مکتوباتِ مجدد الف ثانیؒ کی روشنی میں ولایت، کشف اور کرامات کی حقیقت

دفتر اول:

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  1. ولایت، مقامِ فنا اور مقامِ بقا کا مفہوم
    1. طریقت میں خوارق اور کشفیات کی حیثیت (بطورِ توابع یا سائیڈ ایفیکٹس)
      1. مقامِ عروج و نزول اور عالمِ اسباب کی حقیقت
        1. کشف میں غلطی کے امکانات اور وحی کی کامِل حفاظت
          1. تصوف کا اصل مقصود: عقائد کی پختگی، عمل میں آسانی اور اصلاحِ نفس
            1. محض خیالی و فلسفیانہ تصوف کی گمراہیاں اور تکمیلِ سلوک کا صحیح راستہ

              اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

              وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ

              أَمَّا بَعْدُ!

              فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ

              بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

              آج مکتوبات شریف جو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے ہیں، ان سے جو تعلیمات اخذ کی گئی ہیں ان کی تعلیم ہے۔ یہ انتہائی بابرکت تعلیم ہے اور اللہ جل شانہ نے امت مسلمہ کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے جو حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے قلب مبارک پر معارف القاء فرمائے ہیں، تو اگر ہم لوگ ان کو حاصل کر لیں گے تو ہمیں مفت میں بہت ساری چیزوں میں آسانی حاصل ہوگی۔

              دفتر اول مکتوب نمبر 216

              میں حضرت ارشاد فرماتے ہیں:

              ولایت سے مراد فنا و بقا ہے اور خوارق و کشفیات خواہ کم ہوں یا زیادہ، اس (فنا و بقا) کے لوازم میں سے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ جس سے خوارق زیادہ ظاہر ہوں اس کی ولایت بھی اتم و اکمل ہو بلکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ (کسی بزرگ سے) خوارق بہت کم ظاہر ہوتے ہیں اور اس کی ولایت اکمل ہوتی ہے۔ اور خوارق کے بکثرت ظاہر ہونے کا مدار دو چیزوں پر ہے؛ عروج کے وقت میں بہت زیادہ عروج کرنا اور نزول کے وقت میں بہت کم نیچے اترنا۔ بلکہ کثرتِ خوارق کے ظہور میں کُلیہ قاعدہ قلت نزول یعنی بہت کم نزول کرنا ہے، خواہ وہ عروج کی جانب کسی بھی کیفیت سے ہو کیونکہ صاحبِ نزول عالم اسباب میں اترتا ہے اور اشیاء کے وجود کو اسباب سے وابستہ پاتا ہے اور مسبب الاسباب کے فعل کو اسباب کے پردے کے پیچھے دیکھتا ہے۔ جس شخص نے نزول نہیں کیا اور نزول کے اسباب تک نہیں پہنچا اس کی نظر صرف مسبب الاسباب کے فعل پر ہے کیونکہ (مسبب الاسباب کے فعل پر اس کی نظر ہونے کے باعث) تمام اسباب اس کی نظر سے مرتفع (اٹھ گئے) ہیں۔ پس حق سبحانہ و تعالیٰ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کے ظن کے موافق علیحدہ علیحدہ معاملہ کرتا ہے۔ اسباب کو دیکھنے والے کا کام اسباب پر ڈال دیتا ہے اور جو اسباب کو نہیں دیکھتا اس کا کام بغیر وسیلے کے مہیا کر دیتا ہے۔ حدیث قدسی "أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِي" (ترجمہ: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں) اس مطلب پر دلیل ہے۔ بہت مدت تک دل میں یہ خلش رہی کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ اس امت میں اکمل اولیا بہت گزرے ہیں مگر جس قدر خوارق حضرت سید محی الدین جیلانی قدس سرہ سے ظاہر ہوئے ہیں اس قدر خوارق ان میں سے کسی سے ظاہر نہیں ہوئے۔ آخر کار حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے اس معما کا راز ظاہر کر دیا اور معلوم ہوا کہ ان کا عروج اکثر اولیاء سے بلند تر واقع ہوا ہے اور نزول کی جانب میں مقامِ روح تک نیچے اترے ہیں جو عالم اسباب سے بلند تر ہے۔

              خواجہ حسن بصری اور حبیب عجمی قدس سرہما کی حکایت اس مقام کے مناسب ہے: منقول ہے کہ ایک دن خواجہ حسن بصریؒ دریا کے کنارے کھڑے ہوئے کشتی کا انتظار کر رہے تھے تاکہ دریا سے پار ہوں، اسی اثنا میں حبیب عجمیؒ بھی آنکلے اور پوچھا کہ آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں؟ فرمایا :کشتی کا انتظار ہے حبیب عجمیؒ نے کہا کشتی کی کیا حاجت ہے کیا آپ یقین نہیں رکھتے؟ خواجہ حسن بصریؒ نے کہا کیا آپ علم نہیں رکھتے۔ غرض کہ حبیب عجمیؒ کشتی کے بغیر دریا سے گزر گئے اور خواجہ حسن بصریؒ کشتی کے انتظار میں کھڑے رہے۔ خواجہ حسن بصریؒ نے چونکہ عالم اسباب میں نزول کیا ہوا تھا اس لئے (کارکنانِ قضا و قدر) ان کے ساتھ اسباب کے وسیلے سے معاملہ فرماتے تھے اور حبیب عجمیؒ نے چونکہ پورے طور پر اسباب کو نظر انداز کر دیا تھا اس لئے (کارکنانِ قضا و قدر) ان کے ساتھ اسباب کے وسیلے کے بغیر معاملہ کرتے تھے۔ لیکن فضیلت حضرت خواجہ حسن بصریؒ کے لئے ہے جو صاحب علم ہیں اور جنہوں نے عین الیقین کو علم الیقین کے ساتھ جمع کر لیا ہے اور اشیاء کو جیسی کہ وہ ہیں سمجھ لیا ہے کیونکہ قدرت کی اصل حقیقت کو حکمت میں پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ حبیب عجمیؒ صاحب سکر ہیں اور فاعلِ حقیقی پر ایک ایسا یقین رکھتے ہیں جس میں اسباب کا کچھ دخل نہیں ہے۔

              سبحان اللہ! اب دیکھیں کتنے بڑے معارف ہیں حضرت کے۔ یہ ایک بہت اہم نکتہ حضرت نے بیان فرمایا ہے اور بہت سارے لوگ اس چیز کو نہ جاننے کی وجہ سے پتا نہیں کن کن چیزوں میں پڑے ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے حضرت نے یہ بات فرمائی ہے کہ مقصود کیا ہے؟ یعنی یوں کہہ سکتے ہیں چونکہ تصوف بذات خود مقصود نہیں ہے بلکہ مقصود حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ یعنی مطلوب تو شریعت پر عمل ہے۔ مطلوب تو شریعت پر عمل ہے، تو تصوف اور طریقت جو ہے، اس عمل کو آسان کرنا ہے اور عقائد کو پختہ کرنا ہے۔ کیونکہ عقائد کا تعلق یقین کے ساتھ ہے۔ لہٰذا وہ جتنا بھی ان کا علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین آگے بڑھے گا، تو ان کے عقائد پختہ ہوتے جائیں گے۔ اور دوسری طرف یہ ہے کہ اعمال کا تعلق نفس کے قابو کرنے کے ساتھ ہے، لہٰذا جتنا نفس قابو ہوگا اتنا اتنا عمل آسان ہوتا جائے گا۔اور نفس کا جو قابو ہے، یہ فنا ہے۔ اور پھر اللہ پاک کی طرف سے جو تشکیل ہے وہ بقا ہے۔ تو ولایت جو ہے اس سے مراد فنا و بقا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔

              اب ایک لفظ آیا ہے "خوارق اور کشفیات"۔ خوارق جو ہیں، "خرق" کی جمع ہے۔ خرقِ عادت کا مطلب یہ ہے کہ عمومی جو طریقہ کار ہے فطرت کا، اس کو bypass کیا جائے۔ جیسے آگ کا کام جلانا ہے۔ یہ فطرت ہے، لیکن آگ جلائے نہیں، تو یہ خلافِ فطرت ہے، خرقِ عادت ہے۔ خرقِ عادت نبی کے لیے معجزہ ہوتا ہے، ولی کے لیے کرامت ہوتی ہے۔

              اس طرح "کشف ،میں اپنی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں، اللہ پاک نے آنکھ کو دیکھنے کے لیے بنایا ہوا ہے۔ میں اگر اپنی آنکھ سے کسی چیز کو دیکھتا ہوں تو یہ عادت ہے۔ یہ گویا کہ سبب ہے، اس کے لیے میں اس کو استعمال کر رہا ہوں۔ اس دیوار کے پیچھے مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا کیونکہ اللہ پاک نے یہ چیز ایسی بنائی ہے۔ میری آنکھ اس دیوار کے پیچھے نہیں دیکھ سکتی۔ رات کے وقت میں نہیں دیکھ سکتا۔ لیکن Night vision، وہ infrared وہ بھی ایک عادت ہے۔ وہ بھی ایک Scientific phenomenon ہے۔ اس کے ذریعے سے اگر کوئی دیکھے تو وہ کرامت نہیں ہوگی۔ اگرچہ عام لوگوں کے لیے وہ کرامت نظر آئے گی۔ عام لوگوں کو تو کرامت نظر آئے گی کیونکہ ان کے لیے تو اسباب کھلے ہوئے نہیں ہیں۔ اس وجہ سے بعض ظالم لوگ جنہوں نے نبوت کے دعوے کیے تھے ابتدا میں، انہوں نے بعض Scientific phenomenon کو استعمال کرکے لوگوں کو دھوکہ دیا تھا۔ مثلاً چہرے پہ نور لانے کے لیے کوئی طریقہ اختیار کیا تھا، کچھ اور چیزیں انہوں نے کی ہوئی تھیں۔ تو اب یہ کیا چیز ہے؟ وہ عادت کی بات تھی، لیکن لوگوں کے لیے خلافِ عادت تھی۔ لہٰذا لوگ اس پہ دھوکہ ہو جاتے تھے۔

              کہتے ہیں کہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ جب فوت ہوئے تو حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ، جو حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے، اور مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمۃ اللہ علیہ، یہ حضرات موجود تھے۔ تو ایک صاحب تھے وہ زار و قطار رو رہے تھے۔ اور چاہ رہے تھے کہ ااس طرح روتے روتے ان کے چہرے پہ ہاتھ پھیر لیں۔ تو شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو پکڑ لیا۔ ان کو دھکے دے دے کر باہر نکال دیا۔ لوگ حیران ہو گئے کہ حضرت تو اس طرح کام نہیں کرتے، یہ کیا وجہ ہے؟ بعد میں تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ اس نے ہاتھ پہ ایسا powder ملا ہوا تھا، اس آدمی نے -جو مخالف تھا حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا۔ لیکن show کر رہا تھا کہ وہ بہت زیادہ معتقد ہے، رو رہا ہے ان کے لیے- تو اس کے چہرے پہ وہ powder مل رہا تھا، جس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ چند منٹوں کے بعد وہ چیز سیاہ ہو جاتی تھی جس کے اوپر وہ powder آ جاتا تھا۔ وہ اس کی اپنی condition، اس کی یہ ہوتی تھی۔ تو حضرت کا چہرہ سیاہ کروانا چاہتے تھے۔ تاکہ لوگوں کو دکھایا جائے کہ دیکھو یہ وہابی تھا اور ان کا چہرہ موت کے وقت سیاہ ہو گیا۔ یعنی ان کی پلاننگ یہ تھی۔

              لیکن یہ حضرات، جو حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ، یہ حضرات بہت زیرک ہوتے ہیں۔ بہت alert ہوتے ہیں۔ انہوں نے فوراً بھانپ لیا کہ یہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ تو انہوں نے پکڑ لیا اور test کر لیا۔ اور معلوم ہو گیا کہ انہوں نے تو ایسا کرنا تھا۔ اب یہ چیز ہے کہ یہ گویا کہ ایک عادت کی چیز ہے، ایک procedure ہے۔ جیسے نیلا تھوتھا جو بنتا ہے، copper کو اور sulfuric acid میں ڈالو، تو copper کا، تانبے کا رنگ بھی کیسا ہوتا ہے؟ سرخ نما ہوتا ہے۔ اور sulfuric acid بھی زردی مائل سرخ نما ہوتا ہے۔ جب یہ دونوں آپس میں مل جاتے ہیں تو اس سے بالکل طوطے کی طرح سبز رنگ بن جاتا ہے، جس کو نیلا تھوتھا کہتے ہیں (Copper sulfate)۔ اب ظاہر ہے کہ یہ ایک فطرت کی بات ہے۔ مطلب اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ کوئی کرامت ہے۔

              ہم لوگ جب FSC میں یہ experiment کرتے تھے تو بہتinterest ہم لیتے تھے۔ کہ ظاہر ہے بڑے مزے کی چیزیں ہیں۔ نئی نئی چیزیں بن رہی ہیں۔ تو اس قسم کی ظاہری چیزیں ہوتی ہیں۔ وہ جو بظاہر لگتی ہیں کہ یہ تو بڑی عجیب ہیں، لیکن وہ عجیب نہیں ہوتی۔ صرف یہ ہے کہ ہمیں اس کا طریقہ کار کھلا نہیں ہوتا ہمارے اوپر۔

              تو خیر بہرحال یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں کہ کشفیات اور خوارق یہ عجائبات ہیں۔ اور یہ عجائبات ہو سکتی ہیں۔ لیکن یہ عجائبات مقصود نہیں ہیں۔ لیکن ان عجائبات کا ہونا عین ممکن ہے تصوف کے راستے میں۔ ان چیزوں کو کہتے ہیں "توابع"۔ جس کو میں عرفِ عام کے مطابق کہہ سکتا ہوں side effects۔ مطلب یہ side effects ہیں۔ یہ چیز ساتھ ہوگی، جیسے اب مثال کے طور پر آپ کوئی دوائی کھا لیں۔ تو آپ نے دوائی تو کھا لی ہے۔ مثال کے طور پر anti-allergy medicine ہے۔ allergy کو دور کرنے کے لیے ہے، لیکن اس سے آپ کو نیند بھی آئے گی۔ تو اس وقت آپ کی نیند مقصود نہیں ہے۔ بلکہ آپ نہیں چاہتے کہ نیند آئے۔ مثلاً گاڑی چلا رہے ہوں تو آپ چاہتے ہوں گے کہ نیند آئے؟ آپ نہیں چاہتے ہوں گے۔ لیکن آپ کو کہتے ہیں بھئی اگر آپ نے یہ دوائی کھائی ہے تو driving نہیں کرنی۔ کیونکہ اس سے نیند آتی ہے اور آپ کی گاڑی کا accident ہو سکتا ہے۔ تو آپ نہیں چاہتے ہو کہ مجھے نیند آئے لیکن وہ آئے گی ساتھ۔ وہ دوائی کی خاصیت ہی یہ ہے۔ اس کا side effect یہ ہے۔ تو اسی طریقے سے جو خوارق ہیں، یہ بزرگ نہیں چاہتے۔ یہ کشفیات نہیں چاہتے۔ بلکہ ان سے دور بھاگتے ہیں۔ بلکہ کہتے ہیں کہ ان چیزوں کے ظہور پر ایسے پریشان ہوتے ہیں جیسے حائضہ عورت اپنے حیض کے خون کے نظر آنے پر پریشان ہوتی ہے۔ مطلب حائضہ عورت اپنے خون کو کبھی بھی ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی۔ یہ ان کے بہت ہی زیادہ پردے کی چیز ہوتی ہے۔ لیکن یہ ہے کہ چیز موجود تو ہے۔ ظاہری اسے انکار تو نہیں کر سکتی ۔ ہےاور رہے گی لیکن چھپائے گی۔ تو اسی طریقے سے، یہ جو خوارق اور کشفیات ہیں یہ بزرگ لوگ ظاہر نہیں کرنا چاہتے۔ بلکہ باتوں باتوں میں چھپا دیتے ہیں۔ آگے پیچھے کر دیتے ہیں۔ تاکہ ظاہر نہ ہو۔ جتنا بس ان کا چلے تو کرتے ہیں۔ بعض دفعہ اللہ پاک خود ہی ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو اس میں انسان کا کیا ہوتا ہے، وہ تو پھر انسان نہیں کچھ کر سکتا۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ یہ حضرات کوشش کرتے ہیں کہ ظاہر نہ ہو۔

              لیکن عوام چاہتے ہیں کہ ہم سے کوئی کرامت ہو ہی جائے۔ تو دنیا ہے نا، یہ دنیا ہے نا۔ تو دنیا کے پیچھے پڑے ہوتے ہیں۔ دنیا مقصودہے ۔ تو ظاہر ہے ان کی پھر ترقی نہیں ہوتی۔ کیونکہ دنیا کا طالب جو ہے وہ تو وہ کہتے ہیں الدنیا جیفۃ (دنیا مردار ہے) اور اس کے طلب کرنے والے کتے ہیں۔ تو جو ان چیزوں کے طالب ہوں گے، وہ تو ظاہر ہے دنیا دار ہیں، وہ تو پھر تصوف میں ترقی نہیں کر سکتے۔ وہ تو ادھر ہی اسی میں پڑے رہیں گے۔ اس وجہ سے ہمارے اکابر بہت زیادہ اس میں alert ہوتے ہیں۔ ذرہ برابر بھی کسی میں بھی اگر ذرا اس قسم کے جراثیم دیکھتے ہیں کہ بھئی ان کو ذرا ان چیزوں کی طرف طلب ہے، تو خوب روک ٹوک کرتے ہیں، ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں۔ کسی طریقے سے ان سے یہ چیز نکل جائے۔ مطلب اس طرف نہ آئیں۔ یہ بہت مسئلہ ہے۔ لیکن جن لوگوں میں اس چیز کا خیال نہ ہو تو وہ پھر ان چیزوں میں پڑے رہتے ہیں۔

              میں خود مفتی صاحب کے پاس تشریف لائے تھے مفتی مختار الدین شاہ صاحب ۔تو یہاں پر ایک صاحب کے ساتھ ملنے کے لیے جانا تھا ہم نے۔ ان کے ساتھ۔ تو وہاں گئے اسلام آباد میں۔ تو مفتی صاحب تو کہتے ہیں، مفتی صاحب آج کل کے حالات کے بارے میں کیا کشف ہے؟ اب مفتی صاحب تو ان چیزوں سے دور۔ لیکن بہرحال ظاہر ان کو تو طلب تھی۔ وہ خود بھی اس قسم کی باتیں بہت کرتے تھے، کشفیات کی باتیں بہت کرتے تھے۔ یہ ایک مرض ہے جس کو لگ جائے، اللہ تعالیٰ ہر ایک کو بچائے۔ اور متعدی مرض بھی ہے، دوسروں کو بھی لگتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ایک کو ہو تو اس سے دوسرے کو بھی لگتا ہے۔ تو یہ ہے کہ اس سے اپنے آپ کو بچانا ہوتا ہے۔ کہ کہیں مجھے نہ لگ جائے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا بھی نہیں چاہیے جن کو کشفیات کا مرض ہو۔ مطلب ظاہر ہے کیوں خواہ مخواہ ایک لت پڑ جاتی ہے۔ آدمی اسی میں۔۔ تو ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ اتنے زیادہ اس میں الرٹ تھے کہ میں نے کچھ اپنا حال بتانا چاہا، درمیان میں کچھ ایسی باتیں آ گئی تھیں، تو حضرت نے فرمایا: "دور کرو دور کرو یہ راستے کے کھیل تماشے ہیں"۔

              یہی اصل میں تربیت ہے۔ تاکہ اس طرف کہیں ذہن بھی نہ جائے۔ ایک دفعہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا واقعہ خود بیان کیا ہے۔ کہ میں نے اپنے استاد سے کہا، حضرت مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ بہت علامہ حضرات میں سے تھے۔ بہت بڑے حضرات میں سے تھے علوم کے لحاظ سے بہت بڑے تھے۔ تو میں نے پوچھا حضرت کیا تسخیر کا عمل بھی ہوتا ہے؟ یہ عامل لوگ تو اس کے پیچھے پڑے ہوتے ہیں نا۔ کیا تسخیر کا عمل بھی ہوتا ہے؟ حضرت نے فرمایا :ہاں، ہوتا ہے۔ اور میں جانتا ہوں، اور سکھا بھی سکتا ہوں۔ بس مجھے صرف یہ بتاؤ کہ تم خدا بننے کے لیے آئے ہو یا بندہ بننے کے لیے آئے ہو؟ کہتے ہیں اس کا سن کر مجھے اتنی نفرت ہو گئی اس چیز سے کہ اب اس کا نام بھی نہیں سن سکتا۔

              تو مطلب میرا یہ ہے کہ یہ جو کشفیات ہیں، یا خوارق ہیں، یہ مطلوب نہیں ہیں تصوف میں۔ لیکن تصوف میں آ سکتی ہیں، ہو سکتے ہیں۔ یہ side effects ہیں۔ Side effect کے طور پر آ جاتی ہیں۔ لیکن جو لوگ مخلص ہوتے ہیں وہ اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جب اللہ پاک ان سے کوئی کام لیتے ہیں، ان کا، یعنی کوئی کام کے لیے ضروری ہوتا ہے، تو پھر اللہ پاک کرتے ہیں، پھر وہ ظاہر ہے اس میں کچھ نہیں کہہ سکتے۔

              فرمایا:

              اس (فنا و بقا) کے لوازم میں سے ہیں۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ جس سے خوارق زیادہ ظاہر ہوں اس کی ولایت بھی اتم و اکمل ہو بلکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ (کسی بزرگ سے) خوارق بہت کم ظاہر ہوتے ہیں اور اس کی ولایت اکمل ہوتی ہے۔ اور خوارق کے بکثرت ظاہر ہونے کا مدار دو چیزوں پر ہے۔

              یہ مجھے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی ماشاء اللہ تعلیمات میں یہ بات بہت پہلے ملی ہوئی تھی۔ حضرت نے بھی یہ بات فرمائی تھی۔ کہ خوارق ان سے زیادہ صادر ہوتے ہیں جو مقام عروج میں ہوتے ہیں۔ مجھے خود ایک صاحب نے واقعہ بتایا ہے۔ وہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ کے خلیفہ ہیں،حیدرآباد میں۔ تو اس نے یہ واقعہ سنایا تھا۔ فرمایا تھا کہ میں جا رہا تھا یعنی station پر۔ تو وہ ٹیکسی والا کہتا ہے گاڑی چلی گئی ہوگی۔ میں نے کہا کیسے جا سکتی ہے، تم جاؤ۔ گاڑی نہیں جا سکتی۔ کہتے ہیں جب ہم پہنچ گئے تو وہاں گاڑی کھڑی تھی۔ کوئی fault ہوگیا تھا اس میں۔ وہ نہیں گئی تھی۔ کہتے ہیں اس طرح کئی واقعات اس طرح ہوتے گئے۔ تو میں جب اپنے شیخ کو بتاتا تھا، فرماتے: "اچھا عروج ہے ابھی تک۔"

              مطلب جیسے کوئی اس طرح بات کہے، "اچھا عروج ہے ابھی تک!" تو وہ انتظار کر رہے تھے نزول کا۔ کیونکہ تکمیل نزول سے ہوتی ہے۔ تو گویا کہ اس کو Appreciate نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اس کو ایک قسم کی waiting list میں ڈال دیتے تھے۔ "اچھا ابھی عروج ہی ہے۔" تو یہ واقعی بات یہ ہے، کہتے ہیں جس وقت وہ چیز شروع ہو گئی، نزول، تو پھر کہتے ہیں ساری چیزیں اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک ہو گئیں۔ پھر ایسا نہیں ہوتا تھا۔

              تو حضرت نے بھی یہی بات فرمائی ہے:

              اورعروج کے وقت میں بہت زیادہ عروج کرنا اور نزول کے وقت میں بہت کم نیچے اترنا۔

              نزول، نزول میں کیا ہوتا ہے، اور عروج میں کیا ہوتا ہے؟ عروج میں انسان کی نظر اللہ پر ہوتی ہے۔ اسباب پر نہیں ہوتی۔ یعنی اسباب کو وہ مسبب الاسباب کے سامنے بالکل کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ اس کی نظر اللہ پر ہوتی ہے۔ اب یہ شخص اس لحاظ سے تو اچھا ہے کہ اس کا اللہ تعالیٰ پہ یقین اور یہ سارا، لیکن وہ لوگوں میں کام نہیں کر سکتا۔ کیونکہ لوگوں میں کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان، ان چیزوں کے ساتھ ہو جو لوگوں میں ہیں۔ یعنی جس کو ہم کہہ سکتے ہیں، یعنی ایک ہی page پر، جس کو کہتے ہیں نا، ایک ہی page پر ہے۔ تو وہ پھر ان کے احساسات بھی سمجھ سکتے ہیں، ان کی تربیت بھی کر سکتے ہیں، ان کے ساتھ، تو لوگوں کے ساتھ پھر خلط ملط ان کو کیا جاتا ہے، بقا اس کو کہتے ہیں۔ فنا والی حالت اس میں ہے، یعنی اس عروج میں۔ عروج، مطلب جس کو کہتے ہیں، عروج فنا میں ہے۔ اور نزول بقا میں ہے۔ عروج فنا میں ہے اور نزول بقا میں ہے۔ فنا میں انسان کی اپنے اوپر سے نظر ہٹ جاتی ہے۔ چیزوں کے اوپر سے نظر ہٹ جاتی ہے۔ اور صرف اللہ پہ نظر ہوتی ہے۔ اور بقا میں پھر چیزوں کے اوپر نظر ہوتی ہے۔ اس کے مطابق اللہ پاک نے جو حکم دیا ہوتا ہے اس حکم کو پورا کرنا ہوتا ہے۔

              تو ایک بزرگ تھے، صاحبِ نزول تھے۔ ان کا بھائی بیمار ہو گیا، عالم تھے۔ تو بیماری کے وقت وہ کہتے ہیں "یا اللہ، یا اللہ، یا اللہ۔" تو وہ صاحبِ نزول بزرگ جو ہے وہ کہتے ہیں "یہ کہو، ہائے میری ماں، ہائے میری ماں، ہائے میری ماں، جلدی ٹھیک ہو جاؤ گے۔" تو عالم حیران ہو گیا کہ یہ مجھے کیا کہہ رہا ہے؟ تو وہ کہتے ہیں بس جو میں کہہ رہا ہوں اس کو مان لو۔ تو اس نے کہنا شروع کیا تو جلدی ٹھیک ہو گیا۔ تو پھر اس سے پوچھا کہ یہ کیا وجہ تھی؟ انہوں نے کہا تو اپنے آپ کو ظاہر کر رہا تھا، میں کوئی تو بڑا پہنچا ہوا ہے، کہ اس وقت بھی اللہ اللہ کر رہا ہے۔ اپنی تکلیف کا آپ کو احساس نہیں ہے، بلکہ آپ کی بزرگی کی طرف توجہ ہے۔ تو ظاہر ہے پھر تو ایسے لوگوں کے ساتھ معاملہ پھر سخت ہی ہوتا ہے۔ تو میں نے آپ کو کہا اپنی، اپنی عاجزی دکھاؤ اللہ تعالیٰ کے سامنے۔ تو پھر جلدی آپ کو اللہ تعالیٰ سے ۔۔۔ اضطراری کیفیت جو ہوتی ہے جب وہ ہو جاتی ہے:

              أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وہ والی بات ہو جائے گی۔ تو بس اب دیکھو یہ معرفت کی بات تھی۔ تو یہ بات یہ ہے کہ نزول کے وقت بہت کم نیچے اترنا، یہ پھر وہ کام نہیں کرتا۔

              ”بلکہ کثرت خوارق کے ظہور میں کُلیہ قاعدہ قلتِ نزول یعنی بہت کم نزول کرنا ہے، خواہ وہ عروج کی جانب کسی بھی کیفیت سے ہو کیونکہ صاحب نزول عالم اسباب میں اترتا ہے اور اشیاء کے وجود کو اسباب سے وابستہ پاتا ہے اور مسبب الاسباب کے فعل کو اسباب کے پردے کے پیچھے دیکھتا ہے۔ جس شخص نے نزول نہیں کیا اور نزول کے اسباب تک نہیں پہنچا اس کی نظر صرف مسبب الاسباب کے فعل پر ہے کیونکہ (مسبب الاسباب کے فعل پر اس کی نظر ہونے کے باعث) تمام اسباب اس کی نظر سے مرتفع (اٹھ گئے) ہیں۔ پس حق سبحانہ و تعالیٰ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کے ظن کے موافق علیحدہ علیحدہ معاملہ کرتا ہے۔ اسباب کو دیکھنے والے کا کام اسباب پر ڈال دیتا ہے اور جو اسباب کو نہیں دیکھتا اس کا کام بغیر وسیلے کے مہیا کر دیتا ہے۔ حدیث قدسی "أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِی بِي" (ترجمہ: میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں) اس مطلب پر دلیل ہے۔ بہت مدت تک دل میں یہ خلش رہی کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ اس امت میں اکمل اولیا بہت گزرے ہیں مگر جس قدر خوارق حضرت سید محی الدین جیلانی قدس سرہ سے ظاہر ہوئے ہیں اس قدر خوارق ان میں سے کسی سے ظاہر نہیں ہوئے۔ آخر کار حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے اس معما کا راز ظاہر کر دیا اور معلوم ہوا کہ ان کا عروج اکثر اولیاء سے بلند تر واقع ہوا ہے اور نزول کی جانب میں مقامِ روح تک نیچے اترے ہیں جو عالم اسباب سے بلند تر ہے۔“

              مطلب یہ ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا جو معاملہ ہے وہ یہ ہے کہ عالم بالا کے ساتھ ان کا زیادہ رابطہ تھا۔ یعنی عروج میں زیادہ تھے اور نزول میں کم اترے تھے۔ اور یہ قادری سلسلے میں ابھی تک یہ چیز ہے۔ جو صحیح قادری بزرگ ہیں ان میں یہ چیز ابھی تک ہے۔ کہ وہ اویسی طریقے سے بہت کچھ لیتے ہیں۔ اور ان سے خوارق کا اظہار زیادہ ہوتا ہے۔ وہ میں گیا تھا حضرت تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے شیخ، میخبند باباجی رحمۃ اللہ علیہ، وہ بھی قادری تھے۔ تو 140 سال کی عمر تھی تقریباً۔ پہاڑ میں ان کی خانقاہ تھی۔ اور خود اپنا واقعہ انہوں نے ہمیں سنایا۔ کہ شیخ پائمال شریف نے مجھے جب اجازت دی تو میری تشکیل یہاں کی کہ میں یہاں پر رہوں میخبند میں۔ تو میں نے شکایت کی کہ حضرت وہاں تو پانی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں حضرت نے فرمایا: "پانی مل جائے گا نا۔" پشتو میں کہا " خدائے به اوبه درکړي " (اللہ پانی دے دے گا نا)۔ کہ اللہ تعالیٰ دے دے گا نا۔ تو وہ پھر وہ کہتے ہیں میں آ گیا۔ کہتے ہیں صبح رفعِ حاجت کے لیے میں گیا تھا اوپر پہاڑ کی طرف۔ تو کہتے ہیں جب استنجا خشک کرنے کے لیے میں نے ایک پتھر کو نکالنا چاہا تو اس کے نیچے سے کچھ تری سی محسوس ہوئی کہ جیسے کہ وہ گیلا ہے۔ حالانکہ موسم خشک تھا۔ گیلا ہونے کا کوئی chance نہیں تھا۔ تو کہتے ہیں میں نے اس جگہ کو پھر بعد میں کریدا تھوڑا سا۔ کریدا تو تھوڑا سا پانی کیچڑ سا بن گیا۔ پھر میں نے اور کریدا تو تھوڑا سا پانی رسنا شروع ہو گیا۔ پھر میں نے اپنے لوگوں کو بتایا۔ کہتے ہیں: وہ آئے نوجوان۔ انہوں نے کدال وغیرہ لیے تو، دیکھا تو چشمہ نکلا۔ وہ زبردست چشمہ نکلا جی۔ وہ چشمہ، اس وقت بہہ بھی رہا تھا جس وقت ہم تھے حضرت کے ساتھ۔ تو حضرت نے اس چشمے کا رخ اپنی خانقاہ کی طرف کیا تھا۔ اور وہیں پر حوض بنایا ہوا تھا۔ اور حوض میں ایسے وضو بھی کرتے تھے، پانی بھی بھرتے تھے، سارا کچھ اس سے ہوتا تھا۔ اور پھر وہ وہی پانی ظاہر ہے حوض سے نیچے پھر پہاڑ کے دامن میں جاتا تھا۔ تو وہاں باقاعدہ گھاٹ بن گیا تھا۔ اور جو گاؤں کی عورتیں تھیں وہاں سے پانی بھرتی تھیں اور لوگ کپڑےبھی دھونے کے لیے وہاں پر آ جاتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ نے وہ ایک نظام پورا بنا لیا۔ تو یہ کرامت تھی۔ مطلب اس میں کوئی شک نہیں، وہ کرامت تھی۔

              اور حضرت کو بہت تیز کشف ہوتا تھا۔ بہت تیز کشف۔ مطلب نظر آتا تھا نا، اس میں درمیان میں کوئی دوسری بات نہیں تھی۔ وہ حضرت تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اس طرح گلے سے لگایا نا، ان کے تو خلیفہ تھے۔ تو میرے دل میں خواہش ہوئی کہ مجھے بھی اس طرح گلے سے لگائیں۔ تو مجھے اس طرح، اپنے دل میں باتیں نہ رکھو اچھا! میں نے کہا اچھا۔ پشتو میں کہا: پهٔ زړهٔ کښې پاټکي مهٔ اچوه خه۔تو میں، میں نے کہا اچھا کوئی بات نہیں ظاہر ہے، وہ تو بات تھی۔ اب صبح کے وقت ہم بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں ہوں، تسنیم الحق صاحب ہیں اور میخبند باباجی ہیں، یہ تین ہیں۔ اور مخبند باباجی نے بڑے واقعات شروع کیے ہیں: "اس طرح میرے ساتھ ہوا، اس طرح میرے ساتھ ہوا، اس طرح میرے ساتھ ہوا، اس طرح میرے ساتھ ہوا۔" وہ مجاہدات اور پورے لمبے چوڑے واقعات بیان کر رہے تھے۔ تسنیم الحق صاحب ذرا دور بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا: " بابا جی زهٔ خو ستا پهٔ شان مجاهدات نهٔ شم کؤلے " یعنی اگر آپ مجھے کہتے تو میں یہ مجاہدات نہیں کر سکتا"۔ تو ان سے فرمایا: "تجھے نہیں کہتا"۔ تو پھر کس کو کہہ رہے تھے؟ پھر مجھے ہی کہہ رہے تھے، تین ہی تو تھے نا۔ تو وہ سارے واقعات بیان کر رہے تھے وہ میرے جو گزرے تھے یا جو بھی اس طرح، وہ تمام چیزیں وہ سب اس میں آ رہی تھیں۔ بہت تیز کشف تھا ان کا۔

              لیکن اب دیکھیں حضرت کیا فرما رہے ہیں۔ یہ مقصود نہیں ہے۔ یہ مقصود نہیں ہے۔ یہ راستے کی باتیں ہیں، بس ٹھیک ہے جی ہوتی ہیں، انکار نہ کرو۔ لیکن کیا ہمارے ساتھ بھی ہو جائے؟ نہیں بھئی اس کی خواہش نہ کرو۔ اس کی خواہش دنیا ہے۔ اس کی خواہش دنیا ہے۔ اس کو مانگو نہیں اللہ تعالیٰ سے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عالم اسباب کے ذریعے سے جو دے رہا ہے، اس پر اللہ کا شکر ادا کرو۔ یہ اس کا بہت بڑا کرم ہے کہ آپ کو normal اسباب کے ذریعے سے مل رہا ہے۔ بہت خوش قسمتی ہے۔ کہ آپ کے ذہن سے بزرگی کا concept ہی نکالا ہے، یہ بہت اللہ کا کرم ہے آپ کے اوپر۔ ورنہ ان چیزوں میں پڑ جاؤ تو بس پھر مسئلہ ہے۔ اور اس سے نکلنا پھر بہت مشکل کام ہے۔

              یہ ایک بزرگی ایک بہت بڑی بیماری ہے۔ اگر کسی کو لگ جائے، تو اس سے بچنا پھر بڑا مشکل کام ہے۔

              اس دور کے مجدد کی برکات ہیں جی اس دور کی۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی۔ انہوں نے یہ چیزیں اتنی صاف کی ہوئی ہیں، کہ ہم لوگ اس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت کی برکت سے ہمارے ذہنوں سے یہ چیزیں نکالی ہوئی ہیں کہ بھئی یہ بزرگی کے پیچھے نہیں پڑنا۔ تم انسان ہو، نارمل زندگی گزارو۔ حضرت نے ایک دفعہ فرمایا، "بھئی دیکھو! بزرگوں کی نقل نہ کیا کرو۔ کیونکہ بزرگوں جیسا معاملہ اگر تمہارے ساتھ کیا گیا تو چیں بول لو گے۔ بس اپنے آپ کو عاجز سمجھو، عام لوگ سمجھو، تاکہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ ہو۔

              بڑا بہت ہی مہلک مرض ہے۔ اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے کہ کوئی بھی اس میں مبتلا ہو جائے۔ ہڈی پسلی ایک ہو جاتی ہے۔ تو یہ ہے کہ حضرت نے فرمایا:

              خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ اور حبیب عجمی قدس سرہما کی حکایت اس مقام کے مناسب ہے۔ منقول ہے کہ ایک دفعہ خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ دریا کے کنارے کھڑے ہوئے انتظار کر رہے تھے،

              وہ جو آپ نے ایک دفعہ واقعہ بتایا تھا نا، وہ اس سے ملتا جلتا واقعہ ہے۔

              تاکہ دریا سے پار ہوں۔ اسی اثناء میں حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ بھی آ نکلے اور پوچھا کہ آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں؟ فرمایا: کشتی کا انتظار ہے۔ حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: کشتی کی کیا حاجت ہے؟ کیا آپ یقین نہیں رکھتے؟ حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ آپ علم نہیں رکھتے۔ غرض کہ حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ کشتی کے بغیر دریا سے گزر گئے اور خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کشتی کے انتظار میں کھڑے رہے۔

              خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے چونکہ عالم اسباب میں نزول کیا ہوا تھا اس لیے کارکنانِ قضا و قدر ان کے ساتھ اسباب کے وسیلے سے معاملہ فرما رہے تھے۔ اور حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ نے چونکہ پورے طور پر اسباب کو نظر انداز کر دیا تھا، اس لیے کارکنانِ قضا و قدر ان کے ساتھ اسباب کے وسیلے کے بغیر معاملہ فرما رہے تھے۔ لیکن فضیلت تو حضرت خواجہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کی تھی جو صاحبِ علم ہیں۔ اور جنہوں نے عین الیقین کو علم الیقین کے ساتھ جمع کر لیا تھا۔ اور اشیاء کو جیسی کہ وہ ہیں سمجھ لیا تھا۔ کیونکہ قدرت نے اصل حقیقت کو حکمت میں پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ حبیب عجمی رحمۃ اللہ علیہ صاحبِ سُکر ہیں، اور فاعلِ حقیقت پر ایک ایسی نظر رکھتے ہیں جس میں اسباب کا کچھ عمل دخل نہیں ہوتا۔

              تو یہ عقدہ کھل گیا کہ اصل میں کیوں وہ عالم، وہ تو انتظار میں تھا۔ اور وہ جس کو آپ کہہ رہے تھے کہ مطلب وہ جاہل والی بات، جاہل نہیں تھا وہ سُکر میں تھے۔ وہ سُکر میں تھے۔ تو ان کی اپنے اوپر نظر نہیں تھی اور ان کی براہ راست اسباب پہ بھی نظر نہیں تھی، تو اللہ تعالیٰ کا معاملہ ان کے ساتھ تھا۔ کیونکہ فرمایا ہے: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو میرے ساتھ وہ رکھتا ہے۔ تو گویا کہ آج بہت بڑا علم عطا ہوا، الحمد للہ، کہ یہ جو خوارق ہیں، اور یہ جو کشفیات ہیں، ایک تو یہ مقصود نہیں ہیں۔ لیکن، ہوتے ہیں۔ انکار بھی نہیں، مطلوب نہیں ہیں۔ Side effects ہیں۔

              دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے ساتھ اس کے ظن کے مطابق معاملہ کرتا ہے۔ تو جن کو خوارق اور کشف ہے، ضروری نہیں کہ وہ کامل ہو زیادہ۔ بلکہ عین ممکن ہے کہ ابھی وہ آیا نہیں ہو اس طرف، اسباب کی طرف آیا نہیں ہو۔ اس کو لایا نہیں گیا ہو۔ تو اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جاتا ہے۔

              دفتر اول: مکتوب نمبر 216

              میں فرماتے ہیں:

              اولیاء اللہ کے بعض کشف غلط واقع ہوتے ہیں۔

              زبردست post-mortem ہے!

              اگر سوال کریں کہ کیا سبب ہے کہ بعض کشوف کونی جو اولیاء اللہ سے صادر ہوتے ہیں ان میں غلطی واقع ہو جاتی ہے، جس کے خلاف ظہور میں آتا ہے؟ مثلاً خبر دی گئی کہ فلاں شخص ایک ماہ کے بعد مر جائے گا، یا سفر سے وطن واپس آئے گا، لیکن اتفاقاً ایک ماہ بعد ان دونوں کی باتوں میں کوئی بھی بات واقع نہیں ہوتی۔

              تو اس کا جواب ہے کہ جس چیز کے متعلق کشف ہوا ہے اور جس بات کی خبر دی گئی تھی اس کا حاصل ہونا چند شرائط پر مشروط تھا۔ صاحبِ کشف نے اس وقت ان شرائط کی تفصیل پر اطلاع نہیں پائی، اور اس چیز کے مطلق طور پر حاصل ہونے کا حکم فرمایا۔ یا یہ وجہ ہے کہ لوحِ محفوظ کے احکام میں سے کوئی ایسا حکم عارف پر ظاہر ہوا ہو کہ وہ فی نفسہٖ محو و اثبات کے قابل ہے اور قضائے معلق کی قسم سے ہے۔ لیکن اس عارف کو اس حکم کے معلق ہونے کی اور اس کے محو ہونے کے قابل ہونے کے متعلق کچھ خبر نہیں ہے۔ اس صورت میں اگر وہ اپنے علم کے مطابق حکم کرے تو اس میں ضرور خلاف ہونے کا احتمال ہوگا۔

              یہ ایک بات بہت عجیب حضرت نے فرمائی ہے کہ اولیاء اللہ کے بعض کشف غلط ہوتے ہیں۔ میری نظر 6/6ہے۔ ٹھیک ہے؟ مثلاً، ویسے مثال دے رہا ہوں، میری 6/6ہے نہیں، ورنہ پھر عینک میں نے کیوں لگائی ہے؟ میری نظر اگر 6/6 ہے اور میں دور ایک چیز ہے اس کو دیکھ رہا ہوں، اور میں سمجھ جاتا ہوں کہ یہ تو فلاں چیز ہے۔ اور وہ قریب جا کر میں دیکھتا ہوں کہ وہ تو وہ چیز نہیں ہے، تو دوسری چیز ہے۔ اب اس میں غلطی کونسی ہے؟ کیا میری نظر کی غلطی ہے؟ نظر کی غلطی! نظر تو میری بالکل 6/6ہے۔ لیکن میری سمجھ کی غلطی ہے۔ میں نے جو اندازہ لگایا، وہ میرےعلم کے مطابق جو اس سے وہ چیز بن سکتی تھی، اس کے مطابق اندازہ لگایا۔ اگر اس اندازہ لگانے میں غلطی ہوئی، تو وہ نظر کی غلطی نہیں تھی، وہ اس اندازے کی غلطی تھی۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ ایک شخص کو Illusion ہے۔ بیماری ہے ایک۔ Illusion بیماری میں بعض دفعہ کوئی چیز ہوتی نہیں، محسوس ہوتی ہے۔ ہوتی نہیں، نظر آتی ہے۔ آواز نہیں ہوتی، آواز محسوس ہوتی ہے۔ یہ بیماری ہے، تقریباً کہتے ہیں تین سے چار پانچ فیصد تک لوگوں کو ہوتی ہے۔ تو اگر کوئی چاند دیکھ رہا ہو اور اس کو ویسے Illusion ہو رہا ہو کہ یہ چاند ہے، چاند کی طرح کوئی چیز اس کو نظر آ رہی ہے۔ وہ اگر قسم بھی کھائے تو وہ قسم میں غلط نہیں ہوگا۔ کیونکہ اس بیچارے کو واقعی نظر آ رہا ہے۔ وہ تو اس کو چاند ہی سمجھ رہا ہے۔ وہ تو اپنی سمجھ کے مطابق اس پہ قسم کھا رہا ہے۔ لیکن یہ ہے کہ وہ یقیناً تو ایسی تو بات ہوگی نہیں۔

              تو اس پر بعض لوگ بڑے حیران ہو جاتے ہیں کہ بھئی کیا بات ہے، وہ تبلیغی آدمی تھا اور بڑی لمبی داڑھی تھی، اور تسبیح کرتا تھا، اور اس پہ وہ کہہ رہا ہے کہ چاند نظر آیا، تو یہ کیسے غلط ہو سکتا ہے؟ تو دونوں باتیں غلط ہو سکتی ہیں۔ ایک شخص یہ جو کہہ رہا ہے کہ اس نے جھوٹ کہا ہے۔ یہ بھی غلط ہو سکتا ہے۔ عین ممکن ہے اس کو واقعی چاند ہی نظر آ رہا ہو۔ اس کے لیے جھوٹ تو نہیں ہے۔ لیکن اس کے تبلیغی ہونے کی وجہ سے اور عالم ہونے کی وجہ سے، اور شریف ہونے کی وجہ سے، اس نے چاند نہیں دیکھا۔ اور میں کہوں کہ نہیں اس نے واقعی چاند دیکھا، اور باقی ذریعے سے مجھے پتہ ہے کہ بھئی چاند اس نے نہیں دیکھا، تو اس کو اس کی بنیاد پر میں مان لوں یہ بھی غلطی ہوگی۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ دونوں قسم کی غلطیاں ہو سکتی ہیں۔

              تو اسی طریقے سے جو کشف ہے۔ کشف میں کسی چیز کا نظر آنا ہوتا ہے، چاہے بعد میں ہونے والا واقعہ ہو، یا چاہے دور کوئی چیز ہو۔ چاہے زماناً دور ہو، چاہے مکاناً دور ہو۔ زماناً دور ہونے میں بھی غلطی لگ سکتی ہے، مکاناً دور ہونے میں بھی غلطی لگ سکتی ہے۔

              حضرت مولانا یعقوب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کا کشف بڑا تیز تھا، جیسے ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے ذکر کیا۔ حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ بہت بیمار ہو گئے۔ تو لوگوں نے پوچھا حضرت کیا آپ کا ہے اندازہ؟ فرمایا: ابھی نہیں، ابھی 10 سال ہیں ان شاء اللہ عمر، کوئی بات نہیں۔ حضرت اس بیماری میں فوت ہو گئے۔ اب لوگوں نے کہا کہ حضرت آپ نے تو فرمایا تھا کہ ابھی 10 سال ہیں عمر باقی ہے۔ فرمایا: ہاں غلطی مجھے لگ گئی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ جب میں ان کی طرف متوجہ ہوا، تو مجھے "مہدی" کا لفظ مکشوف ہوا۔ مہدی کا لفظ۔ کشف direct نہیں ہوتا بعض دفعہ۔ کشف بعض دفعہ indirect ہوتا ہے۔ یعنی کوئی چیز ایسی ہوتی ہے جو related محسوس ہو جاتی ہے۔ مہدی کا لفظ مکشوف ہوا۔ تو مہدی کے میں نے الفاظ جو ہیں اس کا میں نے ابجد معلوم کیے، تو 59 بن رہے تھے۔ تو میں نے کہا کہ اب ان کی عمر تو 49 سال تھی۔ تو اس وجہ سے میں نے کہا کہ ابھی 10 سال ہیں۔ لیکن وہ تو مہدی علیہ السلام کی عمر سے متعلق بات تھی تو بس مجھ سے یہ غلطی ہو گئی اور یہ غلطی بس آپ لوگوں نے دیکھ لی۔تو اس طرح غلطیاں کئی ہو سکتی ہیں کشف میں۔

              وحی میں غلطی نہیں ہوتی۔وحی کی حفاظت ہے۔ الہام اور کشف کی حفاظت نہیں ہے، اس میں شیطان بھی دخل دے سکتا ہے۔ بلکہ حضرت نے تو ایک دفعہ ایک مکتوب شریف میں انتہائی زبردست اہم بات واضح کی تھی کہ کسی نے خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیکھا ہو، لیکن حضرت کی بات ایسی ہو جو شریعت کے مطابق نہ ہو، تو ہم اس کو ظاہر شریعت پر FIT کر کے دیکھیں گے، ایسا نہ ہو تو پھر ہم نہیں مانیں گے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں شیطان نہیں آ سکتا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کی طرح آواز تو بنا سکتا ہے۔

              تو عین ممکن ہے آپ دیکھ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آواز شیطان کی طرف سے آ رہا ہو۔ کوئی بات ان کی طرف سے ہو رہی ہو، تو آپ سمجھتے ہیں کہ یہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے ہیں۔ dubbing ہوتی ہے یا نہیں ہوتی؟ dubbing تو آج کل بہت بڑا سائنس ہے نا، تو شیطان dubbing نہیں کر سکتا؟

              آواز اپنی کوئی بنا لے اور اس سے آپ کا عقیدہ خراب کر دے، ایسا ہو سکتا ہے۔ تو حضرت نے یہ بات فرمائی تھی، تو اس قسم کی غلطیاں واقع ہو سکتی ہیں جس سے پھر بعد میں بڑے فساد آتے ہیں۔ اور شیطان کو ان تمام چیزوں کا پتہ ہے، لہٰذا وہ ان طریقوں کو استعمال کر سکتا ہے۔

              ان اعتقادی اور عملی دو بازوں کے حاصل ہونے کے بعد اگر حق تعالیٰ جل سلطانہٗ کی توفیق رہنمائی فرمائے تو صوفیہ کے عالی طریقے کا سلوک (اختیار) کرے جو اس غرض سے نہیں کہ وہ اعتقاد و عمل کے علاوہ کوئی زائد چیز ہے

              اعتقاد اور عمل! دیکھیں نا یہ ذرا تھوڑا سا غور فرما لیں۔ تین چیزیں تھیں نا جو حدیثِ جبریل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جبرائیل علیہ السلام نے پوچھی تھیں۔ مقصد یہ تھا کہ امت کو صحیح دین کی سمجھ آ جائے۔ اس لیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا یہ جبرائیل تھے، آپ لوگوں کو دین سمجھانے کے لیے آئے تھے۔


              تو اس میں پہلا سوال یہ تھا کہ ایمان کیا ہے؟ تو ایمان کیا ہے کا جواب جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا، وہ عقائد ہیں۔

              دوسرا سوال جو کیا تھا اسلام کیا ہے؟ تو اسلام کا جو جواب دیا وہ اسلام کے ارکان تھے، یعنی اعمال۔

              اور تیسرا جو سوال کیا تھا، وہ پوچھا تھا احسان کیا ہے؟ فرمایا احسان، أَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ۔ تو ایسے عبادت کر جیسے تو خدا کو دیکھ رہا ہے۔ اور اگر یہ چیز تجھے حاصل نہیں ہے، تو بے شک اللہ تو تجھے دیکھ رہا ہے۔ تو یہ کیا چیز ہے؟ یہ اصل میں یوں کہہ سکتے ہیں، درجۂ حال میں اپنے علم کو حاصل کرنا۔ درجۂ حال میں اپنے علم کو حاصل کرنا۔ تو یہ کیفیت ہے۔ اسی کو "کیفیتِ احسان" بھی کہتے ہیں۔ احسان کا لغوی معنی یہ ہے، کسی چیز کو اچھی طرح کر کے دکھانا، احسان، بابِ افعال سے ہے۔ کسی چیز کو اچھی طرح کرنا، یہ احسان کی حالت ہے۔ تو ظاہر ہے جب آپ کوئی کام کرتے ہیں، تو اس کو اگر اچھی طرح کر لیں، تمام پہلوؤں سے، تو یہ احسان ہوگا۔ اس کیفیت جس کے ذریعے سے یہ چیز حاصل ہو سکتی ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا:

              أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ

              تو یہاں پر یہ فرمایا کہ

              ان اعتقادی اور عملی دو بازوں کے حاصل ہونے کے بعد اگر حق تعالیٰ جل سلطانہٗ کی توفیق رہنمائی فرمائے تو صوفیہ کے عالی طریقے کا سلوک (اختیار) کرے جو اس غرض سے نہیں کہ وہ اعتقاد و عمل کے علاوہ کوئی زائد چیز ہے یا کوئی نئی چیز حاصل کرنا ہے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ معتقدات کی نسبت ایسا یقین و اطمینان حاصل ہو جائے ۔

              یعنی جو عقیدے ہیں ہمارے، وہ اس طرح رچ بس جائیں، واضح ہو جائیں، جس پر قلب مطمئن ہو جائے۔ جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ رہے۔ اور درجۂ حال میں وہ چیز حاصل ہو جائے، وہ اصل میں یہ بات ہے کہ:

              معتقدات کی نسبت ایسا یقین و اطمینان حاصل ہو جائے شک ڈالنے والے کی شک اندازی سے زائل نہ ہو، اور شبہ کے پیش آنے سے باطل نہ ہو جائے، کیونکہ بحث و مباحثہ کے پاؤں لکڑی کے ہوتے ہیں، اور دلائل قائم رہنے والے نہیں ہوتے:

              مطلب دلائل میں انسان پھنستا ہے۔ بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مناظرہ شروع ہوا، اور جس وقت مناظرہ ختم ہوا تو یہ والا یہ بن گیا، تو یہ والا یہ بن گیا تھا۔ ایسا بھی ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے فرمایا کہ:

              پاؤں لکڑی کے ہوتے ہیں، اور دلائل قائم رہنے والے نہیں ہوتے:

              ﴿أَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ (الرعد: 28) "خبردار کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے دلوں کا اطمینان حاصل ہوتا ہے"۔

              اور اعمال کی بجا آوری کے لئے آسانی اور سہولت حاصل کریں، اور سستی و سر کشی جو نفس امارہ سے پیدا ہوتی ہے اس کو دور کریں، اور اسی طرح طریقہ صوفیہ کے سلوک کا مقصود یہ نہیں ہے کہ غیبی صورتوں اور شکلوں کا مشاہدہ اور طرح طرح کے انوار کا معائنہ کریں یہ تو خود لہو و لعب میں داخل ہیں۔

              بہت خوبصورت سلسلہ ہے نقشبندی۔ بہت خوبصورت سلسلہ ہے۔ بہت مضبوط بنیادوں پہ قائم سلسلہ ہے۔ لیکن افسوس، دراڑیں پڑ گئیں۔ اور جو چیزیں فائدے کے لیے تھیں ان کو نقصان کے لیے استعمال کیا گیا۔ تو حضرت کے مکتوبات شریف میں یہ چیزیں بکھری ہوئی ملیں گی آپ کو۔ مثلاً دیکھیں نا کیا فرمایا:

              کہ غیبی صورتوں اور شکلوں کا مشاہدہ اور طرح طرح کے انوار کا معائنہ کریں۔

              یہ بات فرمائی نا! تو جو مراقبات میں کشفیات کے رخ پہ نکل جائیں،

              تو خطرات شروع ہو جاتے ہیں۔ خطرات شروع ہو جاتے ہیں۔ جب تک انسان کے نفس کے اصلاح نہ ہو چکی ہو۔ ہر وقت وہ خطرے میں ہے۔ ہر وقت وہ خطرے میں ہے۔ کیونکہ نفس کی اصلاح جب ہو جاتی ہے، تو ذوق صحیح ہو جاتا ہے۔ مزاج صحیح ہو جاتا ہے۔ پسند ناپسند صحیح ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ان کشفیات سے خود ہی اعراض ہو جائے گا۔ ان چیزوں کی طرف پھر نہیں جائے گا۔

              اور جو صحیح کشف ہو گا، اسی کو ہی صرف لے گا۔ غلط چیزوں کی طرف نہیں، ان کو کوئی آدمی دھوکہ نہیں کر سکے گا غلط بات بتا کے۔ اس طرح کوئی غلط کشف بھی دھوکہ نہیں کر سکے گا۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ اس نے صحیح چیز کو پا لیا ہو گا۔ جب تک ایسا نہیں ہے وہ خطرے میں ہے۔ اس وجہ سے پہلی نیت جو ہے، انسان کی درست ہونی چاہیے۔ کہ میں کس لیے تصوف کو کر رہا ہوں؟ کس لیے میں سلوک کو طے کر رہا ہوں؟ کیا میں بزرگ بننے کے لیے کر رہا ہوں؟ یا اللہ پاک کا فرمانبردار بندہ بننے کے لیے کر رہا ہوں؟ اگر میں اللہ پاک کا فرمانبردار بندہ بننے کے لیے کر رہا ہوں، تو یہ ساری چیزیں مائنس جو اس کے علاوہ ہیں۔ اب ہمارا اس سے کوئی کام نہیں ہو گا۔

              تو وہ جو چیز اوّل ہے وہ اوّل ہے نا۔ جو چیز اوّل، اَلْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ۔ جو اصل چیز ہے، جو کہ ہماری اصلاح ہو جائے، وہ بنیادی چیز ہے نا، وہ تو پھر، مزید تو صرف تجاوزات ہیں، اضافے ہیں۔ تو اب یہ جو چیز ہے مطلب، یہ سلوک کا طے کرنا، یہ لازم ہے، اوّل ہے۔ وجہ کیا ہے؟ "قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا" پر عمل کرنا چاہتے ہیں آپ۔ تو "قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا" پر جو عمل ہے وہ نفس کے ساتھ متعلق ہے۔ وہ نفس کے ساتھ متعلق ہے۔ جب تک آپ کا نفس صاف نہیں ہوا، پاک نہیں ہوا، اس وقت تک آپ کی کوئی گفت پاک ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ آپ کی سماعت کے پاک ہونے کی گارنٹی نہیں ہے۔ آپ کی سوچ کے پاک ہونے کی گارنٹی نہیں ہے۔ آپ کے کشف کے صحیح ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ آپ ہر چیز میں خطرے میں ہیں۔ تو پہلے اپنے آپ کو محفوظ تو کرو!

              اب صورتحال یہ ہے کہ مراقبہ پر زور ہے۔ حالانکہ مراقبہ محض ایک ذریعہ ہے۔ مفید ذریعہ ہے، یہ نہیں کہ مطلب- نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ- غلط چیز ہے۔ مراقبہ ایک ذریعہ ہے۔ اس کو ذریعہ کی حد تک رکھو، اس کو مقصود نہ بنایا جائے۔ جس وقت آپ کو اتنا جذب حاصل ہو جائے، کہ اب آپ سلوک طے کر سکتے ہیں، تو فوراً سلوک طے کرنا۔ مزید دیر نہیں لگانی چاہیے۔ کیونکہ جو آپ کی اصل چیز ہے وہ آپ کے سامنے آ گئی۔ اس کو طے کر لو، اس کے بعد پھر ما شاء اللہ، پھر الحمد للہ چونکہ حفاظت میں آ جاؤ گے اللہ تعالیٰ کی، اس وجہ سے سلوک، جو سیر فی اللہ ہے، وہ آپ کے لیے سبحان اللہ کافی کھلا راستہ ہے۔ جتنا آگے بڑھ سکتے ہو، بڑھو۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن سب سے پہلے ان چیزوں کو تو درست کرو نا، کہ جو سلوک والی لائن ہے اس کو تو درست کر لو۔ تاکہ گناہ سے محفوظ ہو جاؤ۔ کیفیتِ احسان کو لوگوں نے مراقبہ سمجھا ہےاور نفس کی اصلاح کو بھی مراقبے کے ذریعے سے کرتے ہیں یہ خیالی چیزیں ہیں تصوراتی چیزیں ہیں۔ یہ معاملہ بہت دور تک چلا جاتا ہے۔ ایک دفعہ چیز De-track ہو جائے نا، تو پھر جتنا،جتنا وقت بڑھتا ہے، جو De-traction بڑھتی جاتی ہے۔

              تو اب صورتحال یہ ہے کہ مراقبے ہال بنے ہوئے ہیں اور اس میں مراقبے کیا کرتے ہیں، خیالات پالتے ہیں۔ اور پھر ان خیالات کی تشریحات کرتے رہتے ہیں۔ فلسفیانہ تصوف بن گیا ہے۔ اسی میں لگے رہتے ہیں۔ اور اتنا زبردست وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ ہمارے دشمنوں کو وہ راس آ جاتے ہیں۔ بات ثبوت سے کروں گا ان شاء اللہ۔ مجھے مفتی نعیم صاحب نے کہا، اس وقت ایک اہم عہدے پہ تھے کوہاٹ یونیورسٹی میں،اسلامیات ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ تھے۔ ان کو باقاعدہ حکومت کی طرف سے Instructions گئیں کہ شمس الدین عظیمی کی کتابیں وہ داخل کر لیں۔ اسلامیات کے نصاب میں تصوف کو داخل کر لیں اور تصوف کو شمس الدین عظیمی کی کتابوں سے لے لیں۔ وہ کیوں پسند آیا ان کو؟ کہ اس میں یہی چیزیں ہیں۔ اصل چیز ختم۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟

              روحانی ڈائجسٹ نام سنا ہے کہیں؟ روحانی ڈائجسٹ، عظیمی سلسلہ۔ اس کے پہلے جو back cover وہ ہے اس پہ ایک ننگ دھڑنگ تصویر ہے۔ ان کا وہ جو ان کے پیر ہیں۔ تاج الدین اولیاء۔ اور اس میں لکھا ہے، کہ وہ ایک کروڑ فائلیں ایک سیکنڈ میں سائن کرتے ہیں۔ خدا کے بندو، کیا کرنا چاہتے ہو؟ کیا کرنا چاہتے ہو؟ -نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ- وہی فلسفیوں والی بات ہے کہ اللہ پاک نے عقلِ اوّل کو پیدا کیا اب نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ اللہ پاک تو اب کچھ نہیں کر رہا، اب عقلِ اوّل نے عقلِ دوم کو پیدا کیا، اب عقلِ اوّل، دوم کر رہا ہے، اور یہ سارا سلسلہ جس طریقے سے، انہوں نے بھی نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ، اللہ پاک نے تاج الدین بابا اولیاء کو پیدا کر لیا، اب سارا کام وہی کر رہے ہیں۔ اب اللہ پاک نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ کچھ نہیں کر رہا۔ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔

              عقیدے سلامت رہ گئے؟ یہ بات یہاں تک چلی جاتی ہے۔ اس وجہ سے ضرورت ہے کہ ہم حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے طریقہ کار کو، نقشبندی سلسلے کے لیے انتہائی مستند سمجھیں۔ اس سے آگے پیچھے نہ ہوں۔ اس سے آگے پیچھے ہوں گے تو دشمنوں کو پسند آئیں گے۔ پھر ہمارا اپنے ساتھ کوئی کام نہیں ہوگا۔ اور یہ حال ہو گا کہ مراقبات کرتے رہیں گے، نفس کی شرارتیں زوروں پر ہوں گی۔ اور اپنے خیال میں کہہ دیں گے کہ سارا کچھ ہو گیا۔ میں آپ کو ایسی کتابیں دکھا سکتا ہوں نقشبندی سلسلے کے بعض حضرات کی جن کا یہ خیال ہے کہ وہ باقاعدہ انہوں نے لکھا ہے باقاعدہ۔ مجھے بلکہ ایک صاحب نے ایک کتاب دے دی، تو میں نے پوچھا کہ کون ہیں، جب پتہ چلا میں نے کہا بس ٹھیک ہے مجھے پتہ ہے کہ اس میں کیا لکھا ہوگا۔ تو کیا ہے؟ وہ میں ڈھونڈ رہا تھا اور مجھے وہ مل گیا۔

              تو اس میں یہ ہوتا ہے کہ وہ بزرگوں کی کتابوں سے واقعات لے لے کر، کاٹ کاٹ کر، وہ صحیح باتیں وہ کر کے نا، بتاتے ہیں کہ سب سے اونچا مقام یہ ہے، سب سے اونچا مقام عبدیت ہے اور پھر یہ اور فلاں۔ سارا لکھنے کے بعد اخیر میں کہتے ہیں، مجھے کشف ہو گیا کہ آپ کو یہ مقام حاصل ہو گیا۔

              چلو جی! چھٹی ہو گئی۔ کشف سے حاصل ہو گیا۔

              اگر غلام احمد قادیانی کہہ دے مجھے کشف ہو گیا کہ تو نبی ہے تو مان لو گے؟

              یہ کون سی بات ہے؟ یہ کشفیات سے فیصلے ہوتے ہیں؟ تو یہ اصل میں یہ

              والی بات ہے کہ پھر اس ٹریک پہ لوگ چل پڑتے ہیں۔ اس ٹریک پہ لوگ چل پڑتے ہیں۔ اس وجہ سے صحیح طریقہ کیا ہے؟ جذب کسبی بامرِ مجبوری ہے۔ جذبِ کسبی کیا ہے؟ بامرِ مجبوری ہے۔ کیونکہ لوگ سلوک طے کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اتنا جذب پیدا کر لو کہ سلوک طے کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ جب تیار ہو جاؤ تو سلوک طے کر لو۔ جب سلوک طے ہو جائے گا، دس مقامات تفصیل کے ساتھ طے ہو جائیں گے-سبحان اللہ- سیر الی اللہ مکمل ہو گیا۔ پھر سیر فی اللہ میں جتنا آگے جا سکتے ہو، جاؤ۔ جیسے ابھی میں نے عرض کیا تھا تھوڑی دیر پہلے، فرائض واجبات مکمل کر لو سننِ مؤکدات کے ساتھ، پھر اس کے بعد نوافل میں بہت بڑا میدان ہے آپ کے پاس۔ اس میں پھر آپ کو کوئی روکے گا نہیں۔ نوافل کا بہت بڑا میدان ہے۔ جتنا آگے جا سکتے ہو۔ چاہے نفلی صدقات میں جانا چاہتے ہو، چاہے نفلی رفاہی کام میں جانا چاہتے ہو، چاہے نفلی عبادات میں جانا چاہتے ہو، یہ سارے کے سارے نفلی معاشرت کے، یہ سارے کے سارے راستے آپ کے لیے کھلے ہیں۔ پھر جتنا جا سکتے ہو۔ طریق کیا ہے؟ اس کے ذریعے سے آپ اللہ پاک کا قرب حاصل کر لو، ٹھیک ہے۔ لیکن فرائض واجبات کے بعد۔ فرائض واجبات اور سنن مؤکدہ کے بعد، بات سمجھ میں آ رہی ہے نا؟

              بعینہ اس طریقے سے اپنا سلوک طے کر لو۔ جو لازم اور فرض ہے۔ فرض سلوک طے کر لو، پھر اس کے بعد جاؤ نا آگے، سیر فی اللہ کے لیے آپ کے پاس کوئی Limited میدان تو نہیں ہے۔ جتنا ذکر کر سکتے ہو پھر کرو، جتنی تلاوت کر سکتے ہو کر سکتے ہو تو کرو، جتنے لوگوں کی خدمت کر سکتے ہو تو کرو۔ جو جو آپ کے لیے مواقع ہیں وہ سارے کے سارے استعمال کر لو، آگے بڑھتے رہو۔ ان شاء اللہ کبھی کوئی نہیں روکے گا۔ آپ چلتے جائیں، چلتے جائیں، چلتے جائیں۔ اور اگر آپ کے ذمے کوئی خدمت لگ گئی اس کو کرتے رہو۔ لیکن یہ تو نہیں نا کہ- نَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ- ابھی وہ فرائض پورے نہیں واجبات پورے نہیں اور آپ، ان چیزوں میں لگ جائیں۔ ٹھیک ہے نا یہ والی بات ہے۔



              وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


              مکتوباتِ مجدد الف ثانیؒ کی روشنی میں ولایت، کشف اور کرامات کی حقیقت - اصلاحی جوڑ