پیغامِ محبت: طریقِ جذب اور رضائے الٰہی کا سفر
کتاب: پیغام محبت، درس 9، اشاعت اول: 10 اور 17 ستمبر 2013 بمطابق 3 اور 10 ذو القعدہ 1434 ہجری
- طریقِ سلوک اور طریقِ جذب کے طریقہ کار میں فرق
- بیعت کے لیے کامل شیخ (مرشد) کی آٹھ بنیادی نشانیاں
- کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا استحضار اور دلِ بیدار
- دل، عقل اور نفس کی کشمکش اور مجاہدے کی ضرورت
- عشقِ حقیقی اور نفسانی ہوس کے درمیان واضح فرق
- قال سے حال کا سفر اور خالص رضائے الٰہی اور اتباعِ سنت کی طلب
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
آج منگل کا دن ہے اور منگل کے دن ہمارے ہاں پیغامِ محبت سے کچھ پڑھا جاتا ہے اور اس کی تشریح کی جاتی ہے۔ الحمد للہ تین کتابیں جو ابھی تک ہوئی ہیں ان میں شاہراہِ محبت، یہ حج سے متعلق ہے اور حج کا عاشقانہ طریقہ اس میں دیا ہوا ہے، اور ساتھ سفرنامہ بھی ہے، اور منظوم سفرنامہ ہے۔ ساتھ ساتھ اس میں وہاں جو کیفیات آئی تھیں، ان کیفیات کا بھی اس میں ہے۔
اور پیغامِ محبت میں دل کو جو appeal کرنے والی چیزیں ہیں وہ ہیں۔ یعنی انسان کا جو جذبۂ محبت ہے، اس کو اپنی حقیقت کی طرف موڑ دیا جائے۔ دوسرے جو محبت کے جذبے ہیں جن کی ممانعت ہے، ان سے اس جذبے کی طرف لے آئے جو مطلوب ہے۔ تو لہٰذا یہ بہت بڑا کام ہے اور ساتھ یہ جیسے کہ حدیث شریف ہے کہ: "حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ" (دنیا کی محبت ساری خطاؤں کی جڑ ہے) تو اسی طریقے سے اگر دنیا کی محبت سے انسان بچ جائے تو تمام خطاؤں سے انسان نکل سکتا ہے، اور اللہ کی محبت نصیب ہو جائے تو ساری سعادتیں نصیب ہو جاتی ہیں، ہو سکتی ہیں۔
اسی دنیا کی محبت کو نکالنے کا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو دل کا، دل میں لانے کا جو طریق ہے اس کو طریقِ جذب کہتے ہیں۔ تو یہ جو کتاب ہے، یہ طریقِ جذب کی ترجمان ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کا فائدہ نصیب فرمائے۔
یہ ذرا کھری کھری باتیں ہیں۔
بس اس کا بن جانا
دل خون کے آنسو روئے گا
جب اپنا مقام تو کھوئے گا
تجھ پر غیرت خدا نے کی کیا
اس پر بھی تو سوئے گا
ہاں اللہ نے ہمارے اوپر غیرت کی ہے۔ فرشتوں نے کہا نا کہ یہ تو فساد پھیلائیں گے، یہ کریں گے، وہ کریں گے۔ تو اللہ پاک نے فرمایا جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ غیرت ہے نا اللہ کی یہ۔ تو اس وجہ سے جب توبہ انسان کرتے ہیں تو اللہ کو بڑی خوشی ہوتی ہے۔ اور فخر کرتے ہیں ملائکہ کے سامنے۔ ہاں جی، تو مطلب یہ ہے کہ ہمارے اوپر اللہ نے غیرت کی ہے پھر بھی ہمیں یاد نہیں آئے گا۔
تجھ پر غیرت خدا نے کی
کیا اس پر بھی تو سوئے گا
تو اس کو وہاں پر کاٹے گا
جو چیز یہاں پر بوئے گا
جو چیز تو یہاں بو رہا ہے، وہی چیز کاٹو گے۔
واں خون کے آنسو نہ دھوئے
یہاں آنسوؤں سے جو دھوئے گا
جو یہاں پر تو آنسو بہا کر حاصل کر سکتے ہیں وہاں خون بہا کر نہیں حاصل کر سکتے۔
بس اس کا تو بن جا نہ شبیر
پھر دیکھ لینا جو ہوئے گا
جب اس کا تو بن جائے گا پھر اس کے بعد تو خود دیکھ لے گا کہ کیا کیا ہو سکتا ہے۔
یہ اب ایک سمجھ اور ناسمجھی کا ایک مقالہ سا ہے، ایک تھوڑا سا ڈسکشن سا ہے۔ لوگ کیا سمجھتے ہیں اور ہونا کیا چاہیے؟
دیوانہ یا فرزانہ
دلِ عاشق کو کہیں لوگ اگر دیوانہ
کچھ نہیں تو ہی اگر سمجھے اسے فرزانہ
مطلب یہ ہے کہ جو عاشق کا دل ہے اگر اس کو لوگ دیوانہ کہہ دیں تو کوئی بات نہیں۔ اگر تو اس کو ٹھیک سمجھ لے۔ یہ ٹھیک کرنا ہے۔
گھومتے شمع کے گرد ہیں اور جل جاتے ہیں
کچھ نہیں تو ہی اگر سمجھے اپنا پروانہ
مطلب یہ جو ہے نا وہ، اگر انسان مشکلات میں پڑتے ہیں اور ساتھ اللہ تعالیٰ ان کے دل میں محبت القا کرتے ہیں تو پھر کوئی مسئلہ نہیں۔
نالے آتے تو زباں پر ہیں مگر شکوہ نہیں
عذر اپنا ہو قبول نالے ہیں یہ مستانہ
نالے سے مراد یہ کہ فریاد۔ زبان پر آتے ہیں لیکن یہ شکوہ کی فریادیں نہیں ہیں۔ بلکہ یہ مستانہ نالے ہیں، محبت کے نالے ہیں، اپنے محبوب کے پاس جانے کے نالے ہیں۔
خود کو آسان نہیں ہے یہ مٹایا مٹانا لیکن
ہے یہ مٹ جانا کہاں ہے یہ باقی بن جانا
مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو مٹانا آسان نہیں ہے لیکن یہ مٹ جانا نہیں ہے یہ تو باقی بن جانا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو گوشت دیا فرمایا اس کو خیرات کر دو۔ تو کچھ خیرات کر دیا، کچھ رہ گیا۔ تو اس پر جو ہے نا پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ وہ خیرات کر دیا؟ فرمایا اتنا خیرات کر دیا اتنا باقی ہے۔ فرمایا جو خیرات کیا وہ باقی ہے۔ باقی تو...
جو خواہشیں تھیں میرے دل کی ہو گئی رخصت
یہ خود کا چھوڑنا ہے یا یہ اس کا ہے پانا
جو خواہش تھی میرے دل کی وہ تو رخصت ہو گئی ہیں۔ یہ اپنے آپ کو چھوڑنا ہے یا اس کا پانا ہے؟
دلِ بیدار مجھے دے قلبِ غافل سے بچا
شبیر تیرا ہے، تیرے ہی طرف ہے آنا
«إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ»۔ ہاں جی اس کا مضمون ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی طرف متوجہ رہنا چاہیے۔
اب ذرا تھوڑی سی suggestions ہیں:
کہ اس کا دل ہے ٹھکانہ جس کا
گناہ سے بچنا، گناہ نہ کرنا، اگر یہ ہووے تو توبہ کرنا
پسند رب کو ہے تیری توبہ، بگڑ گئے جب تو پھر سدھرنا
بڑائی جتنی بڑی کریں ہم، بڑا ہے اس سے، وہ یاد رکھنا
بڑے بنو نہ بڑا وہی ہے، بڑا بس اس کو ہی تم سمجھنا
یعنی اپنے آپ کو کبھی بڑا نہ کہو، نہ بڑا سمجھو۔ وہی بڑا ہے اور جتنی بڑائی بھی تو اس کی بیان کرے گا اس سے زیادہ بڑے ہیں۔ اس سے زیادہ بڑے ہیں۔
کرم تو اس کا عظیم تر ہے، تم جھولی اپنی بھی کھولے رکھنا
نہ سمجھو خود کو تم مستحق ہاں، کہ ایسے جرأت سے بھی ہے ڈرنا
جھولی کھول کے رکھو لیکن مستحق اپنے آپ کو نہ سمجھو۔ اس پہ فیصلہ چھوڑو۔ یہ فیصلہ اس کا ہے۔
وہ عاجزوں پہ ہے مہرباں جب، تو عاجزی کیوں کرو نہ حاصل
کہ ماننے کا ارادہ لے کے تو مانگتے مانگتے ہے آگے بڑھنا
اسی نے محبوب کو اپنے محبوب طریقے خود ہی بتا دیے ہیں
انہیں طریقوں پہ چلتے جانا گر اس کا محبوب ہے تجھ کو بننا
کیسی کھری کھری بات ہے۔ یعنی اس نے اپنے محبوب طریقے اپنے محبوب کو بتا دیے ہیں۔ لہٰذا اس کے محبوب نے وہ طریقے استعمال کر لیے۔ اب وہی طریقے اللہ چاہتے ہیں ہم سے۔ تو تم دیکھ دیکھ کر وہی طریقے اختیار کر لو، تو اس کا محبوب بن جاؤ گے۔ ورنہ پھر وہ چیز حاصل نہیں ہو سکے گی۔ لہٰذا اگر اللہ کا محبوب بننا ہے تو اللہ کے محبوب کے طریقوں کو اپناؤ۔ «قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ»۔
ہے اس کا محبوب ہمارا محبوب طریقے محبوب کے کیوں نہ محبوب
اس کا محبوب ہمارا بھی محبوب ہے، پھر اس کے محبوب طریقے ہمیں کیوں محبوب نہیں؟
اے کاش سمجھے کہ ایسا کیوں ہے، ہمارا دشمن کے پیچھے چلنا
کاش ہم لوگ سمجھیں کہ دیکھو ہم محبت کا دعویٰ تو اس کے ساتھ کر رہے ہیں اور اب اس کے دشمن کے پیچھے چل رہے ہیں۔
ہمارے نفسوں کی خواہشیں بھی کشش ہیں رکھتی بہت ہی زیادہ
نہ ہو جو جائز مجاہدے سے انہیں ہمیشہ دبا کے رکھنا
ہماری جو نفس کی خواہش ہے وہ بھی کمزور نہیں ہیں بہت زبردست کشش رکھتی ہیں لیکن جو ان میں ناجائز ہے مجاہدے سے ان کو ہمیشہ دبا کے رکھو۔ میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ اگر کوئی بیس منزل سے گر رہا ہو اور کسی شیڈ کے ساتھ اپنے ہاتھوں سے اس کو پکڑے، تو کیا خیال ہے؟ وہ کچھ آرام کر سکے گا؟ چلو تھک گیا ہوں تھوڑا دیر کے لیے چھوڑ دیتا ہوں۔ پورا وزن اس سے لٹکا ہوا ہے۔ لیکن جب تک کوئی مدد نہیں آئے گی اس وقت تک وہ کم از کم اپنی مرضی سے نہیں چھوڑے گا۔ ہاتھ سے چھوٹ جائے وہ علیحدہ بات ہے لیکن اپنی مرضی سے نہیں چھوڑے گا۔ ٹھیک ہے نا؟ تو یہی چیز یہ ہے کہ ہمیں بھی ہمیشہ جیسے انسان گر رہا ہے اور پتہ ہے میں پاش پاش ہو جاؤں گا۔ تو جو ناجائز چیزیں ہیں اس کے بارے میں سمجھے کہ میں نے اگر یہ اختیار کر لی تو پاش پاش ہو جاؤں گا۔ لہٰذا اپنے نفس کے اوپر پورے زور لگانا چاہیے، اس کو نہیں کرنا چاہیے۔ ٹھیک ہے نا؟
ہمارا نفس ہے ہماری گاڑی تو دل کو اس پہ سوار کر لے
کہ ایسے سائق کو نفس کے واسطے بھی چاہیے ہے تو کچھ سنورنا
یعنی جو ہمارا نفس ہے وہ ہماری گاڑی ہے اور جو دل ہے وہ اس کا ڈرائیور ہے۔ تو اس ڈرائیور کے لیے، نفس کو چلانے کے لیے کچھ نہ کچھ سنورنا چاہیے نہیں سنورنا چاہیے؟ اس ڈرائیور کو طریقہ آنا چاہیے نا۔
سنورنا یہ ہے سمجھ وہ جائے کہ میرا محبوب اصل میں ہے کون میں کس کو مانوں میں کس کو چھوڑوں مجھے ہے کس سے اور کیسے بچنا
یعنی اس کا سمجھنا کیا ہے وہ یہ جان لے کہ میں کس کی مانوں اور کس کو چھوڑوں۔ اور جو مجھے تنگ کر رہا ہے اس سے مجھے کیسے بچنا ہے۔
ملے جو رہبر طریق طے ہو طریق میں پھر آسانیاں ہو
تو دل بھی رستہ عجیب پائے کہ مشکلوں سے ہے یوں نکلنا
اگر رہبر مل جائے تو پھر طریق طے کرنا آسان ہو پھر آسانیاں حاصل ہو جائیں۔ پھر دل بھی ایک عجیب رستہ پائے اور مشکلوں سے نکلنا سیکھ لے۔
یہ برکتوں کے ہیں سلسلے ہیں انہی پہ تائید ہے اس کی ملتی
رہِ نبی پہ ہے دل سے چلنا، کبھی نہ تم کو ہے اس سے ہٹنا
یہ جو ہمارے سلسلے ہیں چشتیہ نقشبندیہ سہروردیہ یہ سب یہ برکتوں کے سلسلے ہیں اور اللہ کی تائید اس سے مل جاتی ہے۔ بس کام یہ کرنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر دل سے چلنا چاہیے اس طریقے سے بالکل ہٹنا نہیں چاہیے۔
یہ دل کی باتیں ہیں ان کو سمجھو، قلم ہے شبیر کا اب رواں جب
کہ اس کا دل ہے ٹھکانہ جس کا، وہ چاہے اس کا ہی اس میں بسنا
مطلب یہ سب دل کی باتیں ہیں لہٰذا ان کو سمجھو، شبیر یہ لکھ رہا ہے۔ اور جو شبیر کا دل ہے وہ اس کا ٹھکانہ ہے، لہٰذا وہ یہی چاہے گا کہ وہی اس میں بسے۔ کوئی اور اس میں نہ آئے۔
یہ اب ماشاءاللہ ایک مشورہ ایک suggestion ایک guideline آپ نے سن لی۔ لیکن جب محبت ہو جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟
عشق کی آگ
عشق کی آگ چپکے چپکے جلے
اور دل خدا سے چپکے چپکے ملے
تیرتی رہتی نمی آنکھ میں ہو
پر ادب سے کوئی آنسو نہ گرے
شمع کی طرح پگھلنا تو ہو
پر ادب سے قدم اپنا نہ ہٹے
دل میں ایک آگ عشق کی برپا ہو
پر نظر آئے نہ اس کے شعلے
آنکھیں دید کو ترستی رہیں
منہ سے چپ ہو اور کوئی اف نہ کرے
عشق کی آگ لگائے تو لگے
لگے شبیرؔ تو پھر وہ نہ بجھے
مطلب یہ ہے کہ عشق کی آگ اگر لگ جائے تو پھر بجھتی نہیں ہے۔ اس وجہ سے اسی کو کوشش کرنا چاہیے حاصل کرنے کی۔
اور دنیا کی محبت کیا ہے؟
دنیا کی محبت
دل سے دنیا اگر نکل جائے
پھر خدا خود ہی ہم کو مل جائے
یہی تو رکاوٹ ہے۔
دل سے دنیا اگر نکل جائے
پھر خدا خود ہی ہم کو مل جائے
توبہ کرنے سے کیا ہوتا ہے
معصیت کا پہاڑ ہل جائے
وہ کہتے ہیں بھئی توبہ سے کیا ہوتا ہے بھئی یہ ہوتا ہے کہ معصیت کا پہاڑ ہل جاتا ہے۔ وہ ختم ہو جاتا ہے۔
جہد ہے نفس کا علاج مگر
ذکر سے دل کا باغ کِھل جائے
جہد سے نفس کا علاج ہوتا ہے اور ذکر سے دل کا باغ کِھلتا ہے۔
وہ تو دینے پہ تُلا ہے لیکن
اس کے در پر کوئی سائل جائے
وہ تو دینا چاہتا ہے لیکن اس کے در پہ کوئی جائے تو سہی۔ مانگے تو سہی۔ تہجد کا وقت اللہ نے رکھا ہوا ہے۔ ایک خاص چیز کو مانگنے کے لیے۔ تو اس پہ ہم کریں نا استعمال۔ اس وقت کھڑے ہوں اللہ کے سامنے مانگیں اللہ تعالیٰ سے۔
دل اگر بن گیا شبیر تیرا
وہاں جانا جہاں پہ دل جائے
تیرا دل اگر بن گیا تو پھر اس دل کی بات مانتے رہو۔ پھر جہاں یہ جاتا ہے تم بھی جاؤ۔
اب ہمارے سلسلے کے خصوصی ایک Conceptual غزل ہے کہ ہمارے سلسلہ کیا چاہتا ہے۔ یہ ہر سلسلے کا اپنا اپنا رنگ ہوتا ہے نا، ہمارے سلسلے کا رنگ کیا ہے وہ بتاتا ہوں۔
طلبِ محبت
نہ چاہوں میں اب عاجلہ کی محبت
میں مانگوں خدا سے خدا کی محبت
عاجلہ کی محبت مجھے نہیں چاہیے۔ مجھے خدا کے لیے خدا کی محبت چاہیے۔ عاجلہ اس کو کہتے ہیں جو فوری طور پر انسان کو حاصل ہوتا ہو۔
اور ان کی بھی اس سے محبت جو رکھے
وہ سب انبیا اولیا کی محبت
اور جو ان سے محبت رکھے، ان کی محبت بھی میں چاہتا ہوں۔ جو سارے انبیاء ہیں سارے اولیاء ہیں۔
ذرائع محبت کے ہوں مجھ کو محبوب
ملے مسجد و درسگاہ کی محبت
جو محبت کے ذرائع ہیں وہ مجھے محبوب ہوں اور مسجد و درسگاہ کی محبت مجھے مل جائے۔
مشائخ کی صحبت میسر رہے
ملے مجھ کو ہر خانقاہ کی محبت
خطاؤں کی جڑ حبِ دنیا ہے شبیرؔ
یہ مال کی یا جاہ کی یا باہ کی محبت
تینوں محبتوں سے اپنے آپ کو بچانا۔ مال کی محبت سے، جاہ کی محبت سے یعنی بڑا بننے کی محبت سے، اور باہ کی محبت سے۔
اوراسی کو تشریح کے لیے ایک ہے، وہ بھی بتا دیتا ہوں۔
مجھے کیا چاہیے
نہ آہ چاہتا ہوں نہ واہ چاہتا ہوں
خدا کے لیے میں خدا چاہتا ہوں
یعنی میں اگر خدا کو بھی چاہتا ہوں تو خدا کے لیے چاہتا ہوں دنیا کے لیے نہیں چاہتا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے نہیں آ رہی؟ میں اگر "اللہ اللہ" کروں اس لیے کہ میری بیماری درست ہو جائے۔ میں اگر اللہ اللہ اس لیے کروں کہ اللہ تعالیٰ مجھے یعنی میری دنیا درست کر لے تو ٹھیک ہے مانگ سکتے ہیں لیکن "اللہ اللہ" تو حق ہے اللہ کا کہ میں اس لیے کروں کہ اللہ کا حق ہے۔
خدا کے لیے میں خدا چاہتا ہوں
اسی کا میں بندہ اسی سے میں مانگوں
اسی سے مدد ہر جگہ چاہتا ہوں
اسی نے عطا کی ہے ایماں کی دولت
اسی سے ہے اس کی بقا چاہتا ہوں
ہدایت کا طالب میں اس کے حضور ہوں
جو سیدھی ہو بالکل وہ راہ چاہتا ہوں
اگرچہ میں عصیاں کے گرد سے اٹا ہوں
میں اس سے کرم کی نگاہ چاہتا ہوں
نہ کھینچے مجھے دوسری بھول بھلیاں
طریقِ محبت صفا چاہتا ہوں
نہ جبہ نہ قبہ نہ دستار بندی
جو مقبول ہو وہ ادا چاہتا ہوں
سمجھ گئے یہ بات؟ ہمارے ہاں ان چیزوں کی خوہش نہیں ہے۔ نہ جبہ نہ قبہ نہ دستار بندی،
نہ جبہ نہ قبہ نہ دستار بندی
جو مقبول ہو وہ ادا چاہتا ہوں
میں اس کی محبت کی دولت کا طالب
اسی کو ہے معلوم کیا چاہتا ہوں
خدایا مجھے اب تو اپنا بنا دے
خدایا میں تیری رضا چاہتا ہوں
کرم کر کرم کر کریموں کے خالق
کرم کی نظر میں سدا چاہتا ہوں
میں صدقِ صدیق اور عمر کی فراست
اور عثمان کی جود و سخا چاہتا ہوں
علی کی شجاعت سے حصہ میں پاؤں
حسن کا طریقِ وفا چاہتا ہوں
میں شبیر سجدۂ شبیر نہ بھولوں
تیرے واسطے ہونا فدا چاہتا ہوں
مطلب یہ اس میں ساری چیزیں آ گئیں۔ خلفائے راشدین سارے آ گئے تو پھر کیا چیز رہ گئی؟ چاروں رنگ آ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔
جو سوچا یہ دل میں کہ کیا چاہیے؟
نہ تسخیرِ ارض و سما چاہیے
یہ بعض لوگ ریسرچ اور ساری چیزیں بس ہم تسخیر کر لیں۔
نہ تسخیرِ ارض و سما چاہیے
نہ دستار و جبہ قبا چاہیے
جو سوچا یہ دل میں کہ کیا چاہیے
جواب آیا اس کی رضا چاہیے
جو چاہوں یہاں اس کی چاہت سے چاہوں
خدا کے لیے ہی خدا چاہیے
میں اللہ کا بندہ ہاں اللہ کا بندہ
جو مقبول ہو وہ ادا چاہیے
کرم کی نظر کا طلبگار ہوں
مجھے یہ ملے یہ دعا چاہیے
کروں یاد اس کو رہوں اس کو یاد
رہے یاد وہ یہ صدا چاہیے
جو محبوب میرا ہے اس کا بھی ہے
تو کیوں دل نہ اس پر فدا چاہیے
ہوں لاکھوں درود و سلام اس پہ کہ
یہاں سے بھی کچھ تو وفا چاہیے
قیامت کے دن بارے شبیرؔ کے
اشارہ کرے ہے میرا چاہیے
یعنی اشارہ ہو کہ یہ تو میرا ہے۔ بس یہی چیز چاہیے۔ باقی ہمیں اور کچھ چیز نہیں چاہیے۔
چاہت
ایک اس کی ہے ایک میری چاہت
مجھ کو مطلوب ہے اس کی چاہت
مہرباں مجھ پہ مجھ سے زیادہ ہے جب
کیوں نہ چاہوں میں اس کی ہی چاہت
ظاہر ہے مجھ پر مجھ سے زیادہ مہربان ہے تو میں اس کی چاہت کیوں نہ مانگوں؟ وہ مجھ سے بہتر ہوگا نا کیونکہ زیادہ جانتا ہے ۔
اب چار چیزوں پہ جنت کا وعدہ ہے۔ اب ذرا اچھی طرح سنو۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔
چار چیزوں پہ جنت
جو بھی سلام کو پھیلاتا ہے
اور کھانا بھی وہ کھلاتا ہے
صلہ رحمی کرے تہجد پڑھے
داخل جنت میں کیا جاتا ہے
حدیث شریف میں «أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا با اللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ»۔ یہ بات ہے۔
ہمارا مقصد یہاں پر آنے کا کیا ہے اور اس کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔
محفلِ ناجنس میں ہرگز نہ جانا چاہیے
اس سے بچ جائے ہمیں یہ گُر بھی آنا چاہیے
جہاں نقصان ہو روحانی وہاں نہیں جانا چاہیے۔ اس کا گر ہمیں آنا چاہیے۔
بس میں جو ہے ان کو سستی سے نہ چھوڑیں ہم کبھی
اور جو بس میں نہیں ان کی نہ پروا چاہیے
جو ہمارے بس میں ہیں وہ تو ہم کریں ضرور اس کو نہ چھوڑیں جو بس میں نہیں ہے غیر اختیاری ہے ان کی پروا نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سے وہ نہیں چاہے گا۔ لوگ ان چیزوں میں گھلتے ہیں اور جو کر سکتے ہیں وہ نہیں کرتے۔
وسوسے آنے کی صورت میں نہ ہو کچھ التفات
وسوسے لانے سے ہر صورت میں بچنا چاہیے
معصیت سے بچنا ایسا ہو کہ جیسے زہر سے
سب بدکتے ہیں تو اس سے بھی بدکنا چاہیے
جو ذرائع ہیں تو رکھ ان کو ذرائع کی جگہ
جو مقاصد ہیں انہیں مقصد بنانا چاہیے
جو ذریعے ہیں ان کو ذریعوں کے طور پہ رکھو ان کو مقصد نہ بناؤ۔ اور جو مقصد ہے ان کو آگے بڑھاؤ۔
کیا ہے کرنا کیا نہیں کرنا بس اس کا علم ہو
اور نامقصود قصوں میں نہ پڑنا چاہیے
خوامخواہ یہ ڈائجسٹ اور پتہ نہیں فلاں اور یہ ان چیزوں میں نہیں پڑنا چاہیے۔ ہمیں اصل چیز کو لینا چاہیے۔
ذکر میں مشغول ہو اپنی زبان و دل ہمیش
اپنے فارغ وقت کو ضائع نہ کرنا چاہیے
دہر میں آئے ہیں ہم اس کی محبت کے لیے
اس درِ مطلوب کو شبیرؔ پانا چاہیے
مفاہیم کی درستی
چاہیے ہے کہ مفاہیم ہوں درست
اور اس کے واسطے تعلیم ہو درست
دل میں تقویٰ کا نور آ جائے
بلاشبہ پھر ہر ایک سکیم ہو درست
دنیا اور آخرت
دل کبھی دنیا سے لگانا نہیں
اور آخرت کو بھول جانا نہیں
آخرت اچھی ہے اور باقی بھی
پیٹھ اس کو کبھی دکھانا نہیں
اب ایک غزل ہے جس کا نام ہے
پوٹلی ہی جل گئی
ایک چوٹ دل پہ لگ گئی جو ضربِ دل بنی
تیری خوشی ہے جس میں وہی میری بھی خوشی
اَنَا عِنْدَ مُنْکَسِرَةِ الْقُلُوْبِ۔ اللہ پاک فرماتے ہیں حدیث قدسی میں، میں ٹوٹے ہوئے دلوں کے ساتھ ہوں۔ تو جس وجہ سے بھی کسی کا دل ٹوٹ جائے تو اللہ کے نزدیک وہ بہت قیمتی بن جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے یہ مشائخ اس موقع سے بڑا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ شیطان بھی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ اس وقت اس کے دل میں مایوسی ڈالتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بدظنی ڈالتا ہے، تاکہ اس کو اس اللہ تعالیٰ سے بے بہرہ کر لے۔ لیکن مشائخ تک جب کوئی پہنچ جائے تو وہ اسی کیفیت سے بہت فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور آن کی آن میں ان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ واصل کر دیتے ہیں۔
ایک چوٹ دل پہ لگ گئی جو ضربِ دل بنی
تیری خوشی ہے جس میں وہی میری بھی خوشی
میں حالِ دل بیان کن الفاظ میں کروں
تیری نظر پڑی تو زندگی بدل گئی
ایک چوٹ دل پہ لگ گئی جو ضربِ دل بنی
تیری خوشی ہے جس میں وہی میری بھی خوشی
اصل میں انسان کا دل جب ٹوٹ جاتا ہے، اس وقت دنیا سے اس کا دل اچاٹ ہو جاتا ہے۔ اس وقت میں اگر اس کے لیے اللہ کا در کھل جائے، تو بس پھر اس کی ساری تکلیفیں ختم ہو جاتی ہیں۔ پھر وہ اپنی ہر خوشی کو اللہ کی خوشی کے ساتھ باندھ لیتے ہیں۔ لہٰذا پھر جس چیز پہ اللہ خوش ہوتا ہے، اس پہ وہ خوش ہوتا ہے۔ اور ظاہر ہے یہی ایک مقامِ عبدیت ہے اور جو انسان کو حاصل ہو جائے تو سب کچھ حاصل ہو گیا۔ آخری مقام ہے تصوف کا۔ تو لہٰذا بعض دفعہ انسان کا دل جب ٹوٹ جاتا ہے تو بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اور اس کو ضائع نہیں کرنا ہوتا۔ اور شیطان اس کو ضائع کروانا چاہتا ہے۔ لہٰذا اگر کوئی اچھے ہاتھوں میں ہوتا ہے، یعنی اچھے لوگوں کی تربیت میں ہوتا ہے، تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اس کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتے ہیں۔
ایک پیار کی نظر نے مجھے کاٹ ہی دیا
جس کے لیے گزر گیا ہر راہگزر سے ہی
اللہ پاک کی محبت کی نظر جب اس حالت میں پڑتی ہے، تو وہ تو پھر انسان کو ہر چیز سے کاٹ دیتی ہے۔ پھر اس کے بعد انسان سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ جو بھی راستہ اس کو ملتا ہے اللہ کی طرف، وہ اس سے گزر جاتا ہے۔
ایک پیار کی نظر نے مجھے کاٹ ہی دیا
جس کے لیے گزر گیا ہر راہگزر سے ہی
کہہ دوں وفورِ عشق سے عاشق تیرا میں ہوں
پر ہوش سے دیکھوں نظر آؤں کہیں نہیں
مطلب یہ ہے کہ انسان عشق کے زور سے کہہ دیتا ہے کہ میں تیرا عاشق ہوں۔ لیکن کہاں وہ اور کہاں ہم۔
کہاں یہ خاک کہاں وہ عالمِ پاک
کیسے مطلب انسان وہ کر سکتا ہے جرأت؟ لیکن جوش میں آ کر کہتا ہے، میں تیرا عاشق ہوں۔ ہوش میں آتا ہے تو حیران ہوتا ہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔
کہہ دوں وفورِ عشق سے عاشق تیرا میں ہوں
پر ہوش سے دیکھوں نظر آؤں کہیں نہیں
اس نور کی بارش نے مجھے کر دیا بے کل
ایک چوٹ جب لگی ہے تو دل پہ چلی چھری
اب فکر ہے کوئی نہ کوئی غم مجھے شبیر
دنیا کی خواہشات کی پوٹلی ہی جل گئی
اصل میں نظر جب ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ کی محبت کی تجلی جب ہو جاتی ہے، وہ ساری چیزوں کو جلا دیتی ہے۔ تو اگر کسی کی خواہشات کی پوٹلی اس سے جل جائے تو اس کو پھر اور کیا چاہیے؟
اب فکر ہے کوئی نہ کوئی غم مجھے شبیرؔ
دنیا کی خواہشات کی پوٹلی ہی جل گئی
اب بہت مشہور غزل ہے۔ وہ حضرت مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کے دو شعروں پر بنی ہے۔
جُہْد کُن در بے خودی خُود را بیاب
خَتْم شُد وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب
یہ کوئی صاحب یہاں پر آئے تھے، اس نے اس کی تشریح پوچھی تھی۔ اس وقت جو اللہ نے چاہا وہ تشریح ہو گئی، لیکن بعد میں اس طرف ذہن چلا گیا کہ کیوں نہ اس کی تشریح کو منظوم کر دیا جائے۔ تو یہ وہ منظوم تشریح ہے
جُہْد کُن در بے خودی خُود را بیاب
مثنوی میں کیا ہیں فرماتے جناب
جُہْد کُن در بے خودی خُود را بیاب
مثنوی میں مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ کیا فرماتے ہیں؟ جُہْد کُن در بے خودی خُود را بیاب۔ اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے، جُہْد کُن، "کوشش کر" در بے خودی، "بے خودی کو حاصل کرنے میں"، خُود را بیاب، "اس سے اپنے آپ کو دریافت کر لو"۔ خُود را بیاب، اپنے آپ کو دریافت کر لو۔ مطلب بے خودی حاصل کر کے اپنے آپ کو دریافت کر لو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ خود کو مٹا
کر فنا اپنی جو ہے یہ آب و تاب
یہ جو ہماری خواہشیں ہیں پتہ نہیں ہم کیا ہو جائیں گے، کیا ہو جائیں گے، کیا ہو جائیں گے، ان کو فنا کرو۔ یعنی یوں سمجھ لیں کہ اپنے نفس کی خواہشات کو ختم کرو۔ یعنی فنائیت حاصل کر لو یہ جو نفس کی خواہشات ہیں ان کو مٹا دو۔
نفس کی آلائشوں کو دور کر
چھائی تیرے دل پہ جو ہیں بے حساب
یہ نفس کی آلائشیں تیرے دل پر جمی ہوئی ہیں ان کو دور کر لو۔
آنکھیں تیری سچ بھی پھر دیکھ لیں
دنیا ایسی ہو کہ جیسے خیال و خواب
پھر تیری آنکھیں سچ دیکھیں گی۔ جھوٹ اس سے ہٹ جائے گا۔ اس وقت ہم جھوٹ کے شکار ہیں۔ ہمیں وہ چیزیں جو فانی ہیں وہ باقی نظر آ رہی ہیں۔ ہم سمجھ رہے ہیں کہ ہمیشہ کے لیے یہاں پر رہنا ہے۔ جھوٹ ہے، بہت بڑا جھوٹ ہے۔ اسے کون سچ کہہ سکتا ہے؟ لیکن اس جھوٹ میں کتنے لوگ عملاً گرفتار ہیں؟ ٹھیک ہے زبان سے بے شک کہہ دیں وہ بھی جھوٹ کہتے ہوں گے کہ ہم لوگ اس طرح نہیں ہیں۔ کیونکہ ان کا عمل یہ دکھا رہا ہے کہ یہ تو اس کو ہمیشہ کے لیے سمجھ رہے ہیں۔ اور وہ جو ہمیشہ کی چیز ہے، اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں۔ تو اس وجہ سے:
آنکھیں تیری سچ بھی پھر دیکھ لیں
دنیا ایسی ہو کہ جیسے خیال و خواب
کان تیرے حق سے روگرداں نہ ہوں
اور نہ سنوائے غلط نفسِ خراب
جو تیرے کان ہیں، وہ پھر حق سے روگرداں نہ ہوں۔ اور پھر جو تیرے نفس کانوں کے ذریعے سے شامل ہوتا ہے نا، وہ جو غلط چیزیں سنواتا ہے، وہ تجھے نہ سنوا سکے۔
اور نہ سنوائے غلط نفسِ خراب
خود سے تو گم ہو صرف وہ یاد ہو
تو خود کو بھول جائے اور صرف اس کو یاد رکھے۔
پھر وہاں سے آئے بھی کوئی جواب
مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ تو نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے فنا کر دیا تو اللہ پاک جواب دے گا پھر تو اللہ کا بن جائے گا اور اللہ تیرا بن جائے گا۔
پھر وہاں سے آئے بھی کوئی جواب
تو سمجھ جائے کہ تو کچھ بھی نہیں
اور سب کچھ اس کا ہی ہے لاجواب
اپنے خود کو عشق میں معدوم کر
تو بقا کا پھر کھلے گا تجھ پہ باب
ہاں، اپنے خود کو عشق میں معدوم کر لو، پھر جب تو فنا ہو جائے گا، یعنی معدوم ہو جائے گا، تو پھر تیرے اوپر بقا کا باب کھل جائے گا۔ پھر تو جان لے گا کہ تیرے پاس اللہ تعالیٰ نے کیا کیا رکھا ہوا ہے۔ تو وہ نہیں ہے جو تو پہلے تھا۔
جس میں تو اس کا ہی ہے اور وہ تیرا
ہر وقت سنتا ہو تو اس کا خطاب
جس میں تو پھر وہ نہیں رہتا جو پہلے تھا، بلکہ تو اس کا ہے اور وہ تیرا بن جاتا ہے۔ اور پھر اس وقت تو ہر وقت اس کا خطاب سن رہا ہوتا ہے۔
تو کرے وہ جو اسے منظور ہو
ظاہر ہے رابطہ ہو گا نا
تو کرے وہ جو اسے منظور ہو
وہ کرے گا جو کہ چاہے آں جناب
ہاں، تو وہی کرے گا جو اللہ چاہے گا۔ اور اللہ وہ کرے گا جو تو چاہے گا۔ لیکن تیرا دل چونکہ بن چکا ہوگا، لہٰذا وہ غلط نہیں چاہے گا۔ وہ وہی چاہے گا جو اللہ چاہے گا۔ لہٰذا یہ ایک سرکل ہے، Vicious circle، اس میں انسان پھر چلتا رہتا ہے۔
خود کو پہچانو شبیر کہ کیا ہو تم
خَتْم شُد وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب
اس وقت تم پھر اپنے آپ کو پہچان لو گے۔ یعنی اپنے آپ کو دریافت کر لو گے۔ تو یہی چیز خودی ہے علامہ اقبال کی۔ لیکن اس کا ذریعہ بے خودی ہے۔ بے خودی سے گزرے بغیر خودی کی بات کرنا جھوٹ ہے، ناممکن ہے۔ بے خودی کے بغیر بے خودی کی بات کرنا۔ آج کل لوگ بے خودی کی باتیں نہیں کرتے ہیں، اور خودی پہ پہنچنا چاہتے ہیں، تو یہ ممکن نہیں ہے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔ یہ ممکن تب ہوگا جب انسان خودی کے، بے خودی کے مقام سے گزرے گا۔ اپنے آپ کو فنا کرے گا تو باقی بنے گا۔ اب فنائیت کے بغیر باقی بننا، یہ ایسا لکھا نہیں ہے۔ ایسا ہوا نہیں ہے۔ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ لہٰذا طریقہ یہی اختیار کرنا پڑے گا۔