الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ
وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: يَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللهُ، فَيَقُولَانِ لَهُ مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ دِينِيَ الْإِسْلَامُ، فَيَقُولَانِ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ هُوَ رَسُولُ اللهِ ﷺ، وَفِيهِ، فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِي فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا مِنَ الْجَنَّةِ، فَيُفْتَحُ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَذَكَرَ مَوْتَهُ وَجَمِيعَ حَالِهِ عَلَى ضِدِّ ذَلِكَ۔
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، قَالَ اللهُ تَعَالَى: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلٰى قَلْبِ بَشَرٍ۔
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَهُ نَعْلَانِ وَشِرَاكَانِ مِنْ نَارٍ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ كَمَا يَغْلِي الْمِرْجَلُ، مَا يَرَى أَنَّ أَحَدًا أَشَدُّ مِنْهُ عَذَابًا، وَإِنَّهُ لَأَهْوَنُهُمْ عَذَابًا۔
وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ۔
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
معزز خواتین و حضرات! اس وقت ہم زندہ ہیں۔ اور ہم میں سے ہر ایک یہاں سے رخصت ہونے والا ہے۔ کوئی شخص بھی یہاں رہنے والا نہیں ہے۔ جتنے لوگ پہلے آئے تھے وہ چلے گئے ہیں۔ اور جو ہیں وہ جانے والے ہیں۔ زندگی اور موت یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دن اور رات۔ اگر دن ہے تو رات آنی ہے، اگر رات ہے تو دن آنا ہے۔
پس ان حقائق کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا، یہ بہت بڑی عقلمندی ہے۔ ان حقائق کو سامنے رکھ کر زندگی گزارنا، یہ بہت بڑی عقلمندی ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ اقدار بدل چکی ہیں، خیالات بدل چکے ہیں، ترجیحات بدل چکی ہیں، تو عقلمندی کی یہ تعریف نہیں جو میں نے ابھی کی ہے۔ یہ نہیں لی جاتی۔ اس کو عقلمندی نہیں سمجھا جاتا۔
عقلمندی آج کل اس کو کہتے ہیں کہ جو زیادہ سے زیادہ دنیا کمائے۔ شہرت جس کی زیادہ ہو جائے۔ تو ان کو عقلمند کہا جاتا ہے۔ بلکہ بعض لوگوں کا مزاج تو اتنا بگڑ چکا ہوتا ہے کہ وہ بے سر و پا، بے تکی باتیں کرنے والے کو عقلمند کہتے ہیں۔ جس کا کوئی سر اور پیر نہیں ہوتا۔ فلسفیانہ گفتگو کر کے لوگوں کو حیرت میں ڈال کر اپنی عقلمندی کا رعب ان پر ڈالتے ہیں حالانکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
ایک دفعہ ہمارے ایک دوست تھے، ہیں بھی، ما شاء اللہ حیات ہیں۔ ان کو تقریروں کا بڑا شوق تھا، تقریریں سننے کا۔ تو ہم Hostel میں تھے۔ تو کھانا کھانے کے لیے Dining hall جا رہے تھے، راستے میں Drawing room تھا، جس میں TV لگا ہوا تھا اور ایک خاص بڑے مقرر کی تقریر ہو رہی تھی۔ جس کو بڑے غور سے وہ سن رہا تھا، ان میں بیٹھا ہوا تھا۔ یعنی ہم نے ان میں دیکھ لیا کہ وہ بھی ہے۔ اور وہ کیوں نہ ہو، اس کو تقریروں کا شوق جو تھا۔
ہم تو کھانا کھانے چلے گئے، جب کھانا کھا کر واپس آ رہے تھے تقریر ختم ہو گئی تھی، لوگ باہر آ رہے تھے۔ ان میں وہ بھی تھا۔ اس سے میں نے پوچھا، آپ نے تقریر سن لی؟ کہتے ہاں۔ میں نے کہا کیا بتایا؟ کچھ ہمیں بھی بتائیں، اس کا کچھ لبِ لباب، نچوڑ۔
تھوڑی دیر سوچتے رہے پھر کہا، کہا تو کچھ بھی نہیں۔ میں نے کہا پھر آپ کیا کر رہے تھے ادھر بیٹھ کر؟ کیا کر رہے تھے؟ میں نے کہا اسی کو "لفاظی" کہتے ہیں۔ الفاظ کا سماں باندھ لینا۔ ایسا سماں باندھ لینا کہ اس میں لوگ مستغرق ہو جائیں۔ اور لوگ کہتے ہیں واہ واہ! واہ واہ! واہ واہ! واہ واہ! نہ ان الفاظ کو بقا ہوتی ہے، نہ اس واہ واہ کو بقا ہوتی ہے۔ دونوں چلے جاتے ہیں اور اپنا اپنا بوجھ اپنے اوپر لادکے لے چلے جاتے ہیں۔
اس وجہ سے باقی باتیں تو بہت ہوتی ہیں۔ وہ ہم چاہیں بھی، نہ چاہیں، ہوتی ہیں۔ دنیا کی باتیں بہت ہوتی ہیں۔ اس وقت سیاست کا دور دورہ ہے، بہت باتیں ہو رہی ہیں۔ مہنگائی کی باتیں ہو رہی ہیں، بہت باتیں ہو رہی ہیں۔ اور ویسے بے راہ روی کا رونا رویا جا رہا ہے، بہت باتیں ہوتی ہیں۔ یہ ساری باتیں ہو رہی ہیں لیکن ان چیزوں کو کنٹرول کیسے کیا جائے؟ اور وہ کامیاب کتنا ہو؟ وہ اصل بات ہے۔
مطلب اس دنیا میں جو وقت ہمیں ملا ہے، وہ ہمیں ضائع کرنے کے لیے نہیں ملا۔ بلکہ ہمیں اس کو Utilize کرنا ہے اس طرح کہ وہ ہمارے وہاں کام آئے۔ اس کے لیے ملا ہے۔ اب میں دیکھوں، ایک وقت میں، میں ذکر کرتا ہوں اللہ کا، یہ لکھا جا رہا ہے۔ ایک وقت میں اللہ کی طرف دعوت دے رہا ہوں، یہ بھی لکھا جا رہا ہے۔ ایک وقت میں قرآن پاک کی تلاوت کر رہا ہوں، یہ بھی لکھا جا رہا ہے۔ ایک وقت میں گپ شپ لگا رہا ہوں، یہ بھی لکھا جا رہا ہے۔ ایک وقت اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر غیبت کر رہا ہوں، یہ بھی لکھا جا رہا ہے۔ ایک وقت جھوٹی کہانیاں میں لوگوں کو بتا رہا ہوں، یہ بھی لکھا جا رہا ہے۔ ایک وقت میں لوگوں کو تنگ کر رہا ہوں، آج کل جیسے محفلوں میں ایک دوسرے کو تنگ کرتے ہیں، تو وہ بھی لکھا جا رہا ہے۔
اب ان تمام باتوں کو اگر ہم لوگ غیر جانبدار ہوکر سوچیں، تو کون سی باتیں مفید ہیں اور کون سی باتیں فضول ہیں، اور کون سی باتیں نقصان دینے والی ہیں؟ یہ میرے خیال میں شاید ہم میں سے ہر ایک جانتا ہے۔ کون ہے نا، جو، جو نہیں جانتا؟ کوئی ہے اس طرح جو نہیں جانتا کہ غیبت کرنا حرام ہے؟ جھوٹ بولنا حرام ہے؟ دوسروں کو تنگ کرنا حرام ہے؟ غلط نام لینا کسی کا حرام ہے؟ یہ کیا ہم لوگوں کو پتا نہیں ہے؟ اور کس کو پتا نہیں ہے؟ ہم میں سے سب کو پتا ہے۔ لیکن ہم لوگ اس میں مبتلا ہیں۔ اور کر رہے ہیں وہی، جو ہم جانتے ہیں کہ غلط ہے۔
تو اب بتا دیں یہ کون سی چیز ہے جو ہم سے یہ کروا رہی ہے؟ آخر کوئی وجہ تو ہوگی نا، اس طرح تو نہیں، خود بخود تو کام نہیں ہو سکتا۔ دیکھیں یا ہم بات کر رہے ہیں، یا خاموش ہیں۔ تو اگر بات کر رہے ہیں تو کون سی بات کرنی چاہیے، کون سی بات نہیں کرنی چاہیے؟ خاموشی کس وقت ٹھیک ہے؟ کس وقت ٹھیک نہیں ہے؟ یہ باتیں ہمیں معلوم ہیں لیکن، لیکن عمل نہیں ہو رہا۔ عمل غلط ہے۔
تو پہلے تو یہ ڈھونڈ لیں کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیوں ہم لوگ اس بات کا خیال نہیں رکھتے؟ اب ایک طالب علم ہے، کسی کالج میں، یونیورسٹی میں، مدرسے میں داخل ہے۔ وہ گپ شپ بھی لگاتا ہے، بات چیت بھی کرتا ہے، Study بھی کرتا ہے، سوتا ہے، جاگتا ہے، ملتا جلتا ہے، سارے کام اس کو کرنے ہوتے، کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن جس کو امتحان یاد ہے اور وہ ذمے دار ہے، اپنے آپ کو ذمے دار سمجھتا ہے، تو وہ Study پر توجہ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ کہ مجھے پاس ہونا ہے۔
اور جن کو یہ یاد نہ ہو کہ ہمیں امتحان دینا ہے، یا وہ ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کر رہے، تو ان کو پروا نہیں ہوتی۔ وہ آگے پیچھے، سیر سپاٹے، گپ شپ، اسی میں لگے ہوتے ہیں۔ نتیجہ جب آتا ہے، تو جو پہلا ہے جو Study کرنا چاہتا ہے، اللہ کی مدد بھی ہوتی ہے، خود اس کی اپنی ہمت، تو پاس ہو جاتا ہے۔ وہ دوسرا فیل ہو جاتا ہے، پھر روتا ہے، یا لوگ اس کو طعنے دیتے ہیں۔
تو اس طرح ہم یہاں پر جو آئے ہیں، یہ تو امتحان ہے۔ اس وقت ہم کمرۂ امتحان میں ہیں۔ ہماری ہر چیز کو نوٹ کیا جاتا ہے۔ اور یہ امتحان Theoretical نہیں ہے، یہ Practical ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آدمی کو مثلاً صبر کا معنی آتا ہو، لیکن اس میں صبر نہ ہو تو اس کو چھوڑ دیا جائے کہ اس کو صبر کا معنی آتا ہے یہ پاس ہو گیا، نہیں۔ اس کو صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ شکر کا اگر اس کو معنی آتا ہے اور بڑی تفصیل سے جانتا ہے لیکن اس میں شکر نہیں، وہ شکر نہیں کرتا، تو عملی طور پر فیل ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ذرا اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ کہ اس وقت ہم کیا عمل کر رہے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ہمیں خبردار کیا ہے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں: يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللهَ ۚ إِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ۔
"اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو۔ چاہیے کہ ہر شخص یہ دیکھ بھال لے خود ہی، کہ کل کے لیے وہ کیا بھیج رہا ہے۔ اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ تمہارے تمام کاموں سے آگاہ ہے، جو تم کرتے ہو۔"
تو ہم لوگ خود جائزہ لے لیں کہ ہم جو کام کر رہے ہیں وہ ہمارے فائدے کے ہیں یا نقصان کے ہیں؟ اچھا اب ذرا تھوڑا سا غور فرما لیں، جو ہم نقصان کے کام کر رہے ہیں کیا وہ آسان بہت ہیں؟ یا جو دین کا کام کر رہے ہیں یا جو اچھے کام کر رہے ہیں وہ مشکل بہت ہیں؟ یہ بھی ایک سوال ہو سکتا ہے۔ تو میں آپ سے بات کروں ہر چیز کے مقابلے میں دوسری چیز موجود ہے۔
جو گالیاں دے رہا ہے، وہ جتنا آسان ہے، اتنا آسان ذکر کرنا بھی ہے۔ بات ہی ہے نا، زبان سے بات ہی نکالنی ہے نا۔ گالی بھی بات ہے، ذکر بھی بات ہے۔ گالی کا جواب یہاں سخت مل سکتا ہے۔ مثلاً جس کو گالی دی وہ ممکن ہے تھپڑ مارے۔ لات مارے۔ ضروری نہیں کہ اس کو چھوڑ دیا جائے۔ بعض لوگوں کی ویسے گالیاں دینے کی عادت ہوتی ہے۔ وہ گالی دے کر پھر اس طرح مار کھاتے ہیں۔
تو اس کا تو نقصان دنیا میں بھی سامنے آتا ہے۔ لیکن کیا ذکر کے بارے میں آپ کو کوئی مارے گا؟ آپ ذکر کریں گے، بے شک وہ ذکر نہ کرتا ہو، لیکن آپ کو مار تو نہیں سکتا کہ آپ ذکر کیوں کر رہے ہیں؟ ہاں البتہ آپ اس کو اگر تکلیف پہنچا رہے ہیں، اس سے تو شریعت نے منع کیا ہے۔ مثلاً وہ بیمار ہے، اور آپ زور زور سے ذکر کر رہے ہیں، تو اس طرح تو شریعت بھی روکتی ہے کہ بھئی چپکے چپکے ذکر کرو پھر۔ زور زور سے نہ کرو۔ آہستہ آہستہ کرو۔ اللہ تعالیٰ تو سب کی سنتا ہے۔
تو اب یہ ہے کہ اس میں بھی کوئی مشکل نہیں ہے۔ تو لہذا ذکر آسان بھی ہے، مفید بھی ہے۔ ذکر آسان بھی ہے، مفید بھی ہے۔ تو جس منہ سے انسان گالی دے رہا ہے، اس سے خاموش رہنا بہتر ہے۔ اور ذکر کرنا اس سے زیادہ بہتر ہے۔ تو ذکر کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ یہ عادت پر منحصر ہے۔ اور عادت آتی ہے ماحول سے۔ عادت بنتی ہے ماحول سے۔ اگر ذکر کا ماحول نہ ہو تو ذکر نہیں ہوتا۔ بہت سارے لوگوں کو ہم جانتے ہیں وہ ذکر کرنا چاہتے ہیں۔
ہمارے ایک ساتھی ہیں مکہ مکرمہ میں، الحمد للہ عرصہ دراز سے مقیم ہیں، چالیس سال سے زیادہ ہو گئے۔ حرم شریف میں ان کی ڈیوٹی تھی، Engineer تھے۔ تو مجھے کہنے لگے کہ کچھ ساتھی تھے، ان کو میں کہتا تھا بھئی ذکر کرو، ذکر سیکھو، ذکر سیکھو، کیونکہ جس نے ذکر سیکھا نہیں ہوتا وہ کر نہیں سکتا۔ یہ بات لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتی، صحیح بات عرض کرتا ہوں۔ کہ جس نے ذکر سیکھا نہیں ہوتا وہ کر نہیں سکتا۔
تو وہ کہتے وہ حیرت، کہتے کہ بھئی یہ کیا بات ہے، ذکر تو بہت آسان ہے ہم جب بھی کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ کچھ ایسے حالات بن گئے کہ حکومت نے ان لوگوں کو گرفتار کر لیا۔ جیل بھیج دیا۔ اب سعودی عرب کی جو جیلیں ہیں اس وقت کم از کم جو تھیں، وہ مشقت والی جیلیں نہیں ہوتی تھیں بس صرف بند کر لیتے تھے، باقی پورا کھانے پینے کا انتظام سارا کچھ ٹھیک ٹھاک ہوتا تھا۔
تو جیل میں بند ہو گئے۔ جس وقت وہ آزاد ہو گئے تو آ کر اس ساتھی کو ملے، گلے لگ کر کہا کہ آپ بالکل صحیح کہتے تھے۔ ہم وہاں ذکر کرنا چاہتے تھے لیکن نہیں ہو رہا تھا۔ اب جیل میں انسان اور کیا کر سکتا ہے؟ مطلب وہ تو جیل میں تو بیٹھا ہے اور کچھ نہیں کر سکتا باہر تو جا نہیں سکتا۔ تو ذکر کا بہت موقع ہے زبردست۔ کہتے ہیں ہم جب ذکر کا ارادہ کرتے ہیں ادھر ادھر کے خیالات آ جاتے ہیں اور بس پھر اس میں لگ جاتے ہیں ذکر رہ جاتا ہے۔
چلو اس کے لیے تو جیل کا میرے خیال میں Practical ہونا چاہیے تاکہ پتا چلے کہ ایسا ہوتا ہے۔ اس سے آسان تر چیز بتا دوں، جس سے سمجھ میں آ جائے گی بات۔ مثلاً آپ لاہور جا رہے ہیں۔ لاہور جانے میں یہاں سے تقریباً پانچ گھنٹے تو لگتے ہی ہیں اگر اپنی گاڑی بھی ہو۔ اچھا، اگر آپ ذکر کرنا چاہیں تو میرا تجربہ یہ ہے کہ چار ہزار مرتبہ ایک گھنٹے میں "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ" پڑھا جا سکتا ہے۔ اور چھوٹا درود شریف بھی اتنی تعداد میں پڑھا جا سکتا ہے۔ چار ہزار مرتبہ۔ تو پانچ گھنٹے میں 20 ہزار مرتبہ "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ" پڑھا جا سکتا ہے۔
لیکن چلو، جو ذکر کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ عادی نہ ہوں، ان سے پوچھو کہ لاہور تک آپ کتنا ذکر کر لیتے ہیں؟ دو سو بھی نہیں، تین سو بھی نہیں۔چار ہزار بڑی بات ہے یہ بھی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ جیسے ذکر کا ارادہ کریں ادھر ادھر کے خیالات اور کبھی کس چیز کو دیکھا، کبھی کس چیز کو، کبھی سو گئے، کبھی بات چیت شروع کی، اور اس طریقے سے وقت گزر جاتا ہے، نہیں کر سکتا۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ذکر کی عادت ہونی چاہیے۔ اتنی عادت ہونی چاہیے کہ وہ آپ سے آپ کا جسم خود ذکر کرائے۔ اس پر آپ حیران ہوں گے بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے، خود کیسے ذکر کرایا جا سکتا ہے؟
ہمارے شیخ تھے مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، یہ میں ویسے وہ بات کر رہا ہوں، شاید بہت سارے لوگ اس کو سمجھ نہ لیں اور نہ اس کو مانیں، لیکن ہمیں چونکہ اس کا پتا ہے لہذا ہم بات کر سکتے ہیں۔ کسی کو پتا نہ ہو تو معذور ہے۔ دو باتیں ہوئی ہیں جس سے مجھے اندازہ ہے۔
"پہلی بات نماز، ایک عرب نوجوان تھے، آئے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھائی۔ نماز پڑھنے کے بعد بیٹھے تھے کہ حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی زبان سے ایک نعرہ "الا اللہ" یہ نکلا۔ یہ نعرہ حضرت کی زبان سے نکلا کرتا تھا، "الا اللہ" کبھی "اللہ"، نعرہ نکلا۔ اس عرب نے فوراً پوچھا: "ما ہذا یا شیخ؟" (یہ کیا چیز ہے؟)۔ حضرت نے فرمایا: "لیس بالاختیار" (اختیار میں نہیں ہے)۔ ان کو تو یہ جواب دے کر فارغ کر دیا۔ وہ صاحب چلے گئے، پھر ہم لوگوں کو بتایا کہ ایک حدیث شریف ہے، سبحان اللہ یاد رکھیں۔ حدیث شریف ہے۔ دعا ہے حدیث شریف کی۔ "اللّٰهُمَّ اجْعَلْ وَسَاوِسَ قَلْبِي خَشْيَتَكَ وَذِكْرَكَ"۔ اے اللہ میرے دل کے وساوس کو اپنی خشیت اور اپنا ذکر بنا دے۔ تو یہ چیز ہوتی ہے، اب مثال کے طور پر آپ کے دل میں کوئی خیال آ گیا، کوئی وسوسہ آ گیا جس کے لیے آپ تیار نہیں ہیں، آپ نہیں چاہتے اس کو۔ یکدم آپ کی Body Reaction کرے گی۔ Reaction کرے گی اور Reaction میں اللہ کو یاد کرے گی۔ کیونکہ اللہ کی یاد کی عادی ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو ظاہر ہے مطلب وہ ذکر بن جائے گا۔
پھر دوسری بات حضرت نے فرمائی، ذرا تواضعاً فرما دی لیکن اصل بات تو یہی ہے، غور ہے۔ حضرت نے فرمایا اصل میں بعض لوگ جو ذکر نہیں کرتے اللہ ان سے زبردستی ذکر کراتے ہیں۔ تو یہ تو تواضعاً فرمائی، اصل میں بات یہ تھی کہ حضرت اتنے عادی تھے، کہ جیسے ہی خاموشی ہو جاتی یعنی چھوٹ جاتے، تو پھر دوبارہ اپنی Body خود اس کو ذکر کرا دیتی تھی۔ اور یہ ہے۔
پھر ایک ڈاکٹر صاحب ہیں، ما شاء اللہ، ابھی موجود ہیں۔ ان سے باقاعدہ ایک دفعہ کسی نے سوال پوچھا، تو انہوں نے کہا آپ میرے جسم کے کسی حصے کے ساتھ کان لگا لیں۔ تو اس نے جسم کے ساتھ کان لگایا تو وہاں پر ذکر ہو رہا تھا۔ جس جگہ کے ساتھ کان لگاتے ہیں تو وہاں ذکر ہو رہا تھا۔ اب یہ کیا چیز ہے؟ یہ انعامات ہیں۔ یہ انعامات ہیں، یہ اصل میں ہر ایک آدمی کا نہیں ہوتا، یہ انعامات ہیں۔ آپ نے ایک ارادتاً ایک کام شروع کر لیا، اختیاری کام۔ پھر اس پر اللہ پاک آپ کو غیر اختیاری نعمت دیتا ہے۔ اور غیر اختیاری نعمت پھر اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق دیتا ہے۔ وہ جیسے اس کی شان ہے۔
تو یہ انعامات ہیں جو کہ ملتے ہیں اچھے لوگوں کو ملتے ہیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ ہم لوگ اپنے اختیار سے جو کام کر سکتے ہیں وہ تو کریں نا۔ ہم لوگ اپنے اختیار سے جو کر سکتے ہیں وہ تو کریں نا۔ باقی جو اس کا اختیار ہے، جو اس کی مرضی ہے وہ اپنے وقت پر ہو کر رہے گی۔ اس کے لیے ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ پاک ہم پر ہم سے زیادہ مہربان ہے۔
خیر، تو میں نے ذکر کی بات کی، کہ ذکر جو ہے یہ ہر وقت انسان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ وہ کون سا کام ہے جو میں ہر وقت کروں؟ فرمایا: ہر وقت آپ کی زبان ذکر سے تر رہے، تر رہے۔ رَطْبٌ اللِسَانِ باقاعدہ اس کا یعنی اس سے بنا ہوا ہے۔ آپ کی زبان ہر وقت ذکر سے تر رہے۔
تو ایک تو یہ بات۔ دوسری بات یہ، ہم جو بھی کام کرتے ہیں، ہم جو بھی کام کرتے ہیں، آپ حدیث شریف کی دعاؤں میں دیکھیں، اس کے متعلق آپ کو دعا مل جائے گی۔ مثلاً آپ کپڑے بدل رہے ہیں، اس کی دعا ہو گی۔ گھر سے نکل رہے ہیں، اس کی دعا ہو گی، گھر کے اندر داخل ہو رہے ہیں، اس کی دعا ہو گی۔ لوگوں کے ساتھ مل رہے ہیں، اس کی دعا ہو گی، کھانا کھا رہے ہیں، اس کی دعا ہو گی، سو رہے ہیں، اس کی دعا ہو گی، ہر ہر عمل کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا منقول ہے۔
یہ دعائیں اگر انسان یاد کرے، بہترین ذکر ہے۔ مثلاً: آپ ملتے ہیں، سبحان اللہ۔ اذان ہو رہی ہے، اذان کے ساتھ جواب دیں۔ آج کل تو اذان کا صحیح بات ہے اکرام ہی ختم ہو گیا ہے۔ صحیح بات ہے۔ میں اتنا پریشان ہوتا ہوں، علماء کو دیکھتا ہوں کہ وہ اذان کی پروا نہیں کرتے۔ علماء کی بات کر رہا ہوں، عام لوگوں کی تو بات ہی نہیں کر رہا۔ علماء بھی آپس میں گپ شپ لگا رہے ہوتے ہیں، اذان ہو رہی ہوتی ہے۔
ایک دفعہ ادھر اسلام آباد میں ایک قراءت کی محفل تھی۔ اس میں مجھے بھی بلایا گیا تھا۔ بڑے قاری صاحبان آئے ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ ان کو بلند مقامات نصیب فرمائے، بڑی خدمت کر رہے ہیں۔ خیر، وہاں تلاوت ظاہر ہے قراءت کی، قراءت کی محفل تھی تو تلاوت ہو رہی تھی۔ ایک قاری تلاوت کرتے اس کے بعد دوسرا قاری صاحب آ جاتے وہ تلاوت کرتے، اس طرح سلسلہ چل رہا تھا۔ اور جو منتظمین تھے وہ بھی قاری صاحبان تھے۔ اب جو آرہے ہیں، ان کے ساتھ گلے لگ رہے ہیں، گپ شپ ہو رہی ہے، بھئی کب کہاں تھے اور اتنے میں نے تو ٹیلی فون کیا اور آپ نہیں تھے اور یہ اور وہ، اس قسم کی باتیں ہو رہی ہیں۔
حالانکہ قرآن کا حکم ہے، صراحتاً حکم ہے کہ جب قرآن پڑھا جا رہا ہو خاموش رہو تاکہ اللہ تم پر رحم کرے۔
"وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ"
خاموش ہو جاؤ، اس کو سنو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ میں نے کہا قرآن سامنے آپ کے موجود ہے، پڑھا جا رہا ہے، اس کے اندر یہ ہے کہ جس وقت قرآن پڑھا جائے اس وقت خاموش ہو جاؤ، ایک تو ٹیپ ریکارڈر پر قرآن پڑھا جا رہا ہو نا وہ ایک علیحدہ حکم ہے اس کا۔ اس کا حکم الگ ہے۔ لیکن جو با قاعده قرآن کی تلاوت ہو رہی ہو، کوئی آدمی تلاوت کر رہا ہو، اس کے احکامات اپنی جگہ پر ہیں۔
تو مجھے بھی بیان کرنا تھا تو مولانا عبدالغفار صاحب بھی موجود تھے۔ تو میں نے پہلے یہی بات کی، میں نے کہا مجھے بہت افسوس ہوا، یہاں آ کر میں نے دیکھا کہ قاری صاحبان قرآن کا ادب نہیں کر رہے، اس لیے مجھے بہت افسوس ہوا۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، اللہ کا حکم ہے، اس کا خیال رکھنا چاہیے۔ بعد میں بھی باتیں ہو سکتی ہیں نا، جب قرآن پاک کی تلاوت پوری ہو جائے اس کے بعد باتیں کرو آپس میں۔
مولانا عبدالغفار صاحب جس وقت، میں آیا واپس اپنی سیٹ پر، مولانا نے کہا بالکل صحیح بات کی ہے، ایسی بات ضرور ہونی چاہیے تھی۔ آپ نے بالکل صحیح بات کی۔ مقصد میرا یہ ہے کہ ہم لوگ ان چیزوں کے آداب بھول گئے ہیں۔ تو اذان کا جواب دینا اس کا تو نہیں ہے۔ حالانکہ یہ آپ یقین سے جانیں کہ حسن خاتمہ کا ذریعہ ہے۔ یعنی جو اذان کا ادب کرتا ہے اللہ تعالیٰ ان کا خاتمہ اچھا کر لیتا ہے۔ اتنی بڑی نعمت اس کے ساتھ ہے۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ اذان یہ بہترین دعوت ہے، سب سے اونچی دعوت ہے۔ اتنی اونچی دعوت ہے کہ شیطان دوڑتا ہے اس سے۔ جیسے اذان کی آواز آتی ہے تو دوڑتا ہے۔ پھر جب اذان ختم ہو جاتی ہے پھر یہ واپس آتا ہے۔ تو اتنی زبردست دعوت ہے، اس دعوت کو Recognize کرنا، اس کو اپنے اوپر طاری کرنا ضروری ہے، اس لیے حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس وقت مؤذن الفاظ کہے اذان کے ، تم بھی وہی الفاظ کہو۔ وہ کہے "اَللّٰهُ أَكْبَرُ" تم بھی "اَللّٰهُ أَكْبَرُ" کہو۔ وہ کہے "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ" تم بھی "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ" کہو۔ وہ کہے "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ" تم بھی "أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ" کہو۔ وہ کہے "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ" تم بھی "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ" کہو۔
یہاں پر ایک مسئلے کی بات بتاتا ہوں، اور یہ اچھا ہوا کہ آ گیا۔ حدیث شریف میں نے آپ کو سنا دی، مسلم شریف کی حدیث شریف ہے۔ کہ جس وقت مؤذن الفاظ جو کہے وہی الفاظ تم بھی جواب میں کہو۔ جب اذان پوری ہو جائے، پھر درود شریف پڑھو۔ پھر وہ دعا پڑھو، اللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ۔۔۔ یہ دعا پڑھو۔ اچھا، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو طریقہ بتایا ہے، وہ بہتر ہے یا میں نے جو طریقہ بنایا ہے وہ بہتر ہے؟
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے طریقہ بتایا وہی بہتر ہے نا؟ یا تو ابھی مجھے روکو، علماء موجود ہیں، مجھے روکیں کہ نہیں یہ حدیث شریف نہیں ہے مسلم شریف کی۔ پھر میری ذمے داری ہے کہ میں بتا دوں کہ کہاں پر ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اگر ہے، تو کس میں جرأت ہے کہ اس کا مقابلہ کرے؟ کسی میں جرات ہے؟ نہیں ہے۔
تو اب میں آپ کو ایک مسئلہ بتاتا ہوں۔ "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ" یہ کیا چیز ہے؟ یہ شہادت ہے۔ کس چیز کی شہادت ہے؟ شہادت کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ کیا اس کی شہادت ہمیں نہیں دینی چاہیے؟ اس کی شہادت اس وقت ہمیں دینی چاہیے کیونکہ مؤذن نے کہا ہے، میں نے دل سے سنا اور میں نے مان لیا کہ ہاں میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
پھر جب اذان ختم ہو جائے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آ گیا تھا، درود شریف پڑھو۔ درود شریف پڑھنے سے آپ کی پرانی والی جو بات ختم ہو گئی کیونکہ ظاہر ہے اس میں درود شریف پڑھنا چاہیے تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آ گیا تھا اس میں آپ نے بعد میں پڑھ لیا نا؟ بات پوری ہو گئی۔ اب کیا ہوتی ہے، بہت سارے لوگ "أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ" کا جواب کس طرح دیتے ہیں؟ "صلی اللہ علیہ وسلم"۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے یہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ نہیں بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا بتایا ہے، بعد میں پڑھو۔ جب اذان پوری ہو جائے، پھر پڑھو نا درود شریف، پھر کس نے روکا ہے؟ پڑھو اس وقت پڑھ لو، اس وقت شہادت دو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
ہاں یہ الگ بات ہے، ہم لوگوں سے بھی غلطی ہوتی ہے، وہ درود شریف والی بات چھوڑ بھی دیتے ہیں بعض لوگ۔ رواج میں نہیں ہے نا، رواج میں نہیں ہے۔ تو میں ایک دفعہ، میں اکثر ذرا زور، الفاظ زور سے کہہ دیتا ہوں تاکہ لوگوں کو پتا چلے کہ وہ بھی پڑھ لیں۔ تو میں نے درود شریف پڑھنا شروع کیا، تو ایک صاحب میرے پاس بیٹھے تھے، اللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، میں نے کہا آہستہ آہستہ آہستہ۔ وہ بھی پڑھیں گے۔ درود شریف پڑھنے کے بعد ہے اس کی باری۔ ٹھیک ہے، سمجھ میں آ گئی نا بات؟ تو اگر آپ، آپ یہ کہہ دیں گے تو کسی کو شکوہ نہیں ہو گا کہ بھئی آپ درود شریف نہیں پڑھتے۔ تو ہمیں بھی درود شریف پڑھنا چاہیے اور ان کو بھی شہادت دینی چاہیے۔ دونوں کام ہونے چاہئیں پھر ہمارا دین مکمل ہو گا۔
اور یہ میں آپ کو بتاؤں شیطان کا طریقہ ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کا مخالف بنائے۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے کا مخالف بنائے۔ اوئے کیا خدا کے بندو! آپس میں شیر و شکر رہو۔ مطلب یہ ہے کہ "أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ" صحابہ کا طریقہ کیا تھا؟ آپس میں بہت زیادہ نرم، اور کفار کے ساتھ بہت زیادہ سختی۔ یہ ہے طریقہ۔
ہمارے ہاں یہ مسئلہ ہے کہ کفار کے ساتھ تو پھر بعد میں نپٹیں گے، پہلے تو اپنے لوگوں کے ساتھ نپٹو نا۔ یہ بڑی غلط بات ہے، آپس میں ہمیں لڑنا نہیں چاہیے، آپس میں دوستی کرنی چاہیے۔ اگر کوئی غلط بات کر رہا ہے تو دوستی کے ساتھ سمجھاؤ نا۔ طریقے سے سمجھاؤ، خواہ مخواہ لڑنے کی کیا بات ہے، ممکن ہے اس کو پتا نہ ہو۔ اور واقعتاً اکثر پتا نہیں ہوتا۔
اب میرا جیسے میں نے ابھی مسئلہ میں نے بتا دیا، میرے خیال میں جو بھی عقلمند آدمی ہو گا، سمجھدار ہو گا، کیا اس کے بعد اس کی مخالفت کرے گا؟ اس کے بعد اس کے خلاف نہیں کرے گا، بس بات ختم ہو گئی۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ تو بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ ذکر میں ہم اپنا وقت گزاریں۔ یہ بہت اہم ہے۔
دوسری بات میں عرض کرتا ہوں، اعمال۔ اعمال کیا کرنے چاہئیں کیوں؟ ہر وقت کوئی نہ کوئی عمل ہے۔ تو اعمال کرنے چاہئیں، اعمال میں سستی نہیں کرنی چاہیے۔ جو اعمال ہمارے اوپر فرض ہیں ان کو کرنا چاہیے، جو واجب ہیں ان کو بھی کرنا چاہیے، جو سنت ہے اس میں ہماری ترقی ہے۔ جو مستحب ہے اس میں ہماری نجات ہے اور ما شاء اللہ برکتیں ہیں، بڑھوتری ہے۔ اس کے بعد حرام چیزوں سے بچنا چاہیے۔
جاننا چاہیے نا کہ حرام کیا ہے؟ مکروہ تحریمی کیا ہے؟ اس طریقے سے مکروہ تنزیہی کیا ہیں، اور یہ دوسری جو چیزیں ہیں وہ کیا ہیں، اس کو جان لو۔ اس کو "فرضِ عین" علم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں اس کو؟ فرضِ عین علم۔ اس فرضِ عین علم کو سیکھنا چاہیے، تاکہ ہمیں وقت کا "فرض"، "واجب"، "سنت"، "مستحب" معلوم ہو ہر عمل میں۔ صرف نماز میں نہیں، ہر عمل میں۔ اور ہر عمل میں "حرام"، "مکروہ تحریمی"، "مکروہ تنزیہی" اور "مباح" اس کا پتا ہو۔ بس اس کے مطابق ہم عمل کریں۔
اس کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی، اتباع نبوی، یہ بہت بہترین چیز ہے۔ کیونکہ جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے اس سے بہتر کوئی نہیں ہے۔ اس کو ہم کریں۔ جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی، معاشرے میں موجود ہے اگر اس کو کوئی ثواب سمجھتا ہے تو پھر تو بالکل نہ کرے۔ پھر تو بدعت ہو جائے گی۔ کیونکہ جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی اور ہم اس میں ثواب سمجھتے ہیں، ہاں وہ غلط بات ہے وہ، جو دین نہیں ہے اس میں تو ثواب نہیں سمجھا جا سکتا نا؟ ہاں، دنیا کا کوئی کام ہے دنیا میں چیزیں آتی رہیں گی، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں نا کہ بھئی دیکھو یہ بسیں وغیرہ یہ جہاز یہ بھی تو پہلے نہیں تھیں؟ بھئی وہ چیزیں دنیا کی چیزیں ہیں، دین کی چیزیں نہیں ہیں۔ وہ دنیا کی چیزیں ہیں دنیا کی چیزوں میں تو چیزیں آتی رہیں گی، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں دین کی چیز میں کوئی نئی تبدیلی اگر آ گئی، آپ کو ثبوت دینا پڑے گا کہ وہ پہلے موجود تھی۔ پہلے موجود تھی۔ اگر ہے تو پھر ٹھیک ہے اور اگر نہیں ہے پھر نہ کرو اسی میں ہمارا خیر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "كُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ" ساری بدعتیں گمراہی ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
**بمقام:** خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
**سب سے جامع عنوان:** وقت کی قدر، ذکرِ الٰہی کی اہمیت اور اعمال کی فکر
**متبادل عنوان:** کمرہِ امتحانِ دنیا: ہمارے اعمال، ذکر اور سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی
**اہم موضوعات:**
زندگی اور موت کی حقیقت اور وقت کی قدر و قیمت۔
انسان کا دنیاوی امتحان اور نامہ اعمال میں ہر بات کا درج ہونا۔
ذکرِ الٰہی کی اہمیت، اس کی عادت ڈالنا اور ذکر کی برکات۔
قرآن مجید اور اذان کے آداب اور ان کا احترام۔
علمِ فرضِ عین (حلال و حرام) سیکھنے کی ضرورت۔
مسلمانوں کے مابین باہمی محبت، اخوت اور شیطانی وسوسوں سے بچاؤ۔