دین میں آسانی: غیر ضروری شکوک و شبہات اور رسم و رواج کی اندھی تقلید سے گریز
درس نمبر 243، سورۃ المائدة، آیت نمبر 101 اور 104، اشاعتِ اول: 29 جولائی، 2022، بمطابق 29 ذی الحجہ 1443 ہجری
- شریعت کے مجمل احکام کو اسی اجمال کے ساتھ تسلیم کر لینا چاہیے اور بلاوجہ سوالات کر کے انہیں اپنے لیے مشکل نہیں بنانا چاہیے۔
- پچھلی امتوں نے بھی غیر ضروری سوالات کر کے اپنے اوپر پابندیاں بڑھوائیں اور پھر ان کی تعمیل سے انکار کر دیا۔
- شرعی احکام پر ان کی منشا کے مطابق عمل کرنے سے شکوک ختم ہوتے ہیں جبکہ محض عقل پر انحصار وسوسوں کا باعث بنتا ہے۔
- زمانۂ جاہلیت میں جانوروں کو بتوں کے نام پر وقف کرنا مشرکین کا اللہ پر جھوٹ باندھنا اور شیطان کا دھوکا تھا۔
- دین کے واضح احکام کے مقابلے میں آباؤ اجداد کی اندھی تقلید اور بے بنیاد رواجوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْــٴَـلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْۚ-وَ اِنْ تَسْــٴَـلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ ؕ-عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا ؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ(101) قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ(102) مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآىٕبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍۙ-وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ ؕ-وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ(103) وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا ؕ-اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ(104)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
ترجمہ: اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوالات نہ کیا کرو جو اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں، اور اگر تم ان کے بارے میں ایسے وقت سوالات کرو گے جب قرآن نازل کیا جارہا ہو تو وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں گی۔
حاشیہ: آیت کا مطلب یہ ہے کہ اوّل تو جن باتوں کی کوئی خاص ضرورت نہ ہو، ان کی کھوج میں پڑنا فضول ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض اوقات کوئی حکم مجمل طریقے سے آتا ہے۔ اگر اس حکم پر اسی اجمال کے ساتھ عمل کر لیا جائے تو کافی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو اس میں مزید تفصیل کرنی ہوتی تو وہ خود قرآن کریم یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے ذریعے کر دیتا۔ اب اس میں بال کی کھال نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اگر نزولِ قرآن کے زمانے میں اس کا کوئی سخت جواب آجائے تو خود تمہارے لئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ اس آیت کے شانِ نزول میں ایک واقعہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب حج کا حکم آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بتایا تو ایک صحابی نے آپ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا حج عمر بھر میں صرف ایک مرتبہ فرض ہے، یا ہر سال کرنا فرض ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال پر ناگواری کا اظہار فرمایا۔ وجہ یہ تھی کہ حکم کے بارے میں اصل یہ ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے خود یہ صراحت نہ کی جائے کہ اس پر بار بار عمل کرنا ہوگا (جیسے نماز روزے اور زکوٰۃ میں یہ صراحت موجود ہے) اس وقت تک اس پر صرف ایک بار عمل کرنے سے حکم کی تعمیل ہو جاتی ہے، اس لئے اس سوال کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ آپ نے صحابی سے فرمایا کہ اگر میں تمہارے جواب میں یہ کہہ دیتا کہ ہاں ہر سال فرض ہے تو واقعی پوری اُمت پر وہ ہر سال فرض ہو جاتا۔
اصل میں اللہ پاک ہمارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم بعض دفعہ اپنے لیے کوئی مشکل بنا دیتے ہیں۔ یہ بہت اہم بات ہے سمجھنا۔ کچھ باتیں ایسی ہیں جن کو اللہ پاک نے اجمالاً بتایا ہے، جیسے تقدیر کی بات ہے۔ تو اب اگر اس میں کوئی کھوج لگائے گا تو پریشان ہی ہوگا کیونکہ پہنچ تو نہیں سکے گا تو خوامخواہ۔ تو جس درجے کی بات کی ہے اس درجے پر ایمان رکھنا چاہیے، بس وہ کافی ہے۔ یا آج کل وہ بہت سارے کام ایسے ہیں جس پہ لوگ بلاوجہ بہت ساری discussions کرتے ہیں، حالانکہ اللہ پاک نے اس میں وسعت رکھی ہوتی ہے، تو اس وسعت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ جو شک میں پڑنے والے لوگ ہوتے ہیں ان کے لیے بھی یہی حکم ہوتا ہے کہ وہ شک میں نہ پڑیں اور جو مطلب صاف بات ہے اس پہ عمل کر لیں جو بتایا گیا ہے۔
وہ ایک دفعہ ایسا ہوا تھا کہ مجھے شک کی بیماری ہو گئی تھی۔ تو سید تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے میں نے کچھ سوالات اس طرح کیے بار بار، تو حضرت سمجھ گئے کہ اس کو مسئلہ ہے۔ تو حضرت نے مجھے فرمایا کہ دیکھو اگر تمہارے کپڑے کا کوئی حصہ ناپاک ہو جائے، تو شریعت کا حکم یہ ہے کہ تین دفعہ اس کو دھو لو اور نچوڑو، اور آخری بار خوب زور سے نچوڑو، بس پاک ہو گیا۔ اور اگر تم عقل کے مطابق کرو گے تو یہ کبھی بھی پاک نہیں ہوگا۔ کیونکہ پانی اگر اس پہ آ گیا تو اب تیسری دفعہ مطلب ظاہر ہے وہ پہلی دفعہ آپ نے ڈالا تو پانی کچھ اور آگے سرایت کر گیا، تو آپ نے سمجھا کہ ناپاک ہو گیا۔ اب آپ نے پھر مزید اس پہ پانی ڈالا، وہاں تک پانی تو مزید آگے پانی سرایت کر گیا، تو پھر وہ مطلب ظاہر ہے پہلی دفعہ ہے اس کے لیے۔ تو پھر آپ نے اس کو دھونا شروع کیا پھر آپ مزید پانی ڈالیں، تو پھر وہ آگے سے، تو آپ کے سارے کپڑے جو ہیں نا وہ دھل جائیں گے لیکن وہ آپ کے خیال میں پاک نہیں ہوگا۔ اس طرح کنویں کی مثال دی کہ کنواں جو ہے، یہ جس کو پاک کرتے ہیں تو جتنے ڈول نکالنے ہوتے ہیں اتنے ڈول نکال لو، تو رسی بھی پاک ہو گئی، ڈول بھی پاک ہو گیا، کنواں بھی پاک ہو گیا۔ اور اگر آپ عقل کے حساب سے کریں تو آپ کہتے ہیں وہ پانی تو ادھر موجود ہے اس کے ساتھ مکس ہو گیا، تو اب تو یہ پاک نہیں ہے۔
تو شریعت کے حکم کو دیکھنا چاہیے، کیونکہ ہم لوگ اصل میں نہیں جانتے، اللہ پاک جانتے ہیں۔ اللہ پاک نے جس حکم کو جس طرح دیا ہے بس اس پر عمل کر لو، اس سے زیادہ آگے پیچھے ہیچ پیچ نہ کیا کرو، یہ بات بہت اہم ہے۔ تو یہاں پر بھی یہی بات ہے کہ جتنا بتایا گیا ہے اتنا ہی اس کو رکھو، اس سے زیادہ آگے نہ لے جاؤ۔
ترجمہ: (البتہ) اللہ نے پچھلی باتیں معاف کر دی ہیں۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا بردبار ہے ﴿101﴾ تم سے پہلے ایک قوم نے اس قسم کے سوالات کئے تھے، پھر ان (کے جو جوابات دیئے گئے ان) سے منکر ہو گئے۔ ﴿102﴾
یہاں پر بھی ایک بات ہے۔۔۔
حاشیہ: اس سے غالباً یہودیوں کی طرف اشارہ ہے جو شریعت کے احکام میں اسی قسم کی بال کی کھال نکالتے تھے، اور جب ان کے اس عمل کے نتیجے میں ان پر پابندیاں بڑھتی تھیں تو انہیں پورا کرنے سے عاجز ہو جاتے، اور بعض اوقات ان کی تعمیل سے صاف انکار بھی کر بیٹھتے تھے۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے ان پر مہربانی فرمائی تھی۔ اس مہربانی کو بجائے اس کے کہ اس پر شکر کرتے، یہ خوامخواہ ہیچ پیچ میں پڑ جاتے اور اس قسم کے سوالات کرتے تھے جس کی وجہ سے ان پر سختی آ جاتی تھی۔
ترجمہ: اللہ نے کسی جانور کو نہ بحیرہ بنانا طے کیا ہے، نہ سائبہ، نہ وصیلہ اور نہ حامی۔
حاشیہ: یہ مختلف قسم کے نام ہیں جو زمانہ جاہلیت کے مشرکین نے رکھے ہوئے تھے۔ بحیرہ اس جانور کو کہتے تھے جس کے کان چیر کر اس کا دُودھ بتوں کے نام پر وقف کر دیا جاتا تھا۔ سائبہ وہ جانور تھا جو بتوں کے نام کر کے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا، اس سے کسی قسم کا فائدہ اُٹھانا حرام سمجھا جاتا تھا۔ وصیلہ اس اُونٹنی کو کہتے تھے جو لگاتار مادہ بچے جنے، بیچ میں کوئی نر نہ ہو۔ ایسی اُونٹنی کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے۔ اور حامی وہ نر اُونٹ ہوتا تھا جو ایک خاص تعداد میں جفتی کر چکا ہو۔ اسے بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔
مطلب یہ ہے کہ شیطان نے ان کے اوپر ایسا اثر کر دکھایا تھا کہ جو بھی ذرا valued قسم کی چیز ہوتی، وہ بتوں کے نام کر دیے جاتے اور شرک کا پورا بازار گرم کیا تھا۔ تو ظاہر ہے مطلب یہ طریقہ تو بہت برا تھا، تو اس سے منع کیا گیا۔
ترجمہ: لیکن جن لوگوں نے کفر اپنایا ہوا ہے وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، اور ان میں سے اکثر لوگوں کو صحیح سمجھ نہیں ہے ﴿103﴾ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو کلام نازل کیا ہے، اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤ، تو وہ کہتے ہیں کہ: ”ہم نے جس (دین پر) اپنے باپ دادوں کو پایا ہے، ہمارے لئے وہی کافی ہے۔“ بھلا اگر ان کے باپ دادے ایسے ہوں کہ نہ ان کے پاس کوئی علم ہو، اور نہ کوئی ہدایت تو کیا پھر بھی (یہ انہی کے پیچھے چلتے رہیں گے؟) ﴿104﴾
تو یہاں پر آباؤ اجداد والی جو بات ہے، یہ تو بہت پرانی بات ہے۔ اس میں تو لوگ گویا کہ اس چیز کو ہی زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یعنی دین کے بعد سب سے بڑی influential چیز ہوتی ہے، رواج ہوتا ہے اور رواج وہ اوپر سے لوگوں میں چلا آ رہا ہوتا ہے۔ تو اس کو لوگ بہت بعض دفعہ جذباتی انداز میں لیتے ہیں کہ ہم باپ دادا کا طریقہ چھوڑ دیں گے؟ اس قسم کی باتیں کر کے وہ اس کے اوپر جم جاتے ہیں، شیطان ان کو جما دیتا ہے۔
حالانکہ باپ دادا جو ہیں، وہ بھی انسان تھے اور انسان کو دھوکا ہو سکتا ہے، نفس کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے، شیطان کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ تو اگر کسی کے پاس علم نہیں ہے یا ہدایت نہیں ہے اور ہدایت نہیں ہے، تو اب ان کی بات بھی مانو گے؟ تو جو دین آیا ہے، اس دین کے مقابلے میں باپ دادا کی بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اور اس میں ہم دین کی بات مانیں گے، باپ دادا کی بات نہیں مانیں گے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
تشریحی نوٹس
۱۔ شریعت ہمارے لیے معیار ہے
اللہ تعالیٰ نے دین میں آسانی رکھی ہے، اور جو کچھ بتا دیا ہے وہی کافی ہے۔ اُس میں اپنی طرف سے عقلی توجیہات تلاش کرنا یا اشکالات کھڑے کرنا بندے کا کام نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ حقیقت کا علم ہمیں نہیں، اللہ تعالیٰ کو ہے؛ اس لیے حکم کو اُسی طرح لینا چاہیے جس طرح دیا گیا ہے، آگے پیچھے کی کھینچ تان کے بغیر۔
۲۔ طہارت کے احکام — عقل بمقابلہ حکم
حضرت نے اپنے واقعے کے حوالے سے یہ اصول سمجھایا۔ ایک زمانے میں اُنہیں شک و وسوسہ کی بیماری لاحق ہوئی اور وہ بار بار حضرت سید تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے اسی نوعیت کے سوالات کرتے رہے۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ سمجھ گئے کہ معاملہ وسوسے کا ہے، تو دو مثالوں سے بات واضح فرمائی:
کپڑے کی مثال: اگر کپڑے کا کوئی حصہ ناپاک ہو جائے تو شرعی حکم یہ ہے کہ تین مرتبہ دھو کر نچوڑ لیا جائے، اور آخری بار خوب زور سے نچوڑا جائے — کپڑا پاک ہو گیا۔ لیکن اگر آدمی محض اپنی عقل کے پیچھے چلے تو کپڑا کبھی پاک نہ ہو۔ کیونکہ سوچ یہ چلے گی: پہلی بار پانی ڈالا تو تری کچھ اور آگے سرایت کر گئی، گویا وہ حصہ بھی ناپاک ہو گیا؛ اُس پر پانی ڈالا تو مزید آگے سرایت کر گئی — یوں پورا کپڑا دھل جائے گا مگر آدمی کے اپنے خیال میں پاک پھر بھی نہ ہوگا۔
کنویں کی مثال: کنواں ناپاک ہو جائے تو شریعت نے مقررہ تعداد میں ڈول نکالنے کا حکم دیا ہے۔ اتنے ڈول نکال لیے تو کنواں بھی پاک، ڈول بھی پاک، رسی بھی پاک۔ عقل کے حساب سے تو آدمی یہی کہتا رہے گا کہ ناپاک پانی تو اُسی میں مل چکا ہے، اب یہ کیسے پاک ہوگا؟
نتیجہ: شریعت کا حکم قطعی ہے، اور اس میں عقل کو حَکم بنانا آدمی کو کسی کنارے نہیں لگنے دیتا۔
۳۔ وسوسہ و شک کی بیماری — ایک ذاتی شہادت
حضرت نے فرمایا کہ نوجوانی میں یہ بیماری اُن پر خود گزری ہے: وضو نہایت مشکل ہو جاتا تھا، کپڑے دھوتے دھوتے تسلی نہ ہوتی تھی۔ مزدلفہ میں احرام کی تھوڑی سی جگہ ناپاک ہو گئی تو دھوتے دھوتے دونوں چادریں دھو ڈالیں، پھر گیلے کپڑے پہننے پڑے اور بخار ہو گیا۔
اس بیان کا فائدہ یہ ہے کہ وسوسے کے مریض کو معلوم ہو جائے کہ یہ کیفیت قابلِ علاج ہے، اور اس کا علاج مزید احتیاط نہیں بلکہ حکمِ شرعی پر رُک جانا ہے۔
۴۔ بنی اسرائیل کا گائے والا واقعہ — بے جا سوالات کا انجام
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں بھی بنی اسرائیل کا مزاج یہی رہا کہ بے جا سوالات کرتے، اور جب احکام سختی کے ساتھ نازل ہوتے تو اُن پر عمل نہ کر پاتے۔ اسی مزاج کی سب سے نمایاں مثال وہ واقعہ ہے جس کی طرف سورۃ البقرہ (آیات ۶۷ تا ۷۳) میں اشارہ ہے اور جس کے نام پر سورت کا نام "البقرہ" رکھا گیا:
بنی اسرائیل میں ایک شخص قتل ہو گیا اور قاتل کا پتہ نہ چل سکا؛ لوگ ایک دوسرے پر الزام دھرنے لگے۔ معاملہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ ایک گائے ذبح کرو۔ حکم بالکل مطلق تھا — کوئی سی بھی گائے ذبح کر دیتے تو کافی ہو جاتا۔
مگر اُنہوں نے سوالات شروع کر دیے:
- پہلے پوچھا: کیسی گائے؟ جواب ملا: نہ بالکل بوڑھی، نہ بالکل بچھیا؛ درمیانی عمر کی۔
- پھر پوچھا: رنگ کیا ہو؟ جواب ملا: گہری زرد رنگت کی، جو دیکھنے والوں کو بھلی لگے۔
- پھر پوچھا: مزید وضاحت فرمائیے، ہمیں گائے کی پہچان میں اشتباہ ہے۔ جواب ملا: وہ گائے جو کام میں جوتی ہوئی نہ ہو، نہ زمین جوتتی ہو نہ کھیتی سیراب کرتی ہو، بے عیب ہو، اُس میں کوئی داغ نہ ہو۔
اب جا کر اُنہوں نے کہا کہ اب بات ٹھیک واضح ہوئی۔ جتنے سوالات کرتے گئے، اُتنی ہی شرائط بڑھتی گئیں اور حکم مشکل ہوتا چلا گیا۔ آخرکار ایسی گائے بڑی مشکل سے دستیاب ہوئی، اور — جیسا کہ مفسرین نے روایات میں ذکر کیا ہے — اُس کے مالک نے اُس کی نہایت بھاری قیمت وصول کی؛ روایات میں آتا ہے کہ اُس کے وزن کے برابر سونا (بعض روایات میں: اُس کی کھال بھر کر سونا) دے کر خریدی گئی۔ قرآن کریم نے خود اُن کے تاثر کو یوں بیان فرمایا کہ قریب تھا کہ وہ یہ کام کر ہی نہ پاتے — یعنی اتنی گراں قیمت کے باعث عمل مشکل ہو گیا۔
پھر حکم کے مطابق مقتول کو اُس گائے کے ایک ٹکڑے سے ضرب لگائی گئی تو وہ اللہ کے حکم سے زندہ ہو کر بول اٹھا اور اپنے قاتل کا نام بتا دیا — اور اِسی مقصد کے لیے یہ سارا حکم تھا: اللہ تعالیٰ مُردوں کو زندہ کرنے کی نشانی دکھانا اور جھگڑے کا فیصلہ کرانا چاہتے تھے۔
سبق: اگر پہلے ہی حکم پر عمل کر لیتے تو معمولی سی گائے کافی ہو جاتی۔ سوالات نے آسانی کو تنگی میں بدل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو بھی زیادہ کریدنے سے منع فرمایا۔
نوٹ: واقعے کے تفصیلی اجزاء (قیمت، مالک نوجوان کا حال وغیرہ) تفسیری روایات سے منقول ہیں؛ قرآن کریم نے صرف اصل سبق پر اکتفا فرمایا ہے۔ بیان کرتے وقت اسی درجہ بندی کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
۵۔ شیطان کا طریقۂ واردات — ہر قوم کے لیے الگ راستہ
شیطان جس طرح بنی اسرائیل کو بے جا سوالات میں الجھا کر لے گیا، اسی طرح ہر قوم کو اُس کے مزاج کے مطابق کسی نہ کسی گمراہی میں مبتلا رکھتا ہے:
- یہود — اسی سلسلے کا تسلسل یہ ہے کہ وہ آج بھی دجال کو اپنا مسیحا سمجھے بیٹھے ہیں۔
- اہلِ عرب — نزولِ قرآن کے وقت شرک اپنے عروج پر تھا اور شیطان نے اُنہیں اسی میں لگا رکھا تھا۔
- ہنود — آج بھی شرک میں بہت آگے ہیں؛ مغربی بنگال میں سانپ اور اژدھے کے بتوں کی پوجا تک ہوتی ہے۔
- نصاریٰ — باقاعدہ گرجا گھر موجود ہیں جن میں مجسمے اور بت نصب ہوتے ہیں۔
یعنی صورتیں مختلف ہیں، بنیاد ایک ہی ہے: وحی کو چھوڑ کر کسی اور چیز کو معیار بنا لینا۔
۶۔ رسوم و توہمات — گھروں کے اندر کی گمراہی
یہی مرض ہمارے معاشرے میں رسوم اور توہمات کی شکل میں موجود ہے۔ بوڑھی عورتوں کے ذریعے عجیب و غریب باتیں نسل در نسل منتقل ہوتی ہیں۔ مثلاً یہ عام وہم کہ کوئی گھر سے باہر نکلے اور پیچھے جھاڑو دے دیا جائے تو اُس کی خیر نہیں — یا اُس وقت کوئی سر دھو لے تو نحوست آ جاتی ہے۔
ڈر اس قدر بیٹھ چکا ہوتا ہے کہ کوئی اس کے خلاف بولنے کی جرأت نہیں کرتا۔ نئی بہو کو گھر کے ماحول کا علم نہیں ہوتا، شوہر باہر گیا اور اُس نے جھاڑو دے دیا — تو ساس کی طرف سے لڑائی شروع ہو جاتی ہے کہ "میرے بیٹے کا تُو نے یہ خیال کیا؟" حضرت نے فرمایا کہ یہ محض سنی سنائی باتیں نہیں، بعض واقعات آنکھوں دیکھے ہیں: ایک ساس نے اسی بنا پر اپنی بہو کے سر پر گرم پانی ڈال دیا۔
یعنی رسم کی خلاف ورزی پر وہ غیرت جاگتی ہے جو شریعت کی صریح خلاف ورزی پر نہیں جاگتی۔
۷۔ "یہ ہمارے آباؤ اجداد کا طریقہ ہے" — اصل جواب
لوگ شرعی احکام کے مقابلے میں رسوم کو یہ کہہ کر ترجیح دیتے ہیں کہ یہ ہمارے آباؤ اجداد کا طریقہ ہے، اسی وقت سے چلا آ رہا ہے۔ بعینہٖ یہی جواب مشرکینِ عرب کا تھا — اور آیت اسی جواب کا رد کر رہی ہے۔
یہاں توازن ضروری ہے:
- آباؤ اجداد کی ہر بات غلط نہیں ہوتی۔ اُن میں سادگی اور بہت سی خوبیاں تھیں؛ جو اچھی بات ہو وہ ضرور لی جائے۔
- لیکن جو عمل شریعت کے مطابق نہ ہو، اُس پر چلنے کا کوئی جواز نہیں۔
- اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ صحیح اور غلط کا فیصلہ کرے گا کون؟ یہ فیصلہ نہ آپ کریں گے، نہ آپ کے آباؤ اجداد — یہ فیصلہ علماء کریں گے، اور وہ بھی علمائے حق۔
۸۔ بزرگوں کے اقوال نصوص کے مقابلے میں حجت نہیں
حضرت نے ایک نقشبندی حلقے کا واقعہ سنایا جہاں ایک صاحب بزرگوں کے نام پر ایسی باتیں کرتے تھے جو نص سے ٹکراتی تھیں۔ حضرت نے فرمایا کہ جب قرآن موجود ہے تو ہم قرآن کی بات کیوں نہ لیں؟ بزرگوں کے اقوال حجت نہیں، اور اُن میں نقل و روایت کی تحریف کا امکان بھی رہتا ہے۔
اُنہوں نے اعتراض کیا کہ "آپ اپنی عقل سے باتیں کرتے ہیں۔" حضرت نے جواب دیا: عقل کا ہونا اللہ کا فضل ہے، مگر اس عقل کو قرآن سمجھنے میں استعمال کرو (نہ کہ قرآن پر حاکم بنانے میں)۔
پھر اُنہوں نے کہا کہ آپ اس بارے میں اپنی رائے بتائیے۔ حضرت نے فرمایا: جہاں شریعت کی بات موجود ہے وہاں میری اپنی رائے کی کوئی حیثیت ہی نہیں، میں اپنی طرف سے کیا بتاؤں؟ ایک ہفتہ جواب در جواب چلتا رہا، آخر وہ خاموش ہو گئے۔
اصول: جہاں نص موجود ہو، وہاں کسی کی ذاتی رائے — خواہ وہ کتنے ہی بڑے آدمی کی ہو — حجت نہیں بنتی۔
۹۔ زیارت کاکا صاحب کا واقعہ — والد کی محبت میں گمراہی
بڑے بزرگوں کے مزارات کے ساتھ لوگ رفتہ رفتہ بہت سی خودساختہ چیزیں وابستہ کر لیتے ہیں۔ زیارت کاکا صاحب میں بھی یہی صورت تھی۔ حضرت کے چچا مولانا انوار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ (فاضلِ دیوبند) نے جمعہ کے بیان میں ان چیزوں کا خوب رد کیا۔
اُسی مجلس میں ایک اور فاضلِ دیوبند مولوی انوار الحق صابر صاحب بھی موجود تھے۔ اُن کے والد صاحب — ایک معمر بزرگ — کھڑے ہو گئے اور کہا: "کیا ہمارے آباؤ اجداد جو کر رہے تھے غلط کر رہے تھے؟ آپ یہ کہاں سے سیکھے ہوئے ہیں؟"
اس پر انوار الحق صابر صاحب کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: "بحیثیتِ فاضلِ دیوبند میں فتویٰ دیتا ہوں کہ میرے والد صاحب جو کہہ رہے ہیں ٹھیک کہہ رہے ہیں۔"
مجلس میں دونوں کے استاد مولانا عبد الحق نافع صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی موجود تھے، جو دیوبند میں دونوں انوار الحق کے استاد رہ چکے تھے۔ وہ للکار اٹھے: "چپ ہو جا انوار الحق! یہ کیا بکواس بنائی؟ کہاں سے تم فاضلِ دیوبند بنے ہوئے ہو؟ جو (مولانا) انوار الحق کہہ رہے ہیں بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔" وہ خاموش ہو گئے۔
بعد میں جب لوگ چلے گئے تو استاد نے اُنہیں بلا کر پوچھا: "یہ تُو نے کیا حرکت کی؟ اس طرح بات کیوں کی؟" جواب دیا: "بس میں والد کی محبت میں گمراہ ہو گیا۔"
عبرت: ایک ہی مسجد میں، ایک ہی استاد کے دو شاگرد — ایک اُس وقت عالمِ حق کے مقام پر اور دوسرا (اگرچہ بعد میں رجوع کر لیا) عارضی طور پر شیطان کے بہکاوے میں۔ متاثر ہونے کے راستے مختلف ہوتے ہیں: کوئی اپنے گھر سے متاثر ہوتا ہے، کوئی خاندان سے، کوئی دوستوں سے — اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حق اور باطل آپس میں خلط ملط کر دیے جاتے ہیں۔
۱۰۔ آیت کے دو کلیدی الفاظ: لَا يَعْقِلُونَ اور لَا يَهْتَدُونَ
یہاں دو الگ الگ چیزوں کی نفی ہے، اور یہی آیت کا لطیف نکتہ ہے:
| عقل | اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اندرونی صلاحیت ہے؛ انسان اس کے ذریعے خود بھی سوچ سکتا ہے۔ |
| ہدایت | عقل کی پیداوار نہیں؛ یہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔ |
ہدایت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما دیا کہ آپ ہدایت نہیں دیتے، ہدایت میں دیتا ہوں — تو جب یہ منصب پیغمبر کا نہیں تو اور کون اس کا دعویٰ کر سکتا ہے!
اب آیت کا مدعا واضح ہو جاتا ہے: جن کے پاس نہ اللہ کی طرف سے ہدایت ہو اور نہ اُن کی عقل ہی کام کر رہی ہو، اُن کی بات ماننے کی آخر کوئی وجہ باقی رہتی ہے؟ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں کوئی سمجھ دار آدمی اُن کی پیروی نہیں کرے گا۔
حاصلِ درس
۱. دین میں معیار صرف شریعت ہے؛ حکم پر عمل کرنا ہے، اُس کی عقلی توجیہ تلاش کرنا لازم نہیں۔ ۲. بے جا سوالات اور کرید آسانی کو تنگی میں بدل دیتی ہے — بنی اسرائیل کا گائے والا واقعہ اس کی مستقل نظیر ہے۔ ۳. وسوسہ ایک بیماری ہے؛ اس کا علاج مزید احتیاط نہیں بلکہ حکمِ شرعی پر رُک جانا ہے۔ ۴. شیطان ہر قوم کو اُس کے مزاج کے مطابق وحی سے ہٹاتا ہے — کہیں شرک سے، کہیں رسوم سے، کہیں بے جا سوالات سے۔ ۵. آباؤ اجداد کی اچھی بات لینی چاہیے، مگر اُن کے عمل کو کسوٹی نہیں بنایا جا سکتا؛ کسوٹی کتاب و سنت ہے۔ ۶. جہاں نص موجود ہو وہاں کسی کی ذاتی رائے یا بزرگوں کا قول حجت نہیں بنتا۔ ۷. عقل کا صحیح مصرف یہ ہے کہ اُسے قرآن سمجھنے میں لگایا جائے، نہ کہ قرآن پر حاکم بنایا جائے۔ ۸. حق و باطل کا فیصلہ علمائے حق کے سپرد ہے، عوامی رواج یا خاندانی روایت کے نہیں۔