حصہ دوم: اضافی تشریح و افادات
احادیثِ مبارکہ اور اکابرین کے واقعات کی روشنی میں قربِ الٰہی اور بلندیِ درجات کے حصول کے دو بنیادی راستے واضح ہوتے ہیں: اختیاری مجاہدات اور اضطراری مجاہدات۔
حصولِ درجات کے لیے اختیاری اعمال کی اہمیت
محض تمنا کے بجائے عملی جدوجہد درجات کی بلندی کے لیے بنیادی شرط ہے۔ اصحابِ صفہ میں سے رسول اللہ ﷺ کے خادم حضرت ابو فراس (ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ) کا واقعہ اس کی واضح دلیل ہے۔ جب آپ ﷺ نے خوش ہو کر ان سے فرمایا کہ "مجھ سے کچھ مانگو"، تو انہوں نے دنیاوی مال کے بجائے عرض کیا کہ "میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں"۔ آپ ﷺ کے دوبارہ دریافت فرمانے پر بھی انہوں نے اسی خواہش کا اظہار کیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: "پھر کثرتِ سجود (زیادہ سے زیادہ نفل نمازوں) کے ذریعے اپنے نفس پر قابو پا کر اس مقصد کے لیے میری مدد کرو"۔ اس واقعے سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت اور رفاقت کے حصول کے لیے انسان کے اپنے اختیاری اعمال اور کثرتِ عبادت ناگزیر ہیں۔
دعا کے ساتھ ذاتی محنت اور مشائخ کا مسنون طرزِ عمل
الحمدللہ، ہمارے سلسلہ میں بھی تربیت کے لیے بالکل اسی سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی کی جاتی ہے۔ جب لوگ ہم سے دعا کی درخواست کرتے ہیں، تو ہم ان کے لیے دعا ضرور کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں خود مانگنے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرنے کے لیے مطلوبہ عملی محنت کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، انہیں تہجد کے وقت بارگاہِ الٰہی میں دعا مانگنے یا ان گناہوں کو ترک کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے جو قبولیتِ دعا میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
عموماً جب لوگوں کو اس ذاتی محنت کا کہا جاتا ہے، تو وہ ناسمجھی کے عالم میں خالی نظروں سے دیکھتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ انہیں محض ٹال دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ عین وہی مسنون طریقہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت کے لیے اختیار فرمایا تھا۔
اس حوالے سے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک بصیرت افروز ملفوظ ہے۔ آپؒ فرماتے ہیں کہ لوگ ہم سے دین کے معاملے میں 'بیگار' لینا چاہتے ہیں، یعنی ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خود کوئی عملی مشقت نہ اٹھائیں اور سارا کام (دعا اور مجاہدہ) ان کی جگہ ہم ہی کر دیں۔ حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں کہ 'الحمدللہ! مجھے ان کی اس بیگار سے بچنا آتا ہے'۔ چنانچہ مشائخ انہیں ایسا جواب دیتے ہیں اور ایسے اعمال تجویز کرتے ہیں جن سے وہ خود اپنی اصلاح کے لیے عملی جدوجہد کرنے پر مجبور ہوں۔
دنیاوی اسباب کے مقابلے میں ذکر اللہ کی فضیلت
رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تسبیحِ فاطمی (33 بار سبحان اللہ، 33 بار الحمد للہ، اور 34 بار اللہ اکبر) کی تعلیم اس وقت دی جب وہ چکی پیسنے اور پانی بھرنے کی وجہ سے ہاتھوں میں چھالے پڑنے اور تھکن کی شکایت لے کر خادم مانگنے حاضر ہوئیں۔ آپ ﷺ نے خادم کے بجائے رات سوتے وقت یہ تسبیح پڑھنے کی تلقین فرمائی اور اسے خادم سے بہتر قرار دیا۔ یعنی ان کے اختیاری اعمال اور مشقتوں میں کمی نہیں فرمائی۔
محبتِ رسول ﷺ اور آزمائشوں کا تعلق
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ (یا بعض روایات کے مطابق حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر تین مرتبہ قسم کھا کر عرض کیا: "یا رسول اللہ! اللہ کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں"۔ آپ ﷺ نے اسے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: "اگر تم مجھ سے محبت میں سچے ہو تو فقر و فاقہ اور آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈھال تیار کر لو، کیونکہ جو شخص مجھ سے محبت کرتا ہے، اس کی طرف فقر و مصائب پہاڑ کی چوٹی سے نیچے بہنے والے سیلاب سے بھی زیادہ تیزی سے آتے ہیں"۔
درجات کے حصول کے دو راستے: اختیاری اور اضطراری مجاہدات
مذکورہ بالا احادیث (حضرت ربیعہ بن کعب اور حضرت عبداللہ بن مغفل کی روایات) کو سامنے رکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا قرب پانے کے دو راستے ہیں:
1۔ اختیاری اعمال و مجاہدات: انسان اپنی مرضی اور اختیار سے اللہ کی رضا کے لیے محنت کرے۔ فرائض کے ساتھ ساتھ نفل نمازیں، روزے، ذکر، تسبیحات اور صدقات جیسے نیک اعمال کی کثرت کرے۔ یہ درجات کے حصول کا نسبتاً آسان راستہ ہے۔
2۔ اضطراری مجاہدات: اگر کوئی شخص دل میں بلند درجات اور اچھے لوگوں کی معیت کی سچی تمنا رکھتا ہو، لیکن سستی یا غفلت کے باعث اختیاری اعمال اور مجاہدے نہ کر سکے، تو اللہ تعالیٰ اسے اضطراری (بغیر اختیار کے آنے والی) آزمائشوں میں مبتلا فرما دیتے ہیں۔ یہ آزمائشیں بیماری، فقر و فاقہ، یا دنیاوی نقصانات کی صورت میں آتی ہیں۔ ان مصائب پر صبر کرنے کے نتیجے میں بندے کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور وہ مطلوبہ درجات تک پہنچ جاتا ہے۔
اضطراری مجاہدے کی عملی مثال: مولانا عبدالحق نافعؒ کا واقعہ
ان دونوں راستوں کی عملی تفہیم قریب کے دور کے بزرگوں کے ایک واقعے سے ہوتی ہے۔ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے قیام میں تین اکابرین کی محنت شامل تھی جو تینوں پشتو بولنے والے تھے: مولانا یوسف بنوریؒ، مولانا لطف اللہ پشاوریؒ (قاضی حسین احمد کے سسر) اور مولانا عبدالحق نافعؒ۔
مولانا عبدالحق نافعؒ بہت بڑے عالمِ دین تھے، ان کے بھائی مولانا عزیر گلؒ حضرت شیخ الہندؒ کے مرید اور صوفی تھے۔ مولانا عبدالحقؒ مشائخ سے گہری محبت رکھتے تھے لیکن انہوں نے باقاعدہ تصوف یا بیعت کا سلسلہ (یعنی اختیاری مجاہدات کا راستہ) اختیار نہیں کیا تھا۔ آخری عمر میں انہیں جگر کا کینسر لاحق ہو گیا جس کی تکلیف انتہائی شدید تھی۔ اس دور میں ان کی عیادت کے لیے حضرت مولانا یوسف بنوریؒ تشریف لائے اور فرمایا: "ہم تو میاں صاحب (مولانا نافع) سے بار بار کہتے تھے کہ اس (تصوف کے) راستے پر آ جاؤ، یہ آسان طریقہ ہے۔ لیکن ہماری بات ان کو سمجھ نہیں آئی۔ چونکہ اللہ پاک نے ان کے لیے ایک بلند مقام مقدر فرما دیا تھا، اب اللہ تعالیٰ وہ مقام عطا فرما رہا ہے اور اس کے حصول کے لیے اس بیماری کو ذریعہ بنایا ہے۔"
روحانی نسبت کی منتقلی اور جسمانی اثرات: مولانا اشرف سلیمانیؒ کا واقعہ
روحانی منازل طے کرنا جسمانی اعتبار سے سخت اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس کی مثال حضرت مولانا محمد اشرف سلیمانیؒ کا واقعہ ہے۔ جب انہیں حضرت مولانا یوسف بنوریؒ کے فوت ہونے بعد نسبت منتقل کی ہو رہی تھی، تو ان کی حالت اس قدر تشویشناک ہو گئی کہ انہیں دل کے دورے پڑنے لگے۔ اکابرین کے مطابق، نسبت جتنی قوی ہوتی ہے، جسم پر اس کے اثرات اتنے ہی شدید ہوتے ہیں۔ اس کیفیت کو دیکھ کر تبلیغی جماعت کے ایک بزرگ نور الٰہی صاحب نے تبصرہ کیا تھا کہ: "مولانا صاحب کو نسبت کیا منتقل ہوئی، ہمارا تو کچومر نکال دیا"۔