افواہوں اور پروپیگنڈے کا شرعی سدباب: دورِ حاضر کے دجالی فتنے اور قرآنی تعلیمات

درس نمبر 193، سورۃ النساء: آیات: 83 تا 85- اشاعتِ اول: 8 جون، 2022، بمطابق 8 ذی قعدہ 1443 ہجری

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* سورۃ النساء کی آیات (83 تا 85) کی تلاوت اور تفسیر۔

* تحقیق کے بغیر افواہیں اور خبریں پھیلانے کی شرعی ممانعت۔

* سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں (Fake News) اور پروپیگنڈے کا منظم طریقہ کار۔

* انسانی ذہن پر مسلسل معلومات (Burst of Information) کے نفسیاتی اثرات (اشتہارات اور پکسلز کی مثال)۔

* دجالی فتنوں سے بچاؤ کے لیے روحانیت، تہجد، دعاؤں اور "منزلِ جدید" کی اہمیت۔

* اچھی یا بری بات (پوسٹ) پھیلانے کا اخروی انجام اور شفاعت (سفارش) کا قرآنی اصول۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا (83) فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا (84) مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَاۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَاؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا (85)

اور جب ان کو کوئی بھی خبر پہنچتی ہے، چاہے وہ امن کی ہو یا خوف پیدا کرنے والی، تو یہ لوگ اسے (تحقیق کے بغیر) پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اگر یہ اس (خبر) کو رسول کے پاس یا اصحابِ اختیار کے پاس لے جاتے تو ان میں سے جو لوگ اس کی کھوج نکالنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت معلوم کر لیتے۔

بعض لوگ مدینہ منورہ میں بلا تحقیق افواہیں پھیلا دیا کرتے تھے جس سے معاشرے میں بڑا نقصان ہوتا تھا۔ یہ آیت ایسی بے تحقیق افواہوں پر یقین کر لینے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی ممانعت کر رہی ہے۔


آج کل باقاعدہ جنگیں اس پر لڑی جا رہی ہیں۔ اور آج کل تو social media پر باقاعدہ اس فن کے ماہر لوگوں کو بٹھایا جاتا ہے اور وہ یہی باقاعدہ ایک پوری scheme کے ساتھ یہ کرتے ہیں۔ لوگوں کے ذہنوں کو read کرتے ہیں کہ لوگ کیا چاہتے ہیں، اور کس چیز سے خائف ہوتے ہیں، اور کس چیز سے ان کو ہوتا ہے فائدہ، یعنی ان کی strategy کو۔ تو وہ کیا کرتے ہیں؟ وہ بالکل اس قسم کی چیزیں، جھوٹی خبریں بنا کر اس کو پھیلاتے ہیں، اور اس سے پھر جو اس کا اثر... اور وہ جھوٹ پر جھوٹ ہوتا ہے۔ مطلب ایک جھوٹ کو support کرنے کے لیے دوسرا جھوٹ ہوتا ہے، دوسرا پھر تیسرا جھوٹ ہوتا ہے۔ وہ باقاعدہ ایک پوری line ہوتی ہے۔


اچھا اب بات کیا ہے؟ اس وقت program کیا ہوتا ہے؟ اس طرح ہوتا ہے کہ ظاہر ہے لوگ جو social media سے اثر لیتے ہیں، وہ تعداد سے اثر لیتے ہیں۔ یعنی کہ کتنی Information ہے۔ جس کو کہتے ہیں burst of Information۔ اب اگر آپ نے دس اس قسم کے لوگوں کو بٹھایا ہوا ہو، تو اس کے مقابلے میں اگر ایک آدمی سچی بات کرنے والا ہے، اس کی کوئی value نہیں رہتی۔ لوگ اس سے اثر نہیں لیتے۔ان دس سے اثر لیں گے، تو اس وجہ سے وہ پھر پرواہ بھی نہیں کرتے کہ اگر ہمارا جھوٹ ثابت بھی ہو جائے، تو کوئی بات نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اس کو support کرنے کے لیے اور اس کی compensation کے لیے آٹھ، نو لوگ اور موجود ہوتے ہیں۔ وہ اس کے اثر کو وہ ختم کر لیتے ہیں۔ اور باقاعدہ لوگوں کے ذہنوں کو...


یہ میں آپ کو اس کی ایک مثال دے دوں، بالکل بہت آسان مثال ہے۔ یہ advertisement والے جو لوگ ہوتے ہیں، یہ پورے کے پورے راستے میں جتنے بھی کھمبے ہوتے ہیں، وہ سارے کے سارے hire کر لیتے ہیں۔ اور ایک ہی ہوتا ہے یعنی جس کو کہتے ہیں advertisement، وہ سب کے اوپر لگا ہوتا ہے۔ اب ہر 100 meter کے اوپر وہ آ رہا ہے، 100 meter کے اوپر آ رہا ہے۔ اب اگر دیکھا جائے تو ایک کو اگر کسی نے پڑھ لیا، تو باقی کے پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن نہیں، انہوں نے باقاعدہ test کیے ہیں کہ جب یہ چیز مسلسل آ رہی ہے، مثال کے طور پر اس کی ایک بہت آسان مثال دیتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ science کا اصول ہے کہ اگر کسی آنکھ کے سامنے ایک سیکنڈ میں 16 تصویریں گزر جائیں، ایک سیکنڈ میں 16 تصویریں، تو وہ continuous بن جاتا ہے۔ آنکھ کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ static تصویریں ہیں، بلکہ وہ اس کو ایک مسلسل ایک continuous تصویر بنا لیتے ہیں۔


مثال کے طور پر یہ پنکھا ہے، اس پنکھے کی تصویریں آپ لے لیں، یعنی 16 تصویریں یا اس سے زیادہ لے لیں۔ اب آپ اس کو جب دکھائیں گے نا، تو یہ پنکھا چلتا ہوا نظر آئے گا۔ یعنی مطلب وہ چیز۔۔۔ کیونکہ آنکھ میں جو ہے نا وہ 1/16 سیکنڈ جو ہوتا ہے وہ چیز برقرار رہتی ہے۔ جو چیز آپ نے دیکھ لی، تو اس کا جو Image ہے وہ 1/16 سیکنڈ اس میں برقرار رہتی ہے۔ لہٰذا جب 16 تصویریں آپ لیتے ہیں، تو وہ چیز continuous بن جاتی ہے۔ تو جب یہ والی بات سمجھ میں آ گئی، یہ cinema کا بہت پہلا اصول ہے، یعنی پہلا اصول یہی مطلب cinema اسی پہ بنا ہوا تھا۔ تو اب یہ جو ہے نا مطلب اگر دیکھا، یا بالکل دوسرے لفظوں میں ہم یہ جو computer کے pixels ہوتے ہیں، اب اس کے اندر جو ہوتا ہے رنگ جو بھرے جاتے ہیں computer pixels میں، تو اس میں اگر آپ اس کو zoom کر لیں، تو اس میں مثال کے طور پر پانچ زرد رنگ ہیں، اور بیس سرخ رنگ ہیں، اور تین نیلے رنگ کے ہیں۔ اب اس طرح اس سے جو combination جو رنگ بنتا ہے، آنکھ کو وہی نظر آتا ہے۔ آنکھ کو یہ نہیں ہوتا کہ یہ آپ کو dots نظر آتے ہیں، آنکھ کو یہ نہیں نظر آتا ہے۔

اب یہ باقاعدہ scientific approaches ہیں۔ تو اس کو بنیاد بنا کر وہ لوگ اسی قسم کی planning کرتے ہیں۔ اس وقت تو سارے کا سارا، یہ بیرونی ایجنٹ جتنے بھی ہیں پاکستان میں، ان کی ساری game ہی اس پر ہے۔ تقریباً 16 ہزار ٹیمیں ہیں ان کی۔ وہ لگے ہوئے ہیں، دن رات Information flood کر رہے ہیں، جھوٹے۔ کچھ سے کچھ اب لوگوں کے ذہنوں پر وہ سوار ہے۔ اب نقار خانے میں طوطی کی کون سنتا ہے؟ مطلب درمیان میں 16 ہزار کے مقابلے میں اگر 50، 100 بات کر رہے ہوں، 50، 100 کی بات کی کیا حیثیت ہوتی ہے؟


وہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی کے پاس بکری تھی تو تین ٹھگ تھے، انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس سے ہم نے یہ بکری ہتھیا لینی ہے۔ تو وہ جا رہے تھے تو ایک ٹھگ باہر سے نکل آیا۔ کہتا ہے: "یار، یہ کتے کو، کوئی کان سے پکڑ کے لے جاتا ہے؟" اس نے کہا: "تمہیں کتا نظر آتا ہے؟" کہتا ہے: "اچھا، اچھا، اچھا چلو ٹھیک ہے، ٹھیک ہے کتا نہیں ہے۔" وہ چلا گیا۔ آگے سے ایک اور موقع پہ دوسرا نکل آیا۔ اس نے کہا کہ: "بھئی یہ کیا مطلب ہے؟ کتے بھی آج کل بیچے جاتے ہیں؟" تو اس نے کہا: "آپ کو کتا نظر آتا ہے؟" کہا: "اچھا چلو کتا نہیں ہے، چلو ٹھیک ہے۔" جیسے آدمی اس کو پاگل سمجھ کے چلے جاتے ہیں، "اچھا نہیں ہے۔" اس طرح پھر آگے جا کر تیسرا بھی نکل آیا۔ اس نے بھی اس قسم کی بات کی۔ اس کو اپنے اوپر شک ہو گیا، پتہ نہیں میرا دماغ کام کر رہا ہے یا نہیں کر رہا، میں کہیں کتے کو تو نہیں لے جا رہا؟ تو اس نے بکری چھوڑ دی۔ آگے جا کر انہوں نے بکری پکڑ لی۔ تو ممکن ہے واقعہ ویسے ہو، لیکن یہ چیز ہے اس طرح کہ اس میں مطلب انسان کے اعصاب پر، انسان کے نظام پر، انسان کے ان پر ان چیزوں کا اثر ہوتا ہے۔


تو ہمارے لیے قرآن کا حکم کیا ہو گیا؟ قرآن کا حکم یہ ہو گیا کہ اگر کوئی خبر آپ کے پاس آئے، تو بغیر تحقیق کے اس کو آگے نہ بڑھاؤ۔ اور حدیث شریف میں بھی یہی ہے۔ حدیث شریف میں بھی ہے کہ بغیر تحقیق کے جو بڑھائے گا، وہ جھوٹ میں شمار ہے۔ تو یہ فرمایا:

اور جب ان کو کوئی بھی خبر پہنچتی ہے، چاہے وہ امن کی ہو یا خوف پیدا کرنے والی، تو یہ لوگ اسے (تحقیق کے بغیر) پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ اور اگر یہ اس (خبر) کو رسول کے پاس یا اصحابِ اختیار کے پاس لے جاتے تو ان میں سے جو لوگ اس کی کھوج نکالنے والے ہیں وہ اس کی حقیقت معلوم کر لیتے۔

بس یہی ہے۔

اور (مسلمانو!) اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب شیطان کے پیچھے لگ جاتے ﴿83﴾

دیکھو یہ propaganda کا زور ہے۔ کہ اللہ پاک نے اس کو خاص فضل کی طرف وہ کیا ہے۔ کہ اس propaganda سے اللہ پاک کے خاص فضل سے بچا جا سکتا ہے۔ اس خاص فضل کو کھینچنے والی چیز کیا ہے؟ وہ روحانیت ہے۔ اب صحابہ کرام کے پاس تو آپ ﷺ کی برکت سے وہ چیز تھی۔ لہٰذا وہ بچ رہے تھے۔ اب ہمارے پاس کیا چیز ہے؟ اس کے لیے ہم کیا کررہے ہیں؟ اس کے لیے ہمیں کچھ کرنا پڑے گا۔ وہ تہجد کی نماز ہے، باقی نمازوں کے بعد دعائیں ہیں، اس طرح کلمات ایسے مبارک ہیں جو کہ ان چیزوں کو روک سکتے ہیں۔ تو ہمیں ان کو اختیار کرنا پڑے گا۔ تاکہ ہم لوگ ان کے شر سے بچ جائیں۔ بالخصوص اپنی اولادوں پر ایسی محنت کرنی پڑے گی کہ وہ اس شر سے بچ جائیں۔ یہ جو ہمارے پاس الحمد للہ یہ "منزل جدید" اللہ پاک کے فضل و کرم سے آئی ہے، اسی منزل کو پڑھنا چاہیے۔ مطلب یہ ہے تاکہ اللہ پاک کا فضل ہمارے شاملِ حال رہے اور ایسے گندے لوگوں کے، گندے ارادوں کے ساتھ جو media پر خبریں پھیلائی جاتی ہیں، اس سے وہ متاثر نہ ہوں۔ بہت ضروری ہے۔


لہٰذا (اے پیغمبر!) تم اللہ کے راستے میں جنگ کرو۔ تم پر اپنے سوا کسی اور کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ہاں! مومنوں کو ترغیب دیتے رہو۔ کچھ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کی جنگ کا زور توڑ دے۔ اور اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست ہے اور اس کی سزا بڑی سخت ﴿84﴾ جو شخص کوئی اچھی سفارش کرتا ہے، اس کو اس میں سے حصہ ملتا ہے، اور جو کوئی بری سفارش کرتا ہے اسے اس برائی میں سے حصہ ملتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔ ﴿85﴾


پچھلی آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حکم دیا گیا تھا کہ آپ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں، اس کے بعد یہ آیت لا کر اشارہ کر دیا گیا کہ آپ کی ترغیب کے نتیجے میں جو لوگ جہاد کریں گے، ان کے ثواب میں آپ بھی شریک ہوں گے۔ کیونکہ جب کوئی شخص اچھی سفارش کے نتیجے میں کوئی نیک کام کرے تو جو ثواب کام کرنے والے کو ملتا ہے، اس میں سفارش کرنے والے کو بھی حصہ ملتا ہے۔ اسی طرح اگر بری سفارش کے نتیجے میں کوئی غلط کام ہو جائے تو جتنا گناہ غلط کام کرنے والے کو ملے گا، بری سفارش کرنے والا بھی اس کے گناہ میں شریک ہوگا۔


اب یہاں سے party بازی کا توڑ ہو جاتا ہے۔ جو لوگ اپنی party کی بات پھیلاتے ہیں، یا کسی کو بتاتے ہیں کہ بھئی ان کی بات مان لیا کرو، اگر وہ بات غلط ہو، تو جب وہ آدمی اس پر عمل کرے گا، تو کیا ہوگا؟ وہ اس برائی میں شریک ہو گیا۔ اور اگر ٹھیک ہوگا، اور صحیح بات ہوگی، اور اس سے قوم کو فائدہ ہوگا، لوگوں کو فائدہ ہوگا، تو اگر وہ ان کی بات مان لیں گے اور اچھے کام کریں گے، تو اس اچھے کام میں ان کا بھی حصہ ہو جائے گا۔ یہ بات بہت اہم بات ہے کہ اچھی بات کو فروغ جو دیتا ہے، اس کو اس اچھی چیز میں فائدہ ملتا ہے اس کے ساتھ، ان لوگوں کے عمل میں۔ اور جو بری بات کا propaganda کرتا ہے اور بری بات کو پھیلاتا ہے، اور اس کی وجہ سے لوگ اس پر عمل کرتے ہیں، تو وہ اس بری بات میں شامل ہوتے ہیں۔ یعنی ان کو برائی کا حصہ اس کو ملتا رہتا ہے۔ تو یہ میرے خیال میں جو آج کا جو سبق ہے، یہ آج کل کے حالات کے بہت زیادہ مطابق ہے۔ کیونکہ یہ معاشرتی سبق ہے نا، یہ پورے معاشرے کی بات ہے۔ یہ کسی ایک شخص یا کسی دوسرے شخص کی بات نہیں ہے، بلکہ پورے معاشرے کے اندر جو کچھ ہو رہا ہے، اس کو reflect کر رہا ہے۔ اور اس کے بارے میں احکامات جو ہیں اللہ تعالیٰ کے، اور ساتھ ظاہر ہے آپ ﷺ کے احکامات بھی ہوں گے اس پر، اگر احادیث شریف ڈھونڈ لی جائیں۔

(تو آپ ذرا اس پر احادیث شریف ڈھونڈ لیں، اس کے مطابق، تو پھر اس کو ایک بنا لیں گے، ایک document بنا لیں گے)


کیونکہ آج کل اس کی بڑی ضرورت ہے۔ اور دجالیت کے توڑ کے لیے بہت ضروری ہے۔ اور آج کل دجالیت کو فروغ دیا جا رہا ہے، باقاعدہ planning کے ساتھ دیا جا رہا ہے۔ یعنی میں باقاعدہ ثابت کر سکتا ہوں! یہ اس وقت بہت بڑی جھوٹی خبر پھیلائی جا رہی ہے۔ ایک، میں نے آپ کو بتا دیا تو آپ کہیں گے یہ آپ سیاسی آدمی ہیں۔ کیونکہ ظاہر ہے وہ سیاسی گند والے وہ تو ایسی باتیں کرتے ہیں، لیکن اتنی بڑی جھوٹی خبر پھیلائی جا رہی ہے، میں آپ کو کیا بتاؤں۔ آدمی ہل جاتا ہے کہ بھئی کوئی اتنا بڑا جھوٹ بھی بول سکتے ہیں؟ لیکن وہ دھڑلے کے ساتھ وہ آج کل media پر چل رہی ہے۔ اور پھیلا وہ رہے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کو اچھے تاثر ہیں کہ بھئی یہ آدمی تو ایسا نہیں کرے گا۔ وہ کر رہا ہے۔


اب اس کے بارے میں کیا کہیں؟

Money makes the mare go

دولت انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ جب کسی کو دولت ملتی ہے، پھر وہ اس کے بعد اس کو نہیں دیکھتا کہ میں صحیح بات کر رہا ہوں یا غلط بات کر رہا ہوں، اور میں کیا پھیلا رہا ہوں۔ یہ چیز اس طرح ہے۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔

افواہوں اور پروپیگنڈے کا شرعی سدباب: دورِ حاضر کے دجالی فتنے اور قرآنی تعلیمات - درسِ قرآن - دوسرا دور