الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَاؕ فَاُولٰٓىٕكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ (97) اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ (98) فَاُولٰٓىٕكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا (99) وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّ سَعَةًؕ وَ مَنْ یَّخْرُ جْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (100)
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
اور اسی حالت میں فرشتے ان کی روح قبض کرنے آئے، تو بولے، "تم کس حالت میں تھے؟" وہ کہنے لگے کہ ”ہم تو زمین میں بے بس بنا دیئے گئے تھے۔“ فرشتوں نے کہا ”کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟“ لہٰذا ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ نہایت برا انجام ہے ﴿97﴾ البتہ وہ بے بس مرد، عورتیں اور بچے (اس انجام سے مستثنیٰ ہیں) جو (ہجرت کی) کوئی تدبیر نہیں کر سکتے اور نہ (نکلنے کا) کوئی راستہ پاتے ہیں ﴿98﴾ چنانچہ پوری امید ہے کہ اللہ ان کو معاف فرما دے۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے ﴿99﴾ اور جو شخص اللہ کے راستے میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور بڑی گنجائش پائے گا۔ اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کے لئے نکلے، پھر اسے موت آ پکڑ لے، تب بھی اس کا ثواب اللہ کے پاس طے ہو چکا، اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿100﴾
یہ اصل میں
مسلمانوں کے لئے ہجرت کا حکم آگیا تھا تو مکہ میں رہنے والے ہر مسلمان پر شرعاً فرض تھا کہ وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرے، بلکہ اس کو ایمان کا لازمی تقاضا قرار دیا گیا تھا، اور اگر کوئی شخص قدرت کے باوجود ہجرت نہ کرتا تو اسے مسلمان قرار نہیں دیا جاتا تھا۔ اس آیت میں ایسے ہی بعض لوگوں کا ذکر ہے کہ جب فرشتے ان کے پاس ان کی روح قبض کرنے آئے تو ان کے ساتھ کیا مکالمہ ہوا۔ چونکہ یہ لوگ ہجرت کے حکم کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے مسلمان نہیں رہے تھے، اس لئے ان کے بارے میں دوزخی ہونے کا اعلان کیا گیا ہے۔ البتہ جو لوگ کسی مجبوری کی بنا پر ہجرت سے قاصر رہے تھے، ساتھ ہی ان کا استثناء بھی کر دیا گیا ہے کہ معذوری کی وجہ سے وہ قابل معافی ہیں۔
اصل میں ایک تو ہوتا ہے اسباب پر نظر رکھنا۔ اور ایک ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے حکم پر نظر رکھنا۔ تو اللہ جل شانہ کا جو حکم ہوتا ہے، وہ اسباب کے مخالف نہیں ہوتا۔ یعنی اسباب بھی تو اللہ ہی نے پیدا کیے ہیں، وہ اسباب کے مخالف نہیں ہوتا۔ لہٰذا جو اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہیں اس میں اسباب خود ہی آ جاتے ہیں، جتنے آنے چاہییں۔ لیکن یہ بات ہے کہ اللہ پاک کے حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے وہ صحیح اسباب کو چن لیتے ہیں اور غلط اسباب کو اختیار نہیں کرتے، اس وجہ سے بچ جاتے ہیں۔ جبکہ دوسری صورت میں جو صرف اسباب پر بھروسہ کرتے ہیں اور اسباب ہی کو لیتے ہیں، تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی پروا نہیں کرتے، نتیجتاً وہ راندۂ درگاہ ہو جاتے ہیں۔
اب یہاں پر بھی اس قسم کی بات تھی کہ وہ ظاہری شکل اور صورت جو اسباب کی تھی، وہ یہ تھی کہ ظاہر ہے اب ہجرت کرنا، اس کو اپنے آپ کو مشکل میں ڈالنے والی بات تھی۔ لیکن دوسری طرف اللہ کا حکم تھا۔ اور واضح حکم تھا۔ تو اس واضح حکم کو چھوڑنے کی وجہ سے، جنہوں نے کوشش ہی نہیں کی، تو اللہ پاک کے حکم کی گویا ناقدری کی، نتیجتاً وہ دوسری طرف چلے گئے، اللہ بچائے ہم سب کو۔
اور جن لوگوں نے اللہ جل شانہ کے حکم کو دیکھا، تو اس میں دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک وہ جن کو موقع مل گیا، اور وہ چلے گئے، مطلب یہ ہے کہ پہنچ گئے۔ تو ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک -ما شاء اللہ- ان کو یعنی نواز دیتے ہیں۔ اور دوسری طرف کچھ لوگ ایسے جنھوں نے کوشش کی، نکلنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، موت آ گئی اور فوت ہو گئے۔ تو اللہ پاک نے فرمایا کہ ان کے لیے بھی امید ہے کہ وہ بھی معاف ہو جائیں۔
تو اس کا مطلب ہے کہ اسباب کی کوشش کرنا، اللہ کے حکم کے مطابق، یہ ضروری ہے، اسباب اللہ کے حکم کے مطابق۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں اسباب کو لینا اور حکم کو چھوڑنا، یہ بدبختی ہے۔ اور جو کوشش کر لے، اور پورا نہ کر سکے، تو بھی اللہ جل شانہ ان کو یعنی رستہ دے دیتے ہیں۔ اور اللہ پاک معاف فرما دیتے ہیں۔ تو یہ اگرچہ اس وقت کے حکم کے مطابق تھا کیونکہ اب تو وہ والی بات نہیں ہے، اس وقت یہ ہجرت فرض تھی۔
لیکن اس سے قانون کا پتا ہمیں بھی چلتا ہے۔ کہ وہ جو قانون ہے وہ general ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں، اسباب کو اتنا وہ لینا، کہ اللہ کا حکم ٹوٹ جائے، یہ اس کی گنجائش نہیں ہے۔ ہاں البتہ، اللہ تعالیٰ کے حکم کو پورا کرنے کے لیے اسباب کا اختیار کرنا لازمی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے حکم کو پورا کرنے کے لیے اسباب جو اختیار مطلب یہ ہے کہ نہ کر سکیں، تو وہ معاف ہے۔ اور جو مطلب یہ ہے کہ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کو پورا کرنے کے لیے اسباب کو اختیار کرنا شروع کر لیا، لیکن موت آ گئی، تو بھی اللہ جل شانہ ان کو امید ہے کہ معاف فرما دیں۔ یہ والی بات ہے۔