نیکی کی حرص: مسجد تک پیدل جانے اور واپس لوٹنے کا عظیم ثواب
بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 198، حدیث نمبر: 137، اشاعتِ اول: 6 فروری، 2023 بمطابق 14 رجب، 1444 ہجری
- نیکی اور ثواب کے حصول کی سچی تڑپ اور حرص۔
- مسجد کی طرف پیدل چل کر جانے اور ہر قدم پر ثواب ملنے کی فضیلت۔
- گھر جتنا مسجد سے دور ہو، قدموں کی کثرت کے باعث اجر میں اضافے کا بیان۔
- عمل کے ساتھ خالص نیت کی اہمیت اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامل اجر کی بشارت۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
نیکی کی حرص کرنے کے بارے میں
(137) الْحَادِي وَالْعِشْرُونَ: عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ لَا أَعْلَمُ رَجُلًا أَبْعَدَ مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْهُ، وَكَانَ لَا تُخْطِئُهُ صَلَاةٌ فَقِيلَ لَهُ، أَوْ فَقُلْتُ لَهُ: لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الظَّلْمَاءِ، وَفِي الرَّمْضَاءِ؟ فَقَالَ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ يُكْتَبَ لِي مَمْشَايَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَرُجُوعِي إِذَا رَجَعْتُ إِلَى أَهْلِي، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ جَمَعَ اللّٰهُ لَكَ ذَلِكَ كُلَّهُ» (رواه مسلم) وَفِي رِوَايَةٍ: «إِنَّ لَكَ مَا احْتَسَبْتَ» "الرَّمْضَاءُ" الْأَرْضُ الَّتِي أَصَابَهَا الْحَرُّ الشَّدِيدُ۔
ترجمہ: "حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کا گھر مسجد سے اتنا دور تھا کہ میرے علم میں کسی دوسرے انسان کا گھر اتنا دور نہیں تھا اور اس کی کوئی نماز (مسجد سے) خطا نہ ہوتی، چنانچہ اس سے کہا گیا یا میں نے اس کو کہا کہ تو ایک گدھا خرید لے کہ اندھیرے اور گرمی میں اس پر سوار ہو کر آیا کرے، اس نے کہا مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو، میں چاہتا ہوں کہ میرا مسجد کی طرف چل کر جانا اور واپس گھر آنا (میرے نامہ اعمال میں) لکھا جائے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے اللہ نے ان تمام چیزوں کو جمع کر دیا ہے۔" ایک روایت میں ہے کہ تجھے تیری نیت کے مطابق ثواب ملے گا۔ الرمضاء: تپتی ہوئی زمین۔ الظلماء: بمعنی تاریکی، رات کا پہلا حصہ۔
تشریح: جتنا گھر مسجد سے دور ہوگا اتنا زیادہ ثواب ہوگا
کیوں کہ قدم زیادہ پڑے ہیں۔
اس حدیث شریف میں ترغیب ہے کہ آدمی کا گھر جہاں ہو وہیں رہے مسجد کی دوری سے نہ گھبرائے یہ دوری بھی باعث ثواب بنتی ہے کہ گھر سے مسجد کی طرف جانا اور مسجد سے واپس گھر کی طرف آنا ان سب میں اس کو اللہ کی طرف سے اجر و ثواب ملتا ہے، ایک دوسری روایت میں ارشادِ نبوی ﷺ ہے: "الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ أَعْظَمُ" مسجد میں جو جس قدر دور سے آتا ہے اس کو اتنا ہی اجر ملتا ہے۔ فِي الظَّلْمَاءِ: اس سے رات والی نمازیں یعنی فجر، عشاء اور مغرب کی نمازیں مراد ہیں۔
اور فرمایا:
تشریح: ققَدْ جَمَعَ اللّٰهُ لَكَ ذَلِكَ كُلَّهُ: "تیرے لئے اللہ نے تمام چیزوں کو جمع کر دیا" یعنی تمہاری نیت بھی اچھی ہے اور ارادہ بھی صحیح ہے اسی لئے اس پر اللہ کی طرف سے ثواب کامل ہوگا۔
تخریج حدیث: صحیح مسلم کتاب المساجد (باب فضل کثرۃ الخطاء الی المساجد) و ابوداؤد و ابن ماجة۔
صَدَقَ ٱللهُ ٱلْعَلِيُّ ٱلْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ ٱلنَّبِيُّ ٱلْكَرِيمُ۔