حُبِّ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت: ہماری کامیابی کا واحد راستہ
البقرہ: 2، آیت نمبر 165، الاحزاب: 33، آیت نمبر 21، آل عمران: 3، آیت نمبر 31، الاحزاب: 33، آیت نمبر 56
- دشمنانِ اسلام کی سازش اور مسلمانوں کی اصل طاقت (محبتِ رسول ﷺ)
- گستاخانِ رسول ﷺ کا عبرتناک انجام اور اللہ کی غیرت
- حُبِّ رسول ﷺ اور اتباعِ سنت کا لازم و ملزوم ہونا
- کامل شیوخ کی صحبت کی اہمیت (حضرت مولانا اشرف سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی مثال)
- فتنوں کے دور میں محتاط طرزِ زندگی اور محدود تعلقات
- درود شریف کی مجالس کی موجودہ دور میں ضرورت و اہمیت
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ. وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ. وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ. وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا.
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
حُسنِ یوسف دمِ عیسیٰ یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
معزز خواتین و حضرات! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا مہینہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کا مہینہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا مہینہ، یہ شروع ہو گیا ہے۔
ہمارا اسلام کامل دین ہے، اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔ اب دین مکمل ہو گیا ہے، اللہ جل شانہ نے ہم پر اپنی نعمت تمام کر لی ہے اور ہمارے لیے اسلام کو دین کے طور پہ پسند کر لیا ہے۔ اس وجہ سے ہمارا ہر ہر لمحہ قیمتی ہے۔ ہر ایک کوشش ہماری اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والی ہونی چاہیے۔ اس پہ ہمارا ایک ایک پیسہ لگنا چاہیے اور ایک ایک بال کی حد تک ہمارا جسم اس میں استعمال ہونا چاہیے۔
اس وجہ سے یہ بات تو نہیں ہے کہ -نعوذ باللہ من ذالک- ہم اسی مہینے میں درود شریف پڑھیں گے یا اسی مہینے میں سنتوں پہ عمل کریں گے۔ یہ تو طے شدہ بات ہے کہ اسلام جب مکمل ہو گیا تو پھر سارے وقت کے لیے مکمل ہو گیا، سارے لوگوں کے لیے مکمل ہو گیا۔ تو یہ بات تو نہیں ہے کہ ہم کسی خاص دن یا خاص مہینے یا کسی خاص سال پہ اس کو محدود کر دیں۔ ہاں البتہ یاد دہانی کے ذریعے ہیں اور اس کے ذریعے سے یاد دہانی ہو جایا کرتی ہے۔ تو یاد دہانی کے لیے اگر ہم اس کو استعمال کرتے ہیں، تو بالکل ٹھیک ہے اور اچھی یاد دہانی ہے۔
جیسے بعض لوگ ہوتے ہیں وہ ذکر کے لیے یاد دہانی کا ذریعہ بن جاتے ہیں، ان کو جب دیکھتے ہیں انسان تو ذکر کرنا شروع کر لیتا ہے۔ بعض لوگ اتباع سنت کے لیے یاد دہانی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ ان کو جب انسان دیکھتا ہے سنت یاد آ جاتی ہے اور سنت پہ انسان چلنا شروع کر لیتا ہے۔
مدینہ منورہ پہنچ کر بھی اگر کوئی درود شریف نہ پڑھے تو پھر عجیب و غریب بات ہو گی۔ مدینہ منورہ میں درود پڑھنا عجیب نہیں ہے، درود نہ پڑھنا عجیب ہے۔ مدینہ منورہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ عمل کرنا عجیب نہیں ہے، لیکن اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ نہ چلنا عجیب ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ تو اس کا مطلب یہ تو نہیں ہوا کہ مدینہ منورہ کے باہر ہم سنتوں پہ نہ چلیں اور مدینہ کے باہر ہم درود شریف نہ پڑھیں، یہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا، ہر جگہ حکم ہے: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا، کا۔
یہ ہم ہر جگہ پڑھیں گے۔ ہر جگہ پہ سنت پہ عمل کریں گے۔ ہر جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کریں گے۔ لیکن مدینہ منورہ میں بھی نہ کریں، یہ عجیب بات ہو گی۔ یہ عجیب بات ہو گی۔ اس طرح ربیع الاول کے مہینے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود نہ بھیجیں، عجیب بات ہو گی۔ ربیع الاول میں بھی سنتوں پہ نہ چلیں، عجیب بات ہو گی۔ کیوں؟ اس کی وجہ یہ کہ اس میں یاد دہانی موجود ہے۔ یاد دہانی موجود ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت یاد دہانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم رحلت یاد دہانی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت یاد دہانی ہے۔
تو اس وجہ سے ہمیں اگر اس یاد دہانی کی وجہ سے فائدہ ہو جائے اور ہم باقی دنوں میں بھی درود شریف پڑھنے والے بن جائیں، باقی دنوں میں بھی سنتوں پہ چلنے والے بن جائیں، تو یہ Accelerator ہوگا۔ یہ ہمارے لیے ایک مفید بات ہو گی۔ یہ باتیں میں کیوں کر رہا ہوں؟ یہ باتیں میں اس لیے کر رہا ہوں کہ لوگ اعتراض کریں گے کہ یہ خاص دن منانے والے ہیں یا خاص مہینہ منانے والے ہیں۔ ہاں اگر اس کو مقصد سمجھا گیا، پھر ایسا ہو گا۔ ذریعے کے طور پہ اس کو استعمال کیا، کوئی مسئلہ نہیں۔
تو ہم اس کو ذریعے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، کہ یہ ہمارے لیے واقعی یاد دہانی کا ذریعہ ہے اور اس میں ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یاد آ جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی وجہ سے یاد آ سکتے ہیں۔ لیکن جب یاد آ جائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق بھی یاد آنے چاہییں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت بھی بڑھنی چاہیے۔
مثال کے طور پر میں اپنے شیخ کے ساتھ کسی بھی وجہ سے مل لیتا مثلاً راولپنڈی میں گیا ہوں ایک Park میں سیر کرنے کے لیے، اچھی جگہ نہیں ہے۔ لیکن وہاں مثلاً حضرت کو لایا جاتا تفریح کے لیے کیونکہ حضرت بیمار ہوتے تھے۔ اور میں اسی وقت اس Park میں دیکھ لیتا اور میری حالت بدل جاتی تو کیا اس میں کوئی برائی کی بات تھی؟ کوئی برائی کی بات نہیں تھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ مجھے تو شیخ کے ساتھ تعلق ہے مجھے اس Park کے ساتھ تو تعلق نہیں ہے۔ تو شیخ مجھے جب بھی نظر آئیں گے تو مجھے اس کا فائدہ ہوگا۔ شیخ کی بات مجھے جب بھی کوئی بتائے گا تو مجھے اس کا فائدہ ہوگا۔
تو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ان کی بات بھی جب بھی کوئی بتائے گا تو ہمیں اس کا فائدہ ہوگا، جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آئے گا تو ہمیں فائدہ ہوگا۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق کا کوئی بھی ذریعہ سامنے آئے گا تو ہمیں اس کا فائدہ ہوگا۔ بس یہی بات ہے۔
تو اللہ کا شکر ہے الحمدللہ کہ ہمیں اپنے بزرگوں نے یہ سکھایا ہے۔ ہم صحابہ کرام کے، کہتے ہیں صحابہ کرام یہ نہیں کرتے، بھائی صحابہ کرام کو مقصد حاصل تھا۔ وہ کیا؟ وہ ہر وقت ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شیدائی تھے۔ وہ ہر وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر چلتے تھے، ان کو کیا چاہیے تھا؟ ان کو تو غفلت تھی ہی نہیں اس میں۔ تو پھر ٹھیک ہے۔ ان کو چونکہ مسئلہ نہیں تھا لہذا ان کو اس قسم کی چیزوں کی ضرورت نہیں تھی۔ بعد میں یاد کے لیے کچھ نہ کچھ ذرائع کی ضرورت پڑ گئی۔ یہی بات جیسے ہم نعت شریف سن کر ہمیں فائدہ ہو جاتا ہے، اگر کوئی صحیح نیت سے سنے تو۔ اور صحیح نیت ہو، صحیح نعت ہو، تو فائدہ ہو جاتا ہے نا۔ کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس میں انگیخت ہو جاتی ہے۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تو ساری خوبیوں کی جڑ ہے۔
یہ واقعی اگر دیکھا جائے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جو ہے وہ ہمارے لیے دونوں جہانوں کی کامیابی کا ذریعہ ہے، دونوں جہانوں کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کو اللہ تعالیٰ نے دونوں جہانوں میں کامیاب فرمایا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یاد تھے۔ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے یاد تھے۔ اپنے آپ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام کہتے تھے۔ وہ جو واقعہ ہے کہ صحابہ کرام کہیں سے آ رہے تھے ایک پوری جماعت، تو ان کے جو امیر تھے، ایک جنگل میں رات آ گئی، تو اونچی جگہ پہ کھڑے ہو کر آواز لگائی کہ ہم محمدی غلام آئے ہوئے ہیں رات ادھر گزارنا چاہتے ہیں جنگل کے جانورو یہاں سے نکل جاؤ۔ تو لوگوں نے دیکھا کہ جانور اپنے اپنے بچوں کو منہ میں لے کر باہر نکل رہے تھے۔ کون سی بات تھی؟ یہ محمد کی غلامی تھی۔ اس کا اقرار تھا اور اسی پر ہی عمل تھا۔ لہٰذا ان کی بات میں اثر تھا۔
اب بھی اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کر لیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں کو اختیار کر لیں تو کامیابی دور نہیں ہے۔
کی محمدﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جو ہے وہ ہمارے لیے سرمایۂ آخرت تو ہے ہی اور دنیا کی بھی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ ایک دفعہ صحابہ کرام کو ایک فتح مشکل ہو رہی تھی کسی جگہ کی۔ تو مشورہ کیا آپس میں کہ کون سی سنت ہم سے رہ گئی ہے جس کی وجہ سے مشکل پیش آ رہی ہے؟ اندازہ لگایا گیا کہ سنتِ مسواک جو ہے یہ ذرا اس کی کمی ہو گئی ہے۔ تو حکم ہوا امیر صاحب کا کہ سب مسواک شروع کر لیں۔ اب درختوں سے ٹہنیاں کاٹ کاٹ کے چھوٹی چھوٹی، وہ سب نے مسواک بنا لیے اور اکٹھے مسواک شروع کر لیے۔ دشمن نے جب دیکھا تو ان پہ رعب پڑ گیا کہ یہ تو ہمارے لیے دانتوں کو تیز کر رہے ہیں۔ بھاگو یہاں سے۔ بس فتح ہو گئی۔
اب ذریعہ کسی چیز کو بھی اللہ نے بنا لیا لیکن اصل تو سنت ہے۔ تو سنت پر جب بھی ہم چلنا شروع کریں گے، تو اس کا فائدہ ہوگا اور دونوں جہانوں میں ہوگا۔ دونوں جہانوں میں ہوگا۔ تو اب یہ جو باتیں میں کر رہا ہوں اگر اس کے ساتھ کسی کو اختلاف ہے تو بتائیں۔ اس میں کون سی بات ایسی ہے جو کہ قابل گرفت ہے؟ یہ ساری باتیں ہماری بالکل بزرگوں کی، قرآن و حدیث کی باتیں ہیں۔ لہٰذا اس مہینے کو ہم دعوت کا مہینہ سمجھتے ہیں۔ کس چیز کی دعوت کا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ چلنے کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرنے کا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذوق کو اپنانے کا۔ یہ مہینہ ہمارا ہمارے لیے ہے۔ اس وجہ سے الحمدللہ، جب بھی بات ہوگی تو اسی رخ کی ہوگی۔
تو اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ البتہ بالتحقیق تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں بہترین نمونہ موجود ہے۔
sample! یعنی اگر تم کچھ بننا چاہتے ہو تو نمونے موجود ہیں۔ اس کو دیکھو، اس کے مطابق کر لو اپنے آپ کو۔ اپنی نماز بھی ایسے کر لو، اپنا روزہ بھی ایسے کر لو، اپنا حج بھی ایسے کر لو، اپنی زکوٰۃ بھی ایسے کر لو، اپنے معاملات بھی ایسے کر لو، اپنی معاشرت بھی ایسے کر لو، اپنے اخلاق بھی ایسے کر لو۔ بس پھر کامیابی ہی کامیابی ہے۔
تو مزید پھر فرمایا:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ اے میرے حبیب اپنی امت سے کہہ دیں، اگر تم اللہ کے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہو، تو میری پیروی کرو، اللہ پاک تم سے محبت کرنے لگیں گے۔
سبحان اللہ۔
اللہ پاک نے فرمایا:
وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ۔ جو مومن ہوتے ہیں ان کو اللہ کے ساتھ شدید محبت ہوتی ہے۔
اور اس کا اظہار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا، اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کے ساتھ ہوتا ہے۔ جس کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیار ہے اور صحیح العقیدہ ہے، اس کو اللہ کے ساتھ بھی محبت ہے۔ اس کو اللہ کے ساتھ بھی محبت ہو گی۔ جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو محبت ہے لیکن اللہ کے ساتھ محبت نہیں، تو سمجھو کہ وہ اپنا عاشق ہے حضور کا عاشق نہیں ہے۔ یعنی کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ کسی کے ساتھ محبت ہو اور اس کی بات نہ مانتا ہو؟ ہو سکتا ہے کبھی؟ مطلب محبت کا دعویٰ تو کرے اور اگر کہا جائے کہ میرے لیے یہ چیز لے آؤ، تو کہے نہیں یہ تو بڑا مشکل کام ہے۔ یہ تو نہیں ہو سکتا۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ جھوٹی محبت ہے۔
میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں۔ یہ بعض خاندانوں میں بزرگ لوگ گزرے ہوتے ہیں نا بڑے بڑے اللہ والے گزرے ہوتے ہیں۔ اب ان کے ساتھ وہ اعمال تو نہیں رہتے جو بزرگوں کے ہوتے ہیں، لیکن وہ جو نام ہوتا ہے وہ ہوتا ہے۔ وہ اس کا نام Cash کرتے ہیں۔ Cash کرتے ہیں، میں فلاں ہوں، میں فلاں ہوں، میں فلاں ہوں۔ بھئی کیا بات ہے، تم میں وہ چیز نظر آنی چاہیے۔ جس نسبت کی بات کر رہے ہو اس نسبت کے اوپر تمہارا پہلے خود اپنا یقین ہے؟ جس چیز پر پوری زندگی آپ کے آباؤاجداد نے گزاری کیا اس پر آپ چل رہے ہیں؟ نہیں چل رہے ہیں، کم از کم اپنے آپ کو گناہ گار تو سمجھو۔ اپنے آپ کو نقصان میں تو سمجھو، اس کے لیے Improvement کے ذرائع تو تلاش کرو۔ اور نہیں، اگر تم ان کی نسبت کے جو کام ہیں اس کے قریب کیا نہیں بھٹکتے ہو بلکہ کیا -نعوذ باللہ من ذالک- ان چیزوں پر اعتراضات کرتے ہو۔ پھر کیسے محبت ہے تجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ؟ پھر تجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا دعویٰ کیسے؟ یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ساتھ مذاق ہے۔
تو یہ بات ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت تو بہت بڑی چیز ہے۔ بہت بڑی چیز ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی خبردار نہیں ہے دین کی باتوں میں۔ کوئی زیادہ خبردار نہیں ہے۔ ایک یقینی بات ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا ہے، خود۔ یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ۔ تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا، جب تک مجھے اپنے والدین سے، اپنی اولاد سے، بلکہ اپنے آپ سے زیادہ محبوب نہ سمجھے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے تو نہیں فرمایا۔ اللہ کے لیے فرمایا کیونکہ اللہ پاک کی طرف سے ایسا حکم تھا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے بات نہیں کرتے تھے، قرآن پاک اس پر گواہ ہے۔ مگر جو وحی ہوتی تھی وہی بات کر لیتے۔
تو یہ بات جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر لی کہ میری محبت آپ کے ایمان کے لیے لازم ہے ورنہ ایمان نہیں رہے گا، تو ایسی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت یہ تو لازمی ہے اور فطری ہے۔ اور یہ ہمارے دشمن ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ ہمارے دشمن ہم سے زیادہ جانتے ہیں، لہٰذا وہ اسی چیز پر لگے ہوئے ہیں ہم سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو نکالیں۔
وہ ایک Foreign country میں ہمارے ایک پاکستانی بیٹھے ہوئے تھے Cafe میں۔ تو اس نے دیکھا کہ ایک داڑھی والے آدمی بیٹھے ہوئے ہیں، تو اس نے کہا شاید مسلمان ہوں گے۔ ملاقات کی ان کے ساتھ، جی آپ مسلمان ہیں؟ اس نے کہا نہیں۔ میں نے کہا پھر آپ کیا ہیں؟ اس نے کہا میں رابی ہوں۔ یعنی یہودیوں کا جو ہوتا ہے عالم، مذہبی لوگ، میں رابی ہوں۔ انہوں نے کہا اچھا۔ تو کہتے انہوں نے خود ہی کہا، میں اسلام پر PhD کر رہا تھا، Research, PhD کر رہا تھا۔ تو پھر اس نے پوچھا کہ کیا آپ کی Conclusion ہے؟ کہتے بس وہ Conclusion تو Final ہو گیا ہے اب صرف لکھنا ہے۔ تو اس نے کہا کیا Conclusion ہے؟ کہتے میں نے بہت ساری چیزیں دیکھیں کہ مسلمانوں کو شکست کیسے دی جا سکتی ہے۔ کہتے سارے طریقے میں نے چیک کر لیے وہ ان میں سے کوئی طریقہ کامیاب نہیں ہے۔ ایک طریقہ ہی ہے اور وہ ہے کہ ان کے دلوں سے حضور ﷺ کی محبت کو نکالیں۔ بس یہی چیز ہے۔ پھر یہ ایک ٹکے کے رہنے والے نہیں ہیں۔ یہ ہماری Research ہے۔
تو بات تو صحیح ہے۔ ان لوگوں کا تو خوب۔۔۔ یہ کبھی کبھی جو شوشے چھوڑتے ہیں نا کبھی خاکوں کی صورت میں، کبھی کسی اور چیز میں۔ ایک بات یاد رکھو، یہ چیز کافروں کو بھی پتہ ہے، ہمارے دشمنوں کو پتہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی بہت بری بات یہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغض رکھنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی، گستاخی کرنا۔ اللہ جل شانہ اپنے بارے میں اتنا زیادہ وہ نہیں کرتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے، حمید ہے وہ خود بخود لائقِ حمد ہے، کوئی کچھ بھی کر دے تو اللہ تعالیٰ کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟ کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ پاک بہت... اس کی وجہ کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے، یعنی انسان اور جنات کے لیے معیار بنایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ لہٰذا اس معیار کے اوپر کوئی انگلی اٹھائے گا اور اس کے بارے میں کچھ بات کرے گا، تو پورا نظام درھم برھم ہو جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو بہت ہی زیادہ Serious۔۔۔ اس وجہ سے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئی حرکت کرتے ہیں، بہت ہی عبرتناک موت سے دوچار کر دیے جاتے ہیں۔ بہت ہی عبرتناک موت سے دوچار کیے جاتے ہیں۔
ابھی Recently آپ لوگوں نے واقعہ دیکھا ہو جس نے وہ Sweden میں خاکے بنائے تھے۔ Truck کے ساتھ اس کا Accident ہوا اور دونوں میں آگ لگ گئی اور دو Officer اس کے ساتھ تھے وہیں Sweden کے Protection والے وہ بھی جل گئے۔ عبرتناک موت سے دوچار ہو گیا۔ اور اس طرح ایک اور بھی Denmark والا تھا۔ یہ جو بشیر تھے ان کے ساتھ بھی اس طرح تھا وہ جو قادیانیوں کا خلیفہ تھا، ان کے ساتھ بھی ایسا ہی تھا۔ تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ ان کو اللہ تعالیٰ... خود غلام احمد قادیانی کے ساتھ کیا ہوا؟ تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی طرف کوئی بڑھے گا، تو وہ معمولی بات نہیں ہوتی۔
تو ہمیں ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا رشتہ آپ کے ساتھ استوار کرنا چاہیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ چلنے کا جذبہ Develop کرنا چاہیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو پورے عالم کے اندر پھیلانے کا جذبہ Develop کرنا چاہیے۔ اور پھر اس پر عمل کر کے پورے عالم کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ چلنے کا رواج دینا چاہیے۔ یہ دونوں چیزوں کو جدا نہیں کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ چلنا نہ ہو۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ چلنا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت نہ ہو۔ یہ دونوں باتیں جدا جدا نہیں، یہ ایک ہیں۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت بھی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل بھی ہو۔
اسی کے لیے ایسے حضرات کے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے، تعلق قائم کرنا چاہیے جن میں یہ چیز موجود ہو، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پہ بھی چلنے والے ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت بھی کرتے ہوں۔ جیسا ہمارے شیخ تھے مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، بالکل واضح نمونہ تھے۔ الحمدللہ، ان کے ساتھ جو بھی قریب آتا تھا تو ان کی دونوں چیزیں الحمدللہ مل جاتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی، یہ بہت ضروری ہے۔ اور اس کو پورے عالم کے اندر پھیلانا چاہیے۔
ورنہ پھر کیا ہے؟ اللہ معاف فرمائے، اگر ٹوٹ گئے نا ادھر سے، تو پھر ہماری کوئی جگہ نہیں ہے رکنے کی۔ جیسے کوئی بیسویں منزل سے گر گیا اور راستے میں کچھ نہ ہو تو کیا کرے، بس پھر آئے گا، جب زمین پہ پہنچے گا تو جو حشر ہوگا تو ہوگا۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے ہمیں اگر کوئی جدا کرنا چاہے، تو سمجھو کہ ہمارا دشمن نمبر ایک ہے۔ اور اس کے ساتھ پھر کسی قسم کا تعلق نہیں رکھنا چاہیے۔ کسی قسم کا تعلق ان کے ساتھ نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ وہ ہمارا دشمن ہے۔ جو ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا کر رہا ہو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی سے اگر ہمیں کوئی دور کر رہا ہو، تو سمجھو کہ وہ ہمارا دشمن ہے۔
اور ایسی مجلسوں کو کہتے ہیں محفلِ ناجنس، محفلوں میں نہیں جانا چاہیے۔ اس وقت چونکہ فتنوں کا دور ہے، اس وجہ سے Extra احتیاط کرنا چاہیے Extra۔ مطلب جیسے مثال کے طور پر Mines زمین میں لگے ہوں اور ہمیں نہیں پتہ ہو کہ کہاں ہیں، اس وقت کیا ہم عام انداز میں Walk کر سکتے ہیں؟ وہاں تو ضرورت کے لیے اگر جانا ہو تو جانا ہو، پھر بھی پھونک پھونک کے قدم اٹھانا پڑے گا۔ اپنے آپ کو بچانے کے لیے ہمیں کوشش کرنی پڑے گی، پتہ نہیں کون سا قدم ہمارا کہاں پڑ جائے اور پھر ہمارا حشر ہو جائے۔ تو اس وجہ سے اسی طرح فتنوں کے دور میں ہمیں تعلقات Limited کرنے ہیں، Limited تعلقات۔ ہر ایک سے نہیں ہر ایک سے نہیں، بالکل Limited تعلقات رکھنے ہیں۔ جہاں سے ہمیں خطرہ ہو کہ ہماری قلبی حالت پر اس کا اثر پڑے گا، نقصان ہوگا، اپنے آپ کو بچاؤ۔ یہ ضروری ہے۔
اور جہاں پر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ملتی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر چلنے کا نظام موجود ہو، وہیں پر اگر ہمیں اللہ تعالیٰ ہمیں پہنچائے تو وہاں پر خوب فائدہ اٹھانا چاہیے۔ یہ دیکھو نا آج کل ہم یہ درود شریف کی مجالس... یہ کیا وجہ ہے؟ یہ صحیح بات عرض کرتا ہوں کہ یہ تو ہمارے اوپر ماتم والی بات ہے۔ ماتم والی بات یہ ہے کہ کیا ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درود شریف کو پڑھنے کے لیے کسی مجلس کی ضرورت ہے؟ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر درود تو ہر وقت پڑھنا چاہیے نا مطلب اس کے لیے مجلس کی ضرورت تو نہیں ہے؟ لیکن آج کل بغیر مجلس کے توفیق ہی نہیں ہوتی، بلکہ جن کو توفیق اب ہو رہی ہے ان مجلسوں کی برکت سے ہو رہی ہے، ان مجلسوں میں بیٹھے ہیں، تو اس کی برکت سے مزاج بنا ہے اور رخ بنا ہے، اور پھر آہستہ آہستہ انہوں نے درود شریف پڑھنا شروع کر لیا۔ اب کیا ہے؟ کہتے ہیں ان کو بند کرو۔ بھائی بند کریں تو مجھے بتائیں پھر کیا کریں؟
کیا رہے دل میں
کیا رہے دل میں اگر حب مصطفیٰ نہ رہے
یا پھر عمل میں اگر ان کی اتباع نہ رہے
صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
جن کو معراج میں بھی خیال تھا اُمت کا تو پھر
ان کو خیال کیسے قیامت میں ہمارا نہ رہے
ان کی صورت ان کے انداز اور کمالات ان کے
یاد ہو کیسے عمل میں خیال ان کا نہ رہے
جبکہ احسان کا بدلہ نہیں احسان کے سوا
کیسے انسان پھر ان کے ساتھ باوفا نہ رہے
جب کہ ثانی نہیں جمال و کمال میں ان کا دل کیسے ان کی محبت میں مبتلا نہ رہے
ایک ہی بات میں قصہ کرو اب ختم شبیؔر
نہیں انسان جو کسی حال میں ان کا نہ رہے
کیا رہے دل میں اگر حب مصطفیٰ نہ رہے
یا پھر عمل میں اگر ان کی اتباع نہ رہے