عقیدہ، عمل اور کیفیت کی اصلاح اور ایمان بالغیب کی حقیقت

اشاعتِ اول: 21 فروری، 2018 بمطابق 4 جمادی الثانی 1439 ہجری دفتر اول، مکتوبات: 271 اور 272

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ، وَٱلصَّلَاةُ وَٱلسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ ٱلنَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيْطَانِ ٱلرَّجِيمِ، بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ۔

آج بدھ کا دن ہے اور بدھ کے دن ہمارے ہاں حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے مکتوبات شریف کا درس ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہ حضرت کے جملہ فیوض و برکات سے ہمیں مستفید فرمائے۔

بہت اعلیٰ مضامین ہیں اس میں، بقول حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، کہ یہ بہت اہم مضامین اس میں ہیں اور لوگ اس سے غافل ہیں، وہ کسی اور جگہ نہیں ملتے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

دفتر اول مکتوب 271

شیخ حسن برکی کی طرف صادر فرمایا۔ ایک واقعہ کے استفسار کے حل میں جو انہوں نے دیکھا تھا۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی اللہ تعالیٰ کی حمد ہے اور اس کے برگزیدہ بندوں پر سلام ہو۔ میرے عزیز بھائی شیخ حسن کا مکتوب شریف موصول ہوا، اللہ تعالیٰ اس کے یعنی آپ کے حال کو اچھا کرے اور اپنے کمال تک پہنچائے۔ جو واقعہ آپ پر ظاہر ہوا اور آپ نے تحریر کیا تھا اس کا حال واضح ہوا، آپ اس کے (امید وار رہیں، اور جو کچھ) ذکر آپ کو امر کیا گیا ہے اس کی بجا آوری میں پوری تندہی سے کوشش کریں اور احکام شرعیہ کو بجا لانے میں بال برابر بھی تجاوز نہ کریں اور اہلِ سنت و جماعت کے عقائدِ حقہ کے ساتھ اپنے آپ کو آراستہ رکھیں۔

کارِ این است وغیرِ ایں ہمہ ہیچ ترجمہ: کام بس یہ ہے اور باقی ہیچ

اگر آپ کے والدین اور بھائی بھی راضی ہوں تو ہندوستان کی سیر کو غنیمت شمار کریں۔ و السلام

یہ مطلب یہ ہے کہ دعوت کا اپنا انداز ہے نا حضرت کا۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ واقعتاً یہ حضرت نے دو جملوں میں ہی ساری بات فرما دی۔ اہلِ سنت والجماعت، اہلِ سنت والجماعت ہے کیا، آپ کو پتہ ہے؟ اہلِ سنت والجماعت! یہ یہی ﴿مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي﴾ ہے۔ صحابہ کی جماعت اور سنت۔ اہلِ سنت والجماعت جو ہم کہتے ہیں، تو یہ عقائد کے لحاظ سے۔ مطلب عقیدے کے لحاظ سے؛ کیونکہ اس میں تو کمزور سے کمزور آدمی بھی اہلِ سنت والجماعت ہے نا، عمل کے لحاظ سے تو کمزور سے کمزور آدمی بھی تو عقیدہ چونکہ اہلِ سنت والجماعت ہے اس کو تو نکال تو نہیں سکتے۔ ایک آدمی کا عقیدہ اہلِ سنت والجماعت کا ہے، اور ایک نماز بھی نہیں پڑھتا۔ اور دوسرے آدمی کا عقیدہ اہلِ سنت والجماعت کا نہیں ہے، وہ پانچوں نمازیں کیا بلکہ تہجد بھی پڑھتا ہے، اور سارا دن نوافل پڑھتا ہے۔ کیا وہ اس کے برابر ہو سکتا ہے؟ وہی، وہی چیز مطلب ذہن میں لائیں۔ تو عقیدے کے لحاظ سے اہلِ سنت والجماعت جو ہیں، وہ ایک پورا group ہے۔

پھر اس کے بعد ان کے اندر پھر sub-groups ہیں۔ پھر اعمال کے درجات ہیں۔ اعمال کے درجات ہیں۔ پھر کیفیات کے درجات ہیں۔ تو ہم لوگ صرف عقائد تک اپنے آپ کو محدود نہ رکھیں۔ اپنے اعمال کو بھی صحابہ کرام کے اعمال کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔ اور اپنی کیفیات کو بھی صحابہ کرام کی کیفیات کے مطابق بنانے کی کوشش کریں۔ اور یہ اس وقت ہوگا، یہ اس وقت ہوگا جس وقت انسان کی مکمل اصلاح ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے، تو اس کا مطلب کیا ہے کہ نفس کی مکمل اصلاح ہو جائے۔ یعنی نفس، نفسِ مطمئنہ ہو جائے۔ قلب کی مکمل اصلاح ہو جائے، قلبِ سلیم بن جائے۔ اور عقل کی مکمل اصلاح ہو جائے، عقلِ فہیم بن جائے۔ یہ تینوں چیزیں جب واقع ہو جاتی ہیں، تو یہ کہتے ہیں سیر الی اللہ طے ہو گیا۔ سیر الی اللہ طے ہو گیا۔

اب اس کے بعد وہ سیر فی اللہ میں آ گیا۔ یہ جو سیر فی اللہ ہے، یہی طریقِ صحابہ ہے۔ یعنی صحابہ کے اعمال کو صحیح انداز میں کرنے والے لوگ یہی ہیں۔ کیونکہ نفس کی مخالفت ختم ہو گئی، دل کی شرح حاصل ہو گئی ہے، اور عقل کی سمجھ حاصل ہو گئی ہے۔ یہ تینوں جب یعنی صحابہ کا طریقہ سمجھتے بھی ہیں، اور دل بھی اس کے لیے کھلا ہوا ہے، اور ساتھ نفس بھی مطمئن ہے، تو یہ صحیح معنوں میں طریقِ صحابہ پہ چل پڑے ہیں۔ لیکن جو عقیدے کے لحاظ سے اہلِ سنت والجماعت ہیں، تو یقیناً وہ اہلِ سنت والجماعت ہی ہیں، لیکن اصل جو صحابہ کرام کی طرف چلنے والے لوگ ہیں، یہ آخری ہیں۔ تو ہم لوگ ان کی ناقدری بھی نہیں کر سکتے جو عقیدے کے لحاظ سے اہلِ سنت والجماعت ہیں۔ پھر اس کے بعد جو عمل کر رہے ہیں اعمالِ اہلِ سنت والجماعت کا، ان کی ناقدری بھی نہیں کر سکتے۔ مثلاً کوئی پانچ نماز پڑھتا ہے دوسرا آدمی تین نمازیں پڑھتا ہے، تو اعمال کے لحاظ سے پانچ والا آگے ہے۔ لیکن ایک آدمی نماز بغیر خشوع کے پڑھتا ہے، اور دوسرا آدمی خشوع کے ساتھ پڑھتا ہے، تو خشوع والے اس سے آگے۔

اب خشوع کیوں نہیں ہوتا؟ کیونکہ نفس مانتا نہیں ہے، نفس ادھر ادھر چرتا ہے۔ تو ایسی صورت میں وہ خشوع والا نہیں رہتا، جب خشوع والا نہیں رہتا تو اس کی نماز کی وہ قیمت نہیں رہتی۔ اس طرح باقی اعمال کی بھی نہیں۔ تو اس وجہ سے ان تینوں stages کو پار کرنا پڑے گا۔ عقیدہ بھی صحیح ہو اہلِ سنت والجماعت کا ہو، عمل بھی صحیح ہو اہلِ سنت والجماعت کا ہو، اور کیفیت بھی اہلِ سنت والجماعت کی ہو، یعنی صحابہ کی۔ عقیدہ صحابہ کا، عمل صحابہ کا، اور کیفیت صحابہ کی۔ ان تینوں کو حاصل کرنا ہے۔ تو حضرت اس پر زور دے رہے ہیں۔ سبحان اللہ۔

دفتر اول مکتوب 272

میر سید محب اللہ مانک پوری کی طرف صادر فرمایا۔ ایمان بالغیب اور ایمانِ شہودی کے بیان میں (سبحان اللہ) اور ان میں سے ہر ایک کے اصحاب کے بیان میں جو ایمان بالغیب کو ایمانِ شہادت پر فضیلت دیتے ہیں، اور توحیدِ شہودی و توحیدِ وجودی کے بیان میں، اور اس بیان میں کہ ”فنا“ کے حاصل ہونے میں توحیدِ شہودی در کار ہے، توحیدِ وجودی در کار نہیں، اور اس بیان میں کہ اول شخص جس نے توحیدِ وجودی کا اظہار کیا اور اس کو صراحت سے بیان کیا وہ "صاحبِ فتوحاتِ مکیہ" ہیں، اگرچہ گزشتہ مشائخ کی عبارات بھی توحید و اتحاد کی خبر دیتی ہیں لیکن وہ توحیدِ شہودی پر محمول ہیں، اور اس کے مناسب بیان میں۔

حمد و صلوۃ کے بعد سیادت پناہ برادر عزیز میر محب اللہ کو واضح ہو کہ واجب الوجود تعالیٰ کی ذات پاک اور اس کی تمام صفات کے ساتھ غیب پر ایمان لانا انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات اور ان کے اصحاب اور وہ اولیاء جو بتمام و کمال رجوع رکھتے ہیں ان کا حصہ ہے، اور ان کی نسبت اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی سی ہے، (یہ آگئی نا بات) اگرچہ یہ قلیل ہیں بلکہ اقلّ ہیں، اور وہ علماء اور عامہ مومنین کا حصہ ہے اور ایمانِ شہودی عامہ صوفیہ کے نصیب ہے، خواہ وہ اربابِ عزلت (گوشہ نشین) ہوں یا اربابِ عشرت (لوگوں کے ساتھ رہنے والے) کیونکہ اربابِ عشرت خواہ کتنے ہی مرجوع (رجوع کرنے والے) ہوں لیکن انہوں نے کامل طور پر رجوع نہیں کیا ہے، لہذا ان کا باطن اسی طرح فوق کی طرف نگراں ہے یعنی ظاہر میں وہ مخلوق کے ساتھ ہیں اور باطن میں حق جل سلطانہٗ کے ساتھ، لہذا ہر وقت ایمانِ شہودی ان کی شان ہے۔ انبیاء علیہم الصلوات و التسلیمات چونکہ پورے طور پر مرجوع ہیں لہذا وہ ظاہر اور باطن میں مخلوق کو حق جل و علا کی طرف دعوت دینے میں متوجہ ہیں اس لئے ایمان بالغیب ان کے شایان شان ہے۔

بڑا مشکل مضمون ہے یہ جو آ رہا ہے۔ یہ آسان نہیں ہے اس کو سمجھنے کے لیے کافی جدوجہد کرنی پڑے گی۔

منتہی مرجوع! ایک لفظ ہے حضرت کے ہاں ہے "منتہی مرجوع"۔ منتہی مرجوع وہ ہوتا ہے جب انسان اپنے نفس سے چھٹکارا پا لیتا ہے، نفس کی resistance اس کی ختم ہو جاتی ہے، نفس کے جال اس کے ٹوٹ جاتے ہیں۔ یعنی نفسِ مطمئنہ اس کو حاصل ہو گیا۔ اور ساتھ ساتھ قلبِ سلیم بھی اس کو حاصل ہو گیا، اور ساتھ ساتھ عقلِ فہیم بھی اس کو حاصل ہو گیا۔ سیر الی اللہ مکمل ہو گیا، اور پھر اس کے بعد شیخ کے ذریعے سے اس کو اطلاع مل گئی کہ اب اپنا رخ مخلوق کی طرف موڑو۔ ابھی تک اس کا رخ خالق کی طرف تھا، سیر الی اللہ تھا نا، مطلب خالق کی طرف تھا، اب اس کا رخ مخلوق کی طرف موڑا جاتا ہے، دعوت کے لیے۔

دعوت کے لیے! فرمایا کہ جو بعد والے لوگ ہیں، صوفیاء جو بعد میں آنے والے ہیں، یہ اگرچہ منتہی مرجوع ہی کیوں نہ ہوں، لیکن یہ اللہ کی طرف بھی توجہ رکھتے ہیں اور مخلوق کی طرف بھی توجہ رکھتے ہیں۔ لیکن جو انبیاء ہیں، وہ پورے کے پورے توجہ مخلوق کی طرف رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پورے کے پورے اللہ کے بن چکے ہوتے ہیں، اور جو اللہ کرتے ہیں وہ وہی کرتے ہیں۔ یعنی جو اللہ کرتے ہیں وہ وہی کرتے ہیں۔ وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتے۔ تو گویا وہ اللہ کے حکم سے مخلوق کی طرف پورے کے پورے متوجہ ہیں۔ اور باقی حضرات ایسے نہیں ہیں۔ تو یہ جو بات ہے بہت مشکل بات ہے سمجھنا۔

اس کو میں سمجھانے کے لیے یہ عرض کرتا ہوں، سائنسی چیز۔ کہتے ہیں شمع جو ہے، شمع جو نظر آ رہی ہے، وہ اتنی hot نہیں ہے۔ جو اس کا اوپر کا جو حصہ ہوتا ہے نا، جو نظر نہیں آ رہا، اور شمع کے لو کے قریب ہے، وہ جتنا hot ہے۔ اگر thermostat آپ دونوں جگہ پہ رکھ دیں، تو جو شمع والا حصہ ہے، جو glowing حصہ ہے جو نظر آتا ہے، اس کا temperature کم ہوگا، کئی کم ہوگا اس temperature سے جو اس کے شعلے کے اوپر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شعلہ نظر آ رہا ہے، وہ، اس میں کچھ اَن جلے... اَن جلے ذرات ہیں! اور جب تک کوئی چیز مادی طور پر موجود نہ ہو، material، تو وہ energy جو ہے وہ نظر نہیں آتی۔ تو جب وہ matter موجود ہوتا ہے، تو وہ energy اس کو glow کر لیتی ہے، اس کو ظاہر کر لیتی ہے۔ وہ ظاہر ہو جاتی ہے۔ تو کوئی چیز موجود ہے تبھی تک آپ کو نظر آ رہا ہے۔ کوئی چیز موجود ہے تبھی تو آپ کو نظر آ رہا ہے۔ جو visual ہی نہیں ہے، تو اب دیکھ لو نظر تو آپ کو وہ آ رہا ہے، نظر تو آپ کو وہ آ رہا ہے۔ لیکن اصل تو وہ لوگ ہیں جو اوپر ہیں تھوڑے سے ان سے، جو کہ مکمل جلے ہوئے ہیں! جو مکمل جلے ہوئے ہیں۔ ان کا معاملہ مختلف ہے۔ یہ چیز۔

ہمارے ایک بڑے بزرگ ہیں، اس نے یہ فرمایا کہ مبتدی، متوسط اور منتہی اس میں عوام جن سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں وہ متوسط ہوتے ہیں۔ ان سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے جو کام ہوتے ہیں وہ لوگوں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں۔ کیسے؟ مثلاً بیٹا فوت ہو گیا اور وہ ہنس رہا ہے، بس اللہ کی مرضی۔ اور جو مبتدی ہے وہ بھی رو رہا ہے، اور جو منتہی ہے وہ بھی رو رہا ہے۔ لہٰذا لوگ جو ہے، وہ مبتدی اور منتہی دونوں کو ایک سمجھ لیتے ہیں۔ اور جو متوسط ہے وہ تو prominent نمایاں ہو گیا، کہ یہ تو دیکھو نا، اس موقع پر بھی ہنس رہا ہے۔ یہ بڑا ہے۔

حالانکہ حضرت نے فرمایا اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ہری بھری فصل جو آنکھوں کو بڑی اچھی لگتی ہے۔ اور ایک پکی فصل۔ پکی فصل کو اگر آپ کاٹتے ہیں، تو اصل چیز اس کے پاس ہے، پکا دانہ اس کے پاس ہے۔ اور اگر آپ ہری بھری فصل کاٹتے ہیں، تو سوائے چارے کے اس کا کیا کام ہے؟ اس کے اندر تو کچھ بھی نہیں ہے۔ تو کیا خیال ہے، مجذوب متمکن اگر اپنے آپ کو کامل سمجھے، تو کیا ہوگا؟ وہ یہی چیز ہوگی، اس کے پاس کچھ نہیں ہوگا۔

لیکن جو منتہی مرجوع ہوتا ہے اس کو لوگ اگرچہ کچھ نہیں سمجھتے، کیوں؟ روتا وہ ہے اپنے نفس کی وجہ سے، مبتدی۔ اور جو منتہی ہے وہ اللہ کے لیے روتا ہے کہ اللہ پاک کے سامنے میں اپنی عاجزی کا اظہار کر لوں۔ اللہ پاک نے مجھے جو غم دیا ہے تو غم کا بھی حق ہے۔ میں اس حق کو پورا کر لوں۔ وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ تیرے جانے سے غم زدہ ہوں۔ اور آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے ہیں۔ تو کسی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ بھی روتے ہیں؟ فرمایا، ہاں یہ اللہ کی رحمت ہے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے۔

تو یہ والی بات ہے۔ اب یہ جو ہوتے ہیں، یعنی واصل، جو منتہی ہوتے ہیں، وہ تو ہر موقع کا حق ادا کرتے ہیں۔ غم کا بھی حق ادا کرتے ہیں، خوشی کا بھی حق ادا کرتے ہیں۔ تکلیف کا بھی حق ادا کرتے ہیں، آسانی کا بھی حق ادا کرتے ہیں۔ بزرگوں نے بڑی اچھی اچھی باتیں کی ہیں۔ فرمایا بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ظاہری اعمال اتنے نہیں ہوتے، یعنی نوافل کے لحاظ سے یا کچھ اور نمایاں چیزیں نہیں ہوتیں۔ لیکن ان کا دل کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا سیدھا ہوتا ہے، کہ وہ اندر ہی اندر ترقی کرتے جاتے ہیں، لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ یہ کہاں پہنچے ہوئے ہیں۔ صرف جن کو پتہ چلتا ہے، ان کو پتہ چلتا ہے۔

ہمارے بزرگوں نے ایسے لوگوں کو قلندر کہا ہے۔ ہمارے بزرگوں نے ایسے لوگوں کو قلندر کہا ہے۔ قلندر یہی ہوتے ہیں۔ عام لوگوں نے قلندر شریعت کو چھوڑنے والوں کو کہا ہے۔ وہ مجذوبوں کو قلندر کہتے ہیں۔ مجذوب اور ہیں، قلندر اور ہیں۔ مجذوب اور ہیں، قلندر اور ہیں۔ قلندر وہ ہیں جن کے قلبی اعمال، قالبی اعمال پر زیادہ غالب ہوں، نوافل کے درجے میں، فرائض میں نہیں۔ فرائض تو وہ سب کو کرنے ہوتے ہیں۔ فرائض سب کو کرنے ہوتے ہیں نوافل کے معاملے میں۔ کیونکہ ہر چیز کے اندر فرض و نفل کا درجہ ہے۔ مثلاً شکر میں فرض کا درجہ بھی ہوگا، نفل کا درجہ بھی ہوگا۔ صبر میں فرض کا درجہ بھی ہوگا، نفل کا درجہ بھی ہوگا۔ اخلاص میں۔ اب یہ تمام چیزیں جو ہیں تو وہ جو ہیں، جو قلبی اعمال کے جو نوافل ہیں، اس میں آگے ہوتے ہیں۔ اور باقی لوگ قالبی اعمال کے نوافل میں زیادہ آگے ہوتے ہیں۔

تو ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ ایسا سیدھا ہوتا ہے کہ وہ غم میں، خوشی میں، راحت میں، ملنے جلنے میں، تمام چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا معاملہ ہوتا ہے کہ وہ کسی وقت ہٹتے نہیں ہیں۔ کسی وقت ہٹتے نہیں ہیں۔

صنما! رہِ قلندر سزد ار بہ من نمائی
کہ دراز و دور دیدم رہ و رسمِ پارسائی

اے صنم! مجھے تو قلندر کا راستہ دکھا دو، یہ پارسائی والا راستہ تو مجھ سے بڑا لمبا ہے طے نہیں ہو رہا۔ یہ اصل میں لوگ اس کو غلط مطلب۔۔۔ اس کا یہ ہے کہ جو قلبی اعمال والا راستہ ہے، میں اس پہ چلنا چاہتا ہوں، یہ دوسرا راستہ تو میرے لیے بہت مشکل ہے، بہت لمبا ہے۔

تو یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ یہ جو اصل بات ہے کہ جو انبیاء کا کام ہوتا ہے۔ انبیاء کا معاملہ ہر چیز میں آگے ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن لوگوں کے ساتھ نہیں ہوتے۔ اللہ کے امر کے ساتھ ہوتے ہیں۔ بس اتنی بات میرے خیال میں مختصر کافی ہے۔ وہ لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن لوگوں کے ساتھ نہیں ہوتے، اللہ کے حکم کے ساتھ ہوتے ہیں، جو ان کو اللہ کا حکم ہوتا ہے وہی کرتے ہیں۔ ذرہ بھر بھی رکتے نہیں ہیں۔ ذرہ بھر بھی رکتے نہیں ہیں۔ جیسے اللہ کا حکم معلوم ہو گیا فوراً اس طرف رجوع۔ قرآن پاک میں پیغمبروں کے احوال موجود ہیں، بار بار آتے ہیں۔ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ بالکل جو ہے ہر چیز میں اللہ جل شانہ کی طرف متوجہ ہیں۔ اور انتہائی سادہ طریقے سے۔ ہمارے ہاں نقش و نگار زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن جو انبیائے کرام اور پھر اس کے بعد صحابہ کرام ان میں نقش و نگار نہیں ہوتا، اور پھر اس کے بعد جو اولیائے عظام ہیں، ان میں نقش و نگار نہیں ہوتا، سادہ طریقے کے ساتھ دین پر چل رہے ہوتے ہیں۔

میں نے دیکھا ہے، مکھن بابا جی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ہم گئے تھے پہاڑ میں رہتے تھے۔ تقریباً 140 سال کی عمر تھی۔ اور پہاڑ میں گھر ہے۔ نیچے بھی اترتے ہیں چڑھتے بھی ہیں۔ بہت سادہ، جھونپڑی نما گھر تھا، خانقاہ، وہ بس سبحان اللہ، سب کچھ وہاں پر۔ انتہائی سادہ طریقے سے، ما شاء اللہ وہاں رہتے تھے۔ چھوٹی سی مسجد تھی، اس کے اندر نماز پڑھتے تھے۔ باقی بس وہ چھوٹا سا گھر تھا۔ اور بس وہ مسجد کے ساتھ کمرہ تھا، اسی میں لوگ جو آتے تھے وہ ٹھہر جاتے تھے۔ تو میں نے دیکھا ہے زندگی کو بہت قریب، مطلب ہے جس کو کہتے ہیں نا یعنی جو سادہ زندگی ہے۔ وہ میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے الحمد للہ، وہ حضرات کے پاس۔ تو یہ حضرات جو ہیں، بالکل سادہ طریقے سے زندگی گزارتے تھے۔ نقش و نگار والی زندگی ان کی نہیں تھی۔ بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ تو ہر وقت اللہ کے ساتھ ہی ہوتے تھے نا یعنی ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حکم کے لیے۔ تو جو بھی ان کے لیے اس وقت حکم ہوتا تھا اس کے مطابق عمل کرتے تھے۔

اب یہ ایمان بالغیب، ایمان بالغیب میں کیا چیز ہے اور ایمان شہودی کیا چیز ہے؟ ایمان شہودی میں تو آپ کو نظر آ رہا ہے۔ ایمان بالغیب میں آپ کو کچھ بھی نظر نہیں آ رہا لیکن آپ کو سمجھ آ رہی ہے۔ سمجھ آ رہی ہے۔ دل نے گواہی دی کہ یہ چیز ایسی ہے، بس۔ اس کے بعد مزید کچھ کی ضرورت ان کو نہیں ہوتی۔ تو جو بڑے اللہ والے ہوتے ہیں، ان کی حالت بھی پھر یہی بن جاتی ہے قریب قریب، کہ وہ دلائل کی طرف نہیں جاتے، حکم کی طرف جاتے ہیں۔ دلائل کی طرف نہیں جاتے، حکم کی طرف جاتے ہیں۔

میں اکثر ایک بات عرض کرتا رہتا ہوں، کبھی سمجھا پاتا ہوں، کبھی نہیں سمجھا پاتا، لیکن مجبوری یہ ہے کہ ظاہر ہے جو بات ہوتی ہے وہ تو بتانی ہوتی ہے۔ اکثر میں عرض کرتا ہوں کہ مسلمانوں کو یہ جو اعمال کے جو دنیاوی فائدے ہیں، نہ بتاؤ۔ مسلمانوں کو اعمال کے دنیاوی فائدے نہ بتاؤ۔ کیوں؟ آپ نے ان کی نیت کے اوپر ڈاکہ ڈالا۔ پہلے وہ اللہ کا حکم سمجھ کر کر رہے تھے۔ اب وہ دنیا کے فائدے کے لیے کریں گے۔ فائدہ ہوا یا نقصان ہوا؟ نقصان ہوا۔ ہاں کافروں کو ضرور بتاؤ۔ کافروں کو ضرور بتاؤ، کیوں؟ ان کو اس سے فائدہ ہوتا ہے۔ ممکن ہے اسی وجہ سے ایمان لے آئیں۔ ان کو نماز کے فائدے بتاؤ، ان کو روزے کے فائدے بتاؤ۔

ایک دفعہ ایسا ہوا، میں جا رہا تھا جہاز پر، کراچی۔ اور ساتھ ہی میرے ساتھ ایک Polish engineer بیٹھا ہوا تھا۔ تو رمضان شریف کے دن تھے، میں رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس میں جا رہا تھا وہاں پر۔ تو مجھ سے پوچھا کہ آپ کا روزہ ہے؟ میں نے کہا جی بالکل، میرا روزہ ہے۔ کہتے ہیں، مسلمانوں کا روزہ بہت اچھا روزہ ہے، لیکن ایک کام ہے جو وہ مجھے سمجھ نہیں آتی۔ میں نے کہا کیا؟ کہتے ہیں، یہ پانی بھی نہیں پیتے۔ عیسائی لوگ جو ہیں نا وہ تو پانی پیتے ہیں نا وہ بس صرف کھانا نہیں کھاتے، luxurious meal نہیں کھاتے، باقی سب کچھ کرتے ہیں۔ اچھا، تو یہ پانی بھی نہیں پیتے۔ حالانکہ پانی تو جسم کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ تو انسان کو damage کرتا ہے، اگر پانی نہ پیے۔ اب چونکہ وہ مسلمان نہیں تھا، تو میں اس کو یہ نہیں کہہ سکتا بس خدا کا حکم ہے۔ اس کو میں نہیں بتا سکتا تھا۔ اس کو میں نے کہا کہ دیکھو بھئی، آپ کی بات صحیح ہے پانی بہت ضروری ہے۔ لیکن There are two types of damages. One is reversible and the other is irreversible. تو جو reversible damage ہوتا ہے، وہ واپس ہو جاتا ہے۔ اور جو irreversible ہوتا ہے وہ واپس نہیں ہوتا۔ میں نے کہا، میں نے ڈاکٹروں سے سنا ہے کہ forty-eight hours سے کم اگر آپ نے پانی نہیں دیا جسم کو، تو وہ reversible damage ہے۔ یعنی جو damage ہے، اگر پانی کسی وقت بھی اس کو مل جائے، تو وہ سارا damage واپس ہو جائے گا۔ وہ ختم ہو جائے گا۔ اور ہمارا کوئی روزہ 24 گھنٹے سے زیادہ نہیں ہے۔ چاہے کہیں پر بھی ہو۔ تو لہٰذا reversible damage ہی ہو گا irreversible تو نہیں ہو گا۔ لیکن اس reversible damage سے جو ہمیں روحانی فائدہ ہوتا ہے spiritual, that is too much. تو اس وجہ سے ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ کہتا ہے Then it is okay. Then it is okay. اب ظاہر ہے ان کو ہم نے اس طریقے سے بتانا تھا نا۔

اچھا Germany میں، میں ایک دفعہ نماز پڑھ رہا تھا، تو ایک colleague میرا مجھے دیکھ رہا تھا۔ مجھے کہتا ہے کہ What were you doing? میں نے کہا یہ ہماری عبادت ہے، ہم پانچ دفعہ روزانہ کرتے ہیں۔ کہتا ہے Is it sin not to do this? اب بات تو بالکل سیدھی تھی کہ گناہ تو تھا۔ اب میں اس کو... لیکن میں نے کہا اس کو اگر میں کہوں تو اس پر negative effect پڑے گا۔ تو میں نے کہا اس کا اتنا فائدہ ہے، اتنا فائدہ ہے، اتنا فائدہ ہے کہ کوئی بے وقوف ہی اس کو چھوڑ سکتا ہے۔ اب بات بالکل ایک ہی تھی۔ لیکن ان کو کرنے کے لیے یہ طریقہ مناسب تھا۔

مسلمانوں کے لیے نہیں، بس اللہ کا حکم ہے -سبحان اللہ- اللہ کا حکم ہے۔ اللہ نے ایسے ہی کہا ہے۔ ایک عالم تھے، ان سے کسی نے کہا کہ مغرب کی تین رکعات ہیں اور باقی کے جو ہیں نا جفت ہیں۔ یہ کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب بھی علماء نے دیا ہے۔ لیکن اس کا دماغ بھی ٹھیک کرنا تھا۔ تو انہوں نے کہا کہ آپ کی ناک آگے کو لگی ہے پیچھے کو نہیں لگی، کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں اللہ پاک کی مرضی۔ انہوں نے کہا بس اللہ پاک کی مرضی ہے تین رکعات ہیں۔ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اب اس پہ پھر کچھ نہیں کہہ سکتا وہ۔

تو یہ اصل میں بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو ایسا بتانا ہے۔ مسلمانوں کو آپ logic پہ convince نہ کرو۔ مسلمانوں کو آپ جو source ہے نا، جہاں سے آیا ہے حکم۔ فقہاء کا کیا کام تھا؟ فقہاء نے کیا logic دیے ہیں، دلائل دیے ہیں؟ نہیں، انہوں نے ایک ہی کام کیا ہے۔ آیا یہ چیز ثابت ہے یا نہیں ہے؟ یہ چیز ثابت ہے یا نہیں؟ مطلب اس کو صرف ثبوت چاہیے ہوتا تھا۔ قرآن سے ثبوت، حدیث سے ثبوت، اجماع صحابہ سے ثبوت، یا پھر قیاس۔ چار چیزیں ہیں جس کے ذریعے سے وہ حکم معلوم کرتے ہیں۔ قرآن ہے، یا سنت ہے، یا اجماع صحابہ ہے، یا پھر قیاسِ مجتہد ہے۔ اس طریقے سے وہ ثابت کرتے ہیں، تو اب یہ ہے کہ ان لوگوں نے کام یہی اس لیے کیا۔

science میں اور مذہب میں دو بہت واضح فرق ہیں۔ Science evolve کرتا ہے۔ Science کیا کرتا ہے؟ Evolve کرتا ہے۔ اور مذہب evolve نہیں کرتا۔ مذہب final چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے finally آیا ہوا ہے۔ جو چیز اللہ نے تبدیل کرنی تھی وہ کر گیا ہے۔ ناسخ منسوخ ہو چکا ہے۔ اب اخیر میں جو بات آئی ہے اس کو کوئی change نہیں کر سکتا۔ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔ تو دین میں finality ہے۔ اور science میں evolution ہے۔ اب یہ جو چیز ہے، اگر سمجھ جائیں ہم، تو science کی کسی چیز کو ہم final کہہ نہیں سکتے۔ Because of evolution. اور مذہب کی کسی چیز کو ہم تبدیل نہیں کر سکتے۔ Because of finality. اب اگر یہ دو چیزیں آپ کو معلوم ہیں، تو There is no confusion. پھر confusion کوئی نہیں ہوگا۔ چاہے Social Media پر چیخ چیخ کر لوگ کہیں کہ اس کی کوئی logic نہیں اور یہ نہیں، وہ نہیں، وہ کہتا ہے بس تیرے لیے نہیں ہو گا، میرے لیے ہے۔ کیونکہ مجھے صرف اتنا معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے کہا ہے یا نہیں کہا ہے۔ اللہ کی طرف سے آیا ہے یا نہیں آیا ہے۔ پیغمبر کی طرف سے اس کی وہ ہے یا نہیں ہے۔ اگر یہ چیز ہو چکی ہے اس کے بعد مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ ساری دنیا کہہ دے کہ ایسا نہیں ہے۔

میں اپنے ساتھیوں سے کہا کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرما دے، لیکن سمجھانے کے لیے عرض کرتا ہوں، کہ اگر ساری دنیا بھی کافر ہو جائے، پھر بھی مجھے مسلمان ہونا ہے۔ اگر ساری دنیا بھی کافر ہو جائے، پھر بھی مجھے مسلمان ہونا ہے۔ یہ میرے لیے کوئی دلیل نہیں کہ ساری دنیا کافر ہو گئی لہٰذا میں کافر ہو سکتا ہوں، نہیں -نعوذ باللہ من ذلک- ایسا نہیں ہے۔ اب یہ تب ہو سکتا ہے جب آپ تمام ان چیزوں کو bypass کر دیں۔ جو آپ کے اندر confusion لا سکتے ہیں۔ اگر یہ چیز آپ کی بالکل final ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کی attachment logic پر نہیں ہے، بلکہ غیب پر ہے۔ ایمان بالغیب پر ہے۔ ایمان بالغیب کو logic سے ثابت کیا جا سکتا ہے لیکن ایمان بالغیب کی چیزوں کو logic سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ کیوں، وجہ کیا ہے؟ کہ ایمان بالغیب جو ہے، وہ ہماری ضرورت ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان چیزوں کو ہم دیکھ نہیں سکتے۔ ہم آخرت کو ہم کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ جنت اور دوزخ کو کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ یہ چیزیں ہماری domain سے باہر ہیں۔ ان چیزوں کو ہم لوگ نہیں دیکھ سکتے۔ اس میں ہماری جو ساری بنیاد ہے وہ مخبر صادق پر ہے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ final ہے۔

اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اپنی گواہی دلوائی تھی۔ جب دعوت دے رہے تھے تو پہلا statement کیا تھا؟ پہلے یہ تھا کہ اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے کوئی آ رہا ہے اور ہمارے اوپر حملہ کرنے والا ہے، تو کیا آپ لوگ یقین کر لیں گے؟ یہ logic تھا۔ logic یہ تھا کہ میری position یہ ہے کہ میری ہر بات مان لیں گے آپ؟ تو سب سے پہلے لوگوں سے یہ کہلوایا، سب نے کہا کیوں نہیں، کیونکہ آپ کو ہم نے صادق و امین پایا ہے۔ بات فائنل ہوگئی۔ اب جب یہ والی بات ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہ بات ہے۔

تو اصل بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام ہے۔ وہ اگر میں سمجھ گیا ہوں، اس کے بعد مجھے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ کی صفات بھی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھوں گا۔ فرشتوں کے بارے میں، پیغمبروں کے بارے میں، کتابوں کے بارے میں، تقدیر کے بارے میں، آخرت کے بارے میں، تمام چیزوں کی بات میری آخر یہی، کیونکہ قرآن بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہم کہہ رہے ہیں۔

بعض یہ اہل قرآن ہوتے ہیں نا، جو قرآن کو مانتے ہیں اور حدیث کو نہیں مانتے، تو ان کو ایک عالم نے بڑی اچھی بات کی، انہوں نے کہا بھئی قرآن بھی تو حدیث سے ثابت ہے۔ کہ نہیں؟ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول حدیث ہے نا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی فرمایا کہ یہ قرآن ہے نا، آپ کو کیا پتہ تھا؟ تو قرآن بھی تو حدیث سے ثابت ہے۔ اور بالکل تشریح بھی حدیث سے ہوتی ہے۔ جو بھی statement قرآن کی ہے، اس کی من مانی تشریح آپ نہیں کر سکتے۔ بلکہ یہ حدیث شریف ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی نے اپنی رائے سے تفسیر کی، چاہے اس نے صحیح ہی کیوں نہیں کی، پھر بھی اس نے غلطی کی۔

میں اس کی مثال دیتا ہوں۔ کوئی ڈاکٹر کے prescription کے بغیر خود دوائی Chemist سے لے لے۔ اس نے اگر صحیح دوائی بھی لی، پھر بھی اس نے غلطی کی۔ میں کہہ سکتا ہوں؟ کیوں؟ اس وقت ممکن ہے اس کے لیے fit ہو جائے۔ لیکن جو اس کو عادت ہو جائے گی کسی ویسے وقت کوئی دوائی لے لے گا جو اس کے لیے بڑا نقصان دہ ہو۔

ایک ڈاکٹر صاحب تھے، اس نے بڑی اچھی statement دی تھی۔ اس نے کہا غلط علاج سے بہتر ہے کہ علاج نہ کیا جائے۔ غلط علاج سے بہتر ہے کہ علاج نہ کیا جائے۔ کیونکہ دیکھو نا، جیسے کھانسی کی تین قسمیں ہیں۔ ایک Expectorant، دوسرا اس کے لیے Expectorant ہے، دوسرے کے لیے Suppressant ہے، تیسرا Cardiac cough ہوتا ہے۔ وہ اور چیز ہوتی ہے۔ اچھا اب یہ جو ہے اگر آپ Cardiac cough کو Expectorant دیتے ہیں یا Suppressant دیتے ہیں؟ Damage۔ اگر Suppressant کو Expectorant دیتے ہیں؟ Damage۔ اگر Expectorant کو Suppressant دیتے ہیں؟ Damage۔ اب ڈاکٹر نہیں ہے، آپ جا کر Chemist سے لے لیں۔ نتیجہ کیا ہوگا؟ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو آپ نے اگر کبھی صحیح بھی کر لیا پھر بھی غلط کیا نا۔ اصولا غلط کیا۔ اصولا غلط کیا۔

تو اس طرح قرآن کی جو تفسیر اگر کسی نے اپنی رائے سے کی، چاہے اس نے ٹھیک بھی کی پھر بھی غلط کیا ہے۔ قرآن کی تفسیر کے لیے ہم سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محتاج ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن پر اعتماد کیا ہے ان کی تفسیر۔ جیسے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اور بعض دوسرے صحابہ کرام۔ ﴿مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِهِ﴾ کے زمرے میں آ جاتے۔ تو پھر ان کی تفسیر پہ ہم جائیں گے۔ اس کے بعد پھر درجہ بدرجہ، درجہ بدرجہ اس کا exposure بڑھتا جائے گا۔ لیکن یہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ میں جو اس کی تفسیر، جو میں کرنا چاہوں، بے شک مجھے کتنی ہی logical لگے۔ مجھے خطرہ ہے۔ کسی وقت بھی نقصان ہو سکتا ہے۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرما دے۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ