ماہِ ربیع الاول کا حقیقی پیغام اور ہماری ذمہ داریاں

خصوصی بیان برائے ربیع الاول، اشاعت اول: 17 اکتوبر، 2021 بمطابق 10 ربیع الاول 1443ھ، اشاعت سوم: 16 اگست، 2026 بمطابق 2 ربیع الاول 1448 ھ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت کا اولین تقاضا کامل پیروی اور سنتوں کو اپنانا ہے۔
  2. مومن کی خوشی اور عید اللہ تعالی کو راضی کرنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پر چلنے میں ہے۔
  3. موسیقی روح کی غذا نہیں بلکہ اسے زخمی کرنے والی چیز ہے جو محض نفسانی خواہشات کو ابھارتی ہے۔
  4. نعت کے تقدس کے خلاف ہے کہ اس میں آلات یا کمپیوٹر کے ذریعے پیدا کردہ موسیقی کی آمیزش کی جائے۔
  5. قرآن پاک میں اللہ تعالی نے متعدد مقامات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم صفات بیان کر کے خود نعت پیش فرمائی ہے۔
  6. چشتی بزرگوں کے نزدیک سماع کے لیے عارفانہ کلام، عارفین کی محفل، خواتین و بچوں کی عدم موجودگی اور آلات موسیقی سے پاک ہونا شرط ہے۔
  7. دین میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بظاہر چھوٹی سی سنت پر عمل بڑی کرامت کے ظہور سے افضل ہے۔
  8. انسان کی اصل کامیابی مقامِ عبدیت میں ہے جس کی کامل عملی تصویر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہے۔
  9. دین اور سنتوں پر عمل نہ ہونے کی بنیادی وجوہات دل میں سچی محبت کا فقدان اور نفس کا بے قابو ہونا ہے۔
  10. اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے لیے ان کا کثرت سے ذکر کرنا اور مشائخ سے نفس کی اصلاح کروانا ضروری ہے۔
  11. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی نشانیاں آسمانی کتابوں کے ساتھ دیگر قدیم مذاہب کے صحائف میں بھی موجود تھیں۔
  12. تاریخ ولادت میں اختلاف اور صحابہ کرام کا عمل اس بات کی دلیل ہے کہ مروجہ عید میلاد النبی ثابت نہیں ہے۔
  13. عید میلاد النبی منانے کی رسم صدیوں بعد ایک حکمران نے اپنے سیاسی مقاصد اور بادشاہت بچانے کی غرض سے شروع کی تھی۔
  14. اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظاہری اسباب سے دور رکھا تاکہ وحی اور نبوت پر انسانی اثر کا گمان نہ رہے۔
  15. سنتوں کی پیروی کے بغیر محض دکھاوے کے لیے محافل سجانا اور نعرے لگانا سچی محبت نہیں بلکہ نفسانی خواہشات کی پیروی ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔ اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ۔ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: اَنَا رَحْمَةٌ مُّهْدَاةٌ۔

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔

معزز خواتین و حضرات! ربیع الاول کا مہینہ ہے۔ اور ربیع الاول کے مہینے میں جو واقعات ہوئے ہیں وہ میرے خیال میں سب کو معلوم ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی مہینے میں دنیا میں تشریف لائے ہیں، اسی مہینے میں اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں، اسی مہینے میں ہجرت شروع فرمائی، اسی مہینے میں ہجرت کامل ہوئی۔ اور بھی روایات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کے تعلق کی ہیں۔ تو ربیع الاول کا مہینہ جو ہے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک زمانی نسبت رکھتا ہے۔ جیسے مدینہ منورہ مکانی نسبت رکھتا ہے۔ تو مدینہ منورہ جب کوئی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یاد نہ آئیں تو یہ بڑی عجیب بات ہوگی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یاد آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے محبت کا جذبہ پیدا نہ ہو یہ بھی بڑی عجیب بات ہوتی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یاد آئیں اور درود کوئی نہ پڑھے تو یہ بھی بہت عجیب بات ہے۔ یہ ساری باتیں فطری ہیں۔ اور مومن کے لیے اس سے انکار ممکن نہیں ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کے لیے ارشاد فرمایا کہ اس وقت تک تمہارا ایمان کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ مجھے اپنے والدین سے زیادہ، اپنی اولاد سے زیادہ، بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ محبوب نہ سمجھیں۔ بلکہ ایک روایت کے مطابق جب تک اپنے آپ سے بھی زیادہ محبوب نہ سمجھیں۔ اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر نسبت کی قدر کریں۔ اور ہر نسبت سے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو سمجھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو پھیلائیں۔ یہ فطری بات ہے۔ تو اس وجہ سے ہم اس مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی کرتے ہیں اس انداز میں کہ ہمیں عمل میں آسانی ہو جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر چلنے میں۔

ایک یہودی تھا۔ تو وہ سن رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ یہ آیت نازل ہوئی:

اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۔

تو اس نے کہا کہ اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بات کسی نے عرض کی تو حضرت نے فرمایا: اس دن ہماری دو عیدیں تھیں، ایک جمعے کا دن تھا، ایک حج کا دن تھا۔ پس ہماری عید جو ہے وہ یہی ہے کہ ہم پیروی کریں۔ اور اللہ جل شانہ جس پر خوش ہے وہ ہم کام کریں، باقی عیدین کی بات ہے دو عیدیں ہیں اس کے علاوہ اور کوئی عید نہیں ہے یعنی جس کو ہم عرفی عید کہتے ہیں وہ تو دو ہیں۔ لیکن اگر کوئی چاہے کہ اللہ تعالی کو راضی کر لے تو اللہ پاک جس وقت بھی راضی ہے وہ ہماری عید ہے۔ اور اللہ پاک راضی ہوتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پر۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں پر جتنا ہم چلیں گے وہ ہماری خوشی ہے۔

اب ذرا میں یہ عرض کروں گا کہ دیکھو خوشی کی دو قسمیں بنائی گئی ہیں۔ ایک خوشی یہ، جو ہمیں دونوں جہان میں خوشیاں نصیب کرے۔ ایک خوشی تو یہ ہے۔ ایک خوشی وہ ہے جو ہمارے نفس کو خوش کر لے اور روح کو زخمی کرے۔ یہ خوشی بھی ہوتی ہے۔ مثلاً موسیقی جو ہے، اس کو لوگ روح کی غذا کہتے ہیں۔ حالانکہ روح کو زخمی کرنے والی چیز ہے۔ ہاں! نفس کی غذا ہے۔ کیونکہ نفس اس سے اثر لیتا ہے اور ہیجان اس میں آتا ہے، اور نفسانی خواہشات ابھرتی ہیں۔

میں آپ کو ایک چھوٹا سا واقعہ بتاتا ہوں جو ہمارے سامنے ہوا ہے۔ hostel میں تھے ہم۔ تو free night، ان کا ایک وہ ہے کہ مطلب students free night مناتے ہیں۔ جس میں جو انتظامیہ ہے وہ ان کے ساتھ help کرتی ہے۔ جو وہ چاہتے ہیں ان کو وہ کرنے دیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ شرافت کا ایک معیار ہوتا ہے۔ تو اس سے باہر نہیں جانے دیتے۔ لیکن یہ ہے کہ یہ بات ایک طے شدہ بات ہوتی ہے۔ تو hostel میں free night تھی۔ تو ان لوگوں نے music کا بندوبست کیا ہوا تھا، وہ music آئے تھے، وہ جو ناچنے والی تھی اور وہ گانے والے اور جو musical instruments چلانے والے، وہ سب آ گئے تھے۔ انہوں نے program شروع کیا۔ program جب شروع ہو گیا تو ایک بوڑھا آدمی، بوڑھا تو نہیں تھا لیکن ادھیڑ عمر آپ کہہ سکتے ہیں، مطلب یوں کہہ سکتے ہیں کہ بڑھاپے میں داخل ہونے والا، وہ کسی کا چچا تھا student کا، وہ آیا تھا ان کے ساتھ۔ تو وہ جو music تھا اس نے اس کو inspire کیا۔ اور وہ سیدھا بھاگا stage کی طرف۔ اور وہاں ناچنے لگا۔ اب students کے لیے تو ایک مزے کی چیز ہوتی ہے، لہذا وہ تو تالیاں بجانے لگے اور گویا کہ داد دینے لگے اس کو اور مزید مستی آ گئی۔ نتیجتاً ناچتے ناچتے کچھ سفلی حرکات بھی شروع کر لیں۔ جس پر وہ ڈوم بھی شرما گئے۔ نتیجتاً انہوں نے music بند کر لیا۔ اور پھر یہ خود ویسے ناچ رہے تھے، تو پھر لوگوں نے پکڑ کے اس کو زبردستی stage سے اتارا۔

میں نے کہا دیکھیں، موسیقی ہے نا موسیقی، یہ کہتے ہیں نفس کی غذا ہے۔ تو نفس کے اندر جو گندگی تھی وہ چھپی ہوئی تھی۔ اگر یہ موسیقی نہ ہوتی تو یہ چھپی ہوئی رہتی۔ اس کو کچھ نہیں ہونا تھا۔ اس کی شرافت بدستور جاری رہنی تھی۔ اس کے بھتیجے کی بھی عزت باقی تھی۔ لیکن جس وقت music بجنا شروع ہو گیا تو وہ گندگی باہر آ گئی۔ اور وہ ایسے باہر آئی کہ اس نے اس کی کوئی عزت باقی نہیں چھوڑی۔ اور اس کے بھتیجے کی بھی کوئی عزت نہیں رہی۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ جو کہتے ہیں کہ موسیقی روح کی غذا ہے، پتہ نہیں وہ کون سے پاگل خانے سے باہر آئے ہوئے ہیں، کہ موسیقی روح کی غذا، کہ موسیقی تو روح کو زخمی کرتی ہے۔ یہ میں کیوں کہہ رہا ہوں؟

موسیقی کے شوقین لوگ اب جو مقدس چیزیں ہیں ان کو بھی زخمی کر رہے ہیں۔ وہ نعتیں لوگ پڑھتے ہیں، اور اس میں موسیقی کو شامل کر لیتے ہیں۔ کچھ لوگ تو باقاعدہ شامل کر لیتے ہیں musical instruments کے ساتھ وہ پڑھتے ہیں۔ اور کچھ لوگ جو کرتے ہیں، وہ یوں کرتے ہیں کہ computer کے ذریعے وہ synthesize کر لیتے ہیں ان کے ساتھ musical tone۔ تو اگرچہ وہ music باہر بجی نہیں ہوتی لیکن computer کے ذریعے آج کل بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ وہ sound کو synthesize کر لیتے ہیں۔

اس پر مجھے اشکال تھا۔ کہ میں اگرچہ میں سنتا تو نہیں تھا اس کو۔ لیکن اس پر میں کچھ بات بھی نہیں کرتا تھا۔ کیونکہ بات کرنے کے لیے دلیل چاہیے ہوتی ہے۔ ویسے تو music ساتھ ہو، اس کی تو میں خود مخالفت کرتا تھا خوب، کیونکہ اس پر فتوی موجود ہے۔ لیکن باقی بات اس پر چونکہ فتوی موجود نہیں تھا تو مجھے اس پر ذرا ڈر تھا کہ میں ایک بات کروں گا تو ایسا نہ ہو کہ میری طرف سے زیادتی نہ ہو جائے۔ اخیر میں میں نے باقاعدہ ایک بہت بڑے مفتی سے پوچھا۔ انہوں نے جو دلیل دی نا وہ اتنی زبردست تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ اصل بات یہ ہے کہ موسیقی۔۔۔ اگر کوئی شخص اپنی آواز خوبصورت کر لے۔ وہ موسیقی نہیں ہے۔ اس کو تغنی کہتے ہیں۔ تو تغنی تو قرآن میں بھی ہو سکتی ہے۔ وہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مثال کے طور پر میں خوبصورت آواز سے قرآن سناؤں۔ خوبصورت آواز سے نعت پڑھوں۔ خوبصورت آواز سے کوئی حمد پڑھوں۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اس میں اگر میں کسی آلے کا سہارا لوں۔ اور اس میں اس کو میں musical صورت دوں۔ جس ذریعے سے بھی ہو لیکن وہ آلے سے ہو۔ وہ مطلب ہے کوئی بندے کا نہ ہو بلکہ آلے سے ہو۔ تو وہ music کے حکم میں آتا ہے۔ وہ music کے حکم میں آتا ہے۔

اب اس میں آلہ computer ہے۔ computer انسان تو نہیں ہے نا۔ computer بھی تو ایک instrument ہے۔ آپ بس باقاعدہ اس پر ہر قسم کا sound generate کر سکتے ہیں۔ synthesize کر سکتے ہیں۔ تو اس وجہ سے یہ چیز جو ہے نا کیا ہے؟ یہ موسیقی کے حکم میں آتی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ پھر میں نے اس پر بات کرنی شروع کر لی۔ تو آج کل یہ مسئلہ بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ کہ computer میں echo کی setting اس طرح کر لیتے ہیں کہ اس میں music generate ہو جاتا ہے۔ اور پھر یہ ہے کہ وہ musical بنایا جاتا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو محبت ہے میں نے عرض کیا نا وہ تو ہمارا لازمی حصہ ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا جذبہ ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کر لیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ چلیں۔ یہ محبت کا تقاضا ہو گا۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہمارے مشاہیر نے کی ہے۔ سبحان اللہ۔ صحابہ کرام سے نعتیں ما شاء اللہ منقول ہیں۔ تابعین سے منقول ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی نعت موجود ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی موجود ہے۔ اس طرح مطلب ہے کہ حضرت مولانا عبدالرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ کی مشہور نعتیں تھیں۔ اور اس طرح ہمارے اور بزرگان دین۔ ہمارے حضرت ما شاء اللہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ ان کی نعت۔ حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کی نعت مشہور نعت ہے۔

تو اس کا مطلب ہے نعت جو ہے یہ ایسی چیز ہے۔ جو ہمارے دل کی آواز ہے۔ ہمارے دل کے اندر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے۔ اللہ کا شکر ہے الحمد للہ۔ اب اس محبت کو اگر الفاظ کا نام دیا جائے۔ اور الفاظ کو نظم کی صورت دی جائے تو یہ نعت شریف بن جاتی ہے۔ ویسے نعت شریف کے لیے نظم کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ الفاظ میں بھی عام سادہ الفاظ میں بھی نعت ہوتی ہے۔

ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے تھے کہ ایک دفعہ میں پڑھ رہا تھا قرآن پاک۔ تو اس میں یہ آیت آئی: لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ۔ اور یہ پورا رکوع ہے۔ جس میں اللہ پاک کی بڑی صفات بیان کی گئی ہیں۔ تو کہتے ہیں فرمایا کہ قلب پہ وارد ہوا۔ کہ یہ نعت ہے قرآن میں۔ یہ قرآن میں نعت ہے۔ فرمایا کہ میں حیران ہو گیا کہ کیسے نعت ہے اس میں تو اللہ کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اس میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات نہیں بیان کی گئیں اللہ پاک کی صفات بیان کی گئی ہیں تو یہ نعت کیسے ہے؟ حمد ہو سکتی ہے۔

اس پر فرمایا دوبارہ یہ بات وارد ہوئی۔ کہ ذرا غور کرو۔ یہ کیا تم پڑھ رہے ہو۔ لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَيْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ۔ اگر یہ قرآن ہم کسی پہاڑ کے اوپر نازل کر لیتے۔ تو خشیت سے ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا سینہ ہے جس نے اس کو برداشت کیا ہوا ہے۔ تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف ہے۔ تو یہ نعت ہے۔

تو قرآن میں نعت موجود ہے: یٰسٓ ۚ وَالْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ ۙ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ۙ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۔ اب یہ جو ہے نا کیا ہے یس، طہ۔ اور بہت ساری آیات کریمہ موجود ہیں۔ وَالضُّحٰی ۙ وَالَّيْلِ اِذَا سَجٰی۔ تو یہ سب نعتیں ہیں۔ الحمد للہ قرآن پاک میں موجود ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی ایسے الفاظ فرمائے ہیں۔ اس طرح صحابہ کرام نے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے الفاظ موجود ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے موجود ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے موجود ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ کے موجود ہیں۔ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے موجود ہیں۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے میرے پاس الحمد للہ موجود ہیں۔ اللہ کا شکر ہے اللہ تعالی نے یہ مجھے نصیب فرمایا ہے۔ تو کبھی کبھی ہم اس کو پڑھ بھی لیتے ہیں۔ تو یہ بات ہے کہ یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ نعت شریف بذات خود بہت اونچا جذبہ ہے۔ اور بعض سارے بعض حضرات صرف نعت کے ذریعے سے اولیاء اللہ بن گئے ہیں۔ نعت پڑھتے پڑھتے نعت لکھتے لکھتے۔ کہ ان کی یہ چیز اتنی اللہ تعالی کو پسند آئی کہ ان کو اللہ پاک نے اپنا ولی بنا دیا۔

ہمارے حاجی محمد امین صاحب رحمۃ اللہ علیہ پشتو کے مشہور ما شاء اللہ شاعر گزرے ہیں اور بہت بڑے۔۔۔ وہ خود نعتیں پڑھتے تھے۔ اسی کے ذریعے اللہ پاک نے ان کو ترقی دی۔ مولانا عبدالرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ، ان کا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو بہت اونچی چیز ہے۔ تو ربیع الاول میں ہم نعت سنتے ہیں لیکن وہ نعت جس میں music کی آمیزش ہو، اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جیسے قرآن کو music کے ساتھ نہیں پڑھا جا سکتا۔ اس طرح نعت کو بھی music کے ساتھ نہیں پڑھا جا سکتا۔ چاہے وہ music باقاعدہ جہری music ہو یا اس طرح synthesized ہو جیسے computer کے ذریعے سے اس میں echo کے ذریعے سے introduce کیا گیا ہو یہ سب music میں آتے ہیں۔

سادہ سادہ نعتیں۔ بالکل وہی ہے جس میں اللہ اور اللہ کے نبی کی تعریف ہو بس وہ ہمارے لیے کافی ہے۔ باقی یہ جو درمیان میں ہم لوگ لیپا پوتی کر لیتے ہیں نا اپنی مرضی کی اپنے نفس کی خواہش کے مطابق اس کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کی گنجائش نہیں ہے۔ اس سے ہم بچیں۔

یہ اصل میں ذوق سلیم کی بات ہے۔ جب ذوق سلیم نہ ہو تو ان کو یہ چیزیں اچھی نظر آتی ہیں۔ اور جب ذوق سلیم ہو تو وہ اس سے allergic ہوتے ہیں۔ وہ اس کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ چشتی بزرگ تھے، نسبت چشتی تھی حضرت کی۔ اس کے باوجود جب میں حضرت سے بیعت ہوا تو پہلی چیزیں دو ملی تھیں جو حضرت کی برکت سے بغیر کسی محنت کے وہ ایک یہ تھی کہ music نہیں سن سکتا تھا۔ music سنتے ہی سر میں درد ہو جاتا تھا۔ حتیٰ کہ بسوں میں آتے جاتے music لگایا ہوتا ہے نا لوگوں نے۔ تو اس سے میرے سر میں درد ہو جاتا تھا۔ تو حضرت کو میں نے عرض کیا میں نے کہا حضرت یہ کیا کروں میں؟ بسوں میں جانا پڑتا ہے۔ انہوں نے music لگایا ہوتا ہے۔ میرے سر میں درد ہو جاتا ہے۔ حضرت نے فرمایا: يَا هَادِيُ يَا نُوْرُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَظِيْمِ پڑھ لیا کرو۔ يَا هَادِيُ يَا نُوْرُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَظِيْمِ یہ پڑھ لیا کرو۔ الحمد للہ اس کی برکت سے بچت ہو گئی۔

مقصد میرا یہ ہے کہ یہ دیکھو نا چشتی بزرگ ہیں لیکن ہمیں کس طرف لے جا رہے تھے۔ اصل میں چشتی حضرات کے ساتھ بھی لوگوں نے اپنے نفس کی خواہش کے لیے یہ چیزیں باندھ لی ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ یہ چشتی بزرگ اس طرح کرتے تھے، نہیں نہیں وہ musical نہیں تھا۔ ہمارے خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ جن کے بارے میں یہ لوگوں نے بالکل پکی کہانی بنائی ہوئی ہے کہ حضرت نے یہ قوالی ایجاد کی۔ قوالی جو ہے یہ حضرت نے ایجاد کی۔ اگر آپ اس کو قوالی کے صحیح معنی جو اس کا مطلب ہے اس میں لے لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ قوالی کا مطلب کیا ہے؟ مطلب آپ خوبصورت انداز میں کسی کلام کو پڑھنا یہ قوالی ہوتی ہے۔ تو وہ تو جائز ہے۔ اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن music کے ساتھ یہ نہیں۔ کیونکہ حضرت نے باقاعدہ فوائد الفواد میں ارشاد فرمایا کہ جو قوالی ہے یعنی اس کو سماع کہتے ہیں۔ سماع کے لیے چار شرطیں ہیں۔ فرمایا سماع حرام بھی ہوتا ہے۔ اور مباح بھی ہوتا ہے۔ تو یہ ہے کہ جن میں یہ چار شرطوں میں سے کوئی بھی شرط نہ پائی جائے تو وہ حرام سماع ہے۔ اور اگر ان میں سے ساری چار شرطیں پائی جائیں تو پھر یہ مباح سماع ہے۔

اب شرائط سن لو۔ پہلی شرط: کلام عارفانہ ہو۔ کلام عارفانہ ہو۔ یہ تو سب مان لیتے ہیں۔ کلام تو عارفانہ کہیں کبھی کسی بزرگ کا لے لیتے ہیں۔ کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن فرمایا: پڑھنے والے عارف ہوں۔ یعنی قوال بھی عارف ہو۔ وہ جانتا ہو کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ دوسری بات۔ تیسری بات: یہ کہ سننے والے بھی عارفین ہوں۔ ان میں کوئی عورت موجود نہ ہو، کوئی بچہ موجود نہ ہو۔ زنان و کودک نباشد۔ مطلب ہے کہ کوئی عورت موجود نہ ہو اور کوئی بچہ موجود نہ ہو۔ یہ تین باتیں ہو گئیں۔

یہ باتیں میں اس لیے کرتا ہوں کہ یہ بیان خواتین کے لیے ہے تو خواتین کو تو یہ باتیں معلوم ہونی چاہییں اس کی وجہ ہے کہ خواتین یہ بہت ہی زیادہ sensitive ہوتی ہیں۔ sensitive ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے ان کے اوپر اثر زیادہ ہوتا ہے اور پھر اپنے اوپر کنٹرول نہیں کر سکتیں۔ اس کا تو باقاعدہ حدیث شریف موجود ہے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ازواج مطہرات جا رہی تھیں ہودج میں۔ تو اس میں یہ ہوا کہ وہ جو اونٹ کو چلانے والے لے جانے والے ہوتے ہیں نا تو ان کو حدی خوان بھی ان میں ہوتے تھے وہ حدی وہ پڑھتے تھے اس سے وہ اونٹوں کو جوش آتا تھا اور وہ تیز چلتے تھے۔ تو حدی جو پڑھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روکا کہ بھئی حدی نہ پڑھو شیشے ہیں ٹوٹ جائیں گے۔ قواریر ہیں شیشے ٹوٹ جائیں گے مطلب ہے زنانہ موجود ہیں ان کے سامنے نہ پڑھو۔ اونٹوں پہ اثر ہو گا یا نہیں ہو گا لیکن ان پہ ہو جائے گا۔ تو پتہ چلا کہ یہ چیزیں ان کے لیے نہیں ہیں۔ اور بچہ بھی اس طرح ہی ہوتا ہے کہ بچہ بھی ان چیزوں کو سمجھ نہیں سمجھتا نہیں ہے۔ تو فرمایا: "زنان و کودک نباشد" مطلب یہ یہ نہیں ہونے چاہییں۔ اور آخری بات یہ فرمائی آلات چنگ و رباب نباشد۔ musical instruments نہ ہوں۔ اب اگر کوئی ان چار شرائط پر عمل کرے گا تو مجھے بتاؤ وہ کیسے قوالی ہو گی۔ وہ یہی جو ہمارے ہاں ہوتی ہے جو پڑھے جاتے ہیں بس وہ ظاہر ہے وہی یہی یہی قوالی ہے یہی سماع ہے۔

خود یہی کبھی تعریف ہمارے جو بزرگ گزرے ہیں حضرت پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ، اللہ تعالی حضرت کے درجات بلند فرمائے، بہت بڑے اکابر میں سے تھے۔ یہ مجھے باقاعدہ روایت یعنی پہنچی ہے جس کو کہتے ہیں نا زبانی بھی اور کتابی بھی۔ کتابی تو ادھر کتاب موجود ہے وہ مولانا عبد الرحیم اثر رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ہے "روحانی رابطہ"۔ پشتو میں لکھا ہے "روحانی تړون" اس کا ترجمہ ہے روحانی رابطہ۔ اس میں 114 پاکستان کے اولیاء اللہ کی سیرت ہے۔ اس میں حضرت پیر مہر علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا بھی ہے۔ تو حضرت کے بارے میں فرمایا کہ ایک دفعہ ایک قوال، قوالی کر رہے تھے ظاہر ہے ان شرائط کے ساتھ جو شرائط خواجہ نظام الدین اولیاء۔۔۔ اور یہ چونکہ چشتی نظامی تھے نا تو چشتی نظامی میں تو پھر یہ چیز تھی۔ تو وہ قوالی کر رہے تھے تو ان کا ہاتھ اٹھا۔ ہاتھ اٹھا تو حضرت نے فوراً روک دیا فرمایا آئندہ تم میری مجلس میں قوالی نہیں کرو گے۔ تو انہوں نے کہا حضرت کیا غلطی ہو گئی۔ فرمایا تو نے ڈوموں کی طرح حرکت کیوں کی۔ ڈوموں کی طرح یہ حرکت کیوں کی؟ آئندہ میری مجلس میں نہ آنا۔ اس نے معافی مانگی انہوں نے کہا معافی، معافی ہے لیکن آئندہ آنا نہیں ہے۔ بہت سارے لوگوں سے سفارش کرائی کسی کی سفارش حضرت نے نہیں مانی اور اس کو وہاں سے رخصت کر دیا۔

اب اندازہ کر لو چشتی بزرگ ہیں قوالی کی محفل ہے لیکن حضرت کس چیز پہ گرفت فرما رہے ہیں۔ تو اصل لوگ یہی تھے جنہوں نے ان چیزوں کو سنبھالا ہے۔ باقی جو لوگ ہیں وہ تو صرف عیاشی کر رہے ہیں۔ وہ تو صرف ان کے نام لے کے عیاشی کر رہے ہیں۔ یہ میں نے کتاب میں تو پڑھا ہی تھا لیکن مفتی ظہیر صاحب کے جو والد صاحب تھے، وہ مجھے کہنے لگے کہ میرے ماموں اس وقت اس مجلس میں موجود تھے۔ جنہوں نے یہ واقعہ جو ہوا تھا، میرے ماموں اس مجلس میں موجود تھے، انہوں نے ہمیں بتایا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بالکل یعنی دونوں لحاظ سے پتہ چل گیا۔

تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں کہ یہی بات ہے کہ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ شریعت کے خلاف کوئی کام نہیں ہونا چاہیے۔ بنیادی بات یہ ہے شریعت کے خلاف۔

دیکھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا تقاضا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو سمجھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو سیکھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کریں۔ کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، البتہ بالتحقیق تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ دیکھو میں اپنی طرف سے کوئی چیز گھڑ کے پیش کر لوں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس کے مقابلے میں بالکل ایک سادہ سی سنت میں اختیار کر لوں اور لوگوں کو سمجھاؤں یہ میرے لیے بہت بڑی بات ہے۔

حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس ایک مہمان آئے تھے ایک بزرگ تھے۔ تو ظاہر ہے کچھ عارفانہ باتیں ہو رہی تھیں اس میں ایک شعر کسی نے پڑھا۔ اس شعر سے تقریباً سب کو وجد آ گیا۔ اس مہمان کو بھی آیا۔ جب اس کو وجد آیا تو ساتھ سرہند کی زمین ہلنے لگی۔ سرہند کی زمین ہلنے لگی جیسے زلزلہ ہوتا ہے۔ تو حضرت نے اپنے خادم سے کہا میری مسواک لے آؤ۔ تو مسواک لائے تو مسواک کو زمین پر گاڑ دیا، تو زمین رک گئی۔ اور پھر فرمایا دیکھو، یہ آپ کا جو وجد ہے نا، اس سے سرہند کی زمین ہلنے لگی۔ یہ آپ کی کرامت۔ یہ آپ کی کرامت۔ اور اگر میں چاہوں تو شاید سرہند کے مردے اٹھنے لگیں، یہ میری کرامت۔ لیکن یہ سنت مسواک ہے نا، اس کے مقابلے میں نہ آپ کی کرامت ہے، نہ میری کرامت ہے۔ یہ جو مسواک کی سنت ہے، اس کے مقابلے میں نہ آپ کی کرامت چل رہی ہے، نہ میری کرامت چلتی ہے۔

خود حضرت نے بالکل اخیر میں بات جو فرمائی تھی، بالکل آخری۔ اللہ اکبر، فرمایا بہت سارے معارف آتے رہے، بارش کی طرح برستے رہے، بہت کچھ اللہ نے دے دیا، ما شاء اللہ۔ لیکن اب تو میرے دل میں صرف یہ آتا ہے کہ بس کوئی مردہ سنت ہو جو میں زندہ کر لوں۔ یہی میری خواہش ہے اس کے علاوہ باقی ساری جو ذوق اذواق ہیں وہ میں نے اہل ذوق کے سپرد کر دیے ہیں۔ وہ ان کے لیے ہیں۔

ہمارے جد امجد کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ اللہ تعالی حضرت کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے بیٹے حضرت مولانا حلیم گل رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے ان کے بارے میں کتاب بھی لکھی ہے۔ انہوں نے اس سے پوچھا حضرت سے کہ حضرت بزرگوں کے مقامات ہوتے ہیں آپ کا کون سا مقام ہے؟ تو حضرت کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے عجیب جواب دیا فرمایا میں نے بزرگی بزرگوں کے لیے چھوڑی ہے، درویشی درویشوں کو بخشی ہے۔ علم علماء کے حوالے کیا ہے۔ میں، میرا کیا ہے، بس وہ جو اللہ نے بندگی کا ایک طوق میرے گلے میں ڈالا ہے، میں چاہتا ہوں کہ موت تک یہ طوق میرے گلے میں ہو اور میں اس پر عمل کرتا رہوں۔ یہ میرا مقام ہے۔ گویا کہ دوسرے لفظوں میں فرمایا کہ "عبدیت"۔ اور عبدیت ہی وہ مقام ہے جس پر انسان کی نجات ہوتی ہے۔ اور عبدیت ہی وہ مقام ہے جس پر انسان کی نجات ہوتی ہے، اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا۔ يَٰٓاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ۙ ارْجِعِيْٓ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ۚ فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ ۙ وَادْخُلِيْ جَنَّتِيْ۔ "اے مطمئن نفس، لوٹ جا اپنے رب کی طرف ایسی حالت میں کہ تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی ہے۔ پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا"۔

تو یہ میرے بندوں میں داخل ہو جا وہ کیا ہے؟ یہ اصل بات ہے بس۔ ہم جتنی بھی کوشش اور محنت کریں نا تو کس چیز کے لیے کریں؟ اللہ کے بندوں میں داخل ہو جائیں۔ اور اب بتاتا ہوں عجیب، مطلب ایک اہم بات۔ کہ ہم جب کلمہ پڑھتے ہیں نا شہادت۔ "اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ"۔ ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے ہیں اور اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ کے بندے ہیں اور اللہ کے رسول ہیں۔ اب یہ دو باتیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں نا، یہ ہمارے لیے بہت اہم ہیں۔ عبد ہونے کے لحاظ سے جب ہم پیروی کریں گے، تو کس چیز کی پیروی کریں گے؟ کہ ہم بھی عبدیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھیں گے کہ اللہ پاک کی بندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسے کی۔ یہ بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہے نا۔ تو مطلب یہ کہ بندگی میں پیروی، پھر یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول ہیں لہذا جو کچھ اللہ کی طرف سے لائے اس کی ہم پیروی کریں۔

دوسرے لفظوں میں آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بندگی رسالت سے براہ راست منور ہے، مطلب یہ کہ جو اللہ نے بتایا وہی کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اور ہمیں حکم کیا ہے، وہ کرو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ تو اب ہم وہی کریں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے، لہذا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں، یا یوں سمجھ لیجئے کہ ہم اللہ کی بندگی کریں۔ یا اللہ کی بندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہی اللہ کی صحیح بندگی ہے، سمجھ میں آ گئی نا بات، اس کو جس طریقے سے بھی آپ چاہیں تو سمجھ سکتے ہیں۔

تو اب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو پیروی ہم کیسے کریں۔ یہ ایک بات ہے۔ اس کے لیے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھنا چاہیے۔ عمل کی نیت سے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کو بڑھانا چاہیے۔ تاکہ ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھتے ہوئے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ طریقے اپنائیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں موجود ہیں امت کے لیے۔

ایک تو یہ والی بات ہے نا کہ محبت نہ ہو تو بڑی بڑی چیزیں بھی نظر نہیں آتیں۔ بڑی بڑی سنتیں نظر نہیں آتیں۔ مثلاً شادی کی سنت ہے۔ نظر نہیں آتی۔ کپڑوں کی سنت ہے، نظر نہیں آتی۔ داڑھی کی سنت ہے، نظر نہیں آتی۔ بولنے چالنے کی سنت ہے، نظر نہیں آتی۔ رہن سہن کی سنتیں ہیں، نظر نہیں آتیں۔ اگر محبت نہ ہو۔ اور اگر محبت ہو تو پھر میں آپ کو واقعہ بتاتا ہوں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ جا رہے تھے اپنے ساتھیوں کے ساتھ۔ راستے میں ایک جگہ رکے۔ چادر لے کے رفع حاجت کے لیے تشریف فرما ہوئے۔ پھر وہاں سے اٹھے۔ ساتھیوں نے دیکھا کہ وہاں کوئی نشانیاں نہیں پائی گئیں جیسے حضرت کو ضرورت ہی نہیں تھی بیٹھنے کی۔ پوچھا حضرت آپ کو ضرورت تھی؟ فرمایا نہیں۔ تو پھر آپ کیوں بیٹھے؟ natural question پھر آپ کیوں بیٹھے؟ فرمایا ادھر سے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک دفعہ گزر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادھر اس مقصد کے لیے تشریف فرما ہوئے تھے۔ میرے دل نے گوارا نہیں کیا کہ میں اس حالت سے گزر جاؤں کہ میں نے وہ کام نہ کیا ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ اب اندازہ کر لو یہ سنت نہ مؤکدہ ہے۔ نہ مستحبہ ہے۔ کون سی سنت ہے حضرت؟ سنت زوائد میں سے سنت محبت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ محبت کی وجہ سے ہے، اور کچھ نہیں، اس کی اور کوئی وجہ ہی نہیں بن سکتی۔ مطلب محبت ہی کی وجہ سے یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔ یہ بات ہے۔

تو اب یہ ہے کہ اگر ہمیں محبت ہو تو ہم ایسی سنتوں کو بھی نہ چھوڑیں۔ اگر محبت ہو، اور محبت نہ ہو تو پھر آپ بتاتے جائیں نا لوگوں کو، یہ سنت ہے۔ ان کے لیے سب سے بڑی جس چیز کی ضرورت ہے، نفس کی خواہش پوری ہونی چاہیے۔ اس کے مقابلے میں جو کچھ بھی ہے، وہ منظور نہیں ہے۔

اب دیکھ لیں، مؤمن تو ہیں الحمد للہ سارے۔ اللہ کا شکر ہے الحمد للہ، ایمان سب رکھتے ہیں۔ اور مؤمن ہونے کی وجہ سے معلوم ہے سب کو۔ اور مطلب یہ ہے کہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ کا حکم ہے اور ایسا ہونا چاہیے۔ لیکن عمل نہیں ہے۔ عمل نہیں ہے۔

عمل نہیں ہے تو کون سی وجوہات ہیں جو عمل نہیں ہے؟ ذرا تھوڑا سا اس پہ غور کر لیں۔ دو وجوہات ہیں simple۔ دو وجوہات ہیں۔ دل میں محبت نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔ نفس پر قابو نہیں ہے۔ یہ دو باتیں ہیں۔ نفس پر قابو نہیں ہے، دل میں محبت نہیں ہے۔ پس ہمارا مسئلہ کیسے حل ہو گا؟ کہ دل میں اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی محبت آ جائے۔ اور نفس پر ہمارا قابو آ جائے۔ بس یہی بات ہے۔

تو محبت کو پیدا کرنے کے لیے جو چیزیں ہیں، اللہ کی محبت کو پیدا کرنے کے لیے اللہ کا ذکر ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو پیدا کرنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے۔ اور اللہ پاک نے فرمایا ہے۔ وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ اور ہم نے بلند کیا تمہارے لیے تمہارا ذکر۔ اس کے بعد حدیث شریف میں آتا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قرآن میں جو آیت ہے، اس کا مطلب معلوم ہے؟ کہا کیا؟ فرمایا کہ اللہ پاک فرماتے ہیں جہاں میرا ذکر ہوگا وہاں تیرا ذکر ہوگا۔ جہاں میرا ذکر ہوگا وہاں تیرا ذکر ہوگا۔ اب اللہ پاک کا ذکر تو ہر جگہ۔ ہر چیز میں۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی ہر جگہ ہر چیز میں۔ یعنی اس کے لیے ہمیں وہ کرنا پڑے گا۔ تو اب دیکھ لیں، اللہ کے ذکر کے ذریعے سے اللہ کی محبت آتی ہے دل میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کے ذریعے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل میں آتی ہے۔ یہ تو دل کو تو اس سے بھر لو۔ اور نفس کو قابو کرنے کے لیے بزرگوں کے پاس جا کے اپنے نفس کی اصلاح کروا لو۔ یہ لازم بات ہے۔

ہمارے اکابر نے یہی کام کیا تھا۔ انہوں نے اپنا وقت ضائع نہیں کیا تھا۔ بلکہ ان کا ایک طریقہ تھا باقاعدہ آپ کتابوں میں پڑھ لیں بلکہ جتنے بھی بڑے بڑے اکابر ہیں ان کی سوانح پڑھ لیں۔ ایک فقرہ آپ کو بہت common ملے گا۔ اور وہ یہ ہے کہ اتنے عرصے میں مروجہ علوم سے فارغ ہو گئے اور پھر بعد میں اپنی اصلاح کے لیے کسی بزرگ کی خدمت میں جانے کے لیے فلاں جگہ تشریف لے گئے۔ یہ بات بالکل آپ کو تقریباً سارے اکابر جتنے بھی مشہور اکابر ہیں ان کی سوانح میں یہ بات آپ کو ملے گی۔ یعنی باقاعدہ ایک قسم کا رائج تھا وہ۔ کہ لوگ باقاعدہ علم حاصل کرنے کے بعد یہی پہلا کام کرتے تھے۔ اس وقت یہ چیز بہت ہی uncommon ہو گئی ہے۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ جو علم حاصل نہ کرتے ہوں وہ تو شاید اس طرف متوجہ ہو جائیں اور جو علم حاصل کرتے ہوں شاید وہ محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ بلکہ آج کل یہ بھی ایک المیہ ہے۔ تو نتیجہ کیا ہے؟ الفاظ ہیں جان نہیں ہے۔ نمازیں ہیں جان نہیں ہے۔ روزے ہیں جان نہیں ہے۔ وہ ان چیزوں سے خالی ہیں۔ بس یہی بات ہے۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ۔ ایک دفعہ اپنے بیٹے سے طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو اپنے بیٹے سے کہا کہ آپ بیان کریں۔ اس نے بیان شروع کیا۔ اب کوئی تنکے توڑ رہا ہے کوئی کیا کر رہا ہے کوئی کیا کر رہا ہے۔ مطلب ظاہر ہے کہ بیان کی پرواہ نہیں ہے۔ حضرت مجبوراً اٹھے اچھا ٹھیک ہے آپ بیٹھ جاؤ۔ حضرت بیٹھ گئے۔ صرف یہ کہا کہ کل میں نے روزہ رکھنے کے لیے سحری کے لیے دودھ رکھا تھا۔ جب اٹھا تو ایک بلی آ گئی اور اس نے اس کو ٹھوکر ماری وہ سارا دودھ گر گیا۔ تو اس کو سن کر سارا مجمع رونے لگا۔ تو بیٹا حیران ہو گیا کہ میں نے تو اتنے زبردست قسم کے مضامین بیان کیے کسی کو اثر نہیں ہوا حضرت نے تو صرف ایک واقعہ بیان کیا جس میں کوئی ایسی بات تھی ہی نہیں۔ تو اس نے کہا ابا جی یہ کیا بات تھی؟ فرمایا تو زبان سے کہتا ہے میں دل سے کہتا ہوں۔ بس یہی بات ہے۔ تو زبان سے کہتا تھا وہ میں دل سے کہتا ہوں۔ تو دل کا دل پر اثر ہوتا ہے۔ زبان کا زبان پر اثر ہوتا ہے۔ آپ زبانی باتیں سن لیں آپ کی زبان پر بھی آ جائے گی۔ پھر آپ بھی زبان سے کہتے رہیں۔ یہی زبان سے اس کا دل تک پہنچنا جو ہے۔ یہی بہت بڑی بات ہے۔ یہ آسان بات تو نہیں ہے۔ کہ جو زبان پر ہے وہ آپ کے دل تک پہنچ جائے۔ اسی کے لیے بڑی محنت ہے۔ بڑی محنت ہے۔ کہ میں جو زبان کی بات ہے اس کو دل تک پہنچا لوں اور میرا دل بھی اس سے متاثر ہو جائے پھر بات ہو جائے۔ ؏

صوفی نشود صافی تا در نکشد جامے
بسیار سفر باید تا پختہ شود خامے

صوفی اس وقت تک صافی نہیں ہو سکتا جب تک کہ عشق کا جام نہ کھینچے۔ بہت بڑا لمبا سفر ہے خام سے پختہ ہونے میں۔ بہت لمبا سفر ہے۔ تو لمبا سفر کیا ہے؟ نفس درمیان میں حائل ہے۔ کیونکہ ہمارا نفس ہے نا نفس یہ ہر چیز پہ اثر انداز ہے۔ ہماری زبان پر بھی اثر انداز ہے۔ ہماری آنکھوں پر بھی اثر انداز ہے ہمارے کانوں پر بھی اثر انداز ہے ہمارے دماغ پر بھی اثر انداز ہے ہمارے دل پر بھی اثر انداز ہے۔ ہر چیز پر اثر انداز ہے۔ جب تک یہ نفس کا جال ٹوٹا نہیں اس وقت تک یہ چیزیں آزاد نہیں ہیں۔ جب تک آزاد نہیں ہیں ہر چیز کے اندر نفسانیت ہو گی۔ مثلاً میں باتیں کر رہا ہوں اس لیے کہ آپ لوگ اس کو واہ واہ کریں۔ یہ میرا نفس ہو گا۔ اس پر پھر کیا بات ہو گی؟ واہ واہ ہو جائے گا۔ بس وہ جو چیز جس کے لیے میں نے کیا تھا وہ حاصل ہو جائے گا۔ اور جو اصل چیز ہے یعنی اس سے کوئی فائدہ اٹھانا اور اس سے عمل پہ آ جانا وہ نہ میں نے اس کے لیے بات کی تھی اور نہ لوگوں نے اس کو لے لیا بات ختم ہو گئی۔

اس وجہ سے اگر ہم لوگ ذرا تھوڑا سا اس پر سوچیں کہ رکاوٹیں کیا ہیں ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ہمیں کچھ کرنا ہو گا۔ تو کرنا یہی ہے کہ ہم اپنے نفس کو قابو کریں حدیث شریف میں بھی اس کی بات ہے فرمایا: عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لیے کام کیا اور بیوقوف وہ ہے جس نے اپنے جو نفس ہے اس کو آزاد چھوڑ دیا جو کرنا چاہتا تھا کرنے دیا اور پھر بعد میں صرف تمناؤں سے وہ اطمینان حاصل کرتا رہا۔ بس اور کچھ نہیں۔ تو یہ چیز نہیں ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

یہ میں کچھ واقعات پڑھ لیتا ہوں تاکہ ذرا ہمارے ایمان بھی تازہ ہو جائیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ان کا جو مقام ہے، وہ ہمارے سامنے آ جائے۔ یہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ہے، "نشر الطیب فی ذکر الحبیبﷺ"۔ یہ حضرت نے جو لکھی ہے نا، اس کی وجہ میں آپ کو بتا دوں۔ کہ اس وجہ سے آج کل اس کو پڑھنا چاہیے۔ کہ وہ جو ہے نا، مطلب ہے کہ ذرا معلوم ہو جائے کہ آج کل ہمیں کیا کرنا ہے۔ طاعون کی بیماری آئی تھی، طاعون کی۔ اور بہت پہلے ہوئی تھی، اس سے بہت ساری اموات ہو رہی تھیں۔ تو حضرت نے فرمایا کہ ہمارے اکابر کا طریقہ تھا کہ جب کبھی کوئی مسئلہ اس طرح ہوتا وبائی شکل یا کوئی اس طرح مصیبت کی بات آتی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر لوگ شروع کرتے۔ اس سے رحمت اترتی، اور اس وبا کا علاج ہوتا۔ تو فرمایا، ہم نے بھی نشر الطیب فی ذکر الحبیب شروع کیا۔ اور فرمایا جتنا کام اس میں ہوتا تھا، اتنے ہی ہمیں وہ دور ہوتا نظر آتا تھا۔ اور جب کبھی سستی ہوتی تو پھر وہ قریب آجاتا۔ تو یہ، اب مجھے بتائیں کہ آج کل ہمیں اس کی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟

تو یہ میں چند، مطلب جو ہے نا، سیرت پاک سے کچھ روایتیں پڑھتا ہوں۔ ان شاء اللہ اللہ پاک کی طرف سے مدد ہو گی۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک یہودی مکہ میں آ رہا تھا۔ سو جس شب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے، اس نے کہا، اے گروہ قریش! کیا تم میں آج کی شب کوئی بچہ پیدا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم کو معلوم نہیں۔ کہنے لگے کہ دیکھو، کیونکہ آج کی شب اس امت کا نبی پیدا ہوا ہے۔ اس کے دونوں شانوں کے درمیان میں ایک نشانی ہے جس کا لقب "مہر نبوت" ہے۔ چنانچہ قریش نے اس کے بعد جا کر تحقیق کی تو خبر ملی کہ عبداللہ بن عبدالمطلب کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے۔ وہ یہودی آپ کی والدہ کے پاس آیا۔ انہوں نے آپ کو ان لوگوں کے سامنے کر دیا۔ جب اس یہودی نے وہ نشانی دیکھی تو بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ اور کہنے لگا کہ بنی اسرائیل سے نبوت رخصت ہوئی۔ اے گروہ قریش! سن رکھو، واللہ یہ تم پر ایسا غلبہ حاصل کریں گے کہ مشرق اور مغرب سے اس کی خبر شائع ہو گی۔ روایت کیا اس کو یعقوب بن سفیان نے اسناد حسن سے، یہ فتح الباری میں ہے۔

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پیشین گوئیاں گزشتہ کتابوں میں موجود تھیں۔ جیسے اب ہمیں امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں پیشین گوئیوں کا پتہ ہے۔ اور ہمیں معلوم ہے کہ اس طرح ہوگا، اس طرح ہوگا، اس طرح ہوگا۔ یہ باتیں ہیں۔ اور لوگ ان کو اسی وجہ سے پہچان بھی لیں گے ان شاء اللہ۔ تو اب تو نبی چونکہ نہیں آ سکتا تو اب تو ظاہر ہے بس ایسے ہی۔ تو یہ ہے کہ، لیکن اس وقت چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لائے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وہ پیشین گوئیاں موجود تھیں۔ حتی کہ وہ کتابیں جن کے بارے میں ہمیں علم نہیں ہے کہ وہ آسمانی کتابیں ہیں، جیسے وید، اس میں بھی نشانیاں موجود تھیں۔ وید میں کالکی اوتار، اس کے نام سے باقاعدہ ایک پنڈت نے research کی ہے۔ اس نے اپنی research اپنے تمام پنڈتوں کو دکھائی کہ اس میں اگر کوئی غلطی ہو تو نکال دیں۔ وہ کوئی اس میں غلطی نہیں نکال سکا۔ تو اس نے ثابت کیا ہے کہ وہ جو ہماری کتابوں میں پیشین گوئی ہے کہ ایسا آئے گا، جو یہ کرے گا، وہ کرے گا، وہ آچکا ہے تو اس کے انتظار میں ہو، وہ محمد تھے۔ وہ محمد تھے، اور وہ ہے کہ آچکے ہیں، ان کی ساری نشانیاں موجود ہیں۔ اس نے باقاعدہ ثابت کیا ہے۔ ہمارے پاس موجود ہے اس پہ net پر ہے مطلب یہ ہے، کلکی اوتار۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ یہ، یہ چیز ہے۔

تو عیسی علیہ السلام نے (بتایا) "اسمه احمد"، قرآن پاک میں مطلب آیا ہے۔ موسی علیہ السلام نے بتایا، تو سب نے یہ بتایا تھا۔ اس وجہ سے بنی اسرائیل کو پتہ تھا۔ کہ ایسا آئے گا۔ اور حتی کہ وہ جو مدینہ منورہ کے یہودی تھے نا، وہ انصار کے جو دو قبیلے تھے اوس اور خزرج، ان کو ڈراتے تھے۔ کہ نبی جو آئے گا، ہم اس پر ایمان لائیں گے اور تمہیں پھر ماریں گے۔ خدا کی شان کہ اللہ تعالی نے ہدایت ان کو نصیب فرما دی اوس اور خزرج کو۔ اور یہودی مارے گئے۔ کیونکہ ایمان نہیں لائے۔ تو دیکھیں یہاں پر دیکھیں جس وقت اس کو پتہ چل گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی ہیں، تو بجائے اس کے کہ ایمان لاتے، تو کیا کیا؟ بے ہوش ہو گئے۔ اور جب ہوش میں آ گئے تو کیا بات شروع کی؟ وہی کینہ اور حسد والی۔ کہ یہ تو ایسا ہے کہ جو آپ کو، آپ کے اوپر غلبہ حاصل کر لے گا۔ اور تمہیں اس طرح کریں گے تمہیں اس طرح تاکہ ان کے دشمن بنا دیا جائے۔ تو یہ شیطانی کام ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

ساتویں فصل یوم، ماہ و سن اور وقت و مکان ولادت شریفہ میں۔

یوم اور تاریخ: سب کا اتفاق ہے کہ دوشنبہ تھا۔

یعنی پیر کا دن تھا۔

اور تاریخ میں اختلاف ہے۔ آٹھویں یا بارہویں۔ (کذا فی الشمامہ) ماہ سب کا اتفاق ہے کہ ربیع الاول تھا۔ سن سب کا اتفاق ہے کہ عام الفیل تھا

اب دیکھو کون کون سی چیزیں اتفاقی ہو گئیں؟ سن، مہینہ، دن۔ دن یعنی ہفتے کا جو دن ہے، ہفتے کے دن سے مراد یہ ہے کہ ہفتے کے جو سات دن ہوتے ہیں ان میں سے دن متعین ہے کہ پیر کا دن تھا۔ دن متعین ہے کہ پیر کا دن تھا۔ لیکن تاریخ متعین نہیں ہے۔ یعنی اختلاف ہے اس میں۔ اب اگر یہ تین موجود ہوں اور حساب کے ذریعے سے معلوم کیا جا سکتا ہو، کہ عام الفیل کے ربیع الاول میں پیر کا دن کس کس تاریخ کو پڑ سکتا تھا؟ تو معلوم ہو جائے گا نا۔ تو جو حساب دان ہیں وہ معلوم کر لیتے ہیں۔ تو سب سے پہلے اس کو ایک ترکی کے، astronomer نے یہ کیلکولیٹ کر کے بتایا تھا۔ بعد میں تمام لوگوں نے اس کی تصدیق کی جو astronomers ہیں بالکل خود میں نے بھی پھر کیلکولیٹ کیا تو وہ بالکل وہی پایا۔ کہ پیر کا دن جو ہے بنتا ہے، آٹھ یا نو ربیع الاول کو۔ آٹھ یا نو ربیع الاول کا مطلب، آٹھ یا نو اس لیے کہتے ہیں کہ چونکہ چاند کے نظر آنے میں ایک دن کا اختلاف ہو سکتا ہے۔ بالخصوص علاقوں میں تو اختلاف ہو ہی جاتا ہے۔ جیسے اگر سعودی عرب میں نو ہے تو آج ممکن ہے ادھر آٹھ ہو۔ کیونکہ ذرا پیچھے چلتے ہیں۔ تو اس قسم کی بات تو ہے۔

اب آج کل یہ اتنا آسان ہو گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا جمعہ جو تھا، اس کا جو چاند ہے اس کا باقاعدہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ کتنا بلند تھا افق سے، افق سے کتنا بلند تھا۔ یہ باقاعدہ اس کا حساب اب کیا جا سکتا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یہ معلوم ہو سکتا تھا اور ہو گیا۔ تو اب پتہ چل گیا کہ آٹھ یا نو ربیع الاول ہے۔ تو عموماً بارہ کو سمجھا جاتا ہے۔ بارہ نہیں ہے۔

اب چلو یہ تو جو بھی بات ہے وہ تو اللہ کو پتہ ہے۔ لیکن یہ جو تاریخ میں اختلاف ہے اس سے کم از کم ایک بات کا پتہ تو چل گیا نا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی نے بھی یہ دن نہیں منایا۔ اگر مناتے تو کیا یہ تاریخ چھپ جاتی؟ دیکھو دن موجود ہے، مہینہ موجود ہے، اس کے لیے دلائل وہ روایتیں موجود ہیں، سن موجود ہے، لیکن تاریخ کا اختلاف ہے۔ یہ اختلاف ہی اس بات کو بتا رہا ہے کہ یہ منایا نہیں جاتا تھا۔

منانے کا کس وقت ہوا ہے؟ یہ بھی بتاتا ہوں۔ یہ net پر اب دیکھ لیں آپ کو مل جائے گا۔ ملک مظفر یہ مصر کا ایک بادشاہ تھا جو تین سو سال پہلے گیارہ سو ہجری ہے۔ تو اس کی بادشاہت کو خطرہ ہو گیا۔ اس کی بادشاہت ختم ہونے والی تھی۔ اس نے اپنی بادشاہت کو بچانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو ایک ذریعہ بنایا۔ کہ میں عید میلاد النبی شروع کر دوں گا تو لوگ میرا support کریں گے اور جس کی وجہ سے میری بادشاہت کی حفاظت ہو جائے گی۔ اس نے یہ start کیا تھا۔

بہت افسوس کی بات ہے کہ اس وقت ہماری حکومت بھی یہی plan کر رہی ہے۔ اس دن کو شایان شان منانے کے لیے، اور باقاعدہ اپنے گھر کو بھی سجا کر دکھا رہے ہیں کہ دیکھو میں نے کیسے سجایا ہوا ہے۔ بھئی اپنے دل کو سجاؤ، سنت سے سجاؤ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے سے سجاؤ۔ یہ کیا سجانے والی بات ہے؟ یہ سجانے والی بات ہے؟ کون سے صحابی نے اپنا گھر سجایا ہے؟ ایک آدمی ثابت کرے۔ کون سے صحابی نے اس دن جو ہے نا چراغاں کیا ہے؟ ایک روایت ثابت کر لے۔ چاہے ضعیف ہی کیوں نہ ہو۔ ثابت تو کر کے دکھائیں نا۔ تو اس کا مطلب یہ ہماری نفس کی خواہشات ہیں۔ ہم میلہ ٹھیلہ چاہتے ہیں۔ ہم یہ چیزیں چاہتے ہیں۔ اس سے نجات نہیں ہو گی۔ نجات کس چیز سے ہو گی؟ سنت سے ہو گی۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ۔ اے میرے حبیب اپنی امت سے کہہ دیں، اگر تم اللہ کے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو اللہ پاک تم سے محبت کرنے لگیں گے۔ بس یہی بات ہے۔ یہ بات ہمیں سمجھ میں آتی ہے۔

باقی اس کے علاوہ یہ بات کہ میں اپنے نفس کی کسی خواہش کو پورا کرنے کے لیے۔۔۔ اس کو اس چیز کا نام دے دوں۔ یہ الٹی طرف جا رہی ہے بات۔ اس وجہ سے ہمیں اس سے بچنا چاہیے۔ اور بات جیسے میں نے عرض کیا کہ خود بخود ثابت ہو رہا ہے کہ اس دن کو منایا نہیں جاتا تھا کیونکہ تاریخ میں اختلاف کیوں ہے۔ اچھا۔

آٹھویں فصل، بعض واقعات زمانہ طفولیت کے۔

پہلی روایت: ابن سبع نے خصائص میں ذکر کیا ہے کہ آپ کا گہوارہ (یعنی جھولا) فرشتوں کی جنبش دینے سے ہلا کرتا تھا۔ (کذا فی المواہب)

کوئی ناممکن نہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے اللہ تعالی کی مخلوق ہیں فرشتے۔ اور فرشتے اللہ تعالی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔

دوسری روایت: بیہقی اور ابن عساکر نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے کہ حضرت حلیمہ کہتی تھیں انہوں نے جب آپ کا دودھ چھڑایا تو آپ نے دودھ چھڑانے کے ساتھ ہی جو اول کلام فرمایا تھا یہ تھا: اَللهُ اَكْبَرُ كَبِيْرًا وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيْرًا وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا۔ جب آپ ذرا سیانے ہوئے تو باہر تشریف لے جاتے اور لڑکوں کو کھیلتا دیکھتے مگر ان سے علیحدہ رہتے (یعنی کھیل میں شریک نہ ہوتے)۔ (کذا فی المواہب)

تیسری روایت: ابن سعد اور ابو نعیم اور ابن عساکر نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کیا ہے کہ حضرت حلیمہ آپ کو کہیں دور نہ جانے دیا کرتی تھیں۔ ایک بار ان کو کچھ خبر نہ ہوئی آپ اپنی (رضاعی) بہن شیماء کے ساتھ عین دوپہر کے وقت مواشی کی طرف چلے گئے۔ حضرت حلیمہ آپ کی تلاش میں نکلیں یہاں تک کہ آپ کو بہن کے ساتھ پایا۔ کہنے لگیں کہ اس گرمی میں (ان کو لائی ہو) بہن نے کہا اماں میرے بھائی کو گرمی ہی نہیں لگی، میں نے ایک بادل کا ٹکڑا دیکھا جو ان پر سایہ کئے ہوئے تھا' جب یہ ٹھہر جاتے تھے وہ بھی ٹھہر جاتا تھا اور جب یہ چلنے لگتے تھے تو وہ بھی چلنے لگتا تھا یہاں تک کہ اس موقع تک اسی طرح پہنچے۔ (کذا فی المواہب)

ظاہر ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پوری کائنات کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ پوری کائنات کو اللہ پاک نے پیدا کیا ہے۔ اگر تجھے نہ پیدا کرتا تو پوری کائنات کو نہ پیدا کرتا۔

چوتھی روایت: حضرت حلیمہ سعدیہ سے روایت ہے کہ میں (طائف سے) بنی سعد کی عورتوں کے ہمراہ دودھ پینے والے بچوں کی تلاش میں مکہ کو چلی (اس قبیلہ کا یہی کام تھا اور اس سال سخت قحط تھا۔ میری گود میں میرا ایک بچہ تھا مگر اتنا دودھ نہ تھا کہ اس کو کافی ہوتا' رات بھر اس کے چلانے سے نیند نہ آتی اور نہ ہماری اونٹنی کے دودھ ہوتا۔ میں ایک دراز گوش پر سوار تھی جو غایت لاغری سے سب کے ساتھ نہ چل سکتا تھا' ہمراہی بھی اس سے تنگ آگئے تھے۔ ہم مکہ آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو جو عورت دیکھتی اور سنتی کہ آپ یتیم ہیں کوئی قبول نہ کرتی (کیونکہ زیادہ انعام و اکرام کی توقع نہ ہوتی اور ادھر ان کو دودھ کی کمی کے سبب کوئی بچہ نہ ملا) میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ یہ تو اچھا معلوم نہیں ہوتا کہ میں خالی جاؤں' میں تو اس یتیم کو لاتی ہوں۔ شوہر نے کہا کہ بہتر ہے' شاید اللہ تعالیٰ برکت کرے۔غرض میں آپ کو جا کر لے آئی' جب اپنی فرودگاہ پر لائی اور گود میں لے کر دودھ پلانے بیٹھی تو دودھ اس قدر اترا کہ آپ اور آپ کے رضاعی بھائی نے خوب آسودہ ہو کر پیا اور آسودہ ہو کر سو گئے اور میرے شوہر نے جو اونٹنی کو جا کر دیکھا تو تمام دودھ ہی دودھ بھرا تھا' غرض اس نے دودھ نکالا اور ہم سب نے خوب سیر ہو کر پیا اور رات بڑے آرام سے گزری اور اس کے قبل سونا میسر نہیں ہوتا تھا۔ شوہر کہنے لگا اے حلیمہ تو تو بڑی برکت والے بچے کو لائی۔ میں نے کہا ہاں مجھے کو بھی یہی امید ہے۔ پھر ہم مکہ سے روانہ ہوئے اور میں آپ کو لے کر اسی دراز گوش پر سوار ہوئی پھر تو اس کا یہ حال تھا کہ کوئی سواری اس کو پکڑ نہ سکتی تھی۔ میری ہمراہی عورتیں تعجب سے کہنے لگیں کہ حلیمہ ذرا آہستہ چلو یہ وہی تو ہے جس پر تم آئی تھیں۔ میں نے کہا ہاں وہی ہے۔ وہ کہنے لگیں کہ بے شک اس میں کوئی بات ہے۔پھر ہم اپنے گھر پہنچے اور وہاں سخت قحط تھا سو میری بکریاں دودھ سے بھری آتیں اور دوسروں کو اپنے جانوروں میں ایک قطرہ دودھ نہ ملتا۔ میری قوم کے لوگ اپنے چرواہوں سے کہتے کہ ارے تم بھی وہاں ہی چراؤ جہاں حلیمہ کے جانور چرتے ہیں مگر جب بھی وہ مگر جب بھی وہ جانور خالی آتے اور میرے جانور بھرے آتے کیونکہ چراگاہ میں کیا رکھا تھا وہ تو بات ہی اور تھی۔ غرض ہم برابر خیر و برکت کا مشاہدہ کرتے رہے یہاں تک کہ دو سال پورے ہو گئے اور میں نے آپ کا دودھ چھڑایا اور آپ کا نشوونما اور بچوں سے بہت زیادہ تھا یہاں تک کہ دو سال کی عمر میں اچھے بڑے معلوم ہونے لگے پھر ہم آپ کو والدہ کے پاس لائے مگر آپ کی برکت کی وجہ سے ہمارا جی چاہتا تھا کہ آپ اور رہیں اس لیے آپ کی والدہ سے اصرار کر کے وباء مکہ کے بہانے سے پھر اپنے گھر لے آئے۔ سو چند ہی مہینے بعد ایک بار آپ رضاعی بھائی کے ساتھ مواشی میں پھر رہے تھے کہ یہ بھائی دوڑتا ہوا آیا اور مجھ سے اور اپنے باپ سے کہا کہ میرے قریشی بھائی کو دو سفید کپڑے والے آدمیوں نے پکڑ کر لٹایا اور شکم چاک کیا۔ میں اسی حال میں چھوڑ کر آیا ہوں۔ سو ہم دونوں گھبرائے ہوئے گئے، دیکھا کہ آپ کھڑے ہیں مگر رنگ (خوف سے) متغیر ہے۔ میں نے پوچھا بیٹا کیا تھا؟ فرمایا دو شخص سفید کپڑے پہنے ہوئے آئے اور مجھ کو لٹایا اور پیٹ چاک کر کے اس میں کچھ ڈھونڈ کر نکالا، معلوم نہیں کیا تھا۔ ہم آپ کو اپنے ڈیرے پر لائے اور شوہر نے کہا حلیمہ اس لڑکے کو آسیب کا اثر ہوا ہے' قبل اس کے کہ اس کا زیادہ ظہور ہو ان کے گھر پہنچا آ۔ میں والدہ کے پاس لے گئی' وہ کہنے لگیں کہ تو اس کو رکھنا چاہتی تھی پھر کیوں لے آئی؟ میں نے کہا اب اللہ کے فضل سے ہوشیار ہو گئے اور میں اپنی خدمت کر چکی۔ اللہ جانے کیا اتفاق ہوتا' اس لیے لائی ہوں۔ انہوں نے فرمایا یہ بات سچ بتلا؟ میں نے سب قصہ بیان کیا۔ کہنے لگیں تجھ کو ان پر شیطان کے اثر کا اندیشہ ہوا؟ میں نے کہا ہاں۔ کہنے لگیں ہرگز نہیں واللہ! شیطان کا ان پر کچھ اثر نہیں ہو سکتا' میرے بیٹے کی ایک خاص شان ہے۔ پھر انہوں نے بعض حالات حمل و ولادت کے بیان کئے (جو پانچویں فصل کی دوسری اور تیسری روایت اور چھٹی فصل کی پہلی روایت کے اخیر میں مذکور ہیں) اچھا ان کو چھوڑ دو اور خیریت کے ساتھ جاؤ۔ (کذا فی سیرۃ ابن ہشام)

اب یہ جو ہے نا یہ والی باتیں۔ ما شاء اللہ۔ اس میں بیان کرنے کا اپنا انداز ہوتا ہے ہر شخص کا۔ یہاں تو ایک مسلسل روایت بیان کی ہے۔ ایک ہمارے ایک اور بزرگ ہیں مولانا مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ۔ انہوں نے بڑی حالت جذب میں کتاب لکھی جس کا نام ہے "النبی الخاتم"۔ میں مدینہ منورہ جب گیا تھا حج کے موقع پر تو وہاں ایک ہندوستانی عالم سے ملنا ہوا۔ تو اس نے مجھے کہا کہ آتے ہوئے آپ نے النبی الخاتم پڑھی ہے؟ میں نے کہا نہیں پڑھی۔ کہتے ہیں کاش آپ اس کو پڑھ کے آتے۔ میرے دل میں بڑا وہ ہو گیا میں نے کہا کمال ہے کیا بات ہے میں جا کر اس کو ضرور پڑھوں گا کہ کون سی بات ہے اس کے اندر کیا بات ہے۔ خیر یہاں آ کر میں نے تو النبی الخاتم ہے کہ پھر ہم نے لے لی۔ وہ واقعی اتنے جذب میں لکھی ہوئی ہے کہ میں آپ کو کیا بتاؤں۔ اب یہی بات جو یہاں حضرت نے اس انداز میں کی ہے نا۔ تو یہاں پر (النبی الخاتم میں) حضرت نے کس انداز میں کیا تھا۔ فرماتے ہیں یہ دیکھیں نا انداز دیکھیں۔

دائی حلیمہ سعدیہ:فہموں کی قلابازیاں اس مسئلہ میں بھی تقریباً اسی قسم کی ہیں جو حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے متعلق سمجھ کے پھیر سے بلاوجہ پیدا ہوئیں۔آپ کو حلیمہ سعدیہ سے دودھ ملا

لکھا ہے نا ہر جگہ لکھا ہوا ہے۔

حلیمہ یا حلیمہ کی اونٹنی، حلیمہ کی بکریوں، حلیمہ کے شوہر، حلیمہ کے بچوں، بلکہ آخر میں قبیلہ والوں تک کو ان سب کو دودھ آپ ہی کے ذریعہ سے ملا؟ اس میں واقعہ کیا ہے اس کو سب جانتے ہیں، لیکن نہیں جانتے یا نہیں جاننا چاہتے۔

اس طرح انہوں نے ما شاء اللہ یعنی اس انداز میں کیا ہے نا بالکل۔

کہتے ہیں کہ اپنی ماتا سے آدمی آزاد ہو سکتا ہے' لیکن دھرتی ماتا کی غلامی کس کی گردن میں نہیں کہ آدمی کے بچوں کو جو کچھ ملتا ہے زمین کی چھاتی سے ملتا ہے' وہ جو کچھ کھاتا ہے جو کچھ پیتا ہے' جو کچھ پہنتا ہے' جس میں رہتا ہے' حتیٰ کہ جس میں بالاخر دفن ہوتا ہے' زمین اور زمین زادوں کے سوا کوئی اور چیز ہے؟ اس جھوٹ میں سچ کا کتنا حصہ ہے۔ اس کے لیے دیکھو کہ اس واقعی آزادی کی راہ درست کرنے کے لیے وہ اس سرزمین سے اٹھایا جاتا ہے جو ایسی ہر چیز کے پیدا کرنے میں عقیم اور بانجھ ہے

کوئی چیز اس میں نہیں پائی جاتی

جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آدمی ان ہی پر جی رہا ہے۔ جن چیزوں سے زندگی پیدا ہوتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ ان کی پیدائش کا اس زمین میں امکان نہیں اور جن سے موت کی پیداوار ہوتی ہے شاید دنیا کا یہ علاقہ اسی کا جہان ہے' اسی کا مکان ہے جھلسانے والی لو' تپتی ہوئی ریت' جلے ہوئے گرم پہاڑ' یہ اور اسی قسم کی چیزوں پر اس غیر ذی زرع وادی کی بنیاد ہے اور ان ہی تباہیوں سے یہ بن کھیتی کا بیابان آباد ہے۔جو باطل پروردگاروں کی بندگی سے مسجودِ ملائکہ کی ذریت کو رستگاری بخشنے آیا تھا' اس کے دعوٰی کا تجربی ثبوت اس شکل میں کس درجہ بے نقاب ہو کر سامنے آیا۔ جب وہ اسی سرزمین سے سر اٹھا کر دنیا کو دعوت دیتا ہے۔ کیا اس کے دعوٰی میں زور اس سے پیدا ہوتا ہے کہ وہ کشمیر کی گلریز کیاریوں' سوئٹزر لینڈ کی نزہت انگیز وادیوں' شام کے فواکہ خیز باغوں سے عالم کو پکارتا کہ یا (ایسی بے آب و گیاہ سرزمین سے۔)

تو مطلب یہ ہے کہ پھر کہا کہ

اللہ تعالی نے جو بھی ظاہری سبب تھا وہ اس کو پہلے مٹا دیا۔ تاکہ کسی کو یہ نہ موقع ملے کہ اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ظاہری تمام چیزیں رکاوٹیں ہٹا دیں۔ یعنی پہلے ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا حالانکہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ پھر تھوڑے عرصے میں ماں فوت ہو گئی۔ پھر عبدالمطلب صاحب جو ظاہر ہے ان کو پالنے والے تھے وہ دنیا سے اٹھ گئے۔ پھر ابوطالب صاحب جن کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے ان کی پرورش کی فرمایا کیا پرورش کی۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کماتے تھے وہ ابوطالب صاحب کے کام آتا تھا۔

یہ اس میں لکھا ہے۔ تو مقصد یہ ہے کہ حضرت نے اس اس انداز میں بتایا کہ اللہ تعالی نے جیسے امی محض پیدا فرمایا۔ تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ انہوں نے کسی اور کی بات کو لیا ہے۔ اتنے امی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ معاہدہ صلح حدیبیہ کا ہو رہا ہے۔ تو جو سہیل تھا وہ جو مشرکین کی طرف سے تھا اس نے اعتراض کیا کہ "محمد رسول اللہ" نہ کہو کیونکہ اسی پہ تو اختلاف ہے۔ یہ "محمد رسول اللہ" کاٹو صرف محمد بن عبداللہ کہو۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا۔ میں آپ کا نام نہیں کاٹ سکتا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا کدھر لکھا ہے؟ یعنی خود اپنے نام کو لکھا ہوا پڑھ نہیں سکتے تھے۔ کہاں لکھا ہوا ہے؟ تو ان کو باقاعدہ انگلی وہاں پر لے جا کے پھر وہ محمد بن عبداللہ کیا۔ یہ ایسی بات ہے۔

لیکن ادب دیکھو۔ مہر نبوت میں ایک بہت بڑا ادب ہے۔ یعنی ہم اکثر لوگوں کو بتاتے ہیں میں نے کہا بھئی ادب سیکھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ یہ مہر نبوت ہے۔ اس میں محمد رسول اللہ۔ عربی کا قاعدہ یا دائیں سے بائیں ہوتا ہے یا اوپر سے نیچے ہوتا ہے۔ نیچے سے اوپر نہیں ہوتا۔ نیچے سے اوپر نہیں ہوتا یا اوپر سے نیچے ہوتا ہے یا دائیں سے بائیں ہوتا ہے۔ نہ یہ دائیں سے بائیں ہے۔ نہ اوپر سے نیچے ہے کیسے؟ محمد نیچے لکھا ہوا ہے حالانکہ پہلا نام ہے۔ اس کے بعد رسول ہے۔ اس کے بعد پھر اللہ ہے اوپر۔ ایسے لکھا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ دیکھیں یعنی یہ باوجود اس کے کہ امی محض۔ لیکن کیا بات ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ جو کچھ بھی تھا جیسے اللہ کے قرآن نے کہا۔ کہ جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، وہ وحی سے۔ جو اس کو وحی ہوا تھا۔ ان کی طرف کوئی چیز منسوب نہیں۔ اگر منسوب تھا اس کی correction کر دی گئی۔ اس کو وہیں نہیں رہنے دیا گیا۔ بلکہ اس کی کرکشن ہو گئی یا اس کو قبول کر لیا گیا یا اس کو تبدیل کر لیا گیا۔ لیکن یہ ہے کہ ہر چیز پہ وحی کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔

تو اس کا مطلب ہے کہ یہ جو چیز ہے اس چیز کو ہمیں سامنے لانا چاہیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ محبت جو ہمیں اللہ کی محبت تک پہنچائے۔ وہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ محبت جو ہمیں اللہ تک نہ پہنچائے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں ہے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے یہی فرمایا ہے۔ کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعوی کرے اور اس کے ذریعے سے وہ اللہ تک نہ پہنچے، وہ اپنا عاشق ہے، وہ حضور کا عاشق نہیں ہے۔ بس یہی بڑی بات ہے۔ اس وقت ہم دیکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تو لیا جاتا ہے۔ لیکن اس سے اس طرف نہیں جایا جاتا جہاں جانا چاہیے۔ پاس ہی نعتیں پورے زور سے پڑھی جا رہی ہیں ادھر اللہ پاک کی عبادت کی جاتی ہے مسجد میں۔ توفیق نہیں ہوتی کہ مسجد کے اندر جائیں اور نماز پڑھیں۔ ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ نہیں ہوتی۔ کیسی محبت ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی؟ یہ محبت اپنی ذات کی محبت ہے، اپنا عشق ہے۔ اپنے نفس کا عشق ہے۔ اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس وجہ سے ہمیں صحیح محبت پیدا کرنی چاہیے، ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ (ربیع الاول کی پہلے چھٹی ہوا کرتی تھی، بارہ ربیع الاول کی) تو جب ہمیں چھٹی ملتی تو ہم اپنے شیخ کی خدمت میں چلے جاتے اور۔ موقع مل جاتا۔ تو اس طرح بارہ ربیع الاول کو ہم چلے گئے حضرت کے پاس۔ حضرت عام بیان فرما رہے تھے کوئی خاص بات نہیں تھی جیسے حضرت کا عام طریقہ تھا۔ درمیان میں فرمایا "ہم عید میلاد نہیں مناتے لیکن خود عید میلاد بن جاتے ہیں"۔ ہم عید میلاد نہیں مناتے لیکن خود عید میلاد بن جاتے ہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا غلبہ ایسا ہو جاتا ہے کہ وہ ہر چیز اس میں رنگ جاتی ہے۔ تو یہ بات تو صحیح ہے، ہمارے تمام اکابر کو اس وقت وہ بات ہوتی ہے۔ مطلب یعنی محبت والی بات ہوتی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن نمائشی انداز میں نہیں۔ کہ وہ جھنڈا گاڑے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عاشق ہوں اور ایسے اور ایسے نعرے لگائیں۔ بھئی نعرے نہ لگاؤ اپنے دل کے اوپر محنت کرو۔ اس کو اللہ پاک کا تابع بنا دو اللہ کا عبد بنا دو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پہ چلنے والا بنا دو۔ اللہ تعالی ہمیں بھی نصیب فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ وَتُبْ عَلَيْنَا اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔