عبادت میں اعتدال اور اعمال پر ہمیشگی (استقامت) کی اہمیت
باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، درس نمبر: 204، اشاعتِ اول: 12 فروری، 2023 بمطابق 20 رجب، 1444 ہجری
- انسان کو عبادات میں اپنی طاقت کے مطابق اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے تاکہ وہ اس پر ہمیشہ قائم رہ سکے۔
- دین میں وہ عمل سب سے زیادہ پسندیدہ ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی اختیار کرے۔
- عبادت میں زیادتی کے سبب انسان تھک کر عمل چھوڑ بیٹھتا ہے، اس لیے استطاعت کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
- اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے نہیں تھکتا اور اس کی طرف سے فضل اور جزا کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔
- طاقت کے مطابق عمل کرنے کی یہ ہدایت صرف تہجد کے لیے نہیں بلکہ تمام اعمال کے لیے ایک قاعدہ کلیہ ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اَلصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
(142) ﴿وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَاَةٌ قَالَ: مَنْ هٰذِهِ؟ قَالَتْ: هٰذِهِ فُلَانَةُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا قَالَ: مَهْ! عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيْقُوْنَ، فَوَاللّٰهِ لَا يَمَلُّ اللّٰهُ حَتّٰى تَمَلُّوْا، وَكَانَ اَحَبُّ الدِّيْنِ اِلَيْهِ مَا دَاوَمَ صَاحِبُهُ عَلَيْهِ﴾ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)
”وَمَهْ“ كَلِمَةُ نَهْيٍ وَزَجْرٍ - وَمَعْنٰى ”لَايَمَلُّ اللّٰهُ اَيْ لَا يَقْطَعُ ثَوَابَهُ عَنْكُمْ وَجَزَاءَ اَعْمَالِكُمْ وَيُعَامِلُكُمْ مُعَامَلَةَ الْمَالِّ حَتّٰى تَمَلُّوْا فَتَتْرُكُوْا فَيَنْبَغِيْ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مَا تُطِيْقُوْنَ الدَّوَامَ عَلَيْهِ لِيَدُوْمَ ثَوَابُهُ لَكُمْ وَفَضْلُهُ عَلَيْكُمْ.
ترجمہ: ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے (اس وقت) ان کے پاس ایک عورت تھی، آپ ﷺ نے پوچھا یہ کون ہے؟ عائشہؓ نے کہا یہ فلاں عورت ہے اس کی نماز کا عام چرچا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا رک جاؤ طاقت کے مطابق (عبادت) کرو، اللہ کی قسم! اللہ کو تھکاوٹ نہیں ہوتی لیکن تم تھک جاؤ گے۔ آپ ﷺ کو وہ عبادت زیادہ پسند تھی جس پر عبادت کرنے والا ہمیشگی اختیار کرے۔
ترجمہ: ”مَهْ“ یہ نہی اور زجر کا کلمہ ہے ”لا یمل اللہ“ اس کا ثواب اور اجر ختم نہیں ہوگا اور تم سے اُکتا جانے والے کا سا معاملہ نہیں فرمائے گا کہ تم اکتا جاؤ اور عمل چھوڑ دو، اس لئے تمہارے شایانِ یہی بات ہے کہ تم وہ عمل اختیار کرو جس پر تم ہمیشگی کرسکو تاکہ اس کا ثواب اور اس کا فضل تم پر ہمیشہ رہے۔
طاقت کے مطابق عمل کرو
حاشیہ: عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيْقُوْنَ: طاقت کے مطابق عبادت کرو یعنی اتنی عبادت کی جائے جس کو آسانی کے ساتھ موت تک آدمی کرسکتا ہو۔
طاقت کے مطابق بات کی جائے، یعنی اتنی بات کی جائے جس کو آسانی کے ساتھ معتدل آدمی کر سکے۔
حاشیہ: قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ احتمال ہے کہ آپ ﷺ نے جو تنبیہ فرمائی یہ صرف تہجد کے لئے تھی، اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ تمام ہی اعمال کے لئے ہو، یہی دوسرا مفہوم زیادہ واضح ہے کیونکہ آپ ﷺ نے بھی علیکم سے مخاطب صرف اس عورت کو نہیں کیا بلکہ قاعدہ کلیہ کے طور سے سب کو مخاطب کیا، اگرچہ صیغہ مذکر کا ہے مگر عورتیں اس میں داخل ہوتی ہیں۔
حاشیہ: لَا يَمَلُّ اللّٰهُ حَتّٰى تَمَلُّوْا: اللہ کو تھکاوٹ نہیں ہوتی لیکن تم تھک جاؤ گے مطلب یہ ہے عبادت میں زیادتی کے سبب تم تھک کر عبادت چھوڑ بیٹھو گے اللہ ثواب دینے سے نہیں تھکتا، لہٰذا عبادت کے معاملہ میں اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہئے تاکہ ہمیشہ عبادت جاری رہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب کا سلسلہ بھی جاری رہے۔
حاشیہ: تخریج حدیث: صحيح بخاري كتاب التهجد (باب مايكره من التشدد في العبادة)، و صحيح مسلم كتاب صلاة المسافرين (باب امر من نعس فى صلاته) والنسائى.
تو یہ اصل میں بات یہ ہو گئی کہ اصل میں انسان کو اپنی طاقت کے مطابق معاملہ کرنا چاہیے۔ اور دوام یعنی اتنا کرنا چاہیے کہ اس پر ہمیشہ قائم رہ سکے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔