الحمد للہ رب العالمین، الصلاۃ والسلام علی خاتم النبیین، اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے۔ پیر کے دن ہمارے ہاں تصوف سے متعلق سوالوں کے جوابات دیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی جن کے احوال یہاں پر آتے ہیں، ان کی تحقیق بھی بتائی جاتی ہے۔
سوال 25: السلام علیکم۔حضرت ایک سوال تھا، کئی دنوں سے ذہن میں گھوم رہا تھا کہ آپ ہمارے شیخ بھی ہیں مربی بھی ہیں۔ ظاہری بات ہے ہم آپ سے رہنمائی حاصل کریں گے۔ سوال کچھ اس طرح کا ہے، ایک تو ڈر بھی لگتا ہے عجیب لگ رہا ہے بھئی کسی پہ اعتراض نہ ہو جائے۔ ویسے تو اعتراض نہیں ہے ایک سوال ہے۔ وہ یہ ہے کہ پچھلے دنوں حضرت مولانا طارق جمیل صاحب کے صاحبزادے وہ گولی کی وجہ سے فوت ہو گئے تھے لگنے سے۔ اس پہ مولانا نے یہ ایک بات کہی تھی کہ میں نے بڑے بڑے علماء اولیاء اللہ کے ساتھ وقت گزارا، میری زندگی گزر گئی، لیکن ایسی اللہ کی محبت نہیں دیکھی جو اس بچے کے اندر تھی۔ ایک تو یہ بات کی۔ یہ دو تین دفعہ انہوں نے بیانوں میں بات کی تو دوسری بات یہ کہ ایک مولانا صاحب ساتھ بیٹھے تھے، میں جب وہ بیان سن رہا تھا تو وہ کہنے لگے نہیں اصل میں ان کا بیٹا مجذوب تھا۔ میں نے کہا مجذوب کی یہ کوئی عجیب سی حالت تھی کہ اس کی کبھی ایک ویڈیو وائرل ہوتی تھی جس میں وہ کبھی کیک کاٹ رہا ہے سالگرہ کا، کبھی ایل سی ڈی گا کے بیٹھا ہوا ہے۔ تو میں نے کہا ابھی جس طرح حاجی عبدالوہاب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں بعض حضرات کہتے ہیں مجذوبیت کے اثرات تھے، لیکن وہ کچھ اور رنگ تھا۔ پیر ذوالفقار علی صاحب کے اوپر بھی بعض حضرات کہتے ہیں کہ مجذوبیت کے آثار ہیں ان پہ، لیکن ان کا بھی رنگ کچھ اور ہے۔ لیکن اس بچے کا رنگ کچھ اور تھا۔ تو یہ کافی دنوں سے میرے ذہن میں تھی بات، اس کا مجھے رہنمائی فرما دیں۔
(سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)
جواب: حضرت مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتہم، ظاہر ہے ان کی شان چاہے کتنی اونچی ہو لیکن شریعت شریعت ہے۔ مطلب ظاہر ہے اس میں تو کوئی درمیان میں spare نہیں کر سکتے کسی کو، ٹھیک ہے نا؟ تو جو ان کی باتیں خلاف شرع ہیں، جو جس ڈگری میں ہیں، تو ظاہر ہے علماء کہہ سکتے ہیں، مطلب ظاہر ہے علماء اس پر کمنٹ کرتے ہیں۔ تو جیسے قرآن خوانی کے بارے میں بات مطلب ظاہر ہے چلی تھی اور علمائے کرام نے اس پر اپنا اپنا opinion دے دیا ہے تو لہذا میں تو اس پر بات نہیں کرتا ہوں لیکن میں کہتا ہوں کر سکتے ہیں لوگ علماء، کیونکہ ان کو حق ہوتا ہے۔ باقی ان کا جو بیٹا تھا وہ ان کا بیٹا تھا نا، تو ظاہر ہے اس کو تو محبت تھی اس کے ساتھ۔ تو ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک بادشاہ نے وزیر کو کہا تھا کہ اس علاقے میں جو سب سے خوبصورت بچہ ہے نا وہ لے آؤ۔ تو اس کا اپنا بیٹا کالا کلوٹا تھا وہ لے آیا۔ تو بادشاہ نے کہا کہ نہیں خوبصورت بچہ لے آؤ۔ اگلے دن پھر وہ لے آیا۔ تین چار دن ہوئے تو بادشاہ غصہ ہو گیا، میں تمہیں کہتا ہوں خوبصورت بچہ لاؤ تم یہ بچہ لا رہے ہو۔ کہتا ہے یہ میرا بیٹا ہے مجھے تو اس سے زیادہ خوبصورت کوئی نظر نہیں آتا۔ تو اب مولانا صاحب اپنے بیٹے کو سب سے زیادہ سمجھتے ہیں تو میرے خیال میں اس میں وہ معذور ہیں۔ تو اس وجہ سے ہم اس پر اس کی گرفت نہیں کر سکتے مطلب اس مسئلے میں، وہ ایک معذوری کی حالت ہے، ٹھیک ہے نا۔ ان کو کہنے دیں، ہاں البتہ شرعی باتوں میں جیسے میں نے کہا قرآن خوانی یا کوئی اس قسم کی باتیں جو جیسے وہ بعض دفعہ اہل تشیع کے قریب کی باتیں کر لیتے ہیں، ان پر علمائے کرام نے گرفتیں کی ہیں، اور اس طرح بعض دفعہ انہوں نے سیاسی طور پر کچھ غلط باتیں کی ہیں اس پر علمائے کرام نے ان کی گرفتیں کی ہیں۔ تو انسان ہے، غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ تو جو غلطی ہوگی تو اگر عالم ہوگا تو عالم کی تو علمی گرفت تو کی جاتی ہے نا، پھر علماء کرتے ہیں۔ تو لہذا مطلب اس قسم کی باتوں میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ علمائے کرام کے اندر یہ باتیں چلتی ہیں اور یہی cleaning کا طریقہ ہے، صفائی کا ذریعہ ہے کہ لوگ اس میں صفائی وہ کر لیا کریں اپنی۔
تو اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے، جہاں تک مجذوبیت کی بات ہے۔ تو مجذوبیت دو قسم کی ہے۔ بلکہ میں اب کہہ سکتا ہوں کہ تین قسم کی ہے۔ پہلے دو قسم کی تھی، یہ میری خود اپنی تحقیق تھی، دو قسم کی تھی۔ تو میں نے اس پر ایک غزل لکھی تھی، وہ بھی سناتا ہوں، پھر اس کے بعد جب حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے میں نے مکتوبات شریف یہاں اس کا درس دینا شروع کر لیا تو اس میں ایک تیسری قسم کے مجذوب کا ذکر بھی نکل آیا۔ تو پھر اس کے بعد پھر میں نے تین قسم کے مجذوبوں کے بارے میں وہ کر لیا۔ تو یہ بات ہے تو اب میں ذرا بتاتا ہوں کہ وہ تین قسم کے مجذوب کیا ہیں۔ ان شاء اللہ العزیز اس میں دیکھ لیں گے ان شاء اللہ اس کی بھی جگہ نکل آئے گی۔
عنوان ہے:
مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
سچ کہ محبوبِ خدا ہے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
عقل اور ہوش سے ہے بیگانہ اگر
اقتدا سے رکھو پرے مجذوب
اگر عقل و ہوش سے بیگانہ ہے تو اس کی اقتدا نہ کرو، اس کے خلاف باتیں کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ عقل و ہوش سے بیگانہ ہے، تو لہذا اس کے خلاف باتیں کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن اس کے پیچھے بھی نہ چلو۔
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
بات شریعت کی ہی چلے گی ہمیش
گو خدا کو تو ہے پیارے مجذوب
یہ الحمدللہ ہمارے بڑوں نے اس چیز کو بڑا واضح کر دیا ہے کہ جو اللہ کا پیارا بھی ہو اس کے گزشتہ اعمال کی وجہ سے، یا اللہ کے قرب کی وجہ سے، لیکن اگر اس میں ہوش اور عقل نہیں ہے، یعنی شریعت پر نہیں چل سکتا، تو اس کی بات نہیں ماننی کیونکہ اصل بات شریعت کی ہے۔ افراد کی نہیں ہے۔ تو اس کو ہم کچھ نہیں کہیں گے کیونکہ اس میں عقل و ہوش نہیں ہے۔عقل و ہوش والے پر شریعت لاگو نہیں ہوتی لیکن اس کو اپنا مقتدیٰ نہیں بنانا کیوں بات شریعت ہی کی چلے گی
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
دین کی بنیاد عقل و ہوش پہ ہے
اور اس پر نہیں چلے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
ہاں جذب ہوش کے قابو میں رہے
یہ جذبِ وہبی ہے۔ دیکھیں نا جس کا ابھی دوسری قسم کا پہلا جذب جس میں عقل و ہوش نہیں ہے، دوسرے میں عقل و ہوش جب اتنا ہو جائے کہ انسان اپنے نفسوں کی خواہش سے نکل کر اللہ کی بات سمجھ سکے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کر سکے، وہ اصل چیز ہے وہ جذب وہبی ہے، جو سلوک طے کرنے کے بعد ہوتا ہے، اس کا یہاں پر ذکر آ گیا۔
ہاں جذب ہوش کے قابو میں رہے
اور شریعت کی بھی مانے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
ایسا جذب فضلِ خداوندی ہے
دل کی باتیں پھر بتائے مجذوب
بالکل
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
یہاں دل کی باتیں بتانے کی کیوں بات آئی ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جذب کا تعلق دل کے ساتھ ہے۔ بس صرف یہ بات ہے کہ جو نفس کی رکاوٹ تھی جو دل کو متاثر کرتی تھی، غلطیوں کی طرف لے جاتی تھی، دنیا کی محبت میں مبتلا کرتی تھی، وہ چونکہ نکل گیا سلوک طے کرنے کی وجہ سے، اب اس کا دل صاف ہو گیا۔ اب دل میں جو الہامی باتیں اللہ کی طرف سے آتی ہیں، وہ ماشاءاللہ وہ بتا رہے ہیں، یعنی اس کا مطلب یہ ہے۔
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
دل سے پھر عقل شریعت پہ چلے
یہ اصل میں یہاں پر وہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کی تحقیق ہے کہ جب انسان کی اصلاح ہو جاتی ہے سلوک طے کر لیں، تو دو مزید لطیفے پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایک لطیفہ روح، جو دل کو ملأ اعلیٰ کے ساتھ ملاتا ہے۔ ایک لطیفہ سِر، جو عقل کو ملأ اعلیٰ سے ملا لیتا ہے۔ تو پھر وہ فیصلے جو عقل ہے وہ ملأ اعلیٰ کی طرف سے جو فراست ملتی ہے، اس کے ذریعے سے شریعت کے مطابق کرتا ہے۔ اور الہامات بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو آتے ہیں، وہ بھی ماشاءاللہ شریعت کے مطابق ہوتے ہیں۔
دل سے پھر عقل شریعت پہ چلے
نفس پہ خوب پھر چھائے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
سچ کہ محبوبِ خدا ہے مجذوب
اور اگر ہوش میں مجذوب تو ہے
یہ اب تیسرا مجذوب آرہا ہے اس کے بعد جو میں کتابیں پڑھنے کے بعد مکتوبات شریف اس کے بعد تیسرے مجذوب کی بات آگئ۔
اور اگر ہوش میں مجذوب تو ہے
اور سلوک نہ کرے طے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
پھر یہ مجذوب متمکن ہے بس
حضرت نے اس کا نام دیا ہے
پھر یہ مجذوب متمکن ہے بس
اور یہ حق تک نہ پہنچے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
اس کے آثار بزرگوں کے ہیں
لیکن بزرگ نہیں یہ ہے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
چاہیے یہ کہ مستعد ہو
کرے دس مقاماتِ سلوک طے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
سیر الی اللّٰه تب اس کا پورا ہو
سیر فی اللّٰه پہ یہ چلے مجذوب
یہ ہے مانا ہے جذب سے مجذوب
سچ کے محبوب خدا ہے مجذوب
عشق کے نور میں ملفوف شبیرؔ
ایسے اشعار سنائے مجذوب
تین قسم کے مجذوبوں کا پتہ چل گیا؟ اب بتاؤ کہ مولانا طارق جمیل صاحب کا بیٹا کونسا مجذوب ہے؟ پہلی قسم کا ہے۔ تو ٹھیک ہے، ان کی بزرگی سے ہمیں کوئی نہیں ہے۔ مطلب شک نہیں ہے۔ البتہ مقتدا نہیں ہے۔ اور ان کے ساتھ مولانا طارق جمیل صاحب کو محبت ہے اس میں وہ بھی معذور ہیں۔ لہٰذا اس میں کوئی ہم ان کے ساتھ اختلاف نہیں کرتے، یہ والی بات ہے۔
(تیسرا یہ ہے کہ مولانا طارق جمیل صاحب بھی مجذوب متمکن ہیں ابھی تک) وہ تو ان کا اپنا سٹیٹس ہے نا، لیکن میں کہتا ہوں اس مسئلے میں ہم ان کے ساتھ کوئی دوسری بات نہیں کرتے، کیونکہ اپنے بیٹے کے، زیادہ بیٹے کے لیے جذبات اس کے ہیں، اس پر ہم کیا گرفت کر سکتے ہیں؟ البتہ یہ ہے کہ ان کا بیٹا واقعی صحیح ہے ماشاءاللہ۔ یعنی ان کے باقی کچھ ایسے کام اس طرح ہیں کہ وہ سینسز میں نہیں تھے، لیکن کسی کسی وقت بہت اعلیٰ قسم کی باتیں بھی کرتے، کسی کسی وقت ادھر ادھر کی باتیں بھی کر لیتے تھے۔ تو مطلب یہ ہے کہ وہ صحیح ہے، محبت تو تھی ان کو اللہ کے ساتھ۔
سوال 26: حضرت خواب کی تعبیر پوچھ سکتے ہیں؟
(سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)
جواب: یہ تو ، لکھ کر واٹس ایپ کے ذریعے۔ کیونکہ اس میں ہوتا ہے نا کہ انسان کا اپنا ذاتی ہوتا ہے۔ تو دوسروں کے سامنے آنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
سوال 27: حضرت جی یہ جو روزانہ کے معمولات ہیں، یہ پہلے سبق سے جہاں تک سبق ہو وہاں تک کرنے چاہیے اور کتنا ٹائم دینا چاہیے ان کو؟ یا کس لطیفے کو زیادہ ٹائم دیں، (یہ آپ اپنے لیے پوچھ رہے ہیں؟) جی اپنے لیے پوچھ رہا ہوں۔
(سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)
جواب: آپ اپنے جو معمولات ہیں پھر مجھے ذرا بھیج دیجیے گا تو میں ان شاء اللہ عرض کروں گا۔ ٹھیک ہے۔
سوال 28: حضرت میرا ذکر بالجہر چل رہا تھا نا، جو 12 تسبیح چشتیہ کی ہے۔ اس کے بعد آپ نے مجھے پانچ لطائف جو ہیں وہ پورے کروائے۔ حضرت یہ اب مجھے، میں نقشبندیت میں چل رہا ہوں یا چشتیہ میں، کیسے پتہ چلے گا؟
(سوال جواب مجلس 11 دسمبر 2023 ، مجلس نمبر 651)
جواب: یہ بات صحیح ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ جو پروسیجرز ہیں نا یہ نقشبندیت اور چشتیت کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔ کیونکہ ہمارے صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی لطائف کرواتے تھے۔ اور یہ ہے کہ اور بہت سارے حضرات بھی کرواتے ہیں۔ ذکرِ جہر بھی بعض نقشبندی حضرات کرواتے ہیں، مطلب ظاہر ہے وہ چونکہ وہ چانس کی بات ہوتی ہے کہ مطلب وہ دیکھتے ہیں کہ لوگوں کو کس چیز سے فائدہ ہوتا ہے۔ تو وہ بھی کرواتے ہیں۔ البتہ اپنا جو ذوق اور مزاج ہوتا ہے نا، وہ یا نقشبندی ہوگا یا چشتی ہوگا یا سہروردی ہوگا یا قادری ہوگا، جس کا جو بھی ہوگا۔ تو فی الحال آپ بس اس کو کرتے جائیں، وہ آپ کا جو اصل رنگ ہوگا وہ نکلتا جائے گا، ان شاء اللہ، جو بھی ہوگا۔ مجھے جیسے میں نے آخر تک وہ کرواتا رہا کرتا، حضرت کرواتے رہے، وہ چشتیہ اذکار اور زیادہ تو نہیں تھے صرف ایک ایک تسبیح تھی۔ "لا الہ الا اللہ، الا اللہ، اللہ ھو، اللہ، اور اللہ"۔ لیکن اخیر میں خود ہی حضرت نے فرمایا، تمہاری نسبت نقشبندی ہے۔ اب بتائیں کس طرح نقشبندی ہو گیا، کیا ہو گیا؟ ظاہر ہے میں نے تو کوئی ان کا مراقبہ بھی نہیں کیا تھا، نہ میں نے جو قلبی ذکر جو دیتے ہیں، وہ بھی نہیں کیا تھا۔ لیکن بقول حضرت کے، اب حضرت تو بہت ماہر تھے ذکر کے، اتنے ماہر تھے کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خط بھیجا تھا، تو اس میں ایک سلسلے کے بارے میں پوچھا تھا کہ ان کا ذکر کیسے ہوتا ہے یعنی ان کے اذکار کیسے ہوتے ہیں؟ تو حضرت نے پھر اس کا جواب لکھا تھا۔ تو اس کا مطلب ہے حضرت کو تو expert مانا جاتا تھا ذکر کے معاملے میں۔ تو وہ جب فرماتے ہیں کہ آپ کی نسبت نقشبندی ہے تو اس کا مطلب ہے ٹھیک ہے، پھر بعد میں اللہ پاک نے ظاہر بھی کر دیا۔ لیکن اس وقت تو مجھے تو نہیں پتہ تھا نا، اس وقت تو میں ان چیزوں کو جانتا بھی نہیں تھا۔ تو یہ بات ہے کہ وہ نکھر جاتا ہے، ظاہر ہو جاتا ہے بعد میں، یعنی سامنے آ جاتا ہے، جو بھی ہو۔
اب یہاں پر بہت سارے ساتھی ہمارے، ان میں سہروردیت کا رنگ غالب ہو گیا۔ حالانکہ سہروردی سلسلہ تقریبا مخفی ہو گیا تھا، تقریبا مخفی ہو گیا تھا مطلب یہ ہے کہ کسی کو بھی شاید علم نہیں تھا کہ آج کل سہروردی سلسلہ ہے بھی یا نہیں ہے۔ لیکن وہ جس وقت ہم نے ذکر اس کا شروع کروا دیا تھا تو رنگ غالب ہو گیا، رنگ نکھر گیا مطلب اس کا۔ تو یہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے آپ اس کی فکر نہ کریں، آپ اپنے کام جاری رکھیں۔ جو آپ کے لیے لکھا ہوگا ان شاء اللہ ظاہر ہو جائے گا ان شاء اللہ۔ حضرت آپ کے لیے میری ایک خواہش ہے، کہ آپ جانے سے پہلے ایک سہ روزہ لگا دیں۔ جی ہاں بالکل، کیونکہ ظاہر ہے ویسے بھی حضرات فرماتے ہیں نا کہ دور جانے سے پہلے ایک خاص وقت لگا دیں تاکہ بعد میں رابطے میں وہ جو چیز ہوتی ہے وہ سامنے پھر آتی رہتی ہے۔ تو جب آپ ساری چیزوں سے فارغ ہو جائیں تو پھر ایک سہ روزہ بھی لگا دیں۔ اس میں پھر آپ کو بتا دوں گا ان شاءاللہ۔ ماشاءاللہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت پیارا طریقہ ہے جی ہمارا۔ ہمارے سلسلے کے اندر اللہ پاک نے بہت عجائبات رکھے ہوئے ہیں۔ جیسے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا نا کہ ہمارے سلسلے میں ملائیت ہی ملائیت ہے۔ لیکن پھر بھی اللہ پاک جس کے اوپر فضل فرمانا چاہے تو اتنا دے دیتے ہیں، نہ کسی آنکھوں نے دیکھا ہے، نہ کسی کانوں نے سنا ہے، نہ کسی دل میں اس کا خیال گزرا ہوگا۔ اور یہ بات بالکل صحیح ہے، کم از کم میں اپنے تاثرات تو یہی پاتا ہوں۔ میں مطلب دوسروں کی بات نہیں کرتا ہوں کہ ان کو کتنا نظر آیا، کتنا نظر نہیں آیا، لیکن حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے اس ملفوظ کی %100 تائید کرتا ہوں۔ سو فیصد بالکل جو ہے میں دلی گواہی کے ساتھ مطلب اس کی تائید کرتا ہوں کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللّٰه علیہ فرماتے ہیں اور وہی چیز چلی آرہی ہے سب میں فرماتے ہیں علم، عمل اور اخلاص یہ بنیاد ہے اللّٰه پاک نے ہم سے تین چیزیں مانگی ہیں علم، عمل اور اخلاص۔
اور اسی کو حاصل کرنے کے لیے طریقت ہے۔ ہمارا کوئی اور مقصد نہیں ہے۔ یعنی علم حاصل کرنا ہے اس لیے کہ عمل کریں۔ اور عمل اخلاص کے ساتھ کریں۔ اور جو اس میں رکاوٹیں ہیں، چاہے وہ علم میں رکاوٹیں ہوں، چاہے عمل میں رکاوٹ ہو، چاہے اخلاص میں رکاوٹ ہو، ان کو طریقت کے ذریعے سے دور کیا جائے۔ بس یہی بات ہے۔
تو طریقت یہ گویا کہ رکاوٹیں دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ باقی اصل مقصد وہ یہی تین ہے نا کہ علم، عمل اور اخلاص۔ یہ بات ہے۔ تو اگر دیکھا جائے تو الحمدللہ، اگر ہمارے سلسلے میں آسانی کے ساتھ یہ میسر ہو جاتی ہے تو اور کیا چیز چاہیے؟ ہمیں ہواؤں میں تو نہیں اڑنا نا! مطلب ظاہر ہے کہ ایک شخص ہے اگر یہ سمجھتا ہو کہ تصوف یہ ہے کہ آدمی ہوا میں اڑے، تو وہ ہمارے ہاں نہیں ہے۔ اس کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ نہیں ہے۔ کوئی کہتا ہے بھئی اچھے اچھے خواب آئیں گے، تو یہ بھی ہم لازمی نہیں سمجھتے۔ آ سکتے ہیں، آتے ہیں، لیکن یہ مقصود نہیں ہے۔ مطلب ظاہر ہے اگر آ جائیں تو اچھی بات ہے، نہیں آئیں تو پرواہ نہیں ہے۔
اس طرح مطلب یہ ہے کہ یہ جو کشف ہے اور کرامات ہیں، اب کم از کم میں اپنے بارے میں تو کہہ سکتا ہوں، مجھے کوئی کشف نہیں ہوتا۔ اب ظاہر ہے اس میں کیا میں کہہ سکتا ہوں؟ تو حضرت فرماتے ہیں، حضرت خود شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ جیسے حضرات، جن کو بہت کشف ہوتا تھا خود۔ وہ فرماتے ہیں کہ بغیر کشف کے جن کو معرفت حاصل ہوتی ہے، وہ معرفت زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ اب بتائیں! کیونکہ ان کی جو معرفت ہوتی ہے وہ قرآن و حدیث سے ماخوذ ہوتی ہے۔ تو وہ تو قطعی چیز ہے۔ تو جو قطعی چیز ہے جس کو حاصل ہے تو ظنی چیز تو مطلب اس کے مقابلے میں تو وہ نہیں ہے نا۔
تو اب یہ ذرا دیکھا جائے، تو الحمدللہ یہ ساری چیزیں ہمارے، الحمدللہ ہمارے سلسلے کے اندر یہ موجود ہیں۔ لہٰذا دوسرے سلاسل کی لوگ باتیں کریں نا، تو ان کی نفی ہم نہیں کرتے۔ نفی کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ لیکن کم از کم ہمارے دل میں ذرہ بھر بھی خواہش نہیں ہوتی کہ کاش وہ مطلب وہ ہوں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ وجہ کیا ہے کہ سارا کچھ موجود ہے۔ ہمیں کیا احساسِ کمتری ہو کہ بھئی یہ چیز ہمارے اندر نہیں ہے؟ نہیں۔ ایسا نہیں ہے، الحمدللہ اللہ کا شکر ہے کہ ساری چیزیں موجود ہیں۔ اللہ کا فضل ہے، اللہ کا فضل و کرم ہے۔
تائیداتِ الٰہی ہیں باقاعدہ۔ مطلب قدم قدم پہ مطلب وہ الحمدللہ تائیدِ الٰہی محسوس ہو رہی ہے، اور رہنمائی محسوس ہو رہی ہے۔ غلطی ہو جائے تو کبھی کبھی پھینٹی بھی لگائی جاتی ہے۔ یہ بھی اس کا کرم ہے۔ مطلب ظاہر ہے کہ، یعنی آپ کو اگر کوئی روک دے غلطی سے، مطلب آپ کنویں میں گر رہے ہو اور کوئی آپ کو تھپڑ مارے، دور پھینکے آپ کو، تو اس نے کیا کیا آپ کے ساتھ؟ آپ کے ساتھ خیر کا معاملہ کیا، کہ آپ کو کنویں میں گرنے سے بچا لیا۔ تو کبھی کبھی مطلب ایسا بھی ہوتا ہے۔ میرے ساتھ ہوا ہے اس طرح۔ تو ظاہر ہے میں تو خود سمجھتا ہوں، یعنی اِن تمام چیزوں کے بارے میں گواہی دے سکتا ہوں۔
لہٰذا ہم لوگوں کو اللہ کا بہت شکر ادا کرنا چاہیے۔ بہت شکر ادا کرنا چاہیے۔ اس کا کرم ہے۔ پھر دیکھیں آپ کو، یعنی اس وقت دنیا میں جن بزرگوں سے اللہ نے بہت کام لیا ہے، بہت کام لیا ہے، وہ الحمدللہ سارے بزرگ، ان کے ساتھ ہمارا تعلق ہے۔ حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہو گئے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ہو گئے، حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ ہو گئے، حضرت مولانا مدنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہو گئے، بے شک ہمارا سلسلہ وہ ایک اپنا ہے لیکن یہ مطلب ہے ان سب بزرگوں کے ساتھ ہمیں الحمدللہ تعلق ہے۔ ان کی برکات الحمدللہ ہمیں... مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مطلب سب کے ساتھ ہمارا وہ ہے۔ ان کی برکات ہمیں حاصل ہو رہی ہیں۔
تو اس وجہ سے ہم تو سمجھتے ہیں کہ الحمدللہ ہم بڑے خوش نصیب ہیں کہ ایسے پیارے سلسلے کے اندر اللہ پاک نے ہمیں ڈالا ہوا ہے۔ اور اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں ہے۔ نہ اتنی سمجھ تھی کہ چن سکتے۔ یعنی آپ اندازہ کر لیں، میرا تو ارادہ تھا جنگل میں جانے کا۔ یعنی میں تو جو تصوف سمجھتا تھا وہ یہ تھا کہ اس کے لیے جنگل میں جانا ضروری ہے۔ اور جنگل میں جانے کے لیے میں تیار تھا۔ لیکن اللہ پاک نے University میں اپنا شیخ عطا فرما دیا۔ کہاں جنگل؟ کہاں University؟ تو یہ اللہ پاک کا کرم ہے یا نہیں؟ University جیسی جگہ میں، جہاں پر ظاہر ہے اس قسم کی چیزوں کا وہ نہیں ہوتا، وہ الحمدللہ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے شیخ عطا فرما دیا۔ اور اس کے لیے ہمیں نہ جنگل میں جانا پڑا، نہ کسی خاص اور جگہ جانا پڑا۔ حضرت کے پاس آتے جاتے تھے۔
اور کیا ہوتا تھا؟ حضرت سے جب رخصت ہوتے تو Student تھے، تو حضرت پوچھتے، ”چھٹی؟“ ”جی“ ”مل گئی گھٹی؟ چلو اللہ کے حوالے“۔ بس وہ ہاتھ ملا کے ہم واپس Hostel پہنچ جاتے۔ یہ ہمارا طریقہ کار تھا سارا۔ چار پانچ سال تو ہم نے ایسے گزارے کہ ہمیں حضرت کا پتہ ہی نہیں تھا کہ حضرت پیر ہیں۔ یعنی ابھی تک ہم حضرت کو "مولانا صاحب" ہی کہتے ہیں۔ پیر صاحب کبھی نہ نام ہم نے حضرت کے لیے لیا ہے، نہ کبھی سوچا ہے، نہ کبھی ذہن میں آیا ہے۔ ہم حضرت کو "مولانا صاحب" ہی کہتے تھے اور۔
اچھا کمال کی بات ہے، جس وقت ہم حضرت سے بیعت نہیں تھے، اس وقت بھی بیعت والوں سے زیادہ تھے۔ یعنی کوئی بھی کچھ بات بھی کر رہے تھے تو ہم کہتے، ”اچھا حضرت مولانا صاحب سے پوچھتے ہیں“۔ یہ اللہ یار خان صاحب کے لوگ میرے پیچھے پڑ گئے تھے۔ ”جی ہم آپ کو لے چلتے ہیں“۔ میں نے کہا: نہیں۔ تو خیر جب میں مان گیا تو مسرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ حضرت کے خلیفہ تھے، ان کو پتہ چل گیا۔ مجھے کہتے، ”ادھر جا رہے ہو؟“ میں نے کہا ہاں۔ ”نہ جاؤ! پوچھنا بھی نہیں کیوں۔ بس ختم۔“ اچھا، استاد تھے میرے، میں نے کہا میرا مخلص ہے، لہٰذا کوئی بات ہو گی۔ تو لہٰذا میں نے کہا بھئی میں نہیں جا رہا۔
اب میرے پیچھے پھر پڑ گئے، نہیں جی وہ... میں نے کہا بھئی اب صرف ایک ہستی ہے، جو مجھے اگر کہہ دے کہ ٹھیک ہے جاؤ تو میں جا سکتا ہوں، اس کے علاوہ اور کوئی صورت حال نہیں ہے۔ کہتے کون؟ میں نے کہا مولانا اشرف صاحب۔ اب مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے پاس گئے۔ ٹھیک ہے۔ اب حضرت کے پاس گئے تو حضرت سے میں نے سوال پوچھا۔ سوال پوچھا تو حضرت نے پہلے شعر پڑھا۔ فرمایا:
بھری بزم میں دل کی ایک بات
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
پھر اس کے بعد حضرت نے پورا نقشہ کھینچا اس کا۔ بس میں نے کہا اب ٹھنڈے ہو گئے ہو؟ اب میں نہیں جا رہا۔ بس اس کے بعد۔۔۔ تو یہ حالت تھی حضرت کی، مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی، کہ پیر نہیں تھے لیکن پیر سے زیادہ تھے۔ وہ تو ہمیں پتہ نہیں تھا نا کہ حضرت پیر ہیں۔ تو وہ تو سید تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ ان سے بیعت ہیں؟ میں نے کہا کیا حضرت بیعت کرتے ہیں؟ بیوقوف آدمی کیسے بات کرتے ہو؟ یہ University میں یہ برکات کس کی ہیں؟ یہ تو انہی کی ہیں۔ میں نے کہا اچھا پھر ٹھیک ہے۔
تو خیر بہرحال لمبا قصہ ہے۔ پھر حضرت سے بیعت بھی ہوئے اور الحمدللہ حضرت کی برکات ماشاءاللہ کھلتی گئیں۔ تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ اللہ پاک کا فضل تھا بس۔ ورنہ ہمارے اندر یہ جان نہیں تھی کہ ہم یہ بات کر سکتے کہ بھئی یہ اتنا اہم سلسلہ ہے اس لیے اس میں چلے جاؤ۔ نہیں، پتہ ہی نہیں تھا۔
الحمدللہ! اب یہ جتنی چیزیں یہاں پر شروع ہیں، آپ یقین کیجئے کبھی ہم نے سوچا تھا کہ ہم یہ کام کریں گے؟ ان میں سے ایک چیز کا بھی نہیں سوچا تھا۔ یعنی اگر عقل کی بات ہے تو میرے خیال میں اس میں ہم کوئی کام بھی نہیں کر سکتے تھے۔ عقل کے مطابق اگر کہیں۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی الطاف القدس کہاں ہم اور کہاں اس کی تدریس کرنا؟ پھر یہ ہمارے جو مکتوبات شریف کے جو دروس ہیں، یہ کہاں اور کہاں حضرت کے مکتوبات شریف؟ پھر حضرت کاکا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مقامات قطبیہ اور مقالات قدسیہ، حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کی عبقات۔ اس طرح مثنوی شریف۔ کہاں ہم اور کہاں مثنوی شریف۔ کمال ہے انسان حیران ہو جاتا ہے۔ لیکن الحمدللہ، اللہ پاک ہی اسباب بناتے رہے۔ اللہ تعالیٰ ہی حالات بناتے رہے اور اس کے مطابق پھر وہ چیزیں چلاتے رہے۔
بس یہی بات ہے۔ یعنی آپ اندازہ کر لیں کہ میں ہفتے کے دن وہ کتاب ختم ہو گئی نا ایک، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی، میں نے کہا اب کون سی کتاب شروع کرنی ہے؟ حضرت مولانا اشرف صاحب حضرت فاروق حسنی صاحب آئے ہوئے تھے England سے۔ تو کہتے ہیں جی میں مولانا اشرف صاحب کے مزار پہ جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے اتنے دور سے آیا ہے تو اس کا حق ہے۔ میں ان کو لے گیا وہاں پر۔ —تو خیر ایسا ہے کہ وہاں جو زیارت ہو گئی تو زیارت کے بعد مجھے کہتے ہیں، ”مولانا صاحب کہتے ہیں کہ میری کتاب کے لیے کوئی وقت نکالو“۔ تو بس سلوکِ سلیمانی شروع ہو گیا۔