جنگ اور صلح میں اسلامی ریاست کا نظام: منافقین اور کفار کے مختلف گروہوں کے احکام

درس نمبر 196، سورۃ النساء: آیات: 90 تا 91- اشاعتِ اول: 11 جون، 2022، بمطابق 11 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• صلح کا معاہدہ کرنے والی اقوام اور جنگ سے بیزار گروہوں کے ساتھ مسلمانوں کا طرزِ عمل۔

• امن کی پیشکش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی ممانعت۔

• منافقین کی چوتھی قسم: جو بظاہر امن چاہتے ہیں مگر موقع ملنے پر مسلمانوں کے خلاف فتنہ و سازش میں شریک ہو جاتے ہیں۔

• دھوکہ باز منافقین کے خلاف اسلامی ریاست کا اختیار اور کارروائی کا حق۔

• مملکت چلانے کے لیے قرآنی نظم اور دشمنوں کے مختلف گروہوں سے نمٹنے کی حکمت عملی۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا(90) سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَاۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْؕ وَ اُولٰٓىٕكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا (91)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔


ہاں وہ لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جن کے اور تمہارے درمیان کوئی (صلح کا) معاہدہ ہے، یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس طرح آئیں کہ ان کے دل تمہارے خلاف جنگ کرنے سے بھی بیزار ہوں، اور اپنی قوم کے خلاف جنگ کرنے سے بھی ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا، تو وہ تم سے ضرور جنگ کرتے۔ چنانچہ اگر وہ تم سے کنارہ کشی کرتے ہوئے تم سے جنگ نہ کریں، اور تم کو امن کی پیشکش کر دیں تو اللہ نے تم کو ان کے خلاف کسی کارروائی کا کوئی حق نہیں دیا ﴿90﴾ (منافقین میں) کچھ دوسرے لوگ تمہیں ایسے ملیں گے جو یہ چاہتے ہیں کہ وہ تم سے بھی محفوظ رہیں اور اپنی قوم سے بھی۔ (مگر) جب کبھی ان کو فتنے کی طرف واپس بلایا جائے، وہ اس میں اوندھے منہ جا گرتے ہیں۔

چنانچہ اگر یہ لوگ تم سے (جنگ کرنے سے) علیحدگی اختیار نہ کریں، اور نہ تمہیں امن کی پیشکش کریں، اور نہ اپنے ہاتھ روکیں، تو ان کو بھی پکڑو، اور جہاں کہیں انہیں پاؤ، انہیں قتل کرو۔ ایسے لوگوں کے خلاف اللہ نے تم کو کھلا کھلا اختیار دے دیا ہے ﴿91﴾


کل ایسے لوگوں کے بارے میں بات ہوئی تھی جو کہ ایسی حالت میں ملتے ہیں مسلمانوں کے ساتھ کہ وہ اپنی قوم کے خلاف بھی جنگ سے بیزار ہیں اور مسلمانوں کے خلاف بھی۔ تو ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ ان کے ساتھ جنگ نہیں کرنی چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ ظاہر ہے جب تک مسلمانوں کے خلاف کوئی ریشہ دوانی نہ کی جائے تو پھر ظاہر ہے ان کے اوپر کوئی سختی نہیں کی جاتی۔


اور فرمایا اللہ جل شانہ نے اس کی حکمت کہ اگر اللہ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا، ان کو اتنی طاقت دے دیتا کہ وہ تم پر مسلط ہو کر تم سے جنگ کرتے۔ تو اگر وہ تم سے کنارہ کشی کرتے ہیں اور جنگ نہیں کرتے اور امن کی پیشکش کرتے ہیں تو ان کے ساتھ جنگ والی بات نہیں کرنی چاہیے، کسی قسم کی کارروائی کا حق مسلمانوں کو ان کے خلاف نہیں ہے۔


البتہ منافقین کی ایک اور قسم ہے، وہ لوگ ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی محفوظ رہیں اور اپنی قوم سے بھی، یعنی ویسے عام حالت میں۔ لیکن اگر ان کو کسی وقت فتنے کی طرف بلایا جائے، یعنی کوئی ان کو اکسائے کہ آپ مسلمانوں کے خلاف کوئی کارروائی کریں، اور پھر وہ اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ فوراً اس کے لیے تیار ہو جاتے ہیں تو پھر ایسے لوگوں کا حکم الگ ہے۔


اور وہ یہ ہے کہ اب اللہ جل شانہ نے کھلم کھلا مسلمانوں کو ان کے خلاف اختیار دے دیا کہ ان کے خلاف پوری کارروائی کریں، ان کو بھی پکڑیں، اور، جو ان کے ساتھ کرنا چاہیں تو ان کے ساتھ کریں۔ مطلب یہ ہے کہ:

یہ منافقین کی چوتھی قسم ہے۔ جو جنگ سے بیزار ہونے کے معاملے میں بھی منافقت سے کام لیتے تھے۔ تو ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ ہم مسلمانوں سے جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ جھوٹا اعلان صرف اس وقت تک کے لیے ہوتا تھا کہ مسلمان انہیں قتل نہ کریں۔ جبکہ کفار کے ساتھ چونکہ دل میں ملے ہوتے ہیں، لہٰذا اگر کسی سازش میں ان کو شریک کرنا چاہیں تو مسلمانوں کے خلاف وہ سازش میں شریک ہو جاتے۔

تو ایسے لوگوں کا، اگر پتا چلے تو پھر ان کے خلاف پوری کارروائی کرنے کا مسلمانوں کو حق ہے۔

یہ گویا کہ چار قسمیں یہاں پر بتائی گئیں۔ تو یہ اصل میں پورا ایک نظم ہے پوری مملکت کو چلانے کا کہ اگر مخالفین ہیں کھلم کھلا، ان کے ساتھ کیا معاملہ رکھا جائے؟ اور جو مخالفین کھلم کھلا نہیں ہیں، منافق ہیں، تو ان کے ساتھ کیا معاملہ رکھا جائے؟ ان کو چار گروہوں میں تقسیم کر کے ہر ایک کے بارے میں پوری بات فرما دی کہ کیا کرنا چاہیے۔ اللہ جل شانہ ہمیں کفار اور منافقین کی ہر قسم کے شر سے محفوظ فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔


حصہ دوم:ا ضافی تشریح و افادات

عصرِ حاضر کے موقع پرست منافقین اور ان کا طرزِ عمل

قرآنِ مجید نے منافقین کی جس موقع پرست اور مفاد پرست قسم کا ذکر کیا ہے، وہ کسی ایک دور تک محدود نہیں بلکہ آج کے اس جدید دور میں بھی ایسے عناصر ہر معاشرے میں موجود ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو عام حالات میں خود کو محفوظ رکھنے کے لیے بظاہر غیر جانبدار نظر آتے ہیں اور قومی دھارے میں شامل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ تاہم، ان کی وفاداریاں مشکوک ہوتی ہیں۔ جب بھی انہیں کوئی ایسا موقع ملتا ہے جہاں وہ ملک و ملت کو نقصان پہنچا سکیں، تو وہ بلاتامل دشمنوں کے آلہ کار بن جاتے ہیں اور قومی سلامتی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے دریغ نہیں کرتے۔

تاریخِ اسلام میں غداری اور منافقت کی سیاہ مثالیں

تاریخِ اسلام ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں منافقین اور بدعہد لوگوں نے نازک ترین مواقع پر اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ اس کی چند نمایاں مثالیں درج ذیل ہیں:

یہودِ مدینہ اور غزوۂ احزاب میں بنو قریظہ کی غداری:

مدینہ منورہ میں آباد یہودیوں نے ابتدا میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ امن اور باہمی دفاع کے معاہدے (میثاقِ مدینہ) کیے تھے۔ لیکن ان کی فطرتی منافقت اور اسلام دشمنی جلد ہی کھل کر سامنے آ گئی۔ غزوۂ خندق (احزاب) کے موقع پر، جب کفارِ مکہ کے ایک بہت بڑے لشکر نے مدینہ کا محاصرہ کر رکھا تھا اور مسلمان انتہائی کٹھن آزمائش سے گزر رہے تھے، عین اس نازک وقت میں بنو قریظہ نے مسلمانوں سے کیا گیا اپنا معاہدہ توڑ دیا اور دشمن کی فوج سے جا ملے۔ ان کا ارادہ مسلمانوں پر پیچھے سے حملہ آور ہو کر انہیں مکمل طور پر ختم کرنے کا تھا۔ تاہم، اللہ کی نصرت سے جب مسلمان اس جنگ سے سرخرو ہو کر لوٹے، تو جنگِ خندق کے فوراً بعد اس سنگین غداری کی پاداش میں بنو قریظہ کا محاصرہ کیا گیا اور ان کے جنگجو مردوں کو ان کی اپنی کتاب کے قانون کے مطابق عبرتناک سزا دی گئی۔

رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی پیٹھ پیچھے وار کرنے کی سازش:

غزوۂ احد (3 ہجری) کے موقع پر منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی نے بھی مسلمانوں کے ساتھ بدترین دھوکہ کیا۔ جب اسلامی لشکر میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہوا، تو عین اس وقت جب کفر و اسلام کا معرکہ برپا ہونے والا تھا، اس نے اپنے 300 ساتھیوں (جن میں پیدل اور سوار جنگجو شامل تھے) کو لیا اور لشکرِ اسلام کے ایک تہائی حصے کو اپنے ساتھ لے کر مدینہ واپس لوٹ گیا۔ اس سازش کا مقصد مسلمانوں کے حوصلے پست کرنا اور انہیں نفسیاتی طور پر شکست دینا تھا۔

منافقین کے حوالے سے اسلامی شریعت کا محتاط اور منصفانہ اصول

منافقین کے معاملے میں ایک بہت بڑا سوال اور مشکل یہ پیدا ہوتی ہے کہ ان کی پہچان اور ان کے ساتھ شرعی سلوک کیسے طے کیا جائے؟

اسلامی تعلیمات اور فقہی اصول اس حوالے سے انتہائی محتاط اور منصفانہ رویہ اختیار کرتے ہیں۔ شریعت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان کے باطن کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر چھوڑا جاتا ہے، جبکہ دنیاوی معاملات انسان کے ظاہر کو دیکھ کر طے کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی شخص کے دلی کفر اور نفاق کا کوئی باقاعدہ، ٹھوس اور ظاہر ثبوت موجود نہ ہو، تو محض شک کی بنیاد پر اسے کافر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جب تک کوئی شخص بظاہر کلمہ پڑھتا ہے، شعائرِ اسلام کا احترام کرتا ہے اور اسلامی عبادات (جیسے نماز وغیرہ) میں شریک ہوتا ہے، تو اسلامی معاشرہ اور ریاست اسے ایک مسلمان ہی تصور کرے گی۔ اسے مسلمانوں والے تمام حقوق حاصل ہوں گے، یعنی اسلامی قانونِ وراثت کا اطلاق، مسلمانوں کے ساتھ نکاح کا رشتہ، اور مرنے کے بعد اس کی نمازِ جنازہ مسلمانوں کی طرح ہی ادا کی جائے گی۔

نفاق بے نقاب ہونے پر شرعی احکامات اور ریاستی کارروائی

تاہم، اسلام کا یہ رواداری کا اصول اسی وقت تک ہے جب تک منافقت پردے میں ہو۔ اگر کسی منافق کا کفر، غداری یا اسلام دشمنی کسی قول، فعل یا سازش سے کھل کر ظاہر ہو جائے اور ثابت ہو جائے، تو اس پر مسلمانوں والے تمام دنیاوی اور شرعی احکامات فوری طور پر ختم ہو جاتے ہیں اور وہ دائرہ اسلام سے خارج (مرتد) شمار ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں شریعت کا حکم انتہائی واضح ہے:

مسلمانوں کے لیے ایسے شخص کے ساتھ دلی دوستی، قلبی لگاؤ اور نکاح کا رشتہ برقرار رکھنا ہرگز جائز نہیں رہتا۔

موت کے بعد نہ تو اس کی نمازِ جنازہ ادا کی جاتی ہے اور نہ ہی اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔

زندگی میں اگر اس کی غداری اور ریاست مخالف سرگرمیاں ثابت ہو جائیں، تو اسلامی قانون کے تحت اس کا معاملہ عدالتِ وقت کے سپرد کیا جاتا ہے۔ قاضی (جج) ثبوتوں اور شواہد کی روشنی میں غداری کے جرم کا جائزہ لیتا ہے اور جرم ثابت ہونے پر اسے اسلامی قانون کے تحت قرار واقعی شرعی سزا دی جاتی ہے تاکہ ریاست کو اندرونی فتنوں سے پاک رکھا جا سکے۔

جنگ اور صلح میں اسلامی ریاست کا نظام: منافقین اور کفار کے مختلف گروہوں کے احکام - درسِ قرآن - دوسرا دور