جہاد کی فضیلت، مجاہدین کے درجات اور تحقیقِ حال

درس نمبر 198، سورۃ النساء: آیات: 94 تا 96- اشاعتِ اول: 13 جون، 2022، بمطابق 13 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* سلام کرنے والے کے ایمان پر بلا تحقیق شک کرنے کی ممانعت اور احتیاط کا حکم۔

* قادیانیوں کے ظاہری کلمہ پڑھنے کے پیچھے چھپے کفر کا بیان اور شرعی اصول۔

* بغیر عذر گھر بیٹھنے والوں اور اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے والوں کے درجات کا فرق۔

* جہادِ فرضِ عین اور فرضِ کفایہ کا فرق۔

* دفاعی اور اقدامی جہاد کا فرق (افغانستان اور کشمیر کی مثالیں)۔

* دین کے کسی بھی کام میں تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے اللہ کی غیبی مدد (حافظ صاحب کا ایمان افروز واقعہ)۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ



یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا ؕاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا (94) لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا ۙ (95) دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحیْمًا (96)


صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ ۝


اے ایمان والو! جب تم اللہ کے راستے میں سفر کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو، اور جو شخص تم کو سلام کرے تو دنیوی زندگی کا سامان حاصل کرنے کی خواہش میں اس کو یہ نہ کہو کہ ”تم مؤمن نہیں ہو“


اللہ (جل شانہ) کے راستے میں سفر کرنے سے مراد جہاد کے لئے سفر کرنا ہے۔ ایک واقعہ ایسا پیش آیا تھا کہ ایک جہاد کے دوران کچھ غیر مسلموں نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنے کے لئے صحابہ کرام کو سلام کیا۔ وہ صحابہ یہ سمجھے کہ ان لوگوں نے صرف اپنی جان بچانے کے لئے سلام کیا ہے، اور حقیقت میں وہ مسلمان نہیں ہوئے، چنانچہ انہوں نے ایسے لوگوں کو قتل کر دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں یہ اصول بیان کر دیا گیا کہ اگر کوئی شخص ہمارے سامنے اسلام لائے اور اسلام کے تمام ضروری عقائد کا اقرار کر لے تو ہم اسے مسلمان ہی سمجھیں گے، اور اس کے دل کا حال اللہ پر چھوڑیں گے۔ لیکن یہ سمجھ لینا چاہئے کہ آیت کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص کھلے کھلے کفریہ عقائد رکھتا ہو، تو صرف ”السلام علیکم“ کہہ دینے کی بنا پر اسے مسلمان سمجھا جائے گا۔


اصل میں ہر چیز کا شیطان کچھ اٹھاتا ہے فائدہ۔ تو اس آیت کا وہ یہ کر سکتا ہے کہ جیسے قادیانی ہیں۔ وہ ببانگِ دہل وہ کہتے ہیں نا ۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ۔ حالانکہ وہ قادیانی ہوتے ہیں۔ تو وہ اس سے پھر اپنی مراد لیتے ہیں کہ "محمد" نام اپنے ذہن میں رکھ لیتے ہیں غلام احمد قادیانی کا۔ تو پھر اس کے حساب سے۔ تو جن کو یہ چیز معلوم ہے اور جو اس چیز پہ specialist ہیں، تو وہ بتاتے ہیں کہ ان سے کہو کہ غلام احمد قادیانی پر لعنت کرو۔ تو جب تک وہ لعنت نہیں کرتے پھر اس کو مسلمان نہیں سمجھا جاتا۔ کیونکہ ظاہر ہے اس کے دل میں چور ہے۔ تو غلام احمد قادیانی پر لعنت کرنے سے وہ پھر وہ ہم سمجھیں گے کہ قادیانی نہیں ہے۔ تو اس طرح یہ وقت کے ساتھ ساتھ جو نئی نئی چیزیں آتی ہیں، اس کے لیے پھر فقہاء کرام، علماء کرام سوچ کر راستہ بتاتے ہیں۔ لیکن بات یہ ہے کہ عمومی طور پر قاعدہ یہی ہے کہ اگر کوئی ہمیں سلام کرے اور وہ اجنبی ہو، تو ہم اس کو کافر نہیں کہہ سکتے۔ اجنبی سے مراد یہ ہے کہ ہم جانتے نہیں کہ وہ کون ہے۔ لیکن جو ہمارے علاقے کا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ قادیانی ہے یا فلانا ہے یا فلانا ہے، تو ایسی صورت میں تو صرف "السلام علیکم" کہنے سے تو ہم اس کی بات نہیں مانیں گے نا، کہ مطلب وہ مسلمان ہے۔ ورنہ وہ تو دھوکہ دے گا پھر۔

کیونکہ اللہ کے پاس مالِ غنیمت کے بڑے ذخیرے ہیں۔ تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے۔ پھر اللہ نے تم پر فضل کیا۔

یعنی شروع میں تم بھی غیر مسلم ہی تھے، اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور تم مسلمان ہوئے، مگر تمہارے زبانی اقرار کے سوا تمہارے سچا مسلمان ہونے کی کوئی اور دلیل نہیں تھی، تمہارے ظاہری اقرار ہی کی بنا پر تمہیں مسلمان مانا گیا۔

یہ ایک بڑا زریں اصول اس میں بیان فرمایا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ خود اپنے بارے میں انسان سوچے، اور اس سے دوسرے پر بھی قیاس کرے۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ مثلاً بعض حضرات ہوتے ہیں، وہ عمر کے بڑے حصے میں، چالیس سال، پینتالیس سال میں اللہ پاک ان کو ہدایت دیتا ہے، مثلاً۔ نیک بن جاتے ہیں۔ یہ چالیس پینتالیس سال اس نے اور طرح گزارے ہوتے ہیں۔ تو پھر وہ باقی لوگوں سے بھی اسی قسم کا رویہ expect کرتے ہیں کہ یہ تو ایسا ہونا چاہیے۔ حالانکہ اس نے پینتالیس سال لگائے تھے، یعنی اتنا عرصہ گزارا تھا اس چیز تک پہنچنے میں۔ تو پھر آپ دوسرے کے لیے کیوں یہ نہیں سوچ سکتے کہ وہ بھی ابھی اس راستے میں ہے، ابھی اس کے اوپر ساری چیزیں کھلی نہیں ہیں، تو اس کے ساتھ سختی والی بات نہیں بلکہ نرمی اور ترغیب والی بات جاری رہنی چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ وہ تم سے بھی آگے نکل جائے۔ مطلب یہ والی بات ہے۔


لہٰذا تحقیق سے کام لو۔ بیشک جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ ﴿94﴾

جن مسلمانوں کو کوئی معذوری لاحق نہ ہو اور وہ (جہاد میں جانے کے بجائے گھر میں) بیٹھ رہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں۔ جو لوگ اپنے مال و جان سے جہاد کرتے ہیں ان کو اللہ نے بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے۔ اور اللہ نے سب سے اچھائی کا وعدہ کر رکھا ہے۔


یہ اس حالت کا ذکر ہے جب جہاد ہر شخص کے ذمے فرض عین نہ ہو۔ ایسے میں جو لوگ جہاد میں جانے کے بجائے گھر میں بیٹھ گئے، اگرچہ ان پر کوئی گناہ نہیں ہے اور ان کے ایمان اور دوسرے نیک کاموں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان سے جنت کا وعدہ کیا ہوا ہے، لیکن جو لوگ جہاد میں گئے ہیں ان کا درجہ گھر بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے۔ البتہ جہاں جہاد فرض عین ہو جائے، یعنی جب مسلمانوں کا امیر تمام مسلمانوں کو جہاد کا حکم دے دے یا جب کوئی دشمن مسلمانوں پر چڑھ آئے، تو پھر گھر بیٹھنا حرام ہے۔

یہ وہ نقطہ ہے قانون کا، جیسے افغانستان پہ چڑھائی ہوئی، یا کشمیر پہ چڑھائی ہوئی۔ تو ان کو تو time نہیں دیا گیا نا کہ وہ تیاری کریں۔ ان کے اوپر تو باہر سے لوگ چڑھ آئے۔ ایسی صورت میں وہ جہاد نہیں کریں گے تو کیا کریں گے؟ یہ بعض لوگ جو جہاد کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں: "نہیں نہیں" اس کے لیے تو بڑی تیاری کرنے کی ضرورت ہے اور پہلے ان کو کلمہ کی دعوت دینی چاہیے، پھر اس کے بعد جزیہ ہے، اور پھر اس کے بعد لڑائی ہے۔ خدا کے بندے وہ تو اس صورت میں ہے جب آپ اقدامی جہاد کر رہے ہوں۔ یہ تو اقدامی جہاد نہیں ہے، یہ تو دفاعی جہاد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی آپ کے اوپر چڑھ آیا، مثال کے طور پر، کوئی آپ کے گھر کے اوپر چڑھ آیا، آپ کو گھر سے نکالنے کے لیے یا مارنے کے لیے، اس وقت آپ کیا کریں گے؟ کیا اس کے ساتھ negotiate کریں گے؟ پتہ نہیں میں حیران ہوتا ہوں کہ یہ کیسے عجیب لوگ ہیں؟ کیسے عجیب سوچ رکھتے ہیں؟


جہاد جو ہے، یہ جس وقت دفاعی جہاد ہوتا ہے، تو سب کے اوپر لازم ہو جاتا ہے، اس وقت پھر گھر بیٹھنا حرام ہو جاتا ہے۔ ہاں ٹھیک ہے، امیر کو چاہیے کہ وہ ان کو طریقہ بتائے صحیح جہاد کا اور کنٹرول کرے،اور لوگ کنٹرول ہوتے ہیں۔ لوگ ظاہر ہے جذبۂ جہاد میں پھر لوگ کرتے ہیں۔ اقدامی جہاد میں تو ہو سکتا ہے کہ انسان ظلم و زیادتی کرے، لیکن دفاعی جہاد میں ظلم و زیادتی کا امکان نہیں ہوتا، کیونکہ وہ تو اپنے آپ کو صرف بچا رہا ہوتا ہے۔ تو ایسی صورت میں ان کو بتا دے کہ کمزوروں پہ وہ نہ کریں، اس طرح اصول وغیرہ بتا دے۔ لیکن یہ بات ہے کہ کرنا تو سب کو ہوگا، اٹھنا تو سب کو ہے۔


تو اللہ کا شکر ہے الحمد للہ افغانستان والوں نے اس پر عمل کیا، وہ بیٹھے نہیں۔ بیٹھے نہیں۔ نتیجتاً آج الحمد للہ وہ سرخرو ہیں۔ وہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو نا super power جو boundary پہ تھا اس کو بھی شکست دی، اور پھر بعد میں جو دوسرے اکٹھے ہو کے چڑھ آئے، ان سب کو شکست دی۔ تو یہ گویا کہ افغانستان والوں کی سرزمین پر یہ بات سب کے اوپر عیاں ہو گئی کہ ان کا وقتی طور پر دب جانا، یہ دب جانا نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ پھر مزید خطرناک options avail کر لیتے ہیں۔ اور پھر ان لوگوں کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں۔ اتنا اجیرن کر دیتے ہیں کہ وہ باہر نکلنے کے لیے پھر اجازت مانگتے ہیں کہ ہماری حفاظت کاانتظام کرو، ہمیں یہاں سے بھاگنا ہے۔ تو پھر یہ چیزیں ہوتی ہیں۔ تو اصل میں یہی بات ہے، انسان کو اپنے حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔

اب دیکھو اللہ پاک کیا فرما رہے ہیں:

جن مسلمانوں کو کوئی معذوری لاحق نہ ہو اور وہ (جہاد میں جانے کے بجائے گھر میں) بیٹھ رہیں وہ اللہ کے راستے میں اپنے مال و جان سے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں۔

اب جیسے پاکستان سے لوگ گئے تھے ان کی support کرنے کے لیے، تو وہ مجاہدین تھے۔ جو مجاہدین صحیح معنوں میں جو جہاد کر رہے تھے، جو مجاہدین تھے، تو یہاں بیٹھ جانے والے تو ان کے برابر نہیں پہنچ سکتے نا۔ وہاں کے لوگوں کے حالات الگ تھے، ان پہ تو چڑھ آئے تھے، ان پہ تو فرضِ عین ہو گیا تھا۔ لیکن جو یہاں کے تھے، جن پہ فرضِ عین تو نہیں ہوا تھا، لیکن فرضِ کفایہ تو بہرحال ہوتا ہے۔ تو اب وہ ہے کہ وہ جو یہاں سے گئے ہیں اور وہاں لڑے ہیں تو ان کے ظاہر ہے۔


مردان میں ایک صاحب تھے، حافظ صاحب ما شاء اللہ وہ جہاد پہ جاتے تھے۔ اللہ والے ہیں ما شاء اللہ۔ تو ان کے ساتھ ایک اپنے گاؤں کا عام آدمی بھی گیا تھا، یعنی جہاد کے جذبے کی وجہ سے۔ تو ظاہر ہے ان کی نہ اتنی training تھی، نہ وہ کیفیات تھیں۔ تو پھر اللہ پاک کا ہر ایک کے ساتھ اپنا اپنا معاملہ ہوتا ہے۔ تو یہ کسی محاصرے میں آ گئے۔ اب محاصرے میں آ گئے، تو محاصرے میں تو نکلنے ہی تو کھانے پینے کا تو مسئلہ ہی وہ تو ظاہر ہے وہ تو رستہ ہوگا تو آئے گا۔ تو ان کو سخت بھوک لگی۔ تو یہ تو خیر صبر والے کر رہے تھے، صبر کرتے ہیں، لیکن وہ ان سے صبر نہیں ہو رہا تھا۔ تو بار بار کہے حافظ صاحب کیا کریں؟ حافظ صاحب کہتے ہیں: صبر کریں۔ پھر بعد میں اخیر میں بہت جب تنگ ہو گئے تو حافظ صاحب نے کہا اچھا بھئی اس چٹان کے پیچھے جاؤ اور اگر کچھ مل جائے تو کھا لینا۔ تو وہ گئے تو وہاں پر وہ سینی جو ہوتی ہے نا، وہ پوری پلاؤ سے بھری ہوئی، جس سے بھاپ بھی نکل رہی تھی۔ وہ پڑی ہوئی تھی۔ تو خوشی خوشی لے آیا، تو دونوں نے کھا لیا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے بھیج دیا۔ تو یہ چیزیں تو ہوتی ہیں۔ جو بھی دینی کام کوئی کر رہا ہے، صرف جہاد نہیں، جو بھی دینی کام کر رہا ہے، چاہے وہ خانقاہ کا کام کر رہا ہے، چاہے وہ مدرسے کا کام کر رہا ہے، چاہے وہ تبلیغ کا کام کر رہا ہے، چاہے وہ جہاد کا کام کر رہا ہے، اگر کوئی مشکل پڑتی ہے اور اللہ پاک نے اس کو قبول کیا ہوتا ہے اس شخص کو، تو اس کے لیے پھر راستے نکالتے ہیں، وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا۔ جو اللہ پاک سے ڈرتا ہے اللہ پاک اس کے لیے راستہ نکال لیتے ہیں۔ تو یہ تقویٰ کی کیفیت سے جو بھی انسان دینی کام کر رہا ہو، کوئی بھی دینی کام کر رہا ہو، اس کے لیے اللہ پاک راستے نکالتے ہیں۔ تو یہی ان لوگوں کے نزدیک کرامت ہوتی ہے۔ تو ایسی چیزیں ہوتی رہتی ہیں۔ مطلب یہ صرف ان کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ ہر کام کے اندر اللہ پاک نے ایسے لوگوں کو چنا ہوتا ہے، اور ان کے لیے اللہ پاک نے راستے کھولے ہوتے ہیں۔

تو بہرحال یہ ہے کہ جو لوگ بھی جہاد پہ جاتے ہیں، تو وہ پیچھے رہنے والوں کے مقابلے میں اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں۔ ان کا درجہ بڑا ہوتا ہے۔ اور جو یہاں بیٹھ کر نہیں کرتے ان کا درجہ کم ہوتا ہے۔ اور جو ان کی مخالفت کرتے ہیں ان کا کیا درجہ ہوگا؟ ظاہر ہے مطلب انسان کو سوچنا چاہیے۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔

اور اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر بڑی فضیلت دے کر بڑا ثواب بخشا ہے۔ یعنی خاص اپنے پاس سے بڑے درجے اور مغفرت اور رحمت۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔



سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ.

اللّٰہ اکبر



وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ



جہاد کی فضیلت، مجاہدین کے درجات اور تحقیقِ حال - درسِ قرآن - دوسرا دور