مسجد سے دوری کا ثواب اور پڑوس کی فضیلت
بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 197، حدیث نمبر: 136، اشاعتِ اول: 5 فروری، 2023 بمطابق 13 رجب، 1444 ہجری
- مسجد کی طرف جانے والے ہر قدم پر نیکی اور درجات کی بلندی۔
- بنو سلمہ کی حدیث کی روشنی میں مساجد کے قریب اور دور رہنے والوں کے فضائل۔
- صحابہ کرام رضي الله عنہم کا زیادہ ثواب کمانے کے لیے چھوٹے قدموں سے مسجد جانا۔
- جدید دور میں گھر بناتے وقت مسجد سے دوری اختیار کرنے کا منفی رجحان۔
- مساجد کے منتظمین کے لیے Loudspeakers کے درست استعمال اور عوام کی سہولت کی تلقین۔
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
مسجد کی طرف جانے میں ہر قدم پر نیکی ہے
(136) ﴿الْعِشْرُوْنَ: عَنْهُ قَالَ: أَرَادَ بَنُوْ سَلِمَةَ اَنْ يَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ، فَبَلَغَ ذٰلِكَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: ”إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِى أَنَّكُمْ تُرِيْدُوْنَ أَنْ تَنْتَقِلُوْا قُرْبَ الْمَسْجِدِ؟“، فَقَالُوْا: نَعَمْ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَدْأَرَدْنَا ذٰلِكَ، فَقَالَ: ”بَنِىْ سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ؛ تُكْتَبُ آثَارُكُمْ“﴾ (رواه مسلم) وفى رواية ”إِنَّ بِكُلِّ خَطْوَةٍ دَرَجَةً“ (رواه مسلم) ورواه البخارى أيضا بمعناه من رواية انس رضى الله عنه. و ”بنوسلمة“ بكسر اللام: قبيلة معروفة من الانصار رضى الله عنهم، و ”آثارهم“ خُطَاهُم.
ترجمہ: ”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بنو سلمہ قبیلہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، چنانچہ یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی، آپ ﷺ نے ان کو فرمایا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم مسجد کے نزدیک انتقال آبادی کرنا چاہتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا ہاں! یا رسول اللہ! ہم نے اس کا ارادہ کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اے بنو سلمہ! تم اپنے گھروں میں سکونت پذیر رہو، تمہارے قدموں کو لکھا جائے گا۔“ ایک روایت میں ہے کہ ہر قدم کے بدلہ میں درجہ ہے۔ بخاری نے اس کا مضمون حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا ہے۔
بنو سلمہ: لام کے زیر کے ساتھ انصار کا ایک مشہور قبیلہ ہے۔ آثارھم: ان کے قدم اور قدموں کے نشانات۔ لغات: ينتقلوا: انتقل انتقالاً، نقل مکانی کرنا،
تشریح: علماء فرماتے ہیں: فضیلت تو زیادہ اسی گھر کی ہوگی جو مسجد سے زیادہ قریب ہو کیونکہ جب مسجد پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے تو مسجد کے پڑوس والے بھی اس سے محروم نہیں ہوتے۔ جیسے کہ ایک روایت میں آتا ہے: ”فَضْلُ الدَّارِ الْقَرِيْبَةِ مِنَ الْمَسْجِدِ عَلَى التَّاسِعَةِ كَفَضْلِ الْغَازِىْ عَلَى الْقَاعِدِ“ ترجمہ: مسجد سے جو گھر قریب ہیں اس کی فضیلت دور والے گھر پہ ایسی ہے جیسی غازی کو گھر بیٹھنے والے پر فضیلت حاصل ہوتی ہے۔
مسجد سے قریب تو چند ہی گھر آباد ہوسکتے ہیں باقی گھر مسجد سے دور ہی ہوں گے اس لئے ان کی بھی تسکین خاطر کے لئے ان کی بھی فضیلت حدیث بالا میں ارشاد فرمائی جارہی ہے۔ کہ جتنے قدم بھی رکھے گا اتنی نیکیاں ان کو ملیں گی۔ بعض روایات میں آتا ہے صحابہ مسجد کی طرف جاتے وقت چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے تھے تاکہ ثواب زیادہ ملے۔
ان کو اصل میں اس چیز کا بہت زیادہ وہ تھا، یعنی شوق تھا کہ ان کو زیادہ سے زیادہ نیکیاں ملیں۔ لہٰذا جو چیز بھی ان کو پتا چلتی کہ اس پر نیکیاں ملتی ہیں، تو وہ اس کی طرف قدم اٹھاتے۔ تو یہ بہرحال ہم لوگوں کے لیے بھی ایک Message ہے۔ کہ جس کا گھر قریب ہے تو وہ مسجد سے تنگ نہ ہو۔ آج کل ہم لوگ مسجد سے دور بھاگتے ہیں۔ تو جب گھر بناتے ہیں تو یہ بھی مطلب، پہلے Positive مطلب اس میں Points میں آتا تھا، اب بعض لوگوں کے Negative Points میں آتا ہے، کہ وہ کہتے ہیں کہ مسجد کے قریب نہ ہو۔ بعض Societies میں مسجدیں نہیں بنوائی جاتیں۔
تو یہ اصل میں ان کی غلط فہمی کی بنیاد پر ہے۔ اور دوسرا مسجد والوں کو بھی چاہیے کہ وہ لوگوں کو تنگ نہ کریں، تاکہ ان کی وجہ سے مسجدوں سے لوگ نفرت نہ کریں۔ مثلاً زور زور سے Loudspeakers پر بے وقت اس قسم کی باتیں، وہ کرنا وہ ٹھیک نہیں ہے۔ جو لوگ چاہتے ہیں ان کو سناؤ، جو لوگ نہیں چاہتے ان کو کیوں سناتے ہو؟ مطلب ہمارا کام تو۔۔۔ ان کو سناؤ جو طالب ہوں۔ تو یہ بات ہماری طرف سے بھی ٹھیک ہونی چاہیے۔ البتہ مساجد کا احترام کرنا چاہیے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ان نیکیوں کو کمانے کی توفیق عطا فرما دے۔