اللہ کی صفتِ عدل، صلاحیتوں کا احتساب اور نفسِ امارہ سے بچاؤ

درس نمبر 210: سورۃ المائدة، آیت نمبر 15 تا 19

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • یہود و نصاریٰ کی کتبِ سماوی میں تحریف اور نبی کریم ﷺ کی آمد کے مقاصد۔
  • اللہ تعالیٰ کی کامل صفات بالخصوص صفتِ عدل، کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
  • صلاحیتوں اور ذمہ داریوں کا باہمی تعلق (زیادہ صلاحیت یعنی زیادہ پوچھ گچھ)۔
  • نسبی برتری (چنے ہوئے ہونے) کے زعم کی نفی اور اعمال کی بنیاد پر احتساب کی حقیقت۔
  • سادات اور صاحبِ صلاحیت افراد کی بھاری ذمہ داریاں۔
  • امام فخر الدین رازیؒ اور حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے اقوال کی روشنی میں سادگی اور عاجزی کی اہمیت۔
  • نفسِ امارہ کی پیروی کے نقصانات اور خالص شریعت کی اتباع کی ضرورت۔
  • اللہ علیم و خبیر ہے، لہٰذا اس کے دربار میں پیشی کے خوف سے محتاط زندگی گزارنے کی تلقین۔

الحمد للّٰہ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيْرًا مِّمَّا كُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ ۭ قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّكِتٰبٌ مُّبِيْنٌ ﴿ۙ15﴾ يَّهْدِيْ بِهِ اللّٰهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهٗ سُبُلَ السَّلٰمِ وَيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ بِاِذْنِهٖ وَيَهْدِيْهِمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ﴿16﴾ لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِيْحُ ابْنُ مَرْيَمَ ۭ قُلْ فَمَنْ يَّمْلِكُ مِنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا اِنْ اَرَادَ اَنْ يُّهْلِكَ الْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَاُمَّهٗ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۭ وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۭ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴿17﴾ وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ وَالنَّصٰرٰي نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّآؤُهٗ ۭ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوْبِكُمْ ۭ بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۭ يَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ ۭ وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۠ وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ ﴿18﴾ يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ قَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلٰی فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا جَآءَنَا مِنْۢ بَشِيْرٍ وَّلَا نَذِيْرٍ ۡ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَشِيْرٌ وَّنَذِيْرٌ ۭ وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴿19﴾ ۧ صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

ترجمہ: اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارے (یہ) پیغمبر آگئے ہیں جو کتاب (یعنی تورات اور انجیل) کی بہت سی ان باتوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو تم چھپایا کرتے ہو، اور بہت سی باتوں سے درگزر کرجاتے ہیں۔

حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ نے یوں تو اپنی آسمانی کتابوں کی بہت سی باتوں کو چھپا رکھا تھا، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ان باتوں کو ظاہر فرمایا جن کی وضاحت دینی اعتبار سے ضروری تھی۔

ترجمہ: تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی آئی ہے، اور ایک ایسی کتاب جو حق کو واضح کردینے والی ہے ﴿15﴾ جس کے ذریعے اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے جو اس کی خوشنودی کے طالب ہیں، اور انہیں اپنے حکم سے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے، اور انہیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے ﴿16﴾ جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے، وہ یقیناً کافر ہوگئے ہیں۔ (اے نبی ! ان سے) کہہ دو کہ اگر اللہ مسیح ابن مریم کو اور ان کی ماں کو اور زمین میں جتنے لوگ ہیں ان سب کو ہلاک کرنا چاہے تو کون ہے جو اللہ کے مقابلے میں کچھ کرنے کی ذرا بھی طاقت رکھتا ہو؟ تمام آسمانوں اور زمین پر اور ان کے درمیان جو کچھ موجود ہے اس پر تنہا ملکیت اللہ ہی کی ہے۔ وہ جو چیز چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے ﴿17﴾

ترجمہ: یہود و نصاریٰ کہتے ہیں کہ ”ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں“ (ان سے) کہو کہ ”پھر اللہ تمہارے گناہوں کی وجہ سے تمہیں سزا کیوں دیتا ہے؟

حاشیہ: یہ بات یہود و نصاریٰ بھی مانتے تھے کہ وہ مختلف مواقع پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا نشانہ بنے ہیں، اور ان میں سے بہت سے لوگ اس بات کے بھی قائل تھے کہ آخرت میں بھی کچھ عرصے کے لئے وہ دوزخ میں جائیں گے۔ لہٰذا بتانا یہ منظور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسان ایک جیسے پیدا فرمائے ہیں، ان میں سے کسی خاص نسل کے بارے میں یہ دعویٰ کرنا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی لاڈلی قوم ہے، اور اس کے قوانین سے لازمی طور پر مستثنیٰ ہے، بالکل غلط دعویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قوانین سب کے لئے برابر ہیں۔ اس نے کوئی خاص نسل اپنی رحمت کے لئے مخصوص نہیں کی ہے۔ البتہ وہ اپنی حکمت کے تحت جس کو چاہتا ہے بخش بھی دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے اپنے قانونِ عدل کے تحت سزا بھی دیتا ہے۔

اصل میں اللہ جل شانہ کی صفات کامل ہیں اور اللہ پاک کی بہت ساری صفات ہیں۔ اور ہر صفت اپنے اپنے اس میں کامل ہے۔ تو ایسی صورت میں کسی ایک صفت کو ماننا اور دوسری صفت کو نہ ماننا، یہ ظاہر ہے مطلب کفر کی طرف لے جاتا ہے۔ تو اللہ جل شانہ انصاف کرنے والے ہیں، کسی پر ظلم نہیں کرتے۔ اور ظلم وہ ہوتا ہے کہ جو چیز کرنے کی ہوتی ہے، وہ مطلب اس کی جگہ کچھ اورکر لے۔ تو ایسی صورت میں اب اللہ پاک نے ساری مخلوقات کو پیدا فرمایا ہے، تو اللہ جل شانہ کسی ایک کو اس کے کیے پر سزا دے اور دوسرے کو اس کے کیے پر سزا نہ دے، تو یہ تو ظاہر ہے اللہ جل شانہ کے انصاف سے بعید ہے۔

اور دوسری بات یہ ہے کہ ہاں، البتہ ایک بات ہوتی ہے کہ اللہ پاک بعض صلاحیتیں بعضوں کو زیادہ دیتے ہیں اور بعضوں کو کم دیتے ہیں۔ تو جن کو زیادہ صلاحیتیں دیتے ہیں، ان سے پوچھ بھی زیادہ ہوتی ہے۔ مطلب اس کی compensation اس طرح ہو جاتی ہے۔ مطلب ان کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر ایک سادہ آدمی ہے۔ اس کی نگاہ، اس کی ایک خاص چیز کی طرف جاتی ہی نہیں، تو ان کے ساتھ اتنی بات نہیں ہوتی۔ بس وہ موٹی موٹی بات ہوتی ہے ان کے ساتھ۔ جیسا وہ ایک عورت تھی نا، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ، اللہ پر یقین رکھتی ہو؟ کہتی ہے، ہاں۔ کدھر ہے؟ تو اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ تو اللہ پاک کسی ایک طرف تو نہیں ہیں۔ بس وہ اتنا جان سکتی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایمان والی ہے۔

تو ہر ایک کے ساتھ، ہر ایک جیسا معاملہ نہیں ہوتا۔ کوئی ہوشیار آدمی ہے، کوئی صلاحیت والا ہے، اس کے ساتھ اس کے حساب سے حساب ہوگا۔ اور کوئی شخص کم صلاحیتوں والا ہے یا سادہ آدمی ہے، ان کے ساتھ اس طرح حساب ہوگا۔

آخر امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے جو فرمایا تھا، آخر ویسے تو نہیں فرمایا تھا اخیر وقت میں، موت کے وقت کہ، اے اللہ! میں بغداد کی بڑھیوں کے ایمان پر مرتا ہوں۔ یعنی بہت بڑے فلاسفر تھے، بہت بڑے معقولی تھے اور عقل کے بہت بڑے وہ تھے، لیکن جب مشکلات میں آ گئے تو اس نے یہی کہا کہ اے اللہ! میں بغداد کی بڑھیاؤں کے ایمان پر مرتا ہوں۔ کہ ان کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں ہوگا۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو لوگ کہتے ہیں ہم اتنا جانتے ہیں، تو اپنے آپ کو ذمہ دار بناتے ہیں۔ ہمارے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بات فرمائی۔ فرمایا، عام انسانوں کی طرح رہو، عام انسان اپنے آپ کو سمجھو۔ ورنہ اگر بزرگ بنو گے، اور بزرگوں کی طرح حساب کیا گیا تو پھر پتہ چل جائے گا۔ ظاہر ہے مطلب ہے کہ اگر بزرگوں والا حساب ہو جائے گا تو بہت مشکل ہو جائے گا۔

تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ یہ جو کہتے ہیں کہ ہم تو ایسے ہیں، چنے ہوئے لوگ ہیں، تو چنے ہوئے لوگ نہیں ہیں، ہاں! صلاحیتوں کے لحاظ سے، مطلب ظاہر ہے اعلیٰ صلاحیتیں ہیں، اس سے انکار نہیں ہے۔ اس سے انکار نہیں ہے۔ ظاہر ہے مطلب ہے کہ ان میں بھی بڑی صلاحیتیں تھیں کیونکہ وہ پیغمبروں کی اولاد تھے۔ اور اس وقت جو سادات ہیں، ان میں بھی بڑی صلاحیتیں ہیں۔ لیکن ان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ پھر وہ ان صلاحیتوں کو صحیح استعمال کر لیں۔ ان سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اور ان سے بھی یہ بات تھی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو صحیح استعمال کر لیں، اس کے بارے میں ان سے پوچھا جائے گا۔

تو اصل بات یہ ہے کہ انسان جب نفس سے مغلوب ہو کر کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو پھر ایسے ہی ہوتا ہے، کچھ چیزیں اس کو نظر آتی ہیں، کچھ چیزیں اس کو نظر نہیں آتیں۔ اس وجہ سے ہم لوگوں کو شریعت کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ کیونکہ شریعت ہم نے نہیں بنائی۔ ہمارے نفس کی سوچ کے مطابق نہیں بنی۔ بلکہ وہ اللہ جل شانہ کے ارادے سے، جو اللہ پاک کے علم میں ہے، اس کے حساب سے اللہ پاک نے ارادہ فرمایا اور ہم لوگوں تک وہ پیغام اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے پہنچایا۔ اس وجہ سے ہوشیار ہے وہ بھی شریعت پر چلے گا، سادہ ہے وہ بھی شریعت پر چلے گا، اس کے حساب سے اس کے ساتھ بات ہوگی۔

ترجمہ: نہیں ! بلکہ تم انہی انسانوں کی طرح انسان ہو جو اس نے پیدا کئے ہیں۔ وہ جس کو چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عذاب دیتا ہے۔ آسمانوں اور زمین پر اور ان کے درمیان جو کچھ موجود ہے اس پر تنہا ملکیت اللہ ہی کی ہے، اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے“ ﴿18﴾ اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر ایسے وقت دین کی وضاحت کرنے آئے ہیں جب پیغمبروں کی آمد رکی ہوئی تھی، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس نہ کوئی (جنت کی) خوشخبری دینے والا آیا، نہ کوئی (جہنم سے) ڈرانے والا۔ لو اب تمہارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے۔ اور اللہ ہر بات پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے ﴿19﴾

یہ بات وہ بہت اہم ہے کہ انسان کو پیغمبر کی بات ہے، اس کو سمجھنا بھی چاہیے اور ساتھ ساتھ اس پر عمل بھی کرنا چاہیے۔ ورنہ کیا ہوتا ہے؟ ورنہ پھر انسان نفس کے ارادے پر چلتا ہے، اور نفس تو ہمیشہ شر کی طرف ہی لے جاتا ہے انسان کو، یعنی وہ نفسِ امارہ جو ہے۔ لہٰذا اپنے نفس کی بات پر جو کوئی عمل کرتا ہے تو اس کا اس کو جواب دینا پڑے گا۔ اور ایسی جگہ جہاں انسان جواب نہیں دے سکتا۔ اپنے آپ کو ذمہ دار بنانا بہت خطرے کی بات ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

یہ دیکھیں نا یہاں پر بھی ہمارے دفتروں میں جو boss بڑے ذکی ہوتے ہیں، ذہین ہوتے ہیں اور ہر چیز کا چیک اپ وغیرہ کرتے ہیں۔ تو اس کے سامنے حساب کتاب کے لیے جب جاتے ہیں تو اچھی خاصی tension ہوتی ہے۔ کہ مطلب پتہ نہیں یہ نہ پوچھے، یہ نہ پوچھے، یہ نہ پوچھے۔ تو کافی انسان کو سوچنا پڑتا ہے۔ تو اللہ جل شانہ تو علیم و خبیر ذات ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں انسان بہت ہی زیادہ محتاط رہے اور کبھی ایسی کوئی بات نہ کر لے جس سے انسان کو نقصان ہو سکتا ہے آخرت میں۔

اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔


مزید تشریحات:

عقل، نفس اور دل کی کشمکش

انسان کے اندر عقل بھی ہے جو فیصلے کی قوت رکھتی ہے اور دل ہدایت کا مرکز ہے، مگر ان کے ساتھ نفسِ امارہ بھی لگا ہوا ہے۔ یہ نفس انسان کی عقل کو متاثر کر دیتا ہے۔ اس کی بالکل سادہ سی مثال ایسی ہے کہ ایک شوگر کے مریض کے سامنے میٹھی چیز رکھی ہو، ڈاکٹر نے اسے سختی سے منع کیا ہو کہ اس کے نتائج خطرناک ہوں گے، اس کی عقل بھی یہ جانتی ہے، مگر نفس میٹھے کا تقاضا کرتا ہے تو وہ ڈاکٹر اور اپنی صحت دونوں کی پرواہ کیے بغیر وہ چیز کھا لیتا ہے۔

بالکل اسی طرح آخرت کے معاملے کو بھی انسان کی نفسانی خواہشات خراب کر دیتی ہیں۔ اہل کتاب کا معاملہ بھی یہی تھا۔ وہ اتنے ہوشیار اور عقل مند ہیں کہ آج پوری دنیا کو اپنی عقل سے تگنی کا ناچ نچا رہے ہیں۔ دنیا بھر کے بچوں کو جنک فوڈ اور مضرِ صحت چیزوں پر لگا دیا ہے، لیکن اپنے بچوں کی جیبوں میں بادام، اخروٹ اور ڈرائی فروٹ رکھتے ہیں تاکہ ان کی صحت خراب نہ ہو۔ ان کی عقل کا یہ عالم تھا کہ وہ نبیِ آخر الزماں ﷺ کو اس طرح پہچانتے تھے جیسے اپنے سگے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، مگر اس کے باوجود ایمان نہیں لائے۔

اس محرومی کی اصل وجہ ان کا نفس، تکبر اور حسد تھا۔ یہود کا کردار ہمیشہ سے یہی رہا ہے۔ یاد رکھیں، شیطان بھی اسی تکبر اور حسد کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہوا تھا۔

حق کو جان کر جھٹلانے کی عبرتناک مثالیں

نفسانی ہٹ دھرمی کی ایک مثال دیکھیں کہ ایک صحافی نے اسرائیلی وزیرِ اعظم گولڈا مائر سے پوچھا کہ آپ کی اور ہماری کتابوں میں لکھا ہے کہ آخری معرکے (ملحمۃ الکبریٰ) میں مسلمان یہودیوں کو شکست دیں گے اور پتھر بھی پکارے گا کہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہے۔ جب آپ کو یہ سب معلوم ہے تو باز کیوں نہیں آ جاتے؟ اس پر اس نے جواب دیا: "ہاں ہمیں معلوم ہے کہ آخری معرکہ سچ ہے، لیکن تم وہ مسلمان نہیں ہو اور ہم وہ یہودی نہیں ہیں"۔ یعنی حق جاننے کے باوجود نفسانی انا غالب آ گئی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم کا واقعہ بھی یہی سکھاتا ہے۔ جب قوم میلے پر گئی تو آپؑ نے تمام چھوٹے بتوں کو توڑ کر کلہاڑا بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا۔ جب قوم واپس آئی اور آپؑ سے پوچھا تو آپؑ نے فرمایا کہ اس بڑے بت سے پوچھ لو! اس جملے نے ان کی عقل پر ایسی چوٹ کی کہ وہ دل میں جان گئے اور قرآن کہتا ہے: "وہ اپنے نفسوں کی طرف لوٹے اور کہنے لگے یقیناً تم خود ہی ظالم ہو"۔ وہ ہدایت کے بالکل قریب آ چکے تھے، مگر اگلے ہی لمحے خاندانی انا اور ہٹ دھرمی نے غلبہ پایا اور "وہ اپنے سروں کے بل اوندھے کر دیے گئے اور بولے: تم جانتے ہو کہ یہ بولتے نہیں"۔ انہوں نے حق تسلیم کرنے کے بجائے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔

یہ بالکل ایسا ہے جیسے ایک وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا کلائنٹ جھوٹا اور ناحق پر ہے، مگر محض اپنی فیس اور نفسانی لالچ کی خاطر وہ اس کا ساتھ دیتا ہے اور کیس جیتنے کے طریقے بتاتا ہے۔

اسی طرح ایک واقعہ آتا ہے کہ شام یا نجران کا ایک عیسائی پادری اپنے بھائی کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ بھائی کا گھوڑا ٹھوکر کھا کر گرا تو اس نے غصے میں آکر (معاذ اللہ) نبی کریم ﷺ کی شان میں لعن طعن اور گستاخی کی۔ پادری یہ سن کر تڑپ اٹھا اور منع کرتے ہوئے بولا: "خدا کی قسم! وہ اللہ کے سچے رسول ہیں اور ان کا ذکر پچھلی کتابوں میں موجود ہے"۔ بھائی نے حیرت سے پوچھا کہ اگر وہ سچے ہیں تو ہم ایمان کیوں نہیں لاتے؟ تو اس پادری نے جواب دیا: "ہمیں اپنی دنیاوی سرداری، مال و دولت اور مرتبے کے چھن جانے کا خوف ہے"۔ بھائی کے دل پر اس بات کا ایسا اثر ہوا کہ اس نے فوراً ان دنیاوی فائدوں کو ٹھوکر ماری، مدینہ منورہ حاضر ہوا اور آپ ﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کر کے مسلمان ہو گیا۔

انجامِ کار اور آخرت کی فکر

میں عرض کر رہا تھا کہ انسان کو چاہیے کہ وہ شریعت کی بات سمجھے اور اس پر عمل کرے۔ شریعت ہم نے نہیں بنائی، یہ ہماری سوچ یا نفس کے مطابق نہیں بنی، بلکہ اللہ جل شانہ کے ارادے اور علم سے ہم تک پہنچی ہے۔ جب انسان نفس کے ارادے پر چلتا ہے تو نفسِ امارہ اسے ہمیشہ شر کی طرف لے جاتا ہے۔ جو اپنے نفس کی بات مان کر اللہ کو ناراض کرے گا، اسے ایسی جگہ جواب دینا پڑے گا جہاں وہ جواب نہیں دے سکے گا۔

آپ دنیا ہی میں دیکھ لیں، جب ہمارے دفتروں میں کوئی سخت اور ذہین افسر (Boss) ہوتا ہے جو ہر چیز کی باریکی سے چیکنگ کرتا ہے، تو اس کے سامنے حساب کتاب کی فائل لے کر جاتے ہوئے انسان کو کیسی ٹینشن اور فکر لاحق ہوتی ہے کہ کہیں یہ فلاں بات نہ پوچھ لے، فلاں غلطی نہ نکال لے۔ تو سوچیے کہ اللہ جل شانہ کی ذات تو علیم و خبیر ہے، اس کے سامنے جب پیشی ہوگی تو کیا حال ہوگا؟

اس لیے اپنے آپ کو آخرت کے کڑے حساب کا ذمہ دار بنانا بڑے خطرے کی بات ہے۔ انسان کو بہت محتاط رہنا چاہیے اور شریعت پر چلنا چاہیے تاکہ آخرت کے نقصان سے بچ سکے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔