الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْاؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا(88) وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ (89) اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا (90)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے شخص کو ہدایت پر لاؤ جسے اللہ (اس کی خواہش کے مطابق) گمراہی میں مبتلا کر چکا؟ اور جسے اللہ گمراہی میں مبتلا کر دے، اس کے لئے تم ہرگز کبھی کوئی بھلائی کا راستہ نہیں پا سکتے ﴿88﴾ یہ لوگ چاہتے یہ ہیں کہ جس طرح انہوں نے کفر کو اپنا لیا ہے، اسی طرح تم بھی کافر بن کر سب برابر ہو جاؤ۔ لہذا (اے مسلمانو!) تم ان میں سے کسی کو اس وقت تک دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کے راستے میں ہجرت نہ کر لے۔ چنانچہ اگر وہ (ہجرت سے) اعراض کریں تو ان کو پکڑو، اور جہاں بھی انہیں پاؤ، انہیں قتل کر دو، اور ان میں سے کسی کو نہ اپنا دوست بناؤ، نہ مددگار۔ ﴿89﴾
ہاں وہ لوگ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جن کے اور تمہارے درمیان کوئی (صلح کا) معاہدہ ہے، یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس طرح آئیں کہ ان کے دل تمہارے خلاف جنگ کرنے سے بھی بیزار ہوں، اور اپنی قوم کے خلاف جنگ کرنے سے بھی۔
اول تو یہ یہاں پر جو بات فرمائی گئی ہے ایک بریکٹ کے اندر ترجمے کے ساتھ: ”اس کی خواہش کے مطابق“۔ یہ اصل میں ایک عقیدہ ہمارا ہے جس کے مطابق یہ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ انسان جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ارادے کی تکمیل کر دیتا ہے۔ تو کام اللہ پاک کرتا ہے، لیکن اس کے ارادے کی بنیاد پر وہ اس کے کھاتے میں جاتا ہے، کیونکہ کام وہ خود کر نہیں سکتا۔
تو یہاں پر فرمایا کہ
"کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ایسے شخص کو ہدایت پر لاؤ جسے اللہ" تو قرآن کا ڈائریکٹ ترجمہ تو ایسا ہوتا ہے: ”جسے اللہ گمراہی میں مبتلا کر چکا“۔ تو ظاہر ہے عقیدے پہ بات آتی۔ تو ساتھ یہ فرمایا: ”اس کی خواہش کے مطابق“، یعنی اس نے چاہا تو اللہ پاک نے پھر ویسا ہی کر دیا۔ ایک تو یہ بات ہے۔
دوسری جو بات ہے اس میں جو ابھی ارشاد فرمایا:
پچھلی آیت میں ایسے منافقین سے جنگ کرنے اور انہیں قتل کرنے کا حکم دیا گیا تھا جن کا کفر ظاہر ہو چکا ہو، البتہ اس حکم سے دو قسم کے لوگ مستثنیٰ کئے گئے ہیں،
اس آیت میں۔
ایک وہ لوگ جو کسی ایسی غیر مسلم قوم کے ساتھ جا ملے ہوں جن سے مسلمانوں نے جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کر رکھا ہو،
لہٰذا وہ بھی اس میں آ جائیں گے۔
اور دوسرے وہ لوگ جو جنگ سے بالکل بیزار ہوں، نہ مسلمانوں سے لڑنا چاہتے ہوں، نہ اپنی قوم سے،
ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اس میں نہیں ڈالنا چاہتے اپنے آپ کو۔
اور چونکہ ان کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ اگر وہ مسلمانوں سے نہیں لڑیں گے تو خود ان کی قوم ان سے لڑے گی، اس لئے وہ مسلمانوں کے پاس آ جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں بھی مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں۔ یہاں تک منافقین کی تین قسمیں ہو گئیں۔
مطلب یعنی ایک تو ان سے وہ لوگ جو کہ، جن کا کفر ظاہر ہو چکا ہے تو ان کے ساتھ مقاتلہ ہے۔
دوسرے وہ جو کسی ایسی قوم سے جا ملے ہیں جن کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے تو اب وہ بھی آ جائیں گے اس میں۔ لہٰذا ان کو قتل نہیں کرنا۔ (یہ دومستثنیات ہیں) اور تیسرے وہ لوگ ہیں جو کہ آپ سے بھی لڑنا نہیں چاہتے اور اپنی قوم سے بھی لڑنا نہیں چاہتے، اور اپنی قوم سے بچنے کے لیے آپ کے پاس آ جاتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں آپ ان کے ساتھ نہ لڑیں۔ تو یہ تین قسمیں ہو گئیں۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو جو ہے نا وہ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اور جیسا کہ کرنا ہے، یعنی اللہ پاک کے نزدیک اسی طریقے سے ہمیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔