عبادت میں اعتدال اور استقامت: احادیثِ نبوی ﷺ اور سائنسی حقائق کی روشنی میں

باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، درس نمبر: 206، اشاعتِ اول: 14 فروری، 2023 بمطابق 22 رجب، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. عبادت میں اعتدال اور طاقت کے مطابق عمل کرنا چاہیے تاکہ اس پر موت تک آسانی کے ساتھ ہمیشگی اختیار کی جا سکے۔
  2. اعتدال پسندی کی یہ تلقین محض تہجد کے لیے نہیں بلکہ قاعدہ کلیہ کے طور پر تمام اعمال کے لیے ہے۔
  3. حد سے زیادہ عبادت تھکاوٹ اور عمل چھوڑنے کا سبب بنتی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے کبھی نہیں تھکتا۔
  4. کسی بھی عمل کو مسلسل کرنے کے بجائے دورانِ کار مناسب آرام لینے سے انسان اسے طویل عرصے تک جاری رکھ سکتا ہے۔
  5. عبادت میں دوام کے لیے مستقبل کو ذہن میں رکھ کر آرام کرنا بذات خود ایک کارآمد عمل بن جاتا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

ایک حدیث شریف ہم پڑھ چکے تھے جس میں بساط سے باہر عبادت نہیں کرنی چاہیے، یہ مضمون تھا۔ وہ حدیث شریف یہ ہے،

ترجمہ: ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے (اس وقت) ان کے پاس ایک عورت تھی، آپ ﷺ نے پوچھا یہ کون ہے؟ عائشہؓ نے کہا یہ فلاں عورت ہے اس کی نماز کا عام چرچا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا رک جاؤ طاقت کے مطابق (عبادت) کرو، اللہ کی قسم! اللہ کو تھکاوٹ نہیں ہوتی لیکن تم تھک جاؤ گے۔ آپ ﷺ کو وہ عبادت زیادہ پسند تھی جس پر عبادت کرنے والا ہمیشگی اختیار کرے۔

عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيْقُوْنَ: طاقت کے مطابق عبادت کرو یعنی اتنی عبادت کی جائے جس کو آسانی کے ساتھ موت تک آدمی کرسکتا ہو۔ قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ احتمال ہے کہ آپ ﷺ نے جو تنبیہ فرمائی یہ صرف تہجد کے لئے تھی، اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ تمام ہی اعمال کے لئے ہو، یہی دوسرا مفہوم زیادہ واضح ہے کیونکہ آپ ﷺ نے بھی "علیکم" سے مخاطب صرف اس عورت کو نہیں کیا بلکہ قاعدہ کلیہ کے طور سے سب کو مخاطب کیا، اگرچہ صیغہ مذکر کا ہے مگر عورتیں اس میں داخل ہوتی ہیں۔

لَا يَمَلُّ اللّٰهُ حَتّٰى تَمَلُّوْا: اللہ کو تھکاوٹ نہیں ہوتی لیکن تم تھک جاؤ گے مطلب یہ ہے عبادت میں زیادتی کے سبب تم تھک کر عبادت چھوڑ بیٹھو گے اللہ ثواب دینے سے نہیں تھکتا، لہٰذا عبادت کے معاملہ میں اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہئے تاکہ ہمیشہ عبادت جاری رہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب کا سلسلہ بھی جاری رہے۔

اب میں اس کی ایک سائنسی وجہ بیان کرتا ہوں۔ fatigue ایک لفظ ہے۔ وہ انسان جب مسلسل ایک کام کرتا ہے تو اس کے جسم میں جو اس کے لیے resistance ہے وہ اس کی وجہ سے اس کو تھکاتا ہے۔ مطلب یہ ہر انسان کے ساتھ ہے۔ مثلاً میں یہ ایک انگلی ہے نا، اس طرح اس طرح کرتا ہوں۔ اب یہ بہت چھوٹا عمل ہے۔ لیکن میں اگر مسلسل کرنے لگوں تو ممکن ہے چھ گھنٹے تک کر سکوں اور پھر چھ گھنٹے کے بعد میں انگلی بھی نہ ہلا سکوں چھ مہینے تک۔ مطلب اتنا fatigue ہو جائے یعنی breaking point جس کو ہم کہتے ہیں نا کہ وہ ہو جائے۔ کہ اس کے بعد چھ مہینے تک میں اپنی انگلی کو ہلا نہ سکوں کیونکہ muscle damage ہو جائیں گے۔ تو فرماتے ہیں کہ اگر آپ اس انگلی کو ایک منٹ کریں اور پھر ایک منٹ اس کو rest دیں۔ تو یہ چھ مہینے تک کر سکتے ہیں۔ مطلب یہ fatigue نہیں آئے گا۔ چھ مہینے تک کر سکتے ہیں۔ اب دیکھیں یا چھ گھنٹے کر سکتے تھے یا چھ مہینے کر سکتے تھے، تو فائدہ کس چیز میں زیادہ ہے؟ وہ چھ مہینے، مطلب ہے کیونکہ ظاہر بات ہے چھ گھنٹے ابھی اگر آپ کر لیں۔ چھ مہینے اگر آپ ایک منٹ کریں ایک منٹ نہ کریں تو تین مہینے ہو گئے نا۔ تو کہاں تین مہینے کہاں چھ گھنٹے۔ اتنا زیادہ فرق آ گیا۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان عبادت کرے لیکن مستقبل کو ذہن میں رکھ کر۔ کہ آیا مستقبل میں، میں اس کو continue کر سکتا ہوں یا نہیں کر سکتا ہوں۔ اگر نہیں کر سکتا ہے تو اس کا مطلب ہے پھر اس کو آرام دینا چاہیے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تھا کہ میں عبادت بھی کرتا ہوں، میں سوتا بھی ہوں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی وقت پر آرام کرنا کام کے لیے۔ یعنی اگر آپ آرام نہیں کریں گے تو کام بھی نہیں ہو گا پھر۔ تو یہ بہت بڑی بات ہے کہ ہم لوگ کام کے لیے آرام کریں تو وہ آرام بھی کام بن جائے گا۔ یہ اس میں مطلب ہے۔ تو اگر ہم لوگ اس طریقے سے کریں کہ دوام کے لیے اس کو اس کو استعمال کریں آرام کو، تو پھر ماشاءاللہ یہی بات ہو جائے گی۔

تخریج حدیث: صحيح بخاري كتاب التهجد (باب مايكره من التشدد في العبادة)، و صحيح مسلم كتاب صلاة المسافرين (باب امر من نعس فى صلاته) والنسائى.

عبادت میں اعتدال اور استقامت: احادیثِ نبوی ﷺ اور سائنسی حقائق کی روشنی میں - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور