود میں آجاتے ہیں۔ ظلم بھی وجود میں آجاتا ہے اور اس طرح حسد بھی، کینہ بھی، تمام چیزیں وجود میں آجاتیں۔ تو یہ جو میرا نفس ہے اس نے مجھے اٹھا دیا ہے، مطلب یہ ہے کہ مجھے تکبر میں مبتلا کر دیا، جس کی وجہ سے میں کئی مفاسد میں مبتلا ہوگیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مجھے واپس لے آئی اور مجھے پھر اپنی جگہ پر لے آئے، عاجزی پر۔ یہ اصل میں مراد ہے۔
میں پٹخ پٹخ کے گرا گرا، تو اسی نے مجھ کو سنبھالا ہے
میں مریضِ حُبِ رسول ہوں، کہ مرضِ صحت سے یہ بالا ہے۔
میں دیوانہ عشق کی مار کا، مجھے عقل کی کوئی دوا نہ دے
میرے دل میں ایسا دخل جو دے، میں نے دل سے اس کو نکالا ہے
یہ واقعتاً بعض لوگ جو، یعنی شریعت پر عمل کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں تو ان کو لوگ پھر کیا سمجھتے ہیں؟ ان کو پھر نصیحتیں کرتے ہیں۔ مطلب اپنے طور سے ان کے ساتھ خیر خواہی کرتے ہیں کہ یہ تو ٹھیک نہیں ہے، اس کا بھی امکان ہے اس کا بھی ہو سکتا ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی بھی گنجائش ہے، اس کی بھی گنجائش ہے۔ مطلب لوگ پھر وہ نصیحتیں کرتے ہیں۔ تو وہ جو نصیحتیں ہوتی ہیں، وہ ظاہر ہے جو واقعی صحیح معنوں میں عاشق ہوتا ہے وہ اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ وہ بلکہ انہی لوگوں کی محبت دل سے ان کی نکل جاتی ہے جو ان کو اس معنی میں نصیحت کرتے ہیں۔ یہ بات ہے۔
میں مریضِ حُبِّ رسول ہوں، کہ مرض صحت سے یہ بالا ہے
آخری والے شعر میں حضرت والا فرماتے ہیں
درِ جد پہ آکے پڑا ہوں میں، گو نہیں ہوں اس کے بھی قابل میں
کہ کھلے گا گر تو یہاں پہ ہی، جو میرے نصیب کا تالا ہے
میں مریضِ حُبِّ رسول ہوں، کہ مرض صحت سے یہ بالا ہے
جو سبب حیات کا ہے میری، میرے دل میں جس سے اجالا ہے
اس میں نعت شریف ہم سنتے ہیں یا پڑھتے ہیں یا پڑھواتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے؛ کیونکہ اللہ پاک اس سے خوش ہوتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس چیز سے خوش ہوتے ہیں؟ وہ تو اللہ پاک کی تعریف کرنے سے خوش ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں تو ظاہر ہے معاملہ بالکل ان کا الگ ہے نا؟ یعنی اس میں فرق کرنا تو یہ بڑی عجیب بات ہے۔ یہ بھی ایک قسم کی عقلمندی نہیں ہے کہ کوئی آدمی کہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتا ہوں تو اللہ تعالیٰ تک نہ پہنچے۔
بقول مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی بات کرے اور اللہ تک نہ پہنچے اِس کے ذریعے سے، تو وہ اپنا عاشق ہے، حضور ﷺ کا عاشق نہیں ہے۔ وہ اپنا عاشق ہے۔ اپنی ذات کا عاشق ہے حضور ﷺ کا عاشق نہیں ہے۔ کیونکہ وہ پیغام کونسا لے کر آئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم؟ قُولُوا لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہ تُفْلِحُوا۔ یہی پیغام تھا نا؟ پوری زندگی میں تو یہی پیغام دیا۔ اس وجہ سے ایسے موقع پر حمد کہنا، اس بات پہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو جائیں اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا پیغام ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔
حصہ دوم — تشریحی نوٹس
1۔ دو لفظ: دل اور محبت
گفتگو کی بنیاد دو لفظوں پر ہے — ایک دل، دوسرا محبت۔
محبت کا محل دل ہے۔ اور دل نہ دماغ میں ہے، نہ پیٹ میں؛ بلکہ سینے میں، بائیں جانب ہے۔ قرآنِ کریم نے خود یہ تعین فرمایا:
فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ (الحج: 46) — آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
2۔ محبت کا رخ: جائز اور ناجائز
دل ایک ہی برتن ہے؛ اس میں جو چیز بھر جائے، وہی حکمران بن جاتی ہے۔ اسی لیے محبت کے رخ کا سوال بنیادی ہے:
- کسی غیر محرم عورت سے محبت انسان کو خراب کر دیتی ہے — یہ دین اور دنیا دونوں کو تباہ کرنے والی چیز ہے۔
- اپنی بیوی کے ساتھ محبت میں کوئی حرج نہیں؛ یہ سراسر جائز بلکہ باعثِ اجر ہے۔
- کسی اور سے یہ تعلق ناجائز ہے۔ اسی طرح امردوں کو شہوت کی نظر سے دیکھنا بھی حرام ہے۔
قرآنِ کریم نے مردوں اور عورتوں دونوں کو غضِ بصر کا حکم دیا (النور: ۳۰–۳۱)، اور نگاہ کی حفاظت ہی دل کی حفاظت کا پہلا دروازہ ہے۔
نکتہ: یہاں مسئلہ محبت کا نہیں، محبت کے مصرف کا ہے۔ جو دل غلط جگہ لگ گیا، وہ صحیح جگہ کے لیے خالی نہیں رہتا۔
3۔ دل کا اصل نقش: کلمۂ طیبہ
دل میں صرف اور صرف یہ کلمہ ہونا چاہیے:
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰهِ
یعنی: ایک اللہ کی محبت ہو، ہر کام میں اللہ پر نظر ہو، اور ہر چیز میں اللہ ہی کی بات ہو۔ یہی انقطاع الی اللہ کی حقیقت ہے — دل کا ہر طرف سے کٹ کر ایک طرف لگ جانا۔
4۔ انقطاع الی اللہ کے چار نمونے
آخری وقت وہ لمحہ ہوتا ہے جب دل کا اصل مکین بے نقاب ہو جاتا ہے۔ حضرت نے چار مثالیں پیش فرمائیں:
(الف) آپ ﷺ کا آخری کلمہ
آپ ﷺ کے آخری الفاظ تھے: "الرَّفِيْقَ الْأَعْلٰى" — (میں) اعلیٰ رفیق کو (چاہتا ہوں)۔ یہ روایت حضرت عائشہ صدیقہؓ سے بخاری و مسلم میں منقول ہے۔ آخری سانس میں بھی نگاہ اسی ایک طرف تھی۔
(ب) حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ
آخری وقت میں آپ کے سامنے بچوں کو لایا گیا تو آپ نے انہیں ہٹوا دیا — اس لیے کہ آپ اس گھڑی دنیا کی بجائے مکمل انقطاع الی اللہ چاہتے تھے۔
(ج) حضرت بلال رضی اللہ عنہ
مکہ مکرمہ کی تپتی ریت پر امیہ بن خلف کے مظالم کے دوران آپؓ کی زبان پر ایک ہی کلمہ تھا: "أَحَدٌ أَحَدٌ" — ایک ہی، ایک ہی۔ اذیت کے عالم میں بھی زبان وہی کہہ رہی تھی جو دل میں تھا۔
(د) حضرت حسین رضی اللہ عنہ
روایات میں منقول ہے کہ میدانِ کربلا میں شہادت سے پہلے آپؓ نے اپنا خون آسمان کی طرف اچھالا: یا اللہ! یہ تیرے لیے ہے۔ اور پھر سجدے ہی کی حالت میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔
مشترک سبق: چاروں مواقع میں انتہائی تکلیف یا آخری لمحہ تھا — اور چاروں میں دل سے وہی نکلا جو اس میں بھرا ہوا تھا۔ دل کی اصل کیفیت مصیبت کے وقت ظاہر ہوتی ہے، آسانی کے وقت نہیں۔
5۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ: مرضِ محبتِ خالق
یہ واقعہ اسی درس میں (نعت شریف کی تشریح کے ضمن میں) گزر چکا ہے، مگر یہاں اس کا رخ ذرا مختلف ہے۔
امام غزالیؒ اپنے دورِ استتار میں — جب چودہ سال کے لیے اصلاحِ نفس کی خاطر گمنام ہو گئے تھے — ایک روز بے ہوش پڑے تھے۔ لوگوں نے سمجھا کوئی مسافر ہے، اور ایک عیسائی حکیم کو بلا لیا۔ حکیم اپنے فن کا کمال رکھتا تھا۔ معائنے کے بعد اس نے کہا:
میں اس کا علاج نہیں کر سکتا — یہ عاشق ہے، اور وہ بھی کسی مخلوق کا نہیں، خالق کا۔
تشریح: یہ وہ کیفیت ہے جس کے آثار بیماری کے ہیں، مگر حقیقت میں یہی اصل صحت ہے۔ لوگ اسے بیماری سمجھتے ہیں، حالانکہ یہی وہ "مرض" ہے جو بے شمار روحانی بیماریوں سے بچاتا ہے۔
تقاضا: اسی لیے فرمایا — اس دل کو بناؤ۔ ہمارے دل میں صرف اور صرف اللہ پاک کی محبت ہو، اللہ پاک ہی کی بات ہو۔
6۔ محبتِ الٰہی اور محبتِ رسول ﷺ: ایک ہی دھارا
یہاں ایک اہم غلط فہمی کا ازالہ ہے: محبتِ رسول ﷺ اور محبتِ الٰہی دو الگ راستے نہیں، ایک ہی راستے کے دو نام ہیں۔
جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ عمرہ کے لیے جانے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے انتہائی محبت بھرے الفاظ میں ان سے دعا کی درخواست فرمائی:
"يَا أُخَيَّ، لَا تَنْسَنَا مِنْ دُعَائِكَ" اے میرے پیارے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا۔
(یہ روایت سنن ابی داؤد، ترمذی اور ابن ماجہ میں موجود ہے۔ حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ اس ایک لفظ کے بدلے میں مجھے پوری دنیا بھی مل جائے تو میں راضی نہ ہوں۔)
سبق: آپ ﷺ خود چاہتے ہیں کہ ہم اللہ پاک سے محبت کریں اور اپنے آپ کو صرف اسی کی رضا میں لگائیں۔ اور دوسری طرف اللہ پاک آپ ﷺ کی تعریف پر خوش ہوتے ہیں۔ چنانچہ دونوں محبتیں ایک دوسرے کو کاٹتی نہیں، ایک دوسرے تک پہنچاتی ہیں۔ (یہی وہ نکتہ ہے جو درس کے اختتام میں مجدد الف ثانیؒ کے حوالے سے بیان ہوا۔)
7۔ اشارہ: میزابِ رحمت کا رخ
اشارہ: خانۂ کعبہ کی میزابِ رحمت (سونے کا پرنالہ) حطیم کی جانب نصب ہے، اور اس کا رخ شمال کی طرف — یعنی مدینہ منورہ، رحمۃ للعالمین ﷺ کی سمت ہے۔
اس اشارے کا پیغام:
- رحمت کا رخ رحمت کی طرف ہے۔ بیت اللہ پر جو رحمت اترتی ہے، اس کا بہاؤ اس ہستی کی جانب ہے جو خود وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيْنَ ہے۔ گویا رحمتِ الٰہی مخلوق تک اسی واسطے سے پہنچتی ہے۔
- قبلہ اور اسوہ ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جو کعبہ کی رحمت چاہتا ہے، اسے اپنا چہرہ مدینہ کی سنت کی طرف کرنا ہوگا — عبادت کا رخ کعبہ، اور طریقے کا رخ صاحبِ کعبہ کے محبوب ﷺ۔
- حاجی کے لیے تنبیہ۔ جو حج کو جائے اور مدینہ کا رخ نہ کرے، وہ اس اشارے سے غافل ہے جو خود بیت اللہ کر رہا ہے۔
ادارتی نوٹ: یہ ایک اشارہ اور لطیفہ ہے، شرعی دلیل نہیں۔ اسے تنبیہ اور توجہ دلانے کے لیے بیان کیا جاتا ہے۔ خود اسی درس کا اصول یاد رہے: ذوق کی بات کو دین کی بات بنا دینا درست نہیں۔
8۔ حج اور زیارتِ روضۂ اقدس
حضرت نے وہ ارشاد نقل فرمایا جس کا مفہوم ہے: جو حج کے لیے آیا اور میری قبر پر نہ آیا، اس نے میرے ساتھ جفا کی۔
اور پھر افسوس کے ساتھ فرمایا: "ایسی عجیب عجیب بات ہے، عجیب لوگ ہیں" — یعنی اتنے قریب پہنچ کر بھی رخ نہ کرنا حیرت کی بات ہے۔
حوالہ کے لیے: اکابر نے یہ روایت آدابِ زیارت کے ضمن میں نقل فرمائی ہے؛ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ کی فضائلِ حج (بابِ آدابِ زیارت) میں اس باب کا مفصل ذخیرہ موجود ہے۔
9۔ حضرت مدظلہ العالی کا سفرِ حرمین (1984ء)
حضرت نے اپنا ذاتی مشاہدہ بیان فرمایا:
1984ء میں حرمین شریفین حاضری ہوئی۔ پہلے تیرہ دن مدینہ منورہ میں گزرے۔ پھر مولانا اشرف صاحب کے ساتھ حج نصیب ہوا۔ اور اس کے بعد دوبارہ دس دن کے لیے مدینہ منورہ جانا تھا۔
ایک مصری صاحب، جو وہاں مقیم تھے، کہنے لگے: "آپ دوبارہ کیوں جا رہے ہیں؟ میں تو اتنے عرصے سے یہاں مکہ میں ہوں، کبھی وہاں نہیں گیا۔"
حضرت نے فرمایا: "آپ کی قسمت۔"
سبق: نسبت قربت سے پیدا نہیں ہوتی، محبت سے پیدا ہوتی ہے۔ کوئی برسوں حرم میں رہ کر بھی محروم رہ سکتا ہے، اور کوئی ہزاروں میل سے آ کر باریاب ہو سکتا ہے۔
10۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا معمول
حضرت امام ابوحنیفہؒ حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں صرف چھ دن قیام فرماتے اور اس کے بعد مدینہ منورہ تشریف لے جاتے۔
وجہ کیا ہے؟ — کہ وہاں پر رہنا آسان نہیں ہے۔ یہی بات اگلے نکتے میں کھلتی ہے۔
11۔ حرم میں قیام آسان نہیں: نیکی و گناہ دونوں کا اضعاف
حضرت نے نہایت گہری بات فرمائی:
"پتہ نہیں میرا عمل کسی وقت اچھا ہو یا نہ ہو۔ ایک نیکی ایک لاکھ گنا ہے تو گناہ بھی ایک لاکھ گنا ہے وہاں پر۔ اور اکثر لوگ تو غافل ہی ہوتے ہیں وہاں پر۔"
یعنی حرم کی عظمت دو طرفہ ہے: جہاں اجر بڑھتا ہے، وہاں کوتاہی کا وزن بھی بڑھتا ہے۔ یہ خوف کی بات نہیں، احتیاط کی بات ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا معمول
آپؓ کی رہائش حدودِ حرم سے باہر تھی۔ صرف نماز کے لیے حرم آتے، نماز پڑھ کر واپس باہر چلے جاتے۔ کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا:
"میں بھی انسان ہوں — کبھی غلام کو ڈانٹتا ہوں، کبھی کچھ اور ہو جاتا ہے۔"
سبق: یہ زہد کی نمائش نہیں، بلکہ اپنی بشری کمزوری کا حقیقت پسندانہ اعتراف اور مقامِ حرم کا احترام ہے۔ اس بات کو جانو — وہاں رہنا آسان بات نہیں ہے۔
12۔ حضرت تنظیم الحق حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ: غلط نوافل
حضرت تنظیم الحق حلیمی صاحبؒ نے حرم شریف میں ایک افغانی صاحب کو دیکھا جو نوافل غلط طریقے سے پڑھ رہے تھے۔ حضرت نے ان کی باقاعدہ منت کی:
"آپ براہِ مہربانی صرف فرائض، واجبات اور سننِ مؤکدہ پڑھیں — نوافل بالکل نہ پڑھیں۔ کیونکہ آپ غلط نوافل پڑھ کر الٹا اپنے اوپر بوجھ لاد رہے ہیں — اور وہ بھی کہاں کا؟ حرم شریف کا۔"
13۔ مسجدِ نبوی کے آداب
اسی طرح مسجدِ نبوی شریف میں بھی لوگوں کو پروا نہیں، آداب کا خیال نہیں۔ حالانکہ یہ تو وہ جگہ ہے جس کے بارے میں کہا گیا:
ادب گاہیست زیرِ آسمان از عرش نازک تر نفس گم کرده می آید جنید و بایزید اینجا
ترجمہ: اس آسمان کے نیچے یہ ایک ایسا مقامِ ادب ہے جو عرشِ الٰہی سے بھی زیادہ نازک اور حساس ہے۔ یہاں جنید بغدادیؒ اور بایزید بسطامیؒ جیسے عظیم اولیاء اور اقطاب بھی دم سادھے، انتہائی ادب کے مارے سانس روکے ہوئے حاضر ہوتے ہیں۔
14۔ نسبتِ مکانی سے نسبتِ زمانی تک
یہ اس درس کے مرکزی اصول کا اعادہ اور اطلاق ہے:
- نسبتِ مکانی: انسان مدینہ منورہ جاتا ہے تو کثرت سے درود شریف پڑھتا ہے، کیونکہ مدینہ منورہ کو آپ ﷺ کے ساتھ مکانی نسبت حاصل ہے۔
- نسبتِ زمانی: بعینہٖ ماہِ ربیع الاول کو آپ ﷺ کے ساتھ زمانی نسبت حاصل ہے۔
نتیجہ: جس طرح مدینہ پہنچ کر درود کی توفیق بڑھ جاتی ہے، اسی طرح اس مہینے میں بھی آپ ﷺ کی یاد آنی چاہیے — اور اس یاد کا تقاضا یہ ہے کہ اس ماہ میں کثرت سے درود شریف پڑھا جائے۔
15۔ عملی ہدایت: ایک لاکھ پچیس ہزار درود شریف
ہمارے سب ساتھی پہلے کی طرح اس ماہ بھی، ہر شخص کم از کم 125,000(ایک لاکھ پچیس ہزار) بار درود شریف پڑھے، اور مہینے کے آخر میں جتنا پڑھا گیا، اس کی اطلاع کر دیں۔
اہم وضاحت (درس کے اصول کے مطابق): یہ ایک ہدف (target) ہے، شرعی فریضہ نہیں۔ درود شریف کی کوئی روزانہ مقدار مقرر نہیں کی گئی؛ نام آنے پر پہلی بار واجب ہے، اس کے بعد مستحب۔ ہدف اس لیے مقرر کیا جاتا ہے کہ سامنے کوئی نشانہ ہو تو توفیق ہو جاتی ہے — اسے دین کا حصہ قرار دینا مقصود نہیں۔
16۔ مسجدِ نبوی میں پیشی: حضرت غازی مرجان صاحب
الحمد للہ مسجدِ نبوی شریف میں ہمارے ایک بزرگ حضرت غازی مرجان صاحب دامت برکاتہم ہیں۔ ساتھیوں کا درود شریف کا مجموعی عدد ہم انہیں فون پر اطلاع کر دیتے ہیں، اور وہ بارگاہِ رسالت میں پیش فرما دیتے ہیں۔ اور الحمد للہ وہاں سے بشارتیں بھی آتی ہیں۔
17۔ اہلِ مدینہ کے تحائف: حضرت مولانا اشرف سلیمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ
ایک مرتبہ ہمارے شیخ حضرت مولانا اشرف سلیمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ مدینہ منورہ میں تھے، اور حضرت غازی مرجان صاحب وہاں مقیم تھے۔ ان کی معاشی حالت اُس وقت زیادہ اچھی نہ تھی، اس کے باوجود وہ حضرت کی خدمت میں کوئی نہ کوئی چیز لاتے رہتے تھے۔ حضرت اس پر ذرا پس و پیش فرماتے تھے (کہ ان کی تنگی میں ان سے کیوں لیا جائے)۔
پھر حضرت کو آپ ﷺ کی زیارت ہوئی، اور ارشاد ہوا:
"آپ مدینہ منورہ کے باسی کی دی ہوئی چیزوں کو کیوں قبول نہیں کرتے؟"
اس وقت سے حضرت ان کی بہت زیادہ قدر افزائی فرماتے تھے۔
18۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کو سلام کا جواب
یہ واقعہ اکابر کی کتابوں میں دو طریقوں سے مذکور ہے:
پہلی روایت — مشہور عالم و بزرگ حضرت مولانا مشتاق احمد انبیٹھویؒ نے بیان فرمایا کہ حج سے فراغت کے بعد وہ مدینہ طیبہ میں مقیم تھے، تو وہاں کے مشائخ سے یہ تذکرہ سنا کہ اُس سال روضۂ اطہر سے ایک عجیب کرامت ظاہر ہوئی ہے: ایک ہندی نوجوان نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر صلوٰۃ و سلام پڑھا، تو جواب میں یہ پیارے الفاظ سنے گئے:
"وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ يَا وَلَدِيْ"
مولانا انبیٹھویؒ نے اس نوجوان کی جستجو شروع کی۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ وہ حضرت سید حبیب اللہ مہاجر مدنیؒ کے فرزند ہیں۔ گھر پہنچ کر ملاقات کی اور تنہائی میں اپنی طلب کا راز بتایا۔ نوجوان نے ابتدا میں خاموشی اختیار کی، لیکن اصرار پر کہا: "بے شک جو آپ نے سنا وہ صحیح ہے۔" — یہ نوجوان حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ (حوالہ: الجمعیۃ، شیخ الاسلام نمبر، ص 94)
دوسری روایت — حضرت شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان صاحبؒ نے درسِ ختمِ بخاری (جامع مسجد سورتی، رنگون) میں حضرت مدنیؒ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک مرتبہ آپ روضۂ رسول ﷺ پر حاضر ہوئے اور سلام عرض کیا، تو روضۂ اقدس سے جواب ملا: "وَعَلَيْكَ السَّلَامُ يَا وَلَدِيْ"۔ (حوالہ: ماہنامہ الفاروق، ذوالقعدہ1437ھ)
اور بہت سے لوگوں نے وہاں سنا — اس نوعیت کے واقعات میں اجتماعی سماع کی نظیریں موجود ہیں؛ چنانچہ علامہ سیوطیؒ نے الحاوی للفتاویٰ (۲/۳۱۴) میں سید نور الدین ایجیؒ کے والد ماجد کا واقعہ نقل کیا ہے کہ انہوں نے سلام عرض کیا تو پورے مجمع نے قبرِ شریف سے "وعلیک السلام یا ولدی" کا جواب سنا۔ اسی طرح شیخ ابوبکر دیار بکریؒ کے سلام کے جواب کا واقعہ بھی وہاں موجود ہے، جسے حاضرین نے سنا۔
عقیدے کی بنیاد: اہلِ سنت والجماعت کا مسلّمہ عقیدہ ہے کہ آپ ﷺ اپنی قبرِ مبارک میں حیات ہیں اور سلام کا جواب عطا فرماتے ہیں، اور اولیاء کی کرامات حق ہیں۔ لہٰذا اس نوعیت کے واقعات نہ عقلاً محال ہیں نہ شرعاً۔
19۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا مکمل واقعہ: ہجرتِ شام، خواب، اور مدینہ کی آخری اذان
حضرت بلالؓ مؤذنِ رسول ﷺ تھے۔ آپ ﷺ کے وصال کے بعد ان کا پورا واقعہ تاریخ کی کتابوں میں یوں منقول ہے (تاریخ ابن عساکر، بروایت حضرت ابو الدرداءؓ):
(الف) مدینہ سے چلے جانا
آپ ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد حضرت بلالؓ کے لیے مدینہ میں ٹھہرنا ناممکن ہو گیا — وہ اذان جو آپ ﷺ کے لیے دی جاتی تھی، اب کس کے لیے دی جائے۔ جب حضرت عمر بن الخطابؓ شام تشریف لے گئے تو حضرت بلالؓ نے وہیں قیام کی اجازت چاہی، اور اجازت مل گئی۔ آپؓ اپنے بھائی حضرت ابو رویحہؓ کے ساتھ داریا (خولان، دمشق کے قریب) میں مقیم ہو گئے۔
(ب) خواب
پھر ایک رات حضرت بلالؓ نے خواب میں آپ ﷺ کی زیارت کی، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے:
"مَا هٰذِهِ الْجَفْوَةُ يَا بِلَالُ؟ أَمَا آنَ لَكَ أَنْ تَزُوْرَنِيْ؟" اے بلال! یہ کیسی بے رخی ہے؟ کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ تم مجھ سے ملنے آؤ؟
(ج) مدینہ کی طرف روانگی
آپؓ غم زدہ، لرزتے اور خوف زدہ حالت میں بیدار ہوئے، فوراً اپنی سواری پر سوار ہوئے اور مدینہ منورہ کا رخ کیا۔ پہنچ کر سیدھے آپ ﷺ کی قبرِ مبارک پر حاضر ہوئے، وہیں روتے رہے اور اپنا چہرہ اس پر ملتے رہے۔
(د) حسنین کریمینؓ کی فرمائش
اتنے میں حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ تشریف لے آئے۔ حضرت بلالؓ انہیں سینے سے لگاتے اور بوسے دیتے رہے۔ دونوں شہزادوں نے فرمائش کی:
"ہماری خواہش ہے کہ آپ وہی اذان دیں جو آپ رسول اللہ ﷺ کے لیے مسجد میں دیا کرتے تھے۔"
(ہ) آخری اذان
حضرت بلالؓ مسجد کی چھت پر تشریف لے گئے اور اسی جگہ کھڑے ہوئے جہاں کھڑے ہوا کرتے تھے۔
- جب فرمایا "اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ" — تو مدینہ لرز اٹھا۔
- جب فرمایا "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ" — تو یہ کیفیت اور بڑھ گئی۔
- اور جب فرمایا "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ" — تو پردہ نشین خواتین اپنے حجروں سے باہر نکل آئیں، اور لوگ پکار اٹھے: "کیا رسول اللہ ﷺ دوبارہ مبعوث ہو گئے؟"
راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ کے وصال کے بعد اُس دن سے زیادہ رونے والا کوئی دن نہیں دیکھا گیا — مرد بھی رو رہے تھے اور عورتیں بھی۔ اور خود حضرت بلالؓ اس اذان کو مکمل نہ کر سکے؛ رقت اور گریہ نے آواز روک دی۔
نوٹ: اس واقعہ کو بیان کرتے ہی حضرت شاہ صاحب مدظلہ العالی پر بھی گریہ طاری ہو گیا۔
سبق: یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ اس پوری مجلس کا عملی نمونہ ہے — وہ دل جس میں صرف ایک ذات بسی ہوئی ہو، اس کی جدائی اسے شہر بدل دینے پر مجبور کر دیتی ہے، اور ایک بلاوا اسے سینکڑوں میل کھینچ لاتا ہے۔
20۔ اختتامی کلمات: "ہم تو دیوانے ہیں"
حضرت نے فرمایا:
"اس طرح اور بھی واقعات ہیں، اور ایک نہیں بہت سے ہیں۔ ہاں — تم اگر درود شریف نہیں پڑھنا چاہتے تو نہ پڑھو، لیکن ہم پر اعتراض نہ کرو۔ ہم تو کیا ہیں، ہم تو دیوانے ہیں۔"
تشریح — یہی اس پوری مجلس کا نقطۂ توازن ہے:
- درس کا مطالبہ: محبت کو سنت اور طریقِ صحابہؓ کی کسوٹی پر رکھا جائے؛ جو چیز دین نہیں، اسے دین نہ بنایا جائے۔
- تشریحی نوٹس کا مطالبہ: اسی کسوٹی کے اندر رہتے ہوئے، محبت کی شدت کو کسی کے سرد پیمانے سے ناپا نہ جائے۔
یعنی نہ محبت کے نام پر شریعت میں اضافہ، اور نہ شریعت کے نام پر محبت میں کمی۔ دلیل کے دائرے میں دیوانگی — یہی اکابر کا راستہ ہے۔
مرتبہ: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی — www.tazkia.org