سلام کی شرعی حیثیت، معاشرتی اہمیت اور افشائے سلام کے آداب

درس نمبر 194، سورۃ النساء: آیات: 86 تا 87- اشاعتِ اول: 9 جون، 2022، بمطابق 9 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* سلام کا قرآنی حکم اور جواب دینے کے درجات و فضیلت۔

* دین کے پانچ اہم شعبے: عقیدہ، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق کا باہمی ربط۔

* امت کی معاشرت و معاملات سے دوری اور مجددِ وقت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمة الله عليه کی تجدیدی کوششیں اور فکر۔

* احادیث کی روشنی میں افشائے سلام (سلام پھیلانے) کا حکم اور اس کے معاشرے پر مثبت و پرامن اثرات۔

* اجنبیوں کو سلام کرنے کی اہمیت اور باہمی تعلقات کی استواری۔

* سلام کے کلمات کی آخری حد (وبرکاتہ) اور اس کے جواب میں مسنون کلمہ (وعلیک) کا استعمال اور اس کی گرامر۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَاؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًاٜ (86) اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا (87)


صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔


اور جب تمہیں کوئی شخص سلام کرے تو تم اسے اس سے بھی بہتر طریقے پر سلام کرو، یا (کم از کم) انہی الفاظ میں اس کا جواب دے دو۔


سلام بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کے حضور ایک سفارش ہے، اس لئے سفارش کا حکم بیان کرنے کے ساتھ سلام کا حکم بھی بیان فرما دیا گیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ پسندیدہ بات تو یہ ہے کہ جن الفاظ میں کسی شخص نے سلام کیا ہے اس سے بہتر الفاظ میں اس کا جواب دیا جائے، مثلاً اگر اس نے صرف "السلام علیکم" کہا ہے تو جواب میں "وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ" کہا جائے، اور اگر اس نے "السلام علیکم ورحمۃ اللہ" کہا ہے تو جواب میں "وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ" کہا جائے، لیکن اگر بعینہ اسی کے الفاظ میں جواب دے دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے، البتہ کسی مسلمان کے سلام کا بالکل جواب نہ دینا گناہ ہے۔


آپ ﷺ نے معاشرتی امور کے بارے میں بڑی رہنمائی فرمائی ہے۔ اور یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ سب سے اہم چیز جو ہے نا وہ عقیدہ ہے، اس کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہے۔ اور اس کے بعد سب سے پہلے جو چیز انسان کے اوپر لازم ہوتی ہے وہ عبادت ہے، اور عبادت کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔ اور انصاف پر زندگی گزارنے کے لیے معاملات ہیں، کہ معاملات انسان کے صاف ہوں۔ اور عقیدہ اور عبادات اور یہ انصاف آپس ميں یہ پورے معاشرے کے اندر صحیح طور پر عام ہو، اس کے لیے معاشرت ہے۔ اور پھر یہ تمام چیزیں کس طرح قائم ہو سکتی ہیں، اس کے لیے اخلاق ہے۔ مطلب گویا کہ یہ تمام چیزیں باہم مربوط ہیں۔


عموماً آج کل بعض لوگ عقیدے کی بات کرتے ہیں، باقی چیزوں کے بارے میں بے پروا ہوتے ہیں۔ بعض لوگ عقیدے کے ساتھ عبادات پر بھی زور دیتے ہیں، لیکن اگر کسی کی عبادات ہوں تو پھر اپنے آپ کو بس بزرگ سمجھ لیتے ہیں، باقی کام اپنے ذمے نہیں سمجھتے۔ اور کچھ لوگ معاملات کو بھی دین سمجھ لیتے ہیں، لیکن معاشرت سے تو بالکل ہی بے بہرہ ہوتے ہیں۔ اور اس پر بات بھی بہت زیادہ نہیں ہوتی، جس وجہ سے لوگوں کی اس کے بارے میں لاعلمی بہت زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔


تو اس دور کے مجدد حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے سب سے زیادہ زور اس پر دیا ہے، تاکہ یہ چیز دوبارہ نہ شروع ہوجائے بہت خرابی کی حد تک نہ پہنچے۔ تو میں عرض کر رہا تھا کہ اسلام نے ان تمام چیزوں کے لیے بڑی رہنمائی فرمائی ہے، تو ابھی یہ قرآن پاک کے الفاظِ مبارک ہیں کہ سلام مطلب یہ ہے کہ سلام جو ہے یہ کرنا چاہیے۔


تو سلام اللہ جل شانہ کی طرف سے گویا کہ یہ ہے کہ جب ایک دوسرے کے ساتھ ملیں، تو ایک دوسرے کو اچھے الفاظ کے ساتھ ہم مخاطب کریں ابتدا میں، اور وہ ہے "السلام علیکم" جو کہ ایک دعا ہے۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:

﴿أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا بِا للَّیْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ﴾


یعنی: سلام کو پھیلاؤ، اور لوگوں کو کھانا کھلاؤ، اور صلہ رحمی کرو، اور نماز قائم کرو اس وقت میں جب لوگ سو رہے ہوں، تو جنت میں آرام کے ساتھ، سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ یہ بات فرمائی گئی ہے۔


اب ذرا غور فرمائیں کہ سلام پھیلانے کو ابتدا میں فرمایا گیا ہے: "سلام پھیلاؤ"۔ تو سلام پھیلانے سے باقاعدہ سلامتی پھیلتی ہے، تو پورا معاشرہ درست ہوتا جاتا ہے۔ الحمد للہ، اللہ کا شکر ہے کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب ہم کسی اجنبی کو سلام کرتے ہیں، تو اس کے جذبات بھی ہمارے لیے اچھے ہو جاتے ہیں۔ ایک اجنبی ہوتا ہے وہ ہمیں جانتا بھی نہیں ہے، لیکن آپ جاتے جاتے سلام کر لیں تو وہ بھی آپ کو بہت اچھی طرح سلام لے لے گا۔ ہمارے مسلمانوں کے ملک میں، اور آئندہ اگر آپ سے غلطی ہو جائے یعنی مطلب یہ ہے کہ آپ کو پتہ نہ چلے تو وہ پہل کرے گا، مطلب وہ وہ سلام کرے گا، گویا کہ اس سے آپس میں باہمی رابطہ شروع ہو گیا۔

لیکن ہمارے ہاں یہ مسئلہ ہے کہ ہم لوگ سلام جو کرتے ہیں، وہ صرف جاننے والے کو یا کسی رشتہ دار کو کرتے ہیں۔ تو اس سے پھر وہ چیز نہیں بنتی، وہ تو پہلے سے ہمارے آپس میں تعلق ہے، تو اس سے وہ سلام سے تو وہ زندہ نہیں ہو رہا۔ ہاں البتہ باقی رہتا ہے۔ لیکن جب ہم اجنبی کو سلام کرتے ہیں تو ان کے ساتھ بھی ہمارا تعلق بن جاتا ہے۔ اور اس کو باقاعدہ میں نے ٹیسٹ کیا ہے، جیسے سائیکلوں پہ جب ہم جاتے تھے نا، تو اگر کسی سائیکل والے سے ہم آگے ہوتے تھے نا تو اگر ہم نے سلام نہیں کیا تو اس کو بھی مقابلے کی صورت پیدا ہوتی تھی کہ مجھ سے آگے کیوں ہو گیا ہے۔ لیکن جب ہم جاتے جاتے کہتے ”السلام علیکم“ تو ما شاء اللہ پھر ان میں یہ بات نہ ہوتی۔ تو گویا کہ یہ سلامتی باقاعدہ عملی طور پر پیش ہو جاتی ہے اور ما شاء اللہ آپس میں رابطہ بن جاتا ہے۔


تو ہمیں سلام میں پہل کرنی چاہیے۔ حکم یہاں پر جو فرمایا گیا ہے جو ترجمے میں، یہ تو اسی طرح ہی ہے۔ البتہ آپ ﷺ چونکہ جیسے ہر چیز کی ایک حد مقرر ہوتی ہے نا، تو حد مقرر کرنے والے پھر آپ ﷺ ہیں، اس کی ترتیب بتاتے ہیں کہ قرآن پاک کا مطلب کیا ہے۔ تو ایک صحابی نے اس طرح پورا فرمایا: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وعلیک“۔ تو ان کو بڑی حیرت ہوئی، کیونکہ مطلب بہتر طریقے سے جواب دینے کا وہ ہے۔ تو پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ آپ نے صرف یہ کیوں فرمایا؟ فرمایا: آپ نے ساری چیزیں پوری کر لیں تو میں نے آپ کی طرف لوٹا دیں۔ یعنی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، تینوں اگر ہو گئے تو اس کے بعد پھر مزید برکات تو پھر تو لمبا ہوتا جاتا، لمبا ہوتا جاتا تو اس کی حد ہی نہ ہوتی۔

تو حد مقرر کر دی کہ جب بس اگر یہاں تک ہو گیا، کسی نے کہا ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ بھی کہہ دیا تو آپ پھر کہہ دیں ”وعلیک“ تاکہ وہ ساری چیزیں اس کی طرف... اس سے ما شاء اللہ ایک معتدل صورت بن گئی۔ تو یہیں پر یہ ہے کہ، اکثر میں یہ جو ”وعلیک“ کا لفظ استعمال کرتا ہوں زیادہ تر، یہ خواتین جب مجھے واٹس ایپ کرتی ہیں، تو میں ان کے لیے ”وعلیکِ“ کہہ دیتا ہوں۔ اس میں ایک حکمت ہے۔ کیونکہ ”وعلیکم السلام“ یہ جو ہے نا مردوں کا صیغہ ہے۔ مردوں کے لیے ہے نا، ورنہ عورتوں کے لیے تو ”وعلیکُنَّ“ ہو جائے گا۔ تو وہ یہ ہے کہ پھر ان کو چونکہ پتہ نہیں لگے تو میں ”وعلیک“ کہہ کر، تو ”وعلیک“ میں چونکہ کاف کے اوپر زبر یا کاف کے نیچے زیر، یہ تو لگایا نہیں جاتا، تو ہر ایک اپنے اپنے مطلب کا لے لے گا۔ مرد ”وعلَیکَ“ لے لے گا اور عورت اپنے لیے ”وعلَیکِ“ لے لے گی۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ وہ گرامر کے لحاظ سے یہ صحیح ہو جائے گا۔ ورنہ یہ ہے کہ پھر اس کو باقاعدہ اسی طریقے سے کرنا پڑے گا، وہ یعنی اعراب لگانے پڑیں گے، اس سے پھر ان کو سمجھ آئے گا۔

لیکن بہرحال، یہ تو ایک درمیان میں بات آ گئی۔ اصل بات یہی ہے کہ ہمیں جواب اچھی طرح دینا چاہیے، جواب اچھی طرح دینا چاہیے اور بہتر الفاظ میں دینا چاہیے۔ قرآن کا حکم یہ ہے۔ اور اگر کوئی بہترین الفاظ میں پہلے سے کہہ دے، تو ان کو انہی الفاظ میں واپس لوٹا دیا جائے۔ حدیث شریف سے یہ معنی معلوم ہو گیا۔

وآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔








سلام کی شرعی حیثیت، معاشرتی اہمیت اور افشائے سلام کے آداب - درسِ قرآن - دوسرا دور