تخلیقِ کائنات میں تفکر، ذکرِ الٰہی اور حقیقی عقل مندی
خطبات الاحکام سے خطبہ نمبر 37: تفکر کے بیان میں، اشاعت اول: 6 جنوری، 2023 بمطابق 13 جمادی الثانی 1444 ھ
- قرآن مجید کی روشنی میں 'اولی الالباب' (عقلمندوں) کی نشانیاں۔
- سائنسی تحقیق (Research) اور قرآنی تفکر کا باہمی ربط۔
- دنیاوی زندگی (Finite) اور آخرت (Infinite) کا تقابلی موازنہ۔
- حقیقی ذکر کی تعریف (گناہوں سے بچنا) اور اصلاحِ نفس کے لیے کامل رہنما کی ضرورت۔
- موریس بوکائلے (Maurice Bucaille) اور دیگر مغربی سائنسدانوں کے تفکر اور قبولِ اسلام کے واقعات۔
- خارجی روشنی (علم) اور داخلی روشنی (دل کی صفائی) کا فرق۔
- نفسِ مطمئنہ کا حصول، عبدیت اور 'الرفیق الاعلیٰ' کی طرف سفر۔
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علی خاتم النبیین، اما بعد! فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم۔
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ﴿190﴾ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَـٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿191﴾
وقال الله تعالى: أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
وقال الله تعالى: أَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ مِهَادًا ﴿6﴾ وَالْجِبَالَ أَوْتَادًا ﴿7﴾ وَخَلَقْنَاكُمْ أَزْوَاجًا ﴿8﴾ وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا ﴿9﴾ وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ لِبَاسًا ﴿10﴾ وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا ﴿11﴾ وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا ﴿12﴾ وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا ﴿13﴾ وَأَنزَلْنَا مِنَ الْمُعْصِرَاتِ مَاءً ثَجَّاجًا ﴿14﴾ لِّنُخْرِجَ بِهِ حَبًّا وَنَبَاتًا ﴿15﴾ وَجَنَّاتٍ أَلْفَافًا ﴿16﴾
وقال الله تعالى: قُتِلَ الْإِنسَانُ مَا أَكْفَرَهُ ﴿17﴾ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهُ ﴿18﴾ مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ ﴿19﴾ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ ﴿20﴾ ثُمَّ أَمَاتَهُ فَأَقْبَرَهُ ﴿21﴾ ثُمَّ إِذَا شَاءَ أَنشَرَهُ ﴿22﴾ كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ ﴿23﴾
فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ ﴿24﴾ أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا ﴿25﴾ ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا ﴿26﴾ فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا ﴿27﴾ وَعِنَبًا وَقَضْبًا ﴿28﴾ وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا ﴿29﴾ وَحَدَائِقَ غُلْبًا ﴿30﴾ وَفَاكِهَةً وَأَبًّا ﴿31﴾ مَّتَاعًا لَّكُمْ وَلِأَنْعَامِكُمْ ﴿32﴾
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نُزُولِ: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَيْلٌ لِمَنْ قَرَأَهَا وَلَمْ يَتَفَكَّرْ فِيهَا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: أَنَّ قَوْمًا تَفَكَّرُوا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَفَكَّرُوا فِي خَلْقِ اللَّهِ، وَلَا تَتَفَكَّرُوا فِي اللَّهِ، فَإِنَّكُمْ لَمْ تَقْدِرُوا قَدْرَهُ۔
أعوذ بالله من الشيطان الرجيم: فَانظُرْ إِلَىٰ آثَارِ رَحْمَتِ اللَّـهِ كَيْفَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿50﴾
صَدَقَ اللَّهُ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
بزرگو اور دوستو! انتہائی خوشی کی بات ہے کہ آپ کی خدمت میں ایک علمی سلسلے میں حاضری ہوئی ہے۔ آپس میں لوگ ملتے ہیں دنیا کے لیے، وہ بھی جائز ہے اگر جائز دنیا کے لیے ملتے ہوں۔ لیکن جب دین کے لیے ملنا ہوتا ہے تو اس کی بات اور ہوتی ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا بہت خاص فضل ہوتا ہے کسی پر بھی، اور اگر آپس میں ملاقات ہو کسی وقت اللہ کے لیے آپس میں دو یا دو سے زیادہ کی، تو مصافحہ سے پہلے پہلے جانبین کی مغفرت ہو جاتی ہے۔ الحمد للہ، تو یہ بہت بڑی بات ہے۔
ابھی جو میں نے چند آیات مبارکہ تلاوت کی ہیں، اس میں ہم لوگوں کے لیے بہت بڑا پیغام ہے۔ ہم لوگوں سے مراد کیا ہے؟ ہے تو عمومی طور پر سب کے لیے، لیکن خصوصی طور پر میں عرض کروں گا کہ جن میں ہم شامل ہیں، یعنی science کے اوپر کام کرنے والے، engineering پہ کام کرنے والے، medical line پہ کام کرنے والے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے سے تحقیق کر رہے ہیں۔ research کر رہے ہیں، اپنی اپنی چیزوں پہ research کر رہے ہیں۔ ابھی میں نے آیت کریمہ جو تلاوت کی آپ حضرات اس کے ترجمے پہ ذرا غور کر لیں۔
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، جس وقت سماوات اور ارض دونوں آ جائیں تو یہ پوری کائنات کے لیے بولا جاتا ہے۔
وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، اور دنوں اور راتوں کے آپس میں ایک دوسرے کے پیچھے آنے میں جو اختلاف ہوتا ہے، اس میں،
لَآيَاتٍ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ، عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ لیکن یہ عقلمند کون لوگ ہیں؟ دیکھیں ایک میری تعریف ہے، آپ کی تعریف ہے، وہ بہت پیچھے کی بات ہے۔ ایک تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یعنی اللہ پاک نے جس چیز کو جس طرح بیان کیا ہے۔ ہم لوگ research کے ذریعے سے آگے بڑھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ بالکل ابتدا سے شروع کرتے ہیں، جو کچھ جانتے ہیں اس کی بنیاد پر کام شروع کرتے ہیں، پھر اس کے ذریعے سے مزید جان لیتے ہیں، پھر جب وہ knowledge ظاہر ہے یعنی سامنے آ جاتا ہے journals کی صورت میں، کتابوں کی صورت میں، اس پر مزید تحقیق ہوتی ہے تو اس میں مزید چیزیں آ جاتی ہیں، پھر اس پہ کام ہوتا ہے اس میں مزید چیزیں، مطلب یہ چیزیں بڑھتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ سارے کے سارے ترقی یافتہ نہیں ترقی پذیر ہیں، مطلب ابھی ترقی ہو رہی ہے ان میں، developing ہے۔ Research and development R&D اس کو کہتے ہیں نا؟ یہ development ہے۔
جبکہ اللہ جل شانہ جس نے ان ساری چیزوں کو بنایا ہے، اس کو آخری نتیجے کا پتہ ہے۔ آخری چیزوں کا بھی پتہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ماضی، حال اور مستقبل سب ایک جیسے ہیں۔ اس لیے قرآن پاک میں بعض دفعہ مستقبل کے حالات "کان" کے ذریعے سے بیان کیے گئے ہیں۔ جیسے ماضی کی بات ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ آخری بات ہم تک پہنچاتے ہیں، اگر نبی نے اللہ تعالیٰ کی بات ہم تک پہنچائی، وہ آخری بات ہوگی۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ تو جو آخری بات ہے اس پہ تو کوئی بات نہیں ہو سکتی۔
تو اب یہ میں ابھی سوچوں گا کہ عقلمند کون لوگ ہیں، آپ بھی سوچیں گے، کوئی بہت بڑے سے بڑا ذہین بھی سوچے گا، لیکن ساری کی ساری development والی باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی جو بات ہے وہ آخری ہے۔ تو اللہ پاک کس کو عقلمند کہتے ہیں؟ "الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَـٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"۔
"عقلمند وہ لوگ ہیں جو کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں"۔ ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ اور کیا ہوتا ہے؟ دل سے ایک بات نکلتی ہے۔ "رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَـٰذَا بَاطِلًا"۔ "اے رب ہمارے! تو نے ان تمام چیزوں کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا"، لایعنی کام تو نے نہیں کیا۔ Just for nothing یہ چیزیں نہیں ہیں۔ اس کے اندر بڑی حکمتیں ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے اس میں رکھی ہوئی ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹے ذرے میں بھی بڑی حکمتیں ہیں۔ تو اللہ پاک نے اس پوری کائنات کو جو پیدا کیا ہے اس میں بہت زیادہ حکمتیں ہیں۔
لیکن ہم کہتے ہیں سُبْحَانَكَ، تو تمام عیوب سے پاک ہے۔ یعنی ہماری سوچ بھی بالکل باطل ہوگی اگر ہم کہہ دیں کہ یہ ایک ویسے ہی چیز پیدا کی گئی ہے۔ سُبْحَانَكَ۔ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ تو پس جس وقت انسان کو اپنے مستقبل کا علم یقینی ہو جاتا ہے کہ اس قسم کی چیزیں ہو سکتی ہیں، تو اس سے بچنے کی دعا کرے گا یا نہیں کرے گا؟ تو ظاہر ہے پھر یہ دعا ہے "فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"۔ اس کا مطلب ہے عقلمند لوگ اس چیز کے بارے میں فکر کرتے ہیں۔
اب دیکھیں limited بات، limited سوچ۔ مثلاً میں یہاں کے جن کو عقلمند کہا جاتا ہے میں ان کی بات لے لوں، تو کیا کرے گا جی؟ میں پڑھوں، پھر بڑے اچھے نمبروں سے پاس ہو جاؤں، professional میں اس میں مجھے داخلہ مل جائے، پھر اس کو بھی کلیئر کر لوں، پھر یہ PhD کر لوں، پھر اس کے بعد بڑی اچھی job مل جائے، پھر یہ ہو جائے وہ ہو جائے، بڑا عالی شان بنگلہ بناؤں، نوکر چاکر، اس میں کامیاب ہو جاؤں۔ بڑا عقلمند! کیا خیال ہے؟ اس سے زیادہ کی سوچ ہے کسی کی؟ یہی عقلمند ہے نا۔
لیکن یہ عقلمند آدمی جس وقت final year engineering میں پاس ہو گیا اور اگلے دن فوت ہو گیا۔ کدھر گئی اس کی عقل کی بات؟ کوئی فائدہ ملا اس کو؟ کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا، ساری عمر ٹھوکریں کھائیں اور کچھ بھی نہیں ملا۔ ٹھیک ہے نا، یہ ایک بات۔ دوسری بات؛ ٹھیک ہے جی سارا کچھ اسے مل گیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے سکون دل سے چھین لیا۔ کامیاب ہوگیا؟ ناکام ہے۔
بھئی یہ دنیا کی چیزیں یہ چند روزہ ہیں۔ بہت تھوڑی ہیں۔ اس لیے اس کو "ثَمَنًا قَلِيلًا" فرمایا ہے۔ "ثَمَنًا قَلِيلًا" فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں۔ مطلب بس چند ٹھیکریوں کی چیزیں جیسے ہوتی ہیں۔ اب اس کے اوپر اگر کوئی مر مٹ کر انسان وہ اپنے اعلیٰ مقصد کو بھول جائے اور اس کو چھوڑ دے تو اس کو عقلمند کہا جا سکتا ہے؟ بس یہی بات ہے۔
دیکھیں ایک شخص ایک گھر بناتا ہے۔ گھر بنتا ہے تقریباً چھ مہینے میں، سال میں، آج کل کے لحاظ سے جو بھی ہو۔ پیسہ بھی کافی لگتا ہے۔ گھر بنا لیا، خوش ہو گیا، پارٹی وارٹی بھی ہو گئی۔ کتنا فائدہ اس گھر سے اٹھائے گا؟ کتنا عرصہ؟ maximum موت تک۔ اس سے زیادہ تو نہیں؟ ورنہ پھر تو یہی جو اس کے باسی ہوں گے وہی نکال دیں گے اس کو۔ اب یہ فائدہ یہاں تک ہے۔ لیکن اگر آپ نے اللہ کا ذکر کیا، "الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّـهَ"، آپ سب کہیں سبحان اللہ۔ (سبحان اللہ) الحمد للہ۔ آپ سب کا ایک ایک درخت جنت میں ان شاء اللہ آپ کے لیے لگ گیا۔ جس کے بارے میں فرماتے ہیں پانچ سو سال اس کے نیچے اگر کوئی دوڑتا رہے پھر پورا نہیں کر سکتا گھوڑے پر۔ اب یہ درخت آپ سب کے لیے لگ گیا۔ اور یہ درخت کتنے سالوں کے لیے لگ گیا؟ دو سال کے لیے؟ چار سال کے لیے؟ ایک لاکھ سال کے لیے؟ نہیں، ہمیشہ کے لیے۔
تو اب دیکھیں آپ نے اس پر اتنی محنت کی، اتنا پیسہ لگایا، اتنا اور اس میں یہ ٹائم گزرا اور آپ کو اس کا فائدہ اتنا ہوا، اس کی ایک ratio ہے۔ اس ratio کو معلوم کر سکتے ہیں آپ کہ اتنا فائدہ آپ کو ہوا۔ جبکہ اس ذکر کے ذریعے سے جو آپ کو ملا اس کی کوئی ratio نہیں ہے۔ کوئی ratio نہیں۔ کیونکہ infinite کے ساتھ ایک finite چیز کی کیا ratio ہے؟ کوئی ratio نہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بڑے عقلمند لوگ ہیں۔ بڑے عقلمند لوگ ہیں جو کہ اتنی زبردست چیز کے لیے وہ محنت کر رہے ہیں۔ ہمیشہ کے لیے کام آنے والی چیز، ہمیشہ کے لیے کامیاب ہونے والی چیز، اس پہ ہی محنت کر رہے ہیں۔
دیکھیں ایک بات اور بھی عرض کروں۔ کہیں اس میں گم نہ ہو جانا۔ ذکر جو ہوتا ہے نا، ایک ذکر تو یہ ہے جیسے میں کہوں "سبحان اللہ" یا "الحمد للہ" یا "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ" یا "اَللّٰهُ أَكْبَرُ" کہہ دوں، یہ صورتِ ذکر ہے، ابتدا ہے۔ یہ ابتدا ہے۔ یہ بھی عبث نہیں ہے جیسے میں نے ابھی فضیلت بیان کی۔ لیکن اصل ذکر کون سا ہے؟ اصل ذکر وہ ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اصل ذکر وہ ہے جس کے ذریعے سے انسان گناہ سے رک جائے۔ اللہ کی یاد، اب دیکھیں نا آپ جہاں بھی ہوں گے تو آپ کو یاد ہوگا کہ میں فلاں job پر ہوں۔ جہاں بھی ہوں گے تو آپ کو یاد ہوگا کہ میں پاکستان کا ہوں۔ جہاں پر بھی ہوں گے تو آپ کو یاد ہوگا کہ میں فلاں شہر کا ہوں، فلاں خاندان کا ہوں۔ یہ باتیں آپ کے لیے پکی ہیں۔ یہ آپ کو یاد ہیں۔ اس کے لیے آپ بار بار بولیں گے نہیں، نہ بولنے کی ضرورت ہے، لیکن وہ آپ کو یاد ہیں۔ اسی طریقے سے اللہ یاد ہو جائے۔ بس۔ کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اور بندے کا کام کیا ہے؟ اپنے آقا کے خلاف نہ کرنا۔ وہ جس چیز پر ناراض ہوتا ہے، اس کام کو نہ کرنا۔ جس چیز پر خوش ہوتا ہے، اس کام کو کرنا۔ یہ اس کے اندر رچ بس جائے، یہ اصل ذکر ہے۔
اور یہ ذکر اصلاحی ذکر کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے۔ یہ جو میں نے ابھی بات کی ہے ثوابی ذکر ہے۔ ثوابی ذکر کا قرآن و حدیث کے ذریعے سے ثواب کا پتہ چلتا ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں: "فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ"۔ پس مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ وہ ثواب والی بات ہے۔ لیکن یہ جو اصلاح والے ذکر ہیں یہ آپ کے اندر یہ چیز پیدا کریں گے جو میں نے ابھی عرض کی ہے کہ آپ گناہ نہ کر سکیں۔ گناہ کی طرف آپ نہ جا سکیں۔ بزرگوں نے کہا "جس دم غافل اس دم کافر"۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن یعنی انکار کرنے والا، کافر سے مراد انکار کرنے والا۔ یہ نہیں کہ وہ اعتقادی کافر، یعنی مطلب یہ ہے کہ انسان عملاً انکار کر جاتا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ جس وقت انسان غافل ہوتا ہے، اس وقت وہ اللہ پاک کے احکامات کی پرواہ نہیں کرتا۔ اور جس وقت اللہ پاک کو یاد رکھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کے احکامات اس کے سامنے ہوتے ہیں، اس کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔ اور یہی کامیابی ہے۔
یہ جو دو قسم کا ذکر میں نے آپ حضرات کے سامنے عرض کیا نا یہی وہ چیز ہے جس کو بعض لوگ نہیں سمجھتے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ بس ٹھیک ہے نا جی قرآن میں حدیث میں جو ذکر آیا ہے وہ ہم کر رہے ہیں نا اور کیا کریں؟ ٹھیک ہے جی بلکل یہ ہے لیکن آپ کے اندر وہ تبدیلی آجائے نا۔ کیوں؟ دیکھیں میں آپ کو بات بتاوں، ذلر چاہے کتنا ہی اونچا ہو ہے تو مستحب نا! ہے تو مستحب۔ یہ جو ذکر ہم کررہے ہیں ابھی آپ نے جو "سبحان اللہ" کہا کیا فرض تھا آپ کے اوپر؟ مستحب تھا نا! اور حرام سے بچنا کیا ہے؟ فرض ہے۔ تو جو گناہ کبیرہ ہے، اس سے بچنا فرض ہے نا؟ تو جو ذکر آپ کے اندر یہ تبدیلی لائے کہ آپ گناہ کبیرہ سے بچ جائیں تو وہ فرض ہوگا۔ تو میں نے آپ کو مستحب کا یہ ثواب بتا دیا، تو فرض کا کیا ثواب ہوگا، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو اگر آپ یہ ذکر شروع کر لیں، مطلب ظاہر ہے کسی سے لینا پڑتا ہے، کسی سے سیکھنا پڑتا ہے۔ جیسے medical کی کتابوں کی پوری کی پوری الماری آپ کے ساتھ بھری ہو نا، تو کیا اس کا علاج خود کر سکتے ہیں اگر آپ ڈاکٹر نہیں ہیں؟ آپ نہیں کر سکتے۔ اس کے لیے آپ کو ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ بعینہٖ یہی بات ہے کہ آپ کو یہ ساری چیزیں معلوم ہوں لیکن آپ اپنی اصلاح خود نہیں کر سکتے۔
اپنی اصلاح خود کیوں نہیں کر سکتے؟ اس کی میں آپ کو وجہ بتاؤں۔ آپ ما شاء اللہ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، روزمرہ کام کرتے ہیں آپ۔ آپ کا ایک خراب میٹر ہو، کوئی خراب میٹر ہے جو آپ کو صحیح reading نہیں دیتا۔ آپ اس reading کی بنیاد پر کوئی decision لے سکتے ہیں؟ ظاہر ہے میٹر خراب ہے اور آپ کو پتہ ہے کہ یہ faulty ہے۔ اسی طریقے سے جس شخص کی اصلاح نہیں ہوئی ہے، اس کا میٹر ماپنے کا ٹھیک ہوگا یا خراب ہوگا؟ خراب ہوگا نا؟ تو اب اس خراب میٹر کی بنیاد پر وہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ مجھے کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے؟ وہ نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے کسی ایسے شخص کے پاس جائیں گے جس کے بارے میں آپ کا حسنِ ظن ہو کہ ان کا میٹر صحیح ہے۔
اب یہ مجھے صحیح بات بتائے گا۔ اس کے لیے لوگوں کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اور یہ اس کی سب سے بڑی بات یہ ہے۔ دنیا کے اندر جتنے بڑے بڑے نام گزرے ہیں۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ، اور پتہ نہیں کیا کیا اونچے اونچے اکابر، یہ گزرے ہیں۔ یہ ماں کی گود میں اس طرح پیدا نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے علم بھی حاصل کیا، اور علم حاصل کرنے کے بعد اپنی اصلاح بھی کی۔ اور اپنی اصلاح کے لیے بڑے لمبے لمبے سفر بھی کیے ہیں۔ اور اچھی خاصی خانقاہوں میں مشکلات بھی برداشت کیں۔ تب ان کو یہ نعمت ملی ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک نعمت ہے جس کو حاصل کیا جاتا ہے اس کے لیے باقاعدہ مشقت کی جاتی ہے۔ تو بڑے بڑے نام یقیناً ہمارے سر ان کے لیے ظاہر ہے عظمت سے جھک جاتے ہیں، لیکن مقصد یہ ہے کہ وہ ایسے نہیں بنے۔ وہ اپنی ایک محنت ہے، اس کے ذریعے سے بنے ہیں۔ اور اس وقت کا دور تو ایسا تھا کہ اس وقت لوگ قافلوں میں چلتے تھے باقاعدہ تلاش کرنے کے لیے۔
تو بہرحال میں عرض کرتا ہوں اس کے لیے بھی وقت نکالنا پڑے گا۔ اگر کوئی چاہتا ہے۔ نہیں چاہتا، اس سے تو پھر بات کرنا فضول ہے۔ لیکن جو چاہتا ہے کہ میں ان چیزوں کو حاصل کر لوں، تو اس کو تو یہ کرنا پڑے گا۔ یہ ضرورت ہے۔
تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ اللہ جل شانہ نے یہاں یہ ارشاد فرمایا کہ بے شک کائنات کی تخلیق میں اور دنوں کے الٹ پھیر میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اور یہ عقلمند وہ لوگ ہیں جو کھڑے، بیٹھے، لیٹے، ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والے ہیں۔ اور اس کے ساتھ یہ کہ کائنات کی تخلیق میں غور و فکر کرنے والے ہیں۔ اور پھر ان کے دل سے بات نکلتی ہے کہ اے ہمارے رب تو نے ان تمام چیزوں کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا، تو پاک ہے، پس ہمیں عذابِ جہنم سے نجات عطا فرما۔
تو اب میں آپ حضرات سے بات عرض کروں گا کہ ما شاء اللہ آپ کے جو کام ہیں، کیا کائنات میں غور و فکر والے نہیں ہیں؟ ہیں نا؟ آخر جو بھی آپ چھیڑ رہے ہیں، جس چیز کو بھی چھیڑیں، کائنات ہی کی ہے نا۔ پوری کائنات کو تو کوئی بھی نہیں چھیڑ سکتا نا۔ کائنات کا کوئی حصہ ہی چھیڑے گا نا، کسی حصے کو ہی understand کرے گا۔ تو جو بھی کرے گا، وہ کائنات کے اندر غور کر رہا ہے۔ تو جتنے بھی scientists ہیں، وہ یہی کام کر رہے ہیں۔ لیکن یہ دوسرا کام نہیں کر رہے: "الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ۔" لہٰذا وہ عقلمندوں میں نہیں آتے۔ ان کی عقل جو ہے، ان کو صرف ایک status quo کی طرف لے جانے والی ہے۔ اور یہ status quo اتنی خطرناک چیز ہے کہ ساری چیزیں اللہ نے پیدا کی ہیں، سارے اسباب اللہ نے بنائے ہوئے ہیں، سارے کام وہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے ذریعے سے کر رہے ہیں، کسی کے paper میں اللہ کا نام آتا ہے؟ دیکھ لیں اتنا status quo ہے مسئلہ۔ کسی scientist کے paper میں اللہ کا نام آتا ہے؟ اتنی زبردست عظیم چیز کو ignore کرنا یہ کوئی معمولی بات ہے؟ تو یہ جاہل نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اس کو میں جاہل نہ کہوں تو کیا کہوں؟
یہی بات ہے، یہ جہالت ہے۔ یہ جہالت نکلے گی ذکر کے ذریعے سے۔ یہ جہالت نکلے گی ذکر کے ذریعے سے۔ جو ذکر کرتا ہے، اس کو اللہ یاد ہوتا ہے۔ وہ paper لکھتے ہوئے بھی اللہ یاد رکھے گا۔ وہ کہے گا، دیکھو موریس بوکائی (Maurice Bucaille) جو تھا۔ یہ فرانس کے وہ تھے scientists تھے، archaeologist تھے۔ فرعون کے اوپر ریسرچ کر رہا تھا۔ یہ جو فرعون جو موسیٰ علیہ السلام کے وقت کا تھا، اس نے ریسرچ کر کے کہا کہ یہ وہ فرعون ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں تھا۔ اس نے جو باڈی کے اوپر جو اثرات تھے اس سے اندازہ لگا لیا کہ یہ وہ والا ہے۔ تو اس نے جب اس کو ظاہر کرنا چاہا، تو پادری آئے ان کے پاس کہ مہربانی کر کے اس کو ظاہر نہ کریں۔ کیونکہ اس سے قرآن کی تصدیق ہو رہی ہے۔ اس سے قرآن کی تصدیق ہو رہی ہے۔ اس پر اس نے کہا کہ میں اپنے علم کے ساتھ دھوکا نہیں کر سکتا۔ جو میرے علم میں آیا ہے میں اس کو ظاہر کروں گا۔ اور اس نے ظاہر کر دیا۔ اور پھر اللہ پاک نے اس کے بدلے میں ہدایت نصیب فرمائی مسلمان بھی ہو گیا۔ سبحان اللہ۔
مقصد میرا یہ دیکھو نا اس نے ریسرچ کی۔ لیکن ریسرچ میں biased نہیں تھے۔ حقیقت پسند تھے۔ نتیجتاً جب حقیقت اس پہ کھلی تو اس نے اس کا اظہار بھی کیا۔ ڈاکٹر حمید اللہ (Dr. Hamidullah) فرانس کے بہت بڑے آدمی تھے۔ فرانس میں پوری زندگی گزاری۔ researcher تھے، محقق تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میرے پاس ایک musician آ گیا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میں نے harmonium میں پورا قرآن بجایا۔ کمال ہے ویسے لوگ بھی عجیب عجیب کام کرتے ہیں۔ لیکن اللہ پاک کی ہدایت کے راستے ہیں اس میں آدمی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں نے harmonium میں پورا قرآن بجا دیا۔ لیکن یہ ایک سورت نہیں بج رہی۔ یہ کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا کون سی سورت ہے؟ تو اس نے "إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ"، یہ والی سورت بتا دی۔ تو وہ نہیں، اس نے کہا کہ یہ اس کی ایک افواجاً بھی آتا ہے، مطلب افواجاً کی بجائے افواجا آتا ہے وہ اچھل پڑا، کہتا ہے بس بج گیا۔ اور پھر مسلمان ہو گیا۔
یعنی دیکھو نا اتنا rhythm، clear rhythm قرآن کا، یہ میں آپ کو بتاؤں یہ انسان نہیں لا سکتا۔ اس نے اس angle سے اس کو دیکھا۔ اس نے ایک music، music کے اوپر ہم نہیں کہتے کہ music جائز ہو گیا۔ یہ نہیں میں کہتا، صرف یہ بات ہے کہ rhythm، مطلب یہ اتنا organized ہے، اتنا organized ہے کہ باقاعدہ اس کو اس میں organize کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال یہ ہے کہ اس کے لیے اللہ پاک نے اس کو ہدایت کا ذریعہ بنا دیا۔
اس طرح بہت سے scientists، یہ قرآن پاک کی جو آیات مبارکہ ہیں کہ وہ مطلب جس وقت اندھیرا ہوتا ہے اور پھر اس میں بادل بھی ہوتے ہیں اور پھر اس میں یہ ہوتا ہے، تو اس اندھیرے کی جو اس نے مثال دی ہے نا، وہ اس طرح ایک سمندر کا جو ماہر تھا، اس نے کہا یہ چیز ایک ایسے شخص کے ذہن میں آ ہی نہیں سکتی جس نے کبھی سمندر نہیں دیکھا ہو۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سمندر نہیں دیکھا تھا۔ تو یہ ضرور اللہ کا کلام ہے۔ اور اس کے ذریعے سے مسلمان ہو گیا۔
مقصد میرا یہ ہے کہ ہمارے قرآن میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں، اور پورے کے پورے اسلام میں ایسی نشانیاں ہیں کہ جو بھی سوچے گا، biased نہ ہو، تو اس کو ہدایت ضرور ملے گی۔ جو بھی biased نہ ہو۔
اب میں آپ سے ایک بات عرض کرتا ہوں، مختصر عرض کرنا چاہتا ہوں، وقت تھوڑا ہے۔ وہ یہ ہے کہ دیکھو نا دو قسم کی روشنیوں کی ضرورت ہے۔ اگر اس وقت میری آنکھیں نہ ہوتیں، تو اگر سورج بالکل نصف النہار پر ہوتا، تو کیا مجھے آپ لوگ نظر آتے؟ نہیں نا۔ اور دوسری طرف یہاں گھپ اندھیرا ہو جائے، رات کا وقت ہو، سارا کچھ میرے سامنے کوئی بیٹھا ہو، روشنی نہ ہو، میری آنکھیں بالکل ٹھیک ہوں، کیا آپ مجھے نظر آئیں گے؟ تو نظر آنے کے لیے دو روشنیوں کی ضرورت ہے۔ ایک روشنی سورج اور دن کی اور اس طرح بلبوں کی یا شمعوں کی جو بھی ہو، خارجی روشنی اس کو کہتے ہیں۔ اور ایک روشنی بینائی کی ہے۔
اسی طریقے سے اللہ جل شانہ نے قرآن اور حدیث میں بہت ساری چیزیں رکھی ہیں۔ یہ خارجی روشنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم تک آ رہی ہے۔ لیکن اگر دل نہ بنا ہو نا، وہ اس سے ہدایت نہیں حاصل کر سکتا۔ دل نہ بنا ہو۔ اللہ پاک خود قرآن پاک میں فرماتے ہیں: "إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ۔" بے شک اس قرآن میں نصیحت ہے ہر شخص کے لیے جس کا دل بنا ہو۔ یا پھر وہ کان لگا کر اہتمام کے ساتھ سننے والا ہو۔
اب دیکھ لیں یعنی اگر آپ کا دل بنا ہے تو قرآن سے براہ راست ہدایت حاصل کر سکتے ہو۔ دل نہیں بنا، تو جس کا دل بنا ہے اس سے سن کے حاصل کر سکتے ہو۔ لیکن سننے کے لیے اہتمام تو کرنا پڑے گا نا۔ بے اعتنائی سے تو نہیں سنیں گے نا۔ خوب اچھی طرح سنیں گے تو پھر اللہ پاک آپ کے اوپر یہ بات کھولے گا۔ تو اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں کہ یہ science ہے نا science، science بھی ما شاء اللہ تکوینی طور پر بہت سارے حقائق کو کھولتی ہے۔ لیکن جب تک یہ نہ بنا ہو نا، تو اس سے ہدایت نہیں ملتی۔
اس سے انسان کی ego بنتی ہے۔ میں فلاں، میں فلاں، میں فلاں، میں فلاں، میں فلاں، یہی چیز بنتی ہے۔ لیکن جس وقت یہ دل بھی بنا ہو نا، تو آدمی دبتا جاتا ہے، دبتا جاتا ہے، دبتا جاتا ہے، دبتا جاتا ہے۔ اللہ کی قدرتوں کو سامنے دیکھتے ہوئے۔ مجھے خود ایک eye specialist نے کہا: کہ جب میں آنکھ کھولتا ہوں نا، تو اللہ کی قدرتیں میرے اوپر ایسے کھل جاتی ہیں کہ میں حیران ہو جاتا ہوں کہ یہ کیسے اللہ نے اس آنکھ کو بنایا ہوا ہے۔ اللہ نے کیسے اس آنکھ کو بنایا ہوا ہے۔ تو اب یہ جس طرح کان والے پر کان والے کی باتیں کھلیں گی۔ زبان والے پر زبان والی باتیں کھلیں گی۔ دماغ پر جو ریسرچ کر رہا ہے اس کے اوپر کیا کچھ نہیں کھلے گا؟
اب یہ تحقیق ہے، یہ ریسرچ ہے، اور یہ ریسرچ ویسے دنیا کی چیز ہے۔ لیکن اگر میرا دل ذاکر ہو، اور اللہ کی یاد اس میں ہو، اور اس میں طلب ہو، تو پھر کیا ہوگا؟ ان چیزوں سے وہ چیزیں بھی ملنی شروع ہو جائیں گی۔ یعنی اللہ پاک کی معرفت۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت۔ آپ حضرات جانتے ہوں گے کہ جس چیز کی معرفت آپ کو حاصل نہیں ہو، آپ اس سے وہ فائدہ اٹھا نہیں سکتے۔ جب آپ کو معرفت حاصل ہو جاتی ہے، پھر اس کے بعد جو کچھ اس میں ہوتا ہے وہ آپ کے پاس آ سکتا ہے، آپ اس کی قدر کرنا شروع کر لیتے ہیں، آپ کو مل جاتا ہے۔ مثلاً بہت سارے ores ہیں، ان کا لوگوں کو پتہ نہ ہو تو لوگ پتھر سمجھ کر پھینک دیں گے۔ لیکن جو geologist ہے، جب وہ کہتا ہے بھئی یہ تو فلاں ہے، اس میں تو یہ ہے، اس میں تو یہ ہے، پھر وہ ہر چیز کو سنبھال کے رکھتا ہے کہ کہیں کوئی چوری نہ کر لے، کوئی یہ نہ کر لے، پھر نیندیں بھی حرام ہو جاتی ہیں کہ بھئی کوئی چوری نہ کر لے مجھ سے۔ ویسے اس کو ایک پتھر سمجھا جاتا ہے۔ اسی طریقے سے جس وقت ہم لوگ، ہمارا دل بن جائے، اس کے بعد پھر یہی science ہمارے لیے اللہ پاک کی معرفت کا ذریعہ ہوگی۔ اسی کے ذریعے سے ہم اللہ کو پہچانیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کی پہچان کے کئی راستے ہیں۔ جیسے مثال کے طور پر میں نے کہا کائنات میں بہت کچھ ہے۔ آنکھ والوں کو آنکھ کے ذریعے سے، کان والوں کو کان کے ذریعے سے، کسی اور کو کسی اور ذریعے سے ملتا ہے۔ اس طرح اللہ جل شانہ ذکر کے ذریعے سے بھی، فکر کے ذریعے سے بھی، لوگوں کی صحبت کے ذریعے سے بھی، اور مختلف انداز سے کام کرنے کے ذریعے سے بھی، اللہ تعالیٰ اپنی معرفت نصیب فرماتا ہے۔
اب مثال کے طور پر میں آپ کو بتا دوں، ایک سب سے بڑی بات میں عرض کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے اندر ایک طاقت رکھی ہے اللہ نے۔ وہ طاقت ہے تصور کی۔ اس تصور سے بہت کچھ کام لیا جا سکتا ہے۔ اب کچھ لوگوں نے اس کو دنیاوی چیزوں کے لیے hypnotism کے لیے استعمال کیا، دوسری چیزوں کے لیے استعمال کیا، وہ ایک دنیاوی چیز ہے چلو جی ضائع ہو گئی بس ختم ہو گیا اس کا وہ نہیں۔ لیکن جس وقت آپ تصور کریں گے کہ میرا دل ذکر کر رہا ہے۔ یہ ویسے مثال کے طور پر بتا رہا ہوں، ویسے نہیں کہ آپ اس کے پیچھے لگ جائیں۔ یہ میرا دل ذکر کر رہا ہے۔ اب دل پر کسی کا بس نہیں چلتا۔
لیکن اس تصور کے ساتھ ایک connection بن جاتا ہے۔ اور وہ connection جتنا strong ہوتا جاتا ہے حتی کہ وہ ذکر کرنا شروع کر لیتا ہے۔ اور پھر محسوس بھی ہونے لگتا ہے۔ اور ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ لاکھ آدمی اس کا انکار کر لے بھئی یہ نہیں ہو سکتا، وہ کہتا ہے اچھا نہیں ہو سکتا وہ کہتے ہیں بیچارے نہیں سمجھتے یار اس کو کیا پتا۔ تو اس طرح، تو ظاہر ہے مطلب جس کو حاصل ہے وہ انکار کر سکتا ہے؟ اور جس کو حاصل نہیں ہے تو وہ چاہے وہ تو انکار ہی کرے گا وہ کیا کرے گا؟ تو اب یہ تصور کی قوت سے چیزیں ہو رہی ہیں۔ تو اب اس تصور کی قوت سے بھی صوفیاء نے کام لیا۔ اور اس ذریعے سے بھی اللہ تعالیٰ کی معرفت کو انہوں نے حاصل کرنا شروع کیا۔ تصور بھی تو فکر کی ایک صورت ہے نا؟
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگ چاہے اندر کی چیزوں سے کام لیں چاہے باہر کی چیزوں سے کام لیں، لیکن ایک ہمارے پاس، ایک determination ہو، ایک نیت ہو ہماری، کہ ہم نے اللہ کو پہچاننا ہے۔ جس وقت ہماری نیت یہ ہو، "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"۔ اور اللہ پاک یہ بھی فرماتے ہیں "أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي"۔ میں بندے کے گمان کے ساتھ ہوں جو میرے ساتھ وہ رکھتا ہے۔ تو ایسی صورت میں اللہ جل شانہ اس کو معرفت نصیب فرماتے رہتے ہیں۔
اب میں آپ کو ایک اور بات اس کے ساتھ connecting بتاتا ہوں۔ اللہ پاک فرماتے ہیں: يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ﴿27﴾ ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ﴿28﴾ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي ﴿29﴾ وَادْخُلِي جَنَّتِي ﴿30﴾ اے مطمئن نفس! لوٹ جا اپنے رب کی طرف اس حالت میں کہ تو اس سے راضی ہے، وہ تجھ سے راضی ہے۔ پس میرے بندوں میں داخل ہو جا، اور میری جنت میں داخل ہو جا۔
یہ جو مطمئن نفس ہے، یہ کیا چیز ہے؟ یہ وہ ہے جو اللہ کا بن گیا ہے۔ اس پر محنت ہوئی ہے، نفس امارہ سے یہ نفس مطمئنہ میں transfer ہو گیا۔ اس کا بڑا لمبا چوڑا procedure ہے اس کو تو میں بیان نہیں کر رہا، لیکن بہرحال مطمئن نفس بن گیا۔ اب مطمئن نفس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ یہ فرمانبردار ہوتا ہے۔ جو اس کو کہا جاتا ہے وہ کرتا ہے۔ اس کو صرف بتانا ہوتا ہے کہ اللہ یہ چاہتا ہے، بس وہ آپ کر لیں۔ اس کو عبدیت کہتے ہیں۔
تو اللہ کی پہچان سے جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ نفس ہے۔ تو جب نفس، نفس مطمئنہ بن گیا، بس معرفت حاصل ہو گئی۔ معرفت حاصل ہو گئی، تو عبدیت بھی حاصل ہو گئی۔ عبدیت حاصل ہو گئی تو معرفت مزید بڑھ گئی۔ مزید معرفت بڑھی تو عبدیت بھی مزید بڑھ گئی۔ اس طریقے سے سبحان اللہ یہ سلسلہ بڑھتا رہتا ہے۔ اور ایک انسان کی معرفت موت تک بڑھتی رہتی ہے۔ جس وقت موت آ جاتی ہے، اس وقت انسان کی عبادت تو ختم ہو جاتی ہے، لیکن معرفت جو اس نے کمائی ہے اس کے ساتھ اللہ کے ساتھ ملاقات ہو جاتی ہے۔
یہی اصل میں ہماری واحد، سب سے بڑی بات ہماری یہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری الفاظ کیا فرمائے تھے؟ کچھ یاد ہے؟ "بَلِ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى"۔ ہاں، اب رفیقِ اعلیٰ، یہ معرفت کی انتہا ہے۔ اب کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے، صرف رفیقِ اعلیٰ کی ضرورت ہے، اور وہ کون ہے؟ اللہ جل شانہ۔
ٹھیک ہے نا؟ تو یہ میں عرض کرتا ہوں destination ہماری یہ ہے۔ اگرچہ ظاہر ہے ہم کہاں ادھر پہنچ سکتے ہیں وہ ہمارا معاملہ اور ہے، ان کا معاملہ اور ہے۔ لیکن determination ہماری یہی ہو، یعنی ہماری نیت یہ ہو۔ مثال کے طور پر ایک بہت بڑا مینار ہے، آپ کہتے ہیں بھئی اس کی طرف چلے جاؤ۔ وہ مینار سب کو نظر آ رہا ہے۔ اب کوئی دو میل کے فاصلے تک پہنچ گیا، کوئی تین میل کے فاصلے تک پہنچ گیا، کوئی پانچ میل کے فاصلے تک پہنچ گیا، کوئی سات میل کے فاصلے تک پہنچ گیا، لیکن direction اس کا صحیح ہے، اس کو نمبر دیے جائیں گے، اچھا اس کے اتنے نمبر، اس کے اتنے نمبر، اس کے اتنے نمبر، اس کے اتنے نمبر، کامیاب ہو جائے گا۔ ٹھیک ہے نا، ہر ایک اس میں اپنے کامیاب ہو جائے۔ اس کے لیے ہم نے بس وہ کام کرنا ہے۔
باقی میں عرض کرتا ہوں دنیا کا کوئی کام منع نہیں ہے، اگر جائز ہے۔ اچھا کھاؤ، اچھا پیو، اچھا پہنو، اچھی زندگی گزارو، لوگوں کے ساتھ اچھے معاملات کر لو۔ لیکن یہ سارا کچھ اللہ کے لیے ہو۔
تم شوق سے کالج میں پڑھو، پارک میں پھولو، جائز ہو غباروں میں اڑو، چرخ پہ جھولو
بس ایک سخن بندہ عاجز کا رہے یاد، اللہ کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو
بس یہ اس قسم کی بات ہے، اگر ہم لوگ اس پر آ گئے کہ ہماری زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ کے لیے ہے، حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس جو کچھ تھا مجھے بتاؤ دنیا میں کسی اور کے پاس ہو سکتا ہے؟ نہیں ہو سکتا نا؟ نہ اس سے پہلے کسی کو دیا گیا، نہ اس کے بعد کسی کو ملے گا۔ لیکن -سبحان اللہ- اللہ پاک کی یاد ہمیشہ! جیسے ہی ان کو کوئی نعمت مزید ملتی اس پر شکر! چیونٹی کی آواز سنی اس نے کہا یا اللہ تیرا شکر تو نے مجھے یہ علم عطا فرمایا۔ ہواؤں پہ چل رہے تھے، اے اللہ تیرا شکر۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ ہمارا کام بھی یہی ہے۔ "وَمَن يَشْكُرْ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ" ۔ جو شکر کرتا ہے وہ اپنے آپ کے لیے کرتا ہے۔ لیکن یہ والی بات، اس پر اللہ پاک خوش ہوتا ہے۔ اس پہ اللہ پاک خوش ہوتا ہے۔ اور یہ آپ سے میں عرض کر لوں، کہ یہ جو شکر ہے نا یہ سب سے اخیر میں ملتا ہے۔ اللہ پاک مجھے بھی نصیب فرمائے اور آپ کو بھی۔ میرا خیال ہے فی الحال اتنا کافی ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔