اصلاحِ نفس، قلب و عقل کا اسلامی تصور
اشاعت او: 8 دسمبر، 2017
- تکمیلِ دینِ اسلام اور اتباعِ رسول ﷺ کی اہمیت
- نعمتِ ایمان کی قدر اور ذکرِ الٰہی کی فضیلت
- ہندوستان میں مجددینِ اسلام کی تجدیدی خدمات
- اصلاحِ نفس اور تقویٰ کی حقیقت
- اصلاحِ قلب اور دنیا کی محبت سے نجات
- اصلاحِ عقل اور اسلامی بمقابلہ دنیاوی سوچ
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ۔ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا۔ وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ۔
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
بزرگو اور دوستو! اس وقت ہم لوگ میدانِ عمل میں ہیں۔ ہمارا ہر کام note کیا جا رہا ہے۔ ہمیں ہر چیز کے کا جواب دینا پڑے گا۔ وقت محدود ہے اور target لامحدود ہے۔ اُس لامحدود زندگی میں کامیابی کے لیے، اس محدود زندگی کو صحیح طریقے سے گزارنا یہ ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔ چانس اگر miss کر دیا اس کے بعد اور چانس ملنا نہیں ہے۔ اس وجہ سے انتہائی تحقیق کی ضرورت ہے کہ ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں۔
تو اللہ جل شانہ نے ہمیں بے ہدایت نہیں چھوڑا ہے۔ اللہ جل شانہ نے ہر چیز میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے دو نظاموں کے ساتھ۔ ایک نظام جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتابیں آئی ہیں ان کا ہے، اور ایک نظام جو انبیاء علیہم السلام اس دنیا میں تشریف لائے ہیں ان کا ہے۔ یہ دونوں نظام ساتھ ساتھ چل رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دونوں نظام ختم ہو گئے۔ اب قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ چلے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو قرآن پاک نازل ہوا ہے اسی پر عمل کرنے کا حکم ہے۔
تو اب ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اگر طریقہ باقی ہے تو وہ صرف اور صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔ تو قرآن پاک میں بھی اس چیز کو فرمایا گیا: "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ"۔ (البتہ بتحقیق تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت میں بہترین نمونہ موجود ہے)۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ جل شانہ نے جو دین دے کر بھیجا تھا، تو حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے پوچھا کہ مجھ تک جو پہنچا کیا میں نے آپ لوگوں کو پہنچا دیا؟ تو صحابہ کرام نے کہا نہ صرف پہنچا دیا بلکہ حق بھی ادا کر دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلی آسمان کی طرف اٹھا کے کہا: "اے اللہ تو گواہ رہنا، اے اللہ تو گواہ رہنا، اے اللہ تو گواہ رہنا۔"
تو اب دین مکمل طور پر پہنچ گیا ہے۔ یہ تو حدیث شریف ہے۔ اور قرآن پاک میں بھی آیت اسی وقت ہی نازل ہوئی ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا: "الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا"۔ (آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔ اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کر دیا۔ اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔)
تو اب یہ تین خوشخبریاں جو ہمیں ملی ہیں ان خوشخبریوں کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔ ایک تو ہمارا دین مکمل ہے۔ اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔ اللہ پاک نے جب فرمایا کہ مکمل کر دیا تو اب کون اس کو نامکمل کہہ سکتا ہے؟ تو ہمارا دین مکمل ہے، اس کے اندر کوئی نقص نہیں ہے۔ اور کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ کوئی کہہ دے کہ آج کل کے دور میں اس پر عمل نہیں ہو سکتا۔ ایسا نہیں ہے۔ مکمل ہو گیا ہے، قیامت تک جو بھی حالات آئیں گے اس میں دین پر عمل ہو سکے گا۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ کہہ دے کہ اب یہ modern دور ہے، اب اس میں تو فلاں چیز پر عمل نہیں ہو سکتا۔ نہیں، عمل کرنے کے ذرائع ڈھونڈنے پڑیں گے۔ یہ کوئی بات نہیں، عمل عمل کرنے کے لیے ذرائع تو ڈھونڈنے پڑیں گے۔ لیکن عمل ہو سکے گا۔
مثلاً نماز پانچ وقت فرض ہے، پانچ وقت نماز ہر جگہ پڑھی جا سکے گی۔ رمضان شریف کے روزے فرض ہیں، ہر جگہ رمضان شریف کے روزے رکھے جا سکیں گے۔ حج فرض ہے، حج کیا جا سکے گا۔ اور اس طرح وہ زکوٰۃ فرض ہے، زکوٰۃ ادا کی جا سکے گی۔ یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اب دور بدل گیا اب پانچ نمازوں کی جگہ کوئی تین نمازیں پڑھ لے۔ نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ نماز ہر جگہ پر، ہر حالت میں اپنے اپنے وقت پر فرض ہے۔ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا۔ اس قانون کے مطابق۔
دوسری خوشخبری ہمیں ملی ہے کہ تم پر میری اپنی نعمت کو تمام کر دیا۔ بہت بڑی خوشخبری ہے۔ ساری نعمتیں اللہ جل شانہ نے اس امت کو عطا فرما دی ہیں۔ یہ وہ امت ہے جس پر پیغمبر رشک کیا کرتے تھے۔ اور پیغمبروں نے اس کے لیے دعا کی کہ "اے اللہ ہمیں اس امت میں شامل فرما"۔ تو یہ بہت ہی قابل رشک امت ہے۔ ٹھیک ہے ہم لوگوں کو چونکہ مفت میں ملی ہے ہمیں قدر نہیں ہے۔ جس طرح ایمان کی قدر نہیں ہے۔ ایمان کتنی بڑی دولت ہے، اس کی اس لیے قدر نہیں ہے کہ ہمیں ایمان مفت میں ملا ہے۔ ورنہ اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے اگر ہم ایمان والے نہ ہوتے، تو ایمان لانے کے لیے چاہے ہمیں ذبح ہونے کے لیے اپنے آپ کو پیش کرنا پڑتا پھر بھی ایمان لانا لازم تھا۔ وجہ کیا ہے؟ ایمان نہ ہونے کی صورت میں ہمیشہ کے لیے جہنم ہے۔ ایمان نہ ہونے کی صورت میں ہمیشہ کے لیے جہنم ہے، اور اللہ پاک نے ہمیں اس امتحان سے بچا لیا ہے۔ ہمیں الحمد للہ ایمان ماں کی گود میں ملا ہے، اس وجہ سے اس کی قدر نہیں ہے۔
کچھ چیزیں ایسی ہیں جو بہت ہی زیادہ، بہت ہی زیادہ، بہت ہی زیادہ ضروری ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو بہت عام کر دیتے ہیں۔ اس وجہ سے بعض دفعہ ان کی قدر نہیں ہوتی۔ آپ سوچیں اللہ کا نام کتنا اونچا ہے؟ "اللہ"۔ کتنا اونچا ہے۔ بہت اونچا نام ہے، چونکہ یہ ہماری روح ہے زندگی کی، اور ارشاد ہوا ہے کہ "ذکر کرنے والا اور نہ کرنے والا ایسا ہے جیسے زندہ اور مردہ"۔ یعنی ذکر کرنے والا زندہ ہے اور ذکر نہ کرنے والا مردہ ہے۔ تو اب یہ ہماری جو روحانیت کی زندگی ہے وہ ذکر کے ساتھ ہے۔ تو ذکر کو اللہ پاک نے اتنا آسان کر دیا کہ ذکر ہر حالت میں کیا جا سکتا ہے۔ صرف ایک حالت میں نہیں کہ بیت الخلاء میں ہو۔ اور وہ بھی زبان پر بند ہے، دل میں بند نہیں ہے۔ اگر کوئی دل کا ذکر کر سکتا ہے تو دل میں بند نہیں ہے۔ ہاں! زبان پر بند ہے، وہ جگہ کے لحاظ سے۔ باقی ہر حالت میں کیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ جنابت کی حالت میں کیا جا سکتا ہے، حیض کی حالت میں کیا جا سکتا ہے، بے وضو حالت میں کیا جا سکتا ہے، کپڑے پاک ہوں ناپاک ہوں ذکر کیا جا سکتا ہے ذکر ہر حالت میں کیا جا سکتا ہے۔ تو اس کو اللہ تعالیٰ نے اتنا زیادہ آسان کر دیا، اتنا زیادہ آسان کر دیا، کہ لوگ اس کی اہمیت کا احساس ہی نہیں کر رہے کہ کتنی اہم چیز ہے۔
اس کی مثال ایسی ہے۔ جیسے ہوا ہے۔ ہوا کو اللہ پاک نے چونکہ ہمارے لیے بہت ضروری قرار دیا ہے، ہمیں چند لمحے ہوا کے بغیر اگر گزارنے پڑ جائیں تو ممکن نہیں ہو گا۔ تو اللہ پاک نے ہوا کو اتنا زیادہ وافر مقدار میں پیدا کر دیا کہ ہوا کو کوئی نکالنا بھی چاہے تو نہیں نکال سکتا۔ ہوا ہر جگہ موجود ہو گی۔ ذرا پر بھی چھید ہو گی، اس کے اندر ہوا آ جائے گی۔ تو ہوا جو ہے یہ اس کو جیسے ہم نکال نہیں سکتے۔
پھر دوسری چیز جو ہمارے لیے بہت ضروری ہے وہ پانی ہے۔ "وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍٍّ"۔ اور اللہ پاک نے پانی سے ہر چیز کو زندگی عطا فرمائی ہے۔ تو پانی کو اللہ پاک نے اتنا زیادہ کر دیا کہ تین حصے پانی ہے اور ایک حصہ خشکی ہے۔ اتنا زیادہ کر لیا۔ بہت سارے لوگ ہیں جن کو پانی مفت میں ملتا ہے۔ جن لوگوں کو پانی خریدنا بھی پڑتا ہے اس کی بھی قیمت اتنی زیادہ نہیں جتنی دوسری چیزوں کی ہے۔ اور پانی آسانی کے ساتھ الحمد للہ میسر ہو جاتا ہے۔ اس کی transportation کا نظام اللہ پاک نے اتنا international بنایا ہوا ہے کہ اس کے لیے ہمیں کچھ نہیں کرنا پڑتا، وہ سارے کا سارا خود بخود ہو رہا ہوتا ہے۔ سمندروں سے بخارات کے ذریعے سے پانی اٹھایا جاتا ہے، پھر اس کو بادل بنا کر پھیلا دیا جاتا ہے تمام فضاؤں کے اندر، اور پھر جہاں جہاں ضرورت ہوتی ہے چاہے وہ پہاڑ ہو چاہے وہ جنگل ہو چاہے کوئی اور جگہ ہو، وہاں پر بارش برسائی جاتی ہے۔ اور پانی وہاں پر -سبحان اللہ- پھر دریاؤں میں آتا ہے، چشموں میں آتا ہے، اور پھر اخیر میں سمندر میں دوبارہ گر جاتا ہے۔ پھر دوبارہ سمندروں سے اٹھایا جاتا ہے۔ یہ پورا نظام اللہ پاک نے ایسا automatic بنایا ہوا ہے، یہ ہوتا رہتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے پانی کو بھی بہت وافر مقدار میں پیدا کیا ہے کیونکہ یہ ہماری اصل ضرورت ہے ۔ تیسری چیز جو بہت زیادہ ضروری ہے اس کے بعد، وہ غلہ ہے۔ تو باقی چیزوں کے مقابلے میں اس کی قیمت کم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بہت زیادہ وافر پیدا کیا ہے، لہذا غلہ لوگوں کو مل جاتا ہے۔ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ اگر خشک روٹی کوئی پانی کے ساتھ کھائے تو پھر بھی اس کے ساتھ زندہ رہ سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ جل شانہ نے اس کے اندر وہ تمام چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے جیسے ہماری دنیاوی ضرورتوں کو، جو اصل ضرورتیں ہیں، ان کو بہت آسان کر دیا اپنے فضل سے، اسی طریقے سے ہماری روحانی ضرورتوں کو بھی اللہ پاک نے اتنا وافر کر دیا کہ اس کے لیے ہمیں محنت بہت کم کرنی پڑتی ہے۔ مجھے بتائیں ذکر کرنے پہ کتنی محنت لگتی ہے؟ کتنا مشکل ہوتا ہے؟ حالانکہ کتنی بڑی نعمت ہے! اللہ! سبحان اللہ۔ یہ آپ اندازہ کر لیں کتنی بڑی نعمت ہے، حدیث شریف میں آتا ہے، ایک آدمی بھی "اللہ، اللہ" کرنے والا موجود ہو گا تو قیامت نہیں آئے گی۔ سبحان اللہ۔ ایک آدمی بھی اللہ اللہ کرنے والا موجود ہو گا تو قیامت نہیں آئے گی۔ ایک وہ جو "اللہ اللہ" کرنے والا ہے وہ بھی دنیا سے چلا جائے گا پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت کی نظر اس دنیا پہ نہیں رہے گی، پھر اس کو تباہ و برباد کر دیا جائے گا۔ اس وجہ سے اگر کافر بھی زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں، وہ بھی مسلمانوں کی وجہ سے لوٹ رہے ہیں۔ مسلمانوں کی وجہ سے سارا کچھ ہو رہا ہے۔ تو اسی وجہ سے ہم لوگوں کو اس کی قدر کرنی چاہیے۔
تو "وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي"۔ اللہ پاک نے فرمایا اپنی نعمت کو میں نے تمام کر دیا تمہارے لیے۔ "وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا۔" اور اسلام کو تمہارے لیے دین کے طور پہ پسند کر لیا۔ اب اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی اسلام کے ساتھ ہے۔ کسی اور دین کے ساتھ نہیں ہے۔ یہ بعض لوگ جو کہتے ہیں نا کہ ہر دین کے اندر جو اچھی باتیں ہیں وہ لے لو، بھئی کون سی بات ہے اچھی جو اسلام میں نہیں ہے؟ آپ کسی اور کی طرف دیکھتے کیسے ہیں؟ عجیب بات ہے آپ کو اللہ پاک نے سب کچھ دیا ہے، آپ کو کسی اور جگہ کوئی اچھی بات کیسے نظر آتی ہے؟
یہ بدبختی جو ہے، یہ اکبر بادشاہ کے دور میں شروع ہوئی تھی۔ اور اس نے سات مذہبوں کو اکٹھا کیا تھا "سات دھرم"۔ اکٹھا کیا تھا اور انہوں نے کہا کہ ہر مذہب کے اندر اچھی بات کو لے لیا جائے اس سے ایک دین بنا دیا جائے اور سب کے سامنے اس کو رائج کر دیا۔ اس کا جو سلام تھا وہ یہ تھا: "سلام علیکم، علیکم نمستے"۔ اور اس طریقے سے بہت ساری باتیں ہندوؤں کی، پارسیوں کی، عیسائیوں کی، یہودیوں کی وہ شامل کی گئی تھیں، اور وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے بڑا کام کر دیا۔ اس بدبختی کو دور کرنے کے لیے اللہ پاک نے ایک مرد مجاہد پیدا فرمایا، ان کا نام تھا مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ۔ اللہ جل شانہ نے ان سے وہ کام لے لیا سبحان اللہ۔
یعنی کمال کی بات ہے کہ اسی بادشاہ اس کے بالکل پاس ہی ایک جھونپڑی میں کام شروع کر دیا۔ اور اللہ پاک نے ان کی بات میں اتنی تاثیر رکھی کہ اکبر کی زندگی میں ہی نصف سے زیادہ درباری مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے تھے یا معتقد ہو گئے تھے۔ جن میں ان کا بڑا درباری ابراہیم خانِ خاناں بھی تھا۔ اور پھر اللہ کا شکر ہے یہ حالت تھی کہ جس وقت اکبر مر گیا تو اس کے بعد باری تو خرم کی تھی، لیکن ان درباریوں کی وجہ سے جہانگیر کو بادشاہ بنا دیا گیا، جن میں اسلام کی طرف جھکاؤ زیادہ تھا۔ اور پھر اس کے بعد جہانگیر بعد میں اخیر میں بالکل ویسا معتقد ہو گیا کہ ہر وقت حضرت کو ساتھ رکھتا تھا۔ اور شاہجہاں بادشاہ، اس کے بعد باقاعدہ حضرت سے بیعت ہوئے۔ اور اورنگزیب عالمگیر رحمۃ اللہ علیہ تو ان کے بیٹے کے بہت دست راست تھے۔ تو میں آپ سے اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ اللہ پاک نے ایسے بزرگوں سے کام لے لیا ہے اور اللہ پاک نے پھر وہ چیز، جو نعمت ہم تک اللہ تعالیٰ نے پہنچائی تھی اس کو دوبارہ اصلی حالت میں ہمارے سامنے کھڑا کر دیا۔
اصل میں یہ چیز ہوتی ہے۔ اللہ جل شانہ کا نظام جو چل رہا ہے قدرتی، جیسے میں نے آپ کو نا بارش کا نظام اللہ پاک نے بنایا ہوا ہے، کہ وہ وقت پر وہ بخارات سمندر سے اٹھا دیے جاتے ہیں، پھر اس کے بعد ان کو بادل بنایا جاتا ہے، پھر اس کو بارش کی صورت میں برسایا جاتا ہے، اس طرح اللہ پاک نے روحانیت کی بارش کو برسانے کے لیے، تاکہ تمام گند وغیرہ جتنا دین کے اوپر آئے وہ سارے کا سارا دھل جائے، اللہ پاک نے اس کا انتظام بھی کیا ہوا ہے۔ اس کا انتظام کیا ہے؟ حدیث شریف میں آتا ہے کہ صدی کے آخر میں، صدی کے آخر میں ایک شخص بھیجا جاتا ہے جس کو مجدد کہتے ہیں۔ جس کے ذریعے سے دین کی تجدید کی جاتی ہے۔ جو ادھر ادھر کی چیزیں شامل ہو چکی تھیں ان کو ہٹا لیتے ہیں اور دین بالکل نکھری ہوئی صورت میں واپس آ جاتا ہے، لوگوں کو اصل دین کا پتہ چل جاتا ہے۔ لوگوں کو اصل دین کا پتہ چل جاتا ہے۔ ویسے ما شاء اللہ مجدد ہر صدی میں آئے ہیں۔ لیکن مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے بعد، یہ مجددین ہندوستان میں ہی تشریف لاتے رہے ہیں۔ الحمد للہ، یہ پہلے مجدد تھے جو ہندوستان میں تشریف لائے۔ اس کے بعد شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ آئے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ جنہوں نے پہلے قرآن پاک کا ترجمہ کیا فارسی زبان میں۔
احادیث شریف ہندوستان میں حضرت کے ذریعے سے آئی ہیں۔ ہندوستان میں بلکہ دنیا میں آج کل شاید ہی کوئی حدیث شریف کا سلسلہ ہو گا جس میں حضرت شاہ صاحب کا نام نہیں ہو گا، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا۔ وہ علم ان کے ذریعے سے آیا۔ اور پھر اس کے بعد انہوں نے یعنی اصلاحِ نفس کے اوپر اور اصلاحِ قلب کے اوپر اور اصلاحِ عقل کے اوپر بڑی بڑی کتابیں لکھیں۔ الحمد للہ حضرت نے ایک model دیا ہوا ہے سبحان اللہ، وہ آج میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں۔ جو آج کل ہمارے لیے بہت ضروری ہے۔
حضرت نے فرمایا تین چیزیں ہیں۔ اگر ان کی اصلاح ہو جائے تو پوری اصلاح انسان کی ہو جاتی ہے۔ تین چیزیں۔ وہ جزوی طور پر سب لوگ مانتے ہیں، کلی طور پر بہت کم لوگ مانتے ہیں۔ حضرت نے اس پر زور دیا کہ ان کو کلی طور پر مان لیا جائے۔ ایک چیز "نفس" ہے۔ نفس کے بارے میں اللہ پاک فرماتے ہیں: "وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا"۔ نفس کا تعارف اللہ پاک نے کیا ہے سات قسمیں کھانے کے بعد۔ سات قسمیں کھانے کے بعد۔ یہ سورہ شمس کی بات کر رہا ہوں۔ سات قسمیں کھا کے سورج کی قسم، چاند کی قسم، زمین کی قسم، آسمان کی قسم، دن کی قسم، رات کی قسم اور نفس کی قسم۔ یہ قسمیں کھا کر اللہ پاک نے نفس کا تعارف کرایا کہ نفس کیا ہے؟ نفس کے بارے میں فرماتے ہیں: "فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا" پس الہام کیا اللہ پاک نے اس نفس کو، اس کے فجور اور اس کا تقویٰ۔ اس کے فجور اور اس کا تقویٰ۔ فجور، مثلاً برائی کے تقاضے ہیں۔ مال کی محبت ہے، لذت کی محبت ہے، اور اس طریقے سے بڑے ہونے کی محبت ہے۔ اور آنکھوں کے جو مسائل ہیں کہ میں غیر محرم کو دیکھوں۔ اور کان کے جو مسائل ہیں کہ میں گانے سنوں۔ اور زبان کے مسائل ہیں کہ جھوٹ بولوں، غیبت کروں۔ یہ ساری کی ساری چیزیں جو ہیں، یہ نفس کی چیزیں ہیں۔ یہ فجور ہیں۔ فجور کے تقاضے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ، سخت سے سخت تقاضا کیوں نہ ہو کسی کے نفس میں، اس پر اللہ تعالیٰ کسی کو نہیں پکڑتے۔ اس کی وجہ کیا ہے وہ تو اللہ تعالیٰ نے خود رکھی ہوئی ہیں۔ خود رکھی ہوئی ہیں۔ لیکن اگر کسی تقاضے پہ چاہے وہ کمزور سے کمزور کیوں نہ ہو، اس پر کوئی عمل کرے گا اس پر پکڑے گا۔ اس پر پکڑے گا۔ لیکن اگر اس سے بچے گا، اور اس کے مطابق عمل نہیں کرے گا، تو اس کو پھر credit دے گا۔ اس credit کا نام ہے تقویٰ۔ "فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا"۔ مطلب یہ تقویٰ۔ تقویٰ فجور کی ضد ہے۔ لہذا اگر کوئی فجور سے بچتا ہے تو جگہ خالی رہ جاتی ہے وہاں کون سی چیز آئے گی؟ تقویٰ آئے گا۔ تقویٰ آئے گا۔ پس جس کے نفس کے اندر تقاضا زیادہ شدید ہو گا فجور کا، وہ اگر اس سے بچے گا تو زیادہ متقی۔ کسی کا اگر سو degree کا تقاضا ہے، تو وہ سو degree کا متقی بن سکتا ہے۔ کسی کا ہزار degree کا تقاضا ہے، ہزار degree کا متقی بن سکتا ہے۔ کسی کا لاکھ degree کا تقاضا ہے اس کا، وہ لاکھ degree کا متقی بن سکتا ہے۔ مشکل بڑھتی جائے گی۔ سو degree کے تقاضے کا مقابلہ کرنا ایسا ہے جیسے cycle کو روکنا۔ ہزار degree کے تقاضے کا مطلب جیسے گاڑی کو روکنا۔ اور لاکھ degree کے تقاضے کا مطلب جیسے truck کو روکنا۔ کون بڑا پہلوان ہے؟ جو truck کو روکے گا وہ بڑا پہلوان ہے نا؟ پس اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص جتنے بڑے امتحان میں ڈالا گیا وہ بڑا متقی بن سکتا ہے۔ یہ خوشخبری ہے نوجوانوں کے لیے۔
در جوانی توبہ کردن شیوہ پیغمبریست
وقت پیری گرگ ظالم می شود پرہیزگار
جوانی کے اندر توبہ کرنا یہ پیغمبری کا شیوہ ہے۔ جوانی کے اندر تقاضوں کا زور ہوتا ہے۔ جوانی کے اندر آدمی سب کچھ کر سکتا ہے، برے سے برے کام کر سکتا ہے۔ لیکن اگر کسی کو اللہ نے بچا دیا، اس نے ہمت کی اور بچ گیا، وہ اتنا بڑا متقی بن جائے گا۔
تو میں جوانوں کو خوشخبری دیتا ہوں، مقابلہ کریں! نفس کا میدان آپ کے لیے کھلا ہوا ہے، یہاں سے بھاگنا نہیں ہے۔ ایک دفعہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو کسی نے کہا کہ حضرت مجھے تو بالکل نماز میں جی ہی نہیں لگتا، نماز کے لیے جی ہی نہیں چاہتا، میں کیا کروں؟ حضرت نے فرمایا سبحان اللہ، 100 فیصد نمبر لینے کا وقت آ گیا تو بھاگ رہے ہو؟ اگر دل چاہتا ہو گا، تو اس وقت کچھ نمبر اس کے کٹ جائیں گے۔ اتنی مدد تو تمہارے ساتھ پہلے سے ہے۔ لیکن اگر بالکل جی نہیں چاہتا اور پھر بھی نماز پڑھو گے، 100 فیصد نمبر مل جائیں گے۔ اسی طرح زکوٰۃ کو لے لو، اسی طرح روزے کو لے لو، اسی طرح حج کو لے لو، جتنی مشکلات آپ کے سامنے دین کے سلسلے میں آئیں گی، اگر اس پر قابو پاؤ گے اتنے ہی بڑے بزرگ بن جاؤ گے۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے؟ ولایت کے لیے صرف دو چیزوں کا اللہ پاک نے فرمایا ہے، تیسری چیز اس میں نہیں ہے۔ فرمایا: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ۔ آگاہ ہو جاؤ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ خوف ہو گا، نہ وہ غمگین ہوں گے۔ دو چیزوں کی وجہ سے بنے ہوں گے۔ وہ ایمان والے ہوں گے اور انہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہو گا۔ تو تقویٰ کیا چیز ہے؟ نفس کا مقابلہ ہے۔ تقویٰ کیا ہے؟ نفس کا مقابلہ ہے۔ لہذا نفس کا مقابلہ سیکھو، سبحان اللہ، تر جاؤ گے۔ تو ایک چیز میں عرض کر رہا تھا شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے نفس کے بارے میں فرمایا، کہ اپنے نفس کی اصلاح کر لو۔ دیکھو نفس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا۔ عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لیے کام کیا۔ اور بیوقوف وہ ہے جس نے اپنے نفس کو کھلا چھوڑ دیا جو کرنا چاہتا ہے کرنے دے، اور پھر بغیر توبہ کے مغفرت کی امید کرتا رہے۔ یہ بیوقوف ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم اپنے نفس کو قابو کر لیں، اور آخرت کے لیے کام کر لیں تو عقلمندی تو یہی ہے۔ یہی سب سے بڑا عقلمند ہے۔ لہذا اپنے نفس کو قابو کرنے کا طریقہ سیکھنا ہو گا۔ کیا خیال ہے؟ ہمارے گاؤں کے اندر جہانگیرہ ہمارا گاؤں جہانگیرہ ہے، تو وہاں دو دریا ہیں۔ ایک دریائے کابل ہے دوسرا دریائے سندھ ہے۔ تو دریائے سندھ میں ایک خشکی کا area ہے جزیرہ جیسے ہوتا ہے، اس کو "بیلا" کہتے ہیں۔ اس بیلے میں لوگ اپنے جانور چھوڑ دیتے ہیں۔ اور وہ بالکل کھاتے پیتے ہیں، کھلے مطلب ظاہر ہے وہ چرتے ہیں، اور پھر جس وقت وہ تنومند ہو جائیں، تو پھر اس کے بعد ان کو پکڑتے ہیں اور پھر ان کو اپنے گاؤں لے آتے ہیں۔ اس وقت وہ جانور وحشی ہوتا ہے۔ اس وقت وہ جانور کیا ہوتا ہے؟ وحشی ہوتا ہے۔ اگر اس کی کوئی تربیت نہ کرے تو اس سے کام لے سکتا ہے؟ اس کو مار دے گا۔ لیکن تربیت کر لے تو ہٹا کٹا تنومند جانور آپ کے قابو میں آ گیا، آپ اس سے کام لے سکتے ہیں۔ بعینہ اسی طریقے سے جو ہمارا نفس ہے، اگر ہم نے اس کو قابو کر لیا تو کام تو اس سے لینا ہے۔ کام تو اس نے کرنا ہے، لہذا نفس کے بارے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تو کیا بات ہو گئی؟ ایک بات شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی۔ قرآن و سنت سے ثابت۔
دوسری بات دل ہے؛ دل ہے۔ دل کیا ہے؟ جذبات کا مرکز ہے۔ یہاں محبت ہوتی ہے، یہاں نفرت ہوتی ہے، یہاں ایمان ہوتا ہے، یہاں کفر ہوتا ہے۔ تو یہ جو جذبات ہیں یہ نفس کے اندر ہوتے ہیں۔ اب جذبات اچھے بھی ہوتے ہیں برے بھی ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حُبُّ الدُّنْيَا رَأْسُ كُلِّ خَطِيئَةٍ۔ دنیا کی محبت ساری خطاؤں کی جڑ ہے۔ تو دنیا کی محبت کہاں ہو گی؟ دل میں ہو گی۔ اور اللہ کی محبت -سبحان اللہ- ساری سعادتوں کی کنجی ہے۔ ساری سعادتوں کی کنجی ہے۔ تو اب دنیا کی محبت کو دل سے نکالنا، اللہ کی محبت کو دل میں لانا، کیا بات ہے! پھر کیا بات ہے، سب کچھ مل جائے گا۔ لیکن کیسے ملے گا؟ اس کے لیے بھی محنت ہے۔ اس کی محنت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر چیز کے لیے صفائی کا کوئی آلہ ہوتا ہے، دلوں کی صفائی کا آلہ ذکر اللہ ہے۔ دلوں کی صفائی کا آلہ ذکر اللہ ہے۔
حضرت مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر ارشاد فرمایا۔ فرمایا: دیکھو یہ جو ہمارا دل ہے نا، ہماری جو روح ہے، یہ پہلے ہی اللہ کی عاشق تھی۔ اللہ پاک نے جب اس سے پوچھا کہ کیا تم مجھے رب اعلیٰ مانتے ہو؟ تو سب نے کہا: "بَلٰى" کیوں نہیں۔ تو پہلے ہی اللہ کی عاشق تھی، لیکن جس وقت یہ نفس کے اندر آ گئی، جس وقت یہ ہمارے جسم کے اندر آ گئی یہ قید ہو گئی۔ اور نفس نے اس کو اتنے جال میں پھنسا دیا کہ یہ اپنے رب کو بھول گئی۔ اپنے رب کو بھول گئی۔ اب جدھر دیکھتی ہے نفس کی چیزوں کو دیکھتی ہے۔ وہ جو نفس کی جو خواہشات ہیں وہ اس کی محبت بن گئیں۔ وہ جو نفس کی خواہشات ہیں وہ کیا ہو گئیں، اس کی محبت بن گئیں۔ اب اس کو دوبارہ اللہ یاد دلانا ہے۔ دوبارہ اللہ تعالیٰ یاد دلانا ہے تو اللہ یاد دلانے کے لیے کیا کرو گے؟ اللہ کا ذکر کرو گے۔ دل پہ ضربیں لگاؤ گے۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا، یہاں ضرورت پڑتی ہے شدید ضربات کی۔ یہاں ضرورت پڑتی ہے شدید ضربات کی۔ یعنی چونکہ جیسے انسان کا دل بیمار ہو جاتا ہے اور fail ہونے لگتا ہے تو ڈاکٹر حضرات اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ ان کو جھٹکے لگاتے ہیں۔ وہ اس کے جو رشتہ دار ہوتے ہیں ان کو باہر نکال دیتے ہیں کہ نکل جاؤ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جو جھٹکے ان کو لگاتے ہیں، وہ جو کُشتی ہوتی ہے، وہ کُشتی وہ رشتہ دار نہیں دیکھ سکتے۔ وجہ کیا ہے ان کو دوبارہ دوبارہ دوبارہ اس طرف لانا ہوتا ہے۔ تو بہرحال یہ جو جھٹکے ہوتے ہیں اللہ کے نام کے ساتھ، "اَللّٰہُ اَللّٰہُ، اَللّٰہُ اَللّٰہُ" یہ دل کو زندہ کرنے کے لیے ہیں، لوگ اس کو سمجھتے نہیں ہیں۔ دل کے اندر دوبارہ روح کو لانے کے لیے ہے، دوبارہ اللہ تعالیٰ کے نام کے ذریعے سے اس کو دوبارہ زندہ کرنا ہوتا ہے۔
یہ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ دل کے اوپر جو محنت ہے اس کے ذریعے سے دل زندہ ہو جاتا ہے۔ مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا پھر اس کو اللہ یاد آ جاتا ہے۔ پھر اس کو اللہ یاد آ جاتا ہے۔ اور جب اس کو اللہ یاد آ جاتا ہے، سبحان اللہ، پھر اس کا جس کو کہتے ہیں نا یعنی تعلق ہوتا ہے عالم بالا کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ پھر وہی رہتا یہاں ہے، لیکن ہوتا ادھر ہے۔ رہتا ادھر ہے، ہوتا ادھر ہے۔ کیسے؟ اس کو ہر وقت اللہ پاک کا قرآن سامنے آ رہا ہوتا ہے، حدیث سامنے آ رہی ہوتی ہے، اللہ کا حکم سامنے آ رہا ہوتا ہے، اور اس کی دل کی دنیا بنی ہوتی ہے، وہ چیزوں کو دیکھتا ہے، ان چیزوں پہ حسرت کی نگاہ ڈالتا ہے، یہ تو فانی چیزیں ہیں۔ یہ تو فانی چیزیں ہیں۔ یہ تو باقی نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اپنے آپ کو بھی بھول جاتا ہے، وہ کہتا ہے میں بھی تو فانی ہوں، میں بھی تو ختم ہونے والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک دفعہ پوچھا: میں نے جو گوشت تقسیم کرنے کے لیے دیا تھا، کیا تقسیم ہو گیا؟ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "یا رسول اللہ، اتنا تقسیم ہوا اتنا باقی ہے"۔ اتنا تقسیم ہوا اتنا باقی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تقسیم ہوا وہ باقی ہے۔ جو تقسیم ہوا وہ باقی ہے۔ کیونکہ وہ اللہ کے پاس چلا گیا۔ جب اللہ کے پاس چلا گیا تو اللہ کے پاس تو کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ۔ اللہ تعالیٰ محسنین کے اجر کو نہیں ضائع فرماتے۔ اللہ کے پاس جو پہنچ گیا اصلی حالت میں اب وہ ادھر ہی ہے، وہ ان شاء اللہ آپ کو وہاں ملے گا۔ آپ کو وہاں ملے گا۔ پورا پورا ملے گا۔ پورا پورا ملے گا۔ تو بہرحال میں اس لیے عرض کر رہا ہوں، کہ دل کی اصلاح۔
تیسری چیز جو حضرت نے فرمائی بہت انقلابی بات ہے۔ فرمایا "عقل کی اصلاح"۔ عقل کیا چیز ہے؟ عقل کیا چیز ہے؟ عقل اصل میں سوچنے، فکر کرنے والی جگہ ہے۔ انسان کے دماغ میں اللہ پاک نے صلاحیت رکھی ہے کہ چیزوں کو جو دیکھتا ہے، محسوس کرتا ہے، اس سے جو نتیجے اخذ کرتا ہے، اس کے بارے میں پھر فیصلے کر سکتا ہے، یہ عقل کا کام ہے۔ یہ عقل کا کام ہے۔ لیکن جس وقت یہ دنیا دار عقل ہوتی ہے، اس وقت دنیاوی فیصلے کرتی ہے۔ اور جب یہ دیندار عقل بن جاتی ہے، پھر دینداری کے فیصلے کرتی ہے۔
اللہ جل شانہ فرماتے ہیں قرآن پاک میں: يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ۔ اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ ہماری ظاہری آنکھیں کہتی ہیں کہ سود سے مال بڑھتا ہے۔ اور صدقات سے مال کم ہوتا ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے سود سے مال گھٹتا ہے، صدقات سے بڑھتا ہے۔ میں آپ حضرات کو ایک واقعہ بتاتا ہوں، آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی، یہیں پر G-11 میں ہمارے ایک ساتھی نے 1982 کے لگ بھگ مکان بنایا تھا اسلام آباد میں پانچ لاکھ روپے کا۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ آپ نے مکان بنایا تو کیسا محسوس کیا؟ کہتے ہیں اچھا نہیں کیا۔ میں نے کہا بھئی کیا بات ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو مکان دیا آپ اس پہ خوش نہیں ہیں؟ کہتے ہیں یہ پیسے اگر میں bank میں جمع کرتا، fixed deposit کے طور پہ رکھ لیتا، اس پر مجھے 6000 روپے ماہانہ وہ پیسے ملتے، اور اب تو مجھے 1200 روپے کا کرایہ یہ 82 کی بات کر رہا ہوں، ابھی تو مجھے 1200 روپے کرایہ مل رہا ہے، مجھے 6000 روپے اس کا نفع ملتا۔ آج میں آپ کے سامنے calculation ذرا کرتا ہوں۔ G-11 کا 10 مرلے کا جو مکان ہے، آج کل اس کی قیمت کتنی ہو گی؟ دو کروڑ سمجھیں، دو کروڑ سمجھیں، تین کروڑ سے اوپر ہے۔ تین کروڑ سے اوپر ہے، آج کل G-11 کے 10 مرلے کے مکان double story اس کا کرایہ کتنا ہو گا؟ اس کا لاکھ سے اوپر کرایہ ہے۔ ہاں، چلو آپ 70,000 مان لیں۔ اب 70,000 کو اور 6000، یہ اس کا average نکالیں۔ اس میں 6000 سے کتنا فرق ہے؟ 32,000 کا تو یہ فرق ہو گیا اور جو تین کروڑ روپے ہیں، پانچ لاکھ اس سے minus کر لیں۔ اس کو پھر مہینے بنا دیں، مجھے بتا دو فائدہ تھا نقصان تھا؟ فائدہ تھا۔ یہی بات ہے يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ۔ اگر یہ سودی لین دین کرتا تو خسارے میں چلا جاتا، لیکن اس بیچارے کو کیا پتہ تھا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ آنکھیں بند ہیں۔ آنکھیں بند ہیں۔ عقل ختم ہے۔ یہی عقل کے ختم ہونے کو ختم کرنا ہے اور پھر عقل کو دوبارہ دیندار عقل بنانا ہے، دیندار عقل بنانا ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، یہ عقل جس وقت دیندار عقل بن جاتی ہے یہ سِر بن جاتی ہے۔ پھر وہاں اللہ جل شانہ سے لیتی ہے۔ اللہ جل شانہ جو فیصلے کرتا ہے وہ اس کے اوپر کھلتے ہیں، اور پھر وہ دنیا میں اس کو نافذ کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں مولانا روم رحمۃ اللہ علیہ:
بِینِی اندر خود عُلُومِ انْبِیاء
بِے کِتَاب و بِے مُعِید و اُوسْتا
تم اپنے اندر علوم انبیاء کو دیکھو گے، بغیر کتاب کے، بغیر استاد کے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس میں کامیاب فرما دے۔ وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔