الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا(90) سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَاۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْؕ وَ اُولٰٓىٕكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا (91)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ہاں وہ لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جن کے اور تمہارے درمیان کوئی (صلح کا) معاہدہ ہے، یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس طرح آئیں کہ ان کے دل تمہارے خلاف جنگ کرنے سے بھی بیزار ہوں، اور اپنی قوم کے خلاف جنگ کرنے سے بھی ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا، تو وہ تم سے ضرور جنگ کرتے۔ چنانچہ اگر وہ تم سے کنارہ کشی کرتے ہوئے تم سے جنگ نہ کریں، اور تم کو امن کی پیشکش کر دیں تو اللہ نے تم کو ان کے خلاف کسی کارروائی کا کوئی حق نہیں دیا ﴿90﴾ (منافقین میں) کچھ دوسرے لوگ تمہیں ایسے ملیں گے جو یہ چاہتے ہیں کہ وہ تم سے بھی محفوظ رہیں اور اپنی قوم سے بھی۔ (مگر) جب کبھی ان کو فتنے کی طرف واپس بلایا جائے، وہ اس میں اوندھے منہ جا گرتے ہیں۔
چنانچہ اگر یہ لوگ تم سے (جنگ کرنے سے) علیحدگی اختیار نہ کریں، اور نہ تمہیں امن کی پیشکش کریں، اور نہ اپنے ہاتھ روکیں، تو ان کو بھی پکڑو، اور جہاں کہیں انہیں پاؤ، انہیں قتل کرو۔ ایسے لوگوں کے خلاف اللہ نے تم کو کھلا کھلا اختیار دے دیا ہے ﴿91﴾
کل ایسے لوگوں کے بارے میں بات ہوئی تھی جو کہ ایسی حالت میں ملتے ہیں مسلمانوں کے ساتھ کہ وہ اپنی قوم کے خلاف بھی جنگ سے بیزار ہیں اور مسلمانوں کے خلاف بھی۔ تو ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ ان کے ساتھ جنگ نہیں کرنی چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ ظاہر ہے جب تک مسلمانوں کے خلاف کوئی ریشہ دوانی نہ کی جائے تو پھر ظاہر ہے ان کے اوپر کوئی سختی نہیں کی جاتی۔
اور فرمایا اللہ جل شانہ نے اس کی حکمت کہ اگر اللہ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا، ان کو اتنی طاقت دے دیتا کہ وہ تم پر مسلط ہو کر تم سے جنگ کرتے۔ تو اگر وہ تم سے کنارہ کشی کرتے ہیں اور جنگ نہیں کرتے اور امن کی پیشکش کرتے ہیں تو ان کے ساتھ جنگ والی بات نہیں کرنی چاہیے، کسی قسم کی کارروائی کا حق مسلمانوں کو ان کے خلاف نہیں ہے۔
البتہ منافقین کی ایک اور قسم ہے، وہ لوگ ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی محفوظ رہیں اور اپنی قوم سے بھی، یعنی ویسے عام حالت میں۔ لیکن اگر ان کو کسی وقت فتنے کی طرف بلایا جائے، یعنی کوئی ان کو اکسائے کہ آپ مسلمانوں کے خلاف کوئی کارروائی کریں، اور پھر وہ اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ فوراً اس کے لیے تیار ہو جاتے ہیں تو پھر ایسے لوگوں کا حکم الگ ہے۔
اور وہ یہ ہے کہ اب اللہ جل شانہ نے کھلم کھلا مسلمانوں کو ان کے خلاف اختیار دے دیا کہ ان کے خلاف پوری کارروائی کریں، ان کو بھی پکڑیں، اور، جو ان کے ساتھ کرنا چاہیں تو ان کے ساتھ کریں۔ مطلب یہ ہے کہ:
یہ منافقین کی چوتھی قسم ہے۔ جو جنگ سے بیزار ہونے کے معاملے میں بھی منافقت سے کام لیتے تھے۔ تو ظاہر تو یہ کرتے تھے کہ ہم مسلمانوں سے جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ جھوٹا اعلان صرف اس وقت تک کے لیے ہوتا تھا کہ مسلمان انہیں قتل نہ کریں۔ جبکہ کفار کے ساتھ چونکہ دل میں ملے ہوتے ہیں، لہٰذا اگر کسی سازش میں ان کو شریک کرنا چاہیں تو مسلمانوں کے خلاف وہ سازش میں شریک ہو جاتے۔
تو ایسے لوگوں کا، اگر پتا چلے تو پھر ان کے خلاف پوری کارروائی کرنے کا مسلمانوں کو حق ہے۔
یہ گویا کہ چار قسمیں یہاں پر بتائی گئیں۔ تو یہ اصل میں پورا ایک نظم ہے پوری مملکت کو چلانے کا کہ اگر مخالفین ہیں کھلم کھلا، ان کے ساتھ کیا معاملہ رکھا جائے؟ اور جو مخالفین کھلم کھلا نہیں ہیں، منافق ہیں، تو ان کے ساتھ کیا معاملہ رکھا جائے؟ ان کو چار گروہوں میں تقسیم کر کے ہر ایک کے بارے میں پوری بات فرما دی کہ کیا کرنا چاہیے۔ اللہ جل شانہ ہمیں کفار اور منافقین کی ہر قسم کے شر سے محفوظ فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔