اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
معزز خواتین و حضرات! آج پیر کا دن ہے۔ پیر کے دن ہمارے ہاں جو سوال کیے جاتے ہیں، ان کے جوابات دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور جو احوال بتائے جاتے ہیں ان کی بھی تحقیق بتانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سوال 12: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت جی! میں نے مکتوبات شریف کے درس میں سنا کہ مرید کو اپنے عیوب شیخ کو بتانے چاہئیں، اور معمولات اور مراقبات بتاتے ہیں لیکن کیفیات نہیں بتاتے۔ حضرت مجھے اپنے عیوب نظر نہیں آ رہے، میں بہت پیچھے ہوں میری حالت بہت خراب ہے، میں نے اتنے سال عجب اور بدگمانیوں میں گزارے اور مجھے پتا ہی نہیں چلا، جب پتا چلا تو بہت سال گزر گئے تھے، لیکن میرا وقت تو ضائع ہو گیا اب واپس نہیں آ سکتا۔ لیکن میں آگے بڑھنا چاہتی ہوں، مجھے سلوک طے کرنے اور اپنی اصلاح کی نیت کیسے شروع کرنی ہو گی؟ پہلے مقام سے کیسے شروع کرنا ہو گا کیونکہ مجھے اپنے عیوب نظر نہیں آ رہے؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: اپنے عیوب نظر نہیں آ رہے! مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی، دونوں فیل ہیں، میں بھی fail ہوں آپ بھی fail ہیں۔ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ کو عیوب نظر نہیں آ رہے! دیکھیں ایک بات یقینی ہے، confirm بات ہے کہ مرنا ہے۔ اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ مسلمان ہونے کے لحاظ سے یہ ہم جانتے ہیں کہ وہاں حساب ہو گا، اور صاف طور پر قرآن میں فرمایا گیا: ﴿فَأَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ﴾ [القارعة: 6-9]۔
بس اب آپ دیکھ لیں کہ نیکیوں کے پلڑے میں آپ کے کون سے کام آ سکتے ہیں اور برائی کے پلڑے میں آپ کے کون سے کام آ سکتے ہیں، ابھی سے اس کا اندازہ لگانا شروع کر لیں۔ جو برائی کے پلڑے میں جانے کے امکان والے کام ہیں، ان کو شریعت کے مطابق ٹھیک کرنے کی کوشش کر لیں۔ مثال میں دیتا ہوں، مثلاً کسی سے غیبت ہو رہی ہے تو اس کو پتا ہونا چاہیے کہ غیبت ممنوع ہے، شریعت میں حرام ہے، لہٰذا نہیں کرنی چاہیے۔ یا نماز مثال کے طور پر نہیں وقت پہ پڑھی جا رہی، تو یا مکروہ ہو گی یا قضا ہو جائے گی، تو اس کو ٹھیک کرنا چاہیے۔ اس طرح اور بہت ساری چیزیں ہیں، میں نے صرف مثالیں دی ہیں۔
اور جو اچھے کام ہو سکتے ہیں تو ان کو بڑھانا چاہیے۔ مثال کے طور پر دیکھو سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ایک انسان کسی وقت بھی، جتنا وقت اس کے پاس spare ہو اس میں اللہ کا ذکر کر سکتا ہے۔ اب اگر وہ نہیں کر رہا ہے تو محروم ہو رہا ہے۔ تو اپنی محرومی کو کم کرنے کے لیے ذکر کرنا چاہیے۔ یہ میں نے مثال دی ہے صرف باقی تو ظاہر ہے بہت ساری باتیں ہیں۔ تو بس یہ تصور آپ کر لیں کہ میزان لگا ہوا ہے، میرے اعمال اللہ پاک کے سامنے پیش ہو رہے ہیں، میرا کون سا عمل ہے جو کہ اللہ کے سامنے پیش ہونے کے قابل ہے اور کون سا نہیں ہے، اس کے بارے میں سوچ کے آپ مجھے بھی لکھ کے بھیجیں اور خود بھی اس کے مطابق پھر عمل کرنا شروع کر لیں۔
ان شاء اللہ آپ کو اپنے عیوب نظر آنے شروع ہو جائیں گے، پھر جیسے جیسے آپ کو اپنے عیوب نظر آئیں تو فوراً پہلے اس کے اوپر توبہ کر لیا کریں اور پھر مجھے اس کی اطلاع کر دیا کریں، تاکہ اس کے بارے میں کچھ آپ کو عرض کر سکوں۔
سوال 13: حضرت جی السلام علیکم! حضرت جی میرا نام فلاں ہے، میرا ذکر 200، 400، 600 اور 100 ہے، ایک ماہ مکمل ہو گیا مزید رہنمائی فرمائیں۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: اب 200، 400، 600، 300 کا کر لیں ایک مہینہ۔ ایک ماہ کے لیے کریں پھر مجھے بتائیں ان شاء اللہ۔
سوال 14: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
نمبر ایک: کم کھانے کا مجاہدہ، اس ہفتے مجاہدے میں کامیابی کچھ نصیب ہوئی الحمد للہ۔ جب سے مجاہدہ شروع کیا اب تک تقریباً ساڑھے چار کلو وزن کم ہوا ہے الحمد للہ۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: اللہ تعالیٰ مزید توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین۔
نمبر دو: لطیفہ قلب دس منٹ، دونوں کو محسوس ہوتا ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: سبحان اللہ ماشاءاللہ! بالکل ٹھیک ہے، آپ اس طرح کر لیں کہ اب اس کو دوسرا لطیفہ بھی بتا دیں 15 منٹ کے لیے، اور 10 منٹ کے لیے لطیفہ قلب۔
نمبر تین: لطیفہ قلب دس منٹ اور لطیفہ روح پندرہ منٹ، قلب پر محسوس ہوتا ہے روح پر محسوس نہیں ہوتا۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: تو روح پر 20 منٹ کر لیں، قلب پر 10 منٹ ہی رہے۔
نمبر چار: تمام لطائف پر پانچ منٹ ذکر اور مراقبہ حقیقۃ کعبہ، حقیقت صلاۃ، حقیقت قرآن پندرہ منٹ۔ اس طالبہ نے ایک سال پہلے مدرسہ چھوڑ دیا تھا اور ذکر بھی، اب دوسرے مدرسے جاتی ہے لیکن ذکر کو دوبارہ شروع کرنا چاہتی ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: جہاں سے رکا ہے وہیں سے دوبارہ شروع کر کے پھر ایک مہینے بعد اطلاع کر دیں۔
سوال 15: السلام علیکم حضرت! اللہ پاک سے دعا ہے کہ آپ سلامت رہیں اور اللہ پاک سب پہ رحم، سب سے راضی ہو، اور میرے ذکر کی ترتیب مندرجہ ذیل ہے: 12 تسبیح، اس کے بعد 500 زبان سے خفی طور پر اللہ، 10 منٹ پانچوں لطائف پر "اللہ اللہ" محسوس کرنا اور 15 منٹ لطیفہ قلب پر مراقبہ معیت ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: یہ 15 منٹ لطیفہ قلب پر نہیں ہے، یہ اصل میں پورے جسم پر ہے مراقبہ معیت۔
احوال: حضرت جی احوال بہت خراب ہو چکے ہیں، نفس و شیطان نے پوری طرح مجھے مغلوب کیا ہوا ہے۔ نمبر ایک: ذکر شروع کروں تو مراقبہ معیت تک نہیں پہنچ پاتا، مراقبہ کرتے کرتے ہی آنکھ لگ جاتی ہے۔
نمبر دو: دفتری اوقات میں نماز باجماعت ادا نہیں ہو رہی، کبھی سستی اور کبھی مصروفیات کی وجہ سے جماعت میں شامل نہیں ہوتا۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: جائز مصروفیت ہو تو اس کے لیے تو گنجائش ہے، لیکن سستی کی گنجائش نہیں ہے۔
دعاؤں میں بھی غفلت ہے، دھیان نہیں ہوتا۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: یہ اختیاری چیز ہے، آپ غفلت کو دور کر سکتے ہیں۔
نمبر تین: نمازوں میں بھی نماز کے علاوہ ہر جگہ دھیان ہوتا ہے، قرآن پاک کی تلاوت میں دل نہیں لگتا۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: دل لگے نہ لگے لیکن کرتے رہیں۔
نمبر پانچ: معمولات کا chart بھی تین ماہ سے نہیں بھیج سکا۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: بھیجنا شروع کر لیں۔
نمبر چھ: 12 سال کی قضا نمازوں میں صرف تقریباً ایک سال کی ادا ہوئی۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: جاری رکھیں۔
تہجد کی نماز ادا نہیں کر پا رہا، صرف عشاء کی نماز کے ساتھ چار نفل پڑھ لیتا ہوں۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: یہ آج کل تو شروع کیا جا سکتا ہے، آج کل کوئی مشکل نہیں ہے۔ اگر کوئی دس بجے بھی سو جائے، پانچ بجے تک اس کی سات گھنٹے نیند پوری ہو جاتی ہے۔ تو کیا خیال ہے، ڈاکٹر کتنا بتاتے ہیں؟ یہی ہے نا۔ تہجد پڑھ سکتے ہیں۔ پانچ سے لے کر پانچ 35 کے لگ بھگ time ہے آج کل۔ تو پھر بھی آپ اٹھ کے تہجد پڑھ سکتے ہیں، تو تہجد پڑھنا شروع کر لیں۔
سوال 28: حضرت جی میری کوئی اور خواہش نہیں سوائے اس کے کہ اللہ پاک راضی ہو جائے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: یہ میری بھی خواہش ہے، اللہ ہم دونوں کو کامیاب کر دے۔
لیکن نفس قابو میں نہیں آ رہا، عمر گزرتی جا رہی ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: اسی کے لیے تو محنت ہے۔
آپ سے دعاؤں کی درخواست ہے۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ضرور، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے اس کام میں کامیاب فرما دے۔
سوال 31: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ نے فرمایا تھا بیعت کرنے کے لیے آپ مجھے audio message بھیجیں گے، جس میں audio ریکارڈ میں وہی الفاظ دہرا کے آپ کو واپس بھیج دوں گا۔ آپ کے message کے انتظار میں ہوں، حضرت مصروف ہیں، صرف آپ کی یاد دہانی کے لیے message کر رہا ہوں، جب حضرت کو وقت ملے میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: میں ان شاء اللہ ابھی یہ الفاظ آپ کو بھیج رہا ہوں، آپ کسی وقت اس کے ساتھ اپنے الفاظ شامل کر کے audio بنا کر مجھے بھیج دیں۔
﴿أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ﴾
"میں شہادت دیتا ہوں نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر اللہ، اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ میں توبہ کرتا ہوں تمام گناہوں سے، چھوٹے ہیں یا بڑے، مجھے معلوم ہیں یا نہیں، مجھ سے قصداً ہوئے یا خطا سے، ظاہر کے ہیں یا باطن کے۔ اے اللہ میری توبہ قبول فرما، آئندہ کے لیے ان شاء اللہ میں گناہ نہیں کروں گا، غلطی سے اگر کوئی گناہ ہوا فوراً توبہ کروں گا۔ میں بیعت کرتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے واسطے سے، اور ہاتھ میں ہاتھ دیتا ہوں، حضرت صوفی محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے، حضرت سید تنظیم الحق حلیمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے، حضرت ڈاکٹر فدا محمد صاحب کے، شبیر احمد کے واسطے سے۔ اپنے آپ کو داخل کرتا ہوں سلسلہ چشتیہ میں، نقشبندیہ میں، قادریہ میں اور سہروردیہ میں۔ اے اللہ میری بیعت کو قبول فرما۔"
اس کو آپ اس طرح پڑھ کے، ساتھ شامل ہو کے پھر جب ہو جائے تو مجھے audio بھیج دیں۔
سوال 32: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ نے مراقبہ کرتے ہوئے دل کی کیفیت پوچھی تھی، کبھی ایسا لگتا ہے کہ اوپر کا حصہ حرکت کر رہا ہے، کبھی وہم لگتا ہے، لیکن الحمد للہ ناغہ نہیں ہوتا۔ اب آگے کیا حکم ہے؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ماشاءاللہ! اگر آپ نے یہ محسوس کیا ہے کہ اللہ اللہ اس طرح محسوس ہو رہا ہے تو بس ٹھیک ہے ماشاءالله۔ اس کو 15 منٹ کے لیے کر لیں، آپ اگر یہ کرتے ہیں تو 15 منٹ کے لیے لطیفہ قلب پر بھی ایسا محسوس کرنے کی کوشش کر لیں۔ لطیفہ قلب جو ہے وہ اصل میں پورے جسم کو اگر آدھا کیا جائے تو بائیں طرف جتنے فاصلے پر دل ہے، اتنے ہی دائیں طرف پر جو جگہ ہے اس کو لطیفہ روح کہتے ہیں۔ تو اس پر بھی 15 منٹ تصور کریں کہ وہاں پر بھی اللہ اللہ ہو رہا ہے۔ پہلے دل پر 15 منٹ اور پھر اس کے بعد دائیں طرف لطیفہ روح پر 15 منٹ۔
سوال 33: السلام علیکم مرشد! آپ خیریت سے ہوں گے اور اللہ پاک کی عطا کردہ نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے۔ حضرت! بڑی پریشانی میں مبتلا ہوں، ندامت بھی ہے کہ ابھی تک آپ کے بتلائے گئے اذکار بھی پورے نہیں کر سکا۔ کوئی ادھر ادھر کی کہانی نہیں بنانا چاہتا کیونکہ اس میں مجھ سیاہ کار اور ریا کار کی نااہلی ہے۔ نہ جانے رب کو کون سی بات پسند نہ آئی کہ اس نے اب تک فرائض سے محروم نہیں کیا۔ باقی مسجد میں ہفتے میں ایک ہی بار جانا نصیب ہوتا ہے۔ میرے لیے خصوصی دعا کیجیے کہ اللہ پاک اس غافل کو اپنے نفس پر قابو پانے کی توفیق عطا فرما دے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے میری رہنمائی فرمائیں، آپ کا تو تجربہ بھی ہے۔ گو کہ یہ سچ ہے کہ کوشش میں نے خود ہی کرنی ہے، پر کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ میں خود اس صورتحال سے کیسے اپنے آپ کو نکالوں۔
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: بات یہ ہے کہ ماشاءاللہ آپ کی سوچ تو اچھی ہے۔ آپ کی عقل کام کر رہی ہے، لیکن ابھی آپ کا دل ساتھ نہیں ہے۔ تین stages ہوتے ہیں: پہلے انسان کی عقل مانتی ہے کسی چیز کو، پھر اس کے بعد اس کا دل مانتا ہے، پھر اس کے بعد اس کا نفس مانتا ہے۔ تو اگر کوئی شخص اس ترتیب کو الٹ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔ تو پہلے convince ہو گا، تو convince تو آپ ہیں، تبھی تو آپ لکھ رہے ہیں۔ اور دل مطمئن ہونے کے لیے دل کی ضرورت ہے ذکر کے ذریعے سے؛ کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر چیز کا صاف کرنے کا آلہ ہوتا ہے اور دلوں کا جو صاف کرنے کا آلہ ہے وہ ذکرِ اللہ ہے۔
تو جو ذکر بتایا ہے وہ آپ پابندی کے ساتھ شروع کر لیں۔ اب دوائی اگر کوئی نہیں کھاتا تو وہ کہتا ہے میں ٹھیک نہیں ہوا، تو یہ تو اس کی پھر عقلی غلطی ہے۔ اس کو تو پھر ملامت کیا جائے گا کہ آپ اپنا علاج کرنا نہیں چاہتے۔ بہت سارے شوگر کے مریض ہوتے ہیں، ان کو بتایا جاتا ہے کہ میٹھا نہ کھائیں، لیکن وہ پرواہ نہیں کرتے، آخر میں اس بیماری کی وجہ سے اور بیماریاں بن جاتی ہیں۔ تو ڈاکٹر تو ان کو یہی کہہ سکتا ہے، باقی تو عمل تو خود ہی کرے گا۔
تو آپ اس طرح کر لیں کہ ابھی آپ کم از کم ذکر شروع کر لیں، اور جیسے ذکر بتایا ہے وہ ذکر آپ مکمل کریں۔ سب سے پہلے وہی 300 اور 200 والا ذکر اگر آپ نے نہیں کیا، اس کو مکمل کر کے مجھے inform کر لیں، 40 دن کے بعد۔ پھر اس کے بعد ان شاء اللہ مزید بات ہو گی۔ خیالی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ بات بظاہر اچھی لگتی ہے کہ میں ٹھیک نہیں ہوں، لیکن نہیں، ٹھیک ہو سکتے ہیں آپ۔ جو آپ کے بس میں ہے وہ آپ ضرور کر سکتے ہیں اور وہ یہی بات ہے کہ ذکر تو آپ کے بس میں ہے۔ کسی نے آپ کو روکا تھوڑا ہے کہ آپ ذکر نہ کریں، کرنا نہیں چاہتے۔ تو آپ کریں، 40 دن تک اس کا ذکر تو کر لیں تو اس کا آپ کے دل پر اثر ہو گا، پھر مزید باتیں پھر ہوں گی۔ تو پہلا stage تو پورا کریں نا ان شاء اللہ۔
سوال 34: السلام علیکم۔ حضرت یہ اتوار والے دن جب بیان ہو رہا تھا دن کو 11 بجے، اس میں آپ نے ایک بات ارشاد فرمائی تھی کہ اگر بندے کے دل کی جو اصلاح ہے وہ دل پہ تو لگا ہوا ہے اصلاح کرنے کے لیے۔ نفس کی نہیں کرتا، تو وہ مجذوب متمکن بن جاتا ہے۔ تو ایک تو یہ پوچھنا ہے یہ مجذوبِ متمکن کون ہوتا ہے؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ دل کی جو اصلاح ہے اس کا تعلق اذکار کے ساتھ ہے اور نفس کی اصلاح کا تعلق اس کے ساتھ ہے۔ اور جو حضرات نفس کی اصلاح کے اوپر زور نہیں دیتے، بہت سی خانقاہیں ہیں وہ صرف قلوب کے اوپر زیادہ ان کا focus ہوتا ہے، تو کیا وہ مجذوب متمکن کی طرف چلے جاتے ہیں؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ماشاءاللہ آپ نے بہت اچھا نقطہ پکڑا ہے، کیونکہ یہی بات حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے کی ہے۔ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے جو اپنا مکتوب ہے، مکتوب نمبر 287 اپنے بھائی کو بھیجا ہے، تو اس میں یہی باتیں کی ہیں۔ اور بڑے ہی درد سے وہ خط لکھا ہے۔ اس میں حضرت نے یہی بات فرمائی ہے کہ جب انسان دل پر محنت کرتا ہے، ذکر اذکار کرتا ہے، دل بیدار ہو جاتا ہے اور مدہوش ہو جاتا ہے، محبت میں جوش میں آتا ہے۔ اس جوش میں بہت کچھ وہ کر سکتا ہے اور کرتا بھی ہے۔ تو پھر کیا کرنا چاہیے اس کو؟ اس کو اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے (جیسے لوہا گرم ہوتا ہے تو اس سے کوئی چیز بنانی ہو تو بنا سکتے ہیں)، تو اس وقت پھر وہ مقامِ قلب پہ آ جاتا ہے، سالک اس وقت مقامِ قلب پہ آ جاتا ہے جس وقت دل بیدار ہو جاتا ہے۔ تو مقامِ قلب میں حضرت فرماتے ہیں (ظاہر ہے میں تو اس بارے میں کچھ زیادہ نہیں کہہ سکتا)، حضرت فرماتے ہیں کہ مقامِ قلب میں نفس اور روح یہ آپس میں اکٹھے ہوتے ہیں، حقیقتِ جامع اس کو کہتے ہیں۔ مطلب اس میں اکھٹے ہوتے ہیں۔ دیکھیں نا، پہلے روح آزاد تھی، پھر جس وقت انسان پیدا ہو جاتا ہے تو اس روح کے ساتھ جسم بھی آ جاتا ہے نفس بھی آ جاتا ہے، تو وہ اس کو trap کر لیتا ہے، اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس وقت انسان کے نفس کے لیے استعمال ہو رہا ہوتا ہے۔ لیکن جس وقت اسی روح کو ذکر کے ذریعے سے جگا دیا جاتا ہے، تو پھر وہ آزاد ہونا چاہتی ہے، اس وقت وہ خود آزاد نہیں ہو سکتی آپ نے اس کی help کرنی ہے اور وہ جو آپ کی help کرنی ہے وہ سلوک ہے۔ کیونکہ نفس کا علاج مجاہدے کے ذریعے سے ہے، اس میں دس مقامات طے کرنے ہوتے ہیں، مقامِ ریاضت بھی ہے، مقامِ قناعت بھی ہے، مقامِ صبر بھی ہے، مقامِ زہد بھی ہے۔ یہ سارے طے کرنے ہوتے ہیں۔
اب یہ کسی کی نگرانی میں طے کرنے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی اس کو نگرانی میں طے کر لے، مقامِ رضا تک پہنچ جائے تو نفس مطمئن ہو جاتا ہے۔ اس کو "نفسِ مطمئنہ" کہتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا: ﴿يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي﴾ [الفجر: 27-30]۔ تو اس صورت میں انسان کا سیر الی اللہ مکمل ہو جاتا ہے اور پھر سیر فی اللہ پہ چل سکتا ہے۔
لیکن اگر وہ اس سٹیج پر، اسی حالت میں مقامِ قلب میں رہے اور اس میں ہی انسان کو ہوش رہے، یعنی وہ سارے لوگوں کے ساتھ مل سکتا ہو، جڑ سکتا ہو اور سارے دنیا کے کام کر سکتا ہو۔ مطلب یہ کہ وہ دل کی اس حالت کو تو پہنچ گیا لیکن اس سے سلوک کی طرف نہیں چلا، یہ مجذوب متمکن ہے۔ یہ مجذوب متمکن ہے۔ اس کے بارے میں حضرت نے فرمایا کہ اس کی توجہ کی کیفیت جو منتہی مرجوع ہوتا ہے، اس سے زیادہ ہوتی ہے۔ یعنی جو نفسِ مطمئنہ تک پہنچ چکا ہوتا ہے اس سے اس کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ لوگ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، لوگ اس کو زیادہ بزرگ سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں نہ خود پہنچے ہوتے ہیں (بقول حضرت کے) اور نہ دوسروں کو پہنچا سکتے ہیں۔
تو اس وجہ سے جو لوگ یہ باتیں کرتے ہیں، میں ان کی شخصیت کے بارے میں بات نہیں کرتا لیکن ان کی بات کے بارے میں بات کر سکتا ہوں کہ سو فیصد غلط بات کرتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ دل پر ہی محنت کرنی چاہیے، نفس پر نہیں کرنا چاہیے۔ وہ جس حوالے سے اپنے آپ کو سمجھتے ہیں کہ ہم کچھ جانتے ہیں نقشبندیہ سلسلے کے بارے میں... بھئی نقشبندی سلسلے کے مجدد صاحب زیادہ واقف تھے تم زیادہ واقف نہیں ہو! تم کون ہو اس کے خلاف بات کرنے والے؟ مجدد صاحبؒ کی تحریر پڑھو نا، اس کا پھر جواب دو۔ کیا لکھا ہے حضرت نے؟ اور خط ایسا لکھا ہے جیسے رو رو کے لکھا ہو۔ پھر بھی آپ کو حیا نہیں آتی؟ تو اس سے ہمارا دل کڑھتا ہے جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ اور ایسے بے شرمی سے بات کر لیتے ہیں کہ سلوک کے ذریعے سے بھی اصلاح ہوتی ہے اور جذب کے ذریعے سے بھی اصلاح ہوتی ہے۔
جذب کے ذریعے سے اصلاح کا مطلب ایسے ہے جیسے lift کے اوپر چڑھنا، اور سلوک کے اوپر اصلاح ایسے ہوتی ہے جیسے سیڑھیوں کے ذریعے چڑھنا۔ خدا کے بندو ہوش کے ناخن لو، یہ کیا کہہ رہے ہو؟ کہاں سے کہہ رہے ہو؟ اپنی طرف سے باتیں بنا رہے ہو؟ تو یہ باتیں تو غلط ہیں۔ ان کو تو ہم غلط کہیں گے۔ میں نہیں کہتا، مجدد صاحبؒ غلط کہتے ہیں۔ اس طرح اور بزرگ فرماتے ہیں، غلط کہتے ہیں۔ تو اس کے لیے ہمیں تو عقل کے ناخن لینے پڑیں گے۔
ابھی میں نے ایک سالک کو بتایا نا کہ بھئی پہلے عقل کی بات ہے، پھر دل کی بات ہے، پھر نفس کی بات ہے۔ جب تک عقل مطمئن نہ ہو، اس وقت تک دل کا کام بھی شروع نہیں ہو سکتا۔ تبلیغی جماعت میں کیا کرتے ہیں؟ وہاں صرف بیان کرتے ہیں اور تو کچھ نہیں کرتے، تو یہ بیان کون سی چیز کو متاثر کرتا ہے؟ وہ عقل کو متاثر کرتے ہیں، تو پھر انسان مجاہدہ شروع کر لیتا ہے۔ ان کی missing چیز ذکر اللہ والی بات ہے، وہ کمی ان کی ذکر اللہ کی ہے، تو ان کو یہ کمی دور کرنی چاہیے۔ اور مجذوب متمکن کی کمی کیا ہے؟ وہ نفس والی اس کے اوپر محنت... وہ کمی دور کرنی چاہیے، تبھی تو وہ مکمل ہو جائیں گے ماشاءاللہ۔ بھئی آدھا کام کر کے چھوڑنا کیوں ہے؟ پورا کام کرو نا۔ جو کام مطلوب ہے، تینوں کام مطلوب ہیں، عقل کی بھی اصلاح ضروری ہے، دل کی بھی اصلاح ضروری ہے، نفس کی بھی اصلاح ضروری ہے۔
جس وقت پہلے پہلے میں نے حضرت کا مکتوب شریف پڑھانا شروع کر لیا تو مجھے messages آنے شروع ہو گئے۔ ایک جگہ سے میسج آیا کہ آپ نے یہ نفس کی بات کہاں سے لی؟ حدیث شریف میں تو دل کی بات ہے۔ وہ حدیث شریف موجود ہے نا کہ جسم کے اندر گوشت کا ایک لوتھڑا ہے، اگر وہ ٹھیک ہو جائے تو سارا جسم ٹھیک ہو جائے، اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جائے۔ تو میں نے کہا بالکل ٹھیک ہے، حدیث شریف غلط تو نہیں، حدیث شریف تو بالکل صحیح ہے۔ البتہ میں نے یہ لیا ہے قرآن سے۔ قرآن پاک میں فرماتے ہیں: ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا﴾ [الشمس: 9-10]۔ اور قرآن و حدیث آپس میں مخالف نہیں ہو سکتے، تو ان کی آپس میں تطبیق ہے۔
اور تطبیق کیا ہے؟ جب تک نفس کام صحیح نہ کرے یعنی مطمئن نہ ہو جائے، اس وقت تک دل صاف نہیں رہ سکتا۔ اور دل جب تک ٹھیک نہ ہو تو نفس ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ دل ذریعہ ہے نفس کو ٹھیک کرنے کا، اور نفس کا ٹھیک کرنا ضروری ہے دل کو ٹھیک رکھنے کے لیے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے حوض ہے۔ اور حوض میں مختلف ذریعوں سے پانی آتا ہے، اور اس میں گند آ رہا ہے۔ اس حوض کو صاف کرنے کا طریقہ کیا ہو گا؟ اس کا طریقہ یہ ہو گا کہ پہلے تو وہ جو گند آ رہا ہے، اس کو روکو۔ جب وہ رک جائے، اس کے بعد پھر حوض صاف کرنا ہو تو صاف ہو جائے گا۔ ورنہ آپ اس کے ہوتے ہوئے حوض کو صاف کریں گے تو کبھی صاف نہیں کر سکتے۔ اور اس کی مثال کیا ہے؟
ہماری آنکھ ایک نہر ہے، ہمارے کان ایک نہر ہیں، ہمارا دماغ ایک نہر ہے، ہمارے ہاتھ پاؤں جہاں جہاں کوئی حس ہے، وہ ایک نہر ہے۔ وہاں سے گندگی آ رہی ہوتی ہے ہمارے دل کی طرف۔ ہماری ایک غلط نظر ہمارے دل کو خراب کر دیتی ہے، ہماری ایک غلط بات سن کر ہمارا دل خراب ہو سکتا ہے، ہمارا ایک خیال غلط دل کو خراب کرتا ہے۔ جب تک ان چیزوں کی اصلاح نہیں ہو گی، ہمارا دل کیسے پاک صاف ہو سکتا ہے؟ ہاں یہ الگ بات ہے کہ جب دل پاک و صاف ہو جاتا ہے تو یہ چیزیں محسوس ہونے لگتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آنکھ کی ناپاکی محسوس ہو جاتی ہے، کان کی ناپاکی محسوس ہو جاتی ہے، زبان کی ناپاکی محسوس ہو جاتی ہے، دماغ کی ناپاکی محسوس ہو جاتی ہے۔ تو اس وقت ہمت کرنی پڑتی ہے، وہ ہمت کرنا نفس کے اوپر محنت ہے وہ سلوک طے کرنا ہے۔
تو یہ آپس میں بالکل لازم و ملزوم ہیں، باہم مربوط ہیں، ان کو آپس میں جدا کرنا یہ عقل کے خلاف بات ہے۔ لہٰذا ہم لوگوں کو ان تمام چیزوں کو سمجھنا بھی ہے اور اس کے مطابق کام بھی کرنا ہے۔ خواہ مخواہ اپنا وقت کیوں ضائع کریں؟ اور اگر اپنا وقت ضائع کرنا ہو تو چلو کر لو، دوسروں کا وقت کیوں ضائع کرتے ہو؟ دوسروں کو غلط باتیں کیوں بتاتے ہو؟ دوسروں کو کم از کم غلط باتیں نہ بتاؤ نا۔ بھئی میں اگر غلطی پہ جا رہا ہوں (اللہ مجھے بھی غلطی سے بچائے)، لیکن میں کسی اور کو غلط بات بتا کر اس کا بھی اپنے سر پہ لے لوں تو کتنی خطرناک بات ہے۔ اس سے تو کم از کم مجھے بچنا چاہیے نا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرما دے۔
سوال 35: حضرت ایک بات یہ ہے کہ یہ جو اوابین کی نماز ہوتی ہے مغرب کی نماز کے بعد، بعض اوقات بیان میں پہنچنا ہوتا ہے، اوابین پڑھو تو یہاں سے شروع والا بیان نکل جاتا ہے کیونکہ میں پیدل آتا ہوں دس منٹ پانچ منٹ سات منٹ لگ جاتے ہیں، تو اوابین چھوڑ دیں یا کیا کریں؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: استفتِ قلبک (اپنے دل سے فتویٰ لو)۔
سوال 36: اور دوسرا حضرت یہ ہے کہ بعض اوقات جو ہے نا کسی ایسی جگہ پر جہاں پہ موسیقی کا ماحول ہوتا ہے، کوئی نکاح ہو رہا ہے یا کوئی اس طرح اچانک شروع ہو جاتا ہے یا کوئی ہو رہا ہے پہلے سے۔ اس وقت "یا ھادی" یا "نور" کا وظیفہ جو آپ نے بتایا وہ کرتے ہیں اور ادھر توجہ بھی نہیں ہوتی۔ کوشش کرتے ہیں کہ جو آواز آ رہی ہوتی ہے اس کو کنٹرول نہیں کر سکتے یا تلاوت شروع کر لی یا درود شریف پڑھتے رہتے ہیں، تو اور بدنظری سے بھی کوشش کر کے بندہ اس سے نکل جاتا ہے، لیکن بعد میں اس کا طبیعت پہ اثر ہوتا ہے یہ کیا وجہ ہے اس کی؟
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: ہوتا تو ہے کیونکہ قدرتی بات ہے، اصل میں بات یہ ہے کہ گرم چیز کا گرم اثر ہوتا ہے، ٹھنڈی چیز کا ٹھنڈا اثر ہوتا ہے۔ کوئی آدمی کہتا ہے مجھے یہ اثر نہ ہو تو وہ تو غلط بات ہے۔ ہاں گرم کپڑے پہننا، وہ اسی کے لیے ہے کہ آپ کو سردی نہ لگے، اور پنکھا چلانا اور AC چلانا یہ گرمی کو دور کرنے کے لیے ہے۔ تو وہ تو ہے۔
اب اس میں یہ والی بات میں عرض کروں گا کہ ایک حدیث شریف ہے، وہ ہماری رہنمائی کرتی ہے اس مسئلے میں۔ مجھے اس صحابی کا نام معلوم نہیں ہے، وہ اس کے بارے میں آپ کو یاد ہو گا، کہ وہ ایک تابعی کے ساتھ (بچے کے ساتھ) جا رہے تھے تو کچھ آواز آئی میوزک بانسری کی یا پتا نہیں کیا۔ تو آواز آئی تو انہوں نے کانوں کے اندر انگلیاں دے دیں۔ جاتے جاتے انہوں نے پوچھا کہ اب تو نہیں آ رہی؟ تو اس نے کہا اب نہیں آ رہی، تو پھر انہوں نے انگلیاں نکالیں۔ انہوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے ایسے کرتے دیکھا ہے۔ میں ان کے ساتھ تھا تو اس طرح آواز آ رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کانوں میں انگلیاں رکھ لی تھیں۔ پھر بعد میں مجھ سے پوچھا (میں اس وقت بچہ تھا) کہ ابھی تو آواز نہیں آ رہی؟ تو میں نے کہا کہ نہیں اب نہیں آ رہی، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں نکالیں۔
اب انگلیاں ڈالنے والی بات تو چلو ذرا مشکل ہے لیکن آج کل ایک اچھی چیز وجود میں آئی ہے۔ یہ by air جو سفر کرتے ہیں نا تو اس کے لیے ملتے ہیں، وہ کان میں ڈالنے کے لیے، اس سے آواز پھر نہیں آتی، ear plugs۔ وہ ear plugs آدمی کان میں ڈال دے تو آج کل تو ویسے بھی لوگ وہ ڈالتے ہیں نا، تو لوگ سمجھیں گے شاید آپ نے وہ ڈالے ہوئے ہیں۔ لیکن آپ کی حفاظت ہو گی ان شاء اللہ پھر بعد میں آپ کو تنگ نہیں کریں گے۔
سوال 37: اچھا یہ ہے کہ عمل کرنے میں تھوڑا سا نا وہ مشکل پیش آتی ہے یعنی دل نہیں کرتا جی، تو اس کے لیے کوئی اگر بتا دیا جائے کہ…
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: آپ نے دونوں باتیں صحیح کیں، آپ نے دونوں باتیں صحیح کیں۔ دل نہیں چاہتا اور عمل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عمل کرنا مشکل ہے نفس کے لیے، دل نہیں چاہتا کیونکہ دل میں دنیا کی محبت ہے۔ تو ان دونوں کا اپنا اپنا علاج ہے۔ ذکر اللہ سے دل کی صفائی ہوتی ہے لیکن وہ دیرپا تب ہوتی ہے جب نفس کی بھی ساتھ اصلاح ہو۔ اس کے لیے ہی سلوک طے کرنا ہوتا ہے۔ مشائخ کے پاس اسی مقصد کے لیے جاتے ہیں۔ وہ مشائخ پھر اسی راستے پہ چلا دیتے ہیں کہ وہ پہلے ان کو ذکر اذکار دیتے ہیں، ذکر اذکار سے ان کا دل صاف ہو جاتا ہے، ان کو احساس ہونے لگتا ہے کہ مجھ میں کمی کیا ہے۔ کمزوریاں کیا ہیں؟
ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے پھر ان کو مقامات طے کرنے ہوتے ہیں۔ مقامِ توبہ، مقامِ انابت، مقامِ قناعت، مقامِ ریاضت، مقامِ تقویٰ، مقامِ صبر، مقامِ زہد، مقامِ توکل، مقامِ تسلیم، مقامِ رضا، یہ باقاعدہ step by step وہ طے کرنے ہوتے ہیں۔ جب وہ طے ہو جاتے ہیں، سبحان اللہ! پھر نفس ماننا سیکھ لیتا ہے۔ پھر ماشاءاللہ عمل کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ یہ بات ہے۔
سوال 38: حضرت یہ اتوار والے دن میرے ساتھ کچھ ایسا ہوا کہ مدرسے میں پڑھا رہا تھا تو وہاں پر اطلاع آئی کہ خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مولانا محبوب الرحمٰن صاحب، کوئی نام ہے بلوچستان کے، وہ کہیں تشریف لائے تھے کسی مدرسے میں۔ تو اساتذہ نے کہا کہ بھئی سارے قریب کے علماء بھی وہاں جائیں، بیان سنیں گے اور بیان ہوگا۔ تو وہ پھر اتوار کے دن گیارہ بجے یہاں بھی بیان ہوتا ہے۔ تو وہ جب نکلنے لگے تو میرے ذہن میں خیال آیا، میں نے کہا کہ میرے شیخ کا بھی بیان گیارہ بجے چل رہا ہے ان کا بھی گیارہ بجے، تو میں نے کہا میں اپنے شیخ کا جا کے سن لیتا ہوں۔ میں وہاں سے موٹر سائیکل لی اور سیدھا خانقاہ میں آ گیا۔ تو ایسے اگر آئندہ بھی کبھی ہو جاتا ہے ایسے میں نے ٹھیک کیا یا…
[سوال جواب مجلس، 18 دسمبر 2023، مجلس نمبر: 652]
جواب: بالکل آپ نے صحیح کیا ہے، میں تو آپ کو کیا عرض کروں۔ ہزارے کی بات کرتا ہوں، ہزارے میں پہاڑ ہوتے ہیں نا اونچے اور نیچے، اور ادھر اوپر گھر ہوتے ہیں۔ تو کوئی اللہ والے تھے، ان کا مرید تھا، اس کو کام دیا تھا کوئی چیز لانے کا۔ تو ظاہر ہے دور دور بازار ہوتے ہیں دور دور جگہیں ہوتی ہیں۔ تو وہ لا رہے تھے تو جب یہ نیچے اتر رہے تھے تو پیچھے سے ایک آواز آئی کہ "آؤ مجھ سے ملو، میں خضر ہوں"۔ تو انہوں نے سنی ان سنی کر لی پروا نہیں کی نا، چلتے رہے۔ تھوڑے سے آگے گئے تو آواز آئی: "بھئی مجھ سے تو منتیں کر کر کے ملتے ہیں، تو میں وہاں خود آواز دیتا ہوں تم نہیں آ رہے ہو؟" تو انہوں نے بغیر دیکھے کہا کہ "میرا خضر ادھر ہے"۔ "میرا خضر ادھر ہے"۔ تو نہیں ملے۔ وہاں گئے تو حضرت کو پہلے سے کشفاً اطلاع ہو گئی تھی۔ الحمد للہ ان کو اس سے پھر بڑی ترقی ہوئی، یہی "توحیدِ مطلب" ہے۔
اب حضرت کے مقام میں کمی نہیں، الحمد للہ، اللہ تعالیٰ نے حضرت کو بہت مقام دیا کہ خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ان کے اوپر اعتماد کیا معمولی شخص تو نہیں ہیں۔ لیکن تربیت میں توحیدِ مطلب بنیادی چیز ہوتی ہے، کیونکہ توحیدِ مطلب اگر نہ ہو تو بقول حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے، وہ راستے میں رہ جاتا ہے کسی جگہ کا نہیں رہتا اور شیطان اس کو detrack کر لیتا ہے، اپنے راستے سے ہٹا دیتا ہے۔
یہ بات ہے کہ صرف اس مقصد کے لیے مطلب علاج کے point of view سے ہے، کیونکہ علاج جو ہوتا ہے ایک وقت میں صرف ایک ڈاکٹر سے کیا جاتا ہے، کیونکہ کئی ڈاکٹروں سے علاج اگر ہو تو پھر اس میں نقصان ہو سکتا ہے۔ ہاں البتہ استاذ ہزاروں ہو سکتے ہیں، علم کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ علم کے لیے کوئی مسئلہ نہیں علم کے لیے انسان ہزاروں سے اخذ کر سکتا ہے۔ لیکن جو تربیت ہے وہ کسی ایک سے ہی ہے۔
یہ الحمد للہ اللہ کا شکر ہے۔ حضرت جب مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ موجود تھے، تو یقین جانیں ادھر پنڈی میں اور اسلام آباد میں بڑے بڑے بزرگ اس وقت تھے، مجھے کچھ بھی نہیں تھا پتا کون تھے، بعد میں پتا چلا کہ ایسے بھی ہیں ویسے بھی ہیں۔ میں نے حضرت کو بتا دیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ صحبتِ صالحین کی نیت سے آپ ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں ورنہ یہ بات ہے کہ یہ بھی نہ ہوتا۔
تو جب حضرت ماشاءاللہ موجود تھے تو ایک دفعہ حضرت بھی تشریف لائے تھے اور مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی اور حضرت کے ایک اور خلیفہ بھی تھے اور محفل گرم تھی۔ ظاہر ہے حضرت کی عارفانہ باتیں اور ان حضرات سب چل رہی تھیں، ہم تو student تھے تو درمیان میں پھر ہمیں جانا بھی ہوتا تھا۔ ہمارا طریقہ تھا کہ حضرت سے مصافحہ کر کے جاتے تھے۔ تو جارہے تھے تو ہمارا طریقہ تھا کہ ہم حضرت سے مصافحہ کرکے جاتے تھے۔ یہ حضرات کے وہاں یہ بات تھی۔ تو جا کے حضرت کی طرف گئے مصافحہ کرنے، حضرت چپکے چپکے سے اشارہ کرتے ہیں کہ پہلے مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے مصافحہ کرو پھر میرے ساتھ کرو۔ اب ہمیں سمجھ ہی نہیں آ رہی، بالکل خیال ہی نہیں تھا، وہ جو ہے نا ایک ہی طرف تھے۔ جب بلکل خیال ہو گیا کہ یہ تو حضرت کہ رہے ہیں پھر ہم نے مولانا فقیر محمد صاحب سے مصافحہ کیا پھر حضرت سے کیا، پھر ہم چلے گئے۔ یعنی اس وقت یہ والی بات تھی ہی نہیں کہ کون ہے، بس دیکھتے ہیں کہ بس ہمارے لیے تو ذریعہ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے سب کے ساتھ۔
جن سے بھی فیض ملتا تھا تو حضرت ہی کا۔ میں صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے جو ملا ہوں، تو وہ بھی حضرت ہی کی برکت تھی۔ بلکہ یقین جانیں کہ جب سے میں حضرت سے ملا تھا، تو حضرت کو کشفاً پتا چل گیا کہ میرا تعلق مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ہے۔ تو اس کے بعد حضرت نے اپنی بات کبھی بھی نہیں مجھے بتائی،: "مولانا صاحب یہ کہتے ہیں، مولانا صاحب یہ کہتے ہیں"، میرے ساتھ مولانا صاحب کی باتیں کرتے تھے حضرت۔ تو مقصد یہ ہے کہ حضرت کو بھی اس چیز کا بڑا احساس ہوتا تھا، وہ دوسری طرف نہیں جانے دیتے تھے۔ تو یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ توحیدِ مطلب ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔
(سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَیک)