احکامِ الٰہی کی پابندی اور ظاہری اسباب کی حقیقت

درس نمبر 199، سورۃ النساء: آیات: 97 تا 100- اشاعتِ اول: 14 جون، 2022، بمطابق 14 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* سورۃ النساء کی آیات کی تلاوت اور ان کا تفصیلی ترجمہ۔

* مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی فرضیت اور اس کا پس منظر۔

* اللہ کے حکم اور ظاہری اسباب (Means/Causes) کے درمیان توازن۔

* اللہ کے حکم پر عمل کرنے والوں اور صرف اسباب پر بھروسہ کرنے والوں کے انجام میں فرق۔

* نیت اور کوشش کے باوجود موت آ جانے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی اور اجر کا وعدہ

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَاؕ فَاُولٰٓىٕكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ (97) اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ (98) فَاُولٰٓىٕكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا (99) وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّ سَعَةًؕ وَ مَنْ یَّخْرُ جْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (100)

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔


اور اسی حالت میں فرشتے ان کی روح قبض کرنے آئے، تو بولے، "تم کس حالت میں تھے؟" وہ کہنے لگے کہ ”ہم تو زمین میں بے بس بنا دیئے گئے تھے۔“ فرشتوں نے کہا ”کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟“ لہٰذا ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ نہایت برا انجام ہے ﴿97﴾ البتہ وہ بے بس مرد، عورتیں اور بچے (اس انجام سے مستثنیٰ ہیں) جو (ہجرت کی) کوئی تدبیر نہیں کر سکتے اور نہ (نکلنے کا) کوئی راستہ پاتے ہیں ﴿98﴾ چنانچہ پوری امید ہے کہ اللہ ان کو معاف فرما دے۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے ﴿99﴾ اور جو شخص اللہ کے راستے میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور بڑی گنجائش پائے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کے لئے نکلے، پھر اسے موت آ پکڑ لے، تب بھی اس کا ثواب اللہ کے پاس طے ہو چکا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿100﴾


یہ اصل میں

مسلمانوں کے لئے ہجرت کا حکم آگیا تھا تو مکہ میں رہنے والے ہر مسلمان پر شرعاً فرض تھا کہ وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے، بلکہ اس کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا گیا تھا، اور اگر کوئی شخص قدرت کے باوجود ہجرت نہ کرتا تو اسے مسلمان قرار نہیں دیا جاتا تھا۔ اس آیت میں ایسے ہی بعض لوگوں کا ذکر ہے کہ جب فرشتے ان کے پاس ان کی روح قبض کرنے آئے تو ان کے ساتھ کیا مکالمہ ہوا۔ چونکہ یہ لوگ ہجرت کے حکم کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے مسلمان نہیں رہے تھے، اس لئے ان کے بارے میں دوزخی ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔ البتہ جو لوگ کسی مجبوری کی بنا پر ہجرت سے قاصر رہے تھے، ساتھ ہی ان کا استثناء بھی کر دیا گیا ہے کہ معذوری کی وجہ سے وہ قابل معافی ہیں۔


اصل میں ایک تو ہوتا ہے اسباب پر نظر رکھنا۔ اور ایک ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم پر نظر رکھنا۔ تو اللہ جل شانہ کا جو حکم ہوتا ہے، وہ اسباب کے مخالف نہیں ہوتا۔ یعنی اسباب بھی تو اللہ ہی نے پیدا کیے ہیں، وہ اسباب کے مخالف نہیں ہوتا۔ لہٰذا جو اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہیں اس میں اسباب خود ہی آ جاتے ہیں، جتنے آنے چاہییں۔ لیکن یہ بات ہے کہ اللہ پاک کے حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے وہ صحیح اسباب کو چن لیتے ہیں اور غلط اسباب کو اختیار نہیں کرتے، اس وجہ سے بچ جاتے ہیں۔ جبکہ دوسری صورت میں جو صرف اسباب پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسباب ہی کو لیتے ہیں، تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی پروا نہیں کرتے، نتیجتاً وہ راندۂ درگاہ ہو جاتے ہیں۔


اب یہاں پر بھی اس قسم کی بات تھی کہ وہ ظاہری شکل اور صورت جو اسباب کی تھی، وہ یہ تھی کہ ظاہر ہے اب ہجرت کرنا، اس کو اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے والی بات تھی۔ لیکن دوسری طرف اللہ کا حکم تھا۔ اور واضح حکم تھا۔ تو اس واضح حکم کو چھوڑنے کی وجہ سے، جنہوں نے کوشش ہی نہیں کی، تو اللہ پاک کے حکم کی گویا ناقدری کی، نتیجتاً وہ دوسری طرف چلے گئے، اللہ بچائے ہم سب کو۔

اور جن لوگوں نے اللہ جل شانہ کے حکم کو دیکھا، تو اس میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ جن کو موقع مل گیا، اور وہ چلے گئے، مطلب یہ ہے کہ پہنچ گئے۔ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک -ما شاء اللہ- ان کو یعنی نواز دیتے ہیں۔ اور دوسری طرف کچھ لوگ ایسے جنھوں نے کوشش کی، نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، موت آ گئی اور فوت ہو گئے۔ تو اللہ پاک نے فرمایا کہ ان کے لیے بھی امید ہے کہ وہ بھی معاف ہو جائیں۔


تو اس کا مطلب ہے کہ اسباب کی کوشش کرنا، اللہ کے حکم کے مطابق، یہ ضروری ہے، اسباب اللہ کے حکم کے مطابق۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں اسباب کو لینا اور حکم کو چھوڑنا، یہ بدبختی ہے۔ اور جو کوشش کر لے، اور پورا نہ کر سکے، تو بھی اللہ جل شانہ ان کو یعنی رستہ دے دیتے ہیں۔ اور اللہ پاک معاف فرما دیتے ہیں۔ تو یہ اگرچہ اس وقت کے حکم کے مطابق تھا کیونکہ اب تو وہ والی بات نہیں ہے، اس وقت یہ ہجرت فرض تھی۔


لیکن اس سے قانون کا پتا ہمیں بھی چلتا ہے۔ کہ وہ جو قانون ہے وہ general ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں، اسباب کو اتنا وہ لینا، کہ اللہ کا حکم ٹوٹ جائے، یہ اس کی گنجائش نہیں ہے۔ ہاں البتہ، اللہ تعالیٰ کے حکم کو پورا کرنے کے لیے اسباب کا اختیار کرنا لازمی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو پورا کرنے کے لیے اسباب جو اختیار مطلب یہ ہے کہ نہ کر سکیں، تو وہ معاف ہے۔ اور جو مطلب یہ ہے کہ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کو پورا کرنے کے لیے اسباب کو اختیار کرنا شروع کر لیا، لیکن موت آ گئی، تو بھی اللہ جل شانہ ان کو امید ہے کہ معاف فرما دیں۔ یہ والی بات ہے۔



حصہ دوم: مزید تفصیلی تشریح (ہجرتِ مدینہ کی مشکلات اور تاریخی واقعات)

ہجرتِ مدینہ: تاریخِ اسلام کا نازک ترین موڑ

سن 622ء میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب ہجرت محض ایک عام سفر نہیں تھا، بلکہ یہ تاریخِ اسلام کا سب سے نازک اور مشکل ترین مرحلہ تھا۔ کفارِ مکہ کی جانب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (نعوذ باللہ) شہید کرنے کی ایک منظم سازش کے بعد، یہ سفر دشمنوں سے جان بچا کر نکلنے کا نام تھا۔

غارِ ثور کی کٹھن چڑھائی اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کی جانثاری

تعاقب کرنے والے دشمنوں سے بچنے کے لیے نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تین راتیں غارِ ثور میں گزاریں۔ ہجرت کی وہ رات انتہائی پرخطر تھی اور پیچھے دشمن جان کے پیاسے تھے۔ جبلِ ثور کی چڑھائی انتہائی کٹھن، پتھریلی اور نوکیلی چٹانوں پر مشتمل تھی۔ آج بھی اگر دیکھا جائے تو غارِ حرا کی چڑھائی نسبتاً آسان ہے اور زائرین وہاں کثرت سے جاتے ہیں، لیکن غارِ ثور کی چڑھائی بہت زیادہ اور مشکل ہونے کی وجہ سے وہاں کم ہی لوگ جاتے ہیں۔ اس زمانے میں تو پہاڑ پر کوئی راستہ یا سیڑھیاں تک نہیں تھیں، صرف نوکیلے پتھر تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ ان چٹانوں پر چلنے کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کے پاؤں مبارک زخمی ہو گئے تھے، جس پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپ ﷺ کو اپنے کندھوں پر اٹھا کر پہاڑ کی چوٹی تک پہنچایا۔

قدموں کے نشانات چھپانے کی حکمتِ عملی

مکہ سے نکلتے وقت سب سے بڑا چیلنج قریش کے کھوجیوں (Footprint Trackers) سے بچنا تھا جو زمین پر پیروں کے نشان دیکھ کر پیچھا کرتے تھے۔ اس سے بچنے کے لیے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مکہ سے نکلتے وقت اپنے پاؤں کے اگلے حصے (انگلیوں اور تلوے کے اگلے حصے) کے بل چلنا شروع کیا تاکہ قدموں کے پورے نشانات نہ بنیں۔

خاندانِ ابوبکرؓ کی خفیہ خدمات

غارِ ثور میں تین دن کے قیام کے دوران حضرت ابوبکرؓ کے پورے خاندان نے درج ذیل خفیہ خدمات انجام دیں:

حضرت اسماء بنتِ ابی بکرؓ : آپ خطرات کے باوجود غار تک آپ ﷺ اور اپنے والد کے لیے کھانا اور پانی لے کر جاتیں۔

حضرت عبداللہ بن ابوبکرؓ : آپ دن بھر مکہ میں قریش کی جاسوسی کرتے، ان کے منصوبے سنتے اور رات کو غار میں آ کر آپ ﷺ کو ساری خبریں پہنچاتے۔

عامر بن فہیرہؓ : حضرت ابوبکرؓ کے یہ غلام دن بھر مکہ کی پہاڑیوں میں بکریاں چراتے اور شام کو غار کے پاس لے آتے تاکہ آپ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ تازہ دودھ پی سکیں۔ وہ اپنی بکریاں اسی راستے پر چراتے ہوئے لے جاتے جس راستے سے حضرت اسماءؓ اور حضرت عبداللہؓ آتے تھے، تاکہ ان کے پیروں کے نشانات مٹ جائیں اور کفارِ مکہ کھوج نہ لگا سکیں۔

غارِ ثور پر معجزات اور کامل توکل

جب قریش کے لوگ ڈھونڈتے ہوئے غار کے منہ تک پہنچ گئے، تو حضرت ابوبکرؓ گھبرا گئے کہ اگر کسی نے اپنے قدموں کی طرف بھی دیکھا تو وہ ہمیں دیکھ لے گا۔ اس وقت آپ ﷺ نے اطمینان کے ساتھ وہ تاریخی جملہ فرمایا جو قرآن پاک (سورہ توبہ، آیت 40) میں موجود ہے:

"لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا" (غم نہ کرو، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے)۔

آپ ﷺ نے مزید فرمایا: "اے ابوبکر! تمہارا ان دو کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے؟"

اس موقع پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے دو معجزے رونما ہوئے: ایک مکڑی نے غار کے منہ پر گھنا جالا بن دیا اور ایک جنگلی کبوتر نے فوراً گھونسلہ بنا کر اس میں انڈے دے دیے۔ جب کفار کے رہنما امیہ بن خلف نے جالا اور کبوتر کو دیکھا، تو کہا: "اگر کوئی اندر جاتا تو جالا ٹوٹ چکا ہوتا اور کبوتر اڑ جاتا۔" اس طرح وہ غار کے اندر جھانکے بغیر واپس چلے گئے۔

ہجرت کا غیر معروف راستہ اور صحرائی رہنما کی خدمات

حفاظتی نقطہ نظر سے آپ ﷺ نے ایک مختلف حکمت عملی اپنائی۔ مکہ سے نکل کر عام تجارتی راستے (جو شمال کی طرف جاتا تھا) کے بجائے آپ ﷺ پہلے جنوب کی طرف گئے اور غارِ ثور میں پناہ لی۔ تین دن غار میں گزارنے کے بعد، مدینہ کی طرف سفر شروع کرنے کے لیے عبد اللہ بن اریقط کی خدمات اجرت پر لی گئیں۔ وہ لیثی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر صحرائی رہنما تھے جو غیر معروف اور محفوظ راستوں سے مکمل واقف تھے۔

ان کی رہنمائی میں غارِ ثور سے نکلنے کے بعد آپ ﷺ نے مغرب کا رخ کیا اور بحرِ احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ چلنے والے کچے اور پتھریلے راستے پر ہو لیے۔ یہ راستہ ریت کے ٹیلوں کے بجائے سخت چٹانوں اور تنگ گھاٹیوں پر مشتمل تھا جہاں سفر کرنا بے حد تکلیف دہ تھا۔ گھوم کر جانے کی وجہ سے یہ سفر تقریباً 470 کلومیٹر طویل ہو گیا اور اسے طے کرنے میں 8 دن لگے۔

سراقہ بن مالک کا تعاقب اور غیبی پیشگوئی

قریش نے آپ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کو (نعوذ باللہ) پکڑنے پر 100 اونٹوں کے انعام کا اعلان کیا تھا۔ مکہ کے ماہر کھوجی سراقہ بن مالک اسی لالچ میں تعاقب میں نکلے اور انہوں نے ساحلی راستے پر قافلے کو دور سے دیکھ لیا۔

جیسے ہی سراقہ قریب پہنچے، ان کے گھوڑے کا پاؤں پھسلا اور وہ گر پڑے۔ تیروں سے فال نکالی تو جواب "نہیں" آیا، لیکن انعام کے لالچ میں وہ دوبارہ گھوڑے پر سوار ہو کر آگے بڑھے۔ اب وہ اتنے قریب تھے کہ آپ ﷺ کے قرآن پڑھنے کی آواز صاف آ رہی تھی۔ سراقہ نے جیسے ہی وار کرنے کا ارادہ کیا، اچانک ان کے گھوڑے کے دونوں اگلے پاؤں سخت زمین میں گھٹنوں تک دھنس گئے اور وہ گر گئے۔ گھوڑے نے پاؤں نکالنے کی کوشش کی تو سوراخوں سے غبار اٹھ کر آسمان کی طرف گیا۔ یہ دیکھ کر سراقہ سمجھ گئے کہ ان کی حفاظت آسمان سے ہو رہی ہے۔ انہوں نے امان مانگی اور وعدہ کیا کہ وہ مکہ والوں کو واپس موڑ دیں گے۔ آپ ﷺ کی دعا سے ان کا گھوڑا ٹھیک ہو گیا، اور عامر بن فہیرہؓ نے انہیں چمڑے کے ایک ٹکڑے پر امان نامہ لکھ کر دے دیا۔

اسی موقع پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "اے سراقہ! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تمہیں فارس (ایران) کے بادشاہ کسریٰ کے سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے؟" سراقہ واپس مکہ روانہ ہوئے اور راستے میں ملنے والے ہر کھوجی کو یہ کہہ کر واپس بھیج دیا کہ میں اس راستے کی چھان بین کر چکا ہوں۔

پیشگوئی کی تکمیل

فتح مکہ کے موقع پر سراقہ بن مالک مسلمان ہو گئے۔ آپ ﷺ کے وصال کے بعد، حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں جب مسلمانوں نے ایران فتح کیا تو کسریٰ کا تاج اور اس کے کنگن مالِ غنیمت میں مدینہ آئے۔ حضرت عمرؓ نے مجمع عام میں حضرت سراقہؓ کو بلایا، انہیں کنگن پہنائے اور فرمایا: "اللہ کا شکر ہے جس نے یہ کنگن دنیا کے سب سے بڑے بادشاہ کسریٰ سے چھین کر بنو مدلج کے ایک بدو سراقہ کو پہنا دیے۔" اس طرح ہجرت کے سفر کی وہ پیشگوئی سچی ثابت ہوئی۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جرات مندانہ اور علانیہ ہجرت

جہاں قریش کے شر سے بچنے کے لیے نبی کریم ﷺ اور اکثر صحابہ نے خفیہ طور پر ہجرت کی، وہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے قریش کے سرداروں کو چیلنج کر کے علانیہ ہجرت کی۔

ہجرت کے دن انہوں نے تلوار لٹکائی، کمان اور تیروں کا ترکش لیا، ہاتھ میں نیزہ پکڑا اور سیدھے کعبہ پہنچے۔ اطمینان کے ساتھ طواف کیا، مقامِ ابراہیم پر دو رکعت نماز ادا کی، اور پھر قریش کے سرداروں کے مجمع کے پاس جا کر بلند آواز میں فرمایا:

"(کفار کے) چہرے بگڑ جائیں! تم میں سے جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی ماں اس کے غم میں روئے، اس کے بچے یتیم ہو جائیں، یا اس کی بیوی بیوہ ہو جائے، تو وہ اس وادی کے پیچھے آ کر میرا راستہ روک کر دکھائے!"

حضرت عمرؓ کی اس بے خوفی کو دیکھ کر کسی سردار کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ آگے بڑھے۔ وہ مکہ سے اکیلے روانہ نہیں ہوئے، بلکہ اپنے خاندان اور دیگر کمزور مسلمانوں کے ایک چھوٹے قافلے کی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود لی اور انہیں ساتھ لے کر گئے۔

فرشتوں کی بازپرس اور ہجرت نہ کرنے والوں کا انجام

جن مسلمانوں نے استطاعت کے باوجود ہجرت کا حکم نہ مانا، موت کے وقت ان کا انجام انتہائی عبرت ناک ہوا۔ قرآن مجید کی آیات کے مطابق، جب فرشتے ان کی روح قبض کرنے آئے تو انہوں نے بازپرس کی اور پوچھا: "تم کس حال میں تھے؟" انہوں نے عذر پیش کیا کہ ہم مکہ میں بے بس اور مجبور بنا دیے گئے تھے۔ فرشتوں نے ان کا یہ عذر سختی سے مسترد کر دیا اور کہا: "کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟" چونکہ انہوں نے محض ظاہری اسباب کے ڈر سے اللہ کے فرض حکم کو ترک کر دیا تھا، اس لیے قرآن نے ان کا ٹھکانا جہنم قرار دیا ہے جو کہ بدترین انجام ہے۔

ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں کٹھن امتحانات اور مسلسل جہاد

ہجرتِ مدینہ کے بعد مسلمانوں کی آزمائشیں ختم نہیں ہوئیں، بلکہ ایک نئے اور صبر آزما دور کا آغاز ہوا۔ کفارِ مکہ نے مسلمانوں کو مدینہ میں بھی چین سے نہ رہنے دیا اور اسلام کو مٹانے کی سازشیں جاری رکھیں۔ نتیجتاً، مسلمانوں کو اپنے دفاع اور حق کی بقاء کے لیے مسلسل جہاد کے مرحلے سے گزرنا پڑا۔ غزوہ بدر کا پہلا حق و باطل کا معرکہ ہو، غزوہ احد کی سخت آزمائش، یا غزوہ احزاب (خندق) کی شدید محاصرے والی گھڑی؛ ہر موقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھوک، پیاس، خوف اور جان و مال کی بے مثال قربانیاں پیش کیں۔ مسلسل جدوجہد اور انھی کٹھن امتحانات سے گزرنے کے بعد ہی اسلام کی جڑیں مضبوط ہو سکیں اور ایک پرامن اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی گئی۔

احکامِ الٰہی کی پابندی اور ظاہری اسباب کی حقیقت - درسِ قرآن - دوسرا دور