اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
آج بدھ کا دن ہے۔ بدھ کے دن حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، ان کے مکتوبات شریف کا بے نظیر درس ہوتا ہے۔
﴿أَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے دلوں کو اطمینان حاصل ہو جاتا ہے۔ خبردار کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور اعمال کی بجا آوری کے لیے آسانی اور سہولت حاصل کر لے۔
اور سستی و سر کشی جو نفس امارہ سے پیدا ہوتی ہے اس کو دور کریں، اور اسی طرح طریقہ صوفیہ کے سلوک کا مقصود یہ نہیں ہے کہ غیبی صورتوں اور شکلوں کا مشاہدہ اور طرح طرح کے انوار کا معائنہ کریں
”کہ غیبی صورتوں اور شکلوں کا مشاہدہ اور طرح طرح کے انوار کا معاینہ کریں“، یہ تو خود لہو و لعب میں داخل ہے۔ اور انوار کس قدر نقصان رکھتے ہیں کہ کوئی شخص انوار اور صورِ غیبی کی تمنا میں اپنے آپ کو ریاضات و مجاہدات میں لگا دے، کیونکہ حسی صورتیں اور وہ غیبی صورتیں، اور یہ انوار اور انوار سب کے سب حق جل وعلیٰ کی مخلوق ہیں، اور حق تعالیٰ کے وجود پر دلالت کرنے والی نشانی ہیں۔ اور صوفیہ کے طریقوں میں سے طریقہ نقشبندیہ کا اختیار کرنا اولیٰ و انسب ہے۔ کیونکہ ان بزرگواروں نے سنت کی پیروی کو اپنے اوپر لازم کر لیا ہے اور بدعت سے پرہیز کیا ہے۔ اگر ان کو پیروی کی دولت حاصل ہو جائے اور حال و احوال کچھ بھی حاصل نہ ہوں تو خوش ہیں،
کیا فرمایا؟ پیروی سنت کی حاصل ہو جائے،
اور حال و احوال کچھ بھی حاصل نہ ہو، تو اس پر خوش ہیں۔
اللہ اکبر
آج کل تو سنت کیا، فرائض کا بھی نہیں ہے۔ حرام میں مبتلا ہیں، بعض لوگ عورتوں کے ساتھ اختلاط رکھتے ہیں۔ مالی معاملات میں گڑبڑ کرتے ہیں۔ اور پھر، شیخ بھی! بڑے مشہور مشائخ ہیں، میں نام لے لوں تو آپ حیران ہو جائیں گے۔ یہ کیا بات کی آپ نے؟ تجربات کی بنیاد پر بات کر رہا ہوں، ویسے نہیں کر رہا ہوں۔ فتوے آرہیں ہیں۔
تو یہ کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ ہے کہ ان چیزوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔ جو حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے چیزیں بتائی ہیں، ان چیزوں کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اور کوئی اس کو گرفت کرنے والا ملا نہیں۔ نتیجتاً معاملہ آگے چلا گیا۔ ایک بات یاد رکھیے! گرفت والے تھے، گرفت والے تھے، لیکن علماء تھے۔ مشائخ گرفت والے نہیں تھے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ مشائخ گرفت والے نہیں تھے۔ کیونکہ ان کے پاس یہ بہت آسان والی بات تھی کہ علماء ہیں یہ تو ظاہر کے لوگ ہیں یہ باطن کی چیزیں کیا جانتے ہیں۔ بس بات ختم! اور جو لوگ ان کے معتقد ہیں، ان کے اوپر کوئی اثر نہیں پڑتا، کہ یہ تو علماء ہیں، یہ تو ان چیزوں کو جانتے نہیں ہیں۔ یہ تو ظاہر کے لوگ ہیں، تو یہ باطن کی چیزوں کو کیا جانیں؟ لہٰذا بات ختم! اثر ختم! تو فتوے تو آ گئے ہیں۔ لیکن ان فتووں کی موثریت ان مکتوبات شریف میں آئے گی۔ ان مکتوبات شریف کے ذریعے سے اب اس کی موثریت آئے گی۔ کیونکہ لوگ ان کو تصوف سمجھتے ہیں ان مکتوبات شریف کو۔ اور حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو نقشبندیت کا سرخیل سمجھتے ہیں۔ تو جب حضرت کی طرف سے کوئی چیز آ گئی، تو پھر تو یہ انکار نہیں کر سکتے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟ اس وجہ سے ہم یہ مکتوبات شریف کافی تفصیل کے ساتھ بیان کرنا چاہتے ہیں، تاکہ جن کو بھی کوئی غلط فہمی ہے، وہ غلط فہمی دور ہو جائے، اور اپنے آپ کی اصلاح کر لے۔ اس کے بغیر کوئی راستہ ہمارے پاس ہے نہیں۔
واقعتاً نقشبندیہ سلسلہ جو ہے نا یہ تو میں کہتا ہوں کہ سبحان اللہ! یہ تو عجیب یعنی اس کا حال ہے۔ کہ ان کا تو فخر کی بات یہ تھی کہ سنت کے ساتھ، سنت کے ساتھ، زیادہ تر سنت کا خیال۔ اور وجد اور ان چیزوں کی طرف زیادہ رجحان نہیں۔ وجدیات! اب کیا بات ہے! ایسے لوگ بھی ہیں، اللہ معاف فرمائے، اللہ معاف فرمائے! نقشبندی مجددی اپنے آپ کو کہتے ہیں، اور اچھل کود میں چشتیوں سے بڑھ کر ہیں! اور اچھل کود ان کا شِعار ہے! وہ پتہ نہیں اس طرح کوئی توجہ ڈالتے ہیں۔ وہ ہاتھ ملاتے ہیں۔ وہ ہاتھ ملا کر پھر وہ اس کو سنبھالنے والے چار پانچ کی ٹیم پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ ان کو فوراً پکڑ کر بٹھا لیتے ہیں، پھر کسی اور کو۔ یہاں پر ایک صاحب تھے، مجھے بتایا، یہ رحیم آباد ہے ادھر قریب ہے۔ چک مدد خان پل ہے نا، اس کے پاس جو نیچے جگہ ہے اس کو رحیم آباد کہتے ہیں۔ وہاں کوئی اس قسم کا آدمی آ گیا۔ تو اب ظاہر ہے لوگ تو اچھل کود کر رہے تھے، تو یہ بالکل خاموش بیٹھے تھے، کہتا ہے میں آیۃ الکرسی پڑھ رہا تھا۔ تو مجھ پر کچھ نہیں ہوا۔ تو کہتے، ”آئیے، میں آپ کو وہ بتا دوں۔“ یعنی ان کا جو کیفیت والے الفاظ اس وقت میں بھول گیا ہوں۔ ”وہ آپ کو سکھا دوں۔“ اچھا بہت کوشش کی لیکن مجھے کچھ نہیں ہوا۔ کہتے ہیں، ”تیرا دل سیاہ ہے۔ تجھے کچھ نہیں ہوتا، شاید تیرا پیر ایسا ہے۔“ کہتا ہے جب پیر کا کہا نا، تو میں نے - پٹھان تھے وہ جو مجھے بات سنا رہے تھے- کہتے ہیں، ”میں نے اس سے کہا کہ اب تو میں معاف کرتا ہوں، تجھے پہلی دفعہ، کیونکہ تجھے پتا نہیں ہے۔ پہلی دفعہ میں نے آپ کو معاف کر دیا۔ اس کے بعد اگر آپ نے میرے پیر کے بارے میں کوئی لفظ نکالا نا، تو پھر تو یہاں نہیں رہے گا۔ یہ میں تمہیں صاف بتاتا ہوں، پھر تو یہاں نہیں رہے گا۔“ تو بس وہ جلدی جلدی میں مجلس برخاست کر کے وہ چلے گئے۔
تو یہ حالت ہے۔ تو میں آپ کو کیا بتاؤں؟ ہمارا تو آج کل project ہی یہی ہے نا کہ نقشبندی سلسلے کی حفاظت کرنا۔ چونکہ بہت اونچا سلسلہ ہے۔ اور ان کے لوگوں نے پتا نہیں کہاں سے کہاں پہنچایا ہے۔ تو اس وجہ سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ تو ابھی اسی پر غزل ہے۔
یہ اچھلنا یہ کودنا یہ بزرگی تو نہیں
بزرگ سمجھنا اپنے آپ کو بندگی تو نہیں
اپنے آپ کو بزرگ سمجھے تو بندہ کدھر رہا!
بزرگ سمجھنا اپنے آپ کو بندگی تو نہیں
پچاس ہزار سال عبادت اولیاء سمجھنا
وہ کہتے ہیں پچاس ہزار سال کوئی ولی عبادت کرتا ہے پھر اس کو وہ چیز حاصل ہوتی ہے۔ یہ مشہور کیا ہوا ہے۔
پچاس ہزار سال عبادتِ اولیاء سمجھنا
اپنے خود ساختہ جذب کو یہ بے شرمی تو نہیں
اپنی خود ساختہ اداؤں پہ جو نازاں تم ہو
تم جس کو نور ہو سمجھے یہ تیرگی تو نہیں
نقشبندیت میں اچھل کود یہ کیا کہتے ہو
نقشبندیت تو ان چیزوں سے بہت دور ہے۔
نقشبندیت میں اچھل کود یہ کیا کہتے ہو
نفس کی خواہش ہے یہ تقلیدِ سرہندی تو نہیں
نقشبندیت ہے باوقار طریقۂ سلوک
یہ تیرا طرز نمائندگی اس کی تو نہیں
کاش تم شبیر کی یہاں مان لو اور سمجھ جاؤ
آنا اک بار ہے وہاں سے پھر واپسی تو نہیں
مطلب ظاہر ہے یہاں پر اپنی زندگی ضائع کر دو گے، کتنا اچھلو گے، کتنا کودو گے؟ یہ صندل بابا جی رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے تھے ادھر اسلام آباد میں۔ میں بھی چلا گیا تھا ملنے کے لیے۔ خیر حضرت تو ہمارے ساتھ باتیں کر رہے تھے، ما شاء اللہ پیاری پیاری باتیں۔ ہمارے پاس record ہے پشتو زبان میں۔ تو ایک صاحب آیا، اور آتے ہی خوشامد کی پوری burst ماری، خوشامد۔ کہتا ہے ”اے قربان! قربان!“ پشتو میں یہ، ”قربان یہ ایسے، قربان ایسے قربان...“ اب وہ شروع ہو گیا جی۔ آخر میں وہ درمیان میں کہتا ہے کہ ”آپ نے مجھے وہ ایک وظیفہ دیا تھا، اس وظیفے کے کچھ الفاظ کا مجھے پتہ نہیں چل رہا تھا۔ میں نے کہا کہ آپ مجھے دوبارہ عطا فرمائیں، کچھ عمل ہوگا۔“ عملیات کے تو لوگ بڑے شوقین ہیں نا۔ تو حضرت نے اس سے فرمایا ”بھئی یہ کیا کر رہے ہو؟ کہاں تک اڑو گے، کہیں اترو گے بھی یا نہیں؟ کبھی تو اترو گے نا؟ اپنی قبر کو درست کر لو، اپنی آخرت کو درست کر لو۔ یہ کن چیزوں میں پڑے ہو؟“ یہ حضرت نے ان سے۔۔۔ پشتو میں بھی موجود ہے record ہیں۔ ”کن چیزوں میں پڑے ہو، اپنی آخرت درست کر لو، اپنی قبر درست کر لو۔“
تو اس پر جب اس کو پتہ چلا کہ میری دال نہیں گل رہی، تو پھر اس نے کہا کہ حضرت مجھے فلاں صاحب سے ملنا ہے تو میں پھر آؤں گا۔ ہم نے کہا اس نے پھر آنا ہے نہ کچھ کام ہے جس کے لیے آئے تھے وہ کام ہوا نہیں یہ اب یہاں پر کیسے ٹھہر سکتا ہے؟
تو یہ اصل میں یہی ہوتا ہے۔ دنیا، دنیا، دنیا، دنیا، دنیا۔ یہ ساری دنیا ہے۔
اگر آپ کی کوئی تعریف کرتا ہے، یہ بھی دنیا ہے۔ اگر آپ کو کوئی مال دیتا ہے، یہ بھی دنیا ہے۔ اگر آپ حلوے مانڈے میں مبتلا ہیں، یہ بھی دنیا ہے۔ آب بتاؤ دین اس میں کہاں ہے؟
سارے چکر یہی ہیں نا! دین تو یہ ہے کہ تم جلدی آؤ یا دیر سے آؤ، لیکن سنت زندگی پہ آ جاؤ۔
سنت زندگی کو اپنا مقصد سمجھو، سنت زندگی کے مطابق اپنی زندگی گزارنا یہ اپنا مقصد سمجھو۔ تمہارا دل بیدار ہو جائے، تمہارا نفس تابعدار ہو جائے، تمہاری عقل سمجھدار ہو جائے۔ بس یہی چیز ہے، تین کام ہیں، اگر آپ کو حاصل ہو گئے پھر سبحان اللہ آپ نے کچھ حاصل کیا۔ اور اگر یہ کام نہیں ہوئے تو پھر پھرو، اس سے کیا ہو گا؟
یہی وجہ ہے کہ ان بزرگواروں نے سماع و رقص کو تجویز نہیں کیا
دیکھیں اچھل کود۔
اور جو احوال (سماع کے دوران) ان پر مرتب ہوتے ہیں ان کو بھی قابل اعتبار نہیں سمجھتے بلکہ ذکر جہر کو بھی بدعت جان کر اس سے منع فرماتے ہیں، اور وہ ثمرات جو (اس کیفیت پر) مرتب ہوتے ہیں ان کو بھی قابل التفات نہیں سمجھتے۔
ایک دن ہم حضرت ایشاں (خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ) کی مجلسِ طعام میں حاضر تھے، شیخ کمال جو ہمارے حضرت خواجہ رحمۃ اللہ علیہ کے مخلصوں میں سے تھے، انہوں نے کھانا شروع کرتے وقت ان کے حضور میں اسم اللہ بلند آواز سے کہا، آپ کو ناگوار ہوا۔ حتیٰ کہ آپ نے کافی سرزنش فرمائی اور فرمایا کہ ان کو منع کریں کہ ہمارے کھانے کی مجلس میں حاضر نہ ہوا کریں، اور میں نے حضرت ایشاں (خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ) سے سنا ہے کہ حضرت خواجہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ علمائے بخارا کو جمع کر کے حضرت امیر کلال رحمۃ اللہ علیہ کی خانقاہ میں لے گئے تاکہ وہ ان کو ذکر جہر سے منع فرمائیں۔ چنانچہ علماء کرام رحمۃ اللہ علیہم نے حضرت امیر رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں عرض کیا کہ ذکرِ جہر بدعت ہے آپ ایسا نہ کریں۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم آئندہ نہیں کریں گے۔
جب اس طریقے کے بزرگوار (صوفیائے ربانی) ذکر جہر سے منع کرنے میں اس قدر مبالغہ کرتے ہیں تو پھر سماع و رقص اور وجد و تواجد کا کیا ذکر؟ وہ احوال و مواجید جو غیر مشروع اسباب پر مرتب ہوں فقیر کے نزدیک استدراج کی قسم سے ہیں کیونکہ استدراج والوں کو بھی احوال و اذواق حاصل ہوتے ہیں اور جہان کی صورتوں کے آیئنوں میں کشفِ توحید اور مکاشفہ و معائنہ ان کو بھی ظاہر ہو جاتا ہے۔ اس امر میں حکمائے یونان اور ہندوستان کے جوگی و برہمن سب برابر ہیں، احوال کے سچا اور صادق ہونے کی علامت ان احوال کا علومِ شرعیہ کے مطابق ہونا اور محرَّمہ و مشتبہ امور کے ارتکاب سے بچنا ہے۔
ایک بات یاد رکھنا چاہیے، بڑی بات عرض کرنا چاہتا ہوں، منہ چھوٹی، لیکن کیا کریں کرنا پڑتی ہے بعض دفعہ۔
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، جب خون آ جاتا ہے جسم سے کسی جگہ سے، تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ان کے نزدیک۔ امام شافعی رحمۃ اللہ کے نزدیک نہیں ٹوٹتا۔ بات سمجھ آ رہی ہے نا؟ نہیں ٹوٹتا۔
اب اگر ہمارے ہاں ذرا سا خون آئے تو ہم دکھاتے پھرتے ہیں بھئی خون نکلا تو نہیں ہے؟ اور جو شافعی ہو گا اس کو پروا بھی نہیں ہو گی کیونکہ ظاہر ہے ان کے نزدیک اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔
دوسری بات، اگر اپنی محرم کسی عورت کو بھی ہاتھ لگ جائے شوافع کے نزدیک تو وضو اس کا ٹوٹ جاتا ہے۔ یعنی اپنی بیوی کو بھی ہاتھ لگ جائے، وضو ٹوٹ جائے گا ان کا ہمارے نزدیک نہیں ٹوٹتا۔
فاتحہ خلف الامام؛ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا، یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک فرض ہے اور ہمارے نزدیک حرام ہے۔
کیا خیال ہے ہم امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو غلط کہتے ہیں؟ کیوں؟ اس لیے کہ اجتہادی بات ہے۔ اجتہادی بات ہے، ٹھیک ہے نا؟
تو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اگر ذکرِ جہری کو بدعت کہتے ہیں تو اجتہادی بات ہے۔ یہ اجتہادی بات ہے، حضرت اپنے مسلک پر قائم ہیں۔ نقشبندیوں کو نہیں کرنا چاہیے، ان کو، بس ان کا طریقہ ایسا ہے۔ لیکن ذکرِ جہری ہمارے مشائخ کے نزدیک انتہائی مؤثر طریقہ ہے قلبی کیفیات کو، قلبی جذب حاصل کرنے کا۔ لہٰذا ہم چشتیوں کو منع نہیں کریں گے۔ ہم چشتیوں کو منع نہیں کریں گے۔
جہاں تک سماع کی بات ہے، اس کے حدود قائم ہیں۔ حدود قائم ہیں۔ اور وہ حدود جو ہیں، فقہاء نے بھی قائم کیے ہیں۔ کیونکہ فقہاء بھی صوفیاء ہوتے تھے۔ تو انہوں نے باقاعدہ حدود قائم کیے ہیں کہ یہ چیز نہیں ہونی چاہیے، یہ چیز نہیں ہونی چاہیے، اگر یہ چیز نہ ہو تو پھر سماع ٹھیک ہے۔
جیسے خواجہ نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ انہوں نے فرمایا چار شرطیں ہیں اس کے ساتھ، سماع کی۔
پہلی شرط یہ ہے کہ؛ کلام عارفانہ ہو۔ یہ تو بہت سارے لوگ پورا کرتے ہیں۔
دوسری شرط یہ ہے کہ پڑھنے والا جو ہے وہ، جس کو عام لوگ "قوال" کہتے ہیں، وہ "عارف" ہو۔ یعنی اس کا حق ادا کر سکے۔ سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کا کلام، "چمبے دی بوٹی" یہ ہے نا کلام، میں اکثر پنجابیوں سے کہتا ہوں تمہارے اوپر قرض ہے اس کو صحیح طور پر پڑھنا۔ تمہارے اوپر قرض ہے۔ ابھی تم میں ایسا آدمی پیدا نہیں ہوا جو حضرت کا کلام صحیح پڑھ لے، صوفی۔ کوئی صوفی پیدا نہ ہوا۔ ڈوموں نے پڑھا ہے، لیکن ڈوموں سے کیا ہوتا ہے؟ ڈوموں کا تو کام ہی نہیں ہے، وہ تو "ھُو" کا ذکر کر ہی نہیں سکتے۔ ھُو کا ذکر کیسے ہوتا ہے؟ تو میں کہتا ہوں بھئی تمہارے اوپر یہ قرض ہے، آپ نے یہ کلام صحیح طریقے سے پڑھنا ہے، کوئی صوفی کو پیدا کرو جو پڑھ سکے۔ تو یہ جو کلام پڑھنے والا ہو کون ہو؟ عارف ہو۔ دو باتیں ہو گئیں؟
تیسری بات؛ جو سننے والے ہیں، وہ بھی عارفین ہوں۔ اور ساتھ مزید یہ فرمایا کہ اس میں کوئی عورت نہ ہو اور کوئی بچہ نہ ہو۔ موجود سامعین میں کوئی عورت اور بچہ موجود نہ ہو۔ تین باتیں ہو گئیں۔
چوتھی بات یہ فرمائی: "آلات چنگ و رباب نہ باشند"۔ میوزیکل instruments ساتھ نہ ہوں۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک جگہ پر اس طرح تشریف لے گئے وہاں محفلِ سماع گرم تھی۔ تو لوگوں نے حضرت سے درخواست کی کہ آپ بھی تو چشتی ہیں، آپ آئیے ہمارے ساتھ سماع میں تشریف رکھیں۔ تو غالباً حضرت خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مزار تھا۔ تو انہوں نے حضرت نے فرمایا کہ مجھ سے خواجہ صاحب ناراض ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا وہ کیسے؟ تو انہوں نے یہ شرائط بیان کیں کہ حضرت نے شرائط بیان کی ہیں، اب مجھے بتاؤ کہ آپ کا سماع ان شرائط پہ پورا اترتا ہے یا نہیں؟
تو انہوں نے کہا پورا نہیں اترتا۔ انہوں نے کہا پھر میں کیسے بیٹھوں؟ مجھ سے حضرت ناراض ہو جائیں گے۔
تو بات یہ ہے کہ یہ جو شرائط، اب ان شرائط پہ اگر آپ پورا کر لیتے ہیں پھر کوئی مسئلہ نہیں۔
شاہ عبد الرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ، جو حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے والد صاحب، اور بہت بڑے صاحبِ کشف اور بڑے اونچے علوم والے بزرگ گزرے ہیں، حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ان کے بڑے اونچے الفاظ سے ذکر کرتے ہیں اپنے والد صاحب کا۔
تو حضرت کے مکاشفات پر انہوں نے حضرت نے کتاب لکھی ہے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے۔ اس میں ایک بات حضرت نے یہ بتائی کہ خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر حاضر ہوئے۔ تو حضرت کے ساتھ مراقبے میں ملاقات ہوئی۔ مکاشفے میں ملاقات ہوئی۔ تو حضرت خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے پوچھا، کہ اگر کوئی اچھا کلام ہو اور کوئی بتا دے کسی کو، تو اس کا کیسے سمجھتے ہیں کیسا ہے؟ تو کہتا ہے، ”بڑا اچھا ہے۔“ انہوں نے کہا، ”اگر وہ شعر میں ہو؟“ کہتا ہے، ”یہ تو اور بھی مفید ہے کیونکہ شعر میں اثر زیادہ ہوتا ہے، اور کلام اچھا ہے۔“ فرمایا، ”اگر کوئی اچھی آواز میں اس کو پڑھ لے؟“ تو انہوں نے کہا، ”یہ تو مزید ما شاء اللہ نور علیٰ نور ہے، کہ بہت ہی زیادہ اچھا فائدہ ہوگا کیونکہ کلام بھی اچھا ہو، اور پڑھنے والے کی آواز بھی اچھی ہو، اور تو شعر بھی ہو، تو یہ تو بہت ہی اچھا ہے۔“ فرمایا، ”یہی ہم سنتے تھے، اس سے زیادہ نہیں تھا۔ اس سے زیادہ نہیں تھا۔ آپ بھی کبھی کبھی سنا کریں۔ ایک دو شعر کبھی کبھی سن لیا کریں۔“
اب شاہ عبدالرحیم صاحب نقشبندی بزرگ تھے۔ خواجہ بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ چشتی بزرگ تھے۔ تو یہ چیزیں جو ہیں یہ کیا چیز ہے؟ جس طرح آپ کو وہ زمانہ، اور ہمیں وہ زمانہ ملا نہیں، کاش وہ زمانہ دوبارہ لوٹ آئے۔ جس میں فقہاء کرام آپس میں ایسا زبردست اختلاف کرتے تھے کہ ایک فرماتے تھے کہ یہ حرام ہے، دوسرا کہتا تھا نہیں یہ فرض ہے۔ اور آپس میں ما شاء اللہ ایک وقت جگہ پر کھانا کھاتے تھے، ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے تھے۔ ایک دوسرے کو بہت اونچا سمجھتے تھے، ان کی قدر کرتے تھے۔ ایسا دور تھا۔ ایسا دور تھا۔ یہ ہمارے ہاں نفس پرستی آ گئی۔ ہم اپنی بات پر جم جاتے ہیں۔ یہ ہمارے حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔ حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی صاحب یہ بھی صاحب کشف تھے نا۔ تو یہ گئے حضرت کی قبر پہ حاضری ہوئی، ہندوستان گئے تھے۔ تو یہ تو حضرت چونکہ نقشبندی حضرات کا وقار بہت ہوتا ہے نا، وقار ہوتا ہے زیادہ Dignified، اور چشتیوں میں ذرا والہانہ پن زیادہ ہوتا ہے، وہ پروا نہیں کرتے اپنے زیادہ لباس کی، تمام چیزوں کی۔ تو یہ ذرا کافی سمٹ کے بیٹھ گئے نا طریقے سے، تو کہتے ہیں حضرت کو کشف ہوا، فرمایا: "ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ، میں چشتی بھی ہوں۔ ٹھیک طرح سے بیٹھو، میں چشتی بھی ہوں۔"
اصل میں حضرت کو پہلی نسبت چشتیت کی ملی تھی۔ والد صاحب سے اجازت جو ملی تھی، وہ چشتیوں کے سردار تھے ان کے والد صاحب۔ تو یہ ظاہر ہے ان کو پہلے اجازت تو ادھر سے ملی تھی۔ تو یہ چشتی بھی تھے، یہ قادری بھی تھے۔ قادری بھی تھے اور یہ مولانا روم رحمۃ اللہ کا جو سلسلہ ہے کبروی، ادھر بھی، کبروی بھی تھے۔
مطلب یہ ہے کہ یہ ٹھیک ہے جو Analysis جس بزرگ کا جو ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ دیکھیں ایلوپیتھی علاج ہے۔ ایلوپیتھی بھی علاج ہے، ہومیوپیتھی بھی علاج ہے، یونانی بھی علاج ہے، آکوپنکچر بھی ہے۔ ان کے اپنے اپنے اصول ہیں۔ اگر کوئی ڈاکٹر ہومیوپیتھ بھی ہو اور ایلوپیتھ بھی ہو، ایسے ہیں، ڈاکٹر ایاز ادھر تھے ہمارے مری روڈ پر، مشہور ڈاکٹر تھے یہ ہومیوپیتھ بھی تھے ایلوپیتھ بھی تھے۔ علاج کرتے تھے، ایسے ہوتے ہیں۔ تو یہ جو بھی علاج کرتے ہیں تو پھر وہ یہ نہیں کرتے کہ ادھر سے ہومیوپیتھی لے لو اور ادھر سے ایلوپیتھی لے لے ان کو مکس کر کے، نہیں، ایسا نہیں ہے۔ وہ جس کا کرتے ہیں پھر اسی کے اصول پہ کرتے ہیں، جس طریقے سے علاج کرتے ہیں اسی اصول کو استعمال کرتے ہیں، اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر ایلوپیتھی کے مطابق کریں گے تو ایلوپیتھی کا لٹریچر فالو کریں گے، ایلوپیتھی کا ریسرچ فالو کریں گے، ایلوپیتھی کا جو مطلب جتنا کچھ findings ہوتی ہیں اسی کے مطابق کریں گے۔ اور اگر ہومیوپیتھی کے مطابق، چاہے جانتے دونوں ہوں۔ وجہ کیا ہے کہ مکسنگ سے پھر آپ کو یہ دیکھیں نا۔۔۔
By process of elimination
یہ بہت اہم چیز ہے ریسرچ کا، کہ آپ ایک ایک کر کے چیزوں کو نکالتے ہیں پھر آپ کو پتہ چلتا ہے کہ اصل چیز کیا ہے۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو آپ کو پتہ نہیں چلے گا کہ میں نے جو کیا اس کا کس چیز کا اثر تھا۔ تو اگر آپ نے دو طریقوں کو جمع کر دیا تو پتہ نہیں کیا بن جائے گا، اس سے کیا بن جائے گا؟
تو حضرت چونکہ یہاں نقشبندی سلسلے کی بات کر رہے ہیں تو اسی اصول پر بات کر لی۔ ٹھیک ہے نا؟ اسی اصول پہ بات کر لی۔ اگر چشتیت کے مطابق بات کرتے تو اسی اصول کے اوپر بات کرتے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی تحریروں میں موجود ہے، میرے پاس پڑا ہوا ہے۔ وہ جو ہے نا وہ ذکر جہری کا کہ یہاں ضرورت پڑتی ہے شدید ضربوں کے ساتھ جہری ذکر کا اب نقشبندی ہیں شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ۔ تو یہ اصل میں بات یہ ہے کہ یہ بنیادی بات ہے کہ ہم اصولی بات جب کریں گے تو اصول کو سمجھ کے کریں گے۔ اصولی باتیں اصول کو سمجھے بغیر نہیں کر سکتے۔
تو یہ جو میں نے اتنی تفصیل بیان کر لی اس لیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج کہہ دیں بھئی تم حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ کی بڑی باتیں کرتے ہو اور ادھر ذکر جہری بھی کراتے ہو۔ حضرت کی طرف سے مجھے پیغام ملا، جس وقت مکتوبات شریف کا سلسلہ ہمارا شروع ہوا۔ کچھ عرصہ یہ مکتوبات شریف کا سلسلہ چلتا رہا تو پیغام ملا کہ جب ہمارے مکتوبات کا درس ہو تو اس دن آپ جو "اللہ اللہ" کا ذکر ہے اس کا مراقبہ کر لیا کریں۔ یہ ذکر خفی کر لیا کریں۔ فرمایا باقی آپ جیسے بھی کریں باقی کر لیں، لیکن یہ جو "اللہ اللہ" کا ذکر ہے یہ ہمارے طریقے پہ کر لیں۔ سبحان اللہ، کیا بات ہے۔ باقی تینوں کو نہیں روکا کہ "لا الہ الا اللہ" کا ذکر جو ہم کرتے ہیں، یا "لا الہ الا ھو" کا ذکر جو ہم کرتے ہیں، یا "حق" کا ذکر، اس کو نہیں روکا۔ فرمایا وہ جیسے آپ کرتے ہیں کرتے رہیں، لیکن یہ جو ہے نا یہ... تو کبھی کبھی ہم بھول جاتے ہیں لیکن اکثر آپ لوگوں نے دیکھا ہے کہ ہم وہ مکتوبات شریف کے درس کے دن جو ہے نا مطلب اس کو مراقبہ کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ظاہر ہے حضرت کا حکم ہے، الحمدللہ حضرت اس سلسلے کے سرخیل ہیں۔ تو یہ باتیں جو ہیں اس وجہ سے میں نے تفصیل کے ساتھ کی تاکہ یہ کسی کو خیال نہ ہو کہ کیا باتیں کر رہے ہیں۔
جو ذکر جہری کی بات ہوئی ہے تو ذکر جہری جو ہے یہ علاجی ذکر ہے۔ یہ ثوابی ذکر نہیں ہے۔ اور ثواب کے طور پہ کوئی کرے گا تو پھر اس میں بات بن سکتی ہے کہ کہیں محدثات الباطل نہ ہو جائے۔ تو اس وجہ سے اس میں ثواب کی نیت نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں علماء کے دو آراء ہیں۔ کچھ حضرات فرماتے ہیں کہ اس میں ذکر کے ثواب کی نیت کی جا سکتی ہے لیکن جو ضرب و جہر ہے اس کی نہ کریں کیونکہ وہ ایک extra چیز ہے۔ تو اس کی ثواب کی نیت نہ کریں۔ اور کچھ حضرات کہتے ہیں کہ بالکل ہی نیت نہ کریں۔ یعنی ذکر جو ہے اس کو بھی علاجی ذکر سمجھ لیں اور اس میں بھی نہ کریں۔ تو ہم خود یہی کرتے ہیں، کہ باقاعدہ کبھی کبھی اعلان بھی کر لیتے ہیں کہ یہ ہمارے علاجی ذکر ہیں اس میں ہم ثواب کی نیت نہیں کرتے۔ تو پھر جب ثواب کی نیت نہیں ہوتی تو اس پر بدعت کا فتوی نہیں لگ سکتا۔ کیونکہ جب ثواب کسی چیز میں سمجھا جائے تو اس میں پھر گویا یہ ہے کہ اس کا ثابت کرنا پڑتا ہے شرعی طور پہ کہ آیا وہ ثابت ہے یا نہیں ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو تجرباتی طور پہ بات ہوگی۔ یعنی اگر ثواب کی نیت نہیں ہوگی تو محض ایک تجربے کی بات ہوگی۔ تو تجربے میں ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ جو چیز جس چیز کا فائدہ ہو۔ جیسے حبسِ دم ہے صوفیا میں یہ بھی موجود ہے بلکہ نقشبندی سلسلے میں کافی حبسِ دم سے کام لیا جاتا ہے۔ تو حبسِ دم جو ہے وہ تو جوگیوں سے لیا ہے۔ لیکن اس کو ہم استعمال کرتے ہیں۔ تو اس وجہ سے مطلب یہ ہے کہ یہ اگر ثواب کی نیت نہ کی جائے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
یہ بات اسی طرح ہمارے جو نقشبندی سلسلے کے جو مراقبات ہیں وہ بھی مقاصد میں نہیں ہیں، وہ بھی علاج ہیں۔ تو ان کو بھی علاج سمجھنا پڑتا ہے تب اس میں ہم محفوظ رہ سکتے ہیں۔ تو یہ مقاصد نہیں ہیں یہ کیا ہیں؟ ذرائع ہیں۔ ذکر بالجہر بھی ذریعہ ہے، ذکر سری بھی ذریعہ ہے، مراقبات بھی ذریعہ ہیں۔ تو ذرائع تجرباتی ہوتے ہیں۔ اس میں ثواب کی نیت نہیں کی جاتی، ہاں البتہ یہ ہے کہ اس میں علاج کی نیت کی جاتی ہے۔ تو اگر اس قسم کی بات ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے اس میں۔