حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کا شوقِ شہادت اور جہاد فی سبیل اللہ

بَابٌ فِي المجاہدہ، درس نمبر: 164 حدیث نمبر: 109، اشاعتِ اول: یکم جنوری، 2023 بمطابق 8 جمادی الثانی 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• غزوہ بدر میں عدم شرکت پر حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کا ملال اور اللہ سے عہد۔

• غزوہ احد میں ان کی بے مثال بہادری اور میدانِ جنگ میں جنت کی خوشبو محسوس کرنا۔

• ان کے جسم پر 80 سے زائد زخم آنا اور کفار کی جانب سے مثلہ کیا جانا۔

• سورہ احزاب کی آیت ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ کا شانِ نزول۔

• سچے دل سے جہاد کی فضیلت اور میدانِ جنگ میں ثابت قدمی کی اہمیت۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم میں اَسّی زخم، غزوہ احد میں

(109) ﴿الْخَامِسُ عَشَرَ: عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: غَابَ عَمِّي أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ غِبْتُ عَنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلْتَ الْمُشْرِكِينَ، لَئِنِ اللَّهُ أَشْهَدَنِي قِتَالَ الْمُشْرِكِينَ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ. فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ. يَعْنِي أَصْحَابَهُ. وَأَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ. يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ. ثُمَّ تَقَدَّمَ فَاسْتَقْبَلَهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَقَالَ: يَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ الْجَنَّةُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، إِنِّي أَجِدُ رِيحَهَا مِنْ دُونِ أُحُدٍ. قَالَ سَعْدٌ: فَمَا اسْتَطَعْتُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَا صَنَعَ ! قَالَ أَنَسٌ: فَوَجَدْنَا بِهِ بِضْعاً وَّ ثَمَانِيْنَ ضَرْبَةً بِالسَّيْفِ، أَوْطَعْنَةً بِرُمْحٍ، أَوْ رَمْيَةً بِسَهْمٍ، وَوَجَدْنَاهُ قَدْ قُتِلَ وَمَثَّلَ بِهِ الْمُشْرِكُوْنَ فَمَا عَرَفَهُ أَحَدٌ إِلَّا أُخْتُهُ بِبَنَانِهِ. قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ: كُنَّا نَرى أَوْ نَظُنُّ أَنَّ هٰذِهِ الْآيَةِ نَزَلَتْ فِيْهِ وَفِيْ أَشْبَاهِهِ: ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ﴾ (الأحزاب: ۲۳) إِلَىٰ آخِرِهَا، (متفق عليه)

”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ بدر میں شریک نہ ہوسکے، اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ پہلی جنگ جو آپنے مشرکوں کے ساتھ لڑی ہے میں اس میں حاضر نہ ہوسکا اگر اللہ نے مجھے مشرکوں کے ساتھ جنگ کرنے کا موقع دیا تو اللہ دیکھ لے گا میں کیا کارنامہ سرانجام دیتا ہوں، چنانچہ غزوہ احد میں جب مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے تو اس نے کہا اے اللہ میں ان کے فعل سے تیری خدمت میں معذرت پیش کرتا ہوں پھر وہ آگے بڑھا، سامنے سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوگئی، ان سے کہا کہ اے سعد! رب کعبہ کی قسم! اُحد کے قریب جنت کی خوشبو آرہی ہے، سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ مجھ میں طاقت نہیں کہ اس کے کارنامے کو بیان کروں، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے اس کے جسم پر اسی (80) سے زیادہ تلوار، نیزے کے زخم اور تیروں کے نشانات پائے، ہم نے دیکھا کہ وہ شہید ہو گیا ہے اور مشرکوں نے اس کا مثلہ کر دیا، صرف اس کی بہن اس کی انگلیوں کے پوروں کی شناخت کرسکی اور کوئی اس کی شناخت نہ کرسکا، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ) ”مؤمنوں میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جو اللہ سے عہد کرلیتے ہیں اس میں سچے اترتے ہیں“ یہ آیت ان کے اور ان جیسوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“


اللہ اکبر!

یہ اصل میں سچے لوگ تھے اور ان کی سچی امیدیں تھیں اللہ جل شانہ سے، اور جو بات کرتے تھے اس بات کو پورا کرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی پھر ان کی طرف سچی نشانیاں آتی تھیں،

جیسے جنت کی خوشبو کا آنا

کہ وہ فرما رہے تھے کہ میں جنت کی خوشبو احد پہاڑ سے بھی قریب سے محسوس کر رہا ہوں۔

بعض محدثینؒ نے اس جملہ کے حقیقی معنی بیان فرمائے ہیں کہ حقیقتاً ان کو جنت کی خوشبو احد پہاڑ کی طرف سے محسوس ہو رہی تھی۔

بعض محدثینؒ نے اس جملہ سے ان کے شوق شہادت اور اشتیاق جنت کا اظہار مراد لیا ہے۔

دونوں باتیں ممکن ہیں۔

پھر سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جو روایت ہے کہ انہوں نے قتال کیا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔

اسی سے کچھ اوپر نشان تھے، ”بضع“ تین سے نو تک کے عدد کو کہتے ہیں اس میں 81 سے 89 تک کا احتمال ہے۔

پھر اس کے بعد اس کی بہن نے اس کو شناخت کیا صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے۔ یعنی اتنا مثلہ کیا تھا کافروں نے ان کا کہ بالکل پہچانے نہیں جا رہے تھے۔


تو یہ جو آیتِ کریمہ ابھی تلاوت ہوئی ہے اس میں،

اس آیت کا نزول کس کے بارے میں ہوا اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض نے یہی حضرت انس بن نضر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں میں فرمایا بعض نے احد کے ستر شہداء کے بارے میں فرمایا۔ بعض نے عقبۂ ثانیہ کے موقع پر جن ستر لوگوں نے آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ان کے بارے میں کہا ہے۔

بہرحال یہ کہ، تو علمائے کرام کی تحقیقات ہیں۔

ہمیں جو اس چیز سے پتہ مل رہا ہے، وہ یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد سچے دل سے جب کیا جاتا ہے، تو بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ بہت بڑا مرتبہ حاصل ہوتا ہے اور یہ ہے کہ اگر اللہ پاک کسی کو ایسا موقع نصیب فرمائے تو اس میں پیٹھ نہیں دکھانی چاہیے، بلکہ اس میں آگے بڑھ کر مقابلہ کرتے رہنا چاہیے۔ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، البتہ یہ کہ انسان جس وقت اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے کرتے اللہ تعالیٰ سے ملتا ہے، تو اس کی بڑی بات ہوتی ہے۔ اللہ جل شانہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔


حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ کا شوقِ شہادت اور جہاد فی سبیل اللہ - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور