اسلام میں صدقے کا وسیع مفہوم
بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 202، حدیث نمبر: 141، اشاعتِ اول: 10 فروری، 2023 بمطابق 18 رجب، 1444 ہجری
- ہر مسلمان پر صدقہ ہے، جس کی بہترین صورت اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کر کے خود نفع اٹھانا اور صدقہ کرنا ہے۔
- انسان قیامت کے دن اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا، اس لیے کوئی دن معمولی صدقے سے بھی خالی نہیں جانا چاہیے۔
- استطاعت نہ ہونے پر کسی محتاج اور مصیبت زدہ کی عملی مدد کرنا یا اسے زبان سے تسلی دینا بھی صدقہ ہے۔
- امر بالمعروف کرنا ام الحسنات اور تمام انبیاء کرام کا کام ہے، جسے صدقے کا درجہ حاصل ہے۔
- صدقے کا مفہوم نہایت عام ہے، کچھ نہ کر سکنے کی صورت میں دوسروں کو اپنی برائی سے محفوظ رکھنا بھی صدقہ ہے۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
ہر مسلمان پر صدقہ کرنا لازم ہے
(141) الْخَامِسُ وَالْعِشْرُونَ: عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”عَلٰی كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ“، قَالُوْا: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَجِدْ؟ قَالَ: يَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهٗ وَيَتَصَدَّقُ، قَالُوْا: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يُعِيْنُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوْفَ، قَالُوْا: أَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ أَوِ الْخَيْرِ، قَالَ اَرَأَيْتَ إِنْ لَّمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ“ ﴿متفق عليه﴾
ترجمہ: ”حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر مسلمان پر صدقہ ہے۔ اس نے عرض کیا فرمایئے اگر اس کو کچھ دستیاب نہ ہو؟ فرمایا اپنے ہاتھوں سے کام کرے خود کو بھی فائدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے، اس نے عرض کیا، فرمایئے اگر اس میں اس کی طاقت نہ ہو؟ فرمایا محتاج مصیبت زدہ کی مدد کرے، عرض کیا فرمایئے اگر اس میں اس کی طاقت نہ ہو؟ فرمایا امر بالمعروف کرے، عرض کیا اگر نہ کر سکے فرمایا برائی سے باز رہے پس تحقیق یہ صدقہ ہے۔“
لغات: الملهوف: بمعنی غمگین جو مال کھو بیٹھا ہو یا اس کا کوئی قریب داغ فراق دے گیا ہو،
اپنے ہاتھ سے کمائے ہوئے مال سے صدقہ کرنا افضل ہے
تشریح:يَعْمَلُ بِيَدَيْهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهٗ وَيَتَصَدَّقُ: کہ اپنے ہاتھوں سے کام کرے جس سے خود بھی نفع اٹھائے اور صدقہ بھی کرے ابن بطالؒ فرماتے ہیں کہ اس میں ایک طرف اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کی ترغیب ہے تو دوسری طرف صدقہ کی بھی ترغیب معلوم ہوتی ہے۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ پہلے کے لوگ اس بات کو برا سمجھتے تھے کہ کوئی دن صدقہ سے خالی جائے خواہ کھجور بھی صدقہ میں دی جائے یا روٹی کا ٹکڑا دیا جائے ، کیونکہ آدمی قیامت کے دن اپنے صدقہ کے سایہ میں ہوگا۔
یہ ہمارے گاؤں وغیرہ میں یہ رواج تھا، اور شاید زیارت کاکا صاحب میں تو اب بھی ہو -واللہ اعلم- یا کچھ پتا نہیں ہے، اس وقت ممکن ہے نہ ہو۔ وہ یہ ہے کہ جو روٹی پکاتے تھے نا تندور کی یا اس طرح، تو ایک روٹی اس کے لیے رکھتے تھے فقیر کے لیے۔ یا اکثر یہ ہمارے مدرسوں میں، چونکہ مسجدوں میں باقاعدہ وہ نہیں ہوتے تھے انتظام، تو وہ اس کو ہم چڑھ کہتے ہیں، یعنی مطلب ہے باقاعدہ مانگتے تھے۔ وہ طالب علم جو ہوتے تھے نا، وہ گھر گھر جا کر، تو ان کے پاس برتن ہوتا تھا، تو اس میں سالن، ہر ایک اپنے سالن کا کچھ حصہ ڈالتا، اور روٹی ایک، بعض لوگ آدھی روٹی دیتے تھے، لیکن بہر حال وہ کر لیتے تھے۔ تو وہ سب جمع ہوتا تھا، تو ایک کپڑے کا وہ باندھا ہوتا تھا، اس میں روٹی رکھتے تھے، اور اس برتن میں وہ۔ ہم نے بھی کیے ہیں، مطلب ظاہر ہے چونکہ پڑھتے تھے نا، تو ہم جمع کرتے تھے۔ تو ایسا ہے کہ مطلب یہ کہ یہ طریقہ اس وقت ہوتا تھا، اور زیارت کاکا صاحب میں دربار کے لنگر کے لیے ہوتا تھا۔ درباری اس کو کہتے تھے۔ تو بعض لوگوں نے تو گھر کے باہر طاق بنائے ہوتے تھے، اس میں رکھ لیتے تھے، تو وہ درباری آ کر وہاں سے لے جاتا تھا۔ تو یہ ایک اچھا رواج تھا۔ اب یہ آہستہ آہستہ ساری چیزیں چلی جا رہی ہیں۔
تشریح: يُعِيْنُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوْفَ: ”محتاج مصیبت زدہ کی مدد کرے“ علماء فرماتے ہیں حدیث میں عام محتاج مصیبت زدہ کا ذکر ہے خواہ وہ مصیبت زدہ مظلوم ہو یا عاجز ہو اس کی مدد کی جائے خواہ عمل کے ذریعہ سے کی جائے یا زبان سے تسلی دی جائے۔
يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ أَوِ الْخَيْرِ: لفظ ”أَوْ“ یہاں پر شک کے لئے ہے راوی کو شک ہوا کہ آپ ﷺ نے ”يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوْفِ“ فرمایا ہے یا ”يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ“ فرمایا ہے۔ بہر حال ”أَمْرٌ بِالْمَعْرُوْفِ“ بغیر شک و شبہ اہم عمل ہے اہم حسنات ہے نیز تمام انبیاء علیہم السلام کا کام ہے۔
يُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ: صدقہ کا مفہوم بہت عام ہے نیکی کرنا بھی صدقہ ہے تو برائی پہنچانے سے رکے یہ بھی صدقہ ہے نہ زبان سے تکلیف دے نہ باقی اعضاء سے اسی کو فارسی میں کسی شاعر نے خوب کہا ہے ۔ مرا بغیر تو امید نیست، بد مرساں وہ اگر خیر کی امید نہیں تم سے تو مجھے بد تو نہ کرو نا، مطلب یہ والی بات ہے۔
تخریج حدیث: اخرجه صحیح بخاری کتاب الزکاۃ (باب علی کل مسلم صدقة) و کتاب الادب و صحیح مسلم کتاب الزکاة (باب بيان ان اسم الصدقة الخ) والنسائی۔
اللہ پاک ہم سب کو بہترین صدقات کرنا نصیب فرما دے، اور قبولیت بھی نصیب ہو جائے۔