الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
آج جمعہ کی رات ہے اور جمعہ کی رات کو ہمارے ہاں سیرت النبی کی تعلیم ہوتی ہے۔ سیرت النبی جو حضرت سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر فرمائی ہے اور مولانا شبلی نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔
عبادات کا باب اس میں چل رہا ہے، اور عبادات میں جو دوسری اہم عبادت ہے، مالی عبادت، زکوٰۃ کے بارے میں بات چل رہی تھی۔
زکوٰۃ کی مقدار:
تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل میں زکوٰۃ کی مقدار پیداوار کا دسواں حصہ تھا اور نقد میں آدھا مثقال جو امیر و غریب سب پر یکساں فرض تھا۔ لیکن زمین کی مختلف قسمیں ہوتی ہیں کہیں زمین صرف بارش سے سیراب ہوتی ہے اور کہیں نہر کے پانی سے جہاں مزدوری اور محنت کا اضافہ ہو جاتا ہے نقد دولت کے بھی مختلف اصناف ہیں، بعض مرتبہ دولت بے محنت مفت ہاتھ آ جاتی ہے اور بعض اوقات سخت محنت کرنی پڑتی ہے اس لئے سب کا یکساں حال نہیں ہو سکتا۔ انجیل نے حسب دستور اس مشکل کا کوئی حل نہیں کیا۔ لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کی شریعت کاملہ نے علم اقتصاد سیاسی (پولیٹیکل اکانومی) کے نہایت صحیح اصول کے مطابق دولت کے فطری اور طبعی ذرائع کی تعیین کی اور ہر ایک کے لئے زکوٰۃ کی مناسب شرح مقرر کر دی۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ شریعت محمدیہ نے تورات کی قانونی تعیین اور انجیل کی اخلاقی عدم تعیین دونوں حقیقتوں کو اپنے نظام میں جمع کر لیا۔ اس نے اخلاقی طور پر ہر شخص کو اجازت دے دی کہ وہ اپنا کل مال یا نصف مال یا کم و بیش جو وہ چاہے خدا کی راہ میں دے دے اس کا نام انفاق یا عام خیرات و صدقہ ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی فرض کر دیا کہ ہر شخص کی دولت میں غریبوں اور محتاجوں اور دوسرے نیک کاموں کے لئے بھی ایک مقررہ سالانہ حصہ ہے اور اس کا نام زکوٰۃ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا۔﴿الَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُونَ وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ﴾ (سورۃ المعارج، آیات: 23-25)
"جو اپنی نماز ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور جن کے مالوں میں مانگنے اور محروم کا معلوم حصہ ہے"اللہ تعالیٰ عجیب عجیب نظارے دکھاتا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، یہ وہ بزرگ ہیں جو بیک وقت فقیہ بھی تھے اور صوفی بھی تھے، سارے تھے، لیکن ان کا اتنا مشہور تھا کہ ان کو اپنے استاذ بھی صوفی کہتے تھے،یعنی استادوں نے ان کا نام صوفی رکھا ہوا تھا۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، مشہور واقعہ ہے نا یہ یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ، یہ بھی ان کے class fellow تھے۔ تو یہ تین افراد ان کے ایک صاحب کا تو نام مجھے اب نہیں آ رہا، ان دو کا آتا ہے، یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، اور ایک تیسرے تھے۔ تو یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ وہ برجال میں بہت سخت ناقد ہیں۔ تنقید، بہت سخت تنقید کرتے ہیں، کسی کو بخشتے نہیں ہیں۔ یہ ہماری سب سے بڑی دلیل بھی ہے۔ اتنے سخت ناقد جس نے اپنے استادوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ ان کی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں جو آراء ہیں وہ سننے کے قابل ہیں۔
تو خیر بہرحال یہ ہے کہ یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ ہم اپنے استاد کا ذرا امتحان لینا چاہتے ہیں کہ وہ کتنے ثقہ ہیں۔ تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ چھوڑو، استادوں کے ساتھ اس طرح نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا نہیں، ہمیں تو کرنا ہے۔ خیر، پھر انہوں نے اس طرح کیا کہ 10 احادیث شریف چن لیں۔ اور ان کے راویوں میں گڑبڑ کی، متن میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ راویوں کو ادھر کا ادھر سے لگا دیا، ادھر کا ادھر لگا دیا۔ اور حدیث شریف کی بنیاد جو ہوتی ہے وہ راویوں پر ہوتی ہے۔ متن تو ظاہر ہے اگر ثابت ہو جائے تو پھر ظاہر ہے اس کو لیں گے نا۔ اس کی جو سند ہے وہ تو راویوں پر ہے۔
تو انہوں نے کہا استاد جی! ہم نے آپ سے کچھ احادیث سنی ہیں، تو ذرا چیک کرنا چاہتے ہیں کہ سنی ہیں یا نہیں سنی؟ کہا بالکل ٹھیک ہے، بتائیں۔ پوچھیں!
پہلی حدیث پڑھی، اس میں راویوں میں گڑبڑ تھی۔ حضرت نے فرمایا: یہ آپ لوگوں نے مجھ سے نہیں سنی۔ ٹھیک ہے جی، کاٹ دیا۔ دوسری حدیث سنائی، اس میں بھی گڑبڑ تھی۔ انہوں نے کہا: آپ لوگوں نے مجھ سے نہیں سنی۔ لیکن طبیعت پہ ذرا ملال آ گیا کہ یہ میرے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ تیسری جو حدیث سنائی، وہ بھی اسی طرح کی تھی تو بس ان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ اور اٹھ گئے اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بالکل سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ فرمایا: تو تو صوفی ہے، تو تو یہ کام نہیں کر سکتا۔ دیکھو! استاد کیا کہتا ہے اس کو؟ تو تو صوفی ہے، تو تو یہ کام نہیں کر سکتا۔ اور دوسرے آدمی سے کہا جس کا نام مجھے نہیں آتا، وہ کہتا ہے: تو اس قابل ہی نہیں تو کر سکے۔ یعنی تیرا ذہن اتنا تیز نہیں ہے کہ تو یہ کر سکے۔ یحییٰ بن معین سے کہا کہ یہ تیری شرارت یہ ساری شرارتیں تیری ہیں۔ اٹھے، ان کو ٹڈے مار مار کے چبوترے سے نیچے گرا دیا۔
تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے کہا کہ ہم نہیں کہتے تھے استادوں کے ساتھ اس طرح نہیں کرتے؟ کہتے ہیں یہی تو ہمارے سر کے تاج ہیں! کم از کم آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا استاد ثقہ ہے۔ ٹھیک ہے، چوٹ کھائی لیکن آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا استاد ثقہ ہے۔
تو اس سے پتا چلا کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ صوفی مزاج بھی تھے۔ صوفی بھی تھے، صوفی مزاج بھی تھے۔ تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ دونوں قسم کے حضرات کا اجتماع ہوتا تھا۔ فقہاء بھی آتے تھے، یعنی ظاہر علماء بھی، اور صوفیاء بھی آتے تھے۔ تو کبھی کبھی دونوں کا آپس میں اکٹھا اجتماع ہو جاتا۔ ادھر وہ بھی بیٹھے ہیں ادھر وہ بھی۔ تو ایک دن ایسا ہوا تھا کہ صوفی بھی بیٹھے ہوئے تھے اور ایک اس طرح علمِ ظاہر کے عالم بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ علمِ ظاہر کے جو عالم تھے وہ بھی ذرا تھوڑے سے تنقیدی مزاج کے زیادہ تھے۔ تو انہوں نے اس صوفی کو جانچنا چاہا کہ یہ کتنے پانی میں ہے؟ تو انہوں نے کچھ پوچھنا چاہا تو امام صاحب نے روک دیا، بس یہاں گڑبڑ نہ کرو۔ پھنس جاؤ گے۔ یہاں گڑبڑ نہ کرو۔
اس نے بات مانی نہیں، انہوں نے اس سے پوچھا: کچھ زکوٰۃ کے بارے میں بھی جانتے ہو؟ تو اس نے کہا: کون سی زکوٰۃ کی؟ فقراء کی یا امراء کی؟ فقراء کی یا امراء کی؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ امراء کی زکوٰۃ تو میں نے سنی ہے، یہ فقراء کی زکوٰۃ کون سی ہوتی ہے؟ فقراء پہ تو وہ ہی نہیں ہے مطلب زکوٰۃ فرض ہی نہیں ہوتی۔ تو اس نے کہا دیکھو! امراء کے لیے تو قرآن نے بتا دیا ہے کہ اگر نصاب کو پہنچ جائے تو پھر سال میں ڈھائی ہے۔ فقراء پہ سارا کا سارا خرچ کرنا ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ جمع کیوں کیا؟ اس کے لیے کچھ مطلب اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے کوئی عمل کر لو۔ تو انہوں نے کہا دلیل؟ انہوں نے کہا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل۔ بس فوراً امام صاحب نے کہا اب جواب دو نا! اب پھنس گئے ہو نا! اب جواب دو!
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ یہاں دیکھیں نا حضرت نے بھی یہ بات فرمائی ہے۔
اس نے اخلاقی طور پر ہر شخص کو اجازت دے دی کہ وہ اپنا کل مال یا نصف مال یا کم و بیش جو وہ چاہے خدا کی راہ میں دے دے اس کا نام انفاق یا عام خیرات و صدقہ ہے۔
اب سمجھ میں آ گئی نا بات؟
لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی فرض کر دیا کہ ہر شخص کی دولت میں غریبوں اور محتاجوں اور دوسرے نیک کاموں کے لئے بھی ایک مقررہ سالانہ حصہ ہے اور اس کا نام زکوٰۃ ہے۔
"وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ"دونوں کے لیے ہے۔
اس میں یہ بھی ہے، وہ بھی ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اچھا۔
اس آیت سے صاف و صریح طریقہ سے یہ ثابت ہے کہ مسلمانوں کی دولت میں غریبوں کا جو حصہ ہے وہ متعین، مقرر، معلوم اور عملاً رائج ہے۔ چنانچہ قرآن پاک میں ﴿مَعْلُومٌ﴾ اور ﴿مَعْلُومَاتٍ﴾ کے الفاظ جہاں آئے ہیں وہاں یہی مقصود ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ عرب میں جو قوم کسی نہ کسی طرح زکوٰۃ ادا کرتی تھی اس کی جو شرح متعین اور رواج پذیر تھی اس کو اسلام نے کسی قدر اصلاح کے بعد قبول کر لیا تھا۔ عرب میں اس قسم کی زکوٰۃ صرف بنی اسرائیل ادا کرتے تھے جس کا حکم تورات میں مذکور ہے اور اس کی شرح بھی اس میں مقرر ہے۔ یعنی پیداوار میں دسواں حصہ اور نقد میں نصف مثقال۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی حکمت ربانی سے اجناس زکوٰۃ پر مختلف شرحیں مقرر فرمائیں جو قیمت کے لحاظ سے اسی شرح معلوم کے مساوی ہیں اور ان شرحوں کو فرامین کی صورت میں لکھوا کر اپنے عمال کے پاس بھجوایا۔ یہی تحریری فرامین تدوین حدیث کے زمانہ تک بعینہٖ محفوظ تھے اور تدوین حدیث کے بعد ان کو بعینہٖ کتب حدیث میں درج کیا گیا جو آج تک موجود ہیں۔ اس تمام تفصیل کا مخرج قرآن پاک میں بھی ایک حیثیت سے مذکور ہے۔
یہ ظاہر ہے کہ انسان کی دولت صرف اس کی محنت اور سرمایہ کی پیداوار ہے۔ اس لئے اصول کا اقتضا یہ ہے کہ جس حد تک محنت اور سرمایہ کم لگتا ہو زکوٰۃ کی مقدار اسی قدر زیادہ رکھی جائے اور جیسے جیسے محنت بڑھتی اور سرمایہ کا اضافہ ہوتا جائے زکوٰۃ کی شرح کم ہوتی جائے۔ عرب میں یہ دستور تھا کہ قبیلوں کے سردار چوتھائی وصول کرتے تھے۔ اسی لئے وہ اپنے سرداروں کو رِباع (یعنی چوتھائی والا) کہا کرتے تھے۔ شاید دوسری پرانی قوموں میں بھی یہ دستور ہو۔ ہندوستان میں مرہٹوں نے بھی چوتھ ہی کو رائج کیا تھا مگر چونکہ اسلام کو محکوموں اور سپاہیوں کے ساتھ زیادہ رعایت مد نظر تھی اس لئے اس نے چار کو پانچ کر دیا۔ اس طرح چوتھ کے بجائے دولت کا پانچواں حصہ خدا اور رسول کا حصہ قرار پایا
خُمس۔
جس کو رسول اور ان کے بعد ان کے نائب اپنے ذاتی ضروریات اہل و عیال کے نان و نفقہ اور نادار مسلمانوں کی امداد یا حکومت اور جماعت کی کسی اور ضروری مدد میں صرف کر سکیں۔اس زکوٰۃ کا نام جو غنیمت کے مال پر عائد ہوتی ہے "خُمس" ہے قرآن نے کہا۔﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ (سورۃ الانفال، آیت: 41)"اور جان لو کہ جو کچھ تم کو غنیمت ملے اس کا پانچواں حصہ خدا کے لئے اور رسول کے لئے اور قرابت مندوں کے لئے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافر کے لئے ہے"
نکتہ:
اس موقع پر ایک خاص بات سمجھنے کے لائق ہے جہاد یا دشمنوں سے لڑائی کا اصلی مقصد دین کی حمایت اور اعلائے کلمۃ اللہ ہے غنیمت کا مال حاصل کرنا نہیں اور اگر کوئی صرف حصول غنیمت کی نیت سے دشمن سے لڑے تو اس کی یہ لڑائی اسلام کی نگاہ میں جہاد نہ ہو گی اور نہ اس کا کوئی ثواب ملے گا۔ اس کی طرف خود قرآن پاک میں اشارہ موجود ہے اور آنحضرت ﷺ نے بھی متعدد حدیثوں میں اس کی تشریح فرما دی ہے۔ اس بنا پر درحقیقت وہ مال غنیمت جو لڑائی میں دشمنوں سے ہاتھ آتا ہے ایک ایسا سرمایہ ہے جو بلا قصد اور بلا محنت اتفاقاً مسلمانوں کو مل جاتا ہے
یعنی نیت کی تو وہ تو سارا جہاد گڑبڑ ہو گیا۔ یعنی اس کی نیت تو کی ہی نہیں جا سکتی۔ تو جب نیت کے بغیر آپ کو ملے تو وہ کون سی چیز ہو گی؟ فضل ہی ہو گا نا؟ تو اللہ تعالیٰ کا فضل۔ تو پھر ظاہر ہے وہ تو۔۔۔
اس سے یہ نکتہ حل ہو جاتا ہے کہ جو سرمایہ کسی محنت کے بغیر اتفاقاً ہاتھ آئے اس میں پانچواں حصہ نظامِ جماعت کا حق ہے یا حکومت کے مقررہ بالا مصارف کے لئے ہے۔
یہ اصول کہ جو سرمایہ بلا کسی محنت کے اتفاقاً کسی مسلمان کے ہاتھ آ جائے اس میں سے پانچواں حصہ خدا اور رسول کا ہے تاکہ وہ جماعت کے مشترکہ مقاصد کے صرف میں آئے وہی ہے جس کی بنا پر رِکاز یعنی دفینہ میں جو کسی کو بلا محنت اتفاقاً غیب سے ہاتھ آ جائے خمس (یعنی پانچواں حصہ) جماعت کے بیت المال کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔
محنت اور سرمایہ سے جو دولت پیدا ہوتی ہے
اب دیکھیں نا یہ چیزیں ہماری اصطلاحات موجود ہیں۔ لیکن اس کی یہ تشریح کسی نے کی ہے؟ ٹھیک ہے بس ایک categorical imperative بات ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے۔ بس اس سے زیادہ مطلب وہ کوئی بات نہیں ہے، لیکن یہاں پر دیکھو کتنی detail کے ساتھ اس کو inter-link کیا گیا ہے۔
محنت اور سرمایہ سے جو دولت پیدا ہوتی ہے اس میں سب سے پہلی چیز زمین کی پیداوار ہے۔ تورات نے ہر قسم کی پیداوار پر عشری یعنی دسواں حصہ مقرر کیا تھا۔ شریعتِ محمدیہ نے نہایت نکتہ سنجی کے ساتھ پیداوار کی مختلف قسموں پر مختلف شرح زکوٰۃ کی تفصیل کی۔ سب سے پہلے پیداوار کے ان اصناف پر زکوٰۃ مقرر ہوئی جو کچھ زمانہ تک محفوظ رہ سکتے ہیں تاکہ ان سے حسب منشاء خانگی اور تجارتی فائدہ اٹھایا جا سکے اور نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔ اسی بنا پر سبزیوں اور ترکاریوں پر جو ایک دو روز سے زیادہ نہیں رہ سکتیں کوئی زکوٰۃ مقرر نہیں فرمائی گئی۔ اسی طرح اس مالیت پر جس میں نشو و نما اور ترقی کی (نمو والی بات ہے)
صلاحیت نہیں مثلاً آلات، مکان، لباس، سامان، اسباب، سواری، قیمتی پتھر ان پر بھی زکوٰۃ نہیں رکھی گئی، کچھ دنوں تک باقی رہنے والی اور نشو و نما پانے والی چیزیں چار ہیں۔
کچھ وقت تک باقی رہنے والی اور نشوونما پانے والی، دو شرطیں ہیں۔
زمین، جانور، سونا، چاندی یا ان کے سکے اور تجارتی مال، چنانچہ ان چاروں چیزوں پر زکوٰۃ مقرر ہوئی۔
زمین کی دو قسمیں کی گئیں ایک وہ جس کے جوتنے اور بونے کی محنت اور مزدوری کا خرچ گاہ کا شکار کرتا ہے
موسمی اور اقلیمی خصوصیت کی وجہ سے اس کے سیراب کرنے میں کاشتکار کی کسی بڑی محنت اور مزدوری کو دخل نہیں ہوتا بلکہ وہ بارش یا نہر کے پانی یا زمین کی نمی اور شبنم سے آپ سے آپ سیراب ہوتی ہے اس پر بلا محنت والی اتفاقی دولت سے آدھی زکوٰۃ یعنی عشر (1/10) مقرر کیا گیا۔ زمین کی دوسری قسم یعنی وہ جس کی سیرابی کاشتکار کی خاص محنت اور مزدوری سے ہو مثلاً کنوئیں سے پانی نکال کر لانا یا نہر بنا کر پانی لانا تو اس میں قسم اول سے بھی نصف یعنی بیسواں حصہ (1/20) مقرر ہوا۔
سبحان اللہ!
نقدی سرمایہ جس کی ترقی حفاظت نشو و نما اور افزائش میں انسان کو شب و روز کی سخت محنت کرنی پڑتی ہے اور جس کی افزائش کے لئے بڑے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے اور جس میں ہر قدم پر چوری، گم شدگی، لوٹ اور نقصان کا اندیشہ رہتا ہے زمین کی دوسری قسم کا بھی آدھا یعنی چالیسواں (1/40) حصہ مقرر ہوا۔
یہ کبھی کسی نے بتایا یہ Logic۔ یہ وہ بات ہے جس پہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے چہرے کو دیکھ کے فرمایا: "اتنے بڑے علامہ کو میں کیسے نصیحت کر لوں؟" علامہ تھے ناں...
زمینی پیداوار اور نقد سرمایہ میں شرحِ زکوٰۃ کی کمی بیشی کی ایک دقیق اقتصادی علت اور بھی ہے انسان کی اصلی ضرورت جس پر اس کا جینا منحصر ہے صرف غذا ہے۔ زمین کے مالکوں کو یہ چیز براہ راست خود اپنی محنت سے حاصل ہوتی جاتی ہے اور زندگی کی سب سے بڑی ضرورت سے وہ بے پروا ہو جاتے ہیں لیکن سونے چاندی کے مالکوں اور تاجروں کی جو دولت ہے وہ براہ راست ان کی زندگی کی اصلی ضرورت کے کام میں نہیں آتی بلکہ مبادلہ اور خرید و فروخت کے ذریعہ سے وہ اس کو حاصل کرتے ہیں وہ کاشتکاروں کی پیداوار کو خرید کر ان کو نقد روپے دیتے ہیں جس سے ان کی دوسری ضرورتیں پوری ہوتی ہیں پھر وہ اس پیداوار کو لے کر گاؤں گاؤں، شہر شہر، ملک ملک پھرتے ہیں اور اس کی بھی اجرت ادا کرتے ہیں نیز جو محنت زمین کی پیداوار حاصل کرنے میں صرف ہوتی ہے اس سے بدرجہا زیادہ نقد کے حصول میں صرف کرنی پڑتی ہے۔ سونا چاندی صدیوں کے فطری انقلابات کے بعد کہیں پیدا ہوتی ہے اور غلہ ہر سال اور سال کی ہر فصل میں انسان کی کوشش سے پیدا ہوتا ہے اس لئے سونا چاندی کی قیمت کا معیار غلہ سے گراں تر ہے ایک اور بات یہ ہے کہ کاشتکار اور زمینوں کے مالک عموماً دیہاتوں میں رہتے اور شہروں سے دور ہوتے ہیں نیز وہ عموماً سونا چاندی اور سکوں سے بھی محروم رہتے ہیں۔ اس لئے نسبتاً وہ قومی ضروریاتِ دین کی مالی خدمات اور مستحقین کی امداد میں اس انفاق یعنی اخلاقی خیرات کی گرفت سے آزاد رہتے ہیں جن کو عموماً نقد صورت میں دولت کے مالک اور تاجر پورا کیا کرتے ہیں اس بنا پر بھی سخت ضرورت تھی کہ ان کے لئے قانونی خیرات کی شرح اہل زمین سے مختلف رکھی جائے۔
زکوٰۃ کی شرح مقدار کی تعیین میں اس خمس والی آیت سے ایک اور نکتہ معلوم ہوتا ہے
یعنی دیکھیں نا خُمس، پھر اس کا نصف، پھر اس کا نصف، پھر اس کا نصف۔
کہ خمس میں چونکہ امامت و حکومت کے تمام ذاتی و قومی مصارف شامل ہیں اس لئے وہ کل کا خمس یعنی 1/5 مقرر ہوا اور زکوٰۃ کے مصارف جیسا کہ سورہ توبہ رکوع 8 میں مذکور ہیں صرف آٹھ ہیں اس بناء پر ان آٹھ مصارف کے لئے مجموعی رقم چالیسواں حصہ رکھی گئی پھر غور کیجئے کہ سونا چاندی کی شرح 200 درہم یا اس کے مماثل سونا ہے۔ ان دو سو درہموں کو 5 پر تقسیم کر دیجئے تو 40 ہو جائے گا
یعنی مطلب یہ ہے کہ جو یعنی اس وقت کا 200...
یہ کل زکوٰۃ کی شرحیں 1/5 اور 1/10 اور 1/20 اور 1/40 ایک دوسرے کا نصف یا ایک دوسرے کا مضاعف ہوتی چلی گئی ہیں اس سے یہ اندازہ ہوگا کہ یہ تقسیم و تحدید حساب اور اقتصادیات کے خاص اصول پر مبنی ہے۔