دنیا کی بے رغبتی اور اللہ کے رنگ میں رنگنے کا طریق
کتاب: پیغام محبت، درس 12، اشاعت اول: 24 ستمبر 2013 بمطابق 17 ذو القعدہ 1434 ہجری، حصہ اول
- دنیا کی محبت کا ترک اور اللہ تعالیٰ کی محبت کا حصول
- ظاہری و باطنی نظر اور نظرِ بد کا شرعی علاج
- صِبغَۃُ اللّٰہ (اللہ کے رنگ میں رنگنے) اور فنا و بقا کا تصور
- مصائب و تکالیف پر صبر اور اللہ کی رضا پر تسلیم
- اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ روزمرہ نعمتوں پر شکر گزاری
- عقل کا استعمال، نفس کی اصلاح اور اچھے برے کی پہچان
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ. أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ.
آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں طریقِ جذب کی ترجمان کتاب ”پیغامِ محبت“ کے اشعار کی تشریح کی جاتی ہے۔ مقصد اس کا یہ ہے کہ انسان کا دل اللہ کی طرف ہو جائے، دنیا سے نظر ہٹ جائے۔ چونکہ جتنی دنیا پر نظر گہری ہوگی، اور دنیا کی طلب دل میں زیادہ ہوگی، اتنی ہی مصیبتیں اور پریشانیاں دل کے سامنے آئیں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ، دنیا کی محبت ساری خطاؤں کی جڑ ہے۔ پس جیسے Power switch کوئی off کر دے تو ساری lights off ہو جاتی ہیں۔ تو اس طرح اگر دنیا کی محبت دل سے نکال دی جائے تو اس سے متعلقہ جتنی بھی مشکلات اور بیماریاں روحانی ہوں گی، وہ ساری کی ساری ختم ہو جائیں گی۔
اس وجہ سے ہمارے اکابر اللہ کی محبت کو پیدا کرنے کے لیے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ جس میں اللہ والوں کی محبت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کی صحبت اختیار کی جاتی ہے، اور ان کے کلام کو پڑھا جاتا ہے، ان کی تحریرات کو پڑھا جاتا ہے۔ تو اس سے آہستہ آہستہ دل میں اللہ پاک کی محبت آتی ہے اور دنیا کی محبت کم ہو جاتی ہے یا ختم ہو جاتی ہے۔
شاعری ایک مؤثر طریقہ کار ہے کسی بھی مفہوم کو دل میں اتارنے کے لیے۔ ویسے تو کوئی بھی اچھی بات دل پر اثر کرتی ہے، لیکن وہ اچھی بات اگر اچھی شاعری کے ساتھ ہو اور اچھی آواز کے ساتھ ہو تو پھر یہ اثر اور بڑھ جاتا ہے۔ اس وجہ سے کوشش کی جاتی ہے کہ اچھی شاعری کو پیش کیا جائے، اچھی آواز کا بھی انتظام کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن یہ ہے کہ فی الوقت اس کی تشریح کی بڑی ضرورت ہے۔ تو تشریح کے نقطہ نظر سے اس کو پیش کیا جاتا ہے، ساتھیوں کی خواہش تھی کہ باقاعدہ اس کو ایک دن دے دیا جائے۔ اس وجہ سے منگل کا دن اس کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
آج اس غزل سے شروع کیا جاتا ہے:
اک طرف ہی جائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر
وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
سر کی آنکھوں سے نظر آئے نہیں
دل کی آنکھوں سے مگر آئے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر
وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
سر کی آنکھیں، جو ہماری عام آنکھیں ہیں، ان کے دیکھنے کی range بہت محدود ہے scientifically بھی۔ لیکن جو دل کی آنکھیں ہیں ان کی range کافی زیادہ ہے۔ اگر کسی کی دل کی آنکھیں روشن ہو جائیں تو اس کو بہت کچھ نظر آ سکتا ہے۔
جو نظر اس کے ساتھ ہو نامانوس
پڑے جہاں وہ غضب ڈھائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر
وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
جس نظر میں اللہ جل شانہ کے ساتھ تعلق نہ پایا جاتا ہو، وہ نظر بہت خطرناک ہوتی ہے کیونکہ اس میں لالچ ہوتی ہے، حرص ہوتی ہے۔ نتیجتاً جس کو ہم نظرِ بد کہتے ہیں وہ بن جاتی ہے۔ ایسے لوگ جب کسی چیز کو احساسِ محرومی کے ساتھ دیکھتے ہیں تو وہ نظر لگ جاتی ہے۔ اسی لیے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اگر کسی کو کوئی چیز اچھی لگے تو فوراً ما شاء اللہ کہے۔ ما شاء اللہ کہنے کی وجہ یہ ہے، ما شاء اللہ کہنے سے انسان کی نظر دنیا سے ہٹ کر اللہ پہ آ جاتی ہے۔ اس وجہ سے اس کی وہ چیز نہیں ہوتی پھر جو نظرِ بد کی ہوتی ہے۔ تو اگر کوئی ما شاء اللہ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، اس کو اگر اپنا معمول بنا دے، بالخصوص وہ لوگ جن کی نظر لگتی ہو، ان کو تو اس کو باقاعدہ معمول بنانا چاہیے جس سے دوسرا محفوظ ہو جاتا ہے۔
تو یہ ہے کہ یہ باقاعدہ حدیث سے ثابت ہے اور قرآن سے بھی ثابت ہے: "مِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ"۔ اور یہ حدیث شریف سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نظرِ بد سے اونٹ ہنڈیا میں چلا جاتا ہے اور انسان قبر میں۔ مطلب اتنی سخت نظر بھی لگ سکتی ہے۔ عرب کے بدوؤں میں بعض لوگ واقعی اتنے تیز نظر کے ہوتے تھے کہ وہ باقاعدہ یعنی پہلے سے بتا دیتے تھے کہ اب دیکھو اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اس کو دیکھ لیتے اور بس، اونٹ گر جاتے۔
ہمارے ایک ساتھی ہیں، رشتہ دار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ گاڑیاں بہت پسند ہیں، گاڑی جو ہوتی ہیں۔ کہتے ہیں ایک دفعہ میں نماز کے لیے جا رہا تھا، تو باہر جا کے مجھے ایک گاڑی نظر آئی۔ اس کے ساتھ لوگ کھڑے تھے تو اس کو مجھے بڑی اچھی لگی۔ کہتے ہیں جب وہ، میں واپس نماز سے آ رہا تھا تو ان کے جو Tie-rod ہوتے ہیں وہ گاڑی کھڑے کھڑے وہ ٹوٹ گئے تھے۔ ظاہر ہے move بھی نہیں کر رہے تھے۔ Tie-rod ٹوٹ گئے تھے۔ تو ایسی باتیں ہوتی ہیں۔ بالخصوص ایسے لوگ جن کی نظر لگتی ہو ان کو اس چیز کا خیال رکھنا چاہیے۔
ہمارے کچھ دور کے رشتہ دار ہیں، ان کی نظر بھی بہت لگتی تھی۔ تو ہمارے ایک اور رشتہ دار کہہ رہے ہیں، جو اس علاقے کے ہیں، (لوگ ان سے بہت تنگ تھے مطلب ان کی نظر سے)۔ تو ایک دفعہ اپنی بیٹی کے ہاں گئے تھے تو وہاں ان کی ایک گائے تھی تو ان کو بڑی خوبصورت لگی۔ جیسے اس کو دیکھا تو گائے پاگل ہو گئی اور پاگل ہو کے اس پر حملہ کر دیا۔ اس کو نیچے گرا دیا اور قریب تھا کہ اس کو مار دیتی کہ لوگوں نے چھڑا لیا اس کو۔ اس کے بعد اس کی نظر لگنی بند ہو گئی۔ ظاہر ہے وہ دل میں خوف سا پیدا ہو گیا، اس وجہ سے اس نظر سے پھر دیکھ نہیں سکتے تھے تو پھر اس کے بعد اس کی نظر نہیں لگتی تھی۔
تو یہ چیزیں ہیں، مطلب انسان اس سے بچ نہیں سکتا لیکن بہرحال اس کے لیے جو طریقے ہیں، ان طریقوں کو استعمال کرنا چاہیے، وہ یہی ہے کہ ما شاء اللہ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ پڑھ لے اور دل میں بھی اس سے نظر ہٹا لے کہ بھئی یہ کیا چیز ہے، ہمیں تو اللہ چاہیے۔
جو نظر اس کے ساتھ ہو نامانوس
پڑے جہاں وہ غضب ڈھائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر
وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
اس سے مجھ کو بھی آشنا کردے
کوئی مجھ کو بھی وہ بتائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر
وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
یہ اس کے بالکل opposite ہے، پہلے شعر کا opposite ہے۔ یعنی ایسی نظر بھی ہوتی ہے جو کسی کے اوپر پڑ جائے تو اس کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ملا دیتی ہے۔ ایسے بھی ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ نظر اللہ تعالیٰ کی محبت میں ڈوبی ہوئی نظر ہوتی ہے، اور جب وہ کسی کے اوپر پڑتی ہے تو آناً فاناً وہ اللہ جل شانہ کی محبت اس میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ تو یہ بات مطلب شاعر کہہ رہا ہے۔
اس سے مجھ کو بھی آشنا کردے
کوئی مجھ کو بھی وہ بتائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر
وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
میں تو جو بھی کروں شبیرؔ یہاں
بس مری اس طرف ہی جائے نظر
کتنی اپنی کوئی چھپائے نظر
وہ ہر صورت میں اس کی پائے نظر
یعنی جو بھی انسان کرتا ہے تو ظاہر ہے نظر تو اس پر ہی پڑنی چاہیے کیونکہ وہی سب کچھ کرتا ہے۔ ہماری ہر چیز کے ساتھ اسی کا تعلق ہے۔ ماضی کے ساتھ بھی، حال کے ساتھ بھی، مستقبل کے ساتھ بھی، چھوٹے کے ساتھ بھی، بڑے کے ساتھ بھی۔ اس وجہ سے اللہ پر نظر اگر ہو تو انسان بچ سکتا ہے۔
دوسری غزل ہے:
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے مرا اپنا رنگ نہیں ہے
ترا رنگ ہی میرا رنگ ہے میری آرزو یہی ہے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے مرا اپنا رنگ نہیں ہے
صِبْغَةَ اللَّهِ، یہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں اللہ کا رنگ۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کی اپنی بھی ایک خواہش ہوتی ہے، انسان کا اپنا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے، انسان کے اپنے بھی ایک جذبات ہوتے ہیں، جس سے وہ سمجھتا ہے اچھا، برا، چھوٹا، بڑا۔ سب چیزیں وہ اپنی نظر کے ساتھ، اپنے رنگ کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ لیکن اگر کسی کا رنگ اللہ کا رنگ بن جائے، تو پھر ہر چیز کو وہ اس رنگ سے دیکھتا ہے۔ جیسے میں سرخ رنگ کی عینک کو پہن لوں تو مجھے ہر چیز سرخ لگے گی، سبز رنگ کی عینک پہن لوں تو ہر چیز سبز لگے گی۔ اسی طریقے سے جو اللہ کے رنگ میں ہوتا ہے تو اس کو ہر چیز اس طرح نظر آتی ہے جس طرح اللہ چاہتا ہے۔ یعنی اللہ جل شانہ ہی کے لیے سب کچھ کرتا ہے، اللہ ہی کے لیے سوچتا ہے۔
ترا رنگ ہے سب پہ غالب سارے رنگ ہوں جذب اس میں
گو نظر میں ہو یہ سیاہ پر یہ اصل میں ہی روشنی ہے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے مرا اپنا رنگ نہیں ہے
یہ تصوف کا ایک شعبہ ہے، اس میں انوارات کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ دل کا، روح کا، مختلف لطائف کے رنگ ہوتے ہیں۔ تو تصور ذاتِ بحت جس کو کہتے ہیں، جس کی نظر خاص اللہ پہ ہو کسی اور چیز پہ نہ ہو، تو اس کا نور سیاہ ہوتا ہے۔ تو ظاہر ہے یہ اس میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ نظر میں تو یہ سیاہ آ رہا ہے، لیکن اصل میں یہی روشن کرنے والا ہے۔ کیونکہ سارے رنگوں کو جذب کوئی چیز کر رہا ہو تو وہ سیاہ نظر آتا ہے۔ سائنس کے لحاظ سے بھی کالے رنگ کی definition ہی یہی ہے کہ وہ سارے رنگوں کو جذب کرتا ہے۔ سفید رنگ کی definition ہے کہ سارے رنگوں کو reflect کرتا ہے۔ سارے رنگوں کو reflect کرتا ہے تو سفید ہے۔ اور اگر باقی رنگوں کو جذب کر لے اور صرف ایک رنگ کو نکالے، تو وہی رنگ ہوتا ہے جس رنگ کو وہ reflect کرتا ہے، جیسے سبز یا سرخ یا جو بھی ہو۔ تو اسی طریقے سے جو سیاہ ہے وہ سب کو جذب کرتا ہے، تو اس لیے کہتے ہیں کہ اصل روشنی کی بنیاد یہی ہے۔
ترا رنگ ہے سب پہ غالب سارے رنگ ہوں جذب اس میں
گو نظر میں ہو یہ سیاہ پر، یہ اصل میں ہی روشنی ہے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے مرا اپنا رنگ نہیں ہے
مرا رنگ فانی مٹے گا ترا رنگ اس پہ چڑھے گا
یہ فنا بقا کا ہے رستہ یہی بات میں نے سنی ہے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے مرا اپنا رنگ نہیں ہے
مطلب یہ ہے کہ دیکھو آپ اس دیوار پہ اگر کوئی رنگ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اس رنگ کو ہٹائیں گے، کیونکہ اگر یہ موجود رہے گا تو وہ رنگ اس پہ نہیں چڑھے گا صحیح۔ اس لیے جو ہمارا رنگ ہے، جو فانی رنگ ہے، جو ہمارے جذبات ہیں، فانی جذبات، تو ان کو ہٹائیں گے اس کے بعد پھر بقا کا رنگ چڑھے گا۔ اس کا مطلب ہے فنا پہلے ہے بقا بعد میں ہے۔ جو لوگ پہلے بقا لانا چاہتے ہیں تو وہ ظاہر ہے غلط فہمی میں مبتلا ہیں، ہو نہیں سکتا۔
مرا رنگ فانی مٹے گا ترا رنگ اس پہ چڑھے گا
یہ فنا بقا کا ہے رستہ یہی بات میں نے سنی ہے
میں ہوں خاک، خاک کا میں ہوں، مگر کس طرف ہوں میں منسوب
میں خطا کا پتلا یقینا پر امید اس سے تو بھی ہے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے مرا اپنا رنگ نہیں ہے
ترا رنگ ہی میرا رنگ ہے میری آرزو یہی ہے
مری لاج رکھ لے خدایا کروں سلسلہ نہ میں بدنام
ترے عفو سے ہے امید اب، مجھ میں گو بہت ہی کمی ہے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے مرا اپنا رنگ نہیں ہے
میں شبیرؔ حقیر کہوں کیا میں اٹھاؤں آنکھ تو کیسے
مرے لفظ اچھے تو ہوں گے مگر حالت کتنی گری ہے
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے مرا اپنا رنگ نہیں ہے
ترا رنگ ہی میرا رنگ ہے میری آرزو یہی ہے
یہ اب تکالیف اور مصیبتیں، پریشانیاں آتی ہیں، لیکن صبر کا تقاضا ہوتا ہے، اس میں انسان صبر کرے۔ تو جس کو اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہو تو یقیناً وہ اس کو اللہ کی طرف سے سمجھ کر اس کے اوپر اس کو صبر آ جاتا ہے۔ تو اس میں اسی کا تقاضا ہے جو آنے والی غزل ہے، اس کا نام ہے:
کیا ہے
تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے
ارے ناداں محبت کا تقاضا کیا ہے
تو کہ دنیا کے تقاضوں سے خبردار ہے خوب
یہ بھی تو جان لے کہ عشق کی دنیا کیا ہے
تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے
تو جب اس کا ہے تو تیری تو کوئی چیز نہیں
سب کچھ اس کا جب، پھر سوچ کہ ترا کیا ہے
تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے
ارے ناداں محبت کا تقاضا کیا ہے
دل تو بادشاہ ہے یہ بادشاہ بھی جب اس کو ہے دیا
پھر تیرے پاس ذرا دیکھ کہ رکھا کیا ہے
تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے
ارے ناداں محبت کا تقاضا کیا ہے
یعنی جب سب کچھ اس کا ہے، جب تیرا دل بھی اس کا ہے، جب تو بھی اس کا ہے، پھر کیوں شور مچاتے ہو؟ اور یہی سبق قرآن نے دیا ہے: "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ"۔ بے شک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کے جانے والے ہیں۔ تو جب ہماری یہ حالت ہے کہ ہم اللہ کے ہیں، پھر ہم کیسے مصیبت کے بارے میں شکوہ شکایت کر سکتے ہیں؟ ہاں البتہ اللہ پاک سے مدد مانگ سکتے ہیں۔
جیسے موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے میں جو جادوگر آئے تھے، انہوں نے فرعون کے ساتھ تو بڑی پکی بات کر لی، فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ، جو کچھ کرنا ہے کر لو۔ ان سے نرم بات نہیں کی، کمزور۔ لیکن اللہ پاک سے یہ مانگا کہ اے اللہ ہمارے اوپر صبر انڈیل دے۔ کیونکہ کمزور ہیں، تو اللہ کے سامنے تو کوئی بھی پہلوان نہیں۔ تو اللہ پاک سے تو ہم کمزوری کی وجہ سے مانگیں، لیکن لوگوں کے سامنے ایسے نہیں۔
یہ تکالیف تو ہر ایک کو پیش آتی ہیں
اس پہ گر چیخ لے، تو چیخ سے ہوتا کیا ہے
تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے
ارے نادان محبت کا تقاضا کیا ہے
قدم قدم پہ نعمتوں کو کرتے ہو تم وصول
ان نعمتوں پہ کبھی شکر بھی کیا کیا ہے؟
تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے
ارے نادان محبت کا تقاضا کیا ہے
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ ہمارے شکر کا معیار یہ ہے، اگر ہمیں اچانک کوئی چیز مل جائے اس پہ تو شکر ادا کر لیتے ہیں کہ اللہ کا شکر ہے کہ یہ چیز مل گئی۔ لیکن جو روز اللہ پاک بغیر کسی مسئلے اور تکلیف کے دے رہا ہے، اس پر شکر نہیں کرتے۔ مثلاً جو تنخواہ ملتی ہے باقاعدگی کے ساتھ ہر مہینے، اس پر شکر بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ زیادہ راحت کا سبب ہے کیونکہ اس میں انسان budgeting کر سکتا ہے، انتظام کر سکتا ہے، planning کر سکتا ہے۔ جو اچانک مل گیا اس کے لیے تو انسان کچھ نہیں کر سکتا وہ تو بس وقتی طور پہ ہو جاتا ہے۔ تو اس لیے اللہ پاک کی جو نعمتیں مسلسل ہمیں مل رہی ہیں، ہماری آنکھ کام کر رہی ہے، ہمارے کان کام کر رہے ہیں، زبان کام کر رہی ہے، ہاتھ پاؤں کام کر رہے ہیں، اور ہر چیز...
ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے گزر رہے تھے، صحابہ کرام ساتھ تھے۔ ایک شخص پڑا ہوا تھا، اس کے ہاتھ بھی ٹھیک نہیں تھے، پیر بھی ٹھیک نہیں تھے، آنکھیں بھی نہیں تھیں، بات بھی نہیں کر سکتے تھے، اس طرح جیسے کہ بالکل گوشت کا ایک لوتھڑا پڑا ہو۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا صحابہ کرام سے کہ کیا اس کو بھی شکر کرنا چاہیے؟ تو صحابہ کرام حیران ہو گئے کہ یا رسول اللہ، اس میں ہم کیا کہیں گے، شکر کیسے کرے گا؟ فرمایا: شکر کرنا پڑے گا، کیونکہ پیشاب تو صحیح کر رہا ہے۔ دیکھ لو۔ جو نعمت بھی اللہ دے رہا ہے تو اس کا تو شکر کریں نا۔ اگر وہ چیز بھی چلی جائے پھر کیا ہو گا؟ پھر تو بہت زیادہ مسئلہ بڑھ جائے گا۔ تو یہ تکالیف جو ہمیں مل رہی ہیں تو ان پہ اللہ تعالیٰ اجر بھی دے رہے ہیں، ایک مسئلہ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں بہت ساری نعمتیں مل رہی ہیں۔ دوسری بات۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کرنے والے ہیں، اللہ پاک ہی سب کچھ دے رہے ہیں، لہٰذا ہم لوگ کیا وہ اس پر چیخیں گے۔
عقل سے کام لے اور نفس کو دبانا ہے شبیرؔ
پھر تو جان لے اچھا کیا برا کیا ہے
تیرا تکلیف پہ یہ شور اور غوغا کیا ہے
یعنی عقل سے انسان کام لے اور نفس کو دبائے، پھر انسان اچھے اور برے کا فرق کر سکتا ہے، ورنہ نہیں کر سکتا۔ درمیان میں نفس آ جاتا ہے تو بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو اچھی ہیں لیکن ان کو بیوقوف لوگ بری کہتے ہیں۔ اور بہت ساری چیزیں جو بری ہیں ان کو بیوقوف لوگ اچھی کہتے ہیں۔ اب یہ wheeling جو بچے کرتے ہیں موٹر سائیکل پہ، وہ اس کو اچھا کہتے ہیں، سارے لوگ ان پہ نفرین کر رہے ہوتے ہیں کہ کیا کر رہا ہے بیوقوف۔ لیکن وہ ظاہر ہے وہ کہتے ہیں، اس پر فخر کرتے ہیں باقاعدہ۔ اور فخر سے گزرتے ہیں جب کبھی کر رہے ہوتے ہیں کہ دیکھو ہمیں دیکھو ہم کتنے بڑے بیوقوف ہیں۔ تو ظاہر ہے ان کا وہ یہی ہے، سوچ یہی ہے۔ تو جب تک نفس کی اصلاح نہ ہو تو اچھے اور برے کا فرق نہیں معلوم ہو سکتا۔ اچھے برے کا فرق تب معلوم ہو سکتا ہے جب انسان کا نفس ٹھیک ہو جائے۔