اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت اور اس کا جامع نظام

سیرت النبی ﷺ، جلد 5، زکوۃ، اشاعت اول: یکم اکتوبر 2020 بمطابق: 13 صفر المظفر 1442 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. زکوٰۃ کی حقیقت اور اس کا عرفی و شرعی مفہوم
    1. گزشتہ آسمانی مذاہب اور صحیفوں میں زکوٰۃ کا تصور
      1. شریعتِ محمدی ﷺ میں نظامِ زکوٰۃ کی تکمیل
        1. اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت اور نماز کے ساتھ اس کا لازمی ربط
          1. مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ کن موقف
            1. اسلام کا روحانی (نماز) اور مادی/معاشی (زکوٰۃ) نظام اور فلاحِ کامل کا خاکہ

              اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

              آج جمعے کی رات ہے اور جمعے کی رات کو ہمارے ہاں درود شریف کی مجلس ہوتی ہے اور ساتھ سیرت النبی، پہ جو حضرت سید سلیمان ندوی رحمة الله عليه کی تحقیقات ہیں۔ ان میں سے کچھ پڑھا جاتا ہے۔

              الحمدللہ بہت، گہرے علوم ہیں حضرت کے پاس، اور نماز کے بارے میں بہت ہی زیادہ، اہم اور مفید معلومات دینے کے بعد، ان شاءاللہ آج زکوٰۃ کے بارے میں حضرت کی بات کو ہم سنیں گے، ان شاءاللہ۔

              زکوٰۃ

              اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

              ﴿وَآتُوا الزَّكَاةَ

              زکوٰۃ کی حقیقت اور مفہوم:

              حضرت، مطلب اس انداز میں بات کرتے ہیں تاکہ، ساری چیزیں سمجھ میں آ جائیں۔

              نماز کے بعد جس کا اصل تعلق خالق و مخلوق کے باہمی سلسلہ اور رابطہ سے ہے اور جس کا ایک بڑا فائدہ نظام جماعت کا قیام ہے اسلامی عبادت کا دوسرا رکن زکوٰۃ ہے جو آپس میں انسانوں کے درمیان ہمدردی اور باہم ایک دوسرے کی امداد اور معاونت کا نام ہے

              دیکھیں کیسے خوبصورت طریقے سے، تشریح کر رہے ہیں۔ یعنی نماز جو ہے یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا ذریعہ ہے اور زکوٰۃ یہ اللہ کے لیے، لوگوں کے ساتھ تعلق کا ذریعہ ہے۔ ماشاءاللہ۔

              اور جس کا اہم فائدہ نظام جماعت کے قیام کے لئے مالی سرمایہ بہم پہنچانا ہے۔ زکوٰۃ کا دوسرا نام صدقہ ہے جس کا اطلاق تعمیم کے ساتھ ہر مالی اور جسمانی امداد اور نیکی پر بھی ہوتا ہے۔ لیکن فقہی اصطلاح میں "زکوٰۃ" صرف اس مالی امداد کو کہتے ہیں جو ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو دولت کی ایک مخصوص مقدار کا مالک ہو۔

              اصل میں شریعت میں جتنے بھی، احکامات ہیں، ان کے جو نام ہیں، وہ اس کے دو، مطلب ہوتے ہیں، محل ہوتے ہیں۔ ایک اس کا عمومی، محل ہوتا ہے، یعنی عمومی طور پر عربی کے لحاظ سے اور، عرف کے لحاظ سے، معاشرے کے لحاظ سے، یعنی، جس میں، سب برابر ہوتے ہیں۔ اہ، اس کا کیا مطلب بنتا ہے؟ اور ایک شرعی اصطلاح میں اس کا مطلب کیا ہے؟ اب زکوٰۃ، یہ اس کا عرفی نام جو ہے نا وہ تو، اور ہے، یعنی پاکی۔ اور ایک خاص، مال کی وہ پاکی ہے جو کہ کچھ، حصہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دینے سے، حکم کے ساتھ دینے سے جو ہے ناں وہ پاکی اس میں آتی ہے۔ اس کے لیے بتایا جاتا ہے۔ اس طرح صلوٰۃ ہے۔ اس کا اپنا ایک عرفی، مطلب بھی ہے۔ لیکن یہ، ایک ایک خاص طریقے سے، جو شریعت نے مقرر کیا ہے، وہ اور ہے۔

              زکوٰۃ گذشتہ مذاہب میں:

              زکوٰۃ بھی ان عبادات میں سے ہے جو تمام آسمانی مذاہب کے صحیفوں میں فرض بتائی گئی ہے لیکن ان کے پیروؤں نے اس فرض کو اس حد تک بھلا دیا تھا کہ بظاہر ان کے مذہبی احکام کی فہرست میں اس کا نام بھی نظر نہیں آتا۔ حالانکہ قرآن پاک کا دعویٰ ہے اور اس کی تائید مختلف آسمانی صحیفوں سے ہوتی ہے کہ جس طرح نماز ہر مذہب کا جزوِ لاینفک تھی اسی طرح زکوٰۃ بھی تمام مذاہب کا ہمیشہ ضروری جزو رہی ہے۔ بنی اسرائیل سے خدا کا جو عہد تھا اس میں نماز اور زکوٰۃ دونوں تھیں۔

              ﴿أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾ (البقرہ: 83) (ہم نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا تھا) کہ کھڑی رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ۔

              ﴿لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ﴾ (المائدہ: 12) (اے بنی اسرائیل) اگر تم کھڑی رکھتے نماز اور دیتے رہتے زکوٰۃ۔

              حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذکر میں ہے: ﴿وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا * وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا﴾ (مریم: 54-55) اور قرآن میں اسماعیل کا ذکر کر بے شک وہ عہد کا سچا تھا اور وہ خدا کا بھیجا ہوا پیغمبر تھا اور وہ اپنے لوگوں کو نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کرتا تھا اور وہ اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھا۔

              حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہتے ہیں: ﴿وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا﴾ (مریم: 31) اور خدا نے مجھ کو زندگی بھر نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے کی تاکید کی ہے۔

              تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل پر زمین کی پیداوار اور جانوروں میں ایک عشری یعنی دسواں حصہ (احبار 27: 30-32) نیز ہر بیس برس یا اس سے زیادہ عمر والے پر خواہ امیر ہو یا غریب آدھا مثقال دینا واجب تھا۔ (خروج 30: 13-15) ساتھ ہی غلہ کاٹتے وقت گرا پڑا اناج، کھلیان کی منتشر بالیں اور پھل والے درختوں میں کچھ پھل چھوڑ دیتے تھے جو مال کی زکوٰۃ تھی اور یہ عملاً ہر تیسرے سال واجب الادا ہوتی تھی۔ یہ رقم بیت المقدس کے خزانہ میں جمع کی جاتی تھی اس کا ساتواں حصہ مذہبی عہدہ دار پاتے تھے، دسواں حصہ حضرت ہارون کی اولاد (لاویین) قومی خاندانی کاہن ہونے کی حیثیت سے لیتی تھی، اور ہر تیسرے سال میں دسواں حصہ بیت المقدس کے حاجیوں کی مہمانی کے لئے رکھا جاتا تھا، اسی مد سے عام مسافروں، غریبوں، بیواؤں اور یتیموں کو روزانہ کھانا پکا کر تقسیم کیا جاتا تھا۔ اور نقد آدھے مثقال والی زکوٰۃ کی رقم جماعت کے خیمہ (یا مسجد بیت المقدس) اور قربانی کے ظروف و آلات کی خریداری کے خرچ کے لئے رہتی تھی۔

              حضرت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام نے شریعتِ موسوی کے ان ظاہری قواعد میں کوئی ترمیم نہیں کی بلکہ ان کی روحانی کیفیت پر زیادہ زور دیا۔ انجیل لوقا (11: 18) میں ہے کہ جو اپنا عشر (زکوٰۃ) ریا، نمائش اور فخر کے لئے دیتا ہے اس سے وہ شخص بہتر ہے جو اپنے قصور پر نادم ہے۔ اسی انجیل کے 21 ویں باب کی پہلی آیت میں ہے۔ "اگر کوئی دولت مند ہیکل کے خزانہ میں اپنی زکوٰۃ کی بڑی رقم ڈالے اور اس کے مقابلہ میں کوئی غریب بیوہ خلوصِ دل سے دو دمڑی ڈالے تو اس کی زکوٰۃ اس دولت مند کی زکوٰۃ سے کہیں بڑھ کر ہے۔"

              حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے لوگوں کو ترغیب دی کہ جس کے پاس جو کچھ ہے، وہ خدا کی راہ میں لٹا دے۔ "کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے سے گذر جانا آسان ہے مگر دولت مند کا خدا کی بادشاہت میں داخل ہونا مشکل ہے۔" (متی 19: 22) ساتھ ہی انہوں نے خود اپنی طرف سے نیز اپنے رفیق کی طرف سے اپنی ناداری کے باوجود آدھے مثقال والی زکوٰۃ ادا کی ہے۔ (متی 17: 24)

              تورات کے زمانہ میں چونکہ دولت زیادہ تر صرف زمین کی پیداوار اور جانوروں کے گلوں تک محدود تھی اس لئے انہیں دونوں چیزوں کی زکوٰۃ کا زیادہ ذکر آیا ہے۔ سونا چاندی اور ان کے سکوں کی چونکہ قلت تھی اس لئے ان کی زکوٰۃ کا ذکر ایک دو جگہ ہے۔ اسی بناء پر یہودیوں نے نقد زکوٰۃ کی اہمیت محسوس نہیں کی علاوہ بریں زکوٰۃ کی مدت کی تعیین کہ وہ ہر سال یا دوسرے یا تیسرے سال واجب الادا ہے تصریحاً معلوم نہیں ہوتی، نیز یہ کہ اس زکوٰۃ کا مصرف کیا ہے یعنی وہ کہاں خرچ کی جائے اس کی تفصیل بھی خود تورات کی زبان سے کم سنائی دیتی ہے۔

              غرض وجوہ جو کچھ ہوں مگر حالت یہ تھی کہ یہود نے اس فرض کو بھلا دیا تھا اور خصوصاً عرب میں جہاں کی دولت کے وہ تنہا مالک بن بیٹھے تھے چند کے سوا اکثر کو اس فرض کا دھیان بھی نہ تھا، قرآن نے ان کو یاد دلایا کہ ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِنْكُمْ وَأَنْتُمْ مُعْرِضُونَ﴾ (البقرہ: 83) (اور تم بنی اسرائیل سے معاہدہ تھا کہ) نماز کھڑی رکھنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا پھر تم پھر گئے مگر تم میں سے تھوڑے اور تم دھیان نہیں دیتے۔

              عیسوی مذہب میں گو سب کچھ دے دینے کا حکم تھا مگر یہ حکم ہر ایک کے لئے موزوں نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہر شخص اس پر عمل کر سکتا تھا، دوسرے مذہبوں میں بھی اگرچہ خیرات اور دان کرنے کے احکام موجود تھے تاہم ان کے لئے کوئی نظام اور اصول مقرر نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہر شخص پر قانوناً کوئی رقم واجب الادا تھی جس کے ادا کرنے پر وہ مجبور ہو سکتا تھا۔

              اسلام کی اس راہ میں تکمیل:

              محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت نے اس بارے میں بھی اپنا تکمیلی کارنامہ انجام دیا۔ اس نے نہایت خوبی اور دقتِ نظر کے ساتھ زکوٰۃ کا پورا نظام تیار کیا۔ انسان کے مالی کاروبار کا معیار عموماً سالانہ آمدنی سے قائم ہوتا ہے۔ اس لئے اسلام نے زکوٰۃ کی مدت سال بھر کے بعد مقرر کی اور ہر سال اس کا ادا کرنا ضروری قرار دیا۔ ساتھ ہی اس نے دولت کے تین سرچشمے قرار دیئے سونا چاندی اور جانور اور پیداوار اور ان میں سے ہر ایک کی علیحدہ علیحدہ شرحیں مقرر کیں۔ سونے چاندی میں سے چالیسواں حصہ اور پیداوار میں دسواں حصہ متعین کیا۔ جانوروں کی مختلف قسموں میں ان کی مختلف تعداد پر ان کی قدر و قیمت کی کمی بیشی کے لحاظ سے مختلف شرحیں قرار دیں۔ پھر اس زکوٰۃ سے ہر قسم کے مصارف کی تعیین و تحدید کی اور اس کی تحصیل وصول اور جمع و خرچ کا کام بیت المال سے متعلق کیا۔ یہ تو اجمال تھا اب تفصیلی حیثیت سے ان میں سے ہر ایک پہلو پر شریعتِ محمدی کی تکمیلی حیثیت کو نمایاں کرنا ہے۔

              اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت:

              اسلام کی تعلیم اور محمد رسول اللہ ﷺ کے صحیفۂ وحی میں نماز کے ساتھ ساتھ جو فریضہ سب سے اہم نظر آتا ہے وہ زکوٰۃ ہے۔ نماز حقوق اللہ میں سے ہے اور زکوٰۃ حقوقِ عباد میں سے۔ ان دونوں فریضوں کا باہم لازم و ملزوم اور مربوط ہونا اس حقیقت کو منکشف کرتا ہے کہ اسلام میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوقِ عباد کا بھی یکساں لحاظ رکھا گیا ہے۔ قرآن پاک میں جہاں کہیں نماز کا ذکر ہے اس کے متصل ہی ہمیشہ زکوٰۃ کا بھی بیان ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں بیسیوں مقامات پر اقام الصلوۃ کے بعد ایتائے الزکوٰۃ آیا ہے۔ مثلاً ﴿أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ﴾ (یا) ﴿أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ

              اور زکوٰۃ ادا کرنے کی مدح یا اس کے دینے والوں اور نہ دینے والوں کا تذکرہ اس کے علاوہ ہے اس سے معلوم ہوگا کہ اسلام میں زکوٰۃ کی کیا اہمیت ہے۔ بارگاہِ نبوی میں آ کر جب کسی نے اسلام کے احکام دریافت کئے ہیں تو ہمیشہ آپ نے نماز کے بعد زکوٰۃ کو پہلا درجہ دیا ہے۔ صحیحین کی کتاب الایمان میں اس قسم کی متعدد حدیثیں ہیں جن میں یہ ترتیب ملحوظ رہی ہے بلکہ کبھی وہ اسلام کے شرائطِ بیعت میں داخل کی گئی ہے۔ چنانچہ حضرت جریر بن عبداللہ بجلیؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت تین باتوں پر کی تھی نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنا۔ وفد عبد القیس نے 5ھ میں نبوت کے آستانہ پر حاضر ہو کر جب اسلام کی تعلیمات دریافت کیں تو آپ ﷺ نے اعمال میں پہلے نماز پھر زکوٰۃ کو جگہ دی۔ 9ھ میں جب آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو اسلام کا داعی بنا کر یمن بھیجا ہے تو اسلام کے مذہبی فرائض کی یہ ترتیب بتائی کہ پہلے ان کو توحید کی دعوت دینا جب وہ یہ جان لیں تو ان کو بتانا کہ دن میں پانچ وقت کی نماز ان پر فرض ہے جب وہ نماز پڑھ لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر زکوٰۃ فرض کی ہے جوان کے دولت مندوں سے لے کر ان کے غریبوں کو دی جائے گی۔ (1)

              صحابہ رضی اللہ عنہم میں جو لوگ شریعت کے رازداں تھے وہ اس نکتہ سے اچھی طرح واقف تھے چنانچہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جب اہلِ عرب نے بغاوت کی اور زکوٰۃ ادا کرنے سے انکار کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف تلوار کھینچ لی۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جو توحید کا قائل ہو اس کا خون روا نہیں اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا خدا کی قسم جو نماز اور زکوٰۃ میں فرق کرے گا میں اس سے لڑوں گا کہ زکوٰۃ مال کا حق ہے خدا کی قسم! جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بھیڑ کا ایک بچہ بھی دیتا تھا وہ اس کو دینا پڑے گا (2) حقیقت میں یہ ایک لطیف نکتہ تھا جس کو صرف شریعت کا محرمِ اسرار سمجھ سکتا تھا۔ اس نے سمجھا اور امت کو سمجھایا اور سب نے اس کے سامنے اطاعت کی گردن جھکا دی۔

              نماز اور زکوٰۃ کے باہمی ارتباط کی ایک اور وجہ بھی ہے اور وہ یہ ہے اسلام کی تنظیمی زندگی صرف دو بنیادوں پر قائم ہے۔ جن میں سے ایک روحانی اور دوسری مادی ہے۔ اسلام کا نظامِ روحانی نماز باجماعت سے جو کسی مسجد میں ادا ہو قائم ہوتا ہے اور نظامِ مادی زکوٰۃ سے جو کسی بیت المال میں جمع ہو کر تقسیم ہو مرتب ہوتا ہے اسی لئے یہ دونوں چیزیں اسلام میں ساتھ ساتھ نظر آتی ہیں اور ان کی انفرادی حیثیت کے ساتھ ان کی اجتماعی حیثیت پر بھی شریعتِ محمدی نے خاص زور دیا ہے۔ نماز جس طرح جماعت اور مسجد کے بغیر بھی انجام پا جاتی ہے لیکن اپنی فرضیت کے بعض مقاصد سے دور ہو جاتی ہے اسی طرح زکوٰۃ بیت المال کی مجتمع صورت کے علاوہ بھی ادا ہو جاتی ہے مگر اس کی فرضیت کے بعض اہم مقاصد فوت ہو جاتے ہیں یہی سبب ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے عہدِ خلافت میں جب بعض قبیلوں نے یہ کہا کہ وہ زکوٰۃ بیت المال میں داخل نہ کریں گے بلکہ بطورِ خود اس کو صرف کر دیں گے تو شریعتِ محمدی کے شناساے راز نے ان کی اس تجویز کو قبول نہیں کیا اور بزور ان کو بیت المال میں زکوٰۃ داخل کرنے پر مجبور کیا کہ اگر ان کی یہ بات تسلیم کر لی جاتی تو اسلام کی وحدت کا سررشتہ اسی وقت پارہ پارہ اور مسلمانوں کی امامت و جماعت کا نظام اسی وقت درہم برہم ہو جاتا۔

              درحقیقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ماخذ قرآن پاک کی یہ آیت تھی: ﴿فَإِذَا انْسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ... فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ﴾ (توبہ: 5) ان مشرکوں کو مارو جہاں پاؤ۔۔ تو اگر وہ توبہ کریں اور نماز کھڑی کریں اور زکوٰۃ دیں تو ان کو آزادی دے دو

              الغرض زکوٰۃ دوسرے الفاظ میں غریبوں کی چارہ گری، مسکینوں کی دست گیری، مسافروں کی امداد، یتیموں کی خبر گیری، بیواؤں کی نصرت، غلاموں اور قیدیوں کی اعانت، نماز کے بعد اسلام کی عبادت کا دوسرا رکن ہے اور اس فریضہ کی یہ سب سے پہلی اہمیت ہے جو مذاہب کی تاریخ میں نظر آتی ہے۔


              اصل میں اگر دیکھا جائے تو سورہ بقرہ کا بالکل ابتدائی رکوع جو ہے، اس میں ایمانیات اور عبادات اور یقین، تین چیزوں کو جمع کیا گیا ہے۔ ایمانیات میں ﴿الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ﴾ اور ﴿وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ﴾۔ عبادات میں ﴿وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾۔ اور یقین بالاخرت ہے۔ یہ تین چیزیں ہیں بالکل ابتدا میں۔ گویا کہ ان تین چیزوں سے پورے دین کی تشکیل ہو جاتی ہے۔ تو اس وقت اکثر میں جب اس کے بارے میں بات کرتا تھا تو میں عرض کر لیتا تھا کہ ایک جانی عبادت ہے ایک مالی عبادت ہے۔ لیکن آج حضرت کے تعبیرات کی روشنی میں عرض کیا جا سکتا ہے کہ ایک اسلام کا روحانی نظام ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق والا، اور ایک مادی نظام ہے اور معاشی۔ تو روحانی نظام نماز ہے اور مادی نظام جو ہے وہ زکوٰۃ ہے۔ اور ایمانیات میں غیب پر ایمان ہے اور وحی پر ایمان ہے۔ اور آخرت پر یقین ہے۔ اگر یہ تین چیزیں لوگوں کو مل جائیں تو اللہ پاک کا صریح وعدہ ہے: ﴿أُولَٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ﴾ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ ﴿وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پائیں گے۔

              یعنی مکمل فلاح کے لیے اللہ جل شانہ نے اعمال کا جو ڈھانچہ دیا اور ایمان و اعمال کا، اس میں یہ بات ہے کہ ایمان تو غیب پر ہے، جس کا ذریعہ وحی ہے۔ جس کا ذریعہ وحی ہے۔ اور اعمال جانی ہیں یا مالی، یا یوں سمجھ لیجئے کہ روحانی ہیں اور یا مادی ہیں۔ ان سب کو کرنا۔ اور آخرت پر یقین۔ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے، عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لیے عمل کیا۔ تو آخرت کا مطلب کیا ہے؟ کیونکہ آخرت کے لیے جو عمل ہوتا ہے وہ خدا کے لیے ہوتا ہے۔ اور جو یہاں کے لیے ہوتا ہے، وہ اپنے مادی زندگی کے لیے ہوتا ہے۔ تو یہاں پر ہم لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ماشاءاللہ اسلام نے ہمیں دونوں نظاموں کی تفصیل دی ہوئی ہے۔ ان میں سے نماز کے بارے میں پہلے بات ہوئی، اب زکوٰۃ کی بات چل رہی ہے۔

              اسلام میں زکوٰۃ کی اہمیت اور اس کا جامع نظام - درسِ سیرۃ النبی ﷺ - دوسرا دور