سلوک و جذب کی حقیقت اور کاملین کی پہچان
اشاعتِ اول: 28 فروری، 2018 بمطابق 11 جمادی الثانی 1439 ہجری دفتر اول، مکتوب: 272، حصہ دوم
- حضرت مجدد الف ثانیؒ کا مقام اور مکتوباتِ ربانی کی اہمیت
- راہِ طریقت میں سلوک اور جذب (وہبی و کسبی) کی حقیقت
- کامل شیخ اور مبتدی کی علامات اور کیفیات کا فرق
- اعمال میں اخلاصِ نیت کی اہمیت (عالم، سخی اور شہید کا واقعہ) *انبیاءِ کرام کا ایمانِ بالغیب اور صوفیاء کا ایمانِ شہودی
- خالق اور مخلوق کی طرف توجہ کا توازن اور کاملین کا طرزِ عمل
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین۔ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
آج بدھ کا دن ہے، بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ الله علیہ، ان کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ یقیناً یہ درس بہت ہی نورانی اور بہت ہی زیادہ مفاہیم کو صاف کرنے والا ہوتا ہے۔ اور حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا جو مقام ہے، وہ اصل میں مجدد تو ہیں ہی۔ اور مجدد جو ہوتا ہے وہ سو سال کے بعد تشریف لاتے ہیں اور بہت سارے جو اشکالات ہوتے ہیں دین میں، جو لوگوں کے سامنے آ چکے ہوتے ہیں، عملی طور پر مشکلات ہوتی ہیں، ان کو دور فرماتے ہیں، ان کا حل بتاتے ہیں۔
اور اسی وجہ سے جن کی مجدد کے ساتھ مناسبت ہوتی ہے تو وہ ہشاش بشاش رہتے ہیں اور دین پر بہت ہی زیادہ بسط کے ساتھ عمل کرنا ان کو نصیب ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کو ابہام نہیں ہوتا، مشکلات جو جو صاف ہوتی ہیں، چیزیں سمجھ میں آ رہی ہوتی ہیں۔ کیونکہ مناسبت ایک ایسی چیز ہے جو چیزوں کو واضح کرتی ہے، ان کے جو علوم کا انتقال ہے براہ راست ہوتا ہے، اس میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔ اور جب مناسبت نہیں ہوتی تو پھر اشکالات بھی ہوتے ہیں، مسائل بھی ہوتے ہیں۔ اگر چیز سمجھ میں آ بھی جاتی ہے تو کچھ ذرا تھوڑا سا یعنی اس میں مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
اور حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا جو مقام ہے وہ تو ہزار سال والے مجدد ہیں۔ تو لہٰذا جو آئندہ جو ہزار سال چل رہے ہیں، ان میں جو بھی مجدد تشریف لائیں گے، تو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کا رنگ لیے ہوئے ہوں گے۔ مطلب ظاہر ہے ان کے ساتھ ان کو وہ ہو گی۔ لہٰذا یہ سلسلہ تو چلتا رہے گا اور باقی اپنا اپنا جو مجدد ہو گا وقت کا، ان کا جو اثر ہے وہ ضرور ہو گا۔ تو اس وجہ سے ہمیں ان مکتوبات شریف سے بہت کچھ مل رہا ہوتا ہے۔ اور اکثر میں اپنے ساتھیوں سے عرض کرتا ہوں، خدا کے بندو ذرا جاگ جاؤ۔ یہ سونے والی باتیں نہیں ہیں۔ اس میں جاگ جاؤ تاکہ وہ فیض جو اس سلسلے کی طرف متوجہ ہے اللہ جل شانہ کا، ان بزرگوں کی برکت سے، اس سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ چیزیں آج کل کافی نایاب ہیں۔ یعنی کمیاب ہیں، بہت زیادہ یعنی اس کے بارے میں وہ چیز نہیں ہے جو کہ اس کے ساتھ ہونی چاہیے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اگر ہمارے سلسلے پہ کرم فرمایا ہے تو ہماری طرف سے قدردانی ہونی چاہیے۔ آپ حضرات کو علم ہو گا، بہت ساری باتیں ہو چکی ہیں، جو سامنے آ رہی تھیں، جن کا حل سامنے نہیں نہیں آ رہا تھا، ان کتابوں کی برکت سے وہ ساری چیزیں کلیئر ہو گئی ہیں کافی حد تک۔ اور میں تو اتنا حیران ہوتا ہوں، کتنی موٹی موٹی باتیں نظر نہیں آ رہی تھیں، موٹی موٹی باتیں۔ اتنی موٹی باتیں میں آپ کو کیا بتاؤں؟ بنیادی چیز۔ جیسے مطلب ظاہر ہے Medicine جو ہے وہ دو چیزوں کا مجموعہ ہے، Medicine اور Surgery، MBBS جس کو ہم کہتے ہیں۔ تو اب کوئی Medicine کر لے Surgery نہ کرے اور پھر اپنے آپ کو MBBS کہے، اور یا Surgery کر لے Medicine نہ کرے اور پھر اپنے آپ کو MBBS کہے تو جائز ہو گا؟ ممکن ہے؟ نہیں ہو گا، کوئی بھی نہیں مانے گا۔ لیکن یہاں سلوک اور جذب دونوں کی چیزیں ہیں، دونوں چیزیں ہیں۔ مطلب سلوک اور جذب، یہ دونوں، جذبِ کسبی اور سلوک، سلوک بھی کسبی ہے۔ یہ بات بھی بتا دوں سلوک وہبی نہیں ہوتا، سلوک کسبی ہوتا ہے۔ اور جذبِ کسبی بھی کسبی ہوتا ہے۔ اور فیصلے کسبی پہ ہوتے ہیں۔ یعنی اختیاری چیزوں پہ ہوتے ہیں۔ یعنی انسان کی جو ترقی ہوتی ہے وہ کسبی پہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ ہم سے یہی چاہتا ہے کہ ہم لوگ محنت کریں، کوشش کر لیں اور محنت سے ان چیزوں کو حاصل کر لیں، پھر اپنی طرف سے عطا کے طور پر جتنا عطا فرما دیں، وہ پھر اس کا کام ہے۔ لیکن جو ہم سے چاہتے ہیں وہ یہی چاہتے ہیں۔ تو اس وجہ سے جذبِ کسبی کا ایک مقصد ہے۔ وہ ذریعہ ہے، وہ ایک چیز کا اور وہ چیز کیا ہے کہ سلوک طے کیا جائے۔ وہ خود مستقل طور پر مقصود نہیں ہے۔ جذبِ کسبی جو ہے مستقل طور پر مقصود نہیں ہے۔ یہ صرف ذریعہ ہے، مقصود کو حاصل کرنے کا۔ جیسے FSC کرنا ہے آپ نے Medical کے لیے، داخلہ ہونے کے لیے، Pre-requisite ہے۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ جذب جو ہے، یہ ذریعہ ہے، مقصود کو حاصل کرنے کا۔ اس کو جو مقصود بنائے گا تو یہ پھر طریقت کی بدعات میں آ جائے گا۔ طریقت کی بدعات میں، اگر اس کو کوئی مقصود بنائے گا۔ یہ ذریعہ ہے بس، ذریعے کے طور پہ لو۔ تو یہ تو بدعت والی بات ہو جائے گی نا۔ لیکن اگر سرے سے سلوک ہی مٹا دیا جائے، یعنی سلوک کو touch ہی نہ کیا جائے، تو پھر کیا ہو گا؟ پھر تو محرومی ہے۔ پھر محرومی ہے۔ اور محرومی میں نہیں کہہ رہا، حضرت فرماتے ہیں۔ اتنا واضح طور پر فرماتے ہیں، جس میں درمیان میں کوئی اور بات ہو نہیں سکتی۔ بالکل واضح طور، یہاں تک مثال دی ہے خانہ کعبہ کی کہ کوئی خانہ کعبہ جا رہا ہے اور خانہ کعبہ ہے کہ راستے میں کسی جگہ کو خانہ کعبہ جیسے دیکھا تو وہیں پر بیٹھ گیا۔ تو یہ فرمایا علماً بھی محروم ہے، عملاً بھی محروم ہے۔ کیونکہ اس کو خانہ کعبہ کا پتہ ہی نہیں کہ خانہ کعبہ کدھر ہے اور پہنچا بھی نہیں۔ ایک شخص ہے جس کو خانہ کعبہ کا پتہ ہے کہ خانہ کعبہ کیا ہے لیکن گیا نہیں، یعنی اپنی جگہ سے ہلا نہیں، تو یہ عملاً محروم ہے، علماً نہیں محروم، علماً تو اس کو پتہ ہے نا کہ کیا ہے۔ خانہ کعبہ کیا ہے۔ اور جو چلا، پہنچا بھی نہیں ہے، لیکن اس کو خانہ کعبہ کا پتہ ہے اور روانہ بھی ہوا، لیکن پہنچا نہیں ہے، تو یہ راستے میں ہے۔ محروم نہیں ہے، راستے میں ہے، پہنچ جائے گا ان شاء اللہ۔ اور چوتھا پہنچ گیا تو یہ کامل ہے۔ یہ واصل ہے۔
تو اب یہ جو باتیں ہیں، اس سے حضرت نے کیا نتائج نکالے؟ حضرت نے یہ نتیجہ نکالا، کہ چونکہ جذبِ کسبی جو ہے، جس کو حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے ضرورتاً آگے کر دیا۔ پہلے ہوتا تھا جتنے بھی سلاسل تھے، اس میں سلوک پہلے تھا، اور جذب وہبی ہو جاتا تھا، وہبی طور پہ جذب ہو جاتا تھا، کیونکہ مقصود تو ہمارے سلوک سے پورا مل جاتا ہے، تو اب وہ سلوک پہلے ہوتا تھا، لوگوں میں طلب تھی، جانتے تھے کہ سلوک طے کرنا ہے۔ لوگ باقاعدہ مشائخ کی تلاش میں جایا کرتے تھے، قافلوں کی صورت میں جاتے تھے۔ عموماً آپ حضرات اگر دیکھیں تو سوانح میں آپ کو یہ ملے گا، کہ اتنے عرصے میں انہوں نے جو علومِ مروجہ ہیں ان سے فراغت حاصل کر لی اور پھر اس کے بعد کسی شیخ کامل کی تلاش میں چل پڑے۔ یہ بالکل آپ کو تقریباً اپنے بزرگوں کے سوانح میں ملے گا۔ تو یہ بالکل ایک لازمی چیز لوگوں نے اس کو سمجھا ہوا تھا، اس میں کوئی ایسی غلط فہمی والی بات نہیں تھی۔
لیکن چونکہ وقت کے ساتھ ساتھ مشکلات آتی ہیں، اور لوگوں کی سمجھ میں کمی آتی ہے، تو سلوک کی مشکلات کو دیکھ کر لوگ اس سے غافل ہو رہے تھے۔ نتیجتاً خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ نے ایسے لوگوں کے لیے، ایسے لوگوں کے لیے۔۔۔یہ میں ایسے پہ زور دے رہا ہوں، ایسے لوگوں کے لیے انہوں نے جذب کو پہلے کر دیا، کیونکہ جذب محرک ہے۔ جذب کو پہلے کر دیا کسبی طور پر، تاکہ لوگ سلوک طے کر سکیں، پہلے کر دیا۔ اب پہلے ہو گیا تو ظاہر ہے مطلب پھر اس کے بعد سلوک تو طے کرنا ہے کیونکہ وہ اسی مقصد کے لیے پہلے کر دیا ہے۔ تو فرمایا کہ یہ جو شخص جس نے جذب کسی طریقے سے بھی حاصل کیا، کسی طریقے سے بھی، حاصل کیا ،کسی طریقے پہ بھی میں زور دے رہا ہوں۔ کسی طریقے پہ بھی اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل ہر چیز کے اندر گڑبڑ ہے، مسئلہ ہے۔ کسی طریقے پہ اس لیے کہ چاہے قادری طریقے سے کر لیا، چاہے سہروردی طریقے سے کر لیا، چاہے چشتی طریقے سے کر لیا، چاہے ویسے کر لیا، کسی بزرگ کی صحبت میں بیٹھ کے کر لیا۔ چاہے بزرگوں کے قصے سن سن کے حاصل کر لیا، یہ بھی ہوتا ہے۔ وہ بھی صحبت کے قائم مقام ہوتے ہیں۔ جذب حاصل کر لیا۔ اب وہ جو جذب حاصل کر لیا، شاعری کے ذریعے سے بھی کر لیتے ہیں بعض دفعہ۔ تو جذب حاصل کر لیا۔
اب وہ جو جذب حاصل کر لیا، اب اس کو سلوک کے لیے استعمال کرنا چاہیے، کہ سلوک طے کرے، اپنا کام کرے، جس مقصد کے لیے ہے۔ فرمایا اگر کسی نے ایسا نہیں کیا، اگر کسی نے ایسا نہیں کیا اور تھا اتنا ہوشیار کہ اپنے جذب کو کنٹرول کر سکا، اور اس سے کام لے سکا۔ مثلاً پیر بن گیا، اور لوگوں کی تربیت بھی کرنے لگا۔ ایسا ہوتا ہے؛ کیونکہ اس میں بزرگی شروع ہو جاتی ہے، کر لیا۔
اب جب کر لیا تو توجہ کی قوت ان کی بڑی ہوتی ہے، مجذوبوں کی۔ توجہ کی قوت عام لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ کاملین سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ کیونکہ کاملین اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی طرف اتنی توجہ نہیں کر سکتے۔ تو کاملین سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ تو اب توجہ کی قوت ان میں ہوتی ہے زیادہ اور ان کے کام ایسے ہوتے ہیں جذبی کام ہوتے ہیں، تو ان جذبی کاموں کی وجہ سے عوام میں بھی ان کی پذیرائی زیادہ ہوتی ہے۔ بقول حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے، ہری بھری فصل آنکھوں کو اچھی لگتی ہے، لیکن اگر اس کو کاٹا جائے تو سوائے جانور کے چارے کے کچھ کام نہ آئے۔ لیکن اصل کام تو فصل کا وہ ہوتا ہے جب وہ پکی ہوتی ہے، پکی فصل۔ تو جو پکی فصل ہے وہ آنکھوں کو بھلی نہیں لگتی، لیکن کام کی وہی چیز ہوتی ہے۔ تو جو کامل ہوتا ہے وہ لوگوں کی نظروں میں بالکل مبتدی کی طرح ہوتا ہے۔ یعنی کامل بھی رو رہا ہوتا ہے، مبتدی بھی رو رہا ہوتا ہے۔ متوسط ہنس رہا ہوتا ہے، وہ ہنس رہا ہوتا ہے، جذب ہوتا ہے نا، وہ ہنس رہا ہوتا ہے۔
آپ حیران ہوں گے ہمارے Germany میں ایک شخص، لڑکا تھا، وہ Fail ہو گیا subject میں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ حضرت کیا ہوا آپ کے، آپ نے امتحان دیا تھا؟ فرمایا، الحمد للہ میں fail ہو گیا۔ میں نے کہا یہ تو سنت کے خلاف ہے۔ اس نے کہا کیا؟ میں نے کہا اس وقت تو إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ پڑھنا چاہیے۔ اب وہ میرے ساتھ بحث کرنے لگا۔ تو باقی ساتھیوں نے ان کو سمجھا دیا کہ بس شیخ صحیح کہہ رہا ہے، آپ مان جائیں، مان جائیں۔ ٹھیک ہے، اچھی بات ہے آپ کا جذبہ اچھا ہے، لیکن اس وقت إِنَّا لِلّٰهِ، یہ قرآن پاک میں ہے نا، اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ۔ تو اس وقت تو یہی ہے کہ آپ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ پڑھ لیں۔
تو اب عوام تو ان چیزوں سے متاثر ہوتے ہیں زیادہ، کہ بیٹا فوت ہو گیا اور یہ ہنس رہا ہے، بس یہ اللہ کی مرضی ہے جی کیا بات ہے جی۔ اور جو کامل ہوتا ہے اس کی آنکھوں سے آنسو آ رہے ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کسی نے کہا نا کہ یا رسول اللہ آپ، آپ بھی؟ فرمایا: ہاں یہ تو اللہ کی رحمت ہے۔
اب جو کامل ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے رو رہا ہوتا ہے۔ یعنی وہ اس حال کا حق ادا کر رہا ہوتا ہے۔ تو وہ رو رہا ہوتا ہے کہ اللہ پاک اس پر خوش ہوتے ہیں کہ میں اپنے آپ کی عاجزی ظاہر کروں۔ اور جو مبتدی ہوتا ہے وہ تکلیف سے رو رہا ہوتا ہے۔ تو رونا تو دونوں کا ظاہر ہے نا۔ لہٰذا لوگوں کو دونوں ایک جیسے نظر آئیں گے، حالانکہ دونوں ایک جیسے تو نہیں ہوں گے۔ ایک لِلّٰہ رو رہے ہیں، ایک لِلنَّفْسِ رو رہے ہیں۔ دونوں میں بہت زیادہ زمین آسمان کا فرق ہے۔
تو عوام میں بھی پذیرائی ان کی زیادہ ہوتی ہے۔ توجہ کی قوت بھی ان کی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ حضرت نے لکھا ہے، مطلب ظاہر ہے میں تو صرف تشریح کر رہا ہوں۔ تو پھر فرمایا کہ ایسے لوگ نہ خود پہنچے ہیں، نہ دوسروں کو پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ خود پہنچے، نہ دوسروں کو پہنچا سکتے ہیں۔ چاہیے کہ اپنی تکمیل کسی منتہی مرجع سے کروا لیں۔ نہیں تو راستے کا ڈاکو نہ بنیں۔ کسی کو بیعت نہ کریں۔ بلکہ ایسے جو طالبین ہیں ان کو جو اہل ہیں اس کے ان تک پہنچائیں۔ زیادہ سے زیادہ شیخِ تعلیم بن سکتے ہیں۔ شیخِ تعلیم سے مراد یہ ہے کہ تعلیم کر سکتے ہیں، سمجھا سکتے ہیں۔ تو اب یہ جو باتیں ہیں یہ بہت اہم باتیں ہیں۔
اب اس وقت ایسی بھگدڑ مچی ہوئی تھی کہ 35 کے 35 اسباق cover ہو گئے اور درمیان میں سلوک پتہ ہی نہیں! سلوک بھی کچھ ہوتا ہے؟ بلکہ پہلے تو ہم اس کو عملی نقصان سمجھتے تھے، عملی، کہ چلو عملی نقصان ہے۔ اب Theoretical والی باتیں بھی آ گئیں، کتابوں میں باتیں آ گئیں۔ میرے پاس text پڑا ہوا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ایک دل کی اصلاح کا طریقہ ہے اور ایک نفس کی اصلاح کا طریقہ ہے، دونوں میں سے جس طریقے سے بھی کر لو۔ اب بتاؤ؟ اب تو بات ہی ظاہر ہو گئی۔ چاہے نفس کی اصلاح کرا دو چاہے دل کی اصلاح کرا دو۔ حالانکہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ جو نقشبندی ہیں، فرماتے ہیں تین کی اصلاح ہونی چاہیے، تین کی اصلاح نہ ہو تو کسی ایک کی بھی نہیں ہو گی۔ تین کی نہیں ہو گی تو کسی ایک کی بھی نہیں ہو گی۔ نفس کی، قلب کی، عقل کی۔ اور یہ خود نہیں فرمایا، کہتے میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں، یہ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ سے مجھ تک پہنچی ہے یہ بات۔ الطاف القدس میں، آپ حضرات نے سنا ہو گا۔ اس طرح میں آپ کو کیا بتاؤں یہ ساری باتیں اب واضح ہو رہی ہیں۔ تو اللہ کا شکر ہے الحمد للہ، مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی جو برکات ہیں وہ سامنے آ رہی ہیں۔
اہلِ حق قیامت تک موجود ہوں گے۔ یہ صاف بات ہے اس مطلب یہ ختم نہیں ہوں گے، اہلِ حق قیامت تک موجود ہوں گے۔ تو جو اہلِ حق ہوں گے ان کو اللہ تعالیٰ حق پر رکھیں گے۔ اگر کہیں بگاڑ پیدا ہو گا تو اس کے بناؤ کا راستہ بھی اللہ پاک بنائے گا۔ یہ اللہ پاک کی سنت ہے، اللہ پاک کی سنت ہے یعنی کہ کرتا ہے وہ۔ لیکن یہ الگ بات ہے کہ اگر اس بناؤ کے ساتھ کوئی، کسی کا نہیں بناؤ آیا، تو ظاہر ہے وہ بیچارہ محروم ہو جائے گا۔ جو اللہ پاک نے، اب یہ اللہ جل شانہ نے اس وقت یہ آشکارہ فرمائیں یہ چیزیں، پہلے بھی ہو سکتی تھیں، پہلے بھی ہو سکتی تھیں، لیکن حکمت ہے، حکمت ہے اللہ کی، اللہ پاک کی ہر چیز میں حکمت ہوتی ہے۔ تو اس وجہ سے میں عرض کروں گا کہ ہمیں اس کو بہت زیادہ توجہ کے ساتھ سننا چاہیے اور اس سے استفادہ کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
مکتوب : 272
میر سید محب اللہ مانک پوری کی طرف صادر فرمایا۔ ایمان بالغیب اور ایمانِ شہودی کے بیان میں اور ان میں سے ہر ایک کے اصحاب کے بیان میں جو ایمان بالغیب کو ایمانِ شہادت پر فضیلت دیتے ہیں، اور توحیدِ شہودی و توحیدِ وجودی کے بیان میں، اور اس بیان میں کہ ”فنا“ کے حاصل ہونے میں توحیدِ شہودی در کار ہے، توحیدِ وجودی در کار نہیں، اور اس بیان میں کہ اول شخص جس نے توحیدِ وجودی کا اظہار کیا اور اس کو صراحت سے بیان کیا وہ "صاحبِ فتوحاتِ مکیہ" ہیں، اگرچہ گزشتہ مشائخ کی عبارات بھی توحید و اتحاد کی خبر دیتی ہیں لیکن وہ توحیدِ شہودی پر محمول ہیں، اور اس کے مناسب بیان میں۔
یہاں پر بھی ایک بات میں اکثر کرتا ہوں کہ حضرت فرماتے ہیں، حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، کہ میں کشف کی نظر سے جب دیکھتا ہوں تو حضرت شیخ اکبر رحمۃ اللہ علیہ کو بڑے اونچے مقامات میں دیکھتا ہوں، بڑے اونچے مقامات میں لیکن نظریاتی طور پر اتنا سخت رد کیا ہے اس کا کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ تو یہ مقام کی بات نہیں ہے، یہ کام کی بات ہے۔ کام کو لے لو پہلے، پہلے کام کو لے لو۔ اس وقت کے لیے وہی طریقہ ٹھیک تھا۔ اب جب دور آ گیا تو بدل گیا۔ اس وقت وہ اشکالات نہیں تھے، اب ہیں۔ اب ہیں اب اگر اس کو ٹھیک نہیں کیا جائے گا تو نقصان ہو گا۔ یہ وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ اس کو بھی ذرا اچھی طرح غور کرنا چاہیے۔
حمد و صلوۃ کے بعد سیادت پناہ برادر عزیز میر محب اللہ کو واضح ہو کہ واجب الوجود تعالیٰ کی ذات پاک اور اس کی تمام صفات کے ساتھ غیب پر ایمان لانا انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات اور ان کے اصحاب اور وہ اولیاء جو بتمام و کمال رجوع رکھتے ہیں ان کا حصہ ہے، اور ان کی نسبت اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی سی ہے، اگرچہ یہ قلیل ہیں بلکہ اقلّ ہیں، اور وہ علماء اور عامہ مومنین کا حصہ ہے اور ایمانِ شہودی عامہ صوفیہ کے نصیب ہے، خواہ وہ اربابِ عزلت (گوشہ نشین) ہوں یا اربابِ عشرت (لوگوں کے ساتھ رہنے والے) کیونکہ اربابِ عشرت خواہ کتنے ہی مرجوع (رجوع کرنے والے) ہوں لیکن انہوں نے کامل طور پر رجوع نہیں کیا ہے، لہذا ان کا باطن اسی طرح فوق کی طرف نگراں ہے یعنی ظاہر میں وہ مخلوق کے ساتھ ہیں اور باطن میں حق جل سلطانہٗ کے ساتھ، لہذا ہر وقت ایمانِ شہودی ان کی شان ہے۔ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات چونکہ پورے طور پر مرجوع ہیں لہذا وہ ظاہر اور باطن میں مخلوق کو حق جل و علا کی طرف دعوت دینے میں متوجہ ہیں اس لئے ایمان بالغیب ان کے شایان شان ہے۔
یہ حصہ پہلے بھی اس پہ بات ہوئی تھی پچھلی دفعہ۔ لیکن چونکہ یہ چیزیں آپس میں ملی ہوتی ہیں لہٰذا اگر پہلے ایک چیز سامنے نہ ہو تو دوسری چیز سمجھ میں نہیں نہیں آتی، لہٰذا دوبارہ میں نے عرض کر لیا۔ اللہ جل شانہ نے انبیاء کرام کو چنا ہوتا ہے۔ اور ان کی ساخت ہی ایسی بنائی ہوتی ہے کہ وہ کام تو کرتے ہیں مخلوق میں لیکن رجوع ان کا اللہ کی طرف ہوتا ہے، ٹھیک ہے؟ ان کا نظم ہی ایسے ہوتا ہے۔ یعنی آپ اندازہ کریں موسیٰ علیہ السلام نبوت ابھی نہیں ملی، نبوت ابھی نہیں ملی، مخلوق کی خدمت کی۔ اور جیسے فارغ ہو گئے تو کیا کہا؟ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ یعنی اس میں بالکل اللہ کی طرف متوجہ ہیں کہ، میں آپ کو کیا بتاؤں، یہ چیز اتنی مشکل ہے سمجھانا کہ میں آپ کو عرض نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اس کی Diffusion بہت زیادہ ہے، Diffusion یہ آپس میں چیزیں ملی ہوئی ہیں۔ جیسے خودداری اور تکبر آپس میں ملا ہوا ہے۔ اس طریقے سے مصلحت اور بزدلی آپس میں ملی ہوئی ہے۔ اب ایک بڑی اونچی چیز ہوتی ہے، ایک بہت خراب چیز ہوتی ہے، لیکن ظاہر ہے مطلب ہے کہ اس کے درمیان Line draw کرنا تو بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اب یہ جو بات ہے کہ جو رفاہی کام ہے، رفاہی کام، آپ رفاہی کام کر رہے ہیں، إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ قیمت اس کی لگتی ہے اس کی نیت کے مطابق۔ اب نیت اس وقت کیا ہے؟ وہ اللہ کے لیے ہے یا مخلوق کے لیے ہے؟ مخلوق کے اندر کام کرنا آسان تو نہیں ہے نا؟ مخلوق کے لیے ہے یا خالق کے لیے ہے؟ یہ چیزیں جو ہیں یہ ہر چیز اس ہوتی ہے۔ یہاں تو اس کا فیصلہ ہی نہیں ہو سکتا۔ فیصلے تو اللہ پاک کرے گا۔ ہمیں تو حسنِ ظن کا حکم ہے، لہٰذا ہم ہر شخص جو کام کر رہا ہے ہم کہیں گے یہ اللہ کے لیے کر رہا ہے۔ ہمیں کوئی اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے۔ لیکن اس کا اپنا معاملہ تو اللہ کے ساتھ ہو گا نا۔ وہ تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب سے دے گا، آخر جو تین لوگ پہلے جہنم میں جائیں گے وہ کون ہیں؟ اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ عالم، سخی اور شہید۔ یہ تینوں کام بہت اونچے کام ہیں۔ لیکن وہ ہوں گے اپنے نفس کے لیے۔ لہٰذا وہ آگ میں ڈالے جائیں گے۔ تو اب اس چیز سے بچنا کتنا مشکل ہے یعنی تھوڑا سا اندازہ کر لیں آپ اس چیز کا کہ آسان بات نہیں ہے۔ بہت مشکل ہے۔ تو اب انبیائے کرام کا تو معاملہ ایسا ہوتا ہے کہ ان کی ساخت اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہوتی ہے کہ ان کے اوپر مجاہدات جبلت کی وجہ سے آتے ہیں، اور مجاہدات ہوتے ہیں، لیکن ان کے نفس کا معاملہ تو نہیں ہوتا نا۔ نیت تو ان کی بالکل ٹھیک ہوتی ہے۔ ایمان بالغیب کامل ہوتا ہے یہاں پر حضرت نے یہ فرمایا نا ایمان بالغیب ان کا کامل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جو بھی کام کرتے ہیں، خالصتاً لِوَجْہِ اللّٰہ کرتے ہیں۔ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ کس کی ہے؟ ابراہیم علیہ السلام کی ہے۔ ہاں تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ ان کا، ان کا تو یہی ہے۔ لہٰذا وہ جو بھی کام کرتے ہیں خالصتاً لِوَجْہِ اللّٰہ کرتے ہیں۔ اور ہوتے مخلوق میں ہیں، full مخلوق میں۔ ہر چیز کے اندر مخلوق کے اندر ہوتے ہیں، لیکن کرتے سارا کچھ اللہ کے لیے کرتے ہیں۔ یہ معاملہ ان کا کامل ہوتا ہے۔ جبکہ جو ہم لوگ صوفی لوگ ہوتے ہیں، صوفیہ، وہ اس کی طرف آ رہے ہوتے ہیں، ہمارا کام اس طرف آنا ہے، یعنی ہم بھی ایسے ہو جائیں، یہ ہمارے لیے معیار ہے، Target ہے۔ لیکن جتنا جتنا ہم حاصل کر رہے ہوتے ہیں، تھوڑا تھوڑا تو ذرا، وہ ہوتا ہے نا جو، جو ابھی بنا نہیں ہوتا۔ تو اس میں یہ ہوتا ہے کہ جس وقت ہم کام کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں اپنے آپ کو سہارا دینے کے لیے اور اپنے آپ کو بچانے کے لیے کام کے دوران بھی اللہ کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے، توجہ کرنی پڑتی ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ تو مکمل مخلوق کی طرف ہماری توجہ نہیں ہو پاتی۔ مکمل ہماری مخلوق کی طرف توجہ نہیں ہو پاتی۔ تو اس طرح پھر ہم لوگ کیسے، ہو سکتے ہیں اس کی طرح؟ یعنی یہ، یہ ذرا سمجھنے کی بات ہے، آگے، ذرا بات سنو۔
اور اس فقیر نے اپنے بعض رسائل میں (اس بات کی) تحقیق کی ہے کہ با وجود رجوع کے فوق کا نگراں رہنا نقصان دہ اور انجام کار تک نہ پہنچنے کی علامت ہے۔
اب بتائیں! حضرت نے اس میں بہت بڑا علم دیا ہے۔ اور وہ علم یہ ہے، کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ نبی کی جو ولایت ہے وہ نبی کی نبوت سے افضل ہے۔ فرمایا نہیں، نبی کی نبوت افضل ہے۔ حضرت کا یہ، نبی کی نبوت افضل ہے کیونکہ وہ کام ہے جس کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ جو اس کا منصب ہے، وہ اس کے لیے ہے۔ اس کے لیے ہے۔ اور جو نبی کی ولایت ہے وہ نبوت کا ذریعہ ہے، مطلب یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے وہ ہے۔ لیکن وہ جو اصل کام ہے وہ تو یہی ہے نا ان کا۔ مخلوق میں رہ کر۔۔۔ مجھے آپ بتاؤ، تھوڑا سا، اچھی مثال آ گئی الحمد للہ۔ آپ گاڑی چلا رہے ہیں، Duty پر ہیں۔ مالک آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔ During driving مالک آپ کے ساتھ باتیں کر رہا ہے۔ آپ کو مالک کی باتوں کی طرف توجہ دینی چاہیے یا Driving کی طرف؟ کمال کا Driver کونسا ہو گا؟ ہاں یہی بات ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ جب Driving آپ کی پوری ہو جائے تو پھر آپ ان کے ساتھ پھر مکمل توجہ کر لیں۔ أَرِحْنِی بِهَا يَا بِلَالُ یہی تو ہوتا تھا نا۔ اے بلال مجھے راحت پہنچا دو اذان کے ذریعے سے۔ کیونکہ وہ وقت اس کا ہوتا تھا۔ لیکن جو مخلوق کی طرف ہو تو اس میں مخلوق کی طرف Full توجہ، کیا بات ہے جی! ایسی ایسی باتیں میں آپ کو کیا بتاؤں! کہ جو ابنِ مکتوم رضی اللہ عنہ تشریف لائے تھے، اور، مسئلہ پوچھنا چاہتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوچونکہ فکر تھی کہ یہ لوگ میں نے بڑی مشکل سے جمع کیے ہیں تو یہ تو بعد میں بھی پوچھ سکتے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہدایت آ گئی کہ کیوں آپ نے تیوری۔۔۔؟ کیونکہ طالب ہے، یہ طالب ہے۔ تو طالب کا خیال تو زیادہ رکھنا ہے۔ باقی لوگ طالب نہیں ہیں، تو جو طالب نہیں ہے، ان پہ محنت تو کرنی ہے، لیکن طالب تو آیا ہوا ہے نا آپ کی طرف، اس کا حق تو زیادہ ہے۔ اب یہ اتنی تمام چیزوں کی رعایت کرنا، یہ، بہت بڑی باتیں ہیں۔ تو یہاں پر یہ ہے کہ۔۔۔
اور کلی طور پر رجوع کرنا نہایت النہایت تک پہنچنے کی علامت ہے۔
رجوع، رجوع، اور رجوع کیا ہوتا ہے؟ وہ جو آپ نے فرمایا تھا کہ: سَيْر عَنِ اللّٰهِ بِاللّٰهِ
صوفیہ نے کمال کو "جمع بین التوجہین" یعنی دونوں توجہات کو جمع ہونے میں جانا ہے اور تشبیہ و تنزیہ کے جامع کو کاملین میں سے شمار کیا ہے۔
آں ایشانند و من چنینم یا رب
وہ تو ایسے ہیں اور میں ایسا ہوں
حضرت کا ذوق!
اور انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات جب مقامِ دعوت سے فارغ ہو جاتے ہیں اور عالمِ بقا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور رجوع کی مصلحت تکمیل کو پہنچ جاتی ہے تو وہ بڑے اشتیاق کے ساتھ الرفیق الاعلیٰ
کام کر کے،
(بلند درجے والے ساتھی) کی ندا لگا کر کلی طور پر حق جل شانہٗ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور مراتبِ قرب میں فرحاں و شاداں ہوتے ہیں۔
ھَنِیْئًا لِّأَرْبَابِ النَّعِیْمِ نَعِیْمُھَا
وَ لِلْعَاشِقِ الْمِسْکِیْنِ مَا یَتَجَرَّعُ
مبارک منعموں کو ان کی نعمت
مبارک عاشقِ مسکیں کو کلفت
فقیر کے نزدیک کمال یہ ہے کہ عروج کے وقت میں کثرت بالکلیہ طور پر نظر سے اٹھ جائے
مخلوق کی طرف توجہ نہ رہے۔ ایک کی طرف ہو۔ فنائیت میں۔ جو فنائیت ہوتی ہے نا۔
یہاں تک کہ اسماء اور صفات بھی ملحوظ نہ رہیں اور احدیتِ مجردہ کے علاوہ کچھ بھی مشاہدے میں نہ رہے،
اس وقت اس کی بات ہے۔
ثُمَّ عُوْمِلَ مَعَہٗ مَا عُوْمِلَ مَعَہٗ (پھر اس کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا جو کچھ بھی کیا جائے گا) اور رجوع کے وقت میں مکمل طور پر نظر کثرت پر پڑے
اور جب مخلوق کی طرف راجع کیے جائیں، پھر مخلوق میں ہی بس لگے رہیں، کام کریں۔
اور عام مومنین کی طرح مخلوق کے علاوہ کوئی اور امر مشاہدے میں نہ رہے،
کوئی اور، کسی اور چیز کی طرف خیال ہی نہ رہے۔ یہ بات ہے۔
اور اطاعت کی ادائیگی اور مخلوق کو حق جل و علا کی طرف دعوت دینے کے علاوہ کوئی اور کام اس سے سر زد نہ ہو،
سبحان اللہ۔
اور جب دعوت کا کام پورا کر لے اور اس فانی دنیا کو رخصت کر دے تو کلی طور پر جنابِ قدس کی طرف متوجہ ہو جائے
یہ درمیان میں مرحلہ وار بھی ہوتا ہے۔ جیسے نماز کا وقت آ گیا۔ تو نماز میں پھر مخلوق کا بالکل خیال نہیں، إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اور جس وقت مخلوق کی طرف تھا، تو پھر پوری مخلوق کی طرف متوجہ ہو۔ ٹھیک ہے نا؟ اور ساتھ ساتھ یہ کہ جس وقت آخر وقت آ جائے۔ تو پھر تو مکمل ہی اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے اخیر وقت میں کوئی بچہ لایا گیا نا ان کےخاندان کا، تو فرمایا: دور کرو، دور کرو، دور کرو، یہ اس کا وقت نہیں ہے، اس کا وقت نہیں ہے۔ یہ والی بات ہے، مطلب جس وقت، یعنی جس کو کہتے ہیں حال۔ کہتے ہیں نا کچھ لوگ ہوتے ہیں ابن الحال، اور کچھ ہوتے ہیں ابو الحال۔ ابو الحال جو ہوتے ہیں وہ حال پر غالب ہوتے ہیں۔ یعنی اس وقت جو اس کے اندر کرنا ہوتا ہے، وہ کرتے ہیں۔ ابن الحال حال کے ساتھ ہو جاتے ہیں، مطلب اس میں وہ خود اپنی بات نہیں کر سکتے۔
اور اطاعت کی ادائیگی اور مخلوق کو حق جل و علا کی طرف دعوت دینے کے علاوہ کوئی اور کام اس سے سر زد نہ ہو، اور جب دعوت کا کام پورا کر لے اور اس فانی دنیا کو رخصت کر دے تو کلی طور پر جنابِ قدس کی طرف متوجہ ہو جائے اور اپنے سامان کو غیب سے شہادت کی طرف لے جائے اور معاملے کو گوش سے آغوش میں لے آئے۔ ﴿ذٰلِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ﴾
حضرت کا بھی یہی حال تھا کہ جب حضرت کا آخری وقت آ گیا، تو وضو شکستہ کرنا چاہتے تھے کہ مطلب میں دوبارہ وضو کر لوں، لیکن وقت آ گیا۔ اور فرمایا میں وضو شکستہ نہیں کرتا، بس اللہ کی طرف اسی میں چلے گئے۔ وقت کی بات ہے، اس وقت جو حال ہے اسی کے مطابق جو حکم ہے، اس کے مطابق کرنا۔ یہ والی بات ہے، یہ کاملین کی بات ہوتی ہے۔