مَنیحَہ (عاریتاً جانور دینا) اور نفعِ رسانی

بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 199، حدیث نمبر: 138، اشاعتِ اول: 7 فروری، 2023 بمطابق 15 رجب، 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. اسلام میں لوگوں کو نفع پہنچانا ایک عظیم نیکی ہے، جس کی اعلیٰ ترین صورت ضرورت مند کو دودھ دینے والی بکری عطیہ کرنا ہے۔
  2. احادیث میں چالیس ایسی اچھی خصلتیں بیان کی گئی ہیں جن میں سے کسی ایک پر ثواب کی امید سے عمل کرنا جنت کا حق دار بناتا ہے۔
  3. علماء نے دیگر احادیث کی روشنی میں ان چالیس خصلتوں کو جمع کیا ہے جو عام زندگی میں دوسروں کو نفع پہنچانے کے مختلف طریقوں پر مشتمل ہیں۔
  4. ضرورت کے وقت دودھ دینے والا جانور کسی کو عاریتاً یا مستقلاً ہدیہ کرنا اعلیٰ ترین خصلت یعنی منیحہ کہلاتا ہے۔
  5. ضرورت مند کو روزمرہ استعمال کی اشیاء دینے سے منع کرنا بخل اور بری خصلت ہے، جب کہ ان کی فراہمی سخاوت کی بہترین قسم ہے۔

االْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

دودھ دینے والی بکری کو ہدیہ میں دینے کی فضیلت

(138) الثَّانِي وَالْعِشْرُونَ: عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْبَعُونَ خَصْلَةً أَعْلَاهَا مَنِيحَةُ الْعَنْزِ، مَا مِنْ عَامِلٍ يَعْمَلُ بِخَصْلَةٍ مِنْهَا رَجَاءَ ثَوَابِهَا وَتَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا إِلَّا أَدْخَلَهُ اللّٰهُ بِهَا الْجَنَّةَ» (رواه البخاري) الْمَنِيحَةُ أَنْ يُعْطِيَهُ إِيَّاهَا لِيَأْكُلَ لَبْنَهَا ثُمَّ يَرُدَّهَا إِلَيْهِ۔

ترجمہ: "حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چالیس خصلتیں ہیں، ان میں سے اعلیٰ خصلت کسی کو عاریۃً دودھ دینے والی بکری دے دینا ہے۔ جو شخص بھی انہیں میں سے کسی خصلت پر ثواب کی امید کرتے ہوئے اور اس کے وعدہ کو سچا جانتے ہوئے عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔"

منیحہ: اس جانور کو کہتے ہیں کہ کوئی شخص کسی کو بطور عطیہ دودھ کے لئے دے دے اور پھر وہ واپس کر دے۔

خصلۃ: بمعنی عادت، اچھی ہو یا بری، زیادہ استعمال اچھی عادت کے لئے ہے، جمع خصال۔ منیحۃ: بمعنی دودھ والا جانور کسی کو دینا تاکہ وہ دودھ پینے کے بعد اس کو واپس کر دے۔ العنز: مصدر بمعنی بکری، مادہ، چکور، ہرن، جمع عِناز و اَعْنُز و عُنُوز۔

تشریح: اَرْبَعُونَ خَصْلَةً: چالیس خصلتیں ہیں، مسند احمد کی روایت میں خصلۃ کی جگہ یہ حسنۃ کا لفظ آیا ہے۔ أَرْبَعُونَ: چالیس خصلتیں یا نیکیاں کون کون سی ہیں اس کو علماء نے احادیث سے جمع کیا ہے، ان میں سے چند یہ ہیں: کام کرنے والے کی مدد کرنا۔ جوتے کا تسمہ دینا۔ مسلمانوں کے عیوب کو چھپانا۔ مسلمانوں کے خوشی میں شامل ہونا۔ مجلس میں آنے والے کے لئے جگہ کشادہ کر دینا۔ بھلائی کی طرف رہنمائی کرنا۔ درخت لگانا۔ کھیتی باڑی کرنا۔ نصیحت کرنا۔ رحم کرنا۔ سلام کا جواب دینا۔ چھینک کا جواب دینا۔ راستہ سے تکلیف دینے والی چیزوں کا ہٹا دینا وغیرہ۔

أَعْلَاهَا مَنِيحَةُ الْعَنْزِ: ان خصلتوں میں سے سب سے اعلیٰ خصلت یہ ہے کہ کسی کو دودھ والی بکری دے دے۔

لفظ "منیحۃ" کی تحقیق علامہ ابوعبیدؒ فرماتے ہیں کہ مَنِيحَة یہ عَظِيمَة کے وزن پر ہے اور اس کے دو معنی آتے ہیں: کسی کو اس کی ضرورت کے وقت میں دودھ دینے والا جانور دے دے اور جب اس کی ضرورت پوری ہو جائے تو وہ اس کے مالک کو لوٹا دے۔ دوسرا یہ کہ دودھ دینے والا جانور مستقل ہدیہ کر دے مگر زیادہ استعمال اول والے معنی میں ہوتا ہے۔ تَصْدِيقَ مَوْعُودِهَا: اللہ کے وعدہ کو سچا جانتے ہوئے کہ اللہ اپنے وعدے میں سچے ہیں۔ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا: اور دوسری جگہ پر ارشادِ خداوندی ہے "وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيثًا" (سورہ النساء: 122) اللہ سے زیادہ کون سچا ہوگا "أَدْخَلَهُ اللّٰهُ بِهَا الْجَنَّةَ" تو اللہ نے اس شخص کے لئے جو جنت کا وعدہ کیا تو اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا فرمائیں گے۔

تخریج حدیث: اخرجه صحیح بخاری کتاب الہبۃ (باب فضل المنیحۃ)، واحمد 6846/2، وابوداؤد، وابن حبان 5095 والبیہقی 184/4۔

تو اس میں گویا کہ لوگوں کی نفع رسانی کے لیے چونکہ ہمیں نکالا گیا ہے نا، اور شروع بھی اسی سے ہوا ہے۔ تو یہ اس میں جو چالیس خصلتوں کے بارے میں ذکر ہے کہ لوگوں کو نفع پہنچانے میں، تو ان میں سے ایک یہ ہے کہ کسی کو ضرورت ہو دودھ کی تو اس کو دودھ والی بکری دے دی جائے تاکہ اس سے استفادہ کر لے، پھر بعد میں مالک کو لوٹا دے۔ تو یہ اچھی خصلت ہے، اس کے مقابلے میں جو بری خصلت ہے وہ قرآن پاک میں جو آیا ہے، سورۂ ماعون میں۔ مطلب یہ ہے کہ جو روزمرہ کے استعمال کی چیز کو بھی کوئی منع کر دے، کسی سے مانگ لی جائے اور وہ بھی نہ دے۔ تو یہ بری خصلت ہے، بخل کی قسم میں ہے۔ تو یہ سخاوت کی قسم ہے اور وہ بخل کی قسم ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیں سخاوت نصیب فرمائے اور بخل سے بچائے۔

مَنیحَہ (عاریتاً جانور دینا) اور نفعِ رسانی - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور