عبادات میں اعتدال اور دینِ اسلام میں آسانی

باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ، درس نمبر: 203، اشاعتِ اول: 11 فروری، 2023 بمطابق 19 رجب، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. دینِ اسلام میں طاعت کے اندر میانہ روی اختیار کرنا مطلوب ہے۔
  2. لفظِ "طٰهٰ" کے معنی بعض مفسرین کے نزدیک "يَا رَجُلُ" یا "يَا حَبِيْبِيْ" ہیں، جبکہ اکثر کے نزدیک یہ متشابہات میں سے ہے۔
  3. قرآن مجید کے نزول کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ انسان عبادات کی ادائیگی میں خود کو مشقت میں ڈال لے۔
  4. تکوینی اور تشریعی احکامات کا منبع ایک ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کوئی ایسی شرعی ذمہ داری عائد نہیں کرتے جو تکوینی طور پر ناممکن ہو۔
  5. طاعت میں اتنی مشقت نہیں اٹھانی چاہیے جس کے باعث تھک کر کام ہی رک جائے۔
  6. دینِ فطرت میں آرام برائے کام کا اصول ہے اور کام کی نیت سے کیا گیا آرام بھی کام میں شامل ہو جاتا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ، اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

(14) باب فی الاقتصاد فی الطاعۃ اطاعت میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں

قَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: ﴿طٰه مَا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی﴾ (طہ: 1، 2)

ترجمہ: ارشادِ خداوندی ہے: ”طٰہ! اے محمد ﷺ، ہم نے تم پر قرآن اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔“

حاشیہ: ”طٰہ“ اس لفظ کی تفسیر میں علماء مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یا رجل، بقول ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا حبیبی، مگر اکثر مفسرین کے نزدیک یہ متشابہات میں سے ہے جس کا ترجمہ اللہ ہی جانتے ہیں۔ اور مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر وغیرہ فرماتے ہیں اس کا ترجمہ ہے یا رجل۔

حاشیہ: مَا اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی: علامہ ضحاکؒ فرماتے ہیں ابتداء نزول قرآن کے وقت صحابہ اور خود جناب رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد میں کھڑے رہتے جس سے آپ ﷺ کے قدمین مبارک پر ورم آجاتا تھا اور دوسری طرف دن میں لوگوں کی منتیں کرتے کہ وہ اسلام قبول کرلیں۔ اس آیت میں دونوں مشقتوں سے بچانے کے لئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد یہ نہیں کہ آپ مشقت میں پڑجائیں۔ اس آیت کے نزول کے بعد آپ کا معمول یہ بن گیا تھا کہ شروع رات میں آرام فرماتے اور پھر آخر شب میں بیدار ہو کر تہجد ادا فرماتے تھے۔

اصل میں یہ اسلام دین فطرت ہے۔ اور اس میں جو تکوینی احکامات ہیں۔ اور جو تشریعی احکامات ہیں۔ ان دونوں کا منبع ایک ہے۔ لہذا۔ جیسے فرماتے ہیں: "لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا"۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک کوئی شرعی ذمہ داری کسی کی ایسی نہیں لگاتے جو اس کے لیے تکوینی طور پر ممکن نہ ہو۔ یعنی کوئی شرعی ذمہ داری ایسے کسی کی نہیں لگاتے جو تکوینی طور پر کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔

مثلاً کوئی شخص ہے، کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا۔ تو اس پہ کھڑے ہو کر پڑھنا فرض نہیں ہے۔ وہ بیٹھ کے پڑھے گا۔ بیٹھ کے بھی نہیں پڑھ سکتا تو اشارے سے پڑھے گا۔ الغرض یہ ہے کہ اگر کسی کا ہاتھ نہیں تو ہاتھ کا دھونا نہیں ہے۔ پانی نہیں ہے تو تیمم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تکوینی طور پر اگر کوئی چیز نہیں ہے تو اللہ پاک پھر اس کو شرعی طور پر یعنی استعمال نہیں کرنے دیتے۔

تو یہ اللہ پاک نے فرمایا، تو اب یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ وہ کام جس میں پھر بعد میں مشقت میں پڑ کر وہ کام ہی رک جائے۔ تو ترتیب بتا دی کہ درمیان میں آرام بھی چاہیے اور کام بھی چاہیے۔ یعنی آرام برائے کام۔ ٹھیک ہے نا، آرام برائے کام۔ جب کام کی نیت سے آرام ہوگا تو آرام بھی کام میں شامل ہو جائے گا۔ ٹھیک ہے نا۔ اس میں اللہ پاک نے بڑی یعنی مطلب شفقت سے فرمایا کہ "طٰهٰ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰى" یعنی قرآن تجھ پر اس لیے نازل نہیں کیا گیا کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ۔ بلکہ تمہارا کام کیا ہے، آگے بڑھانا۔ تو آگے بڑھانے کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ کرنا ہے۔ لیکن اتنا کرنا ہے جتنا ہو سکتا ہے۔ ٹھیک ہے نا۔ یہ بات ہے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔