جہنم سے نجات: صدقے کی فضیلت اور بارگاہِ الٰہی میں جوابدہی

بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 200، حدیث نمبر: 139، اشاعتِ اول: 8 فروری، 2023 بمطابق 16 رجب، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • صدقے کی اہمیت اور فضیلت (خواہ وہ مقدار میں کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو)
  • روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کے روبرو براہِ راست پیشی اور ہم کلامی
  • میدانِ حشر میں انسان کو اپنے اعمال کا حاضر ملنا
  • اچھی اور بھلائی کی بات (کلمہ طیبہ) کا صدقہ ہونا
  • صدقے کی برکت سے دنیا اور آخرت کی تکالیف و بلاؤں کا ٹلنا
  • ذکر و اذکار (تسبیح، تحمید، تکبیر) اور جسم کے جوڑوں کے صدقے کی مختلف صورتیں

الْحَمْدُ للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔

جہنم سے اپنے آپ کو بچاؤ اگرچہ کھجور کا ٹکڑا صدقہ کرنے سے ہی کیوں نہ ہو

(139) الثَّالِثُ وَالْعِشْرُونَ: عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ» (متفق عليه) وَفِي رِوَايَةٍ لَهُمَا عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ»

ترجمہ: "حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے دوزخ سے بچ جاؤ اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا صدقہ کرنے سے۔" دونوں کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے ہر شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہم کلام ہوں گے درمیان میں کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ ہر شخص دائیں جانب دیکھے گا تو اس کو اپنے اعمال نظر آئیں گے اور بائیں جانب دیکھے گا تو اپنے اعمال دکھائی دیں گے اور اپنے سامنے دیکھے گا تو اس کو دوزخ دکھائی دے گی پس دوزخ سے بچ جاؤ اگرچہ کھجور کے آدھے حصہ سے ہی ہو، اور اگر یہ میسر نہ آ سکے تو وہ بہتر بات کا صدقہ کرے۔

تشریح: اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ: "دوزخ سے بچو اگرچہ کھجور کا ٹکڑا صدقہ کرنے سے" اس حدیث میں ترغیب ہے کہ آدمی اپنے اور جہنم کے درمیان رکاوٹ قائم کرے صدقہ کے ذریعہ سے، اگر وہ زیادہ صدقہ نہیں دے سکتا تو ایک کھجور ہی دے، اگر یہ بھی ممکن نہیں تو مبالغہ کہا گیا کہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی دے کر جہنم سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ: "اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا" اس میں انسانوں کو ڈرایا جا رہا ہے کہ گناہوں سے رک جاؤ کل قیامت کے دن اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہوگا اور اللہ کو جواب دینا ہوگا۔

فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ: ہر شخص دائیں جانب دیکھے گا تو اس کو اپنے اعمال نظر آئیں گے اسی طرح بائیں جانب دیکھے گا تب بھی اس کو اپنے اعمال ہی نظر آئیں گے۔ یہی مضمون قرآن کی اس آیت "وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِراً۔“ میں بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے دن آدمی اپنے سامنے اپنے اعمال کو حاضر پائے گا۔

فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ اگر کھجور کا ٹکڑا بھی نہ پائے تو اچھی بات کرے اچھی اور بھلائی کی بات کرے اس سے بھی آدمی جہنم سے بچے گا، یہ مضمون قرآن مجید کی ایک آیت میں بھی ملتا ہے ۔ ”قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى۔“ (اللّٰهُمَّ اهْدِنَا لأَطْيَبِ الْكَلَامِ وَوَفِّقْنَا لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ)

تخریج حدیث: اخرجه صحیح بخاری کتاب التوحيد، و صحیح مسلم کتاب الزکاۃ (باب الحثّ على الصدقة ولو بشق تمرة أو بكلمة طيبة وانها حجاب من النار) واحمد 18276/6 ، وترمذی وابن حبان 3311 ، والطبرانی 208/17 ، والبیہقی 176/4 ۔

صدقہ سے واقعی وہ بلائیں ٹلتی ہیں یہاں کی بھی اور وہاں کی بھی، یعنی وہاں عذاب ٹلتا ہے۔ تو اس وجہ سے صدقہ کرنا چاہیے، اور اگر کسی کے پاس کچھ بھی نہیں ہے تو پھر کچھ اچھی بات کرنی چاہیے۔ یہ بھی صدقہ ہے۔ جیسے کہ گزشتہ حدیثوں میں گزرا ہے کہ "سُبْحَانَ اللهِ" بھی صدقہ ہے، "الْحَمْدُ لِلّٰهِ" بھی صدقہ ہے، "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ" بھی صدقہ ہے۔ "اَللهُ أَكْبَرُ" کہنا بھی صدقہ ہے۔ تو اس کے بارے میں فرمایا گیا کہ انسان کے جسم کے تین سو ساٹھ جوڑ ہوتے ہیں، اور انسان کو چاہیے کہ وہ ہر جوڑ کا صدقہ کر لیا کرے۔ تو اس میں یہی بات ہے کہ اس کو مختلف طریقوں سے یہ صدقے کا ثواب حاصل ہو سکتا ہے۔ ورنہ یہ کہ چاشت کی نماز جو ہے، ان سب کی تلافی کر لے گی۔

تو مطلب یہ ہے کہ انسان کو اعمال ایسے کرنے چاہییں جس سے وہاں کی تکالیف سے بچ جائے اور اللہ جل شانہ ہم سب سے راضی ہو جائے۔ اللہ تعالی ہم سب کو ان تمام چیزوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اس پر عمل کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔