لوگوں کو اذیت سے بچانے کا عظیم اجر

بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 188، حدیث نمبر: 127، اشاعتِ اول: 25 اور 26 جنوری، 2023 بمطابق 2 اور 3 رجب، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانا اللہ تعالیٰ کو بے حد پسند ہے اور یہ عمل مغفرت اور جنت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ لوگوں کو راحت پہنچانا اور انہیں ہر قسم کی ایذا سے بچانا دین کا بنیادی حصہ ہے۔ اس کے برعکس لوگوں کو تکلیف دینا، راستے پر چیزیں پھینکنا، گندگی کرنا یا ایسی رکاوٹیں کھڑی کرنا جن سے دوسروں کا راستہ بند ہو، اللہ کی ناراضگی کا باعث ہے۔ ایک بہتر معاشرت کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کو تکلیف دینے سے مکمل اجتناب کریں اور اپنی طرف سے لوگوں کے لیے راحت کا سامان پیدا کریں۔

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین، اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

درخت کاٹنے پر آدمی کو جنت مل گئی۔

الحدیث الحادی عشر۔ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: "لقد رأيت رجلا يتقلب في الجنة في شجرة قطعها من ظهر الطريق كانت تؤذي المسلمين"۔ وفي رواية: "مر رجل بغصن شجرة على ظهر الطريق، فقال: والله لأنحين هذا عن المسلمين لا يؤذيهم، فأدخل الجنة"۔ وفي رواية لهما: "بينما يمشي بطريق وجد غصن شوك على الطريق فأخره، فشكر الله له فغفر له"۔

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے ایک آدمی کو جنت میں ٹہلتے ہوئے دیکھا، اس لیے کہ اس نے راستے سے ایک درخت کو کاٹ ڈالا تھا جو مسلمانوں کو تکلیف دیا کرتا تھا۔ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ایک آدمی راستے سے، راستے پر سے ایک درخت کی شاخ لے کر گزرا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس کو مسلمانوں سے دور رکھوں گا تاکہ انہیں تکلیف نہ پہنچائے، پس وہ جنت میں داخل کیا گیا۔ بخاری مسلم کی روایت میں ہے کہ ایک بار ایک آدمی رستہ سے گزر رہا تھا، اس نے راستہ پر، راستہ پر کانٹوں والی شاخ کو پایا، اس نے اس کو راستے سے ہٹا دیا، اللہ نے اس کی قدردانی فرمائی اور اس کو معاف کر دیا۔

تشریح: فقطعها من ظهر الطريق، اس درخت کو اس نے کاٹ دیا کہ راستے میں تھا، لوگوں کو تکلیف اور نقصان سے بچانا یہ اللہ کو بہت پسند ہے۔ اس کی مثال دی جا رہی ہے کہ ایک آدمی نے راستے کے درخت کو کاٹ دیا جس سے لوگوں کو تکلیف ہو رہی تھی، یہ عمل اللہ کو اتنا پسند آیا کہ اس عمل پر اس کی مغفرت ہو گئی۔ بعض علماء فرماتے ہیں مراد صرف درخت نہیں، مراد ہر وہ چیز جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو، مثلاً گندگی ہو یا کانٹا ہو یا کوئی مردار ہو، غرض کوئی بھی ایسی چیز جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہو، اس کو ہٹانے پر یہ فضیلت حاصل ہو جائے گی۔ اس کے برعکس لوگوں کو تکلیف دینا، راستے پر چیزیں پھینکنا، گندگی کرنا، یہ اللہ کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے۔

ہمارے معاشرے کے لیے بہت رہنما اصول ہیں، اگر ہم اپنی معاشرت بہتر کرنا چاہتے ہیں تو لوگوں کو تکلیف دینے سے اپنے آپ کو بچائیں۔ اور لوگوں کو راحت پہنچانے کا سامان ہم اپنی طرف سے کریں تو یہ بہت فائدے کی بات ہے۔ عموماً آج کل لوگ مثلاً مسجد بنانے کو تو دین سمجھتے ہیں لیکن راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا شاید اسے دین نہیں سمجھتے۔ اس طرح جیسے ہم گاڑی پارک کرتے ہیں تو کسی کے گھر کے سامنے پارک کرنا یا کسی کی دکان کے سامنے پارک کرنا یا راستے میں اس، اس طریقے سے کھڑا کرنا کہ دوسری گاڑیوں کو راستہ نہ ملے، یہ ایذا میں آتے ہیں، لوگوں کو تکلیف دینے میں آتے ہیں۔ اور اگر ہم کسی کو، مثلاً موٹر سائیکل کھڑی ہے اور اس کے ساتھ گاڑی نہیں گزر سکتی، کوئی آکر اس موٹر سائیکل کو سائیڈ پہ کر دے تو یہ ہو سکتا ہے کہ اس کو اس پر اللہ تعالیٰ جنت نصیب فرمائے۔

تو ہمیں ایسی کوششیں کرنی چاہییں، اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے، گناہوں سے بچائے اور اچھے کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔