شکرِ الٰہی: فضائل، برکات اور خوشگوار زندگی کا راز

بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 201، حدیث نمبر: 140، اشاعتِ اول: 9 فروری، 2023 بمطابق 17 رجب، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. مسنون طریقے سے کھا پی کر اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہنے پر اللہ تعالی کی رضا اور روزہ رکھ کر صبر کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے۔
  2. شکر ایک ایسی عظیم نعمت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے اور موجودہ نعمتوں میں اضافے کا یقینی سبب بنتی ہے۔
  3. حقیقی شکر صرف اس قلبِ منیب کو نصیب ہوتا ہے جو دنیا کی محبت اور دوسروں کی نعمتوں کی حرص سے خالی ہو۔
  4. شکر کا مقام محض علم سے نہیں بلکہ سلوک کی منازل طے کر کے نفس کو صبر اور زہد کا عادی بنانے سے حاصل ہوتا ہے۔
  5. شکر کی کیفیت انسان کو تھوڑی نعمت میں بھی دلی سکون عطا کر کے اس کی زندگی خوشگوار بناتی ہے اور شیطان کے وار کو ناکام کرتی ہے۔

الْحَمْدُ للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔

کھانے کے بعد اللہ کی حمد کرنا چاہئے

(140) الرَّابِعُ وَالْعِشْرُونَ: عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِنَّ اللّٰهَ لَيَرْضٰی عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا، أَوْ يَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا“ ﴿رواه مسلم﴾ و ”الاکلة“ بفتح الهمزة: وهي الغدوة أوالعشوة۔

ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندے پر راضی ہوتے ہیں جو کھانا کھا کر الحمد للہ کہے یا پانی پینے کے بعد الحمد للہ کہے۔“

تشریح: کھانے کے بعد حمد کرنے کا ثواب روزہ رکھنے والے کے برابر ہے. کھانا پینا یہ انسان کی فطری ضرورت ہے، انسان کا اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں، اللہ کے احکام پر قربان ہو جائیے کہ اس کھانے کے بعد اللہ کا شکر ادا کرنے پر ایک طرف تو پیٹ کو بھرتا ہے دوسری طرف اللہ کے مطیع بندوں میں اس کا شمار ہو جاتا ہے۔ ایک دوسری روایت میں مزید وضاحت اس طرح آئی ہے فرمایا ”الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ مِثْلُ الصَّائِمِ الصَّابِرِ“ کہ کھانا کھا کر شکر ادا کرنے والا روزہ رکھ کر صبر کرنے والے کے مثل ہے۔ ابن بطالؒ فرماتے ہیں کہ اللہ نے اپنے بندوں پر فضل فرمایا، کھانا کھا کر صرف شکر ادا کرنے پر روزہ رکھ کر صبر کرنے والے کے برابر ثواب عطاء فرمایا۔ تخریج حدیث: اخرجه صحیح مسلم کتاب الذکر (باب استحباب حمد اللہ تعالیٰ بعد الاکل والشرب)، رواه ترمذی ايضاً۔

تو اس میں کھانے کے بعد جو شکر کرنا ہے اور پینے کے بعد جو شکر کرنا ہے، اس کے ثواب کے بارے میں بتایا گیا۔ اور یہ تو ماشاءاللہ ہمارے کھانے کے آداب میں سے ہیں، مسنون طریقہ کہ جب کھانا شروع کیا جائے تو بِسْمِ اللهِ وَعَلَى بَرَكَةِ اللهِ اس سے شروع کیا جائے۔ اور جس وقت ختم کیا جائے تو "اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ" یہ دعا پڑھ سکتے ہیں۔ اور اگر کسی اور جگہ دعوت ہو تو پھر "أَللّٰہُمَّ اَطْعِمْ مَنْ اَطْعَمَنَا وَاسْقِ مَنْ سَقَانَا" یہ دعا مطلب کر سکتے ہیں، اور بھی دعائیں ہیں مطلب اس کی۔ اور اگر صرف اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہہ دے تو یہ بھی کافی ہے۔ صرف اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ۔ صرف بِسْمِ اللهِ سے شروع کر لے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ اور اس طرح یہ ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ صرف کہہ دیں، تو پانی کے بعد بھی پانی کے شروع کرتے وقت بِسْمِ اللهِ پڑھیں، اس کے بعد وہ اخیر میں اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کہیں۔ مسنون طریقے سے پیئیں تو ماشاءاللہ وہی چیزیں عبادت بن جائیں گی۔ تو ہمارا مذہب تو بہت ہی ماشاءاللہ جس کو کہتے ہیں نا natural انداز میں ہمیں دنیا کے فائدے بھی دیتا ہے اور ہمیں آخرت کے فائدے بھی پہنچاتا ہے۔ ایک ہی کام جو دنیا کے لیے مفید ہے وہی کام آخرت کے لیے بھی مفید ہو سکتا ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو اس کی سمجھ کی توفیق اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

یا اللہ تیرا شکر ہے۔ اب ایک چیز کی طرف یہاں ذکر آیا ہے اس وجہ سے میں آپ سے عرض کرنا چاہوں گا شکر کے بارے میں آیا ہے نا آج کھانے کے بعد شکر کرنے کا۔ یہ شکر اتنی بڑی نعمت ہے میں آپ کو کیا بتاؤں۔ وہ صبح ہم آ رہے تھے تو شکر کا ایک کلام ہم نے لگایا تھا۔ وہ پورے دن تقریباً میرے دماغ میں چل رہا تھا۔ کیونکہ اس سے اتنا فائدہ ہے کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ یہ ہم کر کیوں نہیں رہے؟ اگر اس چیز کا اتنا فائدہ ہے تو پھر ہم کر کیوں نہیں رہے؟ لیکن اس کے کرنے کے لیے کچھ مبادیات ہیں۔ وہ کرنے پڑتے ہیں پھر نصیب ہوتا ہے شکر۔ ورنہ شکر نصیب نہیں ہوتا تو میں وہ آپ کو سناتا ہوں یہ بھی اللہ تعالی کی نعمت ہے اللہ پاک نے دی ہے ورنہ ہم کیا ہیں؟ ہماری کیا حیثیت ہے؟

نعمتیں جو بھی ملیں ان پہ ہو نصیب شکر
نعمتیں جو ہوں تو ان پر کرے قریب شکر

جو نعمتیں ہیں اللہ کرے کہ ہمیں اس پر شکر نصیب ہو جائے۔ اور اگر نعمتوں پر شکر نصیب ہو جائے تو اللہ تعالی کے قریب کر لیتا ہے۔ اللہ پاک شکر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ فائدہ شکر کرنے والے کو دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک یہ ہے کہ اس کی نعمت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اور اللہ جل شانہ اس کو پسند فرمانے لگتے ہیں۔ تو دونوں فائدے شکر کے ذریعے، اور یہ بڑی عجیب چیز ہے مطلب اور شیطان کا پورا زور اس پر ہے کہ لوگ شکر نہ کر سکیں۔ اس وجہ سے صبر بظاہر کہ تکلیف کی حالت میں ہے، وہ لوگوں کو نصیب ہو جاتا ہے۔ لیکن شکر باوجود اس کے کہ نعمت کی حالت میں ہے، وہ نصیب نہیں ہوتا۔ اور یہی وہ چیز ہے قرآن پاک کی اس آیت کی نشانی ہم لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ دیکھو شیطان نے کہا تھا کہ تم ان میں بہت کم کو شکر کرنے والا پائے گا۔ اور یہ بالکل پوری محنت اس کی اس پر ہے۔

نعمتیں جو بھی ملیں ان پہ ہو نصیب شکر
نعمتیں جو ہوں تو ان پر کرے قریب شکر

نعمتیں دنیا میں اور ان سے فائدہ ہو وہاں
تھوڑا سا دیکھ تو لیں کتنا ہے عجیب شکر

یعنی کھانا کھا لیا اس پر آپ کو روزے کا ثواب۔

نعمتیں جو بھی ملیں ان پہ ہو نصیب شکر
نعمتیں جو ہوں تو ان پر کرے قریب شکر

صبر سے شکر ہے مشکل پر اگر ہووے نصیب
خوش قسمتی ہے کہ یہ حق کا ہے نقیب شکر

نعمتیں جو بھی ملیں ان پہ ہو نصیب شکر
نعمتیں جو ہوں تو ان پر کرے قریب شکر

یہاں پر بھی وہی بات کی گئی ہے کہ صبر سے شکر مشکل ہے، لیکن اگر کسی کو نصیب ہو جائے۔ تو وہ پھر انسان کے لیے بہت ہی زیادہ مفید ہوتا ہے۔

شکر کر لو تو ہو حاضر نعمت مزید زیادہ
یہ سمجھنا ہے شیوۂِ قلبِ منیب شکر

شکر کر لو تو شکر کرنے سے جو موجودہ نعمتیں ہیں بڑھ جائیں گی۔ لیکن نصیب کس کو ہوگا؟ نصیب اس کو ہوگا جو قلبِ منیب ہوگا۔ یعنی اللہ کی طرف لوٹنے والا اللہ کی طرف رخ کرنے والا جو دل ہوگا۔ اس کو یہ شکر نصیب ہوگا۔ تو اس میں شکر کرنے کا گویا کہ ذریعہ بھی بتایا گیا ہے۔ اور شکر کرنے سے جو فائدہ ہوتا ہے وہ بھی بتایا گیا ہے۔ تو شکر کرنے کا فائدہ تو یہ ہے کہ نعمت مزید بڑھ جائے گی۔ لیکن یہ ویسے حاصل نہیں ہوگا یہ حاصل ہوگا قلبِ منیب کے ذریعے سے۔ تو قلب منیب کون سا ہے یعنی جو اللہ پاک کی طرف متوجہ ہونے والا دل ہے۔ یعنی یوں سمجھ لیجئے کہ اللہ تعالی کی طرف جو توجہ کرتا ہے اس کو یہ چیز ملتی ہے۔ تو اللہ کی طرف توجہ کس طرح ہوگی؟ ذرا غور فرما لیں ایک تو یہ ہے کہ دل دنیا کی محبت سے خالی ہو تب شکر ہوگا۔ کیونکہ دنیا کی محبت سے خالی نہیں ہوگا تو اس کو نظر ہوگی دوسروں کی دنیا پر۔ اس کو نظر ہوگی دوسروں کی دنیا پر۔ مثلاً میرے پاس ایک فیکٹری ہے تو اس پر نظر ہوگی جس کے پاس دو فیکٹریاں ہیں جس کے پاس تین فیکٹریاں ہیں۔ اب فیکٹری بڑی چیز ہے کسی کے پاس ہونا۔ لیکن اس کی نظر چونکہ دوسروں کی فیکٹریوں پہ ہے لہذا اس کو اپنی فیکٹری نظر نہیں آئے گی۔ احساس کمتری میں مبتلا ہوگا اور کہے گا بھئی یہ تو میں تو بہت کم ہوں حالانکہ اس سے بہت لوگ تو کم بھی ہیں۔ اس کو اس بات کا احساس نہیں ہوگا۔ تو دنیا کی محبت یا دنیا کی جو حرص ہے۔ وہ انسان کو شکر سے روکتی ہے۔ تو ایک تو یہ ہے کہ دل میں دنیا کی محبت نہ ہو تب اس کو شکر کی توفیق ہوگی۔

دوسری بات یہ ہے کہ وہ نفس جو ہے وہ صبر کر سکتا ہو نفس کو صبر کا مقام حاصل ہو نفس کو زہد کا مقام حاصل ہو پھر وہ شکر کر سکے گا۔ تو یہ مقاماتِ سلوک طے کرنے کے بعد ہوں گے۔ مقاماتِ سلوک جب تک طے نہیں ہوں اس وقت تک آپ کو کیسے مقامات مل سکتے ہیں؟ تو اس اس کی وجہ سے آپ کو شکر نہیں مل سکتا۔

اصل میں یہی وہ غلطی ہے بڑی جو عام لوگ کرتے ہیں۔ وہ جب قرآن پاک میں یہ پڑھتے ہیں لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ۔ اور اسی طرح "جو شکر کرتا ہے وہ اپنے آپ کے لئے کرتا ہے" اور اس طرح اللہ پاک شکر کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ یہ ساری آیات وہ پڑھتا ہے۔ حدیث شریف میں شکر کی فضیلتیں پڑھتا ہے تو کہتا ہے بس یہ کافی ہے نا ہو گیا نا شکر حاصل۔ ہو جاتا ہے ایسے حاصل؟ بھئی وہ تو تب حاصل ہوگا جب یہ چیزیں ہوں گی۔ ایک تو ہے علم حاصل ہو جانا علم حاصل ہو سکتا ہے، شکر کیا ہے اس سے کیا ہوگا یہ ساری چیزیں آپ کو علم حاصل ہو جائے گا۔ لیکن آپ کو شکر تب حاصل ہوگا جب آپ کو یہ چیزیں حاصل ہوں گی جب آپ کا دل دنیا کی محبت سے خالی ہوگا اور آپ یہ مقامات طے کر چکے ہوں۔ پھر آپ کو شکر حاصل ہوگا۔ تو گویا کہ یہ جو مقامات کو طے کرنے کا جو نظام ہے وہ جب تک آپ مانیں نہیں اس پر چلیں نہیں اس وقت تک آپ کے پاس theory ہے۔ practice نہیں ہے۔ practical نہیں ہے۔ practical اس وقت آئے گا جس وقت آپ یہ practical یہ چیزیں حاصل کریں گے مطلب یہ ان چیزوں پر سے گزریں گے۔ یہی اصل میں بنیادی چیز ہے جس کو سمجھانے کے لئے ہمیں بار بار یہ چیزیں کرنی پڑتی ہیں۔

نعمتیں جو بھی ملیں ان پہ ہو نصیب شکر
نعمتیں جو ہوں تو ان پر کرے قریب شکر

زندگی اس سے بنے کیسے خوشگوار شبیرؔ
اس میں چل جائے کسی وقت گر ریحِ طِیب شکر

زندگی کتنی خوشگوار ہو جائے گی۔ زندگی کتنی خوشگوار ہو جائے گی اگر اس میں ایسی ہوا چلے۔ جس میں شکر کی خوشبو ہو۔ جس میں جب اس میں ایسی ہوا چلے گی جس میں شکر کی خوشبو ہو تو وہ کتنی خوشگوار زندگی ہو جائے گی۔ خوشبو اصل میں ایک ایسی چیز ہے۔۔۔ خوشبو کو کیفیت کے ساتھ زیادہ تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ تو اگر شکر کی کیفیت کسی کو حاصل ہوگی، تو اس کی زندگی بڑی خوشگوار ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس چیز اگر تھوڑی بھی ہے لیکن اس کو شکر حاصل ہے۔ تو سُبحان اللهِ اس کو مطلب ظاہر ہے دکھ تو نہیں ہوگا وہ تو شکر جو کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کو اس کا احساس۔۔۔ تو وہ تھوڑی سی تھوڑی جس کو کہتے ہیں نا لذت ہے وہ بھی اس کو محسوس کر لے گا۔ جس طرح عاجزی رکھنے والا گناہ گار سے گناہ گار آدمی سے بھی حاصل کر لیتا ہے خیر۔ مثلاً ایک قاتل ہے۔ لیکن اس قاتل میں کوئی خوبی ہے۔ جیسے حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ جا رہے تھے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مریدوں کے ساتھ تو دیکھا کہ ایک ڈاکو جو تھا اس کو پھانسی دی گئی تھی۔ اور وہ ڈاکو ایسا تھا کہ اس کو کئی دفعہ پکڑا گیا پہلے اس کا بایاں ہاتھ کاٹا گیا پھر دایاں ہاتھ کاٹا گیا مختلف دوسرے موقع پہ پھر اس کا بایاں پیر کاٹا گیا پھر اس کے بعد دایاں پیر۔ لیکن وہ اپنی چیز سے باز نہیں آیا۔ وہ پھر کرتا رہا جب بھی اس کو موقع ملتا رہا۔ تو لٹکا ہوا تھا تو حضرت نے ان کے پیروں کو بوسہ دیا۔ تو لوگوں نے کہا حضرت یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ فرمایا جو اس کے اندر خوبی ہے میں نے اس کو بوسہ دیا ہے۔ اس نے کہا کیا خوبی ہے اس میں؟ انہوں نے کہا کاش اس کی یہ خوبی اسلام کے لیے استعمال ہو جاتی یعنی "جمے رہنا"۔ یہ جما رہا۔ اگر جمے رہنے کی خوبی اسلام کے لیے استعمال ہو جاتی تو یہ کہاں سے کہاں پہنچ جاتا۔ اب یہ چیز نظر کس کو آئی ہے۔ جنید بغدادی رحمۃ اللہ کو نظر آئی حالانکہ باقی لوگ بھی جا رہے تھے نا۔ (میں یہ عرض کرتا ہوں جتنی محنت ہم دنیا کے لیے کر رہے ہیں اگر یہ ہم آخرت کے لیے کر لیں تو سارے اولیاء نہیں بن جائیں گے؟ سارے اولیاء بن جائیں گے۔ اس کا نصف بھی کر لیں تو اولیاء اللہ بن جائیں گے۔ تو یہی بات ہے نا مل جائے تو مل جائے۔)

باقی لوگ بھی جا رہے تھے ان کو نظر نہیں آئی۔ نظر کس کو آئی؟ جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کو نظر آئی اس کی وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں عاجزی تھی۔ ان کو یہ چیز حاصل تھی خاک والی نسبت حاصل تھی۔ تو لہذا اس نے چوس لی اس نے۔ باقی لوگوں کو اس کے ڈاکے نظر آ رہے تھے اس کے گناہ نظر آ رہے تھے اس کی غلطیاں نظر آ رہی تھیں۔ ان کو اس میں سے وہ خوبی نظر آ گئی۔ تو جس طرح عاجزی والا شخص جس طرح عاجزی والا شخص وہ گناہگار سے گناہگار آدمی سے بھی خیر لے لیتا ہے۔ تو شکر والا شخص۔۔۔۔(اس کا مطلب یہ ہے کہ متکبر کو نبی سے بھی نہیں ملتا۔ شیطان کی بات ہے اَنَا خَيْرٌ مِنْهُ مثال ہے۔ آدم علیہ السلام جس کے لیے اللہ پاک خود فرما رہے ہیں کہ سجدہ کرو۔ اس سے بھی نہیں ملا۔ ابوجہل کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ملا، متکبر تھا) زندگی میں معمولی سے معمولی لذت ہے اس سے بھی فائدہ اٹھا لیتا ہے۔ اس کو بھی معمولی سے معمولی لذت ہے وہ بھی کام کر جاتی ہے۔ ورنہ جو شاکر نہیں ہوتے ان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے لیکن سکون نہیں ہوتا۔ اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے لیکن آرام نہیں ہوتا۔ اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے لیکن اطمینان نہیں ہوتا۔ اب بتاؤ جن کے پاس یہ چیزیں ہیں اور باقی چیزیں نہیں ہیں وہ اچھا ہے؟ یا جن کے پاس باقی چیزیں ہیں اور یہ چیزیں نہیں ہیں وہ اچھا ہے؟ آپ خود سوچیں۔ تو چیزوں سے اصل میں یہ چیزیں نہیں بنتیں، دل کی کیفیات سے یہ چیزیں بنتی ہیں۔ تو شکر بھی دل کی ایک کیفیت ہے نا۔ تو اس کیفیت سے ماشاءاللہ کیا سے کیا بن جاتا ہے۔ یہ والی بات ہے۔ واقعی یعنی شکر میں کہتا ہوں اس پہ تو میں سوچتا رہتا ہوں۔ یعنی شکر کی چیز پر کہ اتنی بڑی چیز ہے اور اتنی valuable ہے اور اس سے کیا کیا ملتا ہے۔ لیکن یہ نہیں ہے۔ بلکہ میں اکثر کہا کرتا ہوں اسے شکر تھراپی کا بھی کہتا ہوں شکر تھراپی۔ کہ مثال کے طور پر کسی کی آنکھ دکھ رہی ہے۔ تو اس پر شکر کرے کہ دوسری آنکھ تو ٹھیک ہے نا۔ مطلب اللہ کا فضل ہے کہ دوسری آنکھ ٹھیک ہے، یا کم از کم میرے کان ٹھیک ہیں۔ اب جب یہ شکر کرے گا تو نعمت بڑھے گی، تو نعمت کون سی ہے؟ جس پہ شکر کیا ہے، صحت پہ کیا ہے نا، تو صحت بڑھے گی۔ تو صحت بڑھے گی تو بیماری کم ہوگی۔ مطلب بیماری کنٹرول ہو جائے گی۔ تو یہ بات ہے کہ مطلب شکر بہت بڑی نعمت ہے۔

میں نے ایک اس کا نظارہ کیا ہے۔ ہماری ایک کزن تھی فوت ہو گئی ہے۔ وہ بہت شاکرہ تھی۔ غریب تھی لیکن بہت شاکرہ تھی۔ ہر وقت اس کی زبان پہ یہ ہوتا تھا۔ کہ یا اللہ میں تجھ سے راضی ہوں تو مجھ سے راضی ہو جا۔ یا اللہ میں تجھ سے راضی ہوں تو مجھ سے راضی ہو جا۔ تو یہ اس کی بات۔۔۔ اور ان کے گھر پہ جو کچھ ہوتا وہ دوسروں کے لیے ہوتا تھا۔ تو خیر ایسا ہے کہ فوت ہو گئی۔ تو ان کو اپنی بہن نے خواب میں دیکھا۔ اچھا ہمارے گھر کی خواتین ان سے الجھتی تھیں وہ کہتی تھیں کہ تو کیا کہہ رہی ہے؟ کہ اے اللہ میں تجھ سے راضی ہوں، راضی تو ہونا چاہیے۔ میں نے کہا بھئی تم کہتے ہو ہونا چاہیے،اور وہ ہے، تو ہے اور ہونا چاہیے میں بہت فرق ہے۔ خیر بہرحال یہ کہ وہ فوت ہو گئی تو ان کی بہن نے اس کو خواب میں دیکھا۔ خواب میں ان سے پوچھتی ہے کہ بہن کیا واقعی منکر نکیر آتے ہیں پوچھتے ہیں؟ اس نے کہا: ہاں میرے پاس بھی آئے تھے لیکن آ کر کہتے ہیں چلو تم سو جاؤ، تم سے نہیں پوچھتے۔ اور یہ واقعی بعض لوگوں کے بارے میں ہے احادیث شریف میں۔ کہ ان سے اس طرح کہا جائے گا۔ تو میں نے کہا دیکھو اس کو شکر کی بنیاد پہ ملا ہے۔ میں تجھ سے راضی ہوں تو مجھ سے راضی ہو جا۔ اور یقیناً جو اللہ سے راضی ہو قسم آدمی کھا سکتا ہے کہ اللہ اس سے راضی ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک اپنا ہاتھ اوپر رکھتا ہے۔ یعنی جو اللہ کی طرف ایک بالشت آتا ہے اللہ کی رحمت اس کی دو بالشت آتی ہے۔ جو اللہ کی طرف ایک ہاتھ آتا ہے اللہ کی رحمت اس کی طرف دو ہاتھ جاتی ہے۔ جو اللہ کی طرف چل کے آتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کی طرف دوڑ کے جاتی ہے۔ لفظ هَرْوَلَة ہے، هَرْوَلَة۔ یعنی بالکل جیسے بھاگ کے کوئی چیز جا رہی ہے۔

تو اس کا مطلب ہے کہ یہ بہت ہی آسان طریقہ ہے لیکن یہ شیطان نے اتنا مشکل بنا دیا ہے۔ اس نے باقاعدہ کہا، کہ میں ان کے سیدھے راستے میں بیٹھ جاؤں گا، دائیں سے آؤں گا، بائیں سے آؤں گا۔ پیچھے سے آؤں گا، آگے سے آؤں گا، ان کو تیرا نہیں بننے دوں گا، تو ان میں بہت کم کو شکر گزار پائے گا۔ تو یہ اس نے کہا ہے۔ تو اللہ پاک نے فرمایا ہو گئی بات۔ جو میرے ہیں ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اور جو تیری اتباع کریں، تو تجھ سے اور تیرے متبعین سے جہنم کو بھر دوں گا۔ اب دیکھیں، جو میرے ہیں وہ کون ہیں؟ جنہوں نے اپنے نفس کا علاج کیا ہے۔ جنہوں نے اپنے نفس کو بغاوت سے دور کر کے فرمانبرداری پر لے آئے ہیں، عبدیت اختیار کی ہے۔ تو یہ اللہ کے بندے ہیں۔

تو اب ظاہر ہے مطلب ہمارا کام کیا ہے؟ ہمیں اللہ کا بننا ہے۔ جب ایک دفعہ اللہ کے بن گئے پھر شیطان کا ہمارے اوپر کوئی بس نہیں چلے گا۔ تو اسی کے لیے ساری محنت ہے۔ تو بس ہمیں یہی کرنا ہے۔

لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ۔

اللہ نصیب فرمائے۔

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ۔ آپ نے کبھی اس دعا پہ غور کیا ہے کہ اس میں ہم کیا کہتے ہیں؟ "سُبْحَانَ اللهِ" تو ہم نے کہہ دیا نا کہ پاک ہے اللہ تعالی تمام عیوب سے۔ "وَبِحَمْدِكَ" اور تیری تعریف ہے وہی شکر والی بات ہو گئی۔ "لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ"۔ تیرے بغیر تو کوئی نہیں ہے "لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ"۔ ہاں تیری ہی۔۔۔ تجھ سے معافی چاہتے ہیں "أَسْتَغْفِرُكَ"۔ تو یہ مطلب گویا ہے کہ یہ محفل کا کفارہ ہے۔ جس محفل میں آپ بیٹھے ہیں تو ظاہر ہے کہ جو محفل اللہ کے ذکر کے بغیر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہ درود ک بے بغیر گزری ہو تو اس پہ تو انسان کو حسرت ہوگی۔ تو جب یہ دعا کر لیتے ہیں تو ماشاءاللہ کفارہ ہو جائے گا۔

سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ

شکرِ الٰہی: فضائل، برکات اور خوشگوار زندگی کا راز - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور