ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے کا اجر: بے زبانوں سے رحم دلی اور اخلاص کی برکات

بَابٌ فِىْ بَيَانِ كَثْرَةِ طُرُقِ الْخَيْرِ، درس نمبر: 186، حدیث نمبر: 126، اشاعتِ اول: 23 جنوری، 2023 بمطابق 30 جمادی الثانی 1444 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

جانوروں کے ساتھ ہمدردی اور ان کی خدمت کرنے پر بے پناہ ثواب مقرر ہے، کیونکہ "فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ" (ہر جاندار میں ثواب ملتا ہے)۔ بظاہر معمولی نظر آنے والا کوئی بھی نیک عمل اگر سچے دل سے کیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کو پسند آ جائے، تو اس کی برکت سے انسان کے عمر بھر کے تمام گناہ بخش دیے جاتے ہیں اور اسے جنت نصیب ہوتی ہے۔ اس لیے ہر عمل میں اخلاص کی خوب کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ اللہ کی رضا کا سبب بنے اور آخرت میں ہمارا بیڑا پار ہو جائے۔

الحمد للہ رب العالمین، الصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین۔ اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

ایک کتے کو پانی پلانے سے جنت

(126) الْعَاشِرُ؛ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقِ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي كَانَ قَدْ بَلَغَ مِنِّي، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَاءَ خُفَّهُ مَاءً ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ، حَتَّى رَقِيَ فَسَقَى الْكَلْبَ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ فَقَالَ: فِي كُلِّ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ" (متفق عليه)

و في رواية للبخاري "فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ، فَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ." وَ فِي رِوَايَةٍ لَهُمَا: "بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ قَدْ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَاسْتَقَتْ لَهُ بِهِ، فَسَقَتْهُ فَغُفِرَ لَهَا بِهِ."

"الْمُوْقُ": الْخُفُّ "وَ يُطِيْفُ": يَدُورُ حَوْلَ "رَكِيَّةٍ" وَ هِيَ الْبِئْرُ۔

ترجمہ: "حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی راستہ پر چل رہا تھا کہ وہ شدید پیاسا ہو گیا، اس نے کنواں پایا، اس میں اترا، پانی پیا، باہر آگیا تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا سخت پیاس کی وجہ سے زبان باہر نکالے ہوئے ہے اور کیچڑ کھا رہا ہے، آدمی نے محسوس کیا کہ اس کتے کو شدید پیاس لگی ہوئی ہے جیسا کہ مجھے شدید پیاس لگی تھی۔ چنانچہ وہ کنویں میں اترا اور اپنے موزہ کو پانی سے بھرا، پھر اس کو منہ کے ساتھ پکڑا اور اوپر چڑھ آیا، کتے کو پانی پلایا، اللہ نے اس کے عمل کی قدر فرماتے ہوئے اس کو معاف کر دیا۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ جانوروں کے ساتھ ہمدردی کرنے میں ثواب ملتا ہے؟ فرمایا: ہر جاندار میں ثواب ملتا ہے۔“

تشریح: بخاری کی روایت میں ہے اللہ نے اس کے عمل کی قدر دانی کرتے ہوئے اس کی مغفرت فرما دی اور اس کو جنت میں داخلہ دے دیا۔

صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ ایک کتا کنویں کے اردگرد گھوم رہا تھا قریب تھا کہ پیاس سے ہلاک ہو جاتا، اچانک بنی اسرائیل کی ایک فاحشہ عورت کی اس پر نظر پڑی اس نے اپنا موزہ اتارا اس کے ساتھ پانی کھینچا اور اس کو پلا دیا چنانچہ اس کی وجہ سے اس کو معاف کر دیا گیا۔

تو اس سے مطلب علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کا کوئی عمل اللہ کو پسند آ جائے تو اس کی برکت سے اس کی عمر بھر کے تمام گناہ اللہ تعالی بخش دیتے ہیں۔ اور اس لیے ہر عمل میں اخلاص کی خوب کوشش کرنی چاہیے تاکہ وہ عمل اللہ کو پسند آ جائے اور ہمارا بیڑا پار ہو جائے۔

ایک پیاسے کتے کو پانی پلانے کا اجر: بے زبانوں سے رحم دلی اور اخلاص کی برکات - درسِ ریاضُ الصالحین - دوسرا دور