ربیع الاول کا پیغام: محبتِ رسول ﷺ، اتباعِ سنت اور بدعت سے اجتناب

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • ربیع الاول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت اور وفات کا مہینہ ہے، جس میں آپ کی یاد ہر مومن کے لیے ایک فطری بات ہے۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یاد کا بہترین اور قرآنی طریقہ یہ ہے کہ اہتمام کے ساتھ کثرت سے درود شریف پڑھا جائے۔
  • آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حقیقی محبت کوئی رسمی بات نہیں بلکہ آپ کے طریقے کو سرمایۂ حیات سمجھ کر اپنانے کا نام ہے۔
  • دین صحابہ کرام کا طریقہ ہے، جبکہ قرونِ اولیٰ میں کسی صحابی یا تابعی سے ولادت کا دن منانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
  • شریعت پر دل و جان سے عمل کرنا ضروری ہے اور اپنی من چاہی باتوں کو دین بنا کر بدعت میں مبتلا ہونا صریح گمراہی ہے۔
  • ربیع الاول کا مستقل پیغام یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے ساتھ آپ کی پیروی اور اطاعت کو بھی بڑھایا جائے۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

ربیع الاول کے مہینے میں، جو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ پاک اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا سے تشریف لے جانا، دونوں ثابت ہیں۔

ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ایک موقع پہ کہ ہمارے جو بزرگ ہیں وہ میلاد نہیں مناتے۔ لیکن خود میلاد بن جاتے ہیں۔ خود میلاد بن جاتے ہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد ان کو متاثر کرتی ہے۔ پھر میں تو کہتا ہوں ہر مومن کو متاثر کرتی ہے۔ جو بھی مومن ہوگا ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہوگی۔ اور جس کو بھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہوگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس وجہ سے بھی یاد آئیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر بھی ہوگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے کا عزم بھی ہوگا۔ یہ چیز گویا کہ ہمارے لیے ایک فطری بات ہے۔

اس وجہ سے ربیع الاول شروع ہو جائے اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یاد نہ آئیں، یہ بڑی عجیب بات ہے۔ تو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو یاد ہے، وہ، اس کا بہترین طریقہ جو ہے وہ تو درود شریف پڑھنا ہے۔ درود شریف پڑھنا ہے۔ درود شریف جو ہے یہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد کا وہ طریقہ ہے جو کہ قرآن میں اللہ جل شانہ نے حکم دیا ہے۔ ہر مومن کو، کہ اللہ تعالیٰ بھی محبت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور فرشتے بھی کرتے ہیں، تو اللہ پاک بھی درود بھیجتے رہتے ہیں فرشتے بھی، تو اے مومنو! تم بھی ان عظیم نبی پر درودِ پاک بھیجا کرو اہتمام کے ساتھ۔ لہذا ہم تو زیادہ بھیجا کریں گے ان شاء اللہ العزیز۔

تو یہ ربیع الاول کا جو مہینہ ہے، اس کا چونکہ تعلق ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ساتھ، اس وجہ سے اس کا یاد آنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ پھر پیر کے دن کا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذکر ہے، تعلق ہے۔ اسی لیے اس دن کا نام پیر ہے۔ کہ باقی دنوں کا پیر ہے۔ تو بہرحال، اس پر میرے کچھ کلام بھی ہیں، پیر کے دن پر۔

تو جو زیادہ مستند روایت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یومِ وفات کی، وہ یکم یا دو ربیع الاول ہے۔ یکم یا دو ربیع الاول ہے۔ اور زیادہ مستند روایت جو ولادت کی ہے، وہ آٹھ یا نو ربیع الاول ہے۔ یہ ایک دن کا جو فرق ہے، وہ natural فرق ہے۔ کہ جو ایک دن کا فرق پڑ جاتا ہے نا، ہو سکتا ہے مطلب اس میں، اندازے میں یا تاریخ کے آگے پیچھے غلطی ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے یا یکم ہے یا دو ہے۔ اور یا آٹھ ہے یا نو ہے۔

تو جیسے میں نے اپنے شیخ کی بات بتائی کہ ہم میلاد نہیں مناتے۔ میلاد نہیں مناتے، کیونکہ کوئی رسمی بات تھوڑی ہے کہ اس کو منایا جائے۔ کیا محبت کوئی مناتا ہے؟ کیا محبت کے منانے کی کوئی ترتیب ہوتی ہے؟ محبت ہوتی ہے۔ محبت منائی نہیں جاتی۔ جو محبت مناتے ہیں، وہ محبت رسمی کرتے ہیں۔ اور ان کو حقیقی محبت ہوتی ہی نہیں۔

کیونکہ حقیقی محبت جن کو بھی ہو، اس کے ساتھ فطری طور پر اس محبت کا جو تقاضا ہے وہ سامنے آئے گا، یعنی عمل۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اپنانا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو سب سے، اپنی نجات اور سرمایۂ حیات سمجھنا۔ فطری طور پر یہ ہو گا۔ اگر کسی کا اس کے ساتھ یہ نہیں ہے تو وہ صرف محض دعویٰ ہی دعویٰ رہ جاتا ہے۔ دعویٰ ہی دعویٰ رہ جاتا ہے۔

مثلاً کوئی کسی سے کہے کہ جی میں تو آپ کے ساتھ بہت محبت کروں، وہ کہتا ہے اچھا بازار سے میرے لیے فلاں چیز لاؤ، وہ کہتا ہے یہ تو مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ تو یہ کیسی محبت ہے؟ کیسی محبت ہے؟ مطلب محبت کا دعویٰ ہے لیکن حکم دے تو وہ، اس سے مجبور ہوں میں، وہ نہیں کر سکتا۔ کیسی محبت ہے؟

ایک تو نہیں کر سکتا عذر کی وجہ سے ہوتا ہے، ایک نہیں کر سکتا ارادے کی وجہ سے، یعنی ارادہ ہی نہیں ہے۔ تو جس کا ارادہ ہی نہ ہو تو اس کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟ ایک تو عذر ہے نا، جیسے مثال کے طور پر ایک آدمی لنگڑا ہے، اپاہج ہے، ہل ہی نہیں سکتا، معذور ہے، تو وہ کہہ سکتا ہے میں نہیں کر سکتا۔ یہ بات تو مانی جا سکتی ہے۔ لیکن ایک آدمی چل پھر سکتا ہے، سارا کچھ کر سکتا ہے، وہ کہتا ہے یہ مجھ سے نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب ہے کرنا ہی نہیں چاہتا۔ کرنا ہی نہیں چاہتا۔ تو ایسی صورت میں تو کوئی اشکال والی بات نہیں رہتی۔

تو اس وجہ سے ہم یہی کہتے ہیں کہ محبت تو منانی نہیں ہے۔ محبت ہوتی ہے۔ لہذا ہمیں بھی ربیع الاول کا مہینہ جب آتا ہے، تو الحمد للہ یہ ہمارے شیخ کا طریقہ ہے، ہم بھی الحمد للہ inspire ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے دل چاہتا ہے کہ درود شریف زیادہ پڑھیں۔ دل چاہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر زیادہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر زیادہ چلنے کی کوشش کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو جوش آتا ہے۔

ایک سوال ایک خاتون کا، جرمنی سے آیا ہے کہ کیا میں درود شریف میں مقابلہ ایک خاتون کا نام لیا اس کے ساتھ شروع کر لوں؟ میں نے کہا ضرور شروع کر لیں۔ ان کاموں میں تو مقابلے ہوتے ہیں۔ جیسے رمضان شریف میں حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے گھرانے کی خواتین آپس میں قرآن پاک کی تلاوت میں مقابلے کرتی تھیں۔ تو بس کر لو۔ میں نے کہا بالکل کرو۔

تو اس وجہ سے ہے کہ یہ والی بات ہے کہ درود شریف ہمارا الحمد للہ کافی تعداد میں پڑھا جاتا ہے۔ اس کے لیے Target جو ہم نے رکھا ہے ساتھیوں کے لیے، وہ یہ کہ سوا لاکھ مرتبہ اس مہینے میں پورا کر لیں۔ سوا لاکھ مرتبہ اس مہینے میں درود شریف پورا کر لیں۔ پھر الحمد للہ ویسے درود شریف خود بخود پہنچتا ہے۔ خود بخود پہنچتا ہے الحمد للہ، اس کے لیے hot line موجود ہے۔

لیکن اللہ پاک کا فضل ہے کہ ہمارے لیے اللہ پاک نے اور ذریعے بھی عطا فرمائے ہیں۔ ہمارے کچھ بزرگ مدینہ منورہ میں ہیں، ہم ان کو ٹیلیفون کرتے ہیں کہ اتنا درود شریف پڑھا گیا، وہ ہماری طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس پر پیش فرما لیں اور وہ پیش کر لیتے ہیں۔ الحمد للہ۔ اور وہاں سے بشارتیں بھی ہیں۔ الحمد للہ، الحمد للہ۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ ایک نظام اللہ پاک نے ہمیں دیا ہے۔ ایک بزرگ مکہ مکرمہ میں بیٹھا ہے، ایک بزرگ مدینہ منورہ میں بیٹھا ہے ہمارے بزرگ ہیں۔ الحمد للہ۔ تو یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہیں۔ تو اس طریقے سے ما شاء اللہ اس دفعہ بھی ہوگا اور لوگوں نے شروع بھی کر لیا ہے۔

الحمد للہ، سوا لاکھ مرتبہ جو درود شریف پڑھنا ہے، وہ تقریباً کتنا ہو جاتا ہے 30 دن میں؟ پانچ پانچ ہزار اگر روزانہ پڑھ لیا جائے تو، اور پانچ ہزار ویسے کوئی اتنا زیادہ نہیں ہے۔ وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ یہ اگر آپ پڑھیں، تقریباً تین ہزار مرتبہ ایک گھنٹے میں پڑھا جا سکتا ہے۔ تو دو گھنٹے کی بات ہے۔ اگر کوئی چلتے پھرتے بھی پڑھ لے تو ہو جاتا ہے، آسان ہے کیونکہ اتنا مشکل نہیں ہے۔ تو الحمد للہ ہمارے ساتھی پڑھیں گے۔

پیر کا دن

آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
اور پھر آپ کی رحلت پیر کے دن

مدینے میں بھی آمد پیر کے دن
اور ابتدائے ہجرت پیر کے دن

آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
اور پھر آپ کی رحلت پیر کے دن

ربیع اول میں سارے کام ہوئے یہ
بہت پائی ہے نعمت پیر کے دن

آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
اور پھر آپ کی رحلت پیر کے دن

صدیق کو اس کی خواہش تھی بہت ہی
کہ ان کی بھی ہو رحلت پیر کے دن

آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
اور پھر آپ کی رحلت پیر کے دن

بزرگی اس لئے اس نام میں ہے
ملی ہم کو سعادت پیر کے دن

آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
اور پھر آپ کی رحلت پیر کے دن

تو دل میں موجزن شبیرؔ کے ہے
تب آقا کی محبت پیر کے دن

آپ کی ہے ولادت پیر کے دن
اور پھر آپ کی رحلت پیر کے دن

ربیع الاول

ہے ماہِ ولادت ربیع الاول
سعادت سعادت ربیع الاول

مہینہ یہ آقا کی ہجرت کا ہے
بشارت بشارت ربیع الاول

ہے ماہِ ولادت ربیع الاول
سعادت سعادت ربیع الاول

اہم کام آقا کے اس میں ہوئے
محبت محبت ربیع الاول

ہے ماہِ ولادت ربیع الاول
سعادت سعادت ربیع الاول

خدا نے اسے چن لیا جب ہے تو
محبت کی دعوت ربیع الاول

ہے ماہِ ولادت ربیع الاول
سعادت سعادت ربیع الاول

اسی میں خدا نے بلایا بھی پاس
کہ ہے ماہِ رحلت ربیع الاول

ہے ماہِ ولادت ربیع الاول
سعادت سعادت ربیع الاول

ہو اس ماہ میں بدعت کو کیسے فروغ
کہ ہے ماہِ سنت ربیع الاول

ہے ماہِ ولادت ربیع الاول
سعادت سعادت ربیع الاول

سرِ مو ہٹے نہ سنت سے اُمت
یہ دیتا ہے دعوت ربیع الاول

ہے ماہِ ولادت ربیع الاول
سعادت سعادت ربیع الاول

صحابہ کے پیچھے چلو ہی چلو
کہے در حقیقت ربیع الاول

ہے ماہِ ولادت ربیع الاول
سعادت سعادت ربیع الاول

تو بدعت سے شبیرؔ ہمیں آئے گھن
سکھائے یہ نفرت ربیع الاول

ہے ماہِ ولادت ربیع الاول
سعادت سعادت ربیع الاول

مہینہ یہ آقا کی ہجرت کا ہے
بشارت بشارت ربیع الاول

ہے ماہِ ولادت ربیع الاول
سعادت سعادت ربیع الاول

الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے۔ اللہ پاک نے ہمیں جن بزرگوں کے ساتھ نسبت عطا فرمائی ہے، ان کو محبت بھی بہت زیادہ تھی، ان کو سنت کی اطاعت بھی بہت زیادہ تھی۔ الحمد للہ، کہ اللہ کا شکر ہے۔ یہ دونوں نعمتیں،

در کفے جامِ شریعت، در کفے سندانِ عشق
ہر ہوسناکے نہ داند جام و سنداں باختن

تو یہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارے بزرگوں کو یہ نعمت جو نصیب فرمائی، الحمد للہ ان حضرات کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی یہ نصیب فرمایا ہے۔ ہمارا بھی یہی طریقہ ہے کہ ربیع الاول میں ہم تجدید کریں اپنی صحت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ناطے سے، کہ ہم کسی بدعت میں نہیں پڑیں گے۔ اور ہم کسی بھی ایسے کام کو نہیں کریں گے جو شریعت کے خلاف ہو۔

کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک کے ساتھ محبت جو ہے، ان دونوں چیزوں کی متقاضی ہے، کہ ایک تو ہم شریعت پر چلیں دل و جان سے کیونکہ شریعت آپ ﷺ لائے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ہم بدعت میں کسی طریقے سے مبتلا نہ ہوں۔ کیونکہ كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قولِ مبارک ہے۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو محبت ہے اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک تو یہ بات ہے کہ جو اصل محبت کے طریقے ہیں ان میں ہم کمی نہ کریں۔ اور جو بدعتی طریقے ہیں ان پہ ہم پڑیں ہی نہیں۔

اب یہ مطلب یہ ہے کہ جو بدعتی طریقے ہیں، اب دیکھیں جیسے مثال کے طور پر صحابہ کرام رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِين، سے بڑے محبت والے کون تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ؟ سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا کہ صحابہ کرام سے زیادہ کوئی محبت کرے۔ اتنا عرصہ صحابہ کرام کا گزرا، آخری صحابی تک کسی نے بھی 12 ربیع الاول یا اس قسم کا دن نہیں منایا عید کے طور پر۔

ایک دفعہ بھی کوئی ثابت کر لے تو ہم ان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں کوئی مطلب وہ نہیں ہے۔ ہمیں تو ثبوت چاہیے۔ ہمیں تو دلیل چاہیے۔ ہمیں تو ثبوت چاہیے اگر ایک دفعہ بھی ہو تو ہم سو دفعہ کرنے کے لیے تیار ہیں، کوئی مشکل نہیں ہے۔ تو ایک دفعہ بھی کسی صحابی سے ثابت نہیں، ایک دفعہ کسی تابعی سے ثابت نہیں، ایک دفعہ کسی تبع تابعی سے ثابت نہیں اور یہ تینوں قرونِ اولیٰ ہیں۔ خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ۔ یہی بہترین زمانے تھے۔ ان بہترین زمانوں میں تو یہ ہوا نہیں۔ لہذا یہ دلیل کیسے بن سکتا ہے؟ اپنی من چاہی باتوں کو تو دین نہیں بنایا جا سکتا۔ اپنی من چاہی باتوں کو تو دین نہیں بنایا جا سکتا دین تو اوپر سے آتا ہے۔ دین نیچے سے اوپر نہیں جاتا۔ تو لہذا ہمارا جو دین ہے وہ صحابہ کرام کا طریقہ ہے۔ صحابہ کرام کے طریقے پہ چلنا ہے۔

یہ صرف اور صرف دو سو کے لگ بھگ سال پہلے ایک الملک المظفر نامی بادشاہ تھے جن کے حالات بہت خراب ہو گئے تھے اپنی بادشاہی کے، اور قریب تھا کہ لوگ بغاوت کر لیں۔ انہوں نے اس بغاوت کو اس طریقے سے دبایا کہ لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت تو ہے، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے لیے یہ طریقہ بنا دیا کہ اس کے لیے جلوس نکالنا شروع کر دیا، ان لوگوں کا رخ اس طرف پھیر دیا۔

یہ تو اس قسم کی بات ہے۔ اب اس کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔ بھئی چلو آپ کے نزدیک مستحب ہی سہی، مثال کے طور پر آپ کے نزدیک مستحب ہی سہی، کیونکہ آپ اس کو واجب اور فرض تو ثابت کر ہی نہیں سکتے، وہ تو ناممکن بات ہے نا۔ زیادہ سے زیادہ آپ کے نزدیک مستحب ہوگا۔ مستحب کے معاملے میں جو زور دیتا ہے اس پر کہ لازماً ہونا چاہیے، یہی لائقِ ترک ہے۔ مستحب کے اوپر جو زور دیتا ہے، اس کو چھوڑنا واجب ہو جاتا ہے۔ یعنی جو مستحب کو واجب بناتا ہے، اس کا ترک واجب ہوتا ہے، مشہور فقہ کا فارمولہ ہے نا۔ آپ کسی مفتی سے پوچھ لیں، کسی بھی عالم سے، کتابوں میں لکھا ہے، کہ جس مستحب پر اس طرح جزم کیا جائے کہ اگر اس کو کوئی نہ کرے تو ان سے ناراض ہو جائیں، اس کا ترک واجب ہو جائے گا۔

ایک دفعہ ایک بزرگ کے ساتھ، ایک بچہ بھی تہجد کی نماز کے لیے اٹھا، اپنے خاندان کا۔ تہجد پڑھی انہوں نے۔ بچہ بچہ تھا، اس نے کہا کہ بابا دیکھو یہ سارے لوگ سوئے ہوئے ہیں اور ہم نے تہجد پڑھ لی۔ تو اس بزرگ نے کہا، کاش تم بھی سوتے رہتے اور تہجد نہ پڑھتے، تمہارے لیے یہ اچھا تھا۔ کاش تم بھی سوتے رہتے اور تہجد نہ پڑھتے، تمہارے لیے اچھا تھا کیونکہ تمہاری یہ بات negative میں جا رہی ہے تمھاری اس سے زیادہ۔ تم نے باقی لوگوں کو کم سمجھا، یہ تمہارے نقصان کی بات ہے۔

تو اصل بات یہی ہے کہ ہم لوگوں کو دین چاہیے۔ ہم لوگوں کو دین چاہیے۔ دین کو دین کے طریقے پر ہی ثابت کرنا چاہیے۔ عوام کے طریقے پر نہیں کہ بہت سارے لوگ اس طرف ہیں۔ مجھے بتاؤ اس وقت 84 فیصد کم سے کم کافر ہیں۔ 84 فیصد۔ کم سے کم کافر کیا ہیں؟ 84 فیصد۔ مسلمان زیادہ ہے یا کافر؟ کافر زیادہ ہیں۔ تو کیا خیال ہے زیادہ تعداد پر فیصلہ ہو سکتا ہے کہ وہ ٹھیک ہوں گے؟ اگر یہ فیصلہ کریں گے تو پھر کدھر جائیں گے؟ یہ جمہوریت تھوڑی ہے، کہ جس طرف زیادہ لوگ ہیں تو وہ زیادہ اچھا ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ زیادہ لوگوں کی بنیاد پر نہیں ہے۔ حق کس کے ساتھ ہے، چاہے وہ ایک آدمی کیوں نہ ہو، جس کے ساتھ حق ہوگا وہ صحیح بات ہوگی۔

ورنہ صحیح بات میں عرض کرتا ہوں کہ اگر حق نہیں ہے تو بے شک کوئی کتنی زیادہ تعداد میں ہو یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔ تو میں اس لیے عرض کر رہا تھا کہ ہم لوگوں کا کام کیا ہے؟ ہم لوگوں کا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت۔ یہ ہمارا کام ہے۔ یہی ربیع الاول کا پیغام ہے۔ اسی میں ہم کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ بلکہ میری باتوں کا یہ مطلب بھی نہ لیا جائے کہ یہ صرف ربیع الاول میں ہے۔ ہے تو ہر سال، ہر دن، ہر گھنٹہ، ہر منٹ، ہر سیکنڈ۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ ربیع الاول میں ہم کریں اور باقی نہیں۔ نہیں، ربیع الاول یوں کہہ سکتے ہیں، یاد دلاتا ہے۔ بعض چیزیں یاد دلانے والی ہوتی ہیں، ربیع الاول اس کو یاد دلاتا ہے۔

تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو یعنی یہ لینا چاہیے، یہ پیغام کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو بھی بڑھانا چاہیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اطاعت بھی بڑھانا چاہیے۔ یہ دونوں کام ہیں۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ ہم لوگ اسی mission کو لیے ہوئے ہیں۔ تو میں ابھی آپ کو ایک طالب علم کی پڑھی ہوئی نعت بھی سنا دیتا ہوں۔ یہ نعت ایک طالب علم نے پڑھی ہے فی البدیہہ پڑھی ہے۔ فی البدیہہ سے مراد یہ کہ اس نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ لیکن اس کی محبت تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کو ما شاء اللہ بہت اچھا رکھا۔

محبت رسولﷺ کی

کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی
کتنا ہے ضروری متابعت رسول کی

یہ بات کتنی واضح ہے۔ اس میں کوئی اِدھر اُدھر ابہام ہے؟ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کتنی بڑی نعمت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کتنی ضروری ہے۔ اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت ہے؟

اب سارے طریقے جو ہیں منسوخ ہو گئے
اللہ کو پسند ہے سنت رسول کی

یہ جو طریقے منسوخ ہوئے کن کے طریقے تھے؟ یہ انبیاء کرام کے طریقے تھے۔ یعنی انبیاء کرام کے طریقے جو پرانے تھے وہ اب نہیں رہے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقوں نے ان کی جگہ لے لی۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں ان کا کوئی طریقہ باقی رہنے دیا گیا تو ہے اگر منسوخ ہوگیا تو اب وہ نہیں ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا اس وقت موسیٰ بھی اگر آتے، وہ بھی میرے طریقے پہ چلتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ مبارک ہے۔ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی اب آ جائیں، وہ بھی میرے طریقے پہ چلتے۔

تو اب دیکھ لو، پیغمبروں کا طریقہ اگر اللہ جل شانہ نے تبدیل کر دیا ہے اور اب سنت اصل ہے، تو ہمارا اور آپ کا طریقہ کدھر چلے گا؟ ہمارا اور آپ کا طریقہ کدھر چلے گا؟ کیسی عجیب بات کرتے ہیں لوگ۔

بدعت کی کیا حیثیت ہے؟ بدعت اسی کو تو کہتے ہیں، ہمارا طریقہ۔ جو ہم نے ایجاد کیا ہے۔ جس کو ہم دین سمجھتے ہیں، اس کو بدعت کہتے ہیں۔ اس چیز کو اللہ تعالیٰ نے، ظاہر ہے جب انبیاء کے طریقوں کو جو کہ بدعت نہیں تھے، دین تھا، اس کو چھوڑ دیا گیا، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، تو ہمارا طریقہ، اس کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں کہ اب تو دین بدل نہیں سکتا۔ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا اب تو مہر لگ گئی ہے۔ اب تو درمیان میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔

اللہ نے جو جمال و کمال ان کو دیا تھا
دل پر تو اس لئے ہے حکومت رسول کی

کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی
کتنا ہے ضروری متابعت رسول کی

معیار اب اچھے برے کا کیسے ہو مشکل
جب تجھ کو ہے معلوم شریعت رسول کی

یعنی اب درمیان میں کون سی باتیں کرتے ہو؟ اپنے ذہن کیوں لڑاتے ہو؟ اپنی عقل کیوں لڑاتے ہو؟ معیارِ حق موجود ہے، شریعت ہے۔ اب شریعت کے مطابق فیصلے کرو۔ اپنی باتیں پھر کیوں کرتے ہو؟

جب تجھ کو ہے معلوم شریعت رسول کی

جو ان کے بن گئے ہیں وہ اللہ کے بن گئے
اللہ کے ساتھ ہے کیسی حیثیت رسول کی

کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی
کتنا ہے ضروری متابعت رسول کی

شبیرؔ بن جا اب تو ان کا سچا متبع
مل جائے وہاں تجھ کو شفاعت رسول کی

کتنی بڑی نعمت ہے محبت رسول کی
کتنا ہے ضروری متابعت رسول کی