بارگاہِ رسالت ﷺ میں درود و سلام پہنچنے کے ذرائع اور فضائل
کتاب: فضائل درود شریف، اشاعت اول: 17 نومبر، 2023 بمطابق 2 جمادی الاول، 1445 ھ
- درود و سلام پہنچانے کے لیے اللہ کے مقرر کردہ گشت کرنے والے فرشتے (ملائکہ سیاحین)۔
- روضہ رسول ﷺ پر مقرر فرشتے کا درود پڑھنے والے اور اس کے والد کے نام کے ساتھ درود پیش کرنا۔
- درود شریف پڑھنے پر اللہ کی جانب سے دس گنا رحمتوں کا نزول۔
- جمعہ کے دن اور شبِ جمعہ درود پڑھنے پر سو حاجات کا پورا ہونا۔
- فرشتوں کے درود پہنچانے کے مختلف ذرائع اور ان پر اٹھنے والے اشکال کا تسلی بخش جواب۔
- اکابرین اور مشائخ کے وسیلے سے درود و سلام پیش کرنے کی سعادت۔
- ایک کشفی بشارت جس میں نبی کریم ﷺ کا درود قبول فرمانا اور جواب میں سلام عطا کرنا۔
الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ. أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ اِنَّ لِلّٰهِ مَلَئِكَةً سَيَّاحِيْنَ يُبَلِّغُوْنِيْ عَنْ اُمَّتِيَ السَّلَامَ۔ ابن مسعودؓ حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کے بہت سے فرشتے ایسے ہیں جو (زمین میں) پھرتے رہتے ہیں اور میری اُمت کی طرف سے مجھے سلام پہنچاتے ہیں۔ رواه النسائي وابن حبان في صحيحه كذا في الترغيب زاد في القول البديع احمد والحاكم وغيرهما وقال الحاكم صحيح الاسناد (فائدہ) اور بھی متعدد صحابہ کرامؓ سے یہ مضمون نقل کیا گیا ہے۔ علامہ سخاویؒ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت سے بھی یہی مضمون نقل کیا ہے کہ اللہ جل شانہ کے کچھ فرشتے زمین میں پھرتے رہتے ہیں جو میری اُمت کا درود مجھ تک پہنچاتے رہتے ہیں ترغیب میں حضرت امام حسنؓ سے حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ تم جہاں کہیں ہو مجھ پر درود پڑھتے رہا کرو بیشک تمہارا درود میرے پاس پہنچتا رہتا ہے اور حضرت انسؓ کی حدیث سے حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے جو کوئی مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ درود مجھ تک پہنچ جاتا ہے اور میں اُس کے بدلہ میں اُس پر درود بھیجتا ہوں اور اس کے علاوہ اس کیلئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں
مشکوٰۃ میں حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیث سے بھی حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ مجھ پر درود پڑھا کرو، اس لئے کہ تمہارا درود مجھ تک پہنچتا ہے۔
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ اِنَّ اللّٰهَ وَكَّلَ بِقَبْرِيْ مَلَكًا اَعْطَاهُ اَسْمَاعَ الْخَلَائِقِ فَلَا يُصَلِّي عَلَيَّ اَحَدٌ اِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ اِلَّا اَبْلَغَنِيْ بِاِسْمِهِ وَاسْمِ اَبِيْهِ هٰذَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَدْ صَلّٰى عَلَيْكَ۔ حضرت عمار بن یاسرؓ نے حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ اللہ جل شانہ نے ایک فرشتہ میری قبر پر مقرر کر رکھا ہے جس کو ساری مخلوق کی باتیں سُننے کی قدرت عطا فرما رکھی ہے پس جو شخص بھی مجھ پر قیامت تک درود بھیجتا ہے وہ فرشتہ مجھ کو اُس کا اور اُس کے باپ کا نام لے کر درود پہنچاتا ہے کہ فلاں شخص جو فلاں کا بیٹا ہے اُس نے آپ پر درود بھیجا ہے۔
﴿ف﴾ علامہ سخاویؒ نے قولِ بدیع میں بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ فلاں شخص جو فلاں کا بیٹا ہے اُس نے آپ پر درود بھیجا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ پھر اللہ جل شانہ اُس کے ہر درود کے بدلہ میں اس پر دس مرتبہ درود (رحمت) بھیجتے ہیں۔
ایک اور حدیث سے یہ مضمون نقل کیا ہے کہ اللہ جل شانہ نے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ کو ساری مخلوق کی بات سُننے کی قوت عطا فرمائی ہے وہ قیامت تک میری قبر پر متعین رہے گا، جب کوئی شخص مجھ پر درود بھیجیگا تو وہ فرشتہ اُس شخص کا اور اُس کے باپ کا نام لے کر مجھ سے کہتا ہے کہ فلاں نے جو فلاں کا بیٹا ہے آپ پر درود بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ شانہ نے مجھ سے یہ ذمّہ لیا ہے کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجیگا اللہ جل شانہ اُس پر دس دفعہ درود بھیجیں گے۔
ایک اور حدیث میں بھی یہی فرشتہ والا مضمون نقل کیا ہے اور اُس کے آخر میں مضمون ہے کہ میں نے اپنے رب سے یہ درخواست کی تھی کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے اللہ جل شانہ اُس پر دس دفعہ درود بھیجے ۔ حق تعالیٰ شانہ نے میری یہ درخواست قبول فرمالی۔ حضرت ابو امامہؓ کے واسطہ سے بھی حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ جل شانہ اس پر دس دفعہ درود (رحمت) بھیجتے ہیں اور ایک فرشتہ اُس پر مقرر ہوتا ہے جو اس درود کو مجھ تک پہنچاتا ہے۔
ایک جگہ حضرت انسؓ کی حدیث سے حضور اقدس ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص میرے اوپر جمعہ کے دن یا جمعہ کی شب میں درود بھیجے اللہ جل شانہ اُس کی سو حاجتیں پُوری کرتے ہیں اور اُس پر ایک فرشتہ مقرر کر دیتے ہیں جو اُس کو میری قبر میں مجھ تک اسی طرح پہنچاتا ہے جیسے تم لوگوں کے پاس ہدایا بھیجے جاتے ہیں۔
”اس حدیث پر یہ اشکال نہ کیا جائے کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک فرشتہ ہے جو قبر اطہر پر متعین ہے جو ساری دُنیا کے صلوٰۃ و سَلام حضور ﷺ تک پہنچاتا ہے۔ اور اس سے پہلی حدیث میں آیا تھا کہ اللہ کے بہت سے فرشتے زمین میں پھرتے رہتے ہیں جو حضور ﷺ تک اُمت کا سلام پہنچاتے رہتے ہیں۔ اس لئے کہ جو فرشتہ قبر اطہر پر متعین ہے اُس کا کام صرف یہی ہے کہ حضور ﷺ تک اُمت کا سلام پہنچاتا رہے۔ اور یہ فرشتے جو سَیَّاحِین ہیں یہ ذکر کے حلقوں کو تلاش کرتے رہتے ہیں اور جہاں کہیں درود ملتا ہے اُس کو حضور اقدس ﷺ تک پہنچاتے ہیں۔ اور یہ عام مشاہدہ ہے کہ کسی بڑے کی خدمت میں اگر کوئی پیام بھیجا جاتا ہے اور مجمع میں اُس کو ذکر کیا جاتا ہے تو ہر شخص اس میں فخر اور تقرّب سمجھتا ہے کہ وہ پیام پہنچائے۔ اپنے اکابر اور بزرگوں کے یہاں یہ منظر بارہا دیکھنے کی نوبت آئی۔ پھر سَیِّدُ الکَونین فَخْرُ الرُّسُل ﷺ کی پاک بارگاہ کا تو پوچھنا ہی کیا، اِس لئے جتنے بھی فرشتے پہنچائیں بر محل ہے
سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ یعنی جس، جتنے طریقوں سے بھی پہنچے تو، وہ برمحل ہے۔ جیسے ہم لوگ کرتے ہیں کہ، حضرت مولانا حضرت قاضی مرجان صاحب دامت برکاتہم کو بھیج دیتے ہیں اور وہ پھر پیش فرماتے ہیں ادھر۔ تو یہ بھی ایک راستہ ہے، ظاہر ہے، اب یہ کئی راستے ہیں۔ جیسے ابھی آپ نے سن لیا کہ ایک تو یہ ہے کہ ایک فرشتہ قبر شریف پر متعین ہے اور قیامت تک وہ درود سلام پہنچاتا رہے گا۔ تو ایک تو یہ ہے۔
دوسرا ملائکہ سیاحین، وہ بھیجتے رہتے ہیں۔ تیسرا وہاں جو پڑھتے ہیں خود، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سنتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کئی متعدد طریقے اللہ پاک نے اس میں پیدا فرمائے ہیں۔ تو اب اگر جو لوگ کہتے ہیں بھئی وہ پہلے سے وہ چیزیں موجود ہیں تو پھر اس کی کیا ضرورت ہے؟ تو یہ تو جیسے ابھی حضرت نے فرمایا، کہ پھر سید الکونین فخر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بارگاہ کا تو پوچھنا ہی کیا، اس لیے جتنے بھی فرشتے پہنچائیں برمحل ہے۔ تو جتنے ذرائع سے بھی کوئی کوشش کر لے تو یہ برمحل ہے۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ درود شریف بھیجنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ بڑی بات ہے۔ الحمد للہ، الحمد للہ، ثم الحمد للہ۔ بہت۔ اور سلام بھی، ما شاء اللہ جب کوئی بھیجتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سلام کا جواب بھی آتا ہے۔
لیکن ظاہر ہے مختلف طریقوں سے جو پہنچتا ہے، مختلف طریقوں سے جواب بھی آتا ہے، الحمد للہ۔ تو اب اللہ جل شانہ کے فضل و کرم سے ہم نے بھی یہ کوشش کی ہے، الحمد للہ اللہ تعالی نے فضل فرمایا اور حضرت تک بات پہنچ گئی۔ یہ کشفی واقعہ ہے، ظاہر ہے کشف ظنی ہوتا ہے، لیکن بہرحال، ظنی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ غلط ہوتا ہے، ہوتا ہی نہیں ہے۔ نہیں، اس کو اس طرح قطعی نہیں سمجھنا چاہیے، جس طرح قطعی قرآن اور حدیث کی بات ہوتی ہے۔ یہ ظنی ہے۔ تو ظنی ہے لیکن بہرحال ایک خبر ہے اور وہ یہ ہے کہ ہمارے حضرت نے اس کو پیش فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف قبول فرمایا مسکرا کر، بلکہ یہ فرمایا کہ جنہوں نے مجھ پر درود بھیجا ہے تو ان کو بھی، میرا سلام پہنچا دیں۔ تو الحمد للہ، الحمد للہ کوشش کی ہے کہ جتنے لوگوں تک ہم پہنچا سکیں، پہنچا دیں۔ آ، یہ اللہ تعالی کا فضل ہے اور احسان ہے، ہم پر، کہ اللہ تعالی نے ہمیں توفیق عطا فرمائی، اور یہ ذرائع بھی نصیب فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔