احکامِ شریعت کی حکمت اور حالات کے مطابق رخصت

باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، درس نمبر: 205، اشاعتِ اول: 13 فروری، 2023 بمطابق 21 رجب، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا۔
  2. مجبوری کے وقت شریعت کی دی گئی گنجائش پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
  3. اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام احکامات کی بنیاد حکمت پر رکھی ہے۔
  4. احکامات کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے، ان پر من وعن عمل کرنا بہت اہم ہے۔
  5. احکاماتِ الٰہی کی منشا اور ان پر عمل کا درست طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طریقے سے معلوم ہوتا ہے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿یُرِیْدُ اللّٰهُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ﴾ (البقرۃ: 185)

ترجمہ: ارشاد خداوندی ہے: ”خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا۔“

تشریح: آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے پہلے سے روزہ کا ذکر چل رہا ہے تو فرمایا گیا کہ روزے میں کوئی مریض ہوجائے یا مسافر ہوجائے تو اب بعد میں اس کی قضاء کرسکتا ہے یا فدیہ دے دے۔ شریعت نے آسانی کردی، یہ نہیں کہ ہر حال میں ہی روزہ رکھو جب کہ شریعت نے آسانیاں کردیں کہ اگر مجبوری ہو تو اس وقت نہ رکھو۔ جیسے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ دو مرتبہ رمضان میں جنگ پر گئے، پہلی مرتبہ جنگ بدر اور آخری مرتبہ فتح مکہ، ان دونوں موقعوں پر ہم نے روزے چھوڑے، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن ارشاد فرمایا:

اِنَّهُ یَوْمُ قِتَالٍ فَاَفْطِرُوْا ترجمہ: ”آج جنگ کا دن ہے روزہ افطار کرلو۔“

دوسری روایت میں آتا ہے:

اِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ فَافْطِرُوْا هُوَ اَقْوٰى لَكُمْ ترجمہ: ”یعنی تمہیں دشمن سے مقابلہ درپیش ہے روزے چھوڑ دو تاکہ تمہیں لڑنے کی قوت حاصل ہو۔“

تو اس سے پتہ چلا کہ جس وقت کوئی اور چیز اہم ایسی پیش آئے جس میں پھر یہ مشکل ہو جاتا ہے تو پھر اس وقت اس گنجائش پر عمل کرنا چاہیے بلکہ یہ بہتر ہوتا ہے۔ تو اللہ جل شانہ نے تمام کام جتنے کاموں کا آپ کو حکم دیا ہے اس میں حکمت کو بنیاد بنایا ہے یعنی حکمت اس میں رکھی ہے۔ تو اس حکمت کے مطابق جو بھی حکم دیا ہے اس تک بعض دفعہ ہم پہنچ جاتے ہیں، بعض دفعہ ہم نہیں پہنچ سکتے۔ تو چاہے ہم پہنچیں یا نہ پہنچیں اس پر من وعن عمل کرنا یہ بہت ہی اہم بات ہے اور ظاہر ہے اس پر ہمیں پتہ چلے گا اس کا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے طریقے سے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اللہ تعالی کے اس حکم سے کیا منشا ہے اللہ پاک کا اور کس طرح اس کو کرنا چاہیے۔

تو اللہ پاک ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرما دے۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّآ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَآ إِنَّكَ أَنتَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ۔ سبحان ربك رب العزت عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين۔

احکامِ شریعت کی حکمت اور حالات کے مطابق رخصت - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور