اسلام میں نظامِ زکوٰۃ: مصارف، سماجی افادیت اور تزکیۂ نفس
سیرت النبی ﷺ، جلد 5، زکوۃ، اسلام میں زکوٰۃ کے مصارف ہشت گانہ تا تزکیہ نفس، اشاعت اول: 15 اکتوبر 2020 بمطابق: 27 صفر المظفر 1442 ہجری
- قرآنِ مجید کی روشنی میں زکوٰۃ کے آٹھ مقررہ مصارف
- معاشرے کے معذور، فقیر اور نادار طبقے کی معاشی کفالت
- انسدادِ غلامی کے لیے زکوٰۃ کا عظیم الشان اور تاریخی کردار
- مسافروں کی فلاح و بہبود اور راحت رسانی کا اسلامی نظام
- اجتماعی و قومی کاموں اور دینی خدمات کے لیے مالیات کی فراہمی
- زکوٰۃ کے روحانی ثمرات: مال کی محبت کا خاتمہ، تزکیۂ نفس اور صدقہ و سود کا موازنہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
معزز خواتین و حضرات! آج جمعے کی رات ہے۔ اور جمعے کی رات ہمارے ہاں سیرت کے موضوع پر بات ہوا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے، الحمد للہ! اللہ جل شانہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ پاک کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
تو اس سلسلے میں حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ، ان کی کتاب سیرت النبی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ جس میں زکوٰۃ کے بارے میں بات چل رہی ہے۔
اسلام میں زکوٰۃ کے مصارف ہشت گانہ:
یہ آٹھوں مصارف نیکی، بھلائی اور خیر و فلاح کی ہر قسم اور ہر صنف کو محیط ہیں، فقراء اور مساکین میں وہ تمام اہل حاجت داخل ہیں جو اپنی محنت و کوشش سے اپنی روزی کمانے کی صلاحیت نہیں رکھتے جیسے بوڑھے، بیمار، اندھے، لولے، لنگڑے، مفلوج، کوڑھی، یا وہ جو محنت کر سکتے ہیں لیکن موجودہ حالت میں دین وملت کی کسی ایسی ضروری خدمت میں مصروف ہیں کہ وہ اپنی روزی کمانے کی فرصت نہیں پاتے، جیسے مبلغین، مذہبی معلمین، بالغ طالب العلم جو ﴿لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ﴾ میں اسی طرح داخل ہیں جس طرح آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک میں اصحاب صفہ داخل تھے اور وہ کم نصیب بھی داخل ہیں جو اپنی پوری محنت اور کوشش کے باوجود اپنی روزی کا سامان پیدا کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں اور فاقہ کرتے ہیں۔
﴿وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا﴾ یعنی امام کی طرف سے صدقہ کی تحصیل وصول کا کام کرنے والے بھی اس میں سے اپنے کام کی اجرت پاسکتے ہیں اور ﴿وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ﴾ (جن کی تالیف قلوب کی جائے) میں وہ لوگ داخل ہیں جن کو ابھی اسلام کی طرف مائل کرنا ہے یا جن کو اسلام پر مضبوط کرنا ہے ﴿وَفِي الرِّقَابِ﴾ (گردن کے چھڑانے میں) اس سے مقصود وہ غلام ہیں جن کی گردنیں دوسروں کے قبضہ میں ہیں اور ان کو خرید کر آزاد کرنا ہے اور وہ مقروض ہیں جو اپنا قرض آپ کسی طرح ادا نہیں کر سکتے ﴿وَالْغَارِمِينَ﴾ (تاوان اٹھانے والوں) سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جنہوں نے دوسرے لوگوں اور قبیلوں میں مصالحت کرانے کے لئے کسی مالی ضمانت کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے۔ یہ مالی ضمانت ایک قومی نظام کی حیثیت سے زکوٰۃ کے بیت المال سے ادا کی جا سکتی ہے۔ ﴿وَفِي سَبِيلِ اللّٰهِ﴾ (خدا کی راہ میں) ایک وسیع مفہوم ہے جو ہر قسم کے نیک کاموں کو شامل ہے۔ ۱؎ اور حسب ضرورت کبھی اس سے مذہبی لڑائی یا سفر حج یا اور دوسرے نیک کام مراد لئے جاسکتے ہیں اور ﴿وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ (مسافر) میں مسافروں کی ذاتی مدد کے علاوہ مسافروں کی راحت رسانی کے سامان کی تیاری مثلاً راستوں کی درستی، پلوں اور مسافر خانوں کی تعمیر بھی داخل ہو سکتی ہے۔ یہ ہیں زکوٰۃ کے وہ آٹھ مقررہ مصارف جن میں اسلام نے اس قومی ومذہبی رقم کو خرچ کرنے کی تاکید کی ہے۔
مسکینوں، فقیروں اور معذوروں کی امداد:
زکوٰۃ کا سب سے اہم مصرف یہ ہے کہ اس سے لنگڑے، لولے، اندھے، بوڑھے، کوڑھی، مفلوج اور دوسرے معذور لوگوں کی امداد کی جائے۔ نادار یتیموں بیواؤں اور ان لوگوں کی خبر گیری کی جائے جو اپنی کوشش اور جدوجہد کے باوجود روزی کا سامان نہیں کر پاتے۔ یہ زکوٰۃ کا وہ مصرف ہے جو تقریباً ہر قوم میں اور ہر مذہب میں ضروری خیال کیا گیا ہے اور ان مستحقین کی یہ قابل افسوس حالت خود کسی مزید تشریح کی محتاج نہیں۔ لیکن اسلام نے ان کے علاوہ زکوٰۃ کے چند اور ایسے مصارف مقرر کئے ہیں جن کی اہمیت کو خاص طور سے صرف اسلام ہی نے محسوس کیا ہے۔
ان میں کیا ہے؟
غلامی کا انسداد:
غلامی انسان کے قدیم تمدن کی سب سے بوجھل زنجیر تھی یہ زنجیر انسانیت کی نازک گردن سے صرف اسلام نے کاٹ کر الگ کی، غلاموں کے آزاد کرنے کے فضائل بتائے ان کے ساتھ نیکی احسان اور حسن سلوک کی تاکید کی اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ زکوٰۃ کی آمدنی کا ایک خاص حصہ اس کے لئے نامزد فرمایا کہ اس سے غلاموں کو خرید کر آزاد کیا جائے لیکن چونکہ غلاموں کو آزاد کرنے کی پوری قیمت یا اس کی آزادی کا پورا زر فدیہ ہر ایک شخص برداشت نہیں کر سکتا تھا اس لئے زکوٰۃ کی مجموعی رقم سے اجتماعی طور سے اس فرض کو ادا کرنے کی صورت تجویز کی انسانوں کے اس درماندہ طبقہ پر یہ اتنا بڑا عظیم الشان احسان کیا گیا ہے کہ جس کی نظیر دنیا کے محسنین کی فہرست میں نظر نہیں آسکتی۔
پیغمبر اسلامؐ کی شریعت نے صرف اس لئے کہ انسانوں کے اس واجب الرحم فرقہ کو اپنی کھوئی ہوئی آزادی واپس ملے، اپنی امت پر ایک دائمی رقم واجب ٹھہرا دی کہ اس کے ذریعہ سے نیکی کے اس سلسلہ کو اس وقت تک قائم رکھا جائے جب تک دنیا کے تمام غلام آزاد نہ ہو جائیں یا اس رسم کا دنیا کی تمام قوموں سے خاتمہ نہ ہوجائے۔
مسافر:
گذشتہ زمانہ میں سفر کی مشکلات اور دقتوں کو پیش نظر رکھ کر یہ بہ آسانی سمجھ میں آسکتا ہے کہ مسافروں کی امداد اور ان کے لئے سفر کے وسائل و ذرائع کی آسانی کی کتنی ضرورت تھی۔ صحرا اور بیابان جنگل اور میدان آبادی اور ویرانی ہر جگہ آنے جانے والوں کا تانتا لگا رہتا تھا اور اب تک یہ سلسلہ قائم ہے۔ یہ وہ ہیں جو اپنے اہل وعیال عزیز واقارب دوست واحباب مال و دولت سے الگ ہو کر اتفاقات اور حوادث کے سیلاب سے بہہ کر کہاں سے کہاں نکل جاتے ہیں ان کے پاس کھانے کے لئے کھانا، پینے کے لئے پانی ،سونے کے لئے بستر ، اوڑھنے کے لئے چادر نہیں ہوتی اور یہ حالت ہر انسان کو کسی نہ کسی وقت پیش آجاتی ہے۔ اس لئے ضرورت تھی کہ ان کے آرام و آسائش کا سامان کیا جائے اسی اصول پر سرائیں، کنوئیں، مسافر خانے پہلے بھی بنوائے جاتے تھے اور اب بھی بنوائے جاتے ہیں۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ اب اس اسٹیم اور بجلی کے عہد میں یہ تمام مشکلیں افسانہ کہن اور داستان پارینہ ہوگئی ہیں اب ہر جگہ اچھے سے اچھے ہوٹل ، تیز سے تیز سواریاں، بڑے سے بڑے بنک، اور آمدورفت کا سامان کرنے والی کمپنیاں قائم ہوگئی ہیں اور سفر و حضر میں کوئی فرق نہیں رہا ہے۔ مگر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ جو کچھ ہوا ہے یہ صرف دولتمندوں اور سرمایہ داروں کی راحت و آسائش کے لئے ہوا
یعنی ان کے لیے ہوا ہے۔
اور ان کے ان نئے طریقوں نے پرانے طریقوں کے پرانے آثار کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا ہے۔ آج متمدن دنیا کے بڑے سے بڑے پررونق شہروں سے لے کر معمولی دیہاتوں تک میں جہاں امیر اور دولتمند مسافروں کے لئے قدم قدم پر ہوٹل، ریستوران ، قہوہ خانے، اور آرام خانے موجود ہیں وہاں اس پورے مسیحی ملک میں حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح ایک غریب مسافر کے لئے کہیں سر رکھنے کی جگہ نہیں۔ کسی کی جیب میں جب تک کسی بنک کا نوٹ اور چیک نہیں اس کے لئے ہوٹلوں اور اقامت خانوں کے تمام دروازے بند ہیں۔ کیا یہ انسانیت کے لئے رحم ہے؟ کیا یہ بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی ہے؟ لیکن ان تمام ملکوں کے طول وعرض میں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں کے قبضہ میں آئے سراؤں، مسافرخانوں، کنوؤں اور مہمان خانوں کا وہ وسیع سلسلہ قائم ہو گیا کہ ایک غریب مسلمان سپین کے کنارہ سے چل کر کاشغر کے ایک گاؤں میں بہ آرام و آسائش پہنچ جاتا تھا اور ہندوستان کے اس سرے سے روم کے اس سرے تک ﴿اَهْلاً بِاَهْلٍ وَادٍ طَاناً بِاَوْطَانٍ﴾ کہتا ہوا بے خطر چلا جاتا تھا اور آج بھی اس نظام کی بدولت ان اسلامی ملکوں میں جو ابھی یورپ کے سرمایہ دارانہ طور وطریق سے واقف نہیں ہیں غریب مسافروں کو وہی آرام و آسائش حاصل ہے اور امراء اور دولتمندوں کے لئے کیا کہنا کہ ایک پرانے جہاں گرد سیاح بزرگ (سعدی) کے مقولہ کے مطابق:
منعم بکوہ و دشت و بیاباں غریب نیست
ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت
یعنی مطلب یہ ہے کہ جو منعم ہوتا ہے وہ کہیں پہ بھی جاتا ہے وہ غریب نہیں ہوتا، کیونکہ اس کے لیے ہر جگہ خیمے موجود ہیں، اطمینان موجود ہے۔
جماعتی کاموں کے اخراجات:
جب تک منتشر افراد ایک شیرازہ میں نہیں بندھ جاتے حقیقت میں جماعت کا وجود نہیں ہوتا۔ لیکن جماعت کے وجود کے ساتھ ہی افراد کی طرح جماعت کو بھی ضروریات پیش آتی ہیں، جماعت کے کمزوروں معذوروں اور مفلسوں کی مدد جماعت اور اس کے اصول کی حفاظت کے لئے سرفروشانہ مجاہدہ کی صورت میں اس کے اخراجات کی کفالت، جماعت کی آمدورفت اور سفر کے وسائل کی ترقی و تعمیر، جماعت کی خاطر جماعت کے مالی نقصان اٹھانے والوں اور مقروضوں کی امداد کرنا، جماعت کے ان کارکنوں کو معاوضہ دینا جو جماعت کی مذہبی علمی تعلیمی خدمات بجالائیں اور اس رقم کی فراہمی اور نظم و نسق کے فرائض انجام دیں زکوٰۃ اسی نظام جماعت کا سرمایہ دولت ہے۔
یعنی مطلب یہ ہے کہ جو جماعتی کام ہوتے ہیں ان میں کہ ان کے جو اخراجات ہیں وہ بھی اسی میں ہیں۔
زکوٰۃ کے مقاصد، فوائد اور اصلاحات:
زکوٰۃ کا اصلی اور مرکزی مقصد وہی ہے جو خود لفظ ”زکوٰۃ“ کے اندر ہے۔ زکوٰۃ کے لفظی معنی پاکی اور صفائی کے ہیں یعنی گناہ اور دوسری روحانی قلبی اور اخلاقی برائیوں سے پاک وصاف ہونا قرآن پاک میں یہ لفظ اسی معنی میں بار بار آیا ہے۔ سورہ والشمس میں ہے۔
﴿ قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴾ (شمس۔1)
مراد پایا وہ جس نے اپنے نفس کو پاک وصاف کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو میلا اور گندہ کیا۔
ایک اور سورہ میں ہے
﴿ قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ﴾ (اعلیٰ۔1)
مراد پایا وہ جو پاک و صاف ہوا۔
یہ تزکیہ اور پاکی وصفائی نبوت کی ان تین عظیم الشان خصوصیتوں میں سے ایک ہے جن کا ذکر قرآن پاک کی تین چار آیتوں میں آیا ہے۔
﴿ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ ﴾ (بقرہ و جمعہ۔1)
وہ نبی خدا کی آیتیں پڑھ کر ان کو سناتا ہے اور ان کو گناہوں سے پاک وصاف کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی باتیں سکھاتا ہے۔
تزکیۂ نفس:
ان آیتوں سے اندازہ ہوگا کہ زکوٰۃ اور تزکیہ یعنی پاکی و صفائی کی اہمیت اسلام اور شریعت محمدی میں کتنی ہے؟ یہ دل کی پاکی، روح کی صفائی اور نفس کی طہارت، مذہب کی اصل غایت اور نبوتوں کا اصل مقصد ہے۔ انسانوں کی روحانی و نفسانی بیماریوں کے بڑے حصہ کا سبب تو خدا سے خوف ورجاء اور تعلق و محبت کا نہ ہونا ہے اور اس کی اصلاح نماز سے ہوتی ہے۔ لیکن دوسرا بڑا سبب غیر اللہ کی محبت اور مال و دولت اور دیگر اسباب دنیا سے دل کا تعلق ہے۔ زکوٰۃ اسی دوسری بیماری کا علاج ہے
کیا Connection ہے جی! سبحان اللہ۔ یہ اس کتاب کا کمال ہے کہ اس میں وہ، مطلب جو باتیں یعنی ہم لوگ As it is لیتے ہیں۔ As it is مطلب یہ ہے کہ بس ہم پڑھ کے لے لیتے ہیں کہ ہاں یہ صحیح ہے۔ یہاں پر اس کی سند مل جاتی ہے، یہاں پر اس کی سمجھ مل جاتی ہے۔ یعنی یہ بڑی بات ہے۔ دیکھو کہ
زکوٰۃ اور تزکیہ یعنی پاکی اور صفائی کی اہمیت اسلام اور شریعتِ محمدی میں کتنی ہے، یہ دل کی پاکی، روح کی صفائی اور نفس کی طہارت مذہب کی اصل غایت اور نبوتوں کا اصل مقصد ہے۔ انسانوں کی روحانی اور نفسانی بیماریوں کے بڑے حصے کا سبب تو خدا سے خوف و رجاء اور تعلق و محبت کا نہ ہونا ہے۔ اس کی اصلاح نماز سے ہو جاتی ہے۔ یعنی یہ خدا سے خوف اور رجاء کا نہ ہونا، یعنی الإِيمَانُ بَيْنَ الْخَوْفِ وَالرَّجَاءِ، اور تعلق و محبت کا نہ ہونا۔ اس کی اصلاح تو نماز سے ہو جاتی ہے۔ لیکن جو دوسرا سبب ہے، غیر اللہ سے محبت۔ یعنی مال سے محبت، دولت سے محبت، دیگر اسبابِ دنیا سے محبت، یہ جو دل کا تعلق ہے۔ زکوٰۃ اس کا علاج ہے۔
غزوہ تبوک کے موقع پر جب بعض صحابہؓ سے باغ و بستان کی محبت کے سبب سے، جو ان کی دولت تھی، غزوہ میں عدم شرکت کا جرم ثابت ہوا ہے اور پھر ان کی صداقت اور سچائی کے باعث خدا نے ان کو معاف کیا ہے وہاں محمد رسول اللہ ﷺ کو خطاب کر کے قرآن پاک میں ارشاد ہے۔
﴿ خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا ﴾ (توبہ۔13)
ان کے مالوں میں سے زکوٰۃ لے کر ان کو پاک وصاف بنا۔
اس آیت سے ثابت ہوا کہ اپنے محبوب مال میں سے کچھ نہ کچھ خدا کی راہ میں دیتے رہنے سے انسانی نفس کے آئینہ کا سب سے بڑا زنگ جس کا نام "محبت مال" ہے دل سے دور ہو جاتا ہے۔ بخل کی بیماری کا اس سے علاج ہو جاتا ہے۔ مال کی حرص بھی کم ہو جاتی ہے۔ دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنے کا جذبہ ابھرتا ہے۔ شخصی خود غرضی کی بجائے جماعتی اغراض کے لئے اپنے اوپر ایثار کرنا انسان سیکھتا ہے اور یہی وہ دیواریں ہیں جن پر تہذیب نفس اور حسن خلق کی عمارت قائم اور جماعتی زندگی کا نظام ہے۔
قرآن مجید میں سود اور صدقہ میں جو حد فاصل قرار دی گئی ہے، وہ یہ ہے۔
﴿ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ ﴾ (بقرہ۔38)
خدا سود کو گھٹاتا اور صدقہ کو بڑھاتا ہے۔
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ درحقیقت سود میں نقصان اور صدقہ کے مال میں اضافہ ہوتا ہے کیوں کہ مشاہدہ بالکل برعکس ہے۔ بلکہ اخروی ثواب وگناہ اور برکت و بے برکتی کے فرق کے علاوہ اصلی مقصد اس سے یہ ہے کہ سود گو شخصی دولت میں اضافہ کرتا ہے لیکن جماعتی دولت کو برباد کر دیتا ہے جس سے پوری قوم مفلس ہو جاتی ہے اور آخر وہ شخص بھی تباہ ہو جاتا ہے اور قومی صدقہ وعطا سے قوم کے نہ کمانے والے افراد کی امداد ہو کر قومی دولت کا معتدل نظام باقی رہتا ہے اور ساری قوم خوشی اور برکت کی زندگی بسر کرتی ہے۔ اگر سود لینے والا کبھی اتفاقی مالی خطرہ میں پڑ جاتا ہے تو اس کی مدد کے لئے جماعت ایک انگلی تک نہیں ہلاتی لیکن صدقہ دینے والے کی امداد کے لئے پوری قوم کھڑی ہو جاتی ہے۔
ایک اور بات یہ ہے کہ سود خور اس قدر حریص اور طماع ہو جاتے ہیں کہ ان کو مال کی کثیر مقدار بھی کم نظر آتی ہے اور جو لوگ صدقہ اور زکوٰۃ دینے کے خوگر ہوتے ہیں وہ اس قدر مستغنی اور قانع ہو جاتے ہیں کہ ان کے لئے تھوڑا مال بھی کافی ہوتا ہے۔ سود خور اپنے مال کے اضافہ اور ترقی کی حرص میں اتنا آگے بڑھ جاتا ہے کہ جس تلوار سے دوسروں کو قتل کر کے اس کی دولت پر قبضہ کرتا ہے آخر اسی تلوار سے دوسرا اس کو قتل کر کے اس کے تمام اصل ومنافع پر بیک دفعہ قبضہ کر لیتا ہے۔ لیکن صدقہ وخیرات دینے والا جو دوسروں کی دولت ناجائز طریق سے نہیں لوٹتا بلکہ خود دوسروں کو اپنے مال سے دیتا ہے اور سلامت روی کے ساتھ اپنے کاروبار کو چلاتا ہے، اس کو کوئی دوسرا بھی نہیں لوٹتا وہ اپنے سرمایہ اور قلیل منافع کو محفوظ رکھتا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے تجارتی شہروں کی منڈیاں اور کوٹھیاں اس عبرت انگیز واقعہ کی پوری تصویر ہیں اور یہ ہر روز کا مشاہدہ ہے۔ پھر ظاہر ہے کہ استغنا اور قناعت ایسی چیز ہے جو تمام اخلاقی محاسن کا سنگ بنیاد ہے۔ بلکہ محمد رسول اللہ ﷺ نے نہایت بلیغ وحکیمانہ طریق سے یہ ارشاد فرمایا کہ:
﴿ لَيْسَ الْغِنٰى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَكِنَّ الْغِنٰى غِنَى النَّفْسِ ﴾
تونگری دولت کی کثرت کا نام نہیں ہے بلکہ مال کی بے نیازی کا نام ہے۔
اس حدیث کا ترجمہ سعدی نے ان لفظوں میں کیا ہے "تونگری بدل ست نہ بمال" دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ دولت آمدنی کی زیادتی کا نام نہیں بلکہ ضروریات کی کمی کا نام ہے لیکن یہ غیر فانی دولت حرص وطمع سے نہیں بلکہ صبر وقناعت کی بدولت حاصل ہوتی ہے۔ اس بناء پر کیا کسی کو زکوٰۃ وصدقہ کے مظہر مزکی اور مصلح اخلاق ہونے میں شبہ ہوسکتا ہے؟
سود خور کو دوسروں کو لوٹنے سے اتنی فرصت کہاں ملتی ہے کہ وہ دوسروں کی مدد کا فرض ادا کرے وہ تو ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ دوسرے مصیبتوں اور دقتوں میں پھنسیں اور وہ ان کی اس حالت سے فائدہ اٹھائے۔ لیکن جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں وہ ہمیشہ قابل ہمدردی اشخاص کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں تاکہ وہ اپنے مال ودولت سے اس کی مدد کر کے ان کے زخم دل پر مرہم رکھ سکیں۔