حقیقی محبتِ الٰہی اور اصلاحِ قلب
کتاب: پیغام محبت، درس 11، اشاعت اول: 17 ستمبر 2013 بمطابق 10 ذو القعدہ 1434 ہجری
- دنیا کی محبت کے نقصانات اور ترکِ خواہشات
- خودی، بے خودی اور فنائیت کا مقام
- دل کی پاکیزگی، وسعتِ قلبی اور الہامِ الٰہی
- صحبتِ مشائخ اور اہلِ حق کی اہمیت
- دین کا ظاہر و باطن
- مقامِ عبدیت اور رضائے الٰہی کی طلب
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں پیغامِ محبت سے کچھ پڑھا جاتا ہے اور اس کی تشریح کی جاتی ہے۔
یہ ایک تسلی والی غزل ہے۔
ہم کو بس تیری محبت کا سہارا کافی
مقصد یہ ہے کہ جو اللہ کا نام لیتے ہیں ان کی دنیا دشمن ہو جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن ایک اللہ کی محبت کا سہارا کافی ہوتا ہے اگر کوئی سمجھنے والا ہو۔
کیا وہ انسان ہے جو مشغول عبادت پہ ہو
شکر نعمت پہ نہ ہو صبر مصیبت پہ نہ ہو
دیکھو، انسان اللہ کا بندہ ہے۔ تو بندے کا تقاضا ہے کہ وہ اس کی عبادت میں مشغول رہے۔ اور نعمت پر شکر ادا کرے اور صبر مصیبت میں کرے۔
عافیت مانگتے یا رب ہیں کہ کمزور ہیں ہم
پر کہیں داغ خدایا یہ محبت پہ نہ ہو
ہم عافیت مانگتے ہیں کیونکہ ہم کمزور ہیں۔ جیسا اللہ کا حکم ہے عافیت مانگنے پہ اللہ خوش ہوتے ہیں۔ لیکن یہ عشق کی وجہ سے ڈر رہا ہے کہ میں جو عافیت مانگ رہا ہوں کہیں یہ محبت پہ داغ تو نہیں بنے گا؟ کیونکہ عاشق لوگ ایسے ہی کرتے ہیں۔
علامہ عراقی رحمۃ اللہ علیہ ایک بزرگ گزرے ہیں۔ ان کے اشعار ہیں:
سرِ دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی
کہتے ہیں لوگ تیرے خنجر سے کیوں سر کو آگے پیچھے کر رہے ہوتے ہیں۔ دوستوں کا سر سلامت رہے کہ تو اس پہ خنجر آزماتا رہے۔
سرِ دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی
مجھ کو بس تیری محبت کا سہارا کافی
دل مرا تجھ پہ رہے، مال پہ لذت پہ نہ ہو
ہم تو دیوانے ہیں تیرے اور یہی چاہتے ہیں
دل کا گوشہ کوئی مرکوز وجاہت پہ نہ ہو
تینوں جذبوں کا رد ہو گیا۔ ایک تو یہ کہ مال کی، دوسری لذت کی، اور تیسرا وجاہت کی۔
ہم تو دیوانے ہیں تیرے اور یہی چاہتے ہیں
دل کا گوشہ کوئی مرکوز وجاہت پہ نہ ہو
یہ جہاں تیرا ہے ہم تیرے ہیں سب تیرا ہے
حقیقت کا اعتراف
یہ جہاں تیرا ہے ہم تیرے ہیں سب تیرا ہے
دل کہیں میرا یہ سرشار ملکیت پہ نہ ہو
جو میں اپنی چیزوں کو اپنا کہہ رہا ہوں کہیں اس میں دل پھنس نہ جائے۔ ایک دفعہ حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ آپ بیتی میں لکھتے ہیں۔ فرمایا میں چھوٹا سا تھا، تو میری پھوپھی نے میرے لیے ایک تکیہ بنایا تھا چھوٹا سا۔ وہ مجھے بہت پسند تھا۔ تو میرے والد کو تکیے کی ضرورت تھی، تو ادھر ادھر تکیہ اپنا تلاش کر رہے تھے۔ تو میں نے اپنی چھوٹی زبان سے کہا کہ میں اپنا تکیہ لے آؤں؟ اب ظاہر ہے بچہ، اور وہ بھی محبت کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ اپنا تکیہ لے آؤں؟ تو کہتے ہیں والد صاحب نے ایک بھرپور تھپڑ لگا دیا، مجھے ادھر گرا دیا۔ فرمایا ابھی سے اپنے باپ کے مال کو اپنا کہتے ہو! کہتے ہیں میں تو بہت رویا۔ اور میری پھوپھیاں بھی بڑی سخت ناراض ہو گئیں۔ والدہ بھی پریشان ہو گئیں، کہ کیسا انسان ہے اپنے بچے کو ایسا مارا؟ یہ کیا وہ کیا؟ میں بھی روتا رہا لیکن اس تھپڑ کا یہ اثر ہے کہ ابھی تک میں اپنی کسی چیز کو اپنا نہیں کہتا۔ وہ اپنے کہنے کی بات ہی ختم ہو گئی۔ اپنے کہنے کی بات ہی ختم ہو گئی۔ تو یہ ہے:
یہ جہاں تیرا ہے ہم تیرے ہیں سب تیرا ہے
دل کہیں میرا یہ سرشار ملکیت پہ نہ ہو
تن آسانی پہ میرا نفس نہ مائل ہو کبھی
نفس شرمندہ کبھی میرا مشقت پہ نہ ہو
قبول میرے خدایا مرے ہوں قلب و نظر
ذہن تاریک نہ ہو قلب بھی ظلمت پہ نہ ہو
یعنی میرا قلب و نظر جو ہے، یہ کہیں involve نہ ہو جائے کہ ذہن تاریک ہو جائے اور دل میں ظلمت آ جائے۔
سامنے تیرے رہوں دل سے ترا بندہ بنوں
دل ہو احسان پہ کسی اور کیفیت پہ نہ ہو
یعنی کیفیتِ احسان مجھے حاصل ہو۔
دلِ شبیرؔ کو اپنی یاد سے کر لے روشن
تو اسے یاد رہے، اِس سے یہ غفلت پہ نہ ہو
یہ بے لوث دوستی کی رباعی ہے۔
بے لوث دوستی
غرض جن کو ہے ان کی دوستی، دوستی غرض کی ہے
بھروسہ ان پہ کرنے میں تو پھر مشکل بہت ہی ہے
کیسے ان پہ بھروسہ کر سکتا ہے جن کو اپنی غرض ہے؟ ایک غرض مند شخص کب تیرا ہو سکتا ہے؟ وہ تو اپنی غرض کا ہو گا۔
غرض جن کو ہے ان کی دوستی، دوستی غرض کی ہے
بھروسہ ان پہ کرنے میں تو پھر مشکل بہت ہی ہے
مگر بے لوث دوستی میں تو یوں خطرے نہیں ہوتے
یہ کیوں کرتے نہیں اُس سے کہ جس کی ایسی دوستی ہے
اللہ تعالیٰ کی دوستی بے غرض ہے۔ اس کو کوئی غرض ہم سے نہیں ہے۔ لہٰذا اس سے دوستی میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں۔ باقی دوستیوں میں مسئلے ہیں۔
کاش میں ایسا رہوں اس کے لیے زندہ رہوں
کاش میں ایسا رہوں اس کے لئے زندہ رہوں
موت ہو اس کے لئے اس پر بھی شرمندہ رہوں
دل مرا اس کے لئے ہو اور دماغ اس کے لئے
ہو زبان پر ذکر اس کا اس کا نام لیتا رہوں
دوستی اُس کے لئے ہو دشمنی اُس کے لئے
مجھ سے چاہے جیسے کرنا اس طرح کرتا رہوں
بولنا اس کے لئے ہو، چپ رہوں اس کے لئے
خوش رہوں اس کے لئے، اس کے لئے روتا رہوں
دل میں بس اک وہ سمائے دوسرا کوئی نہ ہو
دل سے الا اللہ کا نعرہ میں لگاتا رہوں
اس سے مانگوں، اس سے لوں، بس اس کے در پر سر رہے
اس کے در پرسر کو ہر دم، بار بار رکھتا ر ہوں
اب تو بس اس کی محبت کا ہی آسرا ہے شبیرؔ
اس سے جو غافل کرے، میں اس کو بھول جاتا رہوں
کاش میں ایسا رہوں اُس کے لئے زندہ رہوں
موت ہو اُس کے لئے اِس پر بھی شرمندہ رہوں
ایک سیدھی سی بات کی رباعی ہے۔
ایک سیدھی بات
سیدھی سی بات ہے ہم اس کے ہیں
اس کے اگر نہیں تو کس کے ہیں
اس کے بن جائیں تو پھر سب کچھ ٹھیک
کام جیسے بھی اور جس کے ہیں
مطلب یہ ہے کہ اگر لائن سیدھی ہو جائے پھر کیا مسئلہ ہے؟
بَر صراطِ مستقیم ہرگز کسے گمراہ نیست۔
صراطِ مستقیم پر تو کوئی گمراہ نہیں ہے۔ تو اگر ہم اس کے ہو گئے، پھر اس کے بعد ساری باتیں ٹھیک ہیں۔ پھر معافیاں بھی ہیں۔ پھر معافیاں بھی ہیں۔ پھر بہت کچھ ہے۔ لہٰذا آدمی بس اس کا بن جائے۔ جب اس کا بن جائے پھر بعد میں پھر بہت آسانی ہے۔
اللہ ہی اللہ
جب کوئی کام تم نے کرنا ہو
اُس میں اُس سے ہمیشہ ڈرنا ہو
بس شریعت کے مطابق ہو کام
اور صرف اُس کا ہی دم بھرنا ہو
شریعت پر کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر۔ اور اس کا دم بھرنے کا مطلب ہے کہ صرف اسی کے لیے ہو۔ تو "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ" کلمہ پورا ہو گیا، ٹھیک ہے۔
ہاں یہ ذرا تھوڑا سا ایک، ذرا نرم نرم سی غزل ہے، کیفیت والی۔
تجھ کو کیا معلوم
اشارہ جو "ھو" کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم
دل مرا کس سے آشنا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
جھک کیوں جاتی ہے گردن مری محفل میں اب
کون اس وقت بلاتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
کیسے غافل رہوں اس سے کہ ہر طرف ہے وہی
اپنی آغوش میں چھپاتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
ہر وقت اس کی نظر اپنی نظر پر محسوس
عرش سے کیا برس رہا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
بھلا دیا ہے جس نے مجھ سے ہر اک کام میرا
لگا ہوں جس میں کام اس کا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
نہیں پیا ہے تو نے عشق کا جب جام ابھی
جو اس نے مجھ کو پلایا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
رات دعاؤں کے رستے میری ملاقات ان سے
ملن کا وقت وہ کیسا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
کہا جب اس نے کہ تم میرے ہو تو ہاں اس وقت
دل کا کیا حال پھر ہوتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
بہا بہا کے جو آنسو میں دل کو دھو ڈالوں
پھر مرے دل میں کون آتا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
کیسے گم سم خموش میں نہ رہوں شبیرؔ کہ
دھیان حاصل کس کا ہوا ہے تجھ کو کیا معلوم؟
مطلب یہ ایک عاشق اپنی بات بتا رہا ہے۔
دل میں دو راستے ہیں
دل میں الہامِ الٰہی کا انتظام بھی ہے
اور شیطاں کے وساوس کا تیزگام بھی ہے
اپنا دل کھول ذرا شیخِ کامل کی جانب
تاکہ سب درست رہیں کام، سو یہ کام بھی ہے
مطلب دو چیزیں تو ہیں نا، اس سے تو انکار نہیں ہے۔ حدیث شریف سے ثابت ہے۔ اس میں الہامِ الٰہی کا انتظام بھی ہے، اور اس میں شیطان کے وساوس بھی آ رہے ہیں۔ اب کوئی ہو جو اس کو کنٹرول کرے نا۔ اس کو کنٹرول کر لے کہ الہامِ الٰہی تو چلتا رہے، اور شیطان کے وساوس مؤثر نہ ہوں۔ تو اس کے لیے شیخ کو پکڑا جاتا ہے۔ تو یہ بتایا ہے کہ اس کے لیے کچھ کرو۔
دل سے دیکھا اسے
دل میں میں یاد اس کو کرتا رہوں
اور ہر دم اُس کا دم بھرتا رہوں
ذرہ ذرہ مرا اس کا جو ہے
دے کے اس کو اس پہ میں ڈرتا رہوں
مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے
اس طرح روز میں سنورتا رہوں
مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے۔ یہ جو میری حالت ہے جس کو میں سمجھتا ہوں کہ میں مٹ رہا ہوں یہ بھی مٹ جائے۔ مطلب یہ بھی چیز مٹ جائے۔ اس کو فناء الفناء کہتے ہیں۔
مٹتے مٹتے مرا مٹنا بھی مٹے
اس طرح روز میں سنورتا رہوں
دل پہ اس کی ہو نظر پیار کی اک
ذکر سے اس طرح نکھرتا رہوں
فَاذْكُرُوْنِيْ أَذْكُرْكُمْ۔
دل پہ اس کی ہو نظر پیار کی اک
ذکر سے اس طرح نکھرتا رہوں
دور اغیار مرے دل سے اب
سامنے باغ ہے میں چرتا رہوں
دل سے دیکھا اسے ہے جب سے شبیرؔ
اس پہ ہر روز اب تو مرتا رہوں
مطلب یہ ہے کہ میں اسی کا عاشق ہوں۔
یہ اب ایک حقائق والی غزل ہے۔
کیا حد ہے تباہی کی اسے چھوڑ دیا گر
دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
پھر حبِ الہی کی انتہاء کہاں ملے
دنیا کی محبت جب Limitless ہے، اس کی کوئی انتہا نہیں تو اللہ کی محبت کی پھر کیسے انتہا ہوگی؟
دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
پھر حبِ الہی کی انتہاء کہاں ملے
جب اس کی نظر سے کوئی کیسے ہی گر گیا
اس کو کیا ملے اگر سارا جہاں ملے
دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
پھر حبِ الہی کی انتہاء کہاں ملے
یہ بہت عجیب شعر ہے، اس کو کوئی سمجھ جائے تو سنور جائے گا۔ مطلب اگر اس کی نظر سے کوئی گر گیا، تو بے شک وہ بہت بڑا افسر ہو، بہت بڑا بادشاہ ہو، بہت بڑا لیڈر ہو، بہت بڑا کیا ہو، اس کو کیا مل گیا؟ کچھ بھی نہیں۔ جیسے کسی کو کھلونا دے کے بہلا دیا جائے اور بعد میں اس کو خوب مارا جائے۔ تو یہ کیا ہے بھئی؟ کھلونے ہیں نا دنیا میں۔ تو لیڈری ہے، دوسری چیزیں ہیں، تو کھلونے ہیں۔ اس پہ آدمی مطمئن ہو گیا تو اس نے اپنا کتنا نقصان کیا!
جب اس کی نظر سے کوئی کیسے ہی گر گیا
اس کو کیا ملے اگر سارا جہاں ملے
جو اس کے پاس بھیج دیا وہ ہی ہے محفوظ
کتنا یہاں سے بڑھ کے وہ سارا وہاں ملے
جو یہاں سے بھیج دیا وہ محفوظ ہو گیا۔ اور کتنا بڑھ جاتا ہے وہاں پر۔ وہ ہے نا جو أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً۔ وہ تو پھر اللہ تعالیٰ اس کو جتنے بھی Multiplication factors سے Multiply کرے۔
کیا حد ہے تباہی کی اسے چھوڑدیا گر
کتنی ہی اس کو یاں پہ دعوتِ بتاں ملے
دنیا کی محبت کا سرا کیا یہاں ملے
پھر حبِ الہی کی انتہاء کہاں ملے
کہتے ہیں کہ کتنی تباہی کی حد ہے، اگر اس کو بتوں کے لیے چھوڑ دیا۔ بتوں سے مراد یہاں دنیا کے معشوق اور محبوب جو ہیں وہ۔ اگر دنیا کے لیے اُس کو چھوڑ دیا، کتنا نقصان کر دیا؟
کیا حد ہے تباہی کی اسے چھوڑدیا گر
کتنی ہی اس کو یاں پہ دعوتِ بتاں ملے
دنیا کی لذتوں سے وہ لذات ہوں محسوس
اور ان کی پھر طلب ہو تو سرِ نہاں ملے
اس کی تشریح ضروری ہے۔ یہ دنیا کی جو لذتیں ہیں، وہ اس لیے ہیں تاکہ وہاں کی لذتوں سے آگاہی ہو جائے۔ کیونکہ جو چیز آپ کو ملی ہی نہیں ہے، آپ نے دیکھی ہی نہیں، آپ نے چکھی ہی نہیں، مجھے بتاؤ اس کا آپ کو کوئی لالچ دے گا کہ آپ یہ کرو گے تو آپ کو یہ مل جائے گا، اس سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟ دنیا کی لذتیں جو آپ کو دی ہیں اس لیے دی ہیں تاکہ جنت کی لذتوں کا آپ کو کچھ اندازہ ہو جائے۔ حالانکہ اس کے برابر نہیں ہے بالکل۔ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
مثال کے طور پر آپ کو یہ کہہ دیا جائے کہ جنت کی لذتیں اس سے زیادہ ہیں۔ تو اگر یہ اتنی ہے، جو ایسی ہے، تو پھر ہم اس کے لیے کیوں نہیں کریں گے؟ تو دنیا کی لذتیں کیا ہیں؟ یہ جنت کی لذتوں کا ایک چربہ ہے۔ تو جب ان کی طلب ہو جائے، ان لذتوں کی طلب۔ تو پھر اندرونی راز کا پتہ چل جائے گا کہ یہ کیوں اس طرح ہے۔ حکمت ہے۔
دنیا کی لذتوں سے وہ لذات ہوں محسوس
اور ان کی پھر طلب ہو تو سرِ نہاں ملے
اس زیست کے اک کام کا طالب بنوں شبیرؔ
بس اس کا ہی ہونے کا جو جذبہ جواں ملے
مطلب یہ ہے کہ بس یہی جذبہ ہو ہمارا کہ اس کا بن جائیں۔
اللہ اللہ کریں
صراطِ مستقیم پر اب ہم چلا کریں
دل سے بھی اور زبان سے اللہ اللہ کریں
ہیں قیدِ شریعت میں کان دونوں اپنے بند
جائز اگر نہ ہو تو اسے کیوں سنا کریں
بیشک ہماری آنکھیں بھی ہیں اس کی امانت
غیر محرم دیکھنے سے نہ مجرم بنا کریں
اک گوشت کا لوتھڑا ہے زباں میرے منہ میں بند
جائز نہ ہو جو بول اس سے کیوں ادا کریں
اس سر میں جو دماغ ہے کنٹرول پہ مامور
تو اس کا استعمال غلط کیوں کیا کریں
یہ دل بھی امانت ہے مرے رب کی جب شبیرؔ
تو اس کے علاوہ نہ کسی کو دیا کریں
ہر چیز ہماری پہلے سے طے شدہ ہے۔ تو ہم اسی کے مطابق کریں۔
اب یہ غزل بڑی عجیب غزل ہے۔ کیونکہ اس میں کچھ باتیں ایسی ہیں جو ذرا سالکوں کو پیش آتی ہیں، اس کا اس میں علاج ہے۔ بڑے بڑے مرتبوں کی خواہش ہوتی ہے نا سالکوں کو کہ بڑا بزرگ بن جاؤں یہ ہو جائے وہ ہو جائے۔ یہ ذرا ہوتی ہیں۔ تو عاشقوں کے یہ طریقے نہیں ہوتے۔
نہ ہوں منزلوں کی تلاش میں نہ ہی درجوں کی ہے طلب مجھے
بس یہی تو دل کی ہے آرزو کہ اب اپنا بنا ہی لے رب مجھے
یہ دیوانگی ہی کی تو بات ہے کہ حجاب اب نہ ہو درمیاں
مرا مانگنا اس کا عجیب تر مگر کیا ہوا ہے یہ اب مجھے
مطلب یہ واقعی دیوانگی کی بات ہے کہ میں خود کہوں کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی حجاب نہ ہو۔ کیسے ہو سکتا ہے؟ جل جاؤں گا! یہ تو سمجھ دار آدمی نہیں کہہ سکتا۔ لیکن کہتے ہیں میں کیا کروں، مجھے ہو چکا ہے۔ یہ دیوانگی ہے.
مرا مانگنا اس کا عجیب تر، مگر کیا ہوا ہے یہ اب مجھے
میری خلوت و جلوت بھی اس کی ہو مرا دل و دماغ بھی اس کا ہو
میں دیوانہ ہوں ہاں دیوانہ ہوں کہیں یہ کہیں لوگ سب مجھے
جو سبب ہے اس کا ہے حکم ہاں میں کروں گا پورا، ضروری ہے
میرے دل کی نگاہ سے وہ دور ہو کبھی کھینچے یوں نہ سبب مجھے
مطلب یہ ہے کہ جو سبب ہے، اس کا حکم ہے پورا کرنا ہوگا۔ لیکن اسباب کی وجہ سے میرے دل سے اللہ دور ہو جائے۔ میری نگاہوں سے اللہ دور ہو جائے، یہ تو بہت خطرناک ہے۔ اس کے لیے میں تیار نہیں ہوں۔ یعنی مسبب الاسباب کو اسباب کے لیے نہیں چھوڑ سکتا۔ اس لیے اگر کوئی مجھے کہتا ہے کہ نوکری کر لو، یہ کرو وہ کر لو۔ ٹھیک ہے، بَسر و چشم اسباب اختیار کروں گا۔ لیکن میں اس سے غافل ہو جاؤں، حرام کھاؤں۔ حرام نوکری کروں، حرام طریقہ اختیار کر لوں، یہ نہیں ہو سکتا۔ یہ اصل میں یہ والی بات ہے۔
جو سبب ہے اس کا ہے حکم ہاں میں کروں گا پورا، ضروری ہے
میرے دل کی نگاہ سے وہ دور ہو کبھی کھینچے یوں نہ سبب مجھے
نہ ہو لمحہ بھر کی بھی غفلت اب مجھے کیا پتہ کہ ہوجائے کیا
کہیں بے خبر رہوں میں یوں اور کرم سے دیکھے وہ کب مجھے
مطلب یہ ہے کہ لمحہ بھر کی غفلت مجھے گوارہ نہیں ہے۔ پتہ نہیں کس وقت کیا ہو جائے۔ کہیں میں بے خبر ہوں اور میرے اوپر کرم کی نظر کر رہا ہو۔ ایسا ہو جاتا ہے۔
مرے سجدے عبادتیں اس کا حق، مرا حق تو اس پہ کوئی نہیں
یہ کرم ہے اس کا کرے قبول سنو خود سے کھینچے وہ جب مجھے
میرے جو عبادتیں ہیں میرے جو سجدے ہیں یہ اس کا حق ہے۔ میرا اس پہ کوئی حق نہیں ہے۔ ہاں اس کا جب کرم ہو جاتا ہے اور وہ قبول فرما لے پھر خود ہی کھینچ لیں گے۔ اور جذب والی بات۔
مجھ پہ فضل رب کا ہے اے شبیرؔ مجھے اہل حق سے ملا دیا
اب خدا کے کرم سے نصیب ہو ان ہی اہل حق کا ادب مجھے
اللہ تعالیٰ نے مجھ پہ کرم فرما دیا، مجھے اہلِ حق کے ساتھ ملا دیا۔ اب میں اللہ پاک سے یہ دعا کرتا ہوں کہ اب ان کے ادب بھی مجھے سمجھا دے، سکھا دے، تاکہ کہیں میں ان کی بے ادبی نہ کروں۔
دین کا ظاہر اور باطن
ظاہرِ دین ایک چھلکا ہے
اصل معاملہ تو دل کا ہے
چھلکا اس دین کو سلامت رکھے
دل میں ہی راستہ منزِل کا ہے
یہ اصل میں اس میں دو حقیقتیں ہیں؛ ظاہر اور باطن۔ یعنی ظاہرِ دین جو ہوتا ہے یہ ایک چھلکا ہے۔ اور چھلکا حفاظت کے لیے ہوتا ہے۔ گری مقصود ہوتا ہے۔ اب گری بغیر چھلکے کے نہیں بچ سکتی۔ زمانہ سے۔ لہٰذا وہ چھلکا تو ضروری ہے۔ لیکن چھلکا مقصود نہیں ہے۔ مقصود تو وہ گری ہے۔ لہٰذا جو دین ہے اصل میں اندرونی ہے۔ باطن والا ہے۔ جیسے ایمان اور تقویٰ۔ یہ دل کی باتیں ہیں۔ "اَلَا اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ، اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ"۔ تو ولایت دو چیزوں پر ہے۔ ایمان اور تقویٰ پر۔ وہ تو دونوں باطنی چیزیں ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل چیز تو دل کا ہے معاملہ، لیکن اس تک پہنچنے کے لیے راستہ ظاہر کا ہے۔ ظاہر اور باطن کو یکجا کرنا پڑتا ہے۔
اغیار سے دوستی
اغیار کی اب دوستی سے ہے مری توبہ
کہ ان کی بے وفائی نے ہے مجھ پہ یہ کھولا
دنیا ہو جس کے دل میں تجھے دل میں کیا سمجھے
جو ہے غلام نفس کا کرے کیسے وہ وفا
مطلب یہ ہے۔ اغیار کی جو دوستی ہے، اس سے میری توبہ ہے۔ کہ یہ بار بار بے وفائی کرتے ہیں، اور اس سے مجھ پر یہ بات کھل گئی ہے، کہ جس کے دل میں دنیا ہو، تو مجھے وہ کیا سمجھے گا؟ دل میں کیا سمجھے گا؟ ظاہر ہے جو اپنے نفس کا غلام ہے، وہ وفا کیسے کر سکتا ہے؟ اس کی محبتیں تو ساری نفس کے ساتھ ہیں۔ وہ تو اس کا غلام ہے
اللہ والوں کو دیکھ لینا
اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا
اللہ کو دیکھ سکتے نہیں اس کے بندوں کو دیکھ لینا
جو کر سکتے ہو وہ کر لو نا۔ جو نہیں کر سکتے اس کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ تو:
اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا
اللہ کو دیکھ سکتے نہیں اس کے بندوں کو دیکھ لینا
سورج کی شعائیں رستے میں غائب ہوتی ہیں بالکل تو
جس پر پڑیں وہ روشن ہوں تب ان شعاؤں کو دیکھ لینا
اللہ کے ہونے کے لئے اللہ والوں کو دیکھ لینا
اللہ کو دیکھ سکتے نہیں اس کے بندوں کو دیکھ لینا
مطلب یہ ہے کہ جیسے سورج کی شعاعیں رستے میں نظر نہیں آتیں۔ تو اللہ پاک تو آپ کو نظر نہیں آئے گا، لیکن جن کے اوپر وہ روشنی پڑتی ہے وہ نظر آ جاتا ہے۔ تو جو اللہ والے ہوتے ہیں وہ چمک جاتے ہیں۔ ان کا پتہ چل جاتا ہے۔
مردِ حقانی کی پیشانی کا نور
چھپ نہیں سکتا ہے پیشِ ذی شعور
تو روشن دل سے روشن ہو یہ روشنی کہاں سے آئی ہے
روشنی کے سفر کو دیکھ لینا روشن رستوں کو دیکھ لینا
یعنی تو روشن دل سے روشن ہوا ہے۔ یعنی جو اللہ والا ہے، تو یہ روشنی کہاں سے آئی ہے؟ یہ کوئی روشنی آ رہی ہے نا، تو اس روشنی کے سفر کو دیکھ لینا سلسلہ کو۔ اور جو روشن راستے ہیں، یہ سارے اس نظام کو دیکھ لینا۔
دل پر دنیا کی چھاپ ہو تو دنیا ہی نظر آئے فقط
گر دل کو بنانا چاہتے ہو ان کے دلوں کو دیکھ لینا
جو مٹ مٹ کے باقی بنے، رحمت کے سائے میں ہیں وہ
تم بھی ذرا طالب بنو اور ان سایوں کو دیکھ لینا
تجھ سے لینا کیا چاہیں گے تو ان کو کیا دے سکتا ہے؟
اللہ کے طالب ہیں وہ فقط ان کے کاموں کو دیکھ لینا
تو اگر چاہتا ہے، سمجھتا ہے کہ یہ مجھ سے کچھ لے لیں گے، خدا کے بندو تیرے اوپر نظر اس کی کیا ہے؟ ان کی نظر تو اللہ پر ہے، اللہ کے پاس سب کچھ ہے۔ لہٰذا تو اس کو کیا دے گا؟ ہاں البتہ تو ان کے کاموں کو دیکھ لینا کہ وہ کام کیسے کرتے ہیں۔
بات ان کی کان میں رس گھولے آنکھیں دید سے بھی ٹھنڈی ہوں
آنکھوں سے لٹائے جائیں شبیرؔ تو ان جاموں کو دیکھ لینا
مطلب یہ ہے کہ باتیں جو ان کی ہیں وہ کان میں رس گھولتی ہیں، اور آنکھیں بھی دید سے ان کی ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اور وہ آنکھوں سے عشق کے جام لٹاتے رہتے ہیں، تو بھی ان سے فائدہ حاصل کر لینا۔
ذکر اور صحبتِ صالحین
ذکر سے دل کی جب تیار ہو زمین
کر لے اختیار صحبتِ صالحین
اس سے اعمال ان کے پائے تو
اس سے حاصل ہو تجھ کو فوزِ مبین
اہلِ دل سے ملنا
جو ظاہر میں خرابی ہو تو لوگ وہ درست کردیں گے
اگر دل میں خرابی ہے تو نفس اور سست کردیں گے
تو اہلِ دل سے ملنا اس لئے ہوتا ضروری ہے
کہ دل کے ٹھیک کرنے کے لئے وہ چست کردیں گے
اچھا وہاں پر تو یہی بات چلے گی نا، تو لہٰذا اہلِ دل سے جب ملو گے، تو ان شاء اللہ اللہ تعالیٰ آپ کو وہ نصیب فرما دیں گے وہ چیز۔