اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ۔
أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَخِيلُ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ»
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور مجھ پر درود نہ بھیجے۔ )رواہ النسائی والبخاری فی تاریخہ و الترمذی وغیرهم بسط طرقہ السخاوی)۔
علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا ہی اچھا شعر نقل کیا ہے:
مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ إِنْ ذُكِرَ اسْمُهُ
فَهُوَ الْبَخِيلُ وَضِدُّهُ وَصْفُ جَبَانِ
"جو شخص حضور ﷺ پر درود نہ بھیجے، جس وقت کہ حضور ﷺ کا پاک نام ذکر کیا جائے، پس وہ پکا بخیل ہے اور اتنا اضافہ کر اس میں کہ وہ بزدل نامرد بھی ہے"۔
حدیثِ بالا کا مضمون بھی بہت سی احادیث میں بہت سے صحابہ سے نقل کیا گیا ہے۔ علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت امام حسن رضي الله عنه کی روایت سے حضور اقدس ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ آدمی کے بخل کے لیے کافی ہے کہ میرا ذکر اس کے سامنے کیا جائے اور مجھ پر درود نہ بھیجے۔ حضرت امام حسین رضي الله عنه سے بھی حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔
حضرت ابوہریرہ رضي الله عنه کی حدیث شریف سے یہ مضمون نقل کیا ہے کہ بخیل اور پورا بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور مجھ پر درود نہ بھیجے۔ حضرت انس رضي الله عنه سے بھی حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ وہ شخص بخیل ہے کہ جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور مجھ پر درود نہ بھیجے۔ اور ایک حدیث میں الفاظ نقل کیے گئے ہیں کہ میں تم سب بخیلوں سے زیادہ بخیل بتاؤں؟ میں تمہیں لوگوں میں سب سے زیادہ عاجز بتاؤں؟ وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور پھر بھی مجھ پر درود نہ بھیجے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله عنها سے ایک قصہ نقل کیا گیا ہے جس کے آخر میں حضور ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ ہلاکت ہے اس شخص کے لیے جو مجھے قیامت میں نہ دیکھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله عنها نے عرض کیا کہ وہ کون شخص ہے جو آپ کی زیارت نہیں کرے گا؟ حضور ﷺ نے فرمایا بخیل۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله عنها نے عرض کیا بخیل کون؟ حضور ﷺ نے فرمایا جو میرا نام سنے اور درود نہ بھیجے۔
حضرت جابر رضي الله عنه سے بھی حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ آدمی کے بخل کے لیے کافی ہے کہ جب میرا ذکر اس کے پاس کیا جائے اور مجھ پر درود نہ بھیجے۔ حضرت حسن بصری رحمة الله عليه کی روایت سے بھی حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ آدمی کے بخل کے لیے کافی ہے کہ میں اس کے سامنے ذکر کیا جاؤں اور مجھ پر درود نہ بھیجے۔ حضرت ابوذر غفاری رضي الله عنه کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، حضور ﷺ نے صحابہ سے فرمایا تم کو سب سے زیادہ بخیل آدمی بتاؤں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا ضرور۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور مجھ پر درود نہ بھیجے، وہ شخص سب سے زیادہ بخیل ہے۔
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
عَلٰى حَبِيْبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
حضور اقدس ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے کہ یہ بات ظلم میں سے ہے کہ کسی آدمی کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ یقیناً اس شخص کے ظلم میں کیا تردد ہے جو نبی کریم ﷺ کے اتنے احسانات پر بھی نبی کریم ﷺ پر درودِ پاک نہ بھیجے۔
حضرت گنگوہی قدس سرہ کی سوانح عمری، تذکرۃ الرشید میں لکھا ہے کہ حضرت عموماً متوسلین کو درود شریف پڑھنے کی تعلیم فرماتے کہ کم سے کم تین سو مرتبہ روزانہ پڑھا جائے اور اتنا نہ ہو سکے تو ایک تسبیح میں تو کمی نہیں ہونی چاہیے۔ آپ فرمایا کرتے کہ جناب رسول کریم ﷺ کا بہت بڑا احسان ہے، پھر آپ پر درود نہ بھیجنا بھی بخل ہے اور بڑی بے مروتی کی بات ہے۔ درود شریف میں زیادہ تر پسند وہ تھا جو نماز میں پڑھا جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ الفاظ جو احادیث شریفہ میں منقول ہیں۔ باقی دوسروں کے مؤلفہ درود، تاج، وغیرہ عموماً آپ کو پسند نہیں تھے، بلکہ بعض الفاظ کو دوسرے معنی کا موہم ہونے کا سبب خلافِ شرع فرماتے تھے۔
علامہ سخاوی رحمة الله عليه فرماتے ہیں کہ جفا سے مراد بر و صلہ کا چھوڑنا ہے اور طبیعت کی سختی و نبی کریم ﷺ سے دوری پر بھی اس کا اطلاق کیا جاتا ہے۔
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِمًا أَبَدًا
عَلٰى حَبِيْبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
اصل میں آپ ﷺ ہمارے اتنے بڑے محسن ہیں کہ جس کا ہم تصور نہیں کر سکتے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ ﷺ ہمارے لیے شفاعت کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ ﷺ ہی کی برکت سے ہم مسلمان ہیں اور آپ ﷺ نے ہمارے لیے جو دعائیں کی ہیں اور جو روئے ہیں تو یہ بہت، ظاہر ہے ان کا ہمارے اوپر احسان ہے۔ آپ ﷺ کی برکت سے ہمارے اوپر کتنے زیادہ، اللہ پاک کے کرم اور فضل ہوچکے ہیں۔ تو ایسی صورت میں آپ ﷺ پر درود نہ بھیجنا یہ انتہائی درجے کی کم بختی کی بات ہے۔
اس وجہ سے درود شریف میں کمی نہیں کرنی چاہیے۔ اسی کتاب شریف میں میں نے ایک جگہ دیکھا ہے، کسی وقت پہ آ بھی جائے گا، اتنے مواقع درود پڑھنے کے ہیں کہ آدمی حیران ہو جائے۔ مختلف مواقع پہ جو درود پڑھنا یعنی بزرگوں سے منقول ہے، بہت سارے مواقع ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں اس بات کا اتنا زیادہ وہ نہیں کیا جاتا۔ تو یہ ہماری کمزوری کی بات ہے۔ ہمیں اپنی محفلوں کو اللہ تعالیٰ پر ذکر، اللہ کا ذکر اور آپ ﷺ پر درود سے اور دعاؤں سے، اس کو منور کرنا چاہیے۔ یہ تین چیزیں ہمارے لیے بہت بڑا ذریعہ ہیں یعنی اللہ کا ذکر۔
کیونکہ اللہ پاک کا ذکر جب ہم کرتے ہیں تو اس وقت اللہ تعالیٰ بھی ہمارا ذکر فرماتے ہیں۔ تو یہ بہت سعادت کی بات ہے اور اللہ جل شانہٗ نے اپنے ذکر کو اکبر کہا ہے: "وَلَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ"۔ اور اللہ تعالیٰ کی یاد تو بڑی چیز ہے اور آپ ﷺ پر درود کا specially حکم دیا ہے: إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ، يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا۔ تو یہ جو ساری باتیں ہیں، اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں کہ ہم ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور قصور کی وجہ سے ہم محرومی کی طرف نہ جائیں۔ اللہ جل شانہٗ ہمیں زیادہ سے زیادہ آپ ﷺ پر کثرت سے درود شریف بھیجنے کی توفیق عطا فرمائے۔
یہ جو درود پاک ہم پڑھتے ہیں، یہ خاص تحفہ ہے ماشاءاللہ ہمارے اکابر کا کہ انہوں نے چالیس درود و سلام جمع کیے ہیں۔ حضرت تھانوی رحمة الله عليه نے یہ "زاد السعید" کے نام سے جمع کیے۔ زاد السعید سے مراد یہ ہے کہ نیک بخت آدمی کا توشہ ہے۔ اس کو کہا گیا ہے۔ نیک بخت آدمی کا توشہ، زاد السعید۔ تو حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمة الله عليه نے اس کو اپنی کتاب "فضائل درود شریف"، جو میرے سامنے پڑی ہوئی ہے، اس میں حضرت نے جمع فرما دیا۔ اور پھر حضرت کے خلفاء نے اس کو مختلف زبانوں کے اندر ترجمہ کر کے اس کو پوری دنیا کے اندر عام کر دیا۔ تو ہمارے سامنے مقبول وظیفہ کے نام سے مشہور ہے۔
اس کے اندر خوبی یہ ہے کہ سارے صیغے احادیث شریفہ ہیں۔ لہٰذا مستند ترین چیزیں ہیں۔ یعنی کوئی ایسی بات نہیں کہ ہم نے ویسے ادھر ادھر سے سن لی، بلکہ مستند ترین روایات ہیں۔ اگر ہم نے کام کرنا ہے تو ظاہر ہے اچھے طریقے سے کرنا چاہیے۔ تو جو مستند ترین چیز ہے اس کو کیوں نہ کیا جائے؟
ایک دفعہ ایک بزرگ تھے، ان کے ساتھ میں جا رہا تھا میں نے عرض کیا کہ حضرت! کبھی کبھی میں گنگناتا ہوں:
بَلَغَ الْعُلٰى بِكَمَالِهِ،
كَشَفَ الدُّجٰى بِجَمَالِهِ،
حَسُنَتْ جَمِيْعُ خِصَالِهِ
، صَلُّوْا عَلَيْهِ وَاٰلِهِ
۔ فرمایا: بہت اچھی بات ہے، لیکن اس سے بھی اچھی بات بتاؤں؟ میں نے کہا: حضرت ضرور بتائیے۔ فرمایا: جو درود پاک آپ ﷺ سے ثابت ہو، منقول ہو، وہ پڑھیں تو زیادہ بہتر ہے۔ پھر مثال دی، فرمایا: آپ کا اگر کسی افسر کے ساتھ کام ہو، اور وہ آپ کو کہہ دے کہ اچھا میں آپ کو درخواست کے الفاظ بتا دیتا ہوں، ان الفاظ میں درخواست لکھ دیں تو میں منظور کر لوں گا۔ تو ان الفاظ میں لکھیں گے تو وہ خود ہی وہ ظاہر ہے مطلب اس نے وعدہ کیا ہوا ہے تو وہ اس کی منظوری کا سو فیصد امکان ہے۔ لیکن اگر آپ نے الفاظ بدل لیے تو عین ممکن ہے پوچھ لے کہ کیا میرے الفاظ ٹھیک نہیں تھے؟ تو اس وجہ سے جو الفاظ منقول ہیں آپ ﷺ کے، تو انہی پہ اکتفا کیا جائے، یہ بڑی سعادت کی بات ہے۔